|
|
|
تالیف: ڈاکٹر سفر الحوالی--ترجمہ حامد کمال الدین |
||||||||||
فسیقولون متی ہو؟ قل عسی اَن یکون قریباً تو پھر پوچھیں گے اچھا تو یہ کب ہوگا؟ تم کہو کیا عجب وہ وقت قریب ہی آلگا ہو! اب سب سے آخری او ردشوار سوال باقی رہ جاتاہے: یہ روزِ غضب آئے گا کب؟ اور خدا اس نحوست کے گھر کو کب برباد کرے گا؟ بیت المقدس کی زنجیریں کب ٹوٹیں گی اور اس کے باسی کب واگزار ہوں گے؟ اس کا جواب ضمناً گزر چکاہے۔ چنانچہ دانیال نے جب اس مدت کا تعین کیا جو کہ مصیبت کے آنے اور اس سے خلاصی پانے کے مابین ہوگی یعنی آزمائش اور نوید نجات کی درمیانی مدت تو وہ 45 سال تھی!! ۔ اب ہم نے دیکھ لیا کہ (مصیبت کے آنے کا جو وقت یکے از تفاسیر اہل کتاب کی رو سے متعین کیا گیا) وہ 1967ء بنتا ہے اور اس سال نحوست کا یہ ملک (بیت المقدس میں) قائم ہوا۔ اب یہ واقعہ تو ہو چکا ہے۔ اب اس بنا پر اس دور مصیبت کا اختتام یا دور مصیبت کے اختتام کا آغاز (سن 1967 + 45 ) = 2012 ءبنتا ہے، یعنی سن دو ہزار بارہ عیسوی۔ ہجری لحاظ سے 1387+45= 1433 ہجری۔ اسی کی ہم اُمید کر سکتے ہیں۔ مگر وثوق سے ہرگز نہیں کہیں گے الا یہ کہ وقائع سے ہی اس کی تصدیق ہو جائے۔ تاہم عیسائی بنیاد پرست اگر ہمارے ساتھ شرط بدنا چاہیں جس طرح کہ قریش نے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ روم کی فتح کی بابت باندھی تھی تو کسی ادنی ترین شک کے بغیر ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہم سے ضرور شرط ہار جائیں گے بغیر اس کے کہ ہم کوئی خاص سن یا وقت بتانے کے پابند ہوں۔ |
||||||||||