مکمل کتاب PDF فارمیٹ میں

فہرست مضامین۔۔نواقض اسلام

Bookmark and Share

 

PDF Download

 
  چھٹی بات جس سے آدمی دائرۂ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے  

 

دینِ اسلام کی

 

  کسی بات کا مذاق اڑانا  

 

وہ شخص جو رسول اﷲ ﷺ کے لائے ہوئے دین کی کسی بات یا ان کے ذکر کردہ کسی ثواب یا عذاب کا مذاق اڑائے، کافر ہو جاتا ہے۔

قُلْ أَبِاللّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنتُمْ تَسْتَهْزِؤُونَ۔ لاَ تَعْتَذِرُواْ قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ (التوبۃ: 65، 66)

”کہو کیا تمہاری ہنسی دل لگی اﷲ اور اس کی آیات اور اس کے رسول ہی کے ساتھ تھی! اب عذرات نہ تراشو، تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے“۔

شرح:

ہمارے یہاں جنت اور جہنم کے بارے میں ایسے لطیفے اور چٹکلے بیان کرنے کا رواج عام ہے جن سے خدا کے عذاب کی ہیبت یا خدا کی رضا وخوشنودی کی اہمیت کم ہوتی ہو یا جن سے یہ تاثر ابھرتا ہو کہ ___ معاذ اﷲ ___یہ تو بس ایسے ہی ڈراوے ہیں یا یہ کہ دل کے خوش رکھنے کو یہ ’خیال‘ اچھا ہے۔

جنت اور جہنم اور عذابِ قبر وغیرہ ایسے موضوعات کی جو ایک ہیبت دلوں پر بٹھائی جانا دین میں مقصود ہے اور اس حد تک مطلوب ہے کہ ان کے ذکر پر کسی وقت ایمان والوں کی آنکھیں اشکبار ہوجایا کریں .... ان موضوعات کو شیاطینِ جن وانس ہنسی اور دل لگی کا ذریعہ بنا دیتے ہیں۔

عقائد اور غیبیات کو مذاق اور شغل کا موضوع بنانا گو ہمارے معاشروں میں کسی نہ کسی حد تک پہلے سے ہے مگر اس کا زیادہ رواج مغرب سے آیا ہے۔ وہاں چونکہ حق ویسے ہی دستیاب نہیں رہا لہٰذا ایمان بالغیب ان لوگوں کے ہاں بڑی حد تک ’ڈھکونسلے‘ کے مترادف ہے۔ جنت، جہنم اور فرشتوں وغیرہ کو لوگ وہاں مانتے بھی ہیں تو واجبی حد تک اور ایک روایتی انداز میں اور کچھ سماجی محاوروں کے طور پر۔ مغربی ادب میں ’اعتقادات‘ چونکہ ’مزاح‘ کیلئے ایک اچھے اور دلچسپ مواد کا درجہ رکھتے ہیں اور لطیفوں کا موضوع بنتے ہیں اس لئے ہمارے ہاں بھی ایسے ’ادب‘ کی کچھ نہ کچھ درآمد ہوئی ہے۔ بہت سے لطیفے تو مغربی زبانوں سے حرف بہ حرف ترجمہ ہوتے اور اخبارات وجرائد میں عام چھپتے ہیں۔ ایک مسلمان کو اس بات سے شدید طور پر خبردار رہنا چاہیے۔

آدمی معاذ اﷲ کتنا بھی گناہگار کیوں نہ ہو، خدا اور رسول کی طرف سے آئی ہوئی بات کا احترام، اس کی تعظیم اور اس کا ایک تقدس دل میں محسوس کرنا مسلمان ہونے اور مسلمان رہنے کیلئے حد درجہ لازم ہے۔ محمد ﷺ کی بتائی ہوئی ہر بات ایک غایت درجہ کا تقدس اور ناموس رکھتی ہے۔ ایک مسلمان کا رویہ اپنے نبی کے حوالے سے بتائی گئی بات کے معاملے میں مغرب کے ایک عام فرد کی نسبت، جو وہ اپنے سنے سنائے مذہب کے ساتھ روا رکھتا ہے، بہت مختلف ہونا چاہیے۔ دین کے کسی معلوم عقیدہ یا شعار کو مذاق یا تمسخر کا موضوع بنا دیاجائے اور آدمی اس پر ایمانی غیرت محسوس نہ کرے تو یہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ ایمان سرے سے ہے نہیں۔

عن أبی ھریرۃ رضی اﷲ عنہ قال: قال رسولُ اﷲ : ” اِنَّ الرَّجُلَ لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃ مِنْ سَخَطِ اللّٰہِ لَا یَریٰ بِہَا بَأساً فَیَھْوِیُ بِھَا فِی نَارِ جَہَنَّمَ سَبْعِیْنَ خَرِیْفاً“ (رواہ احمد والترمذی وابن ماجۃ۔ وصححہ الألبانی)

ابوہریرۃؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:

”آدمی منہ سے کوئی ایسی بات بول دیتا ہے جو اللہ کو ناراض کردینے والی ہوتی ہے، جبکہ وہ اُس کے بولنے میں برائی خیال تک نہیں کرتا، مگر وہ اس کی پاداش میں جہنم کے اندر ستر سال تک گرتا چلا جاتا ہے“

رسول اﷲ ﷺ کے لائے ہوئے دین کی کسی بات، کسی حکم، کسی عقیدہ یا کسی شعار کا مذاق اڑانا، ٹھٹھہ کرنا اور تمسخر کا طریقہ اپنانا بلاشبہ ایک کفریہ طرز عمل ہے۔

کسی کی نماز کا مذاق اڑانا، کسی کے پردہ پر چوٹ کرنا یا دینداری کے دیگر مظاہر پر پھبتی کسنا، لوگوں کو ان باتوں پر ہنسانا اور یوں بالآخر دین کے احکام پر عمل پیرا ہونے کو معاشرے میں ایک شرم اور عار کی بات بنا دینا بہت سے لوگوں کیلئے ایک شغل کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ صریحاً کفر ہے۔

دین کے کسی عقیدہ یا مظہر کا استہزاءآدمی زبان سے کرے یا ہاتھ کے اشارے سے یا حتی کہ آنکھ مار کر یا جسم کی کسی حرکت سے .... یہ خدا اور رسول کے ساتھ کفر ہے۔ اسی وجہ سے قرآن میں ھمز اور لمز اور غمز کرنے والوں کو بربادی کی وعید سنائی گئی ہے (ویل لکل ھمزۃ لمزۃ)(1) (واذا مروا بھم یتغامزون) (2)ایک طرف کفار کا یہ حال بیان کیا گیا ہے تو دوسری طرف منافقین (جو کہ باطن میں کافر تھے) کی بابت قرآن مجید میں بتایا گیا ہے کہ وہ صحابہؓ کی دینداری کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور اﷲ اور رسول سے ان کی وفاداری اور اطاعت گزاری پر فقرے چست کیا کرتے تھے۔ یہ بات ان کے ایک بڑے جرم کے طور پر قرآن میں بیان ہوئی ہے (قالوا أنومن کما آمن السفھاء)(3) بسا اوقات صحابہؓ کا دین سے تمسک اور اخلاص ان کے مذاق کا نشانہ بنتا اور وہ طرح طرح سے اس بات پر ان کی تضحیک کرتے۔ البتہ تنبیہ کئے جانے پر کہنے لگتے۔ یہ تو ہم ویسے ہی مذاق اور دل لگی کر رہے تھے۔ قرآن میں ان کو بتایا گیا کہ یہی تو دراصل تمہارا کفر ہے:

قُلِ اسْتَهْزِؤُواْ إِنَّ اللّهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُونَ۔ وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنتُمْ تَسْتَهْزِؤُونَ۔ لاَ تَعْتَذِرُواْ قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ (التوبۃ: 64 - 66)

”ان سے کہو: ”کرلو مذاق، اﷲ اس چیز کو کھول دینے والا ہے جس کے کھل جانے سے تم ڈرتے ہو“ اگر ان سے پوچھو کہ تم کیا باتیں کر رہے تھے تو جھٹ کہہ دیں گے کہ ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی کر رہے تھے۔ ان سے کہو ”کیا تمہاری ہنسی دل لگی اﷲ اور اس کی آیات اور اس کے رسول ہی کے ساتھ تھی؟ اب عذرات نہ تراشو، تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے“۔

اس آیت کی تفسیر کے تحت امام ابن کثیرؒ تین روایات ذکر کرتے ہیں:

1) ابن اسحاقؒ کہتے ہیں: منافقین کی ایک جماعت جس میں ودیعہ بن ثابت اور مخشی بن حمیر اشجعی شامل تھے، تبوک کی مہم میں رسول اﷲ ﷺ کی شریک سفر تھی۔ یہ مسلمانوں کو بدکانے اور ان کے حوصلے پست کرنے کیلئے کہہ رہے تھے: ”کیا تم نے رومیوں کے ساتھ جنگ کو عربوں کی آپس کی مار دھاڑ جیسا سمجھ رکھا ہے کل دیکھ لینا تم لوگ رسیوں میں بندھے پڑے ہو گے“۔ تب مخشی بن حمیر بولا: ”مزا ہو جو اوپر سے سو سو کوڑے بھی پڑیں....“ تب رسول اﷲ ﷺ نے عمار بن یاسرؓ کو ان سے پوچھنے کیلئے بھیجا کہ وہ کیا کہہ رہے تھے اور اگر انکار کریں تو کہنا ہاں تم نے یہ یہ کہا ہے۔ عمارؓ ان کے پاس گئے اور ان کو رسول اﷲ ﷺ کی بات پہنچائی۔ تب وہ رسول اﷲ ﷺکے پاس معذرت کرنے آئے جبکہ آپ سواری پر تشریف فرما تھے۔ ربیعہ بن ثابت رسول اﷲ ﷺکی سواری کے رسے کو پکڑے ہوئے کہہ رہا تھا: ”یا رسول اﷲ ﷺہم تو بس ہنسی مذاق اور دل لگی کر رہے تھے“ ....

2) قتادہؓ کہتے ہیں: منافقین کی ایک جماعت غزوۂ تبوک میں رسول اﷲ ﷺکی ہمرکاب تھی تب وہ رسول اﷲ ﷺکے بارے میں کہنے لگے: ”ان صاحب کو خیال ہوا ہے کہ یہ روم کے محلات اور قلعے فتح کر آئیں گے، پر کہاں!“ اﷲ نے اپنے نبی کو اس کی خبر کردی۔ تب آپ نے فرمایا ”ان کو میرے پاس لاؤ“۔ آپ نے ان کو طلب فرمایا اور ان کو بتایا کہ تم نے یہ یہ باتیں کی ہیں تب وہ قسم اٹھا کر کہنے لگے ”ہم تو بس ہنسی اور دل لگی کر رہے تھے“۔

3) محمد بن کعب قرظیؒ (عبداﷲ بن عمرؓ اور بعض دیگر صحابہؓ سے) روایت کرتے ہیں: منافقین میں سے ایک شخص نے کہا: ”یہ جو اپنے قرآن پڑھنے والے ہیں ہم نے تو ان جتنا پیٹ کا حرصی، زبان کا جھوٹا اور معرکہ کے وقت بزدلی دکھانے والا کوئی نہیں دیکھا۔ ان کا اشارہ رسول اﷲ ﷺ اور آپ کے ان اصحاب کی جانب تھا جو کہ (خاص) حاملین قرآن تھے۔ تب عوف بن مالک نے اس سے کہا: جھوٹے تم ہو۔ میں رسول اﷲ ﷺ کو (تمہاری بات) بتا کر رہوں گا۔ عوفؓ رسول اﷲ ﷺ کو اس کی خبر کرنے گئے مگر دیکھتے ہیں کہ ان سے پہلے آپ پر قرآن نازل ہو چکا ہے۔ تب وہ شخص رسول اﷲ ﷺ کے پاس آیا جبکہ آپ نے کوچ کر لیا تھا اور اپنی اونٹنی پر سوار ہو چکے تھے۔ وہ شخص کہنے لگا: ہم تو ہنسی کھیل کرتے اور سفر میں شغل کی باتیں کرتے جا رہے تھے۔ عبداﷲ بن عمرؓ کہتے ہیں: مجھے اب بھی گویا وہ شخص ایسے ہی نظر آرہا ہے کہ رسول اﷲ ﷺ کی اونٹنی کے پیٹ پر لپٹے رسے کے ساتھ لٹکا پتھروں پر گھسٹتا جا رہا ہے اور کہتا جا رہا ہے: ہم تو بس مذاق کر رہے تھے، اور رسول اﷲ ﷺ اس کو جواب دیتے جا رہے ہیں! أباﷲ و أیاتہ ورسولہ .... ”کیا خدا کے ساتھ اور اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ ہی تمہاری ہنسی دل لگی تھی۔ اب عذرات نہ تراشو، تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے“۔ (ملاحظہ ہو تفسیر ابن کثیر بسلسلہ سورۃ التوبہ آیت 65، 66)

لاَ تَعْتَذِرُواْ قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ ..

”اب عذرات نہ تراشو تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے“۔

یہ آیت اس موضوع پر صریح ہے کہ امورِ دین کے ساتھ مذاق کرنے والا انسان صاف صاف کفر کا مرتکب ہوتا ہے۔

صرف یہی نہیں کہ دین کے کسی عقیدہ یا کسی شعار یا کسی مظہر پر پھبتی کسنا اور فقرے چست کرنا کفر ہے اور آدمی کو دین اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔ بلکہ یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ جو شخص دین کے ساتھ استہزاءہوتا دیکھے اور ایسی بات ٹھنڈے پیٹوں سن لے اور ایسی مجلس میں شریک رہے اس کا بھی وہی حکم ہے جو کہ دین کا استہزاءکرنے والے کا۔ فرمایا:

وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللّهِ يُكَفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلاَ تَقْعُدُواْ مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِّثْلُهُمْ (النساء: 140)

”اﷲ اس کتاب میں تم کو پہلے ہی حکم دے چکا ہے کہ جہاں تم سنو کہ اﷲ کی آیات کے ساتھ کفر ہو رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہاں نہ بیٹھو جب تک کہ لوگ کسی دوسری بات میں نہ لگ جائیں۔ اب اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم بھی انہی کی طرح ہو“۔

 

*****

 

اس لحاظ سے دیکھئے تو نواقض اسلام کا چوتھا، پانچواں اور چھٹا بند مل کر ایک دوسرے کو خوب مکمل کرتے ہیں۔ یعنی محمد ﷺ کے لائے ہوئے دین پر کسی اور ضابطے، قاعدے، قانون یا فلسفے اور نظریے کو ترجیح دینا کفر۔ پھر محمد ﷺ کے لائے ہوئے دین پر عمل پیرا ہوتے ہوئے بھی آدمی اس کی کسی بات سے خار کھائے یا اس کے خلاف بغض پالے تو کفر۔ اور پھر محمد ﷺ کے لائے ہوئے دین کی کسی بات کی تضحیک کرے تو کفر۔

پھر آخری بند میں آپ دیکھیں گے کہ رسول اﷲ ﷺ کے لائے ہوئے دین سے آدمی مطلق اعراض برتے تو کفر۔

 

&&&&&


(1) سورۃ الہمزۃ:1 ”بربادی ہے ہر (تمسخر آمیز) اشارہ کرنے والے (معنی خیز) استہزا کرنے والے کیلئے“

(2) المطففین: 30 ”جب وہ ان (نیک لوگوں) کے پاس سے گزرتے تو ایک دوسرے کو آنکھیں مارا کرتے“

(3) البقرۃ: 31 ” کیا ہم ویسے ایمان لے آئیں جیسے یہ نادان ایمان لے کر آئے ہیں؟“