New Updated website with more features.

ایقاظ کی نئی ویب سائٹ کے لئے یہاں کلک کریں

ادارہ

 

اسلامی قیادتیں۔۔۔اب یا کبھی نہیں

س جن زرق برق عبارتوں سے جاہلیت اپنا ننگ چھپاتی ہے ہمارا کام یہ نہیں ہوگا کہ ہم بھی انہی کی تحسین میں لگ جائیں اور بلکہ تو خود بھی انہی کو مستعار لینے کی سوچیں۔ آپ کو اپنا مقدمہ خود اپنی اصطلاحات کے ساتھ سامنے لانا ہوگا، جس کے ہر ہر لفظ کی تعبیر اور ترجمانی کا حق صرف آپ رکھتے ہوں گے۔ فریقِ دیگر ان کو قبول یا رد کرنے کا اختیار ضرور رکھے گا اور ضرور اس پر ماحول میں ایک طویل مکالمہ بھی ہوگا، مگر وہ کوئی ایسی دھول نہیں اڑا سکے گا جس میں آپ اپنے ’مقدمہء دعوت‘ سمیت روپوش ہو جائیں اور ’بطورِ فریق‘ ہی بالآخر آپ کا وجود محل نظر ہو جائے’کہ ہے نہیں ہے‘! وہ کوئی ایسی واردات نہیں کر سکے گا کہ مسئلے کا سرا ہی کہیں گم ہو کر رہ جائے؛ لوگ ہمیں ’بولتا‘ پائیں مگر ہمارا ’مدعا‘ روپوش ہو!

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
 محمدزکریا خان  

پاکستان اورطالبان

امریکہ کوایک نئی انتظامیہ کی تلاش تھی جسے فوج میں پزیرائی بھی حاصل نہ ہو، بے نظیربھٹوکی طرح وہ عوام میں بھی مقبول نہ ہو اورجسے اپنے اقتدارکے لیے صرف امریکہ پرانحصارکرنا پڑے۔ایک ایسی شخصیت جوپاکستان کوایک حدتک ہی اپنی جائیداد سمجھے اور’کہیں ‘اوربھی اپنی جائیداد بنا رہاہو۔نئی انتظامیہ کے آنے سے حقیقی معنوں میں سرحدی علاقوں میں امریکی اہداف پورے ہونے لگے ہیں ۔جہں تک فوج کا تعلق ہے جو اب تک سرحدی علاقوں میں مطلوبہ تعدادمیں ’ شہداء‘فراہم نہیں کرسکی تھی اور mass killing پرآمادہ نظرنہیں آتی تھی اب اسی فوج کی کارکردگی سراہی جارہی ہے۔ پاکستانی فوج سے مطلوبہ نتائج لینے کے علاوہ فوج کو سویلین قیادت میں عملاًدیا جائے یہ وہ ہدف ہے جس کے لیے امریکہ پاکستان میں پورازور لگارہا ہے۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
عاطف منظور  

کیا جیو کا میزبان عالم آنلائن تقیہ بردار رافضی ہے؟

 ”تاریخ کی لفظیات جو بنی امیہ نے لکھوائی ہیں۔۔۔نہیں! میں نہیں گھبراتا جناب!! بنی امیہ کیا؟ چلئے ہلکا بولا تھا، الفاظ واپس لیتا ہوں ۔۔۔ جو معاویہ نے لکھوائی ہے۔ تاریخ کی لفظیات ۔۔۔جو کہ ڈاکٹر ریحان اعظمی(حاضرین میں سے ایک شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) نے کہا در حقیقت وہ لفظیات نہیں لغویات ہیں“۔ زمیں و آسمان اس گستاخی پر دہل جائیں! ویڈیو میں، آگے چل کر.... یار غار، سفر ہجرت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے والے ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ پر براہ راست، نہایت واضح و عریاں دشنام طرازی کرتے ہوئے عامر لیاقت کہتا ہے: ”رات کی تاریکی میں ساتھ دینے والے ہی دوست نہیں ہوتے، اٹھاتے نہیں کیوں نبی کا جنازہ؟ کہاں مر گئے بیٹیاں دینے والے؟“

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
امام ابن القیم  

عبدیتِ تام

عبدیت کی برگزیدہ ترین حالت یہ ہے کہ آدمی یہ دیکھے کہ کس لمحے خدا کی خوشنودی کس چیز میں اور کس انداز میں زیادہ ہے، اور پھر اسی کے مطابق آدمی خدا کو خوش کرنے میں لگ جائے....چنانچہ اگر کہیں پر جہاد کا وقت آن کھڑا ہوا ہے تو سب سے برگزیدہ عبادت اس لمحے جہاد ہی ہے، بے شک اس کیلئے آدمی کو اپنی عبادت کے معمولات چھوڑنے کیوں نہ پڑ جائیں۔ بے شک رات کا قیام اور دن کے روزے رکھنا اس سے کیوں نہ متاثر ہوتا ہو۔بلکہ فرض نماز جس طرح حالت امن میں بصورتِ تمام ادا کی جاتی ہے، فرض نماز کی وہ بدرجہءاتم ادائیگی اس سے کیوں نہ متاثر ہوتی ہواور آدمی کو قیام وغیرہ کی قربانی دے کر گھوڑے کی پیٹھ پر نماز کیوں نہ پڑھنی پڑے۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

مأخوذ مضامین

 

دیگر مضامین ایقاظ

درج ذیل مضامین سے ادارہ ایقاظ کا مکمل طور پر متفق ہونا ضروری نہیں ہے

Six years in Guantanamo  

ایمانی جمعیت جو معاشرے پر اثر انداز ہو

Robert Fisk: The Independent

 

محمد قطب

Sami al-Haj walks with pain on his steel crutch; almost six years in the nightmare of Guantanamo have taken their toll on the Al Jazeera journalist and, now in the safety of a hotel in the small Norwegian town of Lillehammer, he is a figure of both dignity and shame. The Americans told him they were sorry when they eventually freed him this year – after the beatings he says he suffered, and the force-feeding, the humiliations and interrogations by British, American and Canadian intelligence officers – and now he hopes one day he'll be able to walk without his stick.

 

’ختم رسالت‘ کا یہی تقاضا ٹھہرتا تھا کہ آخری رسالت میں نہ صرف لوگوں کی ہر وہ ضرورت پوری کر دی گئی ہو جو اس رسالت کے نزول کے وقت ان کو پیش آئے بلکہ اس میں ان سب ضرورتوں کو بھی بدرجہءا تم پورا کر دیا گیا ہو جو قیامت تک کبھی مستقبل میں بھی پیش آسکتی ہوں، یہاں تک کہ اگر لوگ اس رسالت اور اس مشن سے چمٹے رہیں تو کبھی خراب نہ ہوں اور نہ ہی اپنی دنیا و آخرت بنانے کیلئے وہ اس کے علاوہ کسی اور چیز کے کبھی ضرورت مند ہوں ۔ ترکت فیکم ما ان تمسکتم بہ لن تضلوا ، کتاب اللّٰہ وسنتی (متفق علیہ) ”میں تم میں ایک ایسی (زبردست) چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ اگر اس سے چمٹے رہو تو کبھی راستہ نہ بھٹکو، یہ ہے کتاب اللہ اور میری سنت“۔

Click here to read the complete article

  مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

یہ آگ کیسے ٹھنڈی ہو؟

 

عالمی بساط سے ظالموں کا پسپا ہونااب ٹھہر گیا

حامد میر ، روزنامہ جنگ

 

 حامد كمال الدين

تین دن کے بعد انہیں آنکھوں پر پٹی باندھ کر ایئرپورٹ لے جایا گیا جہاں ایک ہیلی کاپٹر تیار کھڑا تھا۔ پاکستانی حکام نے اپنے قیدی کو جیسے ہی امریکیوں کے حوالے کیا تو انہوں نے ملا عبدالسلام ضعیف پر لاتوں اور گھونسوں کی بارش کردی۔ پھر چاقوؤں سے اس باریش قیدی کے تمام کپڑے پھاڑ دیئے گئے اور زمین پر الٹا لٹا کر مارا گیا۔ تشدد کے دوران ضعیف کی آنکھوں پر بندھی پٹی اتر گئی تو انہیں نظر آیا کہ ایک طرف قطار میں پاکستانی فوجی اور ان کی گاڑیاں کھڑی تھیں اور دوسری طرف امریکی انہیں بے لباس کرکے مار رہے تھے۔ ضعیف لکھتے ہیں کہ ”ان لمحات کو میں قبر تک نہیں بھول سکوں گا۔“پشاور سے بگرام لے جاکر ملا عبدالسلام ضعیف کو بغیر کپڑوں کے برف پر پھینک دیا گیا اور امریکہ کی فوجی خواتین ایک بے لباس مسلمان کے سامنے کھڑے ہو کر ۔۔۔۔

 

مریکہ نے عالمی منظر نامے پر ایک غیر معمولی سرعت سے ظہور کیا ہے۔ بطور عالمی طاقت اورعالمی قیادت، امریکہ صرف دوسری عالمی جنگ کے بعد جانا جانے لگاہے۔ یعنی اس لحاظ سے اس کی عمر ابھی پچاس ساٹھ سال سے زیادہ نہیں بنتی جس کے دوران یہ عالمی پولیس مین بن بیٹھا ہے.چنانچہ یہ واقعہ ہے کہ امریکہ ایک غیر معمولی تیزی سے اوپرآیا ہے۔اس لیے یہ حیرت انگیز نہ ہوگا کہ امریکہ نیچے بھی اسی تیزی سے جائے.. جیسا کہ بعض تحقیقات اور تجزیے یہ امکان ظاہر کر بھی رہے ہیں.مزید برآں، کمیونزم کے دریا بر د ہوجانے کے ساتھ ہی عالم اسلام میں کمیونزم کی دم چھلہ حکومتیں بھی دھڑام سے گر گئی تھیں۔ کمیونسٹ پاریٹاں ، کمیونسٹ مفکر ، کمیونسٹ عناصر سب ..

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

  مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

میڈیا کی پسند اور ناپسند

 

اسلام ہر مشکل کا بنا بنایا حل ہے!؟

اخبارو افکار

   جاسم سلطان : مریم عزیز

ویسے تو پوری دنیامیں میڈیا کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں، اپنی پسند اور ناپسند ہوتی ہے لیکن ہندستانی میڈیا نے اس معاملہ میں ساری دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اسے سچائی کی رپورٹنگ سے کوئی مطلب ہی نہیں۔ وہ یہ دیکھتا ہے کہ دو فریقوں میں سے کس کا ساتھ دیناچاہئے۔ اس کا یہ طرز عمل کبھی مالی مفاد کی خاطر ہوتا ہے، کبھی نیشنل انٹریسٹ کے نام پر، کبھی کسی خاص سیاسی رجحان کے تحت اور کبھی اپنے کسی جذبے کی تسکین کے لئے اور کبھی بااختیار اور طاقتور حلقوں کے دباؤ میں۔ حقائق سامنے لانے سے اسے کسی بھی صورت میں دلچسپی نہیں ہوتی۔ میڈیا کی اس جانبداری کا ایک بدترین مظاہرہ 19ستمبر کو دیکھا گیا جب دہلی پولیس نے بٹلہ ہاؤس کالونی کے ایک مکان میں مبینہ دہشت گردوں کے

 

یہ دعوی درحقیقت ایک کشش تو رکھتا ہے مگر یہ کب اور کیونکر قابل عمل بنتا ہے؟ اس دعویٰ کی بابت کیا کوئی بنیادی شرائط وضوابط بھی ہیں؟ کیا اسکے مفہوم کے مطابق اسلام کی حیثیت محض ایک 'دستی کتابچہ' قسم کے ایک دستورالعمل کی سی ہے جس میں تمام سیاسی، معاشرتی اور معاشی مسائل سیدھے سیدھے درج کر دیے گئے ہیں ،کہ بس جن پر عمل کرنے سے اسلام کا مقصد پورا ہو جاتا ہو؟یا یہ کہ اسلام دراصل کچھ وسیع تر اخلاقی اصولوں کا مفصل مجموعہ ہے جو عمومی طورپر نہ صرف ایک مکمل اور بھرپور زندگی کی راہ دکھلاتا ہے بلکہ آخرت کا بھی نجات دہندہ ہے؟اور جہاں تک عمومیت سے ہٹ کر مسائل کی بات آئے، یعنی کسی خاص وقت یا خاص ماحول میں ....

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

  مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

بغل میں چھری منہ میں رام رام

 

نماز میں خشوع کیسے پیدا ہو

حامد میر ، روزنامہ جنگ

  ابوعبدالرحمن

فی الحال شمالی وزیرستان کے عسکریت پسند پاکستانی فوج کے ساتھ نہیں لڑ رہے بلکہ سرحد پار افغانستان میں اپنے بھائیوں کی امریکہ کے خلاف مدد کرتے ہیں۔ امریکی فوجی جنوبی وزیرستان میں بیت اللہ محسود پر حملہ نہیں کرتی لیکن انگور اڈہ میں بار بار مولوی نذیر پر حملہ کرتی ہے کیونکہ مولوی نذیر پاکستان کے خلاف نہیں لڑتا۔ خیبر میں حاجی نامدار کی تنظیم امر بالعمروف پاکستانی فوج سے نہیں لڑتی تھی بلکہ سرحد پار امریکی فوج سے لڑتی تھی۔ چند ہفتے قبل حاجی نامدار کو باڑہ میں قتل کروا دیا گیا لیکن جو لوگ مہمند میں بیٹھ کر اسفند یار ولی پر قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں ان تک کوئی نہیں پہنچتا۔ دراصل پاکستان میں طالبان کی کوئی مرکزی کمان نہیں۔

 

”نمازمیں خشوع“ کا مسئلہ ایک اہم مسئلہ ہے کیونکہ خشوع نماز کی روح، دلوں کیلئے نفع بخش اور چہروں کا نور ہے اور یہی وہ ”علم“ ہے جو صحیح حدیث کے مطابق اس اُمت سے سب سے پہلے اُٹھا لیا جائے گا۔ (صحیح الجامع:2562) جامع ترمذی (2/94) اور سنن دارمی (1/75) میں عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں: ”اگر تم چاہو تو میں تمہیں اُس ”علم“ کے بارے میں بتاؤں جو سب سے پہلے لوگوں سے اٹھا لیا جائے گا۔ وہ علم ”خشوع“ ہے، قریب ہے کہ تم جامع مسجد (لوگوں سے بھری ہوئی مسجد) میں داخل ہوگے مگر ایک آدمی کو بھی خشوع سے نماز پڑھتا ہوا نہیں پاؤ گے“۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں   مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
   

Total Visits since April 2007:  0015776

Yoginder Sikand

Christian Zionist Messianism: How It Views Islam and Muslims

ہارون الرشید ، روزنامہ جنگ

دل دکھتا ہے

اجمل خٹک کشر ، روزنامہ جنگ

دفاع وطن اور پختون قبائل

ہارون الرشید ، روزنامہ جنگ

خدا کے لئے کہیں رکو‘خدا کے بندو کہیں تو رک جاؤ

مزید مضامین

 

contact us
admin@eeqaz.com
Cell number for Magazines and book Delivery:+923234031624
336-D,SABZAZAR,LAHORE

Pakistan