مکمل کتاب PDF فارمیٹ میں

فہرست مضامین۔۔نواقض اسلام

Bookmark and Share

 

PDF Download

مقدمہ

 

نواقضِ اسلام

 

  گناہوں کی سب سے سنگین و خطرناک قسم  

 

ہمارے دین نے ہمیں کچھ ایسی خطرناک ترین باتوں کی نشاندہی کر کے دی ہے جو ایمان کو بالکلیہ زائل کر دیتی ہیں۔ علمائے عقیدہ کی اصطلاح میں ان باتوں کو ”نواقضِ اسلام“ کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ باتیں جو آدمی کے ”اسلام“ کو توڑ دیتی ہیں اور تب آدمی پر از سر نو اسلام میں داخل ہونا ضروری ٹھہرتا ہے۔

”نواقض اسلام“ وہ خطرناک امور ہیں جو آدمی کا پڑھا ہوا ”کلمہ“ اُس کے حق میں ساقط الاعتبار ٹھہرا دیں۔ کیونکہ کلمہ ”لا الٰہ الا اللہ محمدٌ رسول اللہ“ میں جو بات کہی گئی تھی، ”نواقض اسلام“ کا مرتکب ہو کر آدمی اُس بات کو توڑ دیتا ہے۔ تب وہ سب فوائد جو اُس کو ”کلمہ گو“ ہونے کے ناطے حاصل ہوتے ہیں، اُس کے حق میں موقوف ٹھہرتے ہیں۔ ایسے شخص پر واجب ہو جاتا ہے کہ وہ ”کلمہ“ کو ساقط کر دینے والے اُس عمل یا رویے سے تائب ہو اور از سر نو ”کلمہ“ کی شہادت دے۔

”اسلام“ در اصل ایک عہد اور ایک میثاق ہے۔ ”اعمال“ سے بھی پہلے، خدا کے ہاں انسان کا یہ ”عہدنامہ“ agreement دیکھا جاتا ہے۔ آدمی کا یہ ”عہد“ اور یہ ”میثاق“ سلامت ہو تو عبادت گزاروں میں اُس کا کھاتہ باقی رکھا جاتا ہے۔ وہ کوئی نیکی کرے تو اُس کے قبول ہونے اور بخشش کی درخواست کرے تو اُس کے سنے جانے کا امکان مشیئتِ خداوندی میں برقرار رہتا ہے۔ البتہ یہ ”عہدنامہ“ اگر اُس کے ہاں نہ پایا گیا ہو، یا ”نواقض اسلام“ کا مرتکب ہو جانے کے باعث اُس کا یہ ”عہد نامہ“ کالعدم ٹھہر گیا ہو.. تو آدمی کے نیک اعمال کسی کھاتے میں آتے ہی نہیں، جب تک کہ وہ دوبارہ ”کلمہ“ پڑھ کر خدا کے ہاں اپنا کھاتہ نہ کھلوا لے۔

غرض ”اعمال“ سے پہلے، اسلام میں آدمی کا ”عہد نامہ“ دیکھا جاتا ہے کہ آیا اُس کا ”اقرارِ شہادتین“ قائم valid ہے یا نہیں؟

یہ ”عہد نامہ“ کامل حالت میں ہو پھر تو کیا ہی بات ہے، ناقص حالت میں ہو تو بھی کچھ نہ کچھ کام دیتا ہے؛ اسلام میں ایک فاسق فاجر شخص (مانند چور، زانی وغیرہ) کا ”اقرارِ شہادتین“ بھی منسوخ invalid بہرحال نہیں ہوتا؛ یوں قیامت کے روز اُس کی بخشش کا سوال خارج از امکان نہیں ٹھہرتا۔ کیونکہ __ اصولِ اہل سنت کی رُو سے __ آدمی کافسق و فجور اُس کے ایمان (اقرارِ شہادتین) میں ایک بہت بڑا نقص لے آنے کا سبب ضرور بنتا ہے مگر اُس کو بالکلیہ ختم کر دینے کا سبب نہیں۔ پس اگر کسی کا ”عہدِ ایمان“ ناقص حالت میں بھی باقی ہے تو کچھ نہ کچھ اور کسی نہ کسی مرحلہ پر وہ اُس کو فائدہ ضرور دے گا۔

البتہ سب سے زیادہ بد نصیب اور سب سے بڑھ کر خطرہ میں وہ شخص ہے جس نے دنیا اِس حالت میں چھوڑی کہ وہ اپنی شہادتِ لا الٰہ الا اللہ کو ہی توڑ بیٹھا تھا۔ ”نواقض اسلام“ وہ خطرناک باتیں ہیں جو آدمی کی شہادتِ لا الٰہ الا اللہ کو توڑ دیتی ہیں اور اُس کا اعتبار آخری حد تک ختم کر دیتی ہیں۔

انسان کی سب سے قیمتی متاع یہی شہادتِ لا الٰہ الا اللہ ہے۔ فسق و فجور کے اعمال اِس میں نقص لانے کا باعث بنتے ہیں البتہ نواقض اسلام اِس کو بالکلیہ ختم کر دیتے ہیں۔ اُس خوش نصیب کے تو کیا ہی کہنے جو یہاں سے ایک کامل حالت میں یہ ”شہادت“ ساتھ لے کر اگلے جہان گیا۔ البتہ یہ ناقص حالت میں بھی ہوئی تو قبر اور حشر کے بہت سے مرحلوں میں اُس کے لئے کچھ نہ کچھ کارآمد بہرحال ہو گی۔ جہنم سے نکل آنا کوئی معمولی بات تو نہیں!

چونکہ انسان کی سب سے قیمتی متاع یہی ہے، اِس لئے ہر آدمی کو اپنا یہ ”عہد نامہ“ بہترین اور درست ترین حالت میں رکھنا ہوتا ہے اور اُن باتوں سے خبردار رہنا ہوتا ہے جو اس کے عہد نامے کو داغ دار کر دیں۔ تاہم اِس سے بھی بڑھ کر اُس کے ڈرنے اور خبردار رہنے کی وہ باتیں ہیں جو اُس کے عہدنامے کو داغ دار ہی نہیں سرے سے کالعدم کر دیں۔

”نواقض اسلام“ گناہوں کی وہ خاص قسم ہے جو آدمی کے ”اقرارِ شہادت“ کو کالعدم کر دینے کا موجب ہوں، یعنی جن کے ہوتے ہوئے آدمی کا دعوائے اسلام ہی غیر معتبر ٹھہرے۔

اب آپ خود ہی غور فرمائیے: آدمی کا ”دعوائے اسلام“ ہی خدا کے ہاں در خورِ اعتنا نہ ہو، تو اُس کے ”اعمال“ کے قابلِ اعتنا ہونے کی نوبت کیونکر آسکتی ہے؟

پس جہاں ایک مسلمان کو یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ خدا کی معصیت اور نافرمانی کے وہ کام جو محض ”گناہ“ یا ”فسق و فجور“ کہلاتے ہیں اُس کے حق میں کس قدر مہلک ہیں.. اُس سے کہیں بڑھ کر اُس پر یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ خدا کی معصیت اور نافرمانی کے وہ امور جو ”موجب کفر و ارتداد“ ہیں اور جو کہ سب نیکیوں پر پانی پھیر کر رکھ دینے والے ہیں اُس کے حق میں کس قدر تباہ کن ہیں۔

”اسلام“ سب سے پہلے ایک عہد، ایک اقرار، ایک شہادت اور ایک حلف نامہ ہے۔ اِسی ”عہد“ کے دم سے اُس کی رکنیت ملت کے اندر باقی رہتی ہے۔ اِسی ”شہادت“ کی بدولت اُس کے نیک اعمال کو شرفِ قبولیت بخشا جاتا ہے۔ اِسی ”رشتۂ بندگی“ کے واسطے سے بخشش کی دعائیں اور التجائیں سنی جاتی ہیں۔ اِسی ”تعلق“ کے وسیلے سے خطائیں اور لغزشیں معاف ہوتی ہیں۔ اِسی پر سب کے سب اعمال کا دار و مدار ہے۔ سب سے بڑھ کر آدمی کے پریشان ہونے کی بات ہے تو وہ یہی کہ خدا کے ساتھ اُس کا یہ ”عہد“ ہر قسم کے داغ دھبے سے محفوظ رہے اور اُن چیزوں سے تو خاص طور پر بچا کر رکھا جائے جو کسی وقت اس کا کام ہی تمام کر جائیں۔ یقینا کچھ باتیں ایسی ہیں جو آدمی کے اِس ”عہد“ کو عیب دار کر دینے کا موجب ہوں، اور جو کہ عام کبائر ہیں۔ لیکن کچھ باتیں بلا شک و شبہ ایسی ہیں جو اِس ”عہد “ کو وجود ہی سے ختم کر کے رکھ دیں، اور جن کو کہ ”نواقض اسلام“ کہا جاتا ہے۔

ظاہر ہے ، جتنی کوئی چیز خطرناک ہے اتنا ہی اُس سے بچ کر رہنا ضروری ہے۔

اگر ایسا ہے تو آدمی سوچ سکتا ہے کہ ”نواقض اسلام“ سے بڑھ کر کونسی چیز ہے جس سے وہ ساری زندگی خبردار اور چوکنا رہے۔ آدمی کا ”عہدِ اسلام“ خراب اور داغدار ہو جانا بھی اُس کو برداشت نہ ہونا چاہیے، کجا یہ کہ وہ کوئی ایسا کام کر بیٹھے کہ جس کے باعث وہ اپنی یہ متاع سرے سے کھو بیٹھے۔

علمائے عقیدہ ہمیں بتاتے ہیں: عام کبیرہ گناہوں سے مومن کا یہ ”کھاتہ“ خراب اور داغ دار ضرور ہوتا ہے تاہم کالعدم نہیں ہو جاتا۔ عام کبیرہ گناہوں کا رسیا شخص فاسق کہلاتا ہے۔ فاسق شخص ملت کی صفوں میں پایا جانے والا فاسد عنصر ہے، پھر بھی وہ ملت سے خارج نہیں ہوتا۔ زنا، چوری، ڈکیتی، قتل، بددیانتی وغیرہ ایسے گناہ سب کبائر ہیں۔ یعنی دین اسلام کی رو سے یہ بڑے بڑے پاپ ہیں۔ اِن کے ارتکاب سے آدمی کا اللہ کے ساتھ کیا ہوا وہ عہد جسے ”اسلام“ یا ”ایمان“ کہا جاتا ہے، ناقص اور کمزور ہو جاتا ہے البتہ ٹوٹتا نہیں۔ غرض زنا، چوری، جھوٹ، بد دیانتی اور اسی جیسے دیگر کبیرہ گناہ سرزد ہونے کے باوجود آدمی مسلمان بہرحال رہتا ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں ایسے شخص کو فاسق یا فاجر کہا جائے گا، جو کہ مسلمان ہونے کا ایک نہایت ناقص درجہ ہے۔ ایسے افعال سے آدمی عذابِ خداوندی کی وعید میں ضرور آ جاتا ہے، جو کہ ہے تو ایک نہایت خطرناک بات، کیونکہ تھوڑی دیر کیلئے بھی خدا کا عذاب سہنا ایک بے حد خوفناک اور روح فرسا بات ہے، تاہم یہ ”وعید“ کا وہ دائرہ ہے کہ: خدا چاہے تو اپنی مرضی سے آدمی کا وہ گناہ معاف کر دے، یا پھر دنیا کی کسی مصیبت یا آخرت کی کسی سختی کے عوض، یا گناہوں کے مقابلے میں نیکیوں کا پلڑا بھاری نکل آنے کے باعث، یا اپنے کسی نیک بندے کی شفاعت کے نتیجے میں، یا دوزخ میں کچھ وقتی سزا دے دینے کے بعد، اُس گناہ کے انجام سے آدمی کی خلاصی کرا دے.... غرض یہ امکان باقی ہے کہ کسی نہ کسی وقت وہ خدا کی ابدی رحمت کا مستحق ہو جائے۔

لیکن صاحبو! ”نواقض اسلام“ گناہوں کی وہ خطرناک قسم ہے جو زنا سے بھی سنگین ہے اور چوری سے بھی۔ ”نواقض اسلام“ کبائر کی وہ قسم ہے جو شرابی ہونے سے بھی سنگین تر ہے اور قاتل اور ڈکیت ہونے سے بھی۔ راشی ، کرپٹ، سود خور یا بھتہ خور ہونے سے بھی۔ ”نواقضِ اسلام“ کچھ ایسے گھناؤنا کبائر ہیں جو ”کفر“ اور ”شرک“ کے باب سے ہیں اور جن کے ارتکاب سے:

- آدمی کا خدا کے ساتھ کیا ہوا بندگی اور عبادت کا وہ عہد جسے ”اسلام“ کہا جاتا ہے سرے سے کالعدم ہو جاتا ہے،

- یہ گناہوں کی وہ قسم ہے جس کو خدا معاف کرتا ہی نہیں۔ الا یہ کہ آدمی نے زندگی زندگی خدا سے اس کی معافی مانگ لی ہو اور اس سے تائب ہو گیا ہو،

- آدمی نے جانتے بوجھتے ہوئے ”نواقضِ اسلام“ کی قبیل کا کوئی گناہ کر لیا ہو اور اسی حالت میں اُس کی موت واقع ہو گئی ہو، تو دوزخ سے نکلنے کا امکان ہی ختم ہو جاتا ہے۔

- ایسے آدمی کی نیکیوں اور برائیوں کو ترازو کے پلڑوں میں ڈال کر تولنے اور جانچنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔ ”نواقض اسلام“ کے ہوتے ہوئے کسی نیکی کے تلنے کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔ ”نواقض اسلام“ اُس مصیبت کا نام ہے جو انسان کی سب سے بڑی نیکی یعنی ”ایمان“ یا ”توحید“ کو کالعدم کر چکی ہوتی ہے، پھر کسی اور نیکی کے باقی رہنے کا کیا امکان؟ نیکیوں کے برائیوں پر بھاری پڑنے کی نوبت اُسی شخص کے حق میں آئے گی جس کا دامن خواہ کیسی ہی برائیوں سے پر کیوں نہ ہو، البتہ ”نواقض اسلام“ ایسی کسی برائی سے اُس کا دامن بہرحال پاک ہو۔

مختصر یہ کہ عام کبائر سے انسان کا عہدِ بندگی عیب دار ہو جاتا ہے، البتہ اِس عیب دار حالت میں بھی اُس کا یہ عہدِ بندگی باقی ضرور رہتا ہے۔ تاہم ”نواقضِ اسلام“ وہ کبائر ہیں جن کے ارتکاب سے یہ عہد سرے سے ٹوٹ جاتا ہے، یعنی باقی ہی نہیں رہتا۔ تب آدمی کا نماز پڑھنا اُس کی آخرت کیلئے فائدہ مند رہتا ہے اور نہ روزہ رکھنا، حج کرنا اور نہ صدقہ و خیرات یا دین کا کوئی بھی عمل کرنا.. جب تک کہ آدمی کا خدا کے ساتھ وہ عہد ہی از سر نو بحال نہ ہو جائے جس کو اصطلاح میں ”شہادتین“ کہا جاتا ہے۔ غرض آدمی ”نواقض اسلام“ کے دائرہ میں آنے والی کسی بات یا کسی رویے اور وتیرے کا مرتکب ہو، تو اُس پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے اُس عہد کی از سر نو تجدید کرے، یعنی کلمہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی از سرنو شہادت دے۔

پس ”نواقضِ اسلام“ ایسے ہی کچھ سنگین اور خطرناک اقوال، اعمال اور رویوں کا نام ہے جو انسان کی کلمہ گوئی کا اعتبار ختم کر کے رکھ دیں۔ اب آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ ایسے خطرناک اقوال، افعال اور رویوں سے آگاہ و متنبہ رہنا انسان پر کس قدر لازم ہے، خصوصاً آج جبکہ معاشروں میں جہالت عام ہے۔ فتنوں اور گمراہیوں کا دور دورہ ہے۔ سنگین قسم کے انحرافات کی آندھیاں اور جھکڑ پورے زور کے ساتھ چل رہے ہیں۔حق، غربت اور اجنبیت کا شکار ہے اور ’اسلام‘ کے نام پر ہزارہا قسم کی تحریفات اور جعلسازیاں دیکھنے کو ملتی ہیں؟

پس آج تو سب سے بڑھ کر ضروری ہو گا کہ آدمی کو ”نواقض اسلام“ معلوم ہوں۔ بلکہ ضروری ہو گا کہ آدمی اپنے عزیزوں، دوستوں اور اپنی قوم کے لوگوں میں ان خطرناک امور سے متعلق شعور عام کرے۔

 

٭٭٭٭٭

 

قارئین! اِس سلسلہ کے پچھلے کتابچہ میں ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ خدا کے ساتھ بندگی کا یہ رشتہ اور یہ میثاق وجود میں کیونکر لایا جاتا ہے۔ وہاں ہم پڑھ آئے ہیں کہ اِس کے لئے شروطِ لا الٰہ الا اللہ کا متحقق ہونا ضروری ہے۔ حالیہ کتابچہ میں اب ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ اِس ”میثاق“ کو توڑ دینے والی کون کونسی باتیں ہیں، تاکہ آدمی اِن سے متنبہ رہے۔ اول الذکر اگر ایک مسلم فرد یا معاشرے کو وجود میں لانے کیلئے ضروری ہے تو ثانی الذکر کا علم ہونا اس فرد یا معاشرے کو ”مسلم“ رکھنے کے لئے ناگزیر ہے۔

مسلم معاشرہ ایک نظریاتی معاشرہ ہے۔ یہاں سب سے بڑھ کر ضروری ہے کہ: آدمی کو ”اسلام“ میں داخلہ کا راستہ بھی نشان زد کر کے دیا جائے اور ”اسلام“ سے خارج کر دینے والے راستوں سے بھی اُس کو خبردار رکھا جائے۔ مسلم معاشرے کو اُس کی بنیادوں پر کھڑا کرنے اور کھڑا رکھنے کیلئے اِس بات سے ہرگز کوئی مفر نہیں۔ اسلام کے اِحیاءکے جہاں اور کئی ایک تقاضے ہیں وہاں یہ بھی ایک تقاضا ہے۔ اِس کے بغیر مسلم معاشروں کو اُن کا ٹھوس پن اور ٹھیٹ پن واپس دلانا ممکن نہیں۔ آج کے دور میں جہاں ’گلوبلائزیزشن‘ کے تھپیڑے عالمی سماج کی ایک تشکیل نو کر رہے ہیں، جبکہ ہمارے معاشرے بطورِ خاص اُن کا ہدف ہیں، ہمارے ”عقیدہ“ کے یہ اصیل حقائق ہماری خصوصی ضرورت ہیں۔

وما توفیقی اِلا باللہ، علیہ توکلت و اِلیہ أنیب

 

حامد کمال الدین