|
|
|
پہلی بات جو آدمی کو دائرۂ اسلام سے خارج کردیتی ہے یہ ہے کہ انسان اﷲ کی عبادت اور بندگی میں کسی کو شریک کرے۔ دوسرا، وہ آدمی ہے جو اپنے اور اﷲ تعالیٰ کے درمیان واسطے اور وسیلے بنا کر ان کو پکارنے لگے۔ ان سے شفاعت کا سوالی ہو اور ان پر توکل اور سہارا کرنے لگے ایسا شخص اجماع اُمت کی رو سے کافر ہے۔ تیسرا، وہ شخص ہے جو مشرکین کو کافر نہ کہے یا ان کے کافر ہونے میں شک کرنے لگے یا ان کے مذہب کو اچھا کہنے یا سمجھنے لگے ایسا شخص بھی کافر ہو جاتا ہے۔ چوتھا، جو شخص یہ سمجھے کہ کوئی ہدایت یا قانون نبی اکرمﷺ کی ہدایت اور شریعت وقانون سے جامع تر یا مکمل تر ہے یا یہ کہ کسی اور کا حکم وقانون آپ کے حکم وقانون سے بہتر ہے مثلاً وہ شخص جو طاغوتوں کے حکم وقانون کو نبی اکرم ﷺ کے فیصلے اور آپ کے قانون پر ترجیح دے، تو ایسا انسان کافر ہے۔ پانچواں، وہ شخص جو رسول اﷲ ﷺ کے لائے ہوئے دِین اور شریعت کی کسی بھی بات سے نفرت اور بغض رکھتا ہو۔ ایسا شخص کافر ہے اگرچہ وہ اس پر عمل پیرا ہی کیوں نہ ہو۔ چھٹا، وہ شخص جو رسول اﷲ ﷺ کے دین کی کسی بات یا آپ کے ذکر کردہ کسی ثواب یا عذاب کا مذاق اڑائے، کافر ہو جاتا ہے۔ ساتویں بات جس سے انسان کفر کا مرتکب ہوتا ہے جادو ہے۔ جادو میں محبت کے ٹونے بھی آتے ہیں اور کسی محبت سے دل پھیرنے کے بھی، سو جو یہ کام کرے یا اس پر راضی ہو وہ کافر ہو جاتاہے۔ آٹھویں بات جس سے آدمی کافر ہو جاتا ہے وہ ہے مشرکوں کی نصرت اور پشت پناہی کرنا۔ یا مسلمانوں کے خلاف انکا معاون یا حلیف ہو جانا۔ نواں، وہ شخص جو یہ اعتقاد رکھے کہ بعض افراد محمدﷺ کی شریعت کی تابعداری سے مستثنیٰ ہو سکتے ہیں جیسا کہ خضر ؑموسیٰ ؑکی شریعت سے خروج کر لینے میں آزاد تھے، ایسا شخص بھی کافر ہے۔ دسویں بات یہ ہے کہ انسان اﷲ تعالیٰ کے دین سے بالکل ہی اعراض کئے بیٹھا ہو، نہ اس کا علم لیتا ہو اور نہ اس پر عمل کرتا ہو۔
&&&&& |
||||||||||