مکمل کتاب PDF فارمیٹ میں

فہرست مضامین۔۔نواقض اسلام

Bookmark and Share

 

PDF Download

 
  آٹھویں بات جس سے آدمی دائرۂ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے  

 

کافروں کا

 

  رفیق اور حلیف ہونا  

 

آٹھویں بات جس سے آدمی کافر ہو جاتا ہے وہ ہے مشرکوں کی نصرت اور پشت پناہی کرنا۔ یا مسلمانوں کے خلاف انکا معاون ہو نا۔

قرآن میں اس کی دلیل یہ ہے۔

وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (المائدہ: 51)

”اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی انہی میں ہے یقیناً اﷲ ظالموں کو اپنی رہنمائی سے محروم کر دیتا ہے“۔

شرح:

دین اور امت کا غدار بے شک نماز روزہ کرتا ہو، کافر ہو جاتا ہے۔

اﷲ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کا وفادار بن کر رہنا اور اﷲ و رسول اور اس اُمت کے دشمن سے دشمنی رکھنا ایمان کا بنیادی فرض ہے۔ یہ نہیں تو قرآنِ مجید کا وہ ایک خاصا بڑا حصہ کچھ معنیٰ ہی نہیں رکھتاجو کہ آج تک برابر تلاوت ہوتا ہے اور جو کہ ان منافقین کا بار بار کفر بیان کرتا ہے جو نبی ﷺ کے دشمنوں کے ساتھ دوستیاں گانٹھتے تھے۔

اسلام محض عقائد یا نماز روزہ ایسی عبادات کا مجموعہ نہیں۔ حتی کہ یہ محض کوئی سیاسی اور معاشی ہدایات پر مشتمل سماجی نظام بھی نہیں، جیسا کہ ہمارے بہت سے نکتہ داں طویل لیکچر دیا کرتے ہیں۔ اسلام دراصل انسان کی وفاداریوں کا تعین بھی ہے اور اس کے تعلقات کی حدود کا دائرہ بھی اور اللہ ورسول و امت کیلئے غیرت کا امتحان بھی۔

تعلق اور وفاداری اور مدد ونصرت کے معاملہ میں بھی دراصل آدمی کے ایمان کو امتحان سے گزارا جاتا ہے۔ کفار جو اسلام اور اہل اسلام سے برسر جنگ ہوں یا دین اسلام کے خلاف یا اس کی کامیابی کے خلاف بغض رکھتے ہوں ایک مسلمان کیلئے دشمن ہی کا درجہ رکھتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں تو آدمی کو اپنے ایمان کی فکر ہو جانی چاہیے۔

اسلام اور توحید کے دشمنوں سے دلی ہمدردی رکھنا، یا مسلمانوں کے خلاف ان کی فتح مندی چاہنا، یا مسلمانوں کے خلاف ان کی نصرت اور اعانت کرنا، یا حتی کہ مسلمانوں کے خلاف محض ان کا حلیف بن کر رہنا صریحاً کفر ہے۔ ایسا کرنے کے بعد آدمی دائرۂ اسلام میں نہیں رہتا۔

بنا بریں ہر وہ اتحاد alliance (تحالف) جو کسی مسلم ملک یا مسلم قوت یا مسلم جماعت یا مجاہدین کے خلاف آمادۂ جنگ ہو اس کا حصہ بننا، اس کی معاونت کرنا، اس کا پرچم اٹھانا، اس کیلئے جاسوسی کرنا یا مسلمانوں کے خلاف کسی بھی طرح اس کی مہم آسان کرنا محض کوئی گناہ نہیں، یہ آدمی کو دائرۂ اسلام سے ہی خارج کر دیتا ہے۔ ایسے آدمی کو متنبہ ہو جانا چاہیے وہ اگر اپنے اس عمل سے تائب ہوئے بغیر مر جاتا ہے تو وہ کفر کی حالت پر مرتا ہے، جس پر ہمیشہ ہمیشہ کی جہنم یقینی ہے۔

اوپر ذکر ہونے والی سورۂ مائدہ کی آیت کی تفسیر میں امام ابن کثیرؒ کہتے ہیں:

”یہاں اﷲ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو ان یہود ونصاری کے ساتھ موالات رکھنے سے جو کہ اسلام اور اہل اسلام کے دشمن ہیں، ممانعت فرمائی ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ (یعنی یہودی اور عیسائی) آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد اﷲ تعالیٰ نے ایسا کرنے والوں کو تنبیہ اور وعید فرمائی ہے۔ چنانچہ فرمایا ومن یتولھم منکم فانہ منھم یعنی ”جو تم میں سے ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہی میں سے ہوگا“۔

یہاں تک کہ امام ابن کثیرؒ اس آیت کے ذیل میں حضرت عمرؓ کا ایک واقعہ ذکر کرتے ہیں کہ آپؓ نے ابوموسی الاشعریؓ (والیٔ بصرہ) کو اس بات پر سرزنش فرمائی کہ انہوں نے ایک عیسائی انشا پرداز کو محض اس کی صلاحیتوں کو دیکھ کر اپنا مکتوب نگار کیوں رکھ لیا اور اپنی اس بات کی تائید میں یہی سورۂ مائدہ کی آیت پڑھی جو کہ اس مسئلہ کے ثبوت میں شروع کے اندر یہاں بیان ہوئی: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاء.... یعنی: ”اے اہل ایمان تم یہود اور نصاریٰ کو اپنا رفیق نہ بناؤ۔ یہ آپس میں ہی ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی انہی میں ہے“ یہ حوالہ دینے کے بعد فرمایا: ”اس کو نکال دو“۔

(ملاحظہ فرمائیے تفسیر ابن کثیر بابت سورۃ المائدۃ آیت 51)

سورۂ مائدہ کی اس آیت کے سلسلہ میں امام ابن جریر طبریؒ مفسرین کا یہ قول نقل کرتے ہیں:

”اس آیت کا اشارہ (صحابی رسول) عبادہ بن الصامتؓ اور (رئیس المنافقین) عبداﷲ بن اُبی بن سلول کی طرف ہے جب عبادہ بن الصامت نے یہود کا حلیف رہنے سے دستبرداری کا اعلان کردیا مگر عبداﷲ بن اُبی نے یہود کے ساتھ اپنا تحالف برقرار رکھا جبکہ یہود کی اﷲاور اس کے رسول کے ساتھ عداوت ظاہر ہو چکی تھی“۔

طبریؒ ایک دوسری روایت لاتے ہیں کہ:

جب بنو قینقاع (ایک یہودی قبیلہ) نے رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ جنگ کرلی تو عبداﷲ بن اُبی پھر بھی ان سے تعلق برقرار رکھنے پرمصر رہا اور ان کے تحفظ کیلئے کھڑا رہا۔ جبکہ عبادہ بن الصامتؓ رسول اﷲ ﷺ کے پاس چلے آئے۔ یہ (عبادہ) بنی عوف بن خزرج سے تھے جو کہ اس سے پہلے تک بنو قینقاع کے اسی طرح حلیف ally تھے جس طرح کہ عبداﷲ بن ابی۔عبادہ ابن الصامتؓ نے رسول اﷲ ﷺ کی خدمت میں آکر یہود سے اپنے تحالف alliance کو ختم کرنے اور اﷲ اور رسول کی خاطر ان سے برأت وبیزاری کا اعلان کیا اور کہا: اے اﷲ کے رسول میں اﷲ اور رسول کی خاطر ان کے ساتھ اپنے عہد سے دستبردار ہوا اور اﷲ اور رسول ہی کا حلیف اور مددگار ہوا۔ میں کفار کا حلیف اور رفیق ہونے سے بیزار ہوتا ہوں“ تب عبادہ بن الصامتؓ اور عبداﷲ بن ابی کے معاملہ میں سورۃ المائدہ کی یہ آیات نازل ہوئیں۔

(دیکھیے تفسیر طبری بسلسلہ سورۃ المائدۃ آیت 51)

 

&&&&&