Last Update 6/03/2010

Google Custom Search

حامد کمال الدین

 

لا الٰہ الا اللہ; ہر رسالت کا مرکزی عنوان

خدا کے مرتبہ اور مقام کے اِن تذکروں سے جونہی البتہ یہ دنیا خالی اور سنسان نظر آئی، اِس کے خاتمے کا فی الفور اعلان کر دیا جائے گا۔ صورِ اسرافیل پھونک دیا جانے کو بس اِسی ایک بات کی دیر ہے، کہ ہستی کو پیامِ فنا مل جائے گا۔ تب وہ ’وقعت الواقعۃ‘ ہو جائے گا جس کے ڈر سے زمین اور آسمان آج بھی تھر تھر کانپتے ہیں اور جس کی دہشت سے ہر باخبر آج بھی یہاں دم سادھ کر بیٹھا ہے!!!ہاں پھر یہی سیارچہ جس کی کوکھ میں ہزارہا سال ’زندگی‘ ناز سے پلتی رہی، اُس روز لرزہ بر اندام ہو گا!!! اِس کے شکم میں جتنے آتش فشاں قید کر رکھے گئے ہیں، اِس کا خول توڑ توڑ کر ابلنے لگیں گے اور یہ ہنستا مسکراتا سیارہ جل کر راکھ ہونے سے پہلے اُس پھٹے ہوئے گیند

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

 مہند الخلیل: اردو استفادہ حامد کمال الدین

 

یوسف علیہ السلام پر ایرانی ڈرامہ سیریل

کیا ہمارے اہل سنت طبقے ’میڈیا‘ کی بابت اب بھی سوئے رہیں گے؟ یہاں پر ایک اسلامی متبادل فراہم کرنے کے فرض سے غافل ہی رہیں گے؟ صرف گلے شکوے کرتے چلے جانا، کہ فلاں نے یہ کفر کر دیا، فلاں زندیق نے میڈیا میں یہ زہر گھولا، فلاں چینل پر اسلام کے خلاف یہ بجھا ہوا نشتر چلا، اور فلاں پروگرام میں خباثت کے فلاں اور فلاں دوررس منصوبے سامنے لائے گئے اور مسلسل لائے جا رہے ہیں.. یہ شکوے کرتے چلے جانا آخر کس مسئلہ کا حل ہے؟ اتنی بڑی بڑی جماعتیں، تنظیمیں اور ادارے آخر ہاتھ باندھ کر کیوں بیٹھے ہیں؟ آخر ہم لوگ پیچھے رہنے پر ہی کیوں مصر ہیں؟
مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

پروفیسر محمد اسحاق علوی

 

درس نظامی ۔۔ماضی،حال اور مستقبل

یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ درس نظامی سے فارغ ہونے والوں کو قرانی آیات کیوں یاد نہیں رہتیں؟ اس لیے کہ اس نصاب میں قران فہمی کو بنیادی اہمیت ہی نہیں دی گئی ہے۔درس نظامی کے نظام و نصاب کو لادینی (Secular) قراردینا بظاہر غلط معلوم ہوتا ہے، لیکن عملی جانچ سے پتہ چلتا ہے کہ درس نظامی ہر اعتبار سے لادینی نصاب ہے جو ماضی کے لادین حکمرانوں نے محض حکومتی تقاضوں کو پورا کرنے اور سرکاری کلرک وغیرہ تیار کرنے کے لیے وضع کیا تھا۔اس کی ایک واضح شہادت یہ ہے کہ اس نصاب میں قران و حدیث کا جو حصہ شامل ہے وہ ا س سے بھی کہیں کم ہے جتنا کہ موجودہ لادین تعلیمی نصاب میں شامل ہے۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

حذیفہ عبد الرحمن

 

اسے کیا کہئے !!!

محترم ! جس چیز کو آپ ’غیر مسلم قرار دینا‘ کہہ رہے ہیں اسی کو تو علماءاسلام ’تکفیر ‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ اگر ’غیر مسلم‘ قرار دینے پر کوئی اعتراض نہیں تو محض ’تکفیر ‘ کی اصطلاح کے انکار کا مقصد اپنی راہ ’الگ‘ کرنے کے سوا اور بھی کچھ ہے ؟؟؟!! تکفیر کرنے یا غیر مسلم قرار دینے کے الفاظ سے صرف نظر کر کے ان کے ’انجام‘ پر غور کیجئے گا تو نتیجہ میں بہر حال آپ کو کوئی فرق نظر نہیں آئے گا۔ پھر بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ آپ کے اصول کی رو سے یہ سوال بھی کیا جا سکتا ہے کہ کسی گروہ کو ’غیر مسلم ‘ قرار دینے کا حق’نظم اجتماعی‘ (حکومت اسلامیہ) کو کس نے عطا کیا؟؟ کیا اس کا یہ حق ’فرقان‘ (قرآن مجید) کی ’میزان‘ پر ثابت کیا جاسکتا ہے ؟ ؟؟

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

مأخوذ مضامین

 

دیگر مضامین ایقاظ

درج ذیل مضامین سے ادارہ ایقاظ کا مکمل طور پر متفق ہونا ضروری نہیں ہے

Women at war: Sexual violence in US military  

وہابی تحریک اور” اسلامی بنیاد پرستی“

BBC News

   جعفر شیخ ادریس ؛اردو استفادہ: محمد بن مالک

Dr Kaye Whitley, Director of the US Department of Defense's Sexual Assault Prevention and Response Office (Sapro), says it can be very hard for victims to report a sexual assault. "We do know that being sexually assaulted takes a great human toll on an individual and there are all kinds of barriers to keep people from wanting to come forward," she says. One of these barriers, she explains, is that after someone has reported an assault in the US military: "Their command knows, everyone in the unit knows, and it affects 'unit-readiness'." For this reason there is now a new "restrictive reporting option" so that victims who are afraid of reporting an assault can get.....

 

 جیسا کہ پیچھے گزرا، دورِ حاضر کی بنیاد پرستی خواہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی، بنیادی طور پر مغربی سیکولرزم کو مسترد کر دینے کی خاصیت سے پہچانی جاتی ہے۔ تاہم شیخ محمد بن عبد الوہابؒ کو ایسی کسی شے کاسامنا نہیں تھا۔ ”مغربی تہذیب“ ایسا کوئی مسئلہ ان کو سرے سے درپیش ہی نہیں تھا۔ مغربی تہذیب تو ایک طرف، خود مسلم دنیا بلکہ عرب کے دوسرے علاقے ان کی تگ و تاز کا محور و مرکز نہ تھے۔ اس کے باوجود انہیں البتہ ایک اور ہی قسم کے سیکولرزم کا سامنا تھا، جسے انہوں نے ”جاہلیت“ کا نام دیا۔ ”جاہلیت“ دراصل ایک شرعی اصطلاح ہے جو سماجی، معاشرتی اور اجتماعی زندگی کے کسی بھی ایسے نظام کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے جو خالص انسانی

Click here to read the complete article

  مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

امریکی اتحادیوں میں ٹوٹ پھوٹ کا آغاز

 

مسئلہ ٔحاکمیت مودودیؒ اور سید قطبؒ کے ذہن کی...

ثروت جمال اصمعی روزنامہ جنگ

 

حامد کمال الدین

افغانستان سے فوج واپس نہ بلائے جانے پر ہالینڈ میں مخلوط حکومت کا خاتمہ ہوا کے رخ کا پتہ دیتا ہے۔ جمہوریت کے لبادے میں ملبوس عالمی سامراجیت کے دیو استبداد نے اپنے نیٹو اتحادیوں کو لالچ دیا تھا کہ یہ ملک ان کے لیے نرم اور تر نوالہ ثابت ہوگا اور مہینوں میں نہیں ، ہفتوں میں مفتوح ہوجائے گا۔ پھر نہ صرف یہ کہ اس ملک کے وسائل پر تصرف کی راہ ان سب کے لیے کھلی ہو گی بلکہ وسط ایشیا کی نو آزاد ترکستانی ریاستوں کے تیل اور گیس کے عظیم الشان ذخائر بھی عالمی سرمایہ داری کے قدموں تلے ہوں گے۔ خدا اور موت کو بھول کر اپنے عارضی اقتدار کو دائمی بنالینے کی ہوس میں، انتہائی پسماندہ اور جنگ زدہ برادر اسلامی ملک کے غریب مگر غیرت مند عوام کے خلاف ناجائز جارحیت کے لیے پاکستان کو امریکا کی نوآبادی بنا دینے...

 

نظامِ باطل کو ”لائف سپورٹ“ دینے کی جو بے شمار کوششیں یہاں ایک عرصہ سے جاری ہیں اور شدید سے شدید تر ہوتی جا رہی ہیں، وہ اب اپنے اندر کچھ نئے نئے لہجے شامل کرنے لگی ہیں....!اِن ’نئے لہجوں‘ میں سے ایک یہ ہے کہ عالم اسلام پر اِس باطل نظام کو مسلط کر رکھنے کے عمل کو ’کفر‘ اور ’طاغوت‘ سے منسوب کرنا ’منہجِ سلف‘ سے متعارض باور کرایا جائے! اور اِس کی ’دلیل‘ یہ کہ سلف نے اموی اور عباسی ادوار میں چلنے والے نظام کو ’کفر‘ اور ’طاغوت‘ ایسے الفاظ سے کبھی منسوب نہیں کیا تھا!!!! گویا انگریزی نظام کو چلانے کا بھی عین وہی حکم ہے جو اموی اور عباسی دور میں چلنے والے اسلامی شرعی نظام کا تھا!

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

  مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

بد دیانت تاریخ کا اہم موڑ

 

ہجری سالِ نو پر تہنیت کی حیثیت

اوریا مقبول، ڈیلی ایکسپریس

 

جمع و ترتیب: محمد زکریا خان

ہندو اگرچہ اب آزاد ہو چکے ہیں اور ہم نے انہیں ظالم مسلمانوں سے نجات دلادی ہے۔ اب وہ بغیر کسی خوف کے دل کی بات کہہ سکتے ہیں۔ لیکن پھر بھی ان میں ایک بھی ایسا نہیں جو اس طویل زمانے کی مظلومیت کے بارے میں خیالات اور جذبات کا اظہار کرے یا مسلمانوں کے ظلم کو تحریر کرے۔ یہ تھا وہ غصہ کہ ایلیٹ صاحب کو ایک مؤرخ بھی ایسا نہ مل سکا جو ان کی طرح جھوٹ کے پلندے پر مشتمل ایک تاریخ مرتب کر سکے۔ اسے خود یہ کام کرنا پڑتا ہے اور پھر اصل ماخذ اور کتابیں ضائع کر کے اس تاریخ کو پورے بر صغیر میں عام کردیا گیا۔ جب تمام مسلمانوں کے تعلیمی ادارے نیست و نابود کر کے صرف ابنا نظام تعلیم جاری و ساری کیا گیا اور اس دور کے بچوں نے جب اس بد دیانت تاریخ کو پڑھا۔۔۔

 

عیدین، عید الاضحی اور عید الفطر پر مبارک باد دینا صحابہؓ کی کثیر تعداد سے ثابت ہے اس لئے عیدین پر مبارک باد دینے میں کچھ مضائقہ نہیں ہے۔سالِ نو پر مبارک باد دینا ، اس کی تفصیل آگے آرہی ہے ۔ اس مبارک باد کا تعلق سا ل میں پہلے روز مبارک باد دینے سے ہے ۔ مہینوں میں رمضان المبارک میں مبارک دینے کا مسلمانوں کے مابین عام معمول ہے ۔ رمضان المبارک کی آمد پر مبارک باد کہنے کی اصل تو کتب حدیث میں موجود ہے لیکن فتویٰ اس کے خلاف مشہور ہے ۔ جہاں تک کسی متعین تاریخ کے د ن تہنیت کو مذموم کہنے کا تعلق ہے تو یہ میلاد النبی اور شب ’معراج‘ سے متعلق ہے۔ ان جیسی تاریخوں میں مبارک باد دینا بدعت ہے اور اہل علم کے ہاں یہ بات معروف ہے۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

  مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

فلوجہ میں پیدائشی معذوریوں میں اضافہ

 

سرمایہ داری کا ماحولیاتی پہلو : بنگلہ دیش کی۔۔۔

بی بی سی اردو

 

جمع و ترتیب: مریم عزیز

ہمارے نامہ نگار جب ایک گھر میں گئے تو انہوں نے پایا کہ تین بچوں پر یا تو فالج کا اثر تھا یا پھر انہیں دماغی بیماری تھی۔جب ایک شخص کو بی بی سی کے نامہ نگار کے آنے کے بارے میں پتہ چلا تو وہ اپنی بیٹی کو لے کر آیا۔ اس بچی کے دونوں ہاتھوں میں چھ چھ انگلیاں تھیں اور اسے کئی قسم کی بیماریاں تھیں۔ ادھر امریکی افواج کا کہنا ہے کہ انہیں اس سلسلے میں جاری کی گئی کسی سرکاری رپورٹ کے بارے ميں پتہ نہیں ہے جس میں پیدائشی خامیوں ميں اضافے کا ذکر کیا گیا ہو۔ امریکی فوج کے ہیلتھ سسٹم کمیونیکیشن کے ڈائرکٹر میشیل کلپیٹرک کا کہنا ہے’ اب تک ایسی کوئی تحقیق سامنے نہيں آئی ہے جس میں ماحولیاتی خرابی کے نتیجے میں صحت سے متعلق کوئی خامیاں دیکھی گئی ہوں۔‘

 

مغربی ممالک میںconsumerism کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے اور یہ تمام معاشی ترقی کی شہ رگ تصور کی جاتی ہے۔اس کا مفہوم یہ ہے کہ حکومت اورکمپنیاں عوام کو مزید سے مزید تر ”خریدنے“ پر آمادہ کرتے رہیں ، ان پراپنی اشیائے صرف بیچتے رہیں چاہے اس کی ضرورت بالکل بھی نہ ہو۔ان کو تعیش اور آسائش کا عادی بنایا جائے اور اگر یہ سب خریدنے کے لئے ان کے پاس سرمایہ نہ ہو تو ان کو قرض پر یہ چیزیں حاصل کرنے پر اکسایا جائے۔ ظاہر ہے تاجر، بینکار اور کریڈٹ کارڈ کمپنیاں اتنے نیکدل تو نہیں کہ یہ رقم قرض حسنہ کے طور پر دیتے رہیں! سود لیا جاتا ہے۔ مگر موضوع فی الحال سود نہیں۔ موضوع ہے consumerism کی اصطلاح۔

مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں   مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں
   

Total Visits since 2007:  0041260

The Muslim Canada. Omar Khalidi

Hinduising India: Secularism in Practice

شاہنواز فاروقی، جسارت

ظلم، مذہبی قوتیں اور بایاں بازو

رحیم اللہ یوسف زئی روزنامہ جنگ

باجوڑ میں ایک اور المیہ

ڈاکٹر حنیف شباب، اخباروافکار

فسطائیت کا ایک اور شکار شاہد اعظمی

 

contact us
admin@eeqaz.com
Cell number for Magazines and book Delivery:+923234031624
336-D,SABZAZAR,LAHORE

Pakistan