
|
|
|
|
|
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
رو بہ زوال ’امیریکن ایمپائر‘۔
اسلام دشمنی کی وہ آگ جو افغانستان اور عراق کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے، اس کی کچھ خطرناک ترین چنگاریاں اب، یہاں سمیت، عالم اسلام کے متعدد خطوں کا رخ کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ مکر و دجل کے تہہ در تہہ شیطانی ایجنڈے لئے، ملتِ کفر کے ایلچی ہر طرف بھاگتے پھرتے دیکھے جا رہے ہیں۔ مکروہ عزائم کا پتہ دیتی ڈپلومیسی اور جنگی منصوبوں کی بو، چارٹرڈ طیاروں اور ’بریف کیسوں‘ سے لے کر ’بند کمروں‘ تک، ہر طرف سے آرہی ہے۔ حیرت یہ ہے کہ یہاں کی اکثریت، کئی ایک دینی جماعتوں سمیت،اُس ہنگامی حالت کا رونا رو رہی ہے جو یہاں کی سیاسی دنیا کا ایک بور کن موضوع رہا ہے، اور جوکہ صرف خطے کی حالیہ صورت حال کے حوالے سے ہی کچھ قابل توجہ ہوگیا ہے.. البتہ اِس ’ہنگامی حالت‘ کی بابت، جوکہ امت کے وجود ہی کیلئے اس وقت ایک بڑے خطرے کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے، دوڑ دوپ کرتے دینی طبقے بہت کم دیکھے جارہے ہیں۔ ادھر مغربی ذرائع ابلاغ کو دیکھیں تو وہ چیخ چیخ کر صرف اور صرف ایک بات سے خبر دار کر رہے ہیں اور وہ یہ کہ عالم اسلام کی بیداری اس وقت قابو سے باہر ہورہی ہے اور یہ کہ خطے میں موجود ان کی فوجوں اور بحری بیڑوں کے پاس وقت بے حد کم ہے۔ ان کے بیشتر دانشور اپنی فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کردینے کیلئے ’اب یا کبھی نہیں‘ کی دہائی مچا رہے ہیں، جبکہ ان کے کئی تھنک ٹینکس کا کہنا ہے وقت ہاتھ سے نکل چکا ہے اور یہ کہ جن اہداف کی پریشانی اب اٹھ کھڑی ہوئی ہے، خصوصاً پاکستان کے اندر پائی جانے والی اسلامی قوت اور اس قوت کے ہاتھ آجانے والے ممکنہ اسباب و امکانات، بشمول یہاں کے ایٹمی ہتھیار.. ان سب اہداف کا صفایا ان کے نزدیک اسی پہلے ہلے میں ہوجانا چاہیئے تھا جب، نائن الیون کے بعد، عالمی رائے عامہ کے ایک بڑے حصے نے امریکہ کو پوری دنیا کے اندر ہر قسم کی کارروائی کرنے کا بلینک چیک دے دیا تھا۔ اس ’بے جا‘ تاخیر کے باوجود، ان کا خیال ہے، جو کچھ ممکن ہو فی الفور کر گزرا جائے۔ چنانچہ یہ ہنگامی حالات جو شمالی علاقوں میں ایک چیختی ہوئی صورت دھار چکے ہیں، ہو سکتا ہے، کسی بہت بڑے دھماکے کا پبش خیمہ ثابت ہوں۔ ایران کے خلاف کارروائی ہونے کا امکان ہمیشہ سے نہ ہونے کے برابر رہا ہے البتہ ان تیاریوں کے پردے میں شایداب ’اور‘ بہت کچھ ہونے والا ہے۔
مگر چونکہ دشمن کے آپشن بے انتہا محدود ہیں اور وہ ہرگز کسی قابل رشک حالت
میں نہیں، اور اس کے زخم پہلے سے خوب رِس رہے ہیں.. لہٰذا ایک مناسب حکمت
عملی اختیار کرکے، خصوصاً دشمن کو ا س پوزیشن میں نہ آنے دے کر، جہاں وہ
کسی دوسرے یا تیسرے فریق کو ہی اس موقعہ پر نمایاں اور ’توجہ کا مرکز‘ بنا
دے اور اسی کے پردے میں چھپ کر، بلکہ پس منظر میں جا کر، ہم پر وار کرتا
رہے .... دشمن کو اس پر مجبور کرکے کہ ’کچھ‘ بھی کرنے کیلئے وہ خود ہی
سامنے آئے اور برہنہ ہوجانے کے سوا اس کے پاس یہاں کوئی چارہ نہ رہے، تاکہ
اپنی ہر خباثت کا جواب وہ براہ راست پائے اور کسی اور کو اس مشکل وقت میں
اپنا بوجھ اٹھوا سکے اورنہ اپنی اوٹ بنا سکے.... ایسا کرکے نہ صرف دشمن کو
بے اثر کیا جاسکتا ہے، اور اس کا وہ بوجھ جس نے پہلے سے اس کی کمر دہری
کردی ہے اور بھی بڑھایا جاسکتا ہے، بلکہ اس کی ہر نئی چال کو اسی کے خلاف
پلٹا جاسکتا ہے۔
حالیہ مرحلے کی
اس نزاکت کو اگر ہم سمجھ لیتے ہیں تو پھر امریکی قبضہ کار اپنا کام بڑھائیں
تو پھنستے ہیں اور نہ بڑھائیں تو بدستور مار کھاتے ہیں۔ ایک ایسے دشمن کی
کوئی مدد بھلا ہم کیوں کریں جس کے پاس بھاگ جانے کے سوا کوئی آپشن باقی ہی
نہیں رہ گیا ہے؟! اس کے، خطے سے نکلتے ہی، البتہ ہمارے آپشن اس قدر زیادہ
اور اس قدر زبردست ہوں گے کہ معاملے کی ساری تصویر ہی بدلی جاسکتی ہے....
بس ذرا صبر!
کچھ بھی ہو، ہم
اگر اپنی صفیں درست کرلینے کی جانب متوجہ ہوجاتے ہیں اور صبر و دانشمندی پر
کاربند رہتے ہیں، تو آنے والے دن بے حد تشویشناک ہونے کے باوجود بے حد خوش
آئند ہوسکتے ہیں، بلکہ ہیں، اور کیا بعید بہت سے بند راستے اس امت کی پیش
قدمی کیلئے یہیں سے کھلنے والے ہوں۔
وَعَسَى أَن تَكْرَهُواْ شَيْئًا
وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَعَسَى أَن تُحِبُّواْ شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ
لَّكُمْ
(البقرۃ:
216) ”اور کیا بعید تم کسی چیز کو ناپسند کرو
جبکہ وہ تمہارے لئے خیر ہو، اور کیا بعید تم کسی چیز کو پسند کرو جبکہ وہ
تمہارے لئے شر ہو“
امید ہے اس
مضمون میں ہمارے یہاں کے متعدد طبقے ایک دور رس اور کثیر جہت پیغام پائیں
گے۔ یہاں ہر طبقے سے ہماری درخواست ہوگی کہ وہ اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ
پھیلانے میں مدد گار ہو۔ اس کتاب کے چیدہ چیدہ صفحے فوٹو سٹیٹ کی صورت میں پھیلائے جانا بھی مفید ہوسکتا ہے۔ علاوہ ازیں، ہماری ویب سائٹ سے اس کے منتخب حصے اپنے اصحاب کو فارورڈ کرنا اور زیادہ سے زیادہ فورموں تک پہنچانا اس پیغام کی اشاعت میں ممد ہوگا۔
ادارہ ایقاظ،
ہنگامی بنیادوں پر، یہ کتابچہ زیادہ سے زیادہ لائبریریوں، صحافتی طبقوں،
فکری حلقوں اور نجی و سرکاری شخصیات و ادارہ جات تک پہنچانے کا ارادہ رکھتا
ہے۔ چونکہ ادارہ کے حالیہ وسائل ایک بڑے پیمانے پر کتابچہ کی مفت ترسیل کے
متحمل نہیں، لہٰذا اس سلسلہ میں ادارہ کو مالی اعانت فراہم کی جانا ان
شاءاللہ ابوابِ خیر میں شمار ہوگا، جس کا طریقہ منی آرڈر ہوسکتا ہے یا
ایقاظ میں دیا گیا بینک اکاؤنٹ۔
|
||