
|
|
|
|
|
ملتِ روم
تاریخی وجغرافیائی پسِ منظر کوئی اگر سوال کرے کہ وہ کونسی قوم ہے جس کے ساتھ پچھلے چودہ سو سال سے عالمِ اسلام کی مسلسل جنگ ہو رہی ہے، بغیر اس کے کہ اس جنگ میں کوئی ایک دن کا بھی وقفہ آپایا ہو، تو اس کے جواب میں ’روم‘ کے علاوہ شاید آپ کسی بھی قوم کا نام نہ لے سکیں! تو پھر کیا یہ ضروری نہیں کہ اس جنگ کا نقشہ جو آج بھی نہیں رکی بلکہ ہمارے خلاف انکی یہ جنگ آج ایک بھیانک ترین رخ اختیار کر چکی ہے، ملت کے کسی فرد کی نگاہ سے روپوش نہ رہے؟ تاریخی طور پر گو ’روم‘ ایک گوری قوم ہے جس کا اصل وطن جزیرہ نمائے اٹلی ہے، وہی خطہ جس کے اندر ویٹی کن کا عالمی کیتھولک سکرٹریٹ پوری دنیا کے اندر صلیب لہرانے کے عالمی مشن کی نگرانی پر تعینات ہے۔ جبکہ ’بنی الاصفر‘ کا لفظ قریب قریب ان سب اقوام کو شامل ہے جن کی تاریخ یورپ اور عیسائیت سے وابستہ ہے۔ اس وسیع تراستعمال کی رو سے صرف ’اٹلی‘ نہیںبلکہ وہ سب گوری اقوام جو سینٹ پال کی مسخ کردہ عیسائیت کی نام لیوا ہیں، ان پر لفظِ ’روم‘ کا ہی اطلاق ہوتا ہے۔
احادیث کے
اندر ’روم‘ کے کئی سینگ بتائے گئے ہیں ، کہ جب ایک سینگ جھڑے تو انکا
ایک اور سینگ کہیں سے برآمد ہو جائے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس وقت اقوامِ
روم کا وہ کونسا ’سینگ‘ ہے جو عالمِ اسلام کو پٹخ دینے کے لئے اس وقت
’روم‘ کے سر پر لہرا رہا ہے اور قدسیانِ اسلام کی جان لینے کے در پے
ہے؟ کئی ایک مؤرخین نے سلطنتِ عثمانیہ کے جو متعدد مناقب ذکر کئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ عین اس وقت جب یورپی اقوام اپنے گھروں کی تنگی کے باعث نئے خطوں کی تلاش میں تھیں، جبکہ ان اقوام کو جو قریب ترین ہمسایہ پڑتا تھا وہ سب کی سب مسلم عرب اقوام تھیں جن کی زمینیں ہتھیانے کیلئے ان یورپی اقوام کو صرف بحر ابیض پار کرکے آنا پڑتا.. اور بلا شبہہ یہ توسیع پسند قومیں اپنی بڑھتی ہوئی آبادیوں کیلئے شام، مصر، لیبیا، الجزائر، تیونس، مراکش اور ان کے مابعد پائے جانے والے ان سب وسیع وعریض اور زرخیز خطوں پر للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتی بھی رہیں، مگر یہاں چڑھ آنے کیلئے ان کو ہمت اس لئے نہیں پڑ رہی تھی کہ ان کو مار بگھانے کیلئے ایک مضبوط و توانا خلافت موجود تھی، جو نہ صرف ان کو ’مشرقِ وسطیٰ‘ اور شمالی افریقہ کی طرف میلی آنکھ اٹھا کر دیکھنے نہ دیتی تھی بلکہ پورا یورپ افواجِ خلافت کی دھمک سے لرز رہا تھا بلکہ آدھا یورپ تو اس کے ہاتھوں تاراج ہو چکا تھا۔ بحر ابیض جس کو ابن خلدون ’وہ حوض جس کے گرد تہذیب گھومتی رہی‘ کا نام دیتا ہے، گویا اس وقت خلافت کی جاگیر تھی اور اس میں کوئی اس کی اجازت کے بغیر پر نہ مار سکتا تھا۔ دنیا کے آباد شدہ سب خطوں تک یورپ کا راستہ وہیں سے گزرتا تھا یا پھر ایشیائے کوچک کی خشکی (حالیہ ترکی) سے جس پر کہ عثمانیوں کی اپنی خلافت قائم تھی، وگرنہ بحر اوقیانوس Atlantic Ocean میں پورے بر اعظم افریقہ کے اوپر سے ہزاروں میل کا ایک طویل چکر کاٹنا پڑتا تھاجہاں سے فوجی مہمات گزارنا تو قریب قریب ناممکنات میں تھا۔ نتییجتا یورپ پوری دنیا سے کٹ کر اپنے اسی چھوٹے سے خطے میں محدود اور دبک کر پڑا تھا۔کسی کے ہنستے بستے سجے سجائے گھر پر قبضہ کرنا تب بڑے ہی جان جوکھوں کا کام تھا! آخر کار مغربی اقوام کو ’نئی دنیا‘ کا رخ کرنا پڑا، جوکہ کسی حد تک اُس وقت کے بیابان کہلا سکتے تھے۔ آج کا امریکہ(قریب قریب پورا شمالی بر اعظم)، علاوہ ازیں آسٹریلیا (قریب قریب پورا بر اعظم)، نیو زی لینڈ اور کئی دیگر خطے جن اقوام کا مسکن ہیں وہ یہی یورپی اقوام ہیں جو یورپ کی پوری تاریخ بمع بائبل و صلیب اٹھائے آج یہاں مالکوں کی طرح براجمان ہیں! خدا کا شکر کیجئے کہ تب خلافت تھی اور اسی وجہ سے ہمارا ذکر تاریخ کے اندر ’ریڈ انڈین اقوام‘ کی طرز پر نہیں ہوتا۔ البتہ ’تہذیب‘ کی دعویدار ان اقوام کی نظر میں کوئی بھی غیر قوم، جو ایک زرخیز ملک رکھتی ہو اور قدرتی وسائل سے لبریز سرزمین کی مالک ہو، صرف اور صرف ’ریڈ انڈین‘ کے طور پر دیکھی جاتی ہے! اپنے گھروں کے پھاٹک کھولنے والوں کو ’تہذیب‘ کے ان نام لیواؤں کی خیر سگالی بالآخر کتنی مہنگی پڑتی ہے، اس کیلئے ان اقوام کی تاریخ پڑھیے جو بڑی حد تک اب صرف ’تاریخ‘ میں ہی ملتی ہیںاور خاصی حد تک اب صرف ’انتھروپالوجی‘ کا موضوع ہیں۔ ایک باعزت تاریخ رکھنے کیلئے آپ کو ایسے آباءسے نسبت چاہیے جو اپنی آئندہ نسلوں کیلئے اپنی میراث کا تحفظ یقینی بنانے کے معاملہ میں آخری حد تک بے لحاظ ہوں اور جو کسی کی ’میزبانی‘ میں فیاضی کی اس حد تک چلے جانے پر تیار نہ ہوں کہ بالآخر اپنا گھر بھی باہر والوں کے حوالے کر دیں جہاں ان کی نسلیں پھر اگر رہنے کی ’اجازت‘ پائیں بھی تو ’کرایہ دار‘ بن کر! البتہ آج ہم اپنے آپ کو اپنی آنے والی نسلوں کیلئے کس قسم کے ’آبائ‘ پاتے ہیں اور اپنی نسلوں تک ان کی امانت پہنچانے کا کیا انتظام کرتے ہیں، جہاں ہمارے روشن خیالوں نے ملکوں کے نہیں ذہنوں کے پھاٹک تک چوپٹ کھول دیئے ہیں .... آج کی اس جنگ میں، جس کو تہذیبوں کی جنگ کہا جاتا ہے، ہم اپنے وجود کے تحفظ کیلئے کیا پوزیشن لیتے ہیں، ریڈ انڈینز کی تاریخ، خصوصا ریڈ انڈینز کے گورے ’مہمانوں‘ کی تاریخ پڑھتے ہوئے، ایک نظر اس پہلو سے ڈالنا بھی ہرگز نہ بھولئے گا! پس ”اقوامِ روم“ کو ان کے دین، تاریخ اور تہذیب سمیت شناخت کرنا ہو تو اس کیلئے آج آپکو صرف ’یورپ‘ کی جانب ہی نظر نہیں اٹھانا ہوتی بلکہ دنیا کے کئی اور خطوں کی جانب بھی اسی طرح دیکھنا ہوتا ہے جس طرح کہ آج سے پانچ سات صدیاں پیشتر آپ کو صرف ’یورپ‘ کو دیکھنا ہوتا تھا۔’ملتِ روم‘ یقینا اس سے بڑھ کر اب ’امریکہ‘ سے ’آسٹریلیا‘ تک جاتی ہے۔ اپنے بہت سے تاریخی خصائص ان اقوام کو آج تک نہیں بھولے۔ ہمارے خلاف آنے والی فوجوں میں آپ ”ملتِ روم“ کی کسی قوم کا جھنڈا آج مفقود نہ پائیں گے۔ چاہے علامتی طور پر چند فوجی بھیجے مگر ’مقدس جنگوں‘ میں شمولیت کے تمغہ سے محروم رہ جانا ’بنی الاصفر‘ کی کسی قوم کو آج اس ’سیکولر‘ دور میں بھی قبول نہیں (’سیکولر زم‘ کی یہ احمقانہ قسم صرف ہمارے لئے ہے!)۔ البتہ ان کی ان ’مقدس جنگوں‘، جن کا دوسرا نام صلیبی جنگیں ہیں، کے بالمقابل کتنے ’مسلم ملک‘ ہیں جو ’علامتی طور پر‘ ہی اپنے پائے جانے کا یہاں ثبوت دے لیں؟ ان صلیبی پھریروں کے مد مقابل آنا تو خیر دل گردے کی بات ہے، کتنے مسلم ملک ہیں جو اپنی ”اللہ اکبر“ کی نعرہ بردار افواج کو ان صلیبیوں کے شانہ بشانہ ’مسلم باغیوں‘ کی گوشمالی کیلئے چاک و چوبند رکھے ہوئے نہیں؟ ’معزز‘ مہمانوں کا اتنا خیر مقدم تو ہمارے ایمان فروش پہلی صلیبی جنگوں کے موقعہ پر نہ کر پائے تھے! کہاں خلافت جو ان اچکوں کو دور سے مار بھگایا کرتی تھی اور کہاں آج کے یہ قومی راجواڑے جو ان صلیبی پھریروں کے نیچ پیادوں میں نام درج کروانے کیلئے اور ان کے رتھوں کی راہ سے ’رکاوٹیں‘ ہٹانے کیلئے ’کسی بھی قربانی سے ہرگز دریغ نہ کرنے‘ کا عزم بار بار یوں دہراتے ہیں جیسے ایک مخلص عبادت گزار مسلسل ورد کرتا ہے اور اپنے صبح شام کے ’وظائف‘ میں کبھی ایک بار کا انقطاع آنے نہیں دیتا! ابھی ہمارے کچھ نکتہ وروں کو اصرار ہے کہ ان راجواڑوں کو اب ’خلافت‘ اور ’دار الاسلام‘ اور ’الجماعۃ‘ ہی کا قائم مقام جانا جائے اور امتِ اسلام کو بقیہ عمر بس اب اسی ’یو این‘ سے منظوری یافتہ و ’آئی ایم ایف‘ کے باج گزار انتظام پر قناعت کروائی جائے، کہ ان کے خیال میں خدا کا اس امت کے ساتھ وعدہء نصرت (اس شرط پر کہ خود یہ خدا کی نصرت پہ کمر بستہ ہو) بس ایک ہی بار کے لئے تھا، جس کی میعاد ان کے بقول اب ہمیشہ کے لئے ختم ہو چکی ہے!
|
||