
|
|
|
|
|
ملتِ روم
تہذیبی وفکری پسِ منظر ہم عالمِ اسلام پر اللہ کا یہ فضل ہے کہ اپنے تہذیبی وفکری وجود کا آ غاز ہم ”اسلام“ سے ہی کرتے ہیں اور اپنی تاریخی شناخت انبیاء کرام سے ہی وابستہ رکھتے ہیں۔ نبیِ آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے ماقبل عرب زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو صرف اور صرف ’زمانہء جاہلیت‘ کے عنوان کے تحت۔ ہم اگر ہند کی اقوام ہیں تو ہندو آبا کے ساتھ ہم __ بطورِ مسلمان __ اپنا رشتہء شناخت ہمیشہ کیلئے ختم کرچکے ہیں بلکہ ان سب ناطوں کو کالعدم کر لینے پر بے حد فخر محسوس کرتے ہیں۔ زمزم کا ایک قطرہ ہمیں گنگا وجمنا اور راوی و سندھ کے شمال تا جنوب سے عزیز تر ہے۔ خاکِ بطحا ہمیشہ کیلئے اب ہماری آنکھ کا سرمہ ہے۔ ’کاغان‘ ہو یا ’مہران‘، ہمارا ایک بے دین سے بے دین بھی خواجہء یثرب سے تعلق رکھنے کا یہی تقاضا جانتا ہے۔ یہی حال سب کی سب مسلم اقوام کا ہے۔ مسلمانانِ مصر، فراعنہ کی تہذیب پر لعنت ہی بھیجتے ہیں۔ اسلامیانِ عراق، بابل کی تہذیب کو صرف کھنڈروں کی صورت میں ہی دیکھنے کے روادار ہیں۔ شام اپنے سب ماقبل اسلام رشتے یکسر بھلا چکا ہے۔ افغانستان میں بدھا کے مجسموں کو ڈائنامائٹ سے اڑتے دیکھنا یہاں کے ’باشندوں‘ کو بہت بھلا لگا تھا! مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک اسلام ہی سے رشتہ جوڑ رکھنے پر پورا پورا اتفاق پایا جاتا ہے۔ ”اسلام“ ہی اب ان سب اقوام کا باپ ہے اور اسلام ہی ان کا نسب۔ بے شک وہ اس سبب سے ہم پر بے حد جلتے بھنتے ہیں اور ہمارے اندر کچھ انتھروپالوجسٹ پیدا کرنے کی مسلسل کوشش میں رہے ہیں جو ہمیں ایک نئے سرے سے ہمارا ’نسب‘ پڑھائیںاور ”آسمان“ سے ہمارا رشتہ کاٹ کر از سر نو ’زمین‘ کے ساتھ جوڑ دیں مگر انہیں معلوم ہے دو سو سال تک ہمیں پڑھالینے کے بعد بھی وہ ہمیں یہ سبق یاد نہ کرا سکے اور ایسے ’لائق‘ شاگرد جو ان کا پڑھایا ہوا سبق یاد کرلیں ہمارے مابین حد درجہ گنے چنے ہیں اور اس قدر طاقتور ذرائعِ ابلاغ رکھنے کے باوجود انکی منحنی آواز تو اذانوں کی اس پنج وقتہ گونج میں یہاں بالکل ہی دب کر رہ جاتی ہے.... اس پر ہم جتنا بھی خدا کا شکر کرسکیں سچ یہ ہے کہ کم ہے۔ البتہ ”ملتِ روم“ کا معاملہ اس سے مختلف ہے، خصوصا آج کے دور میں جب تاریخ میں اپنی جڑیں تلاش کرنے کی ضرورت قوموں کے مابین بے حد اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ یہ اپنے وجود کا آغاز ”دین“ سے کرتے ہیں اور نہ اپنے ”دورِ ماقبل دین“ کا ذکر ’زمانہء جاہلیت‘ کے طور پر کرتے ہیں۔ یہ اس کے متحمل ہی نہیں! بلاشبہہ ’عیسائیت‘ سے اپنی تاریخی وابستگی کو یہ اپنی پہنچان بنا کر رکھتے ہیں اور صلیبی تعصب کا جہاں موقعہ ملے وہیں اس کا بھر پور ثبوت دیتے ہیں، پھر بھی اپنی تاریخی شناخت کے معاملہ میں ’عیسائیت‘ ان کے ہاں ایک اضافہ addition ہے نہ کہ شناخت کی کلی بنیاد۔ اپنے تہذیبی وجود کے معاملہ میں یہ ’عیسائیت‘ کو کوئی ’نقطہء ابتدا‘ بہر حال نہیں مانتے بلکہ اس باب میں تاریخ کے پردے ہٹاتے ہوئے ’عیسائیت‘ سے ماقبل ادوار میں بھی یہ اسی جذب و کیف کے ساتھ جاتے ہیں جس شوق و سرور کے ساتھ یہ اپنے وجود کی ’مذہبی جہتوں‘ کو زیرِ بحث لاتے ہیں۔
چنانچہ آپ
دیکھتے ہیں یہ اپنے تہذیبی وجود کو یونان کے کھنڈروں میں آج بھی پورے
ذوق وشوق کے ساتھ ڈھونڈتے ہیں اور اپنا تاریخی آغاز قریب قریب وہیں سے
کراتے ہیں۔ یونان کی دیومالا (خرافات) Greek mythology میں یہ ’علم
وحکمت‘ کے موتی عین اسی طرح تلاش کرتے ہیں جس طرح علمِ غیب کے باب میں
ہمارے یہاں انبیاءکی سچی داستانیں پورے ضبط کے ساتھ نقل ہوتی ہیں۔
یونانی اور رومانی دیوتاؤں کے نام قریب قریب ان کو اسی طرح یاد ہوتے
ہیں (بلکہ ہمارے انگلش لٹریچر ڈیپارٹمنٹوں میں ازبر کرائے جاتے ہیں!)
اور پیر پےر پر ان کے حوالے اور استشہادات ان کے ہاں اسی طرح ذکر ہوتے
ہیں جس طرح ہمارے ہاں اللہ تعالیٰ کے اسمائِ حسنیٰ! ہفتے کے دن اور
مہینوں کے نام ان کے ہاں آج بھی یونانی اور رومانی خداؤں سے منسوب ہیں۔
وثنیت idolatory پر مبنی بہت سے گرِیک اور رومن تہوار آج بھی ان کے ہاں
پورے جوش وخروش کے ساتھ منائے جاتے ہیں اور ان کا ایک پوری وابستگی کے
ساتھ چرچا ہوتا ہے۔
بنیادی طور
پر آج کا مغرب اپنے فکری وجود اور پہنچان کے معاملہ میں چار بنیادوں پر
کھڑا ہے:
٭٭٭٭٭ |
||