Last Update04/07/2009

Google Custom Search

حامد کمال الدین

 

اسلامی اقدامات!

وہ بہت کچھ جو قانون اور آئین کے نام پر مالک الملک کی شریعت کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے شریعت کی اس کھلم کھلا خلاف ورزی کو اگر یہ برقرار رہنے دیتے ہیں، اور جوکہ کوئی مفروضہ نہیں بلکہ سامنے کی حقیقت ہے۔۔۔۔ تو ذرا یہ بھی تو معلوم ہو کہ اس صورت میں کوئی ان کا بگاڑ کیا سکتا ہے؟! کیا یہی کہ شریعت کے پرستار ’پانچ سال‘ تک انتظار کریں اور وہ بھی صرف اس واقعۂ عظیم کو روپزیر کرانے کیلئے کہ ووٹ کی ایک عدد پرچی ان کی بجائے اب کسی اور کی نذر کر کے آئیں گے اور پھر ’پانچ پانچ سال‘ کر کے اپنا یہ ’جمہوری حق‘ استعمال کرتے چلے جائیں گے!!!!!؟ کہا گیا کہ ’انتظار‘ کرنے کے علاوہ، اس دوران، ہم فیڈرل شریعت کورٹ جا کر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ ’دستور کا طے کردہ‘ یہ طریقہ بھی۔۔۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
شیخ عبدالعزیز القاری؛استفادہ: حامد کمال الدین  

علم اختلاف کے سات مسائل

رہی رسول اللہ کی وہ پیشین گوئی کہ آپ کی اُمت میں نزاع ہوگا تو وہ تفرقہ انقسام ہے۔ اسی لئے آپ نے اس سے خبردار فرمایا۔ اسی طرح آپ کا تہتر فرقوں کی پیشین گوئی فرمانا ہے جو سب کے سب جہنمی ہوں گے سوائے ایک کے تو اس سے مراد وہ اختلاف ہے جو عقائد میں ہو اور ان امور میں ہو جو مسلمانوں کے ہاں مسلمہ اور متفق علیہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے مستفترق کا لفظ استعمال فرمایا نہ کہ مستختلف کا۔ کیونکہ مطلق ’اختلاف‘ تو صحابہ میں بھی واقع ہوا۔ بعید نہیں بعض جاہلوں نے (تہتر فرقوں والی) اس حدیث کو ائمہء اسلام کے مذاہب پر بھی چسپاں کیا ہو خصوصاً آئمہء اربعہ کے مذاہب پر۔ حالانکہ ایک ذرہ بھر سمجھ کا مالک شخص بھی جانتا ہے کہ ان آئمہء کا اختلاف ویسا ہی ہے۔۔۔۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

مراسلہ

 

عامر لیاقت کی توبہ!

کاش کہ ہمارے یہ مفتیانِ کرام وہ نقشہ ایک نظر دیکھ لیں، جب یہ شخص سقیفہ بنی ساعدہ میں اکٹھا ہونے والے اصحابِ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم، خصوصاً، اور نہایت متعین کر کے، ابوبکر رضی اللہ عنہ، پر تبرا کرتا ہے۔ ذرا وہ منظر دیکھئے: اس کا چہرہ جذبات سے تمتما اٹھتا ہے۔ آواز میں ناقابل اندازہ شدت آجاتی ہے۔ لہجہ یک دم بلند ہوتا ہے۔ انداز نہایت معنی خیز ہو جاتا ہے اور تب یہ بولتا ہے: ’رات کی تاریکی میں ساتھ دینے والے ہی دوست نہیں ہوتے‘، ایک نہایت چھوٹا اور تجسس آمیز وقفہ کرتا ہے، پھر نہایت شدت سے اور اپنے ساتھ پورے مجمع کو کلائمکس پر لے جاتے ہوئے پھٹتا ہے :’اٹھاتے نہیں کیوں نبی کا جنازہ، کہاں مرگئے بیٹیاں دینے والے؟‘۔ اس پر مجمع جوش سے بے قابو ہوجاتا ہے۔ ہر طرف سے داد آرہی ہے اور شور اس قدر کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

ابوعبدالرحمن

 

نماز میں خشوع کیسے پیدا ہو

شوع کی علامت یہ ہے کہ انسان نماز کی حالت میں اپنے کپڑے یا جسم کے کسی عضو سے نہ کھیلے اور نہ ہی اپنی نگاہیں اوپر کو اٹھائے بلکہ خشوع کا اتنا غلبہ ہو کہ انسان کو یہ بھی معلوم نہ ہو کہ اس کے دائیں اور بائیں کون شخص کھڑا ہے۔ سکون کے ساتھ کھڑا رہے اور اپنی نظریں سجدہ کی جگہ پر رکھے۔ علماءربانی کا اس بات پر اتفاق ہے کہ خشوع کی اصل جگہ ”دل“ ہے۔ خشوع خوف اور اللہ کیلئے اپنے آپ کو پست کر دینے کا نام ہے اور اپنے معبود کی تعظیم کے سوا کسی دوسری طرف متوجہ نہ ہو۔ خشوع پیدا کرنے کے طریقے: خشوع پیداکرنے کے کئی طریقے ہیں جن میں سے بعض کا ذکر ہم کر دیتے ہیں۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

مأخوذ مضامین

 

دیگر مضامین ایقاظ

درج ذیل مضامین سے ادارہ ایقاظ کا مکمل طور پر متفق ہونا ضروری نہیں ہے

Aussie Jobs…Sorry Ali, Welcome Hannah

 

معجزے ہی تو کئے ہیں!!!

 

حامد کمال الدین

In Australia, job seekers with ethnic names find it much harder to get a job than those with Anglo-Saxon names, according to a new academic study into job discrimination. "Job applicants find it easier to get an interview if they have an Anglo-Saxon name," concluded the experiment study conducted by the Australian National University. Researchers sent 4000 fake resumes using Chinese, Middle Eastern, Italian, indigenous and Anglo-Saxon ethnically distinct names, responding to online jobs ads in Sydney, Melbourne and Brisbane. "By varying the names on the CVs, we were able to estimate precisely the extent of hiring discrimination," says economist Andrew Leigh, one of the study authors.

 

بے شک قریش کے رئیس نے اسلام قبول کر لیا ہے لیکن ابھی اُسے سیکھنا ہے کہ ’مدینہ‘ میں بزرگی کا معیار کیا ہے! ابو سفیان اپنے کچھ اصحاب سمیت ان تین ’بے کسوں‘ کے پاس آتا ہے تو یہ کہتے ہیں: ”بخدا، ایک دشمنِ خدا کی گردن پر خدا کی شمشیروں کو صحیح حق ادا کر دینے کا موقعہ نہ ملا“! خدایا! بلالؓ اور صہیبؓ سے ابو سفیانؓ ڈانٹ کھائے!!! ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنے اِن تینوں ساتھیوں کو ٹوکتے ہیں: ’کیا قریش کے سردار کو اِس طرح کہتے ہو‘؟ اور پھر رسول اللہ کو بتانے چلے جاتے ہیں۔ تب رسول اللہ فرماتے ہیں: اے ابو بکرؓ! شاید تو نے ان (تینوں) کو ناراض کر لیا ہے۔ بخدا اگر تو نے اِن کو ناراض کر لیا تو یقینا تو نے اپنے پروردگار کو ناراض کر لیا۔ تب ابو بکرؓ ان تینوں کے پاس جاتے ہیں۔

Click here to read the complete article

  مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
Sarkozy - The naked truth
 

سفینہء نجات

Yvonne Ridley

  جلال الدین سیوطی؛استفادہ: حامد کمال الدین

So why would Sarkozy launch such an onslaught on the burka, describing Muslim women who wear it as ' “prisoners behind a grille, cut off from social life, deprived of their identity'? As pointed out by one Islamic observer: '“The irony is that many Muslim women would say the current headscarf ban in France has created exactly this situation for them”'. Well the real reason had nothing to do with the burka and everything to do with Sarkozy putting pressure on the Liberal Left, throwing a few cheap shots at the expense of Muslim women while trying to pick up a few votes at their expense as well. Sarkozy, like many male politicians,

 

یقینا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اپنے دین، اپنے احکامات اور اپنی کتاب کے معاملہ میں وہ خاص حیثیت دے رکھی ہے جوکہ اس نے خود ہی بیان کردی ہے، کہ اس کا رسول اس کے دین کے معاملہ میں ہدایت کی نشاندہی کا راستہ ہے، اس بنا پر کہ اس کی ہر ہر بات ماننا اور اس کی روکی ہوئی ہر ہر بات سے رکنا لوگوں پر اس نے فرض ٹھہرا دیا۔ پھر اس کی وہ فضیلت بھی واضح کردی کہ اس کے رسول پر ایمان خود اس پر ایمان کے ساتھ جڑا ہوا ذکر ہوگا، پس فرمایا: فآمنوا باللہ ورسولہ ”پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر“ (التغابن:8) اور فرمایا: انما المؤمنون الذین آمنوا باللہ ورسولہ ”مومن تو بس وہ ہیں جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسول پر“ (الحجرات: 15)۔ ۔

Click here to read the complete article

  مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

تہذیبوں کا تصادم

 

شرک اور عیسائیت کا مسخ

انصار عباسی روزنامہ جنگ

 

حامد کمال الدین

فرانسیسی صدر سرکوزی کی طرف سے مسلمان عورتوں کیلئے فرانس میں برقع پہننے پر پابندی لگانے کے ارادے کا اعلان مغرب کی اسلام دشمنی کی وہ کھلی مثال ہے جس کاواضح اشارہ ہمیں اللہ اور اس کے رسول محمد نے دیا ہے۔ اگر پاکستان جیسا ملک کسی بھی اقلیت کے مذہبی لباس کے بارے میں کوئی ایسا اعلان کرتا تو پوری دنیا میں اس وقت تک ایک طوفان برپا ہو چکا ہوتا۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں پاکستان کے خلاف کوئی قرارداد آ چکی ہوتی۔ امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور دوسرے مغربی ممالک کے علاوہ جاپان وغیرہ ہمارے خلاف پابندیاں عائد کرنے کی دھمکیاں دے چکے ہوتے ۔اور تو اور پاکستان میں پایا جانے والا مغرب زدہ طبقہ اور بیرونی امداد سے چلنے والا Mafia NGO اب تک اسلام آباد، لاہور اور کراچی۔۔۔

 

اس لحاظ سے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اللہ کے کسی بھی نبی کا سب سے آخری معرکہ اسی شرک کے خلاف لڑا گیا جسے ہم ’ملتِ روم‘ کہتے ہیں اور یہ کہ نبوت کی تلوار کا رخ عین آخری دم اسی ’مغربی‘ سمت سے اٹھنے والے خطرے کی سمت تھا۔ اس امر نے پیروانِ رُسُل اور اور مخالفینِ رُسُل کی اس لامتناہی کشمکش کو قیامت تک کیلئے شاید اب یہی جہت دے دی ہے کہ حق اور باطل کا معرکہ اب زمانہء آخر تک انہی دو کیمپوں کے مابین لڑا جاتا رہے۔ پچھلی چودہ صدیوں کا واقعہ بہر حال اسی بات کی توثیق کر رہا ہے۔چنانچہ جتنی طویل جنگ ہمارے خلاف ”ملتِ روم“ نے کھڑی کی ہے بلکہ آج تک یہ ہمارے خلاف بر سر جنگ ہے ویسی جنگ ہمارے خلاف دنیا کی کسی قوم۔۔۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

  مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

کیا انسانی جانوں کی کوئی قیمت نہیں؟

 

عبدیتِ تام

رحیم اللہ یوسف زئی روزنامہ جنگ

  امام ابن القیم

ہمارے حکمرانوں سے تو افغان صدر حامد کرزئی بہتر ہیں جو کم ازکم اپنے شہریوں کی ہلاکت پر امریکی افواج اور نیٹو سے بآواز بلند احتجاج تو کرتے ہیں اور طیاروں کے ان حملوں کے خاتمے کا مطالبہ تو کرتے ہیں، جو زبردست جانی اور مالی تباہی اور بربادی کے ذمہ دار ہیں۔ حامد کرزئی کے علاوہ، افغان پارلیمنٹ اور سول سوسائٹی کے اس احتجاج کا کم ازکم یہ مثبت نتیجہ تو برآمد ہوا ہے کہ امریکی حکومت اور اس کے مغربی اتحادیوں نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ آئندہ ایسے اقدامات کریں گے کہ ان فضائی حملوں کی نوبت ہی نہ آئے اور اگر مجبوراً ایسا کرنا پڑے تو جانی نقصان کم سے کم ہو۔ سردست تو حکومت نے جنوبی وزیرستان، سرحدی قبائلی علاقوں اور مالاکنڈ ڈویژن میں میڈیا کے لوگوں کو جانے سے روک رکھا ہے جس کے نتیجے میں صحیح اور۔۔۔۔۔

 

عبدیت کی برگزیدہ ترین حالت یہ ہے کہ آدمی یہ دیکھے کہ کس لمحے خدا کی خوشنودی کس چیز میں اور کس انداز میں زیادہ ہے، اور پھر اسی کے مطابق آدمی خدا کو خوش کرنے میں لگ جائے....چنانچہ اگر کہیں پر جہاد کا وقت آن کھڑا ہوا ہے تو سب سے برگزیدہ عبادت اس لمحے جہاد ہی ہے، بے شک اس کیلئے آدمی کو اپنی عبادت کے معمولات چھوڑنے کیوں نہ پڑ جائیں۔ بے شک رات کا قیام اور دن کے روزے رکھنا اس سے کیوں نہ متاثر ہوتا ہو۔بلکہ فرض نماز جس طرح حالت امن میں بصورتِ تمام ادا کی جاتی ہے، فرض نماز کی وہ بدرجہءاتم ادائیگی اس سے کیوں نہ متاثر ہوتی ہواور آدمی کو قیام وغیرہ کی قربانی دے کر گھوڑے کی پیٹھ پر نماز کیوں نہ پڑھنی پڑے۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں   مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
   

Total Visits since 2007:  0041321

 Abu Tariq Hijazi Arab News

I want to kiss the soil of Madinah

Ian Pannell BBC News

Ex-detainees allege Bagram abuse

مظفر سلطان لونگی اخباروافکار

اسلام امریکی جیلوں میں

پرواز رحمانی اخباروافکار

افراتفري کا اصل سبب کچھ اور ہے

مزید مضامین

 

contact us
admin@eeqaz.com
Cell number for Magazines and book Delivery:+923234031624
336-D,SABZAZAR,LAHORE

Pakistan