|
|
|
چونکہ بھائیو اسلام کوئی نسلی مذہب نہیں بلکہ ایک اصولی ضابطہ ہے، لہٰذا اسلام کے دروازے ہر کسی پر ہر وقت کھلے رہتے ہیں۔ کوئی جب چاہے اس میں داخل ہو اور خدا کی ابدی رحمت کا مستحق۔ اس پر کسی قوم یا کسی نسل کا ہرگز کوئی اجارہ نہیں۔ بس اس کی کچھ شرطیں آپ پوری کر دیجئے آپ داخل اسلام ہوئے۔ یہاں اب آپ کو وہی حقوق حاصل ہیں جو صدیوں سے کسی مسلمان کو حاصل رہے ہوں۔ یہ اسلام کا عدل بھی ہے کہ اس کے دروازے سب کیلئے مساویانہ طور پر کھلے ہوں اور یہی اسلام کے عالمگیر ہونے کی دلیل بھی۔ ان دونوں باتوں کا تقاضا ہے کہ اس کی رکنیت اگر کسی کو ملے تو کسی خاص وصف merit کی بنیاد پرملے اور اگر یہ رکنیت کسی سے چھنے تو بھی کسی خاص وصف کی بنیاد پر چھنے۔ اس کی رکنیت کیا ہے؟ خدا کی ابدی رحمت کا استحقاق۔ اربوں کھربوں سال کا آرام۔ انبیاءکی معیت۔ صالحین کی رفاقت۔ ایسا استحقاق بھلا محض کسی نسلی یا آبائی بنیاد پر ہوسکتا ہے؟ خود عقل کا تقاضا ہے کہ اس کا کوئی اصول اور ضابطہ ہو۔ اس کائنات کا فرماں رواں سب سے بڑھ کر انصاف پسند ہے اور سب سے بڑھ کر حکمت اوردانائی کامالک۔ اسلام کی اس صفت کو جان لینا بھائیو بے انتہا ضروری ہے۔ خدا ہمیں آگ کی سختی سے بچائے ایک طرف تو ہم کہیں کہ اسلام کے بغیر آدمی لاکھوں کروڑوں سال آگ میں جلے گا۔ دوسری طرف ہمارا یہ خیال ہو کہ اسلام میں آنے اور مسلمان رہنے کیلئے کوئی قاعدہ قانون ہی نہیں؟ عقل کا تقاضا ہے کہ خداکی رحمت ایسی انمول چیز ہو تو سب کیلئے مگر ہو کسی اصول اور وصف merit کی بنیاد پر۔جو اس کو پائے وہ کسی معقول بنیاد پر پائے اور اگر کوئی اس سے خالی رہے تو اس کی بھی کوئی باقاعدہ بنیاد ہو۔ اب جہاں تک اس نعمت کو پانے کا تعلق ہے تو اس کا اصول یہ ہے کہ آدمی لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کی صورت میں اپنی زندگی کیلئے ایک لائحہ عمل اختیار کرے۔ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کی شروط پوری ہو جائیں تو یہ لائحہ عمل خودبخود واضح ہو جاتا ہے.... مختصراً، یہ تمام باطل خداؤں کا انکار کر کے اور اللہ وحدہ لا شریک کے ماسوا پوجی جانے والی ہستیوں کے ساتھ کفر کر کے، بندگی اور عبادت کو اللہ وحدہ لا شریک کیلئے خالص کر دینا ہے، اور محمد رسول اللہ ﷺ کو اپنے لئے ہدایت کا منبع، قانون کا مصدر، حق کا معیار اور زندگی کا اسوہ و نمونہ مان لینا ہے۔ پورے علم اور وثوق کے ساتھ، صدق اور اخلاص کے ساتھ، گرویدہ ہو کر اور ظاہر و باطن میں اس کی پابندی قبول کرتے ہوئے۔ پھر اس لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کو __ شروط کے ساتھ __ ادا کرنے کے بعد آدمی کو زندگی کے جتنے دن نصیب ہونا ہوں.... اس کلمہ کا کم از کم اثر اس کی اس باقی ماندہ زندگی میں نظر آنا ضروری ہے۔ اب یہ جس چیز کو ہم نے لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کا اثر کہا ہے اسی کو لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کے تقاضے بھی کہا جاتا ہے۔ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کا یہ اثر (جس کو لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کے تقاضے کہا جاتا ہے) ایک کلمہ گو کی زندگی میں کم از کم حد تک نظر آنا لازمی ہے۔ ”لآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کے تقاضے“ وہ امور ہیں جن کا یہ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ اپنے قبول کرنے والے سے اس کی روزمرہ زندگی میں مطالبہ کرتا ہے۔ مختصراً، اسلام کے سب فرائض و واجبات لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کے تقاضوں میں ہی آتے ہیں بلکہ ایک معنیٰ میں مستحبات و مندوبات بھی لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کے تقاضوں ہی میں آتے ہیں، گو یہ شریعت کو رضاکارانہ بنیاد پر مطلوب ہیں نہ کہ بر سبیل لزوم۔ محرمات و مکروہات سے بچنا اور اپنے آپ کو مباحات کے دائرے سے باہر نہ نکلنے دینا بھی لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کے تقاضوں میں ہی آتا ہے۔ اسلام چونکہ ایک واقعاتی دین ہے اور انسانی کمزوریوں کا پورا لحاظ کرتا ہے، اِس لئے لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کے تقاضے کم از کم حد تک ادا کرنا تو بہرحال ضروری ہے، البتہ زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد نہیں۔ نیز بعض فرائض و واجبات ادا ہونے سے رہ جائیں یا بعض محرمات کا ارتکاب ہونے لگے، تو بھی آدمی اسلام سے خارج نہیں ہو جاتا بلکہ فسق و فجور لازم آتا ہے۔ ہاں اگر آدمی اسلام کے فرائض و واجبات کو بالکلیہ ترک کر دیتا ہے، اور جس کو علمائے عقیدہ کی اصطلاح میں ”جنسِ عمل کا ترک“ کہا جاتا ہے، تو یہ البتہ اہل سنت کے ہاں کفر شمار ہوتا ہے، جیسا کہ آپ ”نواقض اسلام“ کے آخری بند، ”اعراض“ کے تحت دیکھیں گے۔ ”لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کے تقاضے“ ایک طویل موضوع ہے۔ خدا نے چاہا تو اس پر کبھی الگ سے بات کریں گے۔ بہرحال یہ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کے تقاضے اسی وقت زیربحث آتے ہیں جب ایک بار آدمی کا لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کہنا بجائے خود معتبر ہو۔ اس سے پہلے اگر وہ اسلام کا کوئی عمل کرتا بھی ہے تو وہ قبول نہیں۔ کیونکہ خدا کو اسلام کا کوئی عمل فی نفسہ مطلوب نہیں بلکہ اسلام کا کوئی عمل خدا کو مطلوب ہے تو وہ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کے تقاضے کے طور پر ہی مطلوب ہے۔ یہ ایک فضیلت اور شرف ہے جو خدا نے اس کلمہ کو دے رکھا ہے۔ اسی وجہ سے ہم عقیدہ رکھتے ہیں کہ اسلام کا سب سے بڑا اور سب سے پہلا فرض توحید ہے۔ چنانچہ اسلام کے جملہ اعمال اور فرائض ___ جو کہ دراصل لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کے تقاضا جات ہیں __ اسی وقت سے اور اسی وقت تک معتبر ہیں جب سے اور جب تک آدمی کا لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کہنا معتبر ہے۔ کوئی عمل اس سے پہلے معتبر ہے اور نہ اس کے بغیر۔
*****
اب یہاں سوال ایک نہیں دو ہو جاتے ہیں: آدمی کا داخلِ اسلام ہونا کس وقت ’سے‘ معتبر ہوتا ہے؟ اور یہ کس وقت ’تک‘ معتبر رہتا ہے؟ یعنی شرط صرف یہ نہیں کہ آدمی ایک بار کلمہ گو ہو جائے اور پھر جو مرضی کرتا رہے، بلکہ شرط یہ ہے کہ آدمی کی یہ صفت تا دم زندگی باقی بھی رہے اور اس سے کسی وقت جدا نہ ہونے پائے۔ سو اُس کے کلمہ گو ہونے کا اعتبار اگر کسی وقت ساقط ہو جائے تو اس کا معاملہ وہیں آرہتا ہے جہاں ہم نے اس کو کلمہ پڑھنے کیلئے کہا تھا۔ ان میں سے پہلے سوال کا جواب ہم شروط لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ میں دے آئے ہیں: آدمی کے مسلمان یا کلمہ گو ہونے کا اعتبار اس وقت سے ہوگا جب وہ شروط کو پورا کرتے ہوئے کلمہ کا اقرار کرے گا۔ دوسرا سوال اب یہاں آرہا ہے: آدمی کے کلمہ گو ہونے کا اعتبار کب تک رہتا ہے؟ جب تک وہ کوئی ایسا اعتقاد یا عمل یا رویہ اختیار نہ کرلے جو اس کو اسلام سے خارج کر دینے والا ہو۔ اسلام سے خارج کر دینے والے امور کو ”نواقض اسلام“ کہا جاتا ہے۔ چنانچہ ضروری ہے کہ آدمی کو ”شروطِ لا الہ الا اللہ“ ہی کی طرح ”نواقض اسلام“ بھی معلوم ہوں۔ کچھ بھی ہو جائے ایسی بات کے تو آدمی قریب تک نہ جائے جس سے اس کا کلمہ ہی ضائع ہو جائے اور یوں اس پر سے خدا کی رحمت کا سایہ اٹھ جائے اور پھر وہ جتنے بھی اعمال کرے سب کے سب قبولیت سے محروم رہیں۔ لازم ہے کہ انسان کو اسلام میں داخل ہونے کا دروازہ بھی معلوم ہو اور پھر وہ اس سے خارج ہونے کی راہوں سے بھی خبردار اور چوکنا رہے۔ پہلی بات یعنی اسلام میں داخلہ ہم ”شروط لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ“ میں پڑھ آئے۔ دوسری بات یعنی کن باتوں سے آدمی دین اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اب ”نواقض اسلام“ میں پڑھیں گے۔
*****
شروط لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ اور نواقض لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کی مثال کچھ اس طرح سمجھئے جیسے نماز کی شروط اور نماز کے نواقض کا معاملہ ہے۔ نماز کیلئے آپ نے وضو کیا، نماز کی ایک شرط پوری کرلی۔ مگر اب یہ بھی ضروری ہے کہ جتنی دیر آپ کو نماز پڑھنی ہے اس سارا عرصہ آپ کا وضو باقی بھی رہے۔ اب اگر دوران نماز وضو ٹوٹ جاتا ہے تو آپ کی پہلی پڑھی ہوئی رکعات بھی گئیں اور جو نہیں پڑھیں وہ بھی پڑھنے سے رہ گئیں۔ اب آپ کی نماز نہ ہوگی تاوقتیکہ آپ وضو کی تجدید نہ کرلیں۔ ”وضوءٹوٹنے“ کے علاوہ کچھ امور ہو سکتے ہیں جو نواقضِ صلوۃ ہوں یعنی جو نماز توڑ دیں۔ مثلاً دوران نماز گفتگو، خوردنوش یا کوئی اور ایسا کام کرنا جو نماز میں ممنوع ہے اور نماز کے نواقض میں شمار ہوتا ہے۔ جس طرح کچھ باتیں نماز کو توڑ دیتی ہیں اور ”نواقض صلوٰۃ“ کہلاتی ہیں، اسی طرح کچھ باتیں روزہ کو توڑ دیتی ہیں اور ”نواقضِ صوم“ کہلاتی ہیں۔ مثلاً جانتے بوجھتے ہوئے کھانا یا پینا یا قےءکرناوغیرہ۔ اسی مثال کو کچھ وسیع کرلیں۔ زندگی زندگی انسان کو خدا کی بندگی کرنی ہے۔ یعنی ”مسلم“ بن کر رہنا ہے۔ اس کیلئے ایک تو یہ ضروری ہے کہ انسان کا شہادتِ حق دینا ایک بار معتبر ہو (جو کہ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کو شروط کے ساتھ ادا کرنے سے ہوتا ہے) دوسرا یہ ضروری ہے کہ اس کا شہادتِ حق دینا پھر مرتے دم تک معتبر بھی رہے۔ یعنی آدمی کا’کلمہ‘ نہ ٹوٹے۔ کلمہ کو توڑ دینے والی باتوں کو ہی علماءکی اصطلاح میں ”نواقض اسلام“ کہا جاتا ہے۔ پس یہ دو باتیں نہایت اہم ہو جاتی ہیں: 1) شروطِ لا الٰہ الا اللہ ادا ہوں تو آدمی ”کلمہ گو“ بنتا ہے۔ 2) نواقضِ اسلام ایسی کسی چیز کا ارتکاب ہو تو آدمی ”کلمہ گو“ نہیں رہتا۔ شیخ الاسلام محمد التمیمی اپنے رسالہ ”اربع قواعد للدین تمیز بین المؤمنین والمشرکین“ کے مقدمہ میں فرماتے ہیں: چنانچہ اگر تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی عبادت کرانے کو پیدا کیا تو پھر تم کو یہ بھی جاننا چاہیے کہ عبادت عبادت ہی نہیں کہلاتی جب تک وہ توحید کے ساتھ نہ ہو، بالکل ویسے ہی جیسے نماز نماز نہیں کہلاتی جب تک وہ طہارت کے ساتھ ادا نہ ہو۔ پھر جب شرک آجائے تو عبادت باطل ہو جاتی ہے، عین اُسی طرح جیسے دوران نماز کسی کا وضو جاتا رہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُواْ مَسَاجِدَ الله شَاهِدِينَ عَلَى أَنفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ أُوْلَئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ (التوبہ: 17) ”مشرکوں کا یہ کام نہیں کہ وہ اللہ کی مساجد آباد کریں جبکہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دیتے ہیں۔ ان کے تو سارے اعمال اکارت ہیں اور وہ ہمیشہ آگ میں رہیں گے“۔ چنانچہ اگر تم اس بات سے آگاہ ہو جاؤ کہ عبادت جب شرک آمیز ہو تو باطل ہو جاتی ہے انسان کا سارا عمل اکارت ہو جاتا ہے اور وہ دوزخ میں ہمیشہ رہنے والوں میں شمار ہوگا تو تمہیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ اس بات سے آگاہ رہنا تم پر سب سے زیادہ لازم ہے شاید کہ اللہ تعالیٰ تمہیں شرک کے اس چنگل سے بچا کے رکھ لے۔ (مجموعہ التوحید صفحہ: 254)
*****
نواقض اسلام وہ باتیں ہیں جن سے آدمی پر آگ واجب ہو جاتی ہے۔ ان کے پائے جانے کی صورت میں نماز، روزہ اور زکوٰۃ خیرات تو کیا، کلمہ بھی فائدہ نہیں دیتا.... تاآنکہ ان سے توبہ نہ کر لی جائے۔ کیونکہ نواقض اسلام ہیں ہی وہ باتیں جن کی سب سے پہلے کلمہ پر ہی زد پڑتی ہے۔ یہاں ”کلمہ گو“ والی غلط فہمی کا ازالہ ایک بار پھر ضروری ہے۔نواقض اسلام کہتے ہی ان باتوں کو ہیں جو کسی شخص کو اسلام سے خارج کر دیں یعنی کلمہ گو کو کلمہ گو نہ رہنے دیں۔نواقضِ اسلام ہیں ہی وہ باتیں جو آدمی کے کلمہ گو ہونے کو کالعدم کردیں۔ نواقض اسلام کسی کافر کو اسلام سے خارج کرنے والی باتوں کو نہیں کہا جاتا! بلکہ نواقض اسلام تو عین وہ باتیں ہیں جو کسی ”کلمہ گو“ کو کافر قرار دینے کیلئے علماءاور ائمہ نے بیان کی ہیں۔ پس یہ بات جان لینے کے بعد اس امر کی گنجائش نہیں رہتی کہ آپ کسی کلمہ پڑھنے والے شخص کو طاغوت کی مسند پر دیکھیں یا کسی قبر کو سجدہ کرتے ہوئے پائیں تو اسے ”بہرحال مسلمان“ کہنے اور سمجھنے پر مجبور ہوں، کیونکہ وہ آپ کے خیال میں کلمہ پڑھتا ہے! جو شخص طاغوت کی مسند پر جا بیٹھے یا غیر اللہ کو سجدہ کر آئے، یا جو غیر اللہ سے حاجت روائی کروا آنے سے دریغ نہیں کرتا، اُس کا ”کلمہ“ کہاں رہ گیا؟ وہ تو ”کلمہ“ پڑھتا نہیں ”کلمہ“ کو توڑتا ہے! نواقضِ اسلام کی بابت ایک اور بات ذہن نشین ہونا بھی ضروری ہے۔ اسلامی فقہ کی کوئی کتاب ایسی نہ ہو گی جس میں ”باب المرتد“ نہ ہو۔ اس باب میں فقہاءدراصل نواقض اسلام ہی بیان کرتے ہیں۔ کتب فقہ میں ان باتوں کی فہرست بہت طویل ہے جن سے ایک کلمہ گو اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ مگر اس مختصر رسالہ میں شیخ محمد التمیمیؒ نے ان بیشتر باتوں کو دس نواقض اسلام کے تحت ایک ایسے مؤثر انداز میں بیان کردیا ہے جس کی فی زمانہ ضرورت تھی۔ بہرحال ہمارے ہاں کوئی شخص جیسے مرضی شرک کرے، چاہے کروڑوں انسانوں پر معبود اورطاغوت بن بیٹھے، جب تک ”کلمہ“ پڑھنے سے دستبردار نہ ہو اس کو مسلمان کہنا واجب سمجھا جاتا ہے۔ گویا مرتد شخص وہ ہوتا ہے جو اسلام سے ”بقلم خود“ مستعفی ہو جائے اور جو خود کو مسلمان کہے یا لکھے جانے پر شدید معترض ہو! ایسی کوئی شرط کسی فقیہ نے فقہ کی کسی کتاب میں نہیں لگائی جو کہ ہمارے جاہلی معاشرے میں تقریباً اجماع کا درجہ رکھتی ہے!
*****
فتنوں کا ایک ایسا دور جس میں آدمی صبح کو مومن اور شام کو کافر ہو رہے یا پھر شام کو مومن ہو اور صبح چڑھنے تک کافر ہوا ہو .... اس کی پیشگوئی حدیث میں ہوئی ہے: عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ ﷺ قال: ”بادروا بالاعمال فتنا کقطع اللیل المظلم۔ یصبح الرجل مومناً ویمسی کافراً أویمسی مؤمنا ویصبح کافراً یبیع دینہ بعرض من الدنیا“ (رواہ مسلم) ”نیک اعمال کی جلدی کرلو اس سے پہلے کہ کچھ ایسے فتنے آئیں جو رات کے سیاہ پردوں کی طرح (چھا جانے والے) ہوں۔ آدمی صبح کو مومن ہوگا تو شام کو کافر ہوا ہوگا۔ یا شام کے وقت مومن ہوگا تو صبح تک کافر بنا ہوگا۔ دنیا کے کسی لالچ کے عوض آدمی اپنا دین بیچ دیا کرے گا“۔ پس فتنوں کے دور میں نواقض اسلام، یعنی وہ باتیں جن کے ارتکاب سے آدمی حالت ایمان سے حالت کفر میں چلا جاتا ہے، کا علم رکھنا اور ان سے بے حد خبردار رہنا اور دوسروں کو خبردار کرنا اس حدیث کی رو سے اور بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ کفر یا شرک یا خدا کو غصہ دلانے کے بعض الفاظ یا عبارتیں، رویے یا انداز ایک جاہلی ماحول میں بسا اوقات اس قدر عام اور معمول کی بات ہو جاتے ہیں کہ آدمی کو اندازہ بھی نہیں ہوتا اور وہ کفر کا مرتکب ہو رہا ہوتا ہے۔ کسی چیز سے لاعلمی کوئی مطلق عذر نہیں۔ بسا اوقات لاعلمی الگ سے آدمی کا ایک گناہ شمار ہوتا ہے اور اس لاعلمی کے باعث کیا گیا گناہ یا کفر وشرک کا وہ کام الگ سے اس کے کھاتے میں ایک گناہ لکھا جاتا ہے۔ آدمی کو یہ اندازہ تک نہ ہونا کہ وہ خدا کو کس قدر ناراض کر دینے والی بات کر رہا ہے بسا اوقات علیحدہ سے ایک جرم شمار ہوتا ہے۔ جب آدمی جاننے پر قادر ہو مگر جاننے کی ضرورت تک محسوس نہ کرے تو بہت امکان یہ ہے کہ خدا کے ہاں اس کا جاہل رہنا کوئی عذر نہ ہو۔ عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: ” اِن العبد لیتکلم بالکلمۃ من رضوان اللہ لا یلقی لھا بالاً یرفعہ اللہ بھا درجات۔ و اِن العبد لیتکلم بالکلمۃ من سخط اللہ لا یلقی لھا بالًا یھوی بھا فی جھنم“ (رواہ البخاری) ”ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”بندہ کبھی کوئی خدا کو خوش کرنے والی ایسی بات زبان سے بول دیتا ہے جس کی طرف اس کی کوئی توجہ تک نہیں گئی ہوتی مگر اللہ اس کے سبب اس کے بہت سے درجات بلند کر دیتا ہے۔ بندہ کبھی کوئی خدا کو ناراض کر دینے والی ایسی بات زبان سے بول دیتا ہے جس کی طرف اس کی کوئی توجہ تک نہیں گئی ہوتی مگر اس کے باعث وہ جہنم کے گڑھے میں جا گرتا ہے“۔
*****
نواقض اسلام کو جاننا ایک اور لحاظ سے بہت اہم ہے۔ جہاں تک لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کی شروط کا تعلق ہے ___ جیسے علم، یقین، اخلاص، صدقِ دل وغیرہ وغیرہ ___ تو یہ مسلمان ہونے کے لئے لازمی تو ہیں مگر کوئی شخص اِن شرطوں پر کہاں تک عمل پیرا ہوا ہے اور کہاں تک نہیں، یہ اللہ اور بندے کے مابین ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ بات انسانوں کے ضبط میں آنے والی نہیں کہ کسی انسان نے کس حد تک علم، یقین، اخلاص، صدق و وفا اور تسلیم کے ساتھ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کا اقرار کیا ہے۔ ہم یہ تو کر سکتے ہیں، اور کرنا چاہیے، کہ لوگوں میں شروطِ لا الٰہ الا اللہ کا زیادہ سے زیادہ شعور پھیلائیں اور لوگوں کو اِس بابت زیادہ سے زیادہ متوجہ اور متنبہ کریں، مگر بالعموم یہ ناممکن ہے کہ لوگوں کا شروطِ لا الٰہ الا اللہ کو پورا کرنا یا نہ کرنا ہمارے علم میں آئے۔ جب ایسا ہے تو مذہب اہلسنت کی رو سے ہمارے لئے کسی آدمی کا صرف ظاہری اقرار ہوگا، جب وہ یہ کلمہ ادا کردے۔ پھر ہم اسے مسلمان ہی مانیں گے .... جب تک کہ وہ نواقض اسلام میں سے کسی ایک کا مرتکب نہ ہو جائے۔ ہاں البتہ ”نواقض اسلام“ کا معاملہ سراسر اور ہے.... مسلم معاشرے میں کوئی شخص ”نواقض اسلام“ کا مرتکب ہوتا ہے، تو معاشرہ اُس کو بندے اور خدا کا مسئلہ قرار دے کر اُس سے لا تعلق نہیں رہے گا۔ معاشرے کو نواقض اسلام کے مرتکب شخص کے خلاف شدید ترین مزاحمت سامنے لانا ہو گی۔ مسلم ماحول اُس کو اپنے خلاف کھلی جنگ باور کرے گا۔ اُس پر شدید ترین گرفت ہو گی۔ دوست، احباب، رشتہ دار، بہن بھائی حتیٰ کہ بیوی بچے اس کے خلاف سخت ترین رد عمل سامنے لانے کے پابند ہوں گے، کیونکہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ وفاداری کا یہ ایک صریح تقاضا ہے۔ مسلم معاشرے میں کوئی شخص ایمان لانے کے بعد کفر اور شرک کا کوئی وتیرہ اختیار کرے تو پورا معاشرہ اس کو اپنے خلاف کھلا چیلنج سمجھے گا۔ کوئی جاہل اور لا علم ہے تو باحسن طریق اُس کی جہالت و لاعلمی کا مداوا کیا جائے گا البتہ اگر وہ اس پر اصرار کرے تو اس پر شدید ترین گرفت کی جائے گی۔ مسلم اتھارٹی (جو کہ امراءاور علماءہیں) اُس پر قیامِ حجت کردینے اور توبہ کا موقعہ فراہم کر دینے کے بعد ارتداد کا حکم عائد کر دینے کی بھی مجاز ہو گی۔ نواقض اسلام میں سے جو عمل یا جو حرکت بھی انسانوں کے ضبط میں آنے والی ہو، اُس کی بابت مسلم معاشرے میں ایسا ہی سخت رویہ اختیار کیا جائے گا۔ بلاشبہ ایک کلمہ گو شخص کو مسلم معاشرے میں ایک عصمت حاصل ہے (عَصَمُوْا مَنّی دِمَاءَ ہُمْ وَ أمْوَالَہُمْ ”(جب وہ شہادتین اور اقامت صلوٰۃ و ایتائے زکوٰۃ کرنے لگیں) تو میرے ہاں ان کی جانوں اور مالوں کو عصمت حاصل ہو گی“)۔ عام لوگ صرف اتنا ہی جانتے ہیں۔ حالانکہ یہ عصمت جو ایک شخص کو ”کلمہ گو“ ہونے کے باعث حاصل ہوتی ہے، آدمی ”کلمہ“ کو ہی توڑ دے تو اُس کی یہ عصمت باقی نہیں رہتی۔ اور یہ تو ہم جان ہی گئے کہ ”نواقض اسلام“ ”کلمہ“ کو توڑ دینے ہی کا دوسرا نام ہے۔ لہٰذا کسی شخص کو پوری ڈھٹائی کے ساتھ افعالِ کفر و شرک کا مرتکب دیکھ کر بھی یہ کہنا کہ بھائی یہ کلمہ گو ہے، ”کلمہ“ سے ہی ناواقفیت کی دلیل ہے۔
*****
دوبارہ واضح کر دیا جائے: نواقص اسلام ہر گناہ کو نہیں کہتے۔ حتی کہ جو بڑے بڑے گناہ ہیں یعنی کبائر، وہ بھی سب کے سب اسلام کے نواقض نہیں۔ کم از کم اہلسنت کا عقیدہ یہی ہے کہ کبائر کا مرتکب شخص خدا کی رحمت پہ معلق ہے، یعنی وہ چاہے تو اس کو معاف کردے اور چاہے تو ان پرپکڑکر لے اور عذاب دے کر جہنم سے کسی نہ کسی وقت نکال دے۔ قتل، زنا، چوری، ڈکیتی، سود، شراب خوری وغیرہ وغیرہ محض کبائر ہیں۔ یعنی یہ بہت بڑے بڑے گناہ ہیں مگر یہ آدمی کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کرتے۔ مگر وہ باتیں جو ہم نواقض اسلام کے تحت یہاں آگے چل کر پڑھیں گے وہ کبائر سے بھی بھیانک تر ہیں۔ یعنی یہ جو نواقص اسلام ہیں یہ قتل، زنا، چوری، ڈکیتی، سود اور شراب خوری وغیرہ سے بھی بڑے گناہ ہیں۔ یہ سب شرک اور کفر کی قبیل سے ہیں جو کبھی معاف ہوتے ہی نہیں، سوائے یہ کہ آدمی موت سے پہلے ان سے تائب ہوجائے۔ ایمان کے بعد کفر یا شرک کی راہ اپنانا خدا کو سب سے زیادہ مبغوض ہے۔ کیونکہ ایسا آدمی اسلام میں سب سے بری مثال قائم کرتا ہے۔ دعویٰ اسلام کا اور کام شرک کا، یہ زمین میں سب سے بڑا فساد ہے۔ جو آدمی پہلے ہی اسلام سے باہر ہے اس کا تو معاملہ اور ہے مگر جو آدمی اسلام میں آکر غیر اسلام پر چلے تو ایسا شخص دراصل اسلام اور شرک کا فرق ہی ملیامیٹ کر دیتا ہے۔ جانتے بوجھتے ہوئے اسلام اور کفر کا فرق ملیا میٹ کر دینا سب سے بڑا جرم ہے۔ مسلم اُمت بنیادی طور پر ایک نظریاتی سوسائٹی کا نام ہے۔ اس میں داخل ہونے کی کچھ شروط ہیں۔ اس میں رہنے کے کچھ تقاضے ہیں اور اس کی رکنیت ختم ہو جانے کے کچھ قواعد و ضوابط ہیں۔ ’نواقض اسلام‘ کے تحت علماءنے دراصل یہ قواعد وضوابط ہی بیان کئے ہیں جو کہ آدمی کی مسلم سوسائٹی کی رکنیت باقی رہنے یا نہ رہنے کا تعین کرتے ہیں۔ ”نواقض اسلام“ کچھ اعتقادات بھی ہو سکتے ہیں۔ کچھ افعال بھی ہو سکتے ہیں اور کچھ رویے بھی۔ نواقض اسلام کے مرتکب شخص پر، اس کو خبردار کر دینے اور توبہ کا موقعہ دے دینے کے بعد، اہل افتاءوقضاءکی طرف سے جب باقاعدہ کفر کا حکم لگا دیا جائے تو اس کے بعد اس شخص کو مرتد کہا جاتا ہے۔ اس کی اس حالت کو ’ارتداد‘ یا ’رِدَّۃ‘ سے موسوم کیا جاتا ہے۔ تاہم واضح ہو: ”نواقض اسلام“ کی بنیاد پر کسی شخص کو متعین کر کے ”کافر“ قرار دینے کا معاملہ بے حد نازک اور سنگین ہے۔ یہ وہ مسئلہ نہیں جسے عوام الناس اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ اِس کا فیصلہ معاشرے میں چوٹی کے علمائے عقیدہ ہی کر سکتے ہیں۔ اِس مسئلہ کی کچھ تفصیل رسالہ میں آگے چل کر آئے گی۔
*****
آئندہ صفحات میں اب ہم اسلام کے نواقض ایک ایک کرکے پڑھیں گے البتہ یہ دس کے دس نواقض پہلے ایک ہی جگہ پر اختصار سے دئیے جائیں گے، تاکہ وہ بیک وقت قاری کی نظر میں آجائیں، ان دو مختصر صفحوں کا بچوں اور عام طالبعلموں کو بھی ازبر کرا دیا جانا بہت مفید ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد ہم ان نواقض میں سے ایک ایک کی شرح کریں گے۔ موٹے حروف میں شیخ محمد بن التمیمیؒ کے رسالہ ”نواقضِ اسلام“ کے متن کا اردو ترجمہ ہوگا اور نیچے ہماری شرح و توضیح۔ &&&&&
|
||||||||||||||||