سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

 فہرست ابواب بہ مضمون "امیریکن ایمپائر"۔

فہرست مضامین ایقاظ جنوری 2008

Download in PDF format

عنصرِ اول:

"رو بہ زوال امیریکن ایمپائر" مکمل کتابی شکل میں شائع  ہوچکا ہے۔اسی مضمون کو مذکورہ کتاب میں ترمیم و اضافے کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ براہ راست کتاب سے پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

تہذیبِ یونان

جس سے کہ مغرب کا اصل خمیر اٹھا ہے۔ یونانی فلسفہ و افکار کے ساتھ بنی الاصفر ایک خاص تہذیبی نسبت رکھتے ہیں بلکہ اس پر کچھ اس انداز کا فخر کرتے ہیں کہ گویا عقل و شعور اور فکر و دانائی کا استعمال تاریخِ انسانی کے اندر فلاسفہ ¿ یونان ہی کی چھوڑی ہوئی یادگار ہے اور پوری انسانی دنیا ذہن کی غذا پانے کے معاملہ میں صرف اور صرف اسی پہ انحصار کرنے کیلئے آخری حد تک محتاج ہے! دوسرے لفظوں میں عقل و منطق کا استعمال مغرب کے بڑوں کے سوا دنیا کے اندر آج تک کسی کے آبا نے گویا کیا ہی نہیں!

چونکہ یونان کے فکری اثاثہ جات بعد ازاں آپ سے آپ ’رومیا‘ لئے گئے، لہٰذا اس کے ساتھ اپنا نسب جوڑنے میں ان کو کوئی بھی دقت پیش نہیں آتی، خصوصا جبکہ جغرافیائی طور پر فرزندانِ یورپ کو آبائے یونان پر ناز کرنے کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کہ رومن ایمپائر کے عالیشان نشاناتِ شان و شوکت پر۔

جہاں تک ان کی تہذیب کے اس پہلے عنصر کا تعلق ہے، اور جوکہ اس کے چوتھے عنصر کیلئے اساس فراہم کرتا ہے، جیسا کہ ہم آگے چل کر دیکھیں گے، تو وہ در اصل دینِ انبیا کے ساتھ تعارض ہے۔ خصوصا یہ کہ تنزیلِ خداوندی کو ذہنِ انسانی کے معیار سے فروتر جاننااور حقائق کے تعین کے لئے عقلی ٹامک ٹوئیوں کو صائب تر طریق ماننا۔پھر یہ کہ اسی جہالت کو تقاضائے دانش جاننا اور عالمِ غیب کو اپنے ہی محدود سے اندازوں کے اندر محصور جاننا۔

جیسا کہ شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ رضی اللہ تعالی عنہ کے قول سے اس بات کی تائید ہوتی ہے یونانی فلسفہ کی ترقی و افزودگی، جس پر مغرب اتراتا ہے، اس زمانہ سے تھوڑی بعد ہوتی ہے جب ارضِ شام و بیت المقدس کے اندر نبوتوں کا تانتا باندھ دیا گیا تھا، یعنی پیدائشِ مسیح علیہ السلام سے چند صدیاں پیشتر کا زمانہ، جوکہ موسیٰ علیہ السلام کے بہت بعد آتا ہے ، جبکہ قرآن میں واضح کیا گیا ہے کہ ارض شام و فلسطین میں اس دور کے اندر انبیاءکی ایک بہت بڑی تعداد مبعوث کی گئی تھی۔ یونان کے فلاسفہ کی ایک تعداد ایسی رہی ہے جو بحر ابیض کا حوض پار کر کے ارضِ انبیا میں آتی اور یہاں سے حکمت اور دانش کی خبر پاتی رہی۔ ان میں ایسے لوگوں کا پایا جانا بعید از قیاس نہیں جو انبیا پر ایمان سے مالا مال ہو کر یونان لوٹتے رہے، جس سے علم و دانش کی کچھ روشنی ان کے ساتھ یورپ کے اس تاریک جزیرہ نما تک بھی پہنچ جاتی رہی۔ اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے کہ بحر ابیض کے مشرقی و جنوبی کناروں پر مسلسل نبوت کی اتنی قندیلیں جلیں اور تھوڑی بھی روشنی اس کے دوسری پار نہ پہنچے، جبکہ تہذیب اپنے اس نقطہ پر بہت دیر سے پہنچ چکی تھی جہاں قوموں کے مابین خوب آمد ورفت ہونے لگی تھی اور تبادلہ ¿ علوم و تجارب بھی بکثرت ہونے لگا تھا؟

البتہ اس روشنی کے اندر یہ اپنی جہالت کی آمیزش بھی بہر حال کرتے رہے۔ چنانچہ جہاں تک یونانی علوم وفلسفہ جات میں کوئی ایجابی پہلو ہے اور خصوصا اگر یورپ میں عقل کے استعمال اور قوائے استدلال و استنباط کو ’پہلی بار‘ کارآمد بنانے کی ایک سنجیدہ کوشش کا معاملہ ہے تو اس کا سہرا انتقالِ علم و حکمت کے اس عمل کو جاتا ہے جس کا مصدر ارضِ انبیا رہی ہے۔ البتہ جہاں تک ان فلاسفہ کا عقل کو مستقل بالذات بنا کر حدودِ انسانی سے تجاوز کر جانا ہے اور جو کہ فلاسفہ ¿ یونان کا بالآخر امتیاز ٹھہرا ، تو یہ خدائی ہدایت کے بالمقابل وہ انسانی سرکشی ہے اور دینِ انبیا سے ’عقل‘ اور ’دانش‘ کے نام پر انسان کا وہ جاہلانہ تصادم ہے جو آج بھی مغربی تہذیب کا عنصر اولین مانا جاتا ہے۔

٭٭٭٭٭