Last Update 30/01/2010

 

Google Custom Search

حامد كمال الدين

 

تحریکوں کی جرح وتعدیل کا معاملہ

 ان ائمہ کے ہاتھوں بھی کیا کسی کو ’حنفیت‘ یا ’شافعیت‘ یا ’حنبلیت‘ وغیرہ سے ’توبہ‘ کرائی گئی؟ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ان ائمہ نے مذاہب کے اس ظاہرہ کی بابت کچھ کیا تو وہ یہ کہ ’مذہبی تعصب‘ کی مذمت کی اور ’فقہی جمود‘ کا ’علم کے نشر واشاعت‘ کے ذریعے زور توڑا .... مزید یہ کہ ان لوگوں کو جو اس بات پر طاقت رکھیں ’تحقیق‘ کی راہ دکھائی .... اور بس۔ آج ہمیں بھی لوگوں کے فقہی مذہب چھڑوانے کی تحریک نہیں چلانا محض تعصب کے خلاف آواز اٹھانا ہے .... اور جو لوگ اس بات کی طاقت وقدرت رکھیں ان کو تحقیق کی جانب یا تحقیق کیلئے مطلوبہ علمی اہلیت پیدا کرنے کی جانب ترغیب دلانا ہے .... اور بس۔ بنیاد اس مسئلہ کی وہی ہے جو پیچھے بیان ہوئی

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
ڈاکٹر خالد جامعی  

مسلمانوں کا عروج و زوال

جدیدیت پسندوں کے یہاں ایک لہر مغربی علوم کو عروج کا ذریعہ سمجھتی ہے دوسری لہر صرف سائنس کو ترقی اور تیسری لہر مغربی علوم کے ساتھ مغربی ثقافت کو۔ ان تینوں لہروں میں ایک اندرونی غیر محسوس ادغام دنیا پر غلبے اور بالادستی کا تصور ہے۔ جدیدیت پسندوں کے یہاں یہ بالادستی دعوت ایمان، قلوب کی تسخیر، دین کے لئے محنت، پیغام محبت، عمل صالح، اتحاد، اجماع اور جہاد کے مراحل کے فلسفے کے بغیر صرف سائنسی علوم اور معیشت کی طاقت پر اصرار کرتی ہے۔ طاقت کے مختلف مظاہر اسی حکمت عملی کا شاخسانہ ہیں۔ کیا عروج صرف سائنس کے ذریعے اور مادی ترقیات کے بغیر نہیں مل سکتا؟ کیا فتح کا واحد راستہ جنگ، پیسہ، علم ہے؟

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

حامد كمال الدين

 

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار!

البتہ۔۔۔۔ ”توحید“ کے سامنے ’تثلیث‘ کا نہ ٹھہر سکنا، اِس تاریخی واقعہ کی تفسیر انسانی ”عقل“ اور” خرد“ اور ”منطق“ اور ”فطرت“ کی بجائے اور اسلام کی قوت و برہان کی بجائے ’اسلام کی تلوار‘ میں تلاش کرنا، وہ عذر لنگ ہے جو اب بے حد پرانا ہو گیا ہے! مستشرقوں نے آج سے کوئی صدی بھر پہلے اِس کو ایک ’مقولہ‘ بنا دینے کی کوشش کر دیکھی ہے مگر انہیں اِس پر منہ کی کھانی پڑی جب ان کے جھٹلانے کو صرف ماضی کے دل آویز حقائق ہی نہیں، خود آج اِس دور میں بھی خدا نے ان کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی اصل قوت کا ایک چھوٹا سا نظارا کر وا ہی دیا: آج اِس دور سے بڑھ کر تو مسلمانوں پر ضعیفی کبھی نہ آئی ہوگی!

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
محمد بن عبدالوہاب  

خدا کی معرفت اور اس پر ایمان

”جو میرے کسی دوست سے دشمنی روا کرلے تو میں اس کے خلاف اعلان جنگ کر دیتا ہوں۔ میرا بندہ میری قربت پانے کیلئے کوئی ذریعہ نہ پائے گا جو مجھے ان فرائض سے زیادہ عزیز ہو جو کہ میں نے خود ہی اس پر عائد کر رکھے ہیں۔ میرا بندہ نفل عبادات کے ذریعے میرے قریب ہوتا ہی چلا جاتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ پھر جب میں اس کو محبوب کر لیتا ہوں تو میں اس کی سماعت بن جاتا ہوں جس سے پھر وہ سنتا ہے۔ میں اس کی نگاہ بن جاتا ہوں جس سے پھر وہ دیکھتا ہے۔ میں اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے پھر وہ پکڑتا ہے۔ میں اس کا پیر بن جاتا ہوں جس سے پھر وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرور دوں۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

مأخوذ مضامین

 

دیگر مضامین ایقاظ

درج ذیل مضامین سے ادارہ ایقاظ کا مکمل طور پر متفق ہونا ضروری نہیں ہے

World rejects India's Taliban stand  

دعوت توحید اور ’فرقہ واریت‘!

Times of India

 

حامد كمال الدين

Krishna was allocated a seat in the second of three rows of attendees at the conference which in itself reflected India's peripheral role in Afghan affairs in the eyes of the international community. This, despite India being the biggest regional aid-giver to Afghanistan, with a commitment of $1.3 million. Earlier in the week, Turkey, an ally of Pakistan, did not even bother to invite India to a confabulation on Afghanistan. Krishna was among more than 70 foreign ministers and officials of international organisations who attended the convention at the 185-year-old Lancaster House, a coveted venue for summits and high level interactions.

 

چنانچہ کچھ چیزوں کی حرمت کا باربار اور بے انتہا تذکرہ ہونا اور ان کی ’مسلمہ حیثیت‘ پہ حرف آنے کو خارج از سوال کردیا جانا اور کسی ’غافل‘ کو اس سے خبردار کیا جاتا رہنا کہ کبھی وہ اس کی جرات نہ کر لے، ایک قوم کی زندگی میں بہرحال ضروری ہوتا ہے۔ ’قوم‘ ہونے کیلئے یہ واقعتا اس کی ضرورت ہے۔ ایک قوم کا وجود ہی تب تک مکمل نہیں جب تک کچھ چیزیں اس کو یا اس کے ایک بڑے طبقے کو حرکت میں لے آنے حتی کہ بسا اوقات آپے سے باہر کر دینے والی نہ پائی جانے لگیں۔ کوئی خاص شخصیت یا کوئی خاص چیز ضرور ایک قوم کی زندگی میں اتنی بڑی ہونی چاہیے کہ اس کی بابت کوئی ناروا رویہ قوم کی برداشت سے باہر ہو۔

Click here to read the complete article

  مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

یمن پر حملے کی وجوہات!!

 

اصلاحِ دین بذریعہ مجدّد

انور غازی، روزنامہ جنگ

  ڈاکٹر سلمان العودہ۔محمد زکریا

یمن میں القاعدہ کی موجودگی کا شوشہ چھوڑنا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے امریکی اسٹیبلشمنٹ، واشنگٹن پر کوئی چھوٹا موٹا حملہ کرواکر القاعدہ کے کھاتے میں ڈال دے اور پھر اس کا تعلق یمن سے جوڑکر چڑھ دوڑے۔ قارئین! پس منظر و پیش منظر کے طور پر یاد رہے اگر امریکا کا بحیرہٴ عرب، خلیج فارس اور بحیرہٴ احمر پر قبضہ نہیں ہوتا تو پھر تیل کی دولت پر مکمل اختیار کا خواب شرمندہٴ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔ ”بحیرہٴ احمر، بحیرہٴ عرب اور خلیج عدن“میں سے اہم ترین بحیرہٴ احمر ہے۔ یہ چاروں براعظموں ایشیا، افریقا، یورپ اور امریکا کو ملانے والی اپنی نوعیت کی منفرد بین الاقوامی شاہراہ ہے۔ موجودہ حالات میں یہ شاہراہ مغربی ممالک کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔

 

ہم یہ بھی تسلیم کرنے کو تیار ہیں کہ آخری تجدید حضرت مہدی یا عیسیٰ علیہ السلام کریں گے لیکن اِس بات کو تسلیم کرنے کا یہ معنی ہرگز نہیں ہے کہ تمام اُمت ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر آخری مجددین کا انتظار کرے اور پھر ان ناکارہ لوگوں کے بیچ میں مجدد کا ظہور ہو اور پھر یکلخت وہ ان میں زندگی کی ایسی روح پھونک دے گا کہ وہ کل عالم کی قیادت باحسن طریق سے انجام دیں لیں۔ بھلا مجدّد مردہ جسموں میں جان ڈالنے کو مبعوث ہوگا۔ ناکارہ لوگوں کو جھٹ پٹ کارآمد بنا ڈالے گا۔ یہی بات معقول ہے کہ مجدد ایک کارآمد اور ذمہ دار اُمت کا راہ نما ہو، اُمت میں کثیر تعداد میں اہل علم وفضل موجود ہوں اور مجموعی طور پر اپنے زمانے میں اُمت مسلمہ نے جو کردار ادا کرنا ہو اس کی لیاقت موجود۔۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

  مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

دیکھا جو تیر کھا کے مکیں گاہ کی طرف

 

شان نزول اور علم تفسیر

شاہنواز فاروقی، جسارت

 

حامد كمال الدين

دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کے کئی منفی اور تکلیف دہ تجربات میں سے ایک تجربہ یہ ہے کہ وہ تیر کھا کر مکیں گاہ کی طرف دیکھتی ہے تو کسی اپنے ہی سے ملاقات ہو جاتی ہے۔ حماس ابھی غزہ کے محاصرے کے دوران سامنے آنے والی اسرائیلی درندگی اثرات سے نکلی تھی کہ اسے یہ اذیت ناک اطلاع مل گئی کہ مصر غزہ کے ساتھ اپنی سرحد پر ایک دیوار تعمیر کر رہا ہے۔ مگر اس دیوار کی تعمیر کا پس منظر کیا ہے؟ اسرائیل نے غزہ کو دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل بنا دیا ہے۔ غزہ کے دو جانب سمندر ہے، ایک جانب مقبوضہ علاقہ اور ایک جانب مصر، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اسرائیل اور مصر کی مرضی کے بغیر نہ کوئی غزہ سے آسکتا ہے اور نہ کوئی غزہ جاسکتا ہے۔

 

سید قطب قرآنی مطالب کی توضیح وتفسیر میں ایک بات جو بار بار کہتے ہیں وہ یہ کہ یہ کتاب اپنے خزانے کسی ایسے شخص پر نہیں کھول سکتی جو ذہنی اور شعوری طور پر اس فضا میں نہیں آجاتا جس میں کہ یہ قرآن نازل ہوا۔ یہ کتاب فلسفیوں اور علمی نکتے بیان کرنے والوں کو کچھ دلچسپ بحثوں کا مواد فراہم کرنے کیلئے نازل ہی نہیں کی گئی بلکہ یہ تو انسان کی تعمیر کیلئے اتری ہے اور انسانی معاشروں کو کھڑا کرنے اور بہترین انداز میں چلانے کیلئے نازل ہوئی ہے۔ پس وہ سب مرحلے اور کیفیتیں جن سے اسلام کی دعوت گزرتی رہی اور وہ سب مواقع اور حالات جن کی مناسبت سے یہ قرآن اترتا رہا، سب کے سب اس قرآن کو سمجھنے اور اس سے عین وہ مطالب پانے کیلئے جو کہ اس۔۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

  مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

فرانس کے لبرل طالبان

 

واقعے کی دہشت، یا خدا کی ہیبت؟

انور سن رائے بی بی سی اردو

 

حامد کمال الدین

حجاب کے بعد نقاب کے معاملے پر فرانس میں ایک بار وہی صورتِ حال ہے جو افغانستان میں طالبان نے اور ایران میں آیت اللہ خمینی کے پیروکاروں نے پیدا کی۔ میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ نقاب اتروانے کے لیے ریاستی طاقت کا استعمال کرنے والوں کو برقعہ، چادر اور حجاب پہنانے کے لیے طاقت استعمال کرنے والوں سے الگ کیسے کیا جائے۔ وہ اگر اسلام کے نام پر کچھ کرتے ہیں تو یہ ثقافت کے نام پر کر رہے ہیں۔ وہ اگر اسلامی شدت پسند ہیں تو یہ لبرل شدت پسند۔ ظاہر ہے ہم اس پر کچھ نہیں کر سکتے لیکن فرانس کے زوال اور انفرادی آزادی کی موت پر گریہ تو کر ہی سکتے ہیں۔

 

زمین لرزتی ہے تو آدمی کو اپنی ہستی کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ کوئی کسی اور وقت کتنا بھی تصنع کرلے اس وقت ہر آدمی بے بسی کے ساتھ ہر انداز سے ہاتھ پاؤں مارتا اور بچاؤ کےلئے جس حد تک ہو سکے بھاگ دوڑ یا ہائے دہائی کرتا ہے اور خدا کو بھی آواز دیتا ہے۔ زلزلے کے مابعد اثرات دیکھ کر ہر شخص ایک سنسنی اور سراسیمگی محسوس کرتا ہے۔ ہر شخص وہاں سنجیدہ ہوجاتا ہے۔ مگر ایک موحد کی سنجیدگی بالکل اور طرح کی ہوتی ہے۔ زمین کی دہل ایک واقعے کے طور پر ہی اس کو نہیں ڈراتی بلکہ اس کے دل پر خدا کی ہیبت کے ہتھوڑے بھی برساتی ہے۔ وہ اس وقت صرف اس واقعے کے ساتھ نبرد آزما نہیں ہورہاہوتا۔ اس وقت وہ خدا کی عظمت اور جبروت اور اس کی۔۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں   مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
   

Total Visits since 2007:  0032261

MSN America's vulnerable half-speed recovery

عبد اللہ طارق سہیل،ڈیلی ایکشرییس

اب برسوں کی بات نہیں

رحیم اللہ یوسف زئی، روزنامہ جنگ

وزیرستان کی جنگ فیصلہ کن مرحلے میں

اقبال برما، جسارت

عالم اسلام اور جاپان میں مذاکرات کا عمل

مزید مضامین

 

contact us
admin@eeqaz.com
Cell number for Magazines and book Delivery:+923234031624
336-D,SABZAZAR,LAHORE

Pakistan