|
|
|
وہ شخص جو رسول اﷲ ﷺ کے لائے ہوئے دِین اور شریعت کی کسی بھی بات سے نفرت اور بغض رکھتا ہو وہ کافر ہے اگرچہ وہ اس پر عمل پیرا ہی کیوں نہ ہو۔ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ (محمد:9) ”یہ اس لئے کہ انہوں نے اس چیز کو ناپسند کیا جسے اﷲ نے نازل کیا ہے تب اﷲ نے ان کا سب کیا کرایا غارت کردیا“۔ شرح: پیچھے یہ بات گزر چکی کہ نبی ﷺ کے لائے ہوئے دین پر کسی اور فلسفے، طریقے، راستے، قانون، نظام، ضابطے یا طرز حیات کو ترجیح دینا کفر ہے۔ جس کا لازمی تقاضا ہے کہ ہر معاملے میں انسان کو نبی کے چھوڑے ہوئے دین اور شریعت کی جانب ہی رجوع کرنا ہے۔ ہدایت کیلئے آدمی اسی کی جانب رخ کرے اور فیصلہ ایک نبی کی شریعت سے ہی چاہے۔ اب یہاں یہ بتایا جا رہا ہے کہ بے شک آدمی نبی کی شریعت کی جانب رخ کرتا ہو مگر نبی ﷺ کی شریعت کی جانب رجوع کرتے ہوئے اگر دل کے اندر مطلق تسلیم نہی اور نفس میں اس کی بابت ایک تنگی اور حرج کا احساس باقی ہے، تب بھی آدمی مسلمان نہیں۔ یعنی ظاہر میں نبی کی شریعت و دستور کا پابند نہ ہونا تو کفر ہے ہی، باطن میں اس کا پابند نہ ہونا بھی کفر ہی ہے: فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّىَ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُواْ فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيمًا (النساء: 65) ”نہیں اے محمد، تمہارے رب کی قسم یہ مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سرتاسر تسلیم کرلیں“۔ شریعت کی اتباع کے معاملے میں، نفس کے اندر پائی جانے والی الجھن اور تردد کو ختم کرنے پر محنت تو خیر ہر کسی کو کرنی ہے۔ شریعت کا دل سے پیروکار ہونے کے حوالہ سے لوگ درجہ بدرجہ مراتب رکھتے ہیں۔ کوئی نسبتاً کمزور ہے اور کوئی خدا کے فضل سے یقین اور بصیرت رکھنے میں دوسروں سے بڑھ کر ہے۔ البتہ یہ کہ آدمی نبی کی لائی ہوئی شریعت کی کسی بات کو برا جانے، اس سے نفرت یا بغض رکھے تو یہ تو کھلا کفر ہے اور ایسا آدمی دین سے خارج ہو جاتا ہے۔ بے شک آدمی دین کی اس بات پر مجبوراً یا لوگوں کی دیکھا دیکھی عمل پیرا ہی کیوں نہ ہو۔ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ (محمد:9) ”یہ اس لئے کہ انہوں نے مبغوض جانا اس بات کو جسے نازل کیا اللہ نے، پس اللہ نے ان کے سب اعمال ہی برباد کردیئے“ جبکہ ”سب اعمال اکارت چلے جانا“ حالتِ کفر ہی کی سزا ہے۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو کسی کو دیندارانہ مظاہر اختیار کئے دیکھیں تو یہ اُنہیں ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ کسی کو ’پردہ‘ سے چڑ ہے۔ کسی کو ’نماز‘ بری لگتی ہے۔ کسی کو ’ڈاڑھی‘ تکلیف دیتی ہے۔ کسی کو ’دعوت الی اﷲ‘ یا ’امر بالمعروف اور نہی عن المنکر‘ ایسے شعائرِ دین سے اذیت ہوتی ہے۔ کسی کو جہاد اور قتال فی سبیل اﷲ کی بات اچھی نہیں لگتی اور وہ ان باتوں کے خلاف صبح شام بغض پالتا ہے۔ کسی کو باطل کی مخالفت اور طاغوت کی مذمت کی جانا بری لگتی ہے۔ کسی کو شرک کا رد کیا جانا مبغوض ہے۔ عورت کا مرد کی نسبت میراث میں نصف حصہ پانا یا خاص معاملات میں دو عورتوں کی گواہی کا ایک مرد کی گواہی کے برابر ہونا یا اسلام میں مرد کیلئے اصولاً چار شادیوں کی گنجائش ہونا وغیرہ وغیرہ .... یہ سب یہاں کے بہت سے پڑھے لکھوں کیلئے باعث تکلیف واذیت ہے۔ جبکہ ان سب باتوں کا دین ہونا اور رسول اﷲ ﷺ کی شریعت کا حصہ ہونا ایک معلوم حقیقت ہے۔ چنانچہ دین کی کسی بات سے آدمی کو چڑ ہونا یا اس پر آدمی کا جزبز ہونا، اسلام کے کسی معلوم امر کو دیکھ کر یا دین کی کسی بات کا سن کر آدمی کا اس پر تلملا اٹھنا اور دین کے کسی مسئلہ یاشعبہ سے آدمی کو نفرت یا بغض ہونا کوئی چھوٹا موٹا گناہ نہیں۔ یہ صاف صاف کفر ہے اور نواقض اسلام میں شمار ہوتا ہے۔ بے شک دین کی کسی بات پر آدمی کسی وجہ سے نہ بھی عمل کر پایا ہو، مگر یہ کہ وہ دین کی اس بات سے خار کھانے لگے، یہ البتہ ایمان کیلئے حد درجہ خطرناک ہے۔ دین کی کسی بات، دین کی کسی حقیقت یا دین کے کسی مظہر پر آدمی جلے بھنے اور اذیت محسوس کرے تو یہ دین کے ساتھ کفر ہے اور ایسا کرنے سے آدمی دین سے خارج ہو جاتا ہے۔ البتہ اس معاملے میں دو باتوں کی وضاحت ضروری ہے: 1) آدمی کو دین کی کسی بات سے چڑ ہونا ایک چیز ہے اور دین کی کسی بات پر عمل پیرا ایک شخص سے اس کے کسی غلط رویے یا طرز عمل کے باعث چڑ جانا اور چیز۔ بعض لوگ ان دو باتوں کو خلط کر بیٹھتے ہیں اور اس کے باعث دوسروں پر حکم لگانے یا ان کی بابت رائے قائم کرنے میں زیادتی کر لیتے ہیں۔ گو یہ بھی ممکن ہے کہ آدمی کو بغض تو ہو دین کی بات سے.... آدمی کو چڑ تو ہو رسول اﷲ ﷺ کی کسی معلوم سنت یا حکم سے مگر وہ اپنی اس نفرت اور کدورت کو چھپا اس بات کے پردہ میں رہا ہو کہ وہ تو کسی شخص یا گروہ کے، اپنے تئیں، غلط طرز عمل پر ہی برہم ہے نہ کہ فی نفسہ دین کی اُس بات پر۔ اب اگر وہ ایسا کر رہا ہے تب بھی ہم بہرحال اس کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ کیونکہ اس صورت میں وہ شخص نفاق پر ہوگا اور گویہ کفر کی بدترین صورت ہے اور ایساآدمی خدا کے نزدیک کافر ہی شمار ہوگا مگر اس پر پکڑ کرنا اب بندوں کا کام نہ رہے گا۔ ہم بہرحال اس کے ظاہر پر ہی حکم لگانے کے مجاز ہوں گے۔ گو بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایسے آدمی کا نفاق چھپ نہیں پاتا (وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِي لَحْنِ الْقَوْلِ- سورۂ محمد:30 ”اور ضرور بضرور تم ان کو بات کے لہجے سے ہی پہنچان لو گے“) اور اپنے لہجے سے یہ شخص بہت جلد بتا دیتا ہے کہ اندر کس قدر نفاق بھرا ہوا ہے مگر اس پر حکم بہرحال اس کے کسی بیان پر ہی لگ سکتا ہے یا پھر اس کی کسی ایسی حرکت پر جس سے اس کا دین کی کسی بات سے بغض اور کینہ اس دوٹوک انداز میں واضح ہوتا ہو کہ کسی تاویل کی گنجائش نہ رہے۔ بصورت دیگر اس کا معاملہ خدا پر ہی چھوڑ رکھا جائے گا۔ مسلم معاشرے میں منافقین کا ایک ایسا طبقہ پایا جا سکتا ہے جو اپنے طریقۂ واردات میں ظاہری طور پر کسی کو پکڑائی نہ دے اور دین کے خلاف یا دین کے کسی شعبہ کے خلاف اپنا بغض چھپا کر رکھنے میں کامیاب رہے، بغیر اس کے کہ وہ اپنے کسی قول یا فعل کے معاملہ میں واضح طور پر کسی کی گرفت میں آسکے۔ ایسے منافقین ہو سکتے ہیں جو نہ تو صاف چھپیں اور نہ کھل کر سامنے آئیں۔ ایسے لوگوں پر کوئی حکم لگائے بغیر ان کو خدا سے ڈرانا اور ان کو یہ اندازہ کرا دینا کہ ان کو محض ایک ایسی سہولت دی گئی ہے جس سے منافقین مستفید ہو سکتے ہیں اور جس کا وبال ان پر کھلے کفر کی نسبت کہیں بڑھ کر پڑ سکتا ہے.... اور یوں ان کیلئے قول بلیغ کہنے پر اکتفا کرنا ہی ضروری ہے۔ 2) آدمی کا دین کی کسی بات پر برہم ہونا ایک چیز ہے اور دین کی اس بات کی بابت کسی کے فہم سے شاکی ہونا ایک دوسری چیز۔ مؤخر الذکر صورت میں ظاہر ہے کہ معاملہ مختلف ہوگا۔ ضرور یہاں بھی وہ احتمال پایا جا سکتا ہے جو پیچھے ہم نے ذکر کیا۔ یعنی آدمی کو بغض تو ہو اسلام کے کسی عقیدہ یا شعار سے مگر وہ اپنے بغض کو چھپائے اس بات کے پردہ میں کہ اس کو تو بس کسی شخص یا گروہ کے فہم پر اعتراض ہے یا کسی کے طرز استدلال یا طریقِ عمل سے شکایت ہے۔ پس اگر وہ ایسی کوئی اوٹ اختیار کرتا ہے تو بھی اس کا معاملہ خدا پر چھوڑ دینا ہی درست طریق کار ہوگا۔ گو اِس بات کو بھی نظر انداز نہ کرنا چاہیے کہ چونکہ اسلام کے بہت سے شعائر کی غلط تفسیر اور تفہیم بھی ہمارے اس دور میں بکثرت ہوئی ہے لہٰذا اس بات کا امکان بہرحال پایا جاتا ہے کہ آدمی کو شکایت واقعتا کسی کے طرز استدلال سے ہو نہ کہ دین کے کسی معروف حکم سے۔ بہرحال اگر کسی کے ہاں خبثِ باطن اپنا آپ محسوس کرا رہا ہو مگر وہ اس کی ایسی توجیہ کر رہا ہو کہ اس پر صاف گرفت نہ ہو سکتی ہو تو یہ تاویل کا باب ہے اور تاویل تکفیر کے موانع میں سے ایک مانع بہر کیف ہے۔ پس کوئی آدمی اگر دین کی کسی بات کو صاف رد نہیں کرتا نہ ہی وہ اپنا بغض دین کی اس بات کے خلاف ظاہر کرتا ہے بلکہ اپنی بات کی توجیہ میں اس انداز کی کوئی تاویل کرتا ہے تو اس پر کفر کا حکم لگا دینے میں احتیاط کی جائے گی۔ اس بات کو نظر انداز کر دینے سے بھی بہت سے فتنے جنم لے سکتے ہیں۔ بعض لوگ پہلے دین کے کسی شعار کا ایک خاص گروہی مفہوم اپناتے ہیں مثلاً دعوت یا امر بالمعروف یا جہاد یا خلافت وغیرہ کی بابت۔ پھر ہر وہ شخص جو ان کے اس مفہوم یا منہج پر کوئی تنقید یا طعن وتشنیع یا اس پر کوئی مخالفانہ ردعمل اختیار کرتا ہے اس کو یہ ’دین‘ ہی کا مخالف سمجھ لیتے ہیں۔ چنانچہ دین کے کسی شعار کی بابت ’اپنے فہم یا طرزِ عمل‘ پر ہونے والی تنقید و تشنیع کو یہ ’دین کے ایک شعار‘ پر طعن وتشنیع کیا جانے پر ہی محمول کر بیٹھتے ہیں۔ چنانچہ یہ جھگڑا جو دو گروہوں کے فہمِ دین یا طریقۂ عمل کے مابین ہوتا ہے یا یوں کہیے یہ نزاع جو اسلام کے کسی شعار کی تفسیر کرنے کے معاملے میں دو گروہوں کے مابین پایاجاتا ہے اس کو دونوں طرف سے یا کسی ایک طرف سے ”شعائرِ اسلام“ ہی کی مخالفت اور مخاصمت پر محمول کر لیا جاتا ہے۔ یوں ’اپنے‘ مخالف کو ’دین‘ کا مخالف باور کرایا جاتا ہے۔ پھر جب کوئی ’دین کا مخالف‘ باور کر لیا گیا ہو تو پھر اس کے خلاف سب کچھ کہنا روا کرلیا جاتا ہے! پس اس قاعدہ کا اطلاق وہاں ہوگا جہاں یہ امکان نہ ہو کہ شعائر دین کے فہم وتفسیر میں آدمی کو ٹھوکر لگی ہے۔ ”رسول اﷲ ﷺ کے لائے ہوئے دین کی کسی بات سے بغض اور نفرت“ کے مظاہر موجودہ دور میں دیکھنا ہوں تو وہ آپ کو یہاں کے لادین اور نام نہاد ترقی پسندوں کے ادب اور کلام میں بکثرت دیکھنے کو ملیں گے۔ جس قدر ان لوگوں کے ہاں دین اور دینی عقائد اور دینی مظاہر کی تحقیر پائی جاتی ہے اتنی کسی اور کے ہاں نہیں۔ گو ’سماجی‘ معنی میں یہ لوگ اپنے آپ کو ’مسلمان‘ بھی کہیں گے اور کبھی کبھار ’نعت‘ پر بھی طبع آزمائی کریں گے!
&&&&&
|
|||||||||||||