مکمل کتاب PDF فارمیٹ میں

فہرست مضامین۔۔نواقض اسلام

Bookmark and Share

 

PDF Download

 
  دسویں بات جس سے آدمی دائرۂ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے  

 

دین کو

 

  کوئی ذرہ بھر توجہ نہ دینا  

 

اسلام سے خارج کردینے والی دسویں بات یہ ہے کہ انسان اﷲ تعالیٰ کے دین سے بالکل ہی اعراض کئے بیٹھا ہو، نہ اس کا علم لیتا ہو اور نہ اس پر عمل کرتا ہو۔

اس کی دلیل بھی قرآن سے ملتی ہے:

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهَا إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنتَقِمُونَ (السجدۃ: 22)

”اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کی جائے اور پھر وہ ان سے منہ پھیر لے ایسے مجرموں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے“۔

شرح:

لوگوں کی ایک کثیر تعداد نواقضِ اسلام کے اس پہلو کی زد میں آجاتی ہے۔

آگے چل کر ہم دیکھیں گے کہ کفر اکبر (کُفْرٌ مُخْرِجٌ مِنَ الْمِلَّۃ) کی پانچ صورتوں میں سے ایک صورت ”کفرِ اعراض“ ہے۔ یعنی آدمی کا دین کو کسی توجہ اور التفات کے لائق ہی نہ جاننا۔

یہ ایک ایسا آدمی ہے جس کو دین سے دور نزدیک کا کوئی واسطہ ہی نہیں۔ خدا نے کوئی کتاب اتاری ہے یا نہیں، کوئی رسول بھیجا یا نہیں، کوئی چیز حلال ٹھہرائی ہے یا حرام، سب اس کی بلا سے۔ رسول کی آوردہ شریعت اس کی توجہ کبھی لمحہ بھر کیلئے بھی نہیں لے سکی۔ یہ طرز عمل بنیادی طور پر کفر ہے، اور آدمی کو، بے شک وہ کلمہ گو کہلاتا ہو، اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔

دراصل یہ محض ایک رویہ اور طرز عمل ہی نہیں۔ گو بطور رویہ وطرز عمل بھی یہ کفر ہی ہے۔ مگر موجودہ دور میں تو یہ ایک باقاعدہ نظریہ حیات بھی بن گیا ہے جو کہ دین اسلام سے صاف طور پر متصادم ہے۔

اسی لئے علماءاسلام کہتے ہیں: کوئی شخص اگر اﷲ کی ہرگز بندگی نہیں کرتا تو شیطان کی بندگی تو وہ لازماً ہی کرتا ہے۔ ایسا کوئی شخص دنیا میں ہے ہی نہیں جس کے بارے میں یہ کہا جا سکے کہ وہ کسی بھی چیز کی بندگی نہیں کرتا۔ کوئی شخص ایسا ہو ہی نہیں سکتا جس کے بارے میں تصور کیا جائے کہ اس کا کوئی دین ہی نہیں۔ کسی شخص کا معبود اگر واضح طور پر خدا نہیں تو شیطان ہے۔ کسی شخص کا دین اور طرز حیات اگر اسلام نہیں تو پھر خودبخود کفر ہے۔

بنابریں کسی شخص کی بے دینی اگر اس درجہ کو پہنچتی ہو کہ نہ وہ دین کا کبھی ذرہ بھر علم لے نہ دین کی کسی بات پر عمل کا کبھی زندگی بھر اسے خیال آئے اور نہ وہ زندگی کے معاملات میں رسول سے ہدایت لینے کی کبھی ذرہ بھر ضرورت جانے .... تو ایسا شخص نواقضِ اسلام کا مرتکب ہے، یعنی دائرۂ اسلام سے خارج۔

کفر صرف یہی نہیں کہ آدمی کہے میں رسول اﷲ ﷺ کے لائے ہوئے پیغام کو یا اس کی کسی بات کو ’نہیں مانتا‘ یا یہ کہ آدمی عملاً اسلام کے خلاف آمادۂ جنگ ہو۔ رسول کے لائے ہوئے پیغام کو ’رد کرنا‘ ہی کفر نہیں اس پر ’ایمان نہ لانا‘ اور اس کو ’قبول نہ کرنا‘ بھی کفر ہے۔ اﷲ کے ہاں سے رسول پر جو اترا آدمی باقاعدہ انداز سے اس پر ایمان نہیں رکھتا، اس کو دل وزبان سے قبول نہیں کرتا تو مسلمان نہیں۔

عن أبی ھریرۃ رضی اﷲ عنہ عن رسول اﷲ أنہ قال:

”والذی نفس محمد بیدہ لا یسمع بی أحد من ھذہ الأمۃ یھودی ولا نصرانی ثم یموت ولم یؤمن بالذی أرسلت بہ اِلا کان من أصحاب النار“ (صحیح مسلم ومسند أحمد)

”ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:

”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے اس دور کے لوگوں میں سے جو یہودی یا عیسائی بھی ایسا ہو جس نے میرا سن رکھا ہو پھر وہ اس چیز کے ساتھ جسے لے کر میں مبعوث ہوا ہوں ایمان نہ لایا ہو اور اسی حال میں مر گیا ہو لازماً وہ دوزخیوں میں سے ہوگا“۔

چنانچہ آدمی سے صرف یہ مطلوب نہیں کہ رسول ﷺ جس چیز کے ساتھ مبعوث ہوا بس وہ اس کو ’رد نہ کرتا‘ ہو بلکہ اس کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ رسول ﷺ جس چیز کے ساتھ مبعوث ہوا وہ اس پر ’ایمان لے کر آئے‘۔ ان دونوں باتوں کے بغیر آدمی مسلمان نہیں۔

آدمی کا بکثرت گناہ کر لینا، حتی کہ کبائر کا مرتکب ہونا اور دین کے بہت سے فرائض کا تارک ہونا اور بات ہے اور ایسا آدمی تو صرف فاسق کہلائے گا مگر یہ کہ آدمی نے دین کو زندگی بھر کبھی توجہ کے لائق ہی نہ جانا ہو اور رسول کی کسی بات، کسی حکم اور کسی ارشاد کی جانب ذرہ بھر التفات کا کبھی روادار نہ ہوا ہو .... آسمانی شرائع کا آنا نہ آنا اس کیلئے ایک برابر ہو تو ایسا آدمی محض فاسق نہیں بلکہ دین اسلام سے خارج ہے۔

اس دسویں ناقضِ اسلام کی شرح میں شیخ عبدالعزیز بن مرزوق الطریقی اپنے رسالہ ال اِعلام بشرح نواقض الاسلام میں لکھتے ہیں:

”نواقض اسلام کی یہ (دسویں) قسم جس سے کہ آدمی کا کلمہ گو ہونا کالعدم ہو جاتا ہے.... نواقض اسلام کی اس حالت سے چھٹکارا پانے کیلئے یہ کافی نہیں کہ آدمی دین کا یا نیکی کا بس ’کوئی سا‘ بھی کام کر لے یا یہ کہ شعبہ ہائے ایمان میں سے ’کسی نہ کسی‘ بات کا قائل یا فاعل ہو۔ دین یا نیکی کا اگر کوئی ایسا کام ہے جو کافر بھی کر لیتے ہوں اور مسلمان بھی کرتے ہوں تو ایسے کام کے کر لینے سے آدمی کفرِ اعراض سے باہرنہیں آتا۔ مثلاً پڑوسی کے ساتھ نیک سلوک کر لینا، مہمان کا اکرام، راستے سے کوئی رکاوٹ یا اذیت دور کر دینا، کسی کو دکھ پہنچانے سے پرہیز کر لینا، والدین کے ساتھ نیکی کر لینا یا امانت میں خیانت نہ کرنا۔

آدمی سے کفرِ اعراض کی یہ صورت اسی وقت دور ہوگی اور وہ اس سے اسی وقت نجات پائے گا جب وہ فرائضِ دین میں سے کوئی ایسا فرض ادا کرنے لگے جو خاص شریعت اسلام ہی کا امتیاز ہے اور جسے کہ رسول اﷲ ﷺ بطور خاص لے کر معبوث ہوئے ہیں۔ مثلاً نماز، زکات، روزہ اور حج وغیرہ۔ ہاں جب وہ اسلام کے ان فرائض میں سے کسی فرض کا التزام کرے اور ایمان اور احتساب کی نیت کے ساتھ اس کی ادائیگی کرنے لگے تب جا کر وہ اس اعراض کی حالت سے باہر آتا ہے جسے کہ نواقض اسلام میں شمار کیا جاتا ہے۔

(ملاحظہ فرمائیے الاعلام بشرح نواقض الاسلام ص 46)

اس کے بعد وہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ کا یہ قول نقل کرتے ہیں:

”دین کے وہ فرائض جو خاص محمد ﷺ کے ذریعے فرض ٹھہرائے گئے ہیں، آدمی خاص ان فرائض میں سے کوئی ایک بھی فرض ادا نہیں کرتا تو وہ اﷲ اور رسول پر ایمان رکھنے والا شمار نہیں ہوتا“۔

(فتاوی ابن تیمیہ جلد 7 ص 621)

 

&&&&&