
|
|
|
|
شرعی ضوابط کا التزام ناگزیر تر ہے جہاد ایک اجتماعی عمل ہے نہ کہ انفرادی فریضہ۔ یہ ’فرد‘ پر واجب ضرور ہے مگر ایک ’اجتماعی صورت‘ میں ہی۔ الامام جنۃ یقاتل من ورائہ۔ (1) اصل یہی ہے کہ امت ایک ’امام‘ (مستحکم قیادت consolidated power ) رکھے جو ’شوریٰ ‘کے سب شرعی تقاضے پورا کرتے ہوئے امت کے حق میں کسی بھی موقعہ پر ایک بہترین اقدام کرے۔ کسی محاذ کا کھولنا یا نہ کھولنا اسی کے فیصلے سے طے ہو اور کوئی بھی اقدام جو پوری امت کو یا امت کے ایک پورے خطے کو متاثر کردینے کے مضمرات کا حامل ہو، کسی ایک فرد یا ٹولے کی صوابدید نہ ہو۔ البتہ ’امام‘ (خلیفہ) کسی وقت موجود نہ ہو، مگر ’خِطوں کے امراء‘ پائے جاتے ہوں تو امت کے معتمد اہل علم کا یہ تعامل رہا ہے کہ ایسے اجتماعی فیصلوں کا اختیار وہ ’خطوں کے امراء‘ کو دیتے رہے ہیں اور عوام المسلمین کو انہی کا پابند رکھتے رہے ہیں۔کیونکہ امت پر ایسے دور بہر حال آتے رہے ہیں جب امام (خلیفہ) موجودنہ ہو یا پھر خلیفہ اپنے اثر و نفوذ اور تاثیرِ فیصلہ کے معاملہ میں برائے نام حیثیت رکھتا ہو، جبکہ تحفظِ اراضی کے معاملہ میں امت کے مصالح، خلیفہ کے وجود میں آنے یا قوت پانے تک، معطل نہ رکھے جاسکتے تھے (وہ لوگ البتہ قابل ترس ہیں جو مسلمانوں کے گھروں کے تحفظ کیلئے ”خلیفہ“ کے پائے جانے کی ’شرط‘ لگاتے ہیں!) آج جب نہ تو یہاں خلافت ہے اور نہ ’خطوں کے امراء‘ جو کوئی شرعی اعتبار رکھتے ہوں، جبکہ مصالحِ امت کی تعطیل آج بھی ممکن نہیں، ایسے اجتماعی نوعیت کے فیصلے کرنے کا اختیار کسی کے پاس رہ گیا ہے تو وہ امت کی ”علمی قیادت“ ہے۔ (2)اور ان فیصلوں اور فتووں کی بنیاد پر، کہیں پر قتال کی عملی صورت درست ہے تو وہ وقت کی منظم اہلسنت قوتیں ہیں جن کو عمومی طور پر علمائے اہلسنت کا اعتبار حاصل ہو۔ پس امت کے اعلیٰ سطح کے علماءاور اہل الرائے ہی، ایک بڑی تعداد میں، جب کسی خطے کے اندر مسلمانوں کو ہتھیار اٹھانے کی ہدایت کریں اور اس پر باقاعدہ ”فتاویٰ“ جاری کریں، جس پر کہ کبھی ممکن نہیں کہ امت کے دیندار طبقے یک آواز نہ ہو جائیں، تب اور صرف تب یہ جائز ہوگا کہ وہاں قتل و قتال اور ’خون‘ بہنے کا عمل شروع ہو۔ بصورتِ دیگر ایک ’خون‘ کا نا حق بہہ جانا بھی گناہِ عظیم ہے، چاہے ’آدمی‘ کتنا ہی یہ سمجھے کہ کسی جگہ جہاد ’واجب‘ ہوچکا ہے۔
ہر شخص پر
واضح ہو کہ اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر ایک ’خون‘ کی بابت جواب دینا بھی
کسی کیلئے آسان نہ ہوگا، کجا یہ کہ کسی کے غیر ذمہ دارانہ اقدام سے امت
کے ہزاروں مخلص نفوس جنگ میں جھونک دیئے جائیں، ہزاروں کے حساب سے خون
بہیں، لاکھوں بے گھر، بچے یتیم اور عورتیں بیوہ و بے آسرا ہوںاور نسلوں
کی نسلیں ہجرت کی سختیاں جھیلیں اورصلیبی ’این جی اوز‘ کی دست نگر،
’خیمہ بستیوں‘ میں پل کر جوان ہوں۔ کسی ’غیر عالم‘ کا حدیث یا فقہ کی کوئی کتاب کھول کر یا کوئی ایک آدھ ’کتابچہ‘ پڑھ کر اور اس کی دلیلوں سے متاثر ہوکر کہیں پر ’مشروعیتِ جہاد‘ کا فتویٰ دے ڈالنا ہرگز ہمارے دین میں کوئی گنجائش نہیں رکھتا۔ ’غیر عالم‘ کا کام محض اتباع ہے نہ کہ افتاءاور ارشاد۔ حتیٰ کہ آدمی اگر عالم بھی ہو، ایسا فیصلہ جو نسلوں کو متاثر کرنے والا ہو اور ہزاروں ارواح اور نفوس اس کی زد میں آسکتے ہوں، اور بلا شبہہ کہیں پر جہاد شروع کرا دینا ایک ایسا ہی دور رس اور اجتماعی فیصلہ ہے، تو اِس امر کیلئے کسی ایک آدھ عالم کا فتویٰ پھر بھی کافی نہیں۔ اس کیلئے علماءکا ایک جمعِ غفیر چاہیے،جن کے فتویٰ پر امت کے اہل دین طبقے یک آواز ہو سکتے ہوں اور وہ اپنی تاثیر میں اس بات کی ضمانت ہو کہ کسی محاذ کی بابت امت اپنی رائے میں منقسم و متنازع نہ ہو۔ کیونکہ ایک ایسا محاذ جو امت کے اہلِ دین طبقوں میں نزاعی بن گیا ہو، وہ دشمن کو ایک کاری وار کر دینے کا ایک زبر دست موقعہ فراہم کرتا ہے، بلکہ بعید نہیں دشمن اس خطرناک رخنہ کو استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کی صف پھاڑ کر رکھ دے اور ان کو ایک شدید حالتِ انتشار کے اندر جھونک دے، جس کے نتیجے میں امت کا ایک بھاری نقصان ہونا اسٹریٹیجی کے حساب سے یقینی ہے، علاوہ ان نقصانات کے جن کا اوپر ذکر ہوا، یعنی جانوں کاضیاع، وسائل کا اجاڑا، گھروں کی تباہی اور نسلوں کی ویرانگی۔ ٭٭٭٭٭
کوئی شک
شبہہ نہیں کہ یہاں حاکمیتِ غیر اللہ کا نظام قائم ہے، جس کا برقرار
رہنا یہاں کی اقوام کے حق میں ایک گناہ اور ایک ظلم ہے، اور جس پر راضی
ہوجانا ایمان ہی کے منافی ہے۔ مگر حق یہ ہے کہ اندریں حالات یہ ”دعوت“
کا موضوع ہے اور ابھی بڑی دیر تک اس کو معاشرے پر واضح ہی کیا جانا
ہے.... اس رجحان کے پھیلنے سے ”مسئلہء حاکمیت“ کا اس کے اپنے ہی خیر خواہوں کے ہاتھوں جو نقصان ہوگا وہ یہ کہ لوگ اس مسئلہ کو ’جذباتی نوجوانوں کا عام کردہ ایک مسئلہ‘ کے طور پر دیکھیں اور اس کا علمی وزن کرنے کی یہاں نوبت ہی نہ آنے دی جائے۔ خصوصا جبکہ ”مسئلہء حقیقتِ ایمان“ اور ”مسئلہء حاکمیت“ یہاں کی ارجائی دنیا میں تاحال شدت سے ضرورتمند ہے کہ اس کا ایک کافی شافی بیان ہو اور اس پر پائے جانے والے شبہات کا ایک بھر پور ازالہ ہو۔ ہم جانتے ہیں یہاں کے علمی وفکری حلقوں کے اندر اس مسئلہ کو پزیرائی دلائی جانا ابھی باقی ہے۔ اس ساری محنت کے بغیر ہی اب اگر موضوعِ بحث، ’مسئلہء حاکمیت‘ سے سرک کر ’حاکمیت کی بنیاد پر قتال‘ پہ آرہتا ہے تو اس سے فکر ارجاءکے داعی خود بخود موقعہ پائیں گے کہ ”توحیدِ حاکمیت“ کے گرد پیچیدگیوں اور ’اندیشوں‘ کا پورا ایک جال بن دیں۔یوں یہ مسئلہ عین اپنی ابتدا میں ہی یہاں کے علمی وفکری حلقوں میں اپنے اوپر دروازے پوری طرح بند پائے۔ حق یہ ہے کہ برصغیر کی فکری دنیا میں ’ارجاء‘ کے پاؤں تلے سے بساط کھینچ لی جانے کا اس وقت ایک زبردست موقعہ ہے، بشرطیکہ اس مسئلہ کو یہاں کچھ وقت دیا جائے اور ایک طبعی رفتار کے ساتھ پھیلنے کا موقعہ فراہم کیا جائے، اور اس کے بیان پر پورا زور صرف کردیا جائے، جس کے دوران ذہنوں کی ترکیز ’مسئلہء حاکمیت‘ پر رہے نہ کہ ’حاکمیت کی بنیاد پہ قتال‘ پر۔پھر، ایسا کرتے ہوئے ہم کوئی مصالحت compromise بھی نہیں کر رہے۔ وہ سب اہل علم، جو مسئلہء حاکمیت پر ایک مرجع کی حیثیت رکھتے ہیں، شہادت دیں گے کہ کسی نظام کا کفر یا طاغوت ہونا اس بات کو لازم نہیں کہ اگلے لمحے اس کے خلاف مسلح جہاد کا اعلان کردیا جائے۔ اہل علم کے نزدیک یہ بالکل ممکن اور جائز ہے کہ ’مسئلہء قتال‘ کو ’تکفیرِ نظام‘ کے مسئلہ سے الگ کرکے دیکھا اور پڑھا پڑھایا جائے، خصوصا جبکہ اس بات کی اشد ضرورت ہو کہ معاشرے کو ذہن سازی کے ایک زوردار عمل سے گزارا جائے، جس کے نتیجے میںہوسکتا ہے یہاں کے بہت سے صاحب اثر و رسوخ طبقے اس دعوت کے ہم نوا بنیں اور یوں جاہلیت کے پیروں تلے سے قتال کے بغیر ہی زمین بڑی حد تک کھینچ لی جائے، کم از کم اس عمل کو کامیاب ہونے کا ایک بھر پور موقعہ ضرور دیا جائے۔ علاوہ ازیں، فقہائے اہلسنت کے ہاں اگر کہیں ’الطائفۃ الممتنعۃ‘ (5) سے قتال کے جواز کی کی بات ہوئی ہے تو وہ بھی اسی باب سے ہے، یعنی یہ قتال کے اصولی جواز سے متعلق ہے نہ کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جہاں کہیں کوئی ایسا طبقہ یا گروہ یا ریاست پائی جائے جو احکامِ شریعت سے سرتابی کرے، وہاں ہر شخص ’اعلانِ جہاد‘ کر دینے کا آپ سے آپ مجاز ہوجاتا ہے! اصولی طور پر کہیں پر قتال کے جواز کا شرعی سبب پایا جائے تو بھی یہ فیصلہ کرنا کہ وہاں مسلمانوں کو بالفعل ہتھیار اٹھانے کی ہدایت کردی جائے، مسلمانوں کے اہل علم اور اہل حل و عقد ہی کا حق ہے، اور عامۃ المسلمین پر ہر حال میں انہی کی اطاعت لازم۔ یہ ایک اصولی مسئلہ ہے کہ کہیں پر اگر ”قتال کے شرعی اسباب اور بواعث“ پائے جاتے ہیں تو ہو سکتا ہے وہاں پر ہی ”قتال کے کچھ شرعی موانع اور اندیشے“ بھی پائے جاتے ہوں۔ اب یہ بات کہ آیا کہیں پر ”قتال کے بواعث“، ”قتال کے موانع“ پر مقدم ہیں یا پھر ”موانع“، ”بواعث“ پر.... اس بات کا فیصلہ وہاں پائے جانے والے ”مصالح“ اور ”مفاسد“ کے موازنہ پر منحصر ہوگا، جوکہ امت کی علمی و شرعی قیادتیں ہی کرسکتی ہیں۔ حتیٰ کہ ”مصالح“ میں، جوکہ بیشمار ہوسکتے ہیں کونسی ”مصلحت“ امت کے دور رس مفاد کی روشنی میں ”چھوٹی مصلحت“ ہے اور کونسی بڑی.... پھر ”مفاسد“ میں کونسی ”مفسدت“، امت کو لاحق ہوسکنے والے قریبی و دور رس نقصانات کو سامنے رکھتے ہوئے، ”بڑی مفسدت“ ہے اور کونسی چھوٹی.... یہ فیصلہ کرنا باقاعدہ ایک اجتہاد ہے، جبکہ ہم جانتے ہیں اسلام میں ہر کوئی اجتہاد کا مجاز نہیں، بلکہ مسلم معاشرے کے اندر یہ صرف اور صرف خاص صلاحیت رکھنے والوں کا ہی مسلمہ حق ہے۔ پس ہمارے ان نوجوانوں پر یہ واضح ہو، جن کو اللہ تعالیٰ نے یہاں منہجِ اہلسنت کے نشر وابلاغ کی توفیق دی ہے، کہ وہ بہت سا لٹریچر جو اس وقت ”حاکمیت“ اور ”ردِ ارجاء“ کے موضوع پر عرب علماء، خصوصاً علمائے نجد، کے ذخیرہ سے ترجمہ کی صورت میں ہمارے اردو خواں طبقہ کیلئے عام کیا جارہا ہے، اور بلا شبہہ ہمارے اس ماحول میں یہ ایک بے حد ضروری اور فائدہ مند پیشرفت ہے.... ہمارے ان سب نوجوانوں پر واضح ہو کہ عقیدہء اہلسنت کے یہ سب مباحث در اصل کچھ ”اصولی مباحث“ ہیں جن کا فہم عام کیا جانا بلا شبہہ اس وقت ضروری ہے، البتہ اندریں حالات ان مباحث کی تطبیقapplication ، خصوصاً اگر اس ”تطبیق“ کی نوبت ”قتال“ تک جا پہنچتی ہے، ہمارے ان مخلص طبقوں کا حق نہیں جو ”علمائے امت“ کے زمرے میں نہیں آتے۔ بلکہ واضح رہے جب ہم اس ضمن میں ”علمائے امت“ کا لفظ بولتے ہیں تو اس سے مراد ہر وہ شخص نہیں جو شریعت کا کچھ علم رکھتا ہے، حتیٰ کہ وہ عالم بھی نہیں جو شریعت کے کچھ روایتی مسائل مانند صلوٰۃ و زکوٰۃ اور طہارت اور صیام پر فتویٰ دینے کا اہل ہے، جبکہ وہ امت اور معاشرہ کے معروضی حالات پر گہری نظر نہ رکھتا ہو، بلکہ اس سے مراد وہ اہلِ علم ہوں گے جن کی بابت دیگر اہلِ علم کی یہ باقاعدہ شہادت پائی جاتی ہو کہ امت کو پیش آنے والے معضلاتِ وقت کی بابت یہ شخص ”فتویٰ“ دینے کا پورا پورا اہل ہے۔ ٭٭٭٭٭
(1) ”امام ڈھال ہے جس کے
پیچھے رہ کر ہی قتال کیا جاتا ہے ، حدیث بروایت ابو ہریرہ ، صحیح
بخاری: کتاب الجہاد والسیر، باب یقاتل من وراءالامام ویتقیٰ بہ، صحیح
مسلم: کتاب الامارۃ، باب الامام جنۃ یقاتل من ورائہ ویتقیٰ بہ
(3) ”ارجاء“ سے مراد ہے
”عمل“ کو ”ایمان“کی حقیقت سے خارج اور ”اضافی چیز“ ماننا، یعنی ”ایمان“
کیلئے محض ’زبان کے اقرار‘ کو کافی جاننا۔ نتیجتا، اگر کوئی شخص ’کلمہ
گو‘ ہے مگر غیر اللہ کی شریعت و قانون کو ملک کے طول وعرض میں چلاتا
اور جاری وساری کر کے رکھتا ہے، یا شرک اور کفر کے کچھ اور ”اعمال“
کرتا ہے، تو فکر ارجاءکی رو سے وہ بدستور ”مومن“ ہے۔ اس فکر کے حاملین
کو اصطلاح میں ”مرجئہ“ کہتے ہیں۔ ارجاءاور مرجئہ کا عقیدہ اہلسنت کے
عقیدہ سے صاف متعارض ہے، جیسا کہ امام احمد بن حنبل، ابن تیمیہ اور
دیگر معروف ائمہء سنت کے بیان کردہ ”اصول ایمان“ سے واضح ہے۔ اس مسئلہ
پر تفصیل سے گفتگو کا گو یہ محل نہیں۔ |
||