|
|
|
دوسرا وہ آدمی ہے جو اپنے اور اﷲ تعالیٰ کے درمیان واسطے اور وسیلے بنا کر ان کو پکارنے لگے۔ ان سے شفاعت کا سوالی ہو اور ان پر توکل اور سہارا کرنے لگے ایسا شخص اجماع اُمت کی رو سے کافر ہے۔
شرح: بنیادی طور پر یہ بھی شرک ہی ہے اور اصولی طور پر یہ اس سے پہلے والی گفتگو میں ہی آسکتا تھا۔ مگر چونکہ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی کو خدا کے ہاں سیڑھی بنانا اور اس حیثیت میں پکارنا تو شرک نہیں اور یہ کہ کسی کو وسیلہ سمجھ کر یا شفاعت کرنے والا مان کر اس سے دُعا کرنے میں تو کوئی حرج نہیں بلکہ کہتے ہیں کہ شرک تو تب ہوگا جب ہم ان کو مستقل بالذات سمجھ کر ان سے حاجت روائی کرائیں۔ یوں ان ہستیوں کو محض ایک ’وسیلہ‘ سمجھ کر وہ ان کو پکارتے بھی اور ان پر توکل اور بھروسہ بھی رکھتے ہیں .... تو اس لئے مصنف نے اس فعل کو ایک علیحدہ بند کے طور پر نواقض اسلام میں بیان کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ مصنف نے اس پر اجماعِ اُمت کا بھی الگ سے حوالہ دیا ہے۔ کیونکہ بعض لوگ خاص اس مسئلے (یعنی کسی مخلوق کو ’وسیلہ‘ یا ’سیڑھی‘ سمجھ کر مدد کیلئے پکارنا) کو ’اختلافی‘ ہونے کا تاثر بھی دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ اجماعاً شرک ہے۔ خدا کے علاوہ جب آپ نے مدد اور مشکل کشائی کیلئے کسی مخلوق ہستی کو پکار لیا تو آپ نے شرک کا ارتکاب کرلیا۔ بے شک آپ یہ کیوں نہ سمجھیں کہ وہ ہستی آپ کی پکار کو خدا تک پہنچا کر آئے گی۔ أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاء مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ (الزمر:3) ”خبردار دین اور بندگی خالص اﷲ کی۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے اس کے سوا دوسرے ولی و سرپرست پکڑ رکھے ہیں (اور کہتے ہیں) ہم تو ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ اﷲ تک ہماری رسائی کرا دیں۔ اﷲ یقینا ان کے درمیان ان تمام باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں اﷲ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا اور منکر حق ہو“
&&&&& |
|||||||||||||