سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست ابواب بہ مضمون "امیریکن ایمپائر"۔

فہرست مضامین ایقاظ جنوری 2008

Download in PDF format

بسم اﷲ الرحمن الرحیم
الحمد ﷲ والصلوۃ والسلام علی رسول اﷲ
اَما بعد

"رو بہ زوال امیریکن ایمپائر" مکمل کتابی شکل میں شائع  ہوچکا ہے۔اسی مضمون کو مذکورہ کتاب میں ترمیم و اضافے کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ براہ راست کتاب سے پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

 

رو بہ زوال ’امیریکن ایمپائر‘۔

 

اسلام دشمنی کی وہ آگ جو افغانستان اور عراق کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے، اس کی کچھ خطرناک ترین چنگاریاں اب، یہاں سمیت، عالم اسلام کے متعدد خطوں کا رخ کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ مکر و دجل کے تہہ در تہہ شیطانی ایجنڈے لئے، ملتِ کفر کے ایلچی ہر طرف بھاگتے پھرتے دیکھے جا رہے ہیں۔ مکروہ عزائم کا پتہ دیتی ڈپلومیسی اور جنگی منصوبوں کی بو، چارٹرڈ طیاروں اور ’بریف کیسوں‘ سے لے کر ’بند کمروں‘ تک، ہر طرف سے آرہی ہے۔

حیرت یہ ہے کہ یہاں کی اکثریت، کئی ایک دینی جماعتوں سمیت،اُس ہنگامی حالت کا رونا رو رہی ہے جو یہاں کی سیاسی دنیا کا ایک بور کن موضوع رہا ہے، اور جوکہ صرف خطے کی حالیہ صورت حال کے حوالے سے ہی کچھ قابل توجہ ہوگیا ہے.. البتہ اِس ’ہنگامی حالت‘ کی بابت، جوکہ امت کے وجود ہی کیلئے اس وقت ایک بڑے خطرے کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے، دوڑ دوپ کرتے دینی طبقے بہت کم دیکھے جارہے ہیں۔

ادھر مغربی ذرائع ابلاغ کو دیکھیں تو وہ چیخ چیخ کر صرف اور صرف ایک بات سے خبر دار کر رہے ہیں اور وہ یہ کہ عالم اسلام کی بیداری اس وقت قابو سے باہر ہورہی ہے اور یہ کہ خطے میں موجود ان کی فوجوں اور بحری بیڑوں کے پاس وقت بے حد کم ہے۔ ان کے بیشتر دانشور اپنی فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کردینے کیلئے ’اب یا کبھی نہیں‘ کی دہائی مچا رہے ہیں، جبکہ ان کے کئی تھنک ٹینکس کا کہنا ہے وقت ہاتھ سے نکل چکا ہے اور یہ کہ جن اہداف کی پریشانی اب اٹھ کھڑی ہوئی ہے، خصوصاً پاکستان کے اندر پائی جانے والی اسلامی قوت اور اس قوت کے ہاتھ آجانے والے ممکنہ اسباب و امکانات، بشمول یہاں کے ایٹمی ہتھیار.. ان سب اہداف کا صفایا ان کے نزدیک اسی پہلے ہلے میں ہوجانا چاہیئے تھا جب، نائن الیون کے بعد، عالمی رائے عامہ کے ایک بڑے حصے نے امریکہ کو پوری دنیا کے اندر ہر قسم کی کارروائی کرنے کا بلینک چیک دے دیا تھا۔ اس ’بے جا‘ تاخیر کے باوجود، ان کا خیال ہے، جو کچھ ممکن ہو فی الفور کر گزرا جائے۔

چنانچہ یہ ہنگامی حالات جو شمالی علاقوں میں ایک چیختی ہوئی صورت دھار چکے ہیں، ہو سکتا ہے، کسی بہت بڑے دھماکے کا پبش خیمہ ثابت ہوں۔ ایران کے خلاف کارروائی ہونے کا امکان ہمیشہ سے نہ ہونے کے برابر رہا ہے البتہ ان تیاریوں کے پردے میں شایداب ’اور‘ بہت کچھ ہونے والا ہے۔

مگر چونکہ دشمن کے آپشن بے انتہا محدود ہیں اور وہ ہرگز کسی قابل رشک حالت میں نہیں، اور اس کے زخم پہلے سے خوب رِس رہے ہیں.. لہٰذا ایک مناسب حکمت عملی اختیار کرکے، خصوصاً دشمن کو ا س پوزیشن میں نہ آنے دے کر، جہاں وہ کسی دوسرے یا تیسرے فریق کو ہی اس موقعہ پر نمایاں اور ’توجہ کا مرکز‘ بنا دے اور اسی کے پردے میں چھپ کر، بلکہ پس منظر میں جا کر، ہم پر وار کرتا رہے .... دشمن کو اس پر مجبور کرکے کہ ’کچھ‘ بھی کرنے کیلئے وہ خود ہی سامنے آئے اور برہنہ ہوجانے کے سوا اس کے پاس یہاں کوئی چارہ نہ رہے، تاکہ اپنی ہر خباثت کا جواب وہ براہ راست پائے اور کسی اور کو اس مشکل وقت میں اپنا بوجھ اٹھوا سکے اورنہ اپنی اوٹ بنا سکے.... ایسا کرکے نہ صرف دشمن کو بے اثر کیا جاسکتا ہے، اور اس کا وہ بوجھ جس نے پہلے سے اس کی کمر دہری کردی ہے اور بھی بڑھایا جاسکتا ہے، بلکہ اس کی ہر نئی چال کو اسی کے خلاف پلٹا جاسکتا ہے۔
لہٰذا ڈر اِس سے نہیں کہ امریکہ اس جنگ کا دائرہ بڑھا دے گا، ایسا کرکے تو وہ اپنے دشمن کو پھنسانے کی بجائے خود پھنسے گا اور جس دلدل سے نکلنے کی کوئی صورت وہ پہلے ہی نہیں پاتا اپنا بوجھ بڑھا کر اسی میں اور بری طرح دھنسے گا۔ ڈر البتہ ہمیں جس بات سے ہونا چاہیئے وہ یہ کہ اس موقعہ پر امریکہ کو یہاں مقامی طور پر کچھ ’بار بردار‘ ہاتھ آجائیں، جس کی کہ وہ اس وقت کئی طریقوں سے کوشش کر رہا ہے۔ ہاں اگر امریکہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پھر اس جنگ کا دائرہ بڑھا کر وہ اپنا کام آسان اور ہمارا کام مشکل کردے گا۔ لہٰذا اس پر چاہے ہمیں آخری درجے کا صبر کرنا پڑے، مگر نادانستگی میں امریکہ کی یہ مدد کر بیٹھنا کہ وہ یہاں کسی اور چہرے کے پیچھے کیموفلاج ہوجائے اور ہمیں اپنی بجائے یہاں کسی اور فریق کے ساتھ الجھا دے، اور اپنا کردار صرف ’مانیٹرنگ‘ تک محدود رکھے، جوکہ اس کا من پسند مشغلہ ہے.... ہماری جانب سے ایک ایسی فاش غلطی ہوگی کہ ہمارا کام عشروں کے حساب سے پیچھے جاسکتا ہے اور ’رو بہ زوال امریکہ‘ کو اسی حساب سے وقت مل سکتا ہے۔

حالیہ مرحلے کی اس نزاکت کو اگر ہم سمجھ لیتے ہیں تو پھر امریکی قبضہ کار اپنا کام بڑھائیں تو پھنستے ہیں اور نہ بڑھائیں تو بدستور مار کھاتے ہیں۔ ایک ایسے دشمن کی کوئی مدد بھلا ہم کیوں کریں جس کے پاس بھاگ جانے کے سوا کوئی آپشن باقی ہی نہیں رہ گیا ہے؟! اس کے، خطے سے نکلتے ہی، البتہ ہمارے آپشن اس قدر زیادہ اور اس قدر زبردست ہوں گے کہ معاملے کی ساری تصویر ہی بدلی جاسکتی ہے.... بس ذرا صبر!
وقت ہے کہ دشمن کی غلطیوں سے اس وقت زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے، جس کیلئے البتہ یہ ضروری ہے کہ خود ان غلطیوں سے اجتناب کیا جائے جو اس وقت دشمن ہم سے کرانا چاہتا ہے!

کچھ بھی ہو، ہم اگر اپنی صفیں درست کرلینے کی جانب متوجہ ہوجاتے ہیں اور صبر و دانشمندی پر کاربند رہتے ہیں، تو آنے والے دن بے حد تشویشناک ہونے کے باوجود بے حد خوش آئند ہوسکتے ہیں، بلکہ ہیں، اور کیا بعید بہت سے بند راستے اس امت کی پیش قدمی کیلئے یہیں سے کھلنے والے ہوں۔ وَعَسَى أَن تَكْرَهُواْ شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَعَسَى أَن تُحِبُّواْ شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ  (البقرۃ: 216) ”اور کیا بعید تم کسی چیز کو ناپسند کرو جبکہ وہ تمہارے لئے خیر ہو، اور کیا بعید تم کسی چیز کو پسند کرو جبکہ وہ تمہارے لئے شر ہو“
حقیقت پسندی کا پورا التزام کرنے کے ساتھ ساتھ، اس معاملہ کی ایک خوش آئند تصویر دیکھنا، ہم سمجھتے ہیں، ہمارے نوجوانوں اور عمل کیلئے سرگرم حلقوں کا حق ہے، اور اس موقعہ پر، امت کی ایک بہت بڑی ضرورت۔ زیر نظر کتابچہ یہی تصویر دکھانے کی ایک کوشش ہے، بلکہ صحیح تر الفاظ میں، اس امید افزا تصویر کو اپنے ماضی اور مستقبل کے ایک وسیع تر فریم میں جڑ کر دیکھنے کی ایک کوشش۔

امید ہے اس مضمون میں ہمارے یہاں کے متعدد طبقے ایک دور رس اور کثیر جہت پیغام پائیں گے۔ یہاں ہر طبقے سے ہماری درخواست ہوگی کہ وہ اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے میں مدد گار ہو۔
ادارہ ایقاظ، اردو میں چھپنے والے ہر مجلہ،جریدہ اور روزنامہ کو یہ دعوت دیتے ہوئے مسرت محسوس کرتا ہے کہ وہ یہ مضمون پورا یا اس کے منتخب حصے شائع کرکے اس پیغام کو اپنے پرچے کی وساطت زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے میں حصہ لے، البتہ ایقاظ اور اس کی ویب سائٹ کا حوالہ ساتھ ضرور دیا جائے، تاکہ اس پر ہم تبصرے یا اشکالات وغیرہ موصول کرسکیں۔ تاہم اس کو کتابی صورت میں شائع کرنا ”مطبوعات ایقاظ“ کا ہی حق رہے گا۔

اس کتاب کے چیدہ چیدہ صفحے فوٹو سٹیٹ کی صورت میں پھیلائے جانا بھی مفید ہوسکتا ہے۔ علاوہ ازیں، ہماری ویب سائٹ سے اس کے منتخب حصے اپنے اصحاب کو فارورڈ کرنا اور زیادہ سے زیادہ فورموں تک پہنچانا اس پیغام کی اشاعت میں ممد ہوگا۔

ادارہ ایقاظ، ہنگامی بنیادوں پر، یہ کتابچہ زیادہ سے زیادہ لائبریریوں، صحافتی طبقوں، فکری حلقوں اور نجی و سرکاری شخصیات و ادارہ جات تک پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ چونکہ ادارہ کے حالیہ وسائل ایک بڑے پیمانے پر کتابچہ کی مفت ترسیل کے متحمل نہیں، لہٰذا اس سلسلہ میں ادارہ کو مالی اعانت فراہم کی جانا ان شاءاللہ ابوابِ خیر میں شمار ہوگا، جس کا طریقہ منی آرڈر ہوسکتا ہے یا ایقاظ میں دیا گیا بینک اکاؤنٹ۔
یہ کتاب آفسٹ چھپائی کے ساتھ، ادارہ ایقاظ سے مبلغ ایک صد روپے میں بذریعہ وی پی منگوائی جاسکتی ہے۔ تقسیم عام کیلئے، سستے کاغذ پر چھاپی گئی کتاب تیس روپے فی کاپی دستیاب ہوگی، البتہ ڈاک خرچ کے پیش نظر، اس سستے ایڈیشن کی کم از کم دس کاپیاں طلب کرنا لازم ہوگا۔ آفسٹ کاپی البتہ ایک بھی طلب کی جاسکتی ہے۔ ڈاک خرچ بذمہ ادارہ ہوگا۔