مکمل کتاب PDF فارمیٹ میں

فہرست مضامین۔۔نواقض اسلام

Bookmark and Share

 

PDF Download

 

 

پہلی بات جس سے آدمی دائرۂ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے

 

  عبادت میں شرک  

 

پہلی بات جو آدمی کو دائرۂ اسلام سے خارج کردیتی ہے یہ ہے کہ انسان اﷲ کی عبادت اور بندگی میں کسی کو شریک کرے،

دلیل: اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:

إِنَّ اللّهَ لاَ يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَن يَشَاء وَمَن يُشْرِكْ بِاللّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلاَلاً بَعِيدًا  (النساء:116)

”اﷲ کے ہاں بس شرک ہی کی بخشش نہیں ہے اس کے سوا اور سب کچھ معاف ہو سکتا ہے جسے وہ معاف کرنا چاہے“

إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّهُ عَلَيهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ  (المائدۃ:72)

”جس نے اﷲ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا اس پر اﷲ نے جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں“۔

اس عبادت اور بندگی میں یہ بھی شامل ہے کہ آدمی غیر اﷲ کیلئے ذبیحہ کرے جیسے مثلا کسی جن کیلئے یا کسی قبر کیلئے کوئی جانور ذبح کیا جائے۔

شرح:

آدمی شرک کرے اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھے، اس سے بڑی غلط فہمی کوئی نہیں ہو سکتی۔ جتنے بھی رسول آئے سب نے لوگوں کو شرک سے ہی تو خبردار کیا تھا۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آدمی شرک کرتے ہوئے اپنے آپ کو رسولوں کے دین پر سمجھے۔ اسلام وہی رسولوں کا دین ہی تو ہے جس کی ملتِ شرک سے کھلی دشمنی ہے۔ خاتم المرسلین ﷺ کی ساری زندگی اس شرک کے خلاف جہاد کرتے ہی تو گزری ہے۔

شرک خدا کی ذات میں بھی ہو سکتا ہے مثلاً آدمی ایک سے زیادہ خداؤں کا وجود مانے۔ یا خدا کی ذات کو منقسم مانے جیسے کسی ہستی کو خدا کا حصہ ماننا۔ یا خدا سے کسی کا نسب جوڑے جیسے خدا کیلئے بیٹے یا بیٹیاں تجویز کرنا۔ یا کہے کہ خدا اور مخلوق ایک ہی چیز ہیں اور جو کچھ بھی نظر آتا ہے یہ بس خدا کی ہی مختلف صورتیں ہیں جیسا کہ وحدۃ الوجود کا عقیدہ رکھنے والے کہتے ہیں۔ خدا ان سب گمراہ تصورات سے بلند وبالا ہے۔ ایسا شرکیہ عقیدہ رکھنے کے بعد آدمی دائرۂ اسلام میں نہیں رہتا۔

شرک خدا کی صفات میں بھی ہو سکتا ہے۔ مثلاً کسی مخلوق ہستی میں خدا کی صفات کا وجود مان لینا۔ جیسے یہ کہنا کہ خدا کا سننا اور مخلوق کا سننا ایک جیسا ہے یا کسی مخلوق کا علم بھی خدا کے علم جیسا ہے وغیرہ وغیرہ۔

شرک خدا کی ربوبیت میں بھی ہو سکتا ہے۔ مثلاً تخلیق یا کائنات کی تدبیر یا مخلوق کی رزق رسانی یا مشکل کشائی یا فریاد رسی وغیرہ ایسے افعال جو کہ صرف خدا کر سکتا ہے آدمی یہ عقیدہ رکھے کہ خدا کے سوا کوئی اور ہستی بھی کچھ نہ کچھ یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ صاف صاف شرک ہے اور قرآن میں اس کی مذمت جگہ جگہ ملتی ہے۔

شرک خدا کی الوہیت یعنی خدا کے حقِ عبادت میں بھی ہو سکتا ہے۔ مثلاً خدا کے علاوہ یا خدا کے ساتھ کسی کو حاجت روائی یا طلب رزق یا حصول اولاد کیلئے پکارنا۔ خدا کے علاوہ کسی ہستی کو سجدہ کرنا یا کسی کے نام کا ذبیحہ دینا یا چڑھاوا چڑھانا یا خدا کے علاوہ کسی اور کی شریعت (قانون) پر چلنا وغیرہ۔ اس شرک کے بیان سے بھی قرآن مجید پُر ہے۔

شرک کی زیادہ وضاحت آگے چل کر ایک الگ رسالہ میں آئے گی۔ لہٰذا یہاں اس کی زیادہ تفصیل میں ہم نہیں جائیں گے۔ اوپر شرک کی جو صورتیں بیان ہوئیں سب کی سب شرک اکبر ہیں۔ یعنی وہ شرک جس کے ارتکاب سے کفر لازم آجاتا ہے۔ رہا شرک اصغر تو وہ ملت سے خارج نہیں کرتا۔ بہرحال اس کی تفصیل متعلقہ رسالہ میں آئے گی۔

 

&&&&&