سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

 فہرست ابواب بہ مضمون "امیریکن ایمپائر"۔

فہرست مضامین ایقاظ جنوری 2008

Download in PDF format

"رو بہ زوال امیریکن ایمپائر" مکمل کتابی شکل میں شائع  ہوچکا ہے۔اسی مضمون کو مذکورہ کتاب میں ترمیم و اضافے کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ براہ راست کتاب سے پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

 

اسلامی منظر نامے کی بحالی


سن دو ہزار سات شروع ہوتے ہی، ہمارے کئی اسلامی خطوں کے اندر سنسنی خیز اور تشویشناک واقعات کا جو ایک نیا سلسلہ نکل کھڑا ہوا تھا، اور اب دو ہزار آٹھ شروع ہونے تک ایک گھمبیر قسم کی صورت اختیار کرچکا ہے، شاید وہ ایک نئے چیلنج کی شروعات ہیں اور تاریخِ عالم میں ایک نئے خوبصورت مرحلے کو روک دینے کیلئے عالمی سامراج کی جانب سے ہاتھ پیر مارنے کی ایک کوشش بھی.. اور اسلامی قیادتوں کے صبر وحوصلہ، زیرک پن اور دور رس سوچ رکھنے کا ایک کٹھن امتحان بھی۔

2006ء کے اواخر کو پہنچتے پہنچتے عراق اور افغانستان کی صورت حال آخری حد تک واضح کرچکی تھی کہ امریکی تسلط یہاں پر اب کوئی دیر کی بات ہے اور یہ کہ امریکہ کی تاریخ میں آئندہ ہزیمت اور پسپائی کیلئے حوالہ اب ’ویتنام‘ اور ’ویتنامی گوریلے‘ نہیں بلکہ ’عراق و افغانستان‘ اور ’جہاد و مجاہدین‘ دیئے جایا کریں گے، گو یہ حوالہ امریکی تاریخ میں جس حقیقت کیلئے ذکر ہوگا وہ ’ہزیمت و پسپائی‘ سے بھی بڑی اور ڈراؤنی کوئی حقیقت ہے! وہ کیا حقیقت ہے اور یہ جنگ جو اس وقت جاری ہے اس کی گرد بیٹھنے کے ساتھ دنیا کو کیا کچھ دیکھنے کو مل سکتا ہے؟ اس کیلئے اسلام اور مغرب کی اس کشمکش کے ماضی و مستقبل کی کئی جہتیں سامنے ہونا ضروری ہیں۔ یہ مضمون ان جہتوں کو نظر میں لے آنے کی ہی چھوٹی سی ایک کوشش ہے، گو اس موضوع پر مفصل لٹریچر پایا اور پھےلایا جانا بھی ضروری ہوگیا ہے اور امید ہے لکھنے والے اس کی طرف متوجہ ہوں گے۔ ان دنوں میں، خصوصا آنے والے دنوں کے اعتبار سے، یہ موضوع بلا شبہہ ایک غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

یہ سوال، کہ مغرب کی ہم پر مسلط کی ہوئی اس حالیہ جنگ کے ’پسِ اختتام‘ دنیا کو دیکھنے کیلئے کیا سیناریو ملنے والا ہے؟ بلکہ یہ کہ مغرب کا مستقبل اب کیا ہے؟ اور عالم اسلام کو آئندہ عالمی منظر نامے میں کہاں رکھ کر دیکھا جائے؟ یہ کچھ سوال جو بڑی شدت کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور جن کی بابت سوچنا تک مغرب اپنے لئے سوہانِ روح جانتا ہے، کچھ اتنے بڑے بڑے سوال ہیں کہ پچھلی دوتین صدیوں میں اتنے بڑے اور دلچسپ سوال دنیا کے اندر شاید کبھی کھڑے نہ ہوئے ہوں، حتیٰ کہ عالمی جنگوں کے خاتمے پر بھی نہیں!
اپنے گھروں سے ہزاروں میل دور، ’پردیس‘ کے تپتے صحراؤں اور دشوار پہاڑی سلسلوں میں یہ جنگ جاری رکھنا ان کے ناز ونعم میں پلے ہوئے جوانوں کیلئے بے حد مشکل ہو رہا ہے مگر اس جنگ کو ’ختم‘ سمجھنا ان کیلئے اس سے زیادہ بھیانک اور خوفناک! جس جنگ کے مابعد کا سیناریو ’موت‘ سے ملتی جلتی کوئی چیز ہو، اس کو آخر تک لڑنا بے حد ضروری ہوجاتا ہے!

مغرب بلا شبہہ اس جنگ میں ظالم اور معتدی ہے مگر یہ جنگ اس کیلئے ہرگز کوئی عیاشی نہیں بلکہ ’مجبوری‘ کا درجہ رکھتی ہے۔ ایک ایسی دنیا جس میں ظالم مظلوم کو بے بس نہ پائے اور اشیا کے لین دین میں ’حساب کتاب‘ رکھا جانے لگے اور معاملے عدل کے ساتھ طے ہوں، الفاظ اور ’قراردادوں‘سے کھیلا جانے کی بجائے حقائق کو دیکھا اور دکھایا جائے، اور کسی کے گھر میں آنے جانے اور تصرف کرنے کے باقاعدہ ”اصول“ پائے جانے لگیں.. ایک ایسی دنیا ظالم کو نری جہنم نظر آتی ہے اور وہ اس کے وجود میں آنے کو ٹال دینے کی اچھی خاصی قیمت دے دینے پر تیار ہوجاتا ہے! ایک آزاد دنیا کا تصور ستمگروں کیلئے ہرگز کسی موت سے کم نہیں!
مغرب جس چیز کواپنے لئے ’موت‘ جانتا ہے، ہمارے اس مضمون کے اندر وہ اِسی حوالے سے بیان ہوئی ہے۔ وگرنہ عالم اسلام کا اپنا پیغام کسی کی ’موت‘ نہیں۔ عالم اسلام کے پاس مغرب سمیت پوری انسانیت کو دینے کیلئے کچھ ہے تو وہ زندگی اور امن وسلامتی ہے، اس دنیا کا سکون وسلامتی بھی اور آخرت کے ابدی جہان کا سکون وسلامتی بھی.. گو آخرت کا سکون وسلامتی ”ایمان“ سے مشروط ہے جس کو کسی پر مسلط نہیں کیا جاسکتا، جبکہ دنیا کے امن و سلامتی کی ضمانت اسلام ہر کسی کو دیتا ہے، خواہ کافر اور خواہ مسلم، سوائے یہ کہ کوئی شخص اسلام کے ساتھ جنگ پر، یا دنیا کے کسی بھی فریق کے ساتھ ناحق جنگ پر، ہی آخری حد تک آمادہ ہو۔
چنانچہ مغرب، جس کے پاس لڑنے کیلئے سوائے ہتھیاروں کے آج کوئی ایک بھی کارآمد چیز ایسی نہیں جوکہ جنگوں کے فیصلے کرا دینے کیلئے قوموں کی حقیقی ضرورت ہوا کرتی ہے، اس وقت جان مار کے لڑنے پر پھر بھی پوری طرح آمادہ نظر آتا ہے تو وہ کچھ اسی لئے کہ ’پسِ جنگ سیناریو‘ اس کیلئے آخری حد تک ناقابل قبول ہے....یہ ایک ایسے منظر نامے کی بحالی ہے جو دنیا میں کم از کم بھی آج سے کوئی پانچ صدیاں پیشتر پایا جاتا تھا، یعنی: دنیا کے وسط میں بیٹھا عالم اسلام آپ اپنی قسمت کا مالک ہو اور آخری آسمانی شریعت اس کے طول عرض میں حاکم ہو، جس کے ثمرات وبرکات صرف عالم اسلام نہیں پوری دنیا کو چکھنے کو مل رہے ہوں، اور گلوبلائزیشن کے اس دور میں کرہء ارض پر جہاں کہیں بھی ظلم اور استحصال کی ماری ہوئی قومیں پائی جائیں وہ اپنی فریاد رسی کیلئے قرآن پڑھنے والوں کا سہارا پھر سے اپنی دنیا میں میسر پائیںبلکہ قرآنی معاشرے ہی ان کیلئے جنت ارضی کا نقشہ پیش کرنے کو موجود ہوں!

دنیا کے توازن کا کئی صدیاں پہلے والے اس نقطے پر آجانا آخرِ کار تو ضرور ان شاءاللہ ایک حقیقت بننے والی ہے، بلکہ نوشتہء دیوار ہے، مگر اس نقطے کے آجانے تک کئی دور سر کئے جانا ابھی بلا شبہہ باقی ہے۔ جب ایسا ہے تو مغرب اس کو جہاں تک ممکن ہو مؤخر یا ہمیں ہی اس سے منحرف کردینے کی کوشش بہر حال کرسکتا ہے، جبکہ ہمیںبھی عالم اسلام کو اس قابل اور اہل بنانے کیلئے ابھی بہت کچھ کرنا ہے، جس کے نہ کیا جانے کی صورت میں اس نقطہ کا ہماری زندگی میں آجانا کئی نسل تک مؤخر ہوسکتا ہے۔ لہٰذا اس جنگ کا آخری نتیجہ گو واضح ہے مگر بیچ کے مرحلے نہایت سنسنی خیز اور چیلنج کن ہوسکتے ہیں، بلکہ ہر دو فریق کے کام کو متاثر کردینے میں حد درجہ اہمیت کے حامل.. اور اس جنگ کو طول دینے یا اس کو حتمی انجام تک پہنچانے پر قدرت رکھنے کے حوالے سے، بڑی حد تک فیصلہ کن۔

بلا شبہہ ایک ایسی دنیا جہاں اس امت کا تاریخی کردار پوری طرح بحال ہو اور جہاں اس کے اپنے تاریخی منصب و مقام پہ پائے جانے کے باعث انسانی دنیا کو اپنا کھویا ہوا توازن پھر سے واپس ملے، اور نتیجتاً ہر شخص __ کافر کیا مسلم __ زندگی سے اپنا پورا پورا حق پائے ... بلا شبہہ ایک ایسی دنیا، اپنے ظہور میں آنے کیلئے، آج ہماری اسلامی تحریکوں کے وجود میں پرزور کروٹیں لے رہی ہے اور اسی وجہ سے آج ان تحریکوں کا ہر قیمت پر خاتمہ کردیا جانا، ظالموں کے ایجنڈے میں سر فہرست ہے۔ مگر امت کی اس بیداریِ نو (صحوۃ) کو روک دینا، لگتا ہے اب کسی کے بس کی بات نہیں رہی اور ایک بڑے تعطل کے بعد، عنقریب، یہ پھر سے جہانِ انسانی کے اندر اپنا کردار بحال کرنے والی ہے.. اور انسانیت پھر سے اس خوبصورت واقعہ کے ثمرات سے حظ اٹھانے والی ہے۔

عالم اسلام کو بلحاظِ صلاحیت اس مرحلہ کے قابل بنانا جن بنیادی خصائص کا ضرورت مند ہے اور جوکہ اصل چیلنج ہے، الگ سے ایک موضوع ہے۔ اس کے فکری و تہذیبی وسماجی پہلو اس مضمون میں ہمارا موضوع نہیں بنیں گے(1)۔ البتہ اس جنگ کے بعض سٹرٹیجک پہلو ہم اس کتابچہ کے اندر زیر بحث لائیں گے، جن پر غور و فکر سے عمل اور حکمتِ کار کی کئی ایک جہتیں ضرور واضح ہوسکیں گی۔سب سے اہم یہ کہ اس جنگ کا تعارف اور اس کا پس منظر واضح ہوجانا بذات خود اس جنگ کے طبعی انجام کی طرف ایک پیشرفت ہے۔ اگر آپ اس سے اتفاق کریں تو اس صدا کو پھیلانے اور عام کرنے میں اپنی استطاعت کے مطابق حصہ لیجئے۔

 

(1) اس موضوع پر گو بہت کچھ پڑھنے کو پہلے سے دستیاب ہے، البتہ ہماری مطبوعات میں اس حوالے سے محمد قطب کی کتاب ’دعوت کا منہج کیا ہو؟‘، ہماری کتاب ’موحد معاشرہ نہ کہ تیسری دنیا‘ (جوکہ عنقریب کتابی صورت میں دستیاب ہوگی) فائدہ مند ہوسکتی ہے، علاوہ ازیں ایقاظ میں شائع ہونے والے ہمارے کچھ اداریئے: ’مسلم ہستی کی برآمد‘ ، ’جہاد افغانستان کے تناظر میں‘، ’وہ ذہنی تبدیلی جس کی ضرورت ہے‘ ، ’عقیدہ سے فکر اور ثقافت تک‘ اور ’پندرھویں صدی کا ربع دوئم شروع ہوتا ہے‘، علاوہ ازیں، مضمون: انتخابات میں اسلام پسندوں کی جیت‘۔