’رومن ایمپائر‘
کی میراث!
مصنف ابن
ابی شیبہ میں ابن محیریز سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا:
”فارس نطحۃ أو
نطحتان، ثم یفتحھا اﷲ، ولکن الروم ذات القرون، کلما ھلک قرن قام قرن
آخر“۔
(1)
”فارس (تمہاری) ایک ٹکر ہوگی یا (بڑی حد) دو، پھر فارس کو اللہ مفتوح
کرا دے گا۔ مگر روم کے کئی سینگ ہونگے۔ اس کا ایک سینگ ہلکان ہوگا تو
ایک نیا سینگ نکل آئے گا“۔
”روم“ جوکہ احادیث کے اندر مذکور ہے در اصل اسی عالمِ جبر و مشقت اور
شرک و طغیان کا ایک تسلسل ہے جسے آج جدید دور کے اندر ہم ’مغرب‘ کے نام
سے جاننے لگے ہیں۔ اسی قوم کیلئے ”بنی الاصفر“ کا لفظ بھی احادیث میں
بکثرت استعمال ہوا ہے۔
”نصرانیت“ گو دنیا کی اور بہت سی اقوام میں پائی جاسکتی ہے بلکہ ہر خطے
اور ہر بر اعظم میں عیسائی مذہب اختیار کر رکھنے والی اقوام پائی جاتی
ہیں، اس لحاظ سے نصرانی یا عیسائی مذہب کچھ مغربی اقوام کے ساتھ خاص
نہیں ، اس کے باوجود ”روم“ یا ”بنی الاصفر“ (مغربی اقوام) کے ساتھ
نصرانیت کو ایک خاص حوالہ اور ایک خاص نسبت رہی ہے۔
جس طرح مسلمان ”عربوں“ کے سوا بہت سی اقوام ہیں پھر بھی ”عربی“ اور
”عرب“ کو اسلام کے ساتھ ایک خاص تاریخی و تہذیبی نسبت ہے، قریب قریب
اسی طرح نصرانیت کا اٹوٹ جوڑ قومِ مسیح علیہ السلام کے ساتھ نہیں (جو
کہ بلاشک و شبہہ ”بنی اسرائیل“ تھے) بلکہ ”بنی روم“ Romans یا ”بنی
الاصفر“ کے ساتھ ہی معروف رہا ہے، جوکہ بذاتِ خود ایک چیز کے پٹڑی سے
اتر جانے اور اپنے اصل پہ موجود نہ رہنے کی جانب اشارہ کردینے کیلئے
کافی ہے۔ دینِ توحید سے انحراف کی ساری کہانی، عیسائی تاریخ کے اندر،
در حقیقت ’رومنز‘ Romans کی کہانی ہے۔
”روم“ اور ”بنی الاصفر“ کا ذکر __ بطور ماضی اور بطور مستقبل کا ایک
مسلسل واقعہ __ ہمارے دین کی نصوص میں بکثرت ملتا ہے۔ ہم مثال کے طور
پر یہاں اس کی ایک ایک مثال احادیث سے ذکر کریں گے:
روم:
حضرت جابر بن سمرہ کی حدیث جوکہ سنن ابن ماجہ اور مسند احمد میں الفاظ
کے معمولی فرق کے ساتھ آئی ہے:
تقاتلون جزیرۃ العرب
فیفتحہا اﷲ لکم، ثم تقاتلون فارس فیفتحہا اﷲ لکم، ثم تقاتلون الروم
فیفتحہا اﷲ لکم، ثم تقاتلون الدجال فیفتحہ اﷲ لکم.. قال فقال جابر: لا
یخرج الدجال حتیٰ یفتتح الروم۔
(2)
”تم جزیرہء عرب سے قتال کرو گے آخر اللہ اسے تمہارے لئے فتح کرا دے گا،
پھر تم فارس سے قتال کروگے آخر اللہ اسے تمہارے لئے فتح کرا دے گا، پھر
تم روم سے قتال کرو گے آخر اللہ اسے تمہارے لئے فتح کرادے گا، پھر تم
دجال سے قتال کرو گے آخر اللہ اسے تمہارے لئے فتح کرا دے گا“...
(حدیث کے راوی) کہتے ہیں: تب جابر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا:
”دجال اس وقت تک نہ نکلے گا جب تک روم (اہل اسلام کے ہاتھوں) فتح نہ
ہوجائے“۔ (3)
بنی الاصفر:
بخاری میں عوف بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث کے یہ الفاظ:
ثم تکون ہدنۃ بینکم وبین
بنی ال أصفر، فیغدرون، فی أتونکم تحت ثمانین غایۃ، تحت کل غایۃ اثنا
عشر ألفا۔
(4)
”پھر تمہارے اور بنی الاصفر کے مابین ایک متارکہء جنگ ہوگا، (جس کے
معاملہ میں) وہ غدر کریں گے، تب وہ تم پر (چڑھائی کرنے کیلئے) اسی (80)
پرچموں تلے آئیں گے، ہر پرچم تلے بارہ ہزار (فوجی) ہوں گے“
چنانچہ ”روم“، یا ”بنی الاصفر“ ایک اصطلاح ہے جو کئی ایک شرعی نصوص کے
اندر وارد ہوئی ہے۔ ہماری اسلامی تاریخ ”روم“ و ”بنی الاصفر“ کے ذکر سے
بھری ہوئی ہے۔ زمانہء آخر کے اندر جو ملاحم (تاریخی انسانی کے کچھ عظیم
ترین معارک) اہل اسلام کے لشکر ہائے روم کے ساتھ برپا ہوں گے، اور جن
پر ہمارے مستند دینی مصادر کے اندر بے شمار پیشینگوئیاں پائی جاتی ہیں،
وہ الگ ہمارے سامنے ہیں۔
جتنا جوش وخروش صحابہ و تابعین کے دور میں ’روم‘ کے خلاف جہاد میں رہا
اور جس قدر عظیم المرتبت صحابہ روم کے ساتھ جہاد میں شامل رہے ویسا شرف
جہاد کے کسی اور میدان کو حاصل نہیں رہا۔خلیفہء اول ابو بکر رضی
اللہ تعالی عنہ کا قول مشہور ہے کہ ”روم کی ایک چوکی فتح کرنا
مجھے فارس کا پورا ایک شہر فتح کرنے کی نسبت عزیز تر ہے“
قیصرِ روم کے پایہء تخت کے خلاف اہلِ اسلام کی پہلی فوجی مہم کی خاص
فضیلت احادیث کے اندر وارد ہوتی ہے، یعنی اس مہم میں شریک لشکرِ اسلام
سارا بخشش یافتہ ہوگا:
امام بخاری کتاب الجہاد والسیر میں باب ما قیل فی قتال الروم‘۔
(5) کے تحت حدیث
لائے ہیں:
عن أم حرام أنہا سمعت
النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ” أول جیش من امتی یغزون البحر
قد أوجبوا“ قالت أم حرام: قلت: : یا رسول اﷲ أنا فیھم؟ قال: ” أنتِ
فیہم“ ثم قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ”اول جیش من أمتی یغزون مدینۃ
قیصر مغفور لہم“ فقلت: أنا فیہم یا رسول اﷲ؟ قال: ”لا“
”ام حرام رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی صلی
اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میری اُمت کا وہ پہلا لشکر جو
سمندر (کے راستے) جہاد کرے گا وہ (جنت کا) مستحق ہوا“ ام حرام کہتی
ہیں: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا میں ان میں ہوں گی؟ آپ نے
فرمایا ”تم ان میں ہوگی“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”میری اُمت کا وہ پہلا لشکر جو قیصر روم کے پایہ تخت (قسطنطینیہ) پہ
مہم جوئی کرے گا، بخشاجائے گا“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول: کیا
میں ان میں ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“۔
روم Romans کے مرکز پر پہلی اسلامی مہم کی بابت حدیث میں مذکور اس
فضیلت کو پانے کیلئے ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ اپنے
بڑھاپے کی پروا کئے بغیر شاملِ لشکر ہو جاتے ہیں اور پایہ تختِ قیصر کی
فصیلوں کے باہر ہی اپنی طبعی موت ہوجانے کے بعد مدفون ہو جاتے ہیں۔ آج
بھی جو کوئی انقرہ استبول (ترکی) کی سیر کرنے جاتا ہے وہ مدینہ سے آئے
ہوئے اس صحابی کی قبر دیکھ سکتا ہے....
بہت ضروری ہے کہ خود ہم آج وہ معرکہ اپنی نظر میں کرلیں جو ملتِ ’روم‘
ہمارے خلاف اس وقت لڑ رہی ہے اور جس میں ہم میں سے بہت کم لوگ ابھی
شریک ہیں بلکہ بہت کم لوگ اس سے ابھی واقف، اور جو کہ شاید اب ایک بے
حد فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکا ہے۔
٭٭٭٭٭
(1)
أخرجہ ابن أبی شیبة فی المصنف (206:4)
والحارث بن أبی أسامة کما فی زوائد الہیثمی (713:2) ونعیم بن حماد فی
الفتن (479:2) ومسند الحارث
(702)۔ حدیث کی سند میں گو کچھ ضعف ہے، مگر بعض علماء(جیسے شیخ سفر
الحوالی، حامد العلی وغیرہ) نے ملاحم کی دیگر احادیث سے تائید ہونے کے
باعث اس حدیث کا اعتبار کیا ہے۔
(2) سنن ابن ماجۃ:کتاب الفتن، باب
الملاحم..
ومسند احمد:
مسند العشرۃ المبشرۃ،
مسند ابی اسحاق سعد بن ابی
وقاص
(3) حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ قول ہمارے ان اصحاب کیلئے
قابل توجہ ہے جو روم (مغرب) کی فتح سے پہلے ہی دجال کے نکل آنے کا
امکان ظاہر کرتے اور ایک قسم کی یاسیت پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ حضرت
جابر رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ قول براہِ راست حدیث سے استدلال ہے، جس
سے واضح ہوتا ہے کہ زمانہء خروجِ دجال سے
پہلے اللہ کے فضل سے ایک زمانہ آنا ابھی باقی ہے جس میں امت اسلام کو
ایک بہت بڑی اٹھان ملے گی یہاں تک کہ روم (یورپ کا سنٹر یا پھر پورا
عالم مغرب) فتح ہوچکا ہوگا۔
(4) البخاری: کتاب الجزیۃ، باب ما یحذر
من الغدر، عن عوف بن مالک
بخاری کی مشہور شرح فتح الباری میں امام ابن حجر عسقلانی اس حدیث کے
ذیل میں لکھتے ہیں: (ہدنة،
ہی الصلح علیٰ ترک القتال، بعد التحرک فیہ، بنی ال
أصفر:
ہم الروم) ”ہدنہ (متارکہء
جنگ) اس اتفاق کو کہتے ہیں جو جنگ روک دینے پر (طرفین کے مابین) ہو،
بعد اس کے کہ جنگ کے معاملہ میں پیشرفت ہوچکی ہو“ .. (جبکہ) ’بنی
الاصفر‘ سے مراد ہیں: رومن“ (دیکھیے فتح الباری، بہ ذیل مذکورہ حدیث)
(5) البخاری: 2857، باب:” روم کے ساتھ قتال کی بابت جو وارد ہوا“