سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ جنوری 2008

Download in PDF format

تکفیر معین کے ضوابط

حصہ اول

حصہ دوم
 

مؤلفہ: ابوالعلاءراشد
اُردو استفادہ: محمد زکریا
 

اہل قبلہ میں  سے کسی شخص کو متعین کرکے کافر کہنا ایک نہایت حساس نوعیت کا معاملہ ہے اور صرف اُمت کے جہابذہ علماءہی اس مسئلے سے عہدہ برآں ہونے کا حق رکھتے ہیں ۔ یوں  تو خیر القرون سے لے کر تادم تحریر اُمت مسلمہ عمومی طور پر اہل علم کی سرپرستی میں  ہی رہی ہے اور ہر دور میں  علماءکرام نے ہی گمراہ فرقوں  سے امت کو خبردار اور با خبر رکھنے کا فریضہ انجام دیا ہے۔ علماءنے ہی بعض گم راہ فرقوں  کو اہلسنت سے خارج کیا ہے تو بعض کو اُن کے کفریہ عقائد کی وجہ سے ملت اسلام سے ہی خارج کیا ہے۔جہاں کفر مطلق کا حکم لگتا تھا وہاں کفر عام کا حکم لگایا اور جہاں ضرورت تھی وہاں متعین کرکے اشخاص کی بھی تکفیر کی۔ اس کے ساتھ ساتھ اہل علم اس بات کا بھی برابراہتمام کرتے رہے کہ تکفیر معین کا مسئلہ عوام الناس کے ہاتھ میں  نہ جانے پائے۔ علاوہ ازیں  صحابہ کرام کے زریں  دور میں  ہی تکفیر مطلق اور تکفیر معین کے اصول ، شروط اور موانع مرتب ہو کر علمی حلقوں  میں  رواج پا گئے تھے۔ آنے والی نسلوں  نے اپنے سے پہلے گزرے ہوئے بہترین لوگوں  کی ہی پیروی کو اپنا وتیرہ بنائے رکھا، سلف کے چھوڑے ہوئے اصولوں  سے ہی اپنے زمانے میں احکام برآمد کرتے رہے اور سلف کے آثار اور اُن کی روایات کو اپنے الفاظ میں قلم بند کرتے رہے۔ تکفیر معین کے سلسلے میں  سلف کے اصولوں  کو پیش کرنے کے لیے ہی ہم نے مذکورہ بالا کتاب سے منتخب موضوعات کا انتخاب کیا ہے۔صاحب کتاب نے خود ان اصولوں  کو شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور محمد بن عبد الوہاب رحمۃ اللہ علیہ کی تالیفات سے مرتب کیا ہے کیوں کہ جس خوبصورت اور تکنیکی پیرائے میں  اس مسئلے کو اِن دونوں  اماموں  نے بیان کیا ہے وہ ہمارے اس مضمون کی ضرورت کوپورا کر دیتا ہے اگرچہ اصل مصادرکی حیثیت سلف صالحین کے چھوڑے ہوئے ترکے کو ہی حاصل رہے گی۔

امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  نے اپنی تالیفات میں  بہ کثرت سے اس اصول کو بیان کیا ہے کہ تکفیر معین کیلئے ضروری ہے کہ اہل علم نے جو شرطیں  بتلائی ہیں  وہ پوری ہوں  اور ’موانع‘ زائل ہوں ۔ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : بلاشبہ کتاب وسنت میں  جہنم کی وعید(شقاوت) کی بابت جتنی نصوص پائی جاتی ہیں  اور اسی طرح وہ امور کہ جن سے تکفیر یا کسی کو ’فسق‘ پر سمجھا جاتا ہے، وہ سب کی سب عمومی معنی میں  رہیں  گی ۔ (مجموع الفتاوی: 372/10)

امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  کی تالیفات اس مذکورہ بالا قاعدے کی تکرار اور شرح و بسط سے بھری پڑی ہیں ۔ امام صاحب ’شرح حدیث جبریل والایمان الاوسط‘ کے صفحہ 572۔573 میں  لکھتے ہیں : عمومی تکفیر کا وہی اصول اور قاعدہ ہے جو عمومی یا مطلق طور پر جہنم کی وعید کیلئے بیان ہوا ہے۔ اس بابت جتنی نصوص پائی جاتی ہیں  انہیں  عموم پر اور مطلق طور پر لیا جائے گا۔جب کبھی کسی شخص میں  ایسا وصف پایا جائے کہ جس کیلئے کفر یا جہنم کی وعید نصوص میں  آئی ہو تو وہ اُس شخص پر اُس وقت تک لاگو نہ ہو گی جب تک اس باب میں  جو شروط مذکور ہوئی ہیں ، وہ پوری نہ ہو جائیں اور وہ تمام موانع بھی زائل نہ ہو جائیں  کہ جن کا اہل علم نے اعتبار کیا ہے۔

وہ فرماتے ہیں  کہ اہل بدعت (1)کی تکفیر کی بابت بھی یہی اصول ہے جسے (کم علم فقہاءکی) اکثریت نہیں  سمجھ پائی ۔قاعدہ یہ ہے کہ جب کبھی کسی شخص کو متعین کر کے اس کی تکفیر کرنا ہو تو اس کیلئے چند شروط ہیں  اور چند موانع، شروط کا پایا جانا اُس کے حق میں  ضروری ہے تو موانع کا زائل ہونا لازمی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جن نصوص میں  تکفیر کا بیان ہوا ہے وہ عمومی اور مطلق ہیں ۔ (یہ تسلیم شدہ قاعدہ ہے کہ) عمومی اور مطلق احکام جب کسی پر ثابت کئے جائیں  گے تو اس کی چند شروط ہیں  جن کا اعتبار کیا جاتا ہے اور چند موانع ہیں  جن کا زائل ہونا ضروری ہے ۔ (بصورت دیگر نصوص کواپنے عموم پر ہی رہنے دیا جائے گا) یہی وجہ ہے کہ ائمہ کرام نے بعض بدعتی فرقوں  کی عمومی تکفیر کی ہے لیکن ایسا کم ہی ہوا ہے کہ جس شخص سے وہ بدعت سرزد ہو (کہ جسے اہل علم نے پہلے سے ہی کفر قرار دے رکھا ہو) اُسے متعین کرکے کافر بھی کہہ دیتے ہوں ۔ اس قاعدے کو امام احمد رحمۃ اللہ علیہ  اور دوسرے سب ائمہ کرام نے بیان کیا ہے۔ (مجموع الفتاوی: 488/12)

اہل بدعت کے ساتھ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ  کے طرز تعامل کو پیش کرتے ہوئے امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : یہ درست ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ  نے خلق قرآن کی بدعت کے مرتکبین میں  سے بعض افراد کی متعین طور پر تکفیر کی تھی، کچھ اہل علم کا یہ کہنا کہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ  سے خلق قرآن کی بدعت میں  مبتلا فرقے کے مرتکبیں  کی بابت دو روایتیں  بیان کی جاتی ہیں  (اول وہ کافر ہیں ، دوم وہ کافر نہیں  ہیں ) تو وہ دراصل مذکورہ بالا قاعدے کی وجہ سے دو روایتیں  لگتی ہیں ، دراصل امام احمد رحمۃ اللہ علیہ  نے جن جن اشخاص کی تکفیر کی تھی تو اُس کی وجہ اُن اشخاص میں  وہ شروط پوری ہو گئی تھیں  جو تکفیر معین کیلئے ضروری ہیں  اور جن جن اشخاص کی تکفیر نہیں کی تھی، درآنحالیکہ وہ بھی اُسی بات کے قائل تھے کہ جن کی وجہ سے بعض اشخاص کی تکفیر کی تھی تو اُس کی وجہ امام صاحب کے نزدیک شرعی’ موانع‘ تھے کہ جو ان اشخاص کے حق میں  زائل نہیں  ہوئے تھے۔ (مجموع الفتاوی 489/12)

مذکورہ بالا قاعدے کی روسے تکفیر کا حکم اپنے عموم پر ہی برقرار رہتا ہے، اس کا اسلوب یہ ہے کہ فلاں کام یا فلاں قول یافلاں عقیدہ کفر ہے خواہ ایسا شخص معاشرے میں  پایا ہی کیوں  نہ جاتا ہو۔ کفر معین کا حکم اُس وقت لگے گا جب کفریہ فعل یا قول جس شخصسے سرزد ہو اُس میں  تکفیر کے لاگو ہونے کی شروط مکمل طور پر پائی جائیں  اور جو امور تکفیر کا حکم لگانے میں  اہل علم کے ہاں رکاوٹ سمجھے جاتے ہیں  وہ زائل ہو جائیں ۔ شروط کا پورا ہونا اور موانع کا زائل ہوناتکفیر معین کے لیے شرط ہے۔ تکفیر معین کا انحصار دو باتوں  پر ہے:
(اول) جس شخص کی تکفیر کرنا زیر غور ہو وہ عاقل، بالغ ہو، کفریہ فعل کا ارتکاب پورے ارادے سے اپنی آزاد مرضی سے (بلا اکراہ وجبر) کرے۔

(دوم) فعل یا قول جو اس سے سرزد ہوا ہے اُس کی نوعیت ایسی ہو کہ شریعت کی رو سے اُس فعل یا قول کا ازقسم کفر اکبر یا شرک اکبر میں  سے ہونا ثابت ہو اور اہل علم نے اُسے کفر پر محمول کیا ہو، ایسا کفر کہ جس کا مرتکب کافر ہو کر ملت اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ مزید برآں ایسا کفریہ فعل یا قول واضح طور پر سرزد ہوا ہو اور کسی تاویل یا دوسرے احتمالات کی گنجائش نہ رکھتا ہو، جیسے کوئی شخص کسی بزرگ ہستی کا نام لے کر اسے پکارے اور کہے: مجھے بچا لے! مجھے رزق سے سرفراز کردے! میں  تیری پناہ میں  آتا ہوں  اورمیں  تیری مددکا طلب گار ہوں ۔ یہ مثال ہے اقوال کی اور جہاں تک افعال کا تعلق ہے تو جیسے کوئی قرآن مجید کو عمداً بہ غرض اہانت کے گھورے اور گندگی میں  پھینک دے اور اُسے معلوم ہو کہ یہ کتاب جسے وہ پھینک رہا ہے وہ قرآن مجید ہے۔(والعیاذ باﷲ مِن ذلک)بسا اوقات متکلم صریح کفریہ الفاظ توادا نہیں  کرتامگر اُن کی دلالت سے کفر پھر بھی لازم آتا ہے۔ ایسے الفاظ جب کسی سے ظاہر ہوں  تو اہل علم احتیاط کرتے ہیں  تاآنکہ یہ واضح ہو جائے کہ اِن الفاظ کی کفر پر مبنی دلالت ہی صاحب کلام کی اصل غرض تھی۔اس کے علاوہ علماءنے بعض افعال ایسے بیان کئے ہیں  جن میں  غیر اللہ کی عبادت کا بھی احتمال پایا جاتاہے اور اللہ کی عبادت کا بھی، جیسے کوئی شخص قبلہ رو ہو کر اس طرح نماز پڑھے کہ قبلہ اور اُس کے درمیان آگ (کی انگھیٹی) رکھی ہو یا کسی بزرگ کی قبر ہو۔ اب یہاں حکم لگانے کیلئے ضروری ہے کہ نماز پڑھنے والے کے حالات سے مکمل آگاہی حاصل کی جائے۔ کیا وہ ایسا شخص ہے کہ جس پر اہل ایمان کو اطمینان ہے کہ وہ نیک و کار اور خیراندیش ہے یا ایسا شخص ہے کہ اُس کے ایمان لانے پر مسلمانوں  کو اطمینان نہیں  ہے اور اسلام لانے سے پہلے وہ مجوسی رہا ہو یا بتوں  اور قبروں  کا مجاور رہا ہو اور دِل میں  اپنے پرانے عقیدے اور تصورات کو بسائے ہوئے ظاہری طور پر نمازیں  پڑھتا ہے۔ اس مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر ہی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  نے اپنی صحیح میں  ایک باب باندھا ہے:باب من صلّی و قدامہ تنور او نار او شیء  ما یُعَبَدُ فاراد لہ اﷲ ۔ (2)

تکفیر معین کیلئے دوسری شرط یہ ہے کہ اُس متعلقہ شخص کی بابت کفر یا ارتداد کا ثبوت شریعت کی رو سے مکمل شروط کے ساتھ ثابت ہو اور شہادت کے تمام تقاضے پورے ہو جائیں ، اُس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت نے دُنیا میں  کسی شخص پر کوئی حکم لگانے کیلئے ایک طریقہ وضع کیا ہے جس میں  زبان سے اقرار یا گواہی کو پورا ہونا اور اس قسم کے دوسرے ثابت کرنے والے امور کا پایا جانا ضروری ہے۔

جہاں تک ارتداد کا تعلق ہے تو اس کے لاگو ہونے کیلئے یا تو کفریہ قول یا فعل کا مرتکب خود اقرار کرے یا پھر مسلمانوں  میں  سے دو مرد عادل گواہ ایسے کفریہ فعل یا قول کی گواہی دیں ، ارتداد کے ثابت ہونے کیلئے اہل علم کے ہاں دو عادل مرد کی گواہی کافی ہے، اس میں  اختلاف صرف امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ  سے مروی ہے۔ (المغنی مع شرح الکبیر 99/10)نیز ارتداد کے لیے پیش کی جانے والی شہادتوں  کے احوال سے مکمل اور مفصل آگاہی حاصل کی جائے گی اور مختصر الفاظ میں  بیان کی گئی شہادت معتبر نہیں  ہوگی۔ سرسری انداز میں  پیش کی جانے والی گواہی میں  ارتداد کے واقع ہونے یا محض شبہ لگنے کے دونوں  باتوں  کا امکان ہے، اس لئے شہادت لیتے ہوئے پوری تفصیلات جاننے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

تبصرۃ الحکام میں  قاضی برھان الدین رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : مجمل الفاظ سے ارتداد ثابت نہیں  ہوتا، جیسے کوئی اس طرح گواہی دے کہ فلاں شخص کافر ہو گیا ہے یا مرتد ہو گیا ہے۔ عدالت گواہوں  سے تفصیلات مانگے گی کہ کیا دیکھ کر اور کیا سن کر انہوں  نے فلاں شخص کو کافر کہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام لوگ کسی ایسے فعل یا قول کو کفر پر محمول کر لیتے ہیں  جو ازروئے شریعت کفر یا ارتداد میں  نہیں  آتا۔

جہاں تک اُن امور کا تعلق ہے جن کے زائل ہونے تک کسی متعین شخص پر کفر کا حکم نہیں  لگ سکتا تو ان ’موانع‘ کو شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  نے اس طرح بیان کیا ہے: تکفیر کے حکم میں  رکاوٹ پیدا کرنے والے امور تین ہیں :

(اول) مرتکب کے حالات کا علم ہونا ۔ کسی کا شرعی حکم سے جاہل ہونا یا غلطی لگنا یا تاویل کرنا یا اس بات کا اطمینان کرنا کہ اُس پر کوئی جبر اور اکراہ تو نہیں  تھا۔

(دوم) جس فعل یا قول کی وجہ سے ارتداد کا حکم لگانا مقصود ہو اُس کی نوعیت صریح کفر کی نہ ہو اور وہ قطعی دلیل سے ثابت نہ ہوتا ہو۔

(سوم) شہادتیں  پوری نہ ہوں ، مثال کے طور پر کم از کم گواہوں  میں  سے کوئی ایک شہادت کا اہل نہ ہو، مثلاً گواہ مرد کی بجائے عورت یا نابالغ لڑکا ہو۔یاایک گواہ فاسق ہو یا کوئی ایسی بات جو شہادت کے معیار پر پوری نہ اترتی ہو۔

جب تک مذکورہ بالا موانع تکفیر زائل نہ ہو جائیں ، مثال کے طور پر اگر کفر کا سبب اُس فعل یا قول سے جاہل ہونا تھا تو اُس کی جہالت دُور کی جائے گی۔ اصطلاح میں اسے حجت تمام کرنا کہتے ہیں  ۔ جہالت کا عذر دور ہونے کے بعد اگر وہ اپنے کفریا فعل یا قول پر مصر رہتا ہے تو پھر اُس پر ارتداد کا حکم لگے گا اسی طرح دوسرے دو موانع بھی زائل کرنا ضروری ہو گا۔ بنا بریں  موانع جب تک زائل نہ ہو جائیں  تو ارتداد کا حکم ثابت نہیں  ہوگا۔

٭٭٭٭٭

تکفیر معین کیلئے قیام حجت کی شرط:

قیام حجت تمام اہل علم کے نزدیک تکفیر معین کیلئے لازمی شرط ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں کہ :حجت کتاب وسنت کے ابلاغ سے پوری ہو جاتی ہے۔ قیام حجت کی تفصیلات کے بیان میں  ایک جگہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں : شرک ایک ایسا جرم ہے کہ اگر کسی شخص سے سرزد ہو جائے اور اُس شخص پر حجت تمام ہو جائے تو اُسے قتل کردیا جائے گا جبکہ وہ شرک سے تائب ہونے پر تیار نہ ہو، جس طرح اہل شرک سے جہاد کرنا اور انہیں  قتل کرنا واجب ہے اُسی طرح حجت کے تمام ہونے کے بعد فرد بھی واجب القتل ہوتا ہے۔ اگر شرک کا مرتکب پہلے اہل اسلام میں  سے تھا تو اُسے مسلمانوں  کے قبرستان میں  دفن نہیں  کیا جائے گا، نہ اس کی نماز جنازہ ہی پڑھائی جائے گی۔ اگر معلوم ہو کہ وہ ایسے فعل یا قول کے مبنی برشرک ہونے سے ہی جاہل تھا اوراسے علم حاصل ہونے کا موقع بھی نہیں  ملا تھا اور اُس پر یہ بات کھل ہی نہ سکی کہ وہ بعینہ وہ اقوال یا افعال کر رہا ہے کہ جن کو مٹانے کے لیے نبی علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے اور اسی وجہ سے اہل شرک کے خلاف جہاد کرتے رہے تھے۔اگر صورت حال یہی ہو تو ایسے جاہل پر تکفیر کا حکم نہیں  لگایا جا ئے گا (تاآنکہ اس پر حجت قائم نہ ہو جائے)۔ (جامع المسائل 151/3)

مجموع الفتاوی میں  لکھتے ہیں : حجت کا قیام کتاب وسنت کے(اجمالی)بیان سے پورا ہو جاتا ہے۔ ایسا شخص جو کتاب وسنت سے ثابت شدہ ایک حکم کے مخالف کام کرتا ہے تو وہ تین میں  سے ایک صنف میں  ضرور داخل ہو جاتا ہے، یا تو وہ کافر ہو جائے گا، یا پھر فاسق ہو گا یا پھر عاصی اور گناہگار، ہاں اگر وہ شخص صاجب علم ہے اور اجتہاد کے درجے پر پہنچا ہوا ہے اوراپنے اجتہاد کے ذریعے وہ جس نتیجے پر پہنچا ہے وہ ہے تو شریعت کی مخالفت میں (مگر اس کے نزدیک وہ شریعت سے ہی ثابت ہو رہا ہوتا ہے)ایسی صورت میں  اُس شخص کو غلطی پر ضرور سمجھا جائے گا مگر مجتہد مخطئی ہونے کی وجہ سے اسے اپنے اجتہاد پر ایک اجر بھی ملے گا۔ رہا وہ شخص جو اس بات سے ہی جاہل تھا کہ اُس کا کوئی قول یا عمل شریعت کے مخالف ہے یا نہیں  تو مذکورہ بالا تینوں  احکام میں  سے کوئی ایک حکم بھی اُس پر لاگو نہیں  ہوگا۔ اُس تک وہ علم ہی نہیں  پہنچا جس سے کسی شخص پر حجت تمام ہوتی ہے ۔ ہاں اگر کتاب وسنت کے ذریعے سے حجت تمام ہو جاتی ہے اور وہ پھر بھی اپنے قول یا فعل پر مصر رہتا ہے تو پھر شریعت کی مخالفت کے بہ موجب قتل یا اس سے کم جو بھی اہل علم سزا تجویز کریں  گے وہ اُس کا سزاوار سمجھا جائے گا۔ (جلد اول، ص 113)

اللہ تعالیٰ کے اسماءوصفات کے جو فرقے یا افراد منکر ہیں  جیسے اللہ کی صفت ’عُلُو‘ کا انکار ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کے رسول کی بتلائی ہوئی بات کو جھٹلا رہا ہے جو اصل میں  تو کفر کو لازم کرتا ہے لیکن قاعدہ یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں  کہ ہر کفر کہنے والا کافر بھی ہو جائے کیونکہ کافر ہونے کیلئے حجت کا اس طور پر پورا ہونا ضروری ہے کہ جس کے بعد اہل علم اُس جیسے شخص کی تکفیر کردیتے ہوں ۔در اصل حجت تمام ہونے کے بعد ہی تکفیر کا حکم لاگو ہوتا ہے۔ (مجموع الفتاوی 306/5)

اللہ کو چھوڑ کر کسی کو غوث کہنا یا سمجھناجسے شرعی اصطلاح میں  ’استغاثہ‘کہتے ہیں  تو ایسے شخص کی بابت امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  مجموع الفتاوی کی جلد 1 ص 12 پر لکھتے ہیں : جو شخص غیر اللہ کیلئے ایسی صفت کا اثبات کرے جو صرف اللہ وحدہ کیلئے سزاوار ہے تو وہ کافر ہو جاتا ہے بشرطیکہ اُس پر اس طرح حجت تمام ہو جائے کہ اُس کے بعد عموماً ایسے افراد کی تکفیر کر دی جاتی ہو۔

آگے چل کر وہ جلد 4 ص 501 پر لکھتے ہیں : یہی وجہ ہے کہ اہل علم نو مسلم کی تکفیر نہیں  کرتے جبکہ وہ کسی حرام چیز کو حلال کہتا ہو اور وہ نیا نیا اسلام میں  داخل ہوا ہو، یا پھر ایسا مسلمان جو دور دراز علاقوں  کا باسی ہو اور وہاں شرعی علوم عام نہ ہوئے ہوں  تو اُس کا بھی کسی حرام کو حلال کہنا موجب تکفیر نہیں  ہوتاکیونکہ تکفیر کیلئے بلاغ کی شرط لازمی ہے۔

مذکورہ بالا اقتباسات کے بعد یہ جان لینا بھی ازحد ضروری ہے کہ اہل علم کے نزدیک حجت کب پوری ہوتی ہے۔

اس بابت اہل علم کا اس بات پر پر اتفاق ہے کہ اتمام حجت کیلئے یہ شرط نہیں  ہے کہ وہ ہر ایک کو پوری طرح سمجھ بھی آجائے۔ اتنا کافی ہے کہ کتاب وسنت کی نصوص کو مناسب انداز سے بیان کردیا گیا ہو اور مخاطب (فاتر العقل) نہ ہوکسی کا صاحب عقل ہو نا حجت کے بلاغ کیلئے کافی ہے۔ اگر فہم اور سمجھ کی شرط بھی لگا دی جائے تو شریعت کے بہت سے احکام معطل ہو کر رہ جائیں  گے اور صرف اُس شخص کے بارے میں  حکم ثابت ہوگا جس کے انکار کی وجہ سرکشی ہو، لیکن کوئی اہل علم بھی ایسا نہیں  جو فہم حجت کو شرط قرار دیتا ہو۔ اہل علم فہم حجت کی شرط کے باطل ہونے کی متعدد مقامات پر وضاحت کرتے ہیں چناچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  کے فرمودات کو جن اصحاب نے صحیح طور پر نہیں  سمجھا، اُن کی بابت محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں : جسے اللہ کی کتاب کے ارشادات پہنچ گئے ہوں  اُس پر حجت پوری ہو جاتی ہے۔ اصل میں  یہ بات بہت سوں  کیلئے الجھن کا سبب بن گئی ہے کہ وہ قیام حجت اور فہم حجت کے لطیف فرق کو ملحوظ خاطر نہیں  رکھ سکے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ رسالت کے زمانے میں  بیشتر مشرکین اور منافقین ایسے تھے کہ جن پر قیام حجت تو ہو گیا تھا مگر وہ اُن نصوص کا ادراک نہیں  کر پائے تھے (اوور اس کے باوجود اُن سے قتال واجب تھا) سورت فرقان میں  بھی ایسی کیفیت کو بیان کی گیا ہے: أَمْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا (فرقان: 44) ”کیا تم سمجھتے ہو کہ اُن میں  سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ؟ یہ تو جانوروں  کی طرح ہیں ، بلکہ اُن سے بھی گئے گزرے“۔ امام محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ  کی یہ بات اُن کی کتاب ’مجموع موؤ لفاتہ‘ سے لی گئی ہے۔

اُن کی ایک اور کتاب ”الدرر السنیۃ“ میں  یہی بات اِن الفاظ سے مذکور ہے: دراصل قیام حجت ایک بات ہے اور ابلاغ عام ایک اور بات ہے۔ (نبی علیہ السلام کے زمانے میں  آپ کے ذریعے سے کافروں  پر) قیام حجت بھی ہو گیا تھا اورا بلاغ عام بھی، اسی بنا پر آپ نے ان کی تکفیر کی تھی، خواہ انہیں  اس ابلاغ عام کے بعد فہم حاصل ہوا تھا یا نہیں ۔

امام محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں  کہ شاید تمہیں  یہ بات سمجھنے میں  پریشانی ہو رہی ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس تاکیدی حکم پر غور کرو جس میں  آپ فرقہ خوارج کے بارے میں  فرماتے ہیں : اَینما لَقِیتُموھم فاقتلوھم، اُنہیں  جہاں پاؤ قتل کر دو۔( اُس وقت جب خوارج زور پکڑ لیں  گے تم) آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر اُن سے بڑھ کر بُرے مقتول اور کوئی نہیں  پاوؤ گے۔

بلاشبہ خوارج کو شریعت کا مفہوم حاصل ہونے میں  غلطی لگی تھی یعنی حجت تو تمام ہو گئی تھی لیکن وہ فہم حاصل نہ کر سکے۔ اب پہنچانے والے آپ اور آپ کے اصحاب تھے، عمل کرنے میں  خوارج ایسے نظم وضبط اور عبادات کو ایسے ڈھنگ سے کرتے تھے کہ صحابہ کی عبادات بہ بظاہر اُن سے کم لگتی تھیں  لیکن اُس کے باوجود آپ نے انہیں  قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا تھا حالانکہ خوارج فرقے کے لوگ اخلاص میں  کم نہ تھے اور نہ ہی عبادات سے پہلوتہی کرنے والے تھے ۔انہیں  فہم ہی کا تومغالطہ لگا تھا۔ ابلاغ میں  تو کوئی چوک نہیں  ہوئی تھی۔ اگر فہم کا حاصل ہونا بھی شرط ہوتا تو عقوبت اُن کے حق میں  واجب نہ ہوتی۔
امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  کی تالیفات میں  قیام حجت کا مفہوم کچھ کوتاہ بیں  حضرات کے ہاں یہ ٹھہرا ہے کہ حجت کا قیام یاابلاغ عام تب ہوتا ہے جب مخاطب کو اس کا فہم حاصل ہو جائے۔ محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ  ایسے حضرات کی غلط فہمی دور کرتے ہوئے بہ کثرت اس کا رد کرتے ہیں اور اس اصول کے غلط ہونے کو خود شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  کے اقوال سے ثابت کرتے ہیں  اور بار بار تاکید کرتے ہیں  کہ تکفیر معین کیلئے حجت کی شرط ہے فہم کی نہیں  ہے۔ وہ فرماتے ہیں  کہ اگر ہم اپنے معترض کی یہ بات تسلیم کرلیں  کہ حجت اس وقت پوری سمجھی جائے گی جب اُس کے ساتھ فہم بھی حاصل ہو تو یہ بات ایسی ہے جیسے کوئی کہے کہ ہر شخص پر حجت تب قائم ہوگی جب اسے اللہ اور اللہ کے رسول کے ارشادات کا ایسا فہم حاصل ہو جیسا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوا تھا۔ جس طرح یہ بات کوئی عاقل نہیں  کہہ سکتا، اُسی طرح حجت کیلئے فہم کی شرط لگانا لغو ہے۔

معاصر علماءکرام میں  سے محمد بن ناصر بن معمر فرماتے ہیں : جس شخص تک قرآن اور انبیاءکی (اجمالی) دعوت پہنچ گئی اُس پر حجت تمام ہو گئی ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:لأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ  (انعام: 19) یہ قرآن میری طرف بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے تاکہ تمہیں  اور جس جس کو یہ یہ پہنچے سب کو ڈرا دوں ۔
شیخ حمد رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں  کہ تمام علماءکرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پہنچ گئی اُس پر حجت پوری ہوگی۔ (فتاوی الائمۃ النجدیۃ)

وہ مزید فرماتے ہیں  کہ یہ اُن امور کی بابت ہے جو دین کے بڑے بڑے ظاہری اور جلی مسائل ہیں ۔ اِن امور کیلئے فہم کا حاصل ہونا شرط نہیں  ہے۔ وہ فرماتے ہیں  کہ اصول دین ایسے امور ہیں کہ ایک مرتبہ اللہ نے انہیں  اپنی کتاب میں  اتار دیا ہے، اب جسے بھی قرآن کی بنیادی تعلیمات معلوم ہو گئی ہیں  اُس پر حجت قائم ہوگی، اِس کیلئے فہم کا حاصل ہونا شرط نہیں  ہے کیونکہ اِس میں  لوگ متفاوت ہوتے ہیں  کسی کو اللہ کی توفیق سے فہم کا اعلیٰ درجہ حاصل ہوتا ہے اور کسی کی ایسی مت ماری جاتی ہے کہ اُسے ذرا سا فہم بھی حاصل نہیں  ہوتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَجَعَلْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا (انعام: 25) ”ہم نے اُن کے دِلوں  پر پردے ڈال رکھے ہیں  جن کی وجہ سے وہ اُس کو کچھ نہیں  سمجھتے اور اُن کے کانوں  میں  گرانی ڈال دی ہے (کہ سب کچھ سننے پر بھی کچھ نہیں  کہتے)“

اس مفہوم میں  بہت سی آیات پائی جاتی ہیں ۔ بلاشبہ کچھ لوگ فہم اس لئے نہیں  پا سکے کہ اللہ نے اُن کے دِلوں  پر پردے ڈالے ہوئے ہیں  اور کچھ کے دِلوں  پر مہر لگا رکھی ہوتی ہے۔ اس سب کے باوجود اللہ تبارک وتعالیٰ نے اُن کی تکفیر بھی کی ہے، اور اللہ سب سے زیادہ عدل کرنے اور رحم کرنے والا ہے۔ بنا بریں  حجت کا پورا ہونا ایک بات ہے اور فہم یا ادراک حاصل ہونا ایک اور بات ہے، دونوں  کو ایک کوتاہ بیں  ہی جمع کرتا ہے جبکہ فہم کی شرط کسی صاحب علم نے آج تک نہیں  لگائی ۔

شیخ اسحاق بن عبدالرحمن نجدی، فتاوی الائمۃ النجدیۃ میں  لکھتے ہیں : قرآن کے نزول اور رسول کی بعثت کے ساتھ حجت تمام ہو گئی ہے اب جو شخص آپ کی بعثت کا سنے یا قرآن کی دعوت اُس تک پہنچ گئی ہو تو اُس پر حجت بھی پوری ہو گئی، اِسی کلیے اور قاعدے کو امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  نے اپنی کتب میں  بیان کیا ہے۔

شیخ محمد بن ابراہیم آل شیخ فرماتے ہیں : وہ لوگ جو کسی شخص کو متعین کرکے تکفیر کرنے میں  توقف اختیار کرتے ہیں  ایسے امور کہ جن میں  دلیل نسبتاً گہرائی میں  جا کر حاصل ہوتی ہے تو یہ توقف کرنا اُس وقت تک درست ہے جب تک اُس پر دلیل کا وجود ثابت نہ ہو جائے کہ وہ وحی پر مبنی ہے اور اُس کی دلالت اُس پر واضح کردی جائے۔ جب یہ معلوم ہو جائے کہ شرعی حکم کی دلالت بیان کر دی گئی ہے اور مفہوم سمجھا دیا گیا ہے تو پھر اُسے کافر کہا جا سکتا ہے خواہ اُسے فہم حاصل ہوا ہو یا نہ ہوا ہو۔ یا وہ یہ کہتا ہو کہ مجھے سمجھ نہیں  آیا، یا سمجھ آگیا ہو اور پھر وہ محض ٹھٹھا کرنے کو کہے کہ میں  تو نہیں  سمجھ سکا۔ یاد رکھیں  کہ کفر کی صرف ایک قسم کفر عِناد ہے کہ جس میں  فہم حاصل ہونے کے بعد آدمی کفر پر ڈٹ جاتا ہے، کفر عناد کے علاوہ کفر کی اور بھی اقسام ہیں ۔ بس اتنا جان لینا تمہارے لئے کافی ہے کہ جس شخص کو یہ معلوم ہو گیا کہ محمد بن عبداللہ، اللہ کے رسول ہوتے ہیں  اور وہ انہیں  ماننے سے انکار کردے تو وہ کافر ہے، البتہ جو آدمی نیا نیا اسلام لایا ہو تو اُسے اسلام کے بارے میں  تفصیل سے آگاہ کیا جائے گا۔ (فتاوی شیخ محمد ابراہیم)
اتمام حجت اور فہم حجت کا موضوع اس وجہ سے اہم ہو گیا ہے کہ دؤد بن جرجیس نے امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  کے اصولوں  میں  سے اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ امام صاحب کے نزدیک اتمام حجت کیلئے فہم کا حاصل ہونا بھی شرط ہے۔ ائمہ نجد نے اس کا بھرپور رد کیا ہے ، اس سلسلے میں  شیخ سلیمان بن سحمان لکھتے ہیں : جہاں تک اس جاہل مرکب (دؤد بن جرجیس) عراقی کا یہ کہنا ہے کہ ”او لم یتمکن من معرفتہا وفھمہا کہ اُسے (شریعت کے کسی حکم کی) معرفت ہی حاصل نہ ہو سکی یا وہ بات سمجھ ہی نہ پایا“ تو اُس (عراقی) نے یہ بات اس لئے کی ہے کہ وہ قیام حجت اور فہم حجت کو ایک چیز سمجھتا ہے، درآں حالیکہ جس کو انبیاءکی (اجمال) دعوت معلوم ہو گئی تو اُس پر حجت تمام ہو گئی۔ دعوت کے پہنچنے کیلئے اتنا کافی ہے کہ اُس جیسے دوسرے اشخاص رسولوں  کی مجموعی دعوت کو جان چکے ہیں  اور اس خاص شخص کیلئے ایسی رکاوٹ بھی نہ ہو جو دعوت کے پہنچنے میں  معتبر رکاوٹ سمجھی جائے۔ جب واقعہ ایسا ہو تو اُس پر اتمام حجت ہو چکا کیونکہ دین (کے بنیادی تصورات کا )ابلاغ ایک چیز ہے جبکہ فہم حاصل ہونا یا نہ ہونا ایک اور چیز ہے۔ (’الضیاءالشارق فی الرد علی المازق المارق‘ ، ص 290 - 291)

اگلے باب میں  ہم اِس بات کا جائزہ لیں  گے کہ اسلام میں  کون کون سے تصورات اور عقائد یا اقوال عام فہم ہیں ،شرعی اصطلاح میں  انہیں  المسائل الظاھرۃ کہتے ہیں  اور کون کون سے امور مخفی (3)ہیں ۔

٭٭٭٭٭

دین کے وہ امور جنہیں  المسائل الظاھرۃ کہتے ہیں :

ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  اور دوسرے اہل علم تکفیر معین میں  دین کے ’عام فہم مسائل‘ جن کی تفصیل اگلی سطور میں  آرہی ہے اور ’مخفی مسائل‘ ان کی تفصیل بھی اگلی سطور میں  آئے گی، کے درمیان فرق کرتے ہیں ۔ اسفرق کی وجہ سے ہر وہ شخص جو دین کے معلوم یا عام فہم مسائل میں  شرک اور کفر کا ارتکاب کرتا ہے اور اُن پر حجت کا قیام ہو چکا ہو تو ایسے شخص کو متعین کرکے اُس کی تکفیر میں  اہل علم تردد نہیں  کرتے سوائے ان حالات کے کہ وہ نیا نیا دین اسلام میں  داخل ہوا ہو یا پھر مسلمانوں  کی بستیوں  سے بہت دور گنوار لوگوں  میں  رہتا ہو۔ جہاں تک کفریہ امور کے مخفی مسائل کا تعلق ہے تو ان کا مرتکب اُس وقت تک کافر نہیں  ہوتا جب تک اُس پردلیل واضح نہ کر دی جائے اور اُس کے شبہات دور نہ کر دیئے جائیں ۔ مسائل ظاہرہ اور مسائل مخفیہ کی تفصیل درج ذیل ہے اگرچہ دونوں  ہی کفریہ امور سے ہیں  لیکن اس کے باوجود اس میں  کچھ جلی اور واضح کفر پرمبنی امورہیں  اور کچھ گہرے اور تدبر کے بعد حاصل ہونے والے معانی ہوتے ہیں ۔
المسائل الظاہرۃ یہ ہیں :

(الف) وہ امور جو دین میں  ’المعلوم من الدین بالضرورۃ‘ کہلاتے ہیں  اور مسلمانوں  کے عوام اور علماءسب انہیں  جانتے ہیں ۔

(ب) المسائل الظاہرۃ محکم ہوتے ہیں  اور ان میں  شبہات کی گنجائش نہیں  ہوتی اور ان کی دلیل اِن پر اُمت کا اجماع ہوتا ہے۔ دین کے ان بنیادی امور میں  تاویل اور خلط مبحث کا امکان نہیں  ہوتا۔

(ج) دین کے یہ امور مسلمانوں  میں  نسل در نسل علماءسے عوام میں  رچے بسے ہوتے ہیں ۔
المسائل الظاھرۃ کی تحت درج ذیل امور آتے ہیں : عبادت کا حق صرف ایک اکیلے اللہ کا تسلیم کرنا اور اس میں  کسی اور کیلئے ذرا برابر گنجائش نہ رکھنا بلکہ دوسرے معبودوں  کی عبادت کا برملا انکار کرنا، اصطلاح میں  اسے توحید الوھیت کہتے ہیں ۔ کسی کا اسلام اُس وقت معتبر نہیں  ہوتا جب تک وہ اللہ اکیلے کی عبادت کا اقرار نہ کرے اور شرک سے اجتناب نہ کرے، توحید کی ضد ہے قبروں  کیلئے عبادت کے شعائر میں  سے کوئی عبادت کرنا جیسے نذر دینا، مدد طلب کرنا، قبروں  والوں  کو مخاطب کرکے اُن سے دُعائیں  اور التجائیں  کرنا اور اُن کیلئے قربانی اور نذرانے پیش کرنا۔

نماز پنجگانہ کی فرضیت کا معلوم ہونا، زکوٰۃ، حج، روزے جیسے فرائض کا علم ہونا کہ ان کی بجا آوری اُس پر فرض ہے اور یہ کہ بے حیائی اور فحاشی کے کام دین میں  حرام ہیں ، شراب، زناءاور سود حرام ہیں ۔ علاوہ ازیں  مندرجہ بالا عبادات اور حرام کاموں  کی تفصیلات میں  سے چند بے حد عام اور نسل در نسل منتقل ہونے والے امور ہیں ، جیسے نماز کیلئے طہارت کی شرط کا ہونا، نماز میں  بات چیت اور باہمی گفتگو کا حرام ہونا، روزے کی حالت میں  کھانا پینا ترک کرنا اور حج کیلئے احرام باندھنا وغیرہ۔

ان کے مقابلے میں  دوسرے امور المسائل الخفیہ کہلاتے ہیں ۔ ان کی تفصیل کچھ یوں  ہے۔

المسائل الخفیہ: جیسا کہ گزشتہ سطور میں  بتایا گیا ہے کہ ہمارے زیر بحث وہ امور ہیں  جو کفریہ نوعیت کے ہیں  لیکن المسائل الظاہرۃ کی نسبت یہ امور مخفی نوعیت کے سمجھے جاتے ہیں ۔ ان کی پہچان یہ ہے:

(الف) مخفی ہونے کی وجہ سے یہ مسائل ’المعلوم من الدین بالضرورۃ‘ کے زمرے میں  نہیں  آتے۔

(ب) ان مسائل میں  اہلسنت اور ان کے مخالف فرقوں  میں  بحثیں  ہوتی رہی ہیں  اور ان امور میں  جب کسی کو شبہہ لگتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس کی دلیل کتاب وسنت میں  موجود ہے۔

(ج) یہ ایسے مسائل ہیں  کہ جن کی دلیل اپنے مدلول تک رسائی پانے کیلئے عقل، فہم اور تدبر کی متقاضی ہوتے ہیں ۔

المسائل الخفیۃ کے تحت درج ذیل امور آتے ہیں :

(1) اللہ تعالیٰ کے وہ اسماءاور صفات کہ جن کے متعلق اہل سنت اور ان کے مخالف فرقوں  میں  بحثیں  ہوتی رہی ہیں ، جیسے اللہ کی صفت استواءکی تفصیلات میں  نزاع مشہور ہے اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کے دیدار کی بابت نزاع ہے۔ جسے اصطلاع میں  ”روؤیت“ کہتے ہیں ۔ اسماءوصفات میں  ایسے اسماءوصفات بھی ہیں  کہ جو المسائل الظاھرۃ میں  شمار ہوتے ہیں ۔ مخفی مسائل میں  صرف اُن اسماءوصفات کو شمار کیا جاتا ہے جن میں  فی الواقع اختلاف رہا ہے۔ مثال کے طور پر توحید ربوبیت مسائل ظاہرہ میں  شمار ہوگی۔

(2) اہل سنت کے مخالف فرقوں  نے جن اعتقادی مسائل میں  بحثیں  کی ہیں  اور لوگوں  کو الجھایا ہے جیسے ایمان کے مسائل میں  ایمان کے گھٹنے اور بڑھنے کا مسئلہ ہے۔

(3) کسی مسئلے کی فروعات میں  ایسا مغالطہ لگ جانا کہ جس کی وجہ اُس فروعی مسئلے کا بہت عام نہ ہونا ہو جیسے نکاح کے مسئلے میں  بیوی کی پھوپھی اور خالہ کو اکٹھا ایک شوہر کے نکاح میں  ہونے کی حرمت کا مسئلہ ہے۔ یا اس بات کا علم عوام کو نہیں  ہوتا کہ قتل عمد کا مرتکب اپنے مقتول سے وراثت نہیں  پا سکتا اور یہ کہ حقیقی دادی کا چھٹا حصہ ہوتا ہے۔

امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  نے اپنی کتب میں  متعدد مقامات پر مسائل ظاہرہ اور مسائل خفیہ میں  فرق کیا ہے۔ علم الکلام میں  غلو کرنے والوں  کی بابت فرماتے ہیں : اس قسم کی (خلاف شریعت) باتیں  جو اہل کلام سے ظاہر ہوتی ہیں  وہ عموماً مسائل خفیہ میں  تو بہت زیادہ ہیں  اور ایسے مسائل میں  اِس پہلو کا خیال رکھا جاتا ہے کہ اُس پر اِن امور میں  (اپنی کوتاہ فہمی کے ساتھ ساتھ) حجت پوری نہیں  ہو پائی ہوگی جو اس بات میں  مانع سمجھی جاے گی کہ اُس کی تکفیر نہ کی جائے، البتہ وہ اہل حق کی نظر میں  خطاکار اور گمراہ سمجھا جاتا رہے گا۔ جہاں تک مسائل ظاہرہ کا تعلق ہے تو ان میں  سے ایک کثیر تعداد نے ان کا انکار کیا ہے۔ اِن امور میں  انکار کرنے والے کیلئے عذر شرط نہیں  ہے کیونکہ مسائل ظاہرہ مسلمانوں  کے عوام اور علماءسب کے ہاں معروف ہوتے ہیں  بلکہ یہ وہ امور ہیں  کہ جن کی بابت کفار اور اہل کتاب بھی خوب اچھی طرح جانتے ہیں  کہ مسلمانوں  کا عقیدہ یہ ہے۔ مثلاً محمد صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں  کے نزدیک رسول ہیں  اور ان کی نبوت کا انکار کرنے والوں  کی مسلمانوں  نے تکفیر کی تھی اور یہ کہ محمد صلی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اکیلے اللہ کی عبادت کی تلقین کی تھی اور فرشتو، نبیوں  اور مظاہر قدرت کی عبادت سے منع فرمایا تھا اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پنجگانہ کا حکم دیا تھا اور جملہ کفار کے ساتھ ساتھ یہود، نصاری، مشرکین، صابی اور مجوس سے دشمنی رکھتے تھے، بدی اور بدکاری سے منع کرتے تھے، زنائ، شراب نوشی، سود خوری اور جواءکھیلنے سے منع کرتے تھے۔ اِن گمراہ طوائف میں  سے بہت سے اِن امور میں  سے بھی بعض کا انکار کرتے ہیں  اور اس بناءپر انہیں  مرتدین میں  شمار کیا جاتا ہے۔ (مجموع فتاوی: 54/4)

 اس شرط کا بیان کہ متکلم کفر کے معنی کا قصد رکھتا ہو:

تمام ائمہ کرام اور خصوصاً ائمہ کرام کے اقوال کو خوبصورت پیرائے میں  پیش کرنے والے امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  نے اس شرط کا تذکرہ کیا ہے کہ کفر معین کیلئے یہ ضروری ہے کہ متکلم جب کفر کی کوئی بات کرے تو اس کلمے سے جو کفر لازم آتا ہے وہ اس کا قصد بھی ہو۔ اس اجمال کی تفصیل یوں  ہے کہ جو کفریہ الفاظ کہے گئے ہیں  یا تو وہ کفر پر واضح طور پر دلالت کرتے ہوں  گے یا پھر ذو معنی ہوں  گے۔ اگر الفاظ ایسے ہوں  جو کفر پر صریح طور پر دلالت کرتے ہیں  اور کہنے والے نے جس طرح کہے ہوں  اُس سے یہی ظاہر ہو رہا ہو کہ وہ جن الفاظ کو ادا کر رہا ہے وہی الفاظ اپنے معنی کے ساتھ اُس کی مراد ہیں  جس کا ایک قرینہ یہ ہو سکتا ہے کہ اگر مثلاً اُس سے پوچھا جاتا کہ تم نے یہ یہ الفاظ کہے ہیں  اور اُن کا یہ یہ معنی ہے تو اُس کا جواب ہو کہ ہاں میں  نے ایسا ہی کہا ہے۔ اس قسم کی صورت پیش آجائے تو وہاں اُس کی تکفیر کر دینے میں  کوئی امر مانع نہیں  ہوتا۔ ایسے الفاظ میں  غیر اللہ سے استغاثہ کرنا، اُس سے دُعاءمانگنا، یا اللہ اور اُس کے رسول کی جناب میں  زبان درازی کرنا وغیرہ آتے ہیں ۔

اگر الفاظ ذومعنی کہے گئے ہوں  تو متکلم سے پوچھا جائے گا کہ کون سا معنی اُس کی مراد تھی۔ عموماً زندیق اور دوسرے اہل بدعت فرقے ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں  تاکہ پوچھ پریت پر ارتداد کی سزا سے بچ جائیں ۔

اس قاعدے کے متعلق اب ہم شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  کے اقوال پیش کرتے ہیں ۔ وہ فرماتے ہیں : .... حاصل کلام یہ ہے کہ جو شخص کوئی کفریہ قول ظاہر کرے یا کفریہ فعل کا ارتکاب کرے تو وہ کافر ہو جاتا ہے۔ اُس کے کافر ہونے کیلئے یہ شرط نہیں  ہے کہ وہ صدق دِل سے کافر ہونا چاہتا تھا یا نہیں کیونکہ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کوئی شخص کافر ہونے یا کہلانے کیلئے کفر کا قول کہے یا کفر کا کام کرے۔ (الصارم السلول)
محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : تم تمام فقہاءکی کتب میں  ایک باب پاتے ہو جو اس عنوان سے ہے: ’حکم المرتد‘۔ ارتداد یہ ہے کہ کوئی شخص اسلام لانے کے بعد کافر ہو جائے۔ اگر ایک مرتبہ کلمہ پڑھ لینے کے بعد کوئی شخص کافر ہونے سے ہمیشہ کیلئے بچ جاتا ہے تو پھر تمام کتب میں  اس عنوان سے باب باندھنے کا کیا مطلب ہے۔ محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ  آگے جا کر فرماتے ہیں  کہ اِس باب میں  فقہاءکرام ایسی باتوں  کا اور ایسے افعال کا ذکر کرتے ہیں  کہ جس سے ان کا مرتکب کافر ہو کر مرتد بن جاتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں  کہ جن باتوں  کو اہل علم نے بطور مثال پیش کئے ہیں  (تمہیں  یہ گمان نہیں  ہونا چاہیے کہ وہ کوئی بہت بڑے بڑے ہی امور ہوں  گے) اُن سے کئی ایک بظاہر معمولی امور سمجھے جاتے ہیں ۔ اِن امور میں  صرف چند الفاظ بھی مذکور ہوئے ہیں  جبکہ متکلم دِل میں  کفر کرنے کا بھلے ارادہ نہ رکھتا ہو پھر بھی وہ کافر مرتد ہو جاتا ہے اور اُس کا خون بہانا حلال اور اُس کے مال پر اہل اسلام کا حق تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ اِن میں  سے کئی باتیں  ایسی بھی ہیں  کہ وہ متکلم از راہ شیخی اور مذاق میں  کرجاتا ہے پھر بھی اُس کے مقصد کی بجائے الفاظ کی دلالت کو تسلیم کرکے اُس کی تکفیر کر لی جاتی ہے۔ (مجموعۃ التوحید: 94۔ 93)

شیخ سلیمان بن عبداللہ نجدی اپنے شیخ کی مذکورہ بالا بات کی وضاحت اِن الفاظ میں  کرتے ہیں : بسا اوقات کوئی شخص ایک لفظ کہنے سے کافر ہو جاتا ہے خواہ اُس کا ااردہ کافر ہونے کا نہ ہو۔ غزوہ تبوک میں  جن منافقین کے بارے میں  یہ آیات نازل ہوئی تھیں  وہ بھی یہ نہیں  سمجھے کہ وہ تمسخر اڑانے سے کافر ہو جائیں  گے۔ سورہ توبہ میں  اس کا تذکرہ کچھ یوں  کیا گیا ہے۔ يَحْذَرُ الْمُنَافِقُونَ أَن تُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ سُورَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِي قُلُوبِهِم قُلِ اسْتَهْزِؤُواْ إِنَّ اللّهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُونَ  وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنتُمْ تَسْتَهْزِؤُونَ  لاَ تَعْتَذِرُواْ قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ (التوبہ: 66۔64) ”یہ منافق (اپنے دِل میں  اس بات سے) ڈر رہے ہیں  کہ کہیں  مسلمانوں  پر کوئی ایسی سورت نہ نازل ہو جائے جو اُن کے دِلوں  کے بھید کھول کر رکھ دے۔ اے نبی، ان سے کہو: اور مذاق اڑا لو، بلاشبہ اللہ اُس چیز کو کھولے دیتا ہے جس کے کھل جانے سے تم ڈرتے ہو۔ اگر تم اُن سے پوچھو کہ تم کیا باتیں  کر رہے تھے تو جھٹ کہہ دیں  گے کہ ہم تو ہنسی مذاق اور دِل لگی کر رہے تھے۔ (4) ان سے کہو کیا تمہاری ہنسی دِل لگی اللہ اور اُس کی آیات اور اُس کے رسول ہی کے ساتھ تھی۔ اب عذارت نہ تراشو، تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے۔

شیخ سلمیان رحمۃ اللہ علیہ  اس آیت کے بعد فرماتے ہیں  کہ اِن منافقین کا یہی خیال تھا کہ وہ ایسے کلمات کہنے سے کافر نہیں  ہوں  گے، دراصل کوئی بھی شخص جب کفر (صریح) کا مرتکب ہوتا ہے خواہ قولی ہو یا عملی تو وہ کافر ہو جاتا ہے۔ چاہے وہ اس سے جاہل ہو یا تاویل کرتا ہو کہ اس فعل یا قول سے بھلا وہ کافر تھوڑی ہوجائے گا۔ (تیسیر العزیز )

شیخ الاسلام گستاخ رسول کے متعلق فرماتے ہیں : تمام اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ گستاخ رسول (گستاخی کے ساتھ ہی) کافر ہو جاتا ہے اور اُس کا قتل روا ہو جاتا ہے خواہ متکلم کا مقصد آپ کی گستاخی کرنا نہ ہو۔ یہاں نیت اور دِل کا حال جاننا شرط نہیں  ہے۔ جب الفاظ خود دلیل ہوں  اور اُن الفاظ سے آپ کی گستاخی ہوتی ہو تو اُس کے کافر ہونے کیلئے یہ کافی ہے۔ مذاق، ٹھٹھہ، لایعنی گفتگو یا کوئی اور جو بھی سبب ہو، عذر نہیں  بن سکتا۔ (الصارم المسلول : 528۔ 527)

مفتی الدیار شیخ محمد ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ  اپنے وقت میں  پائے جانے والے مرجئہ کی گمراہی اور اُن کے علمی برتے اور ضرورت سے زیادہ احتیاط کے بارے میں  فرماتے ہیں : بعض لوگوں  نے مجھ سے پوچھا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں  کہ کسی کے کافر ہونے کیلئے یہ بھی شرط ہے کہ اس کا مقصد اور مراد بھی کافر ہونا ہو۔ شیخ محمد ابراہیم فرماتے ہیں : اِن جہلاءنے کفر کی صرف ایک قسم کو کفر تسلیم کیا ہے اور وہ ہے ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے کافر ہونا جبکہ کفر کی اور بھی اقسام ہیں ۔ کفر کو صرف ایک قسم میں  محصور سمجھنا ایک بدترین غلطی ہے۔ خود قرآن مجید بعض لوگوں  کی نیت کا تذکرہ کرتا ہے جو اچھی ہوتی ہے مگر اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہاں ان کی نیت کا اچھا ہونا معتبر اس لئے نہیں  ہوتا کہ وہ اُس کے متضاد کام کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ویحسبون اَنّہم مھتدون (اعراف: 30) ”اور وہ یہ سمجھتے ہیں  کہ وہ ہدایت پر ہیں “۔
شیخ محمد ابراہیم فرماتے ہیں  کہ اِن لوگوں  کی اصل گمراہی یہ ہے کہ وہ اسلام سے منسوب کسی شخص کے کافر ہو جانے کے سرے سے قائل ہی نہیں  ہیں  اس لئے ایک ایسی شرط کا اضافہ کر رہے ہیں  کہ جو کتاب وسنت اور تمام ائمہ کرام کے اقوال کے برخلاف خود ساختہ ہے۔ (فتاویٰ الشیخ محمد بن ابراہیم)
اہلسنت والجماعہ کیونکہ اہل عدل ہوتے ہیں  اس لئے وہ ہر بات کو اُس کے مقام پر رکھتے ہیں  اوپر جو قاعدہ بیان ہوا ہے وہ صریح کفر کے متعلق تھا۔ جہاں تک اہل بدعت اور اہل زیغ کے ایسے الفاظ کا تعلق ہے کہ وہ الفاظ کی حد تک تو کفر نہیں  ہیں  البتہ ان سے جو لازمی معانی نکلتے ہیں  وہ کفر پر ہی پہنچتے ہیں ۔ اس ضمن میں  اہل سنت اس قاعدے پر عمل کرتے ہیں  کہ بعض دفعہ متکلم کے نزدیک الفاظ سے جو دوسرے لازمی معانی نکلتے ہیں  مراد نہیں  ہوتے اس لئے ہم اسی اصول کی پابندی کرتے ہیں  کہ ’لازم القول لیس بلازم‘ (ہر دفعہ ایک قسم کے جملوں  سے جو لازمی معانی نکلتے ہیں  وہ ضرور متکلم کے پیش نظر ہوں  گے، اس قاعدے کو ہم درست نہیں  سمجھتے)اور جب تک صراحت نہ ہو جائے لازمی معانی پر کسی کو مجبور نہیں  کرتے۔
امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں  کہ اسماءوصفات میں  یہ بات دیکھنے میں  آتی ہے کہ ہمارے مخالفین ایک ایسی بات کرتے ہیں  کہ اُس سے کفر ثابت ہوتا ہے لیکن متکلم کا کفر کرنا مقصود نہیں  ہوتا۔ ایسے شخص کی ہم بھی تکفیر نہیں  کرتے جب تک وہ خود اُس لازمی معنی کو تسلیم نہ کرلے جو ہمارے نزدیک اُن الفاظ سے لازمی نکلتا ہے۔ (5) (مجموعی الفتاوی: 306/5)

انہیں  میں  ایک اور صنف بھی آتی ہے جو نہ تو الفاظ کی دلالت کو سمجھتے ہیں  اور نہ اُن کے معانی کا پورا ادراک رکھتے ہیں ۔ اُن پر لغوی معانی بھی واضح نہیں  ہوتے۔ ایسے اشخاص سے جب غیر صریح کفر یہ الفاظ ظاہر ہوں  تو اُن کی تکفیر نہیں  کی جائے گی۔ اس سلسلے میں  امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : جب کوئی مسلمان اللہ اور اُس کے رسول کے حق میں  خیر خواہی چاہتا ہو اور نیک جذبات رکھتا ہو، وہ الفاظ کے معانی پوری طرح نہ سمجھتا ہو اور کوئی ایسے الفاظ کہہ بیٹھے جو اُس کے نزدیک اللہ اور اُس کے رسول کے حق میں  خیر خواہی کے الفاظ ہوں  جبکہ ان الفاظ سے اس کے برعکس بُرے معانی نکلتے ہوں  تو ایسے شخص کی تکفیر نہیں  کی جائے گی بلکہ جو کوئی ایسے شخص کی تکفیر کرتا ہو تو دراصل وہ خود ہی ایک ایسا کلمہ کہہ رہا ہوتا ہے جو اُس پر لوٹ آتا ہے۔ یہودی آپ کی ایذاءرسانی کیلئے کہا کرتے تھے ’راعنا‘ اُن کی دیکھا دیکھی صحابہ کرام بھی آپ کو عزت اور تکریم کی وجہ سے ’راعنا‘ کہہ کر مخاطب ہوتے تھے۔ یہودیوں  کی نیت اللہ پر تو عیاں تھی مگر صحابہ کرام ان کے خبث باطن کو نہیں  سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس لفظ کے استعمال پر ہی یہ فرما کر پابندی لگا دی: ’لا تقولوا راعنا‘راعنا کہنا ترک کر دو۔ مگر اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں  فرمایا کہ تم یہ الفاظ ادا کرکے کفر کر بیٹھے ہو جیسا کہ غزوہ تبوک میں  منافقین کے الفاظ کو بنیاد بنا کر ان کو کافر کہا تھا۔

سابقہ کلام کو اگر ہم اختصار سے بیان کرنا چاہیں  تو کل سات نقاط بنیں  گے:

جس شخص کو متعین کرکے کافر کہنا ہوتا ہے اُس کیلئے ضروری ہے کہ:

(1) جن الفاظ کو اُس نے ادا کیا ہو وہی الفاظ کہنا اُس کا مقصود ہوں ۔ (6)

(2) مسائل ظاہرہ میں  سے کسی امر کا انکار صریح الفاظ میں  کیا جائے تو اس کی تکفیر کی جائے گی اور مزید جانچ پڑتال کو غیر ضروری جانا جائے گا۔

(3) ذومعنی الفاظ کی ادائیگی کی صورت میں  توقف کیا جائے گا تاآنکہ متکلم کا مقصد معلوم ہو جائے۔

(4) ایسے الفاظ جن کے معانی سے ایسی باتیں  نکلتی ہوں  جو کفریہ ہیں  تو ایسی صورت میں  اہلسنت اس قاعدے پر عمل کرتے ہیں  کہ لازم القول لیس بلازم، جب تک متکلم خود اُس کے دوسرے لازمی معانی کا اقرار نہ کرلے۔

(5) جو شخص کم علم اور گنوار ہونے کی وجہ سے الفاظ کے معانی اور اُن کی دلالت سے پوری طرح واقف نہ ہو اور ان الفاظ سے کفر کا معنی نکلتا ہو تو اس کی تکفیر نہیں  کی جائے گی۔

(6) شدید خوشی یا غم یا فرط جذبات یا خوف اور سہمی ہوئی حالت میں  کفریہ کلمات پر مواخذہ نہیں  ہوگا

(7) کسی متعین شخص کی تکفیر کیلئے یہ شرط لگانا کہ کفر ہی کرنا اُس کا مقصد اور نیت ہو تو یہ شرط باطل ہے اور اس کا رد کرنا واجب۔

٭٭٭٭٭٭

تکفیر معین میں  حالات کی اہمیت:

کسی شخص کو متعین کرکے اس کی تکفیر کرنے میں  حجت کا پورا ہونا شرط ہے۔ اس شرط کے متعلق گزشتہ سطور میں  جو بات ہو چکی ہے۔ علاوہ اس شرط کے تمام اہل علم کسی شخص کی تکفیر کرنے میں  اُس متلعقہ شخص اور جن حالات میں  واقعہ پیش آتیا ہو اُسے بھی مدنظر رکھتے ہیں ۔ ایسا شخص جو حال ہی میں  ایمان لایا ہو تو اُس کی بابت یہ رعایت برتی جاتی ہے کہ وہ کسی ایسی بات کا انکار کر سکتا ہے جو مسائل ظاہرہ میں  شمار ہوتی ہو۔ ایسے نو مسلم شخص کی تکفیر جب تک حجت پوری نہ ہو جائے نہیں  کی جاتی۔ یہی حکم اُن لوگوں  کا بھی ہے جو علمی اور شہری آبادیوں  سے ہٹ کر دور افتادہ مقامات پر رہتے ہوں ۔ یا جس ماحول میں  انہوں  نے آنکھ کھولی ہو وہاں علم اور اُس کے رجال بالکل نہ پائے جاتے ہوں  اور درس گاہوں  اور علمی مجالس، وعظ ونصیت کا اہتمام ہی نہ ہو۔ اِن ضوابط کے بیان میں  شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : فرائض اربعہ کے وجوب کا جو شخص انکار کرے جبکہ (اُس خطے میں ) حجت عام ہو چکی ہو تو وہ بلاشبہ کافر ہے اسی طرح ایسے حرام امور جو مسلمانوں  کے ہاں عام معلوم ہیں  از قسم زنا، سود، فحاشی، نشہ، جوائ، ظلم، جھوٹ اور جھوٹ کی گواہی، تو ان کی حلت کا جو بھی قائل ہوگا وہ کافر ہوگا ہاں اگر ایسا انکار کسی ایسے شخص سے ہو جو نیا نیا اسلام میں  داخل ہوا ہو یا پھر عام مسلمانوں  کی بستیوں  سے ہٹ کر دور افتادہ مقامات میں  مستقل رہتا ہو، یا علم عام نہ رہا ہو، یا حجت پہنچنے سے پہلے وہ یہ گمان کر بیٹھا ہو کہ محرمات میں  سے مسلمان کے ہاں خمر (شراب) کا پینا ایک استثناءہے جیسا کہ بعض اصحاب رسول کو غلطی لگی تھی اور حضرت عمر رحمۃ اللہ علیہ نے اُن سے توبہ کرائی تھی ایسے تمام افراد پر حجت کے پہنچانے کا بندوبست کیا جائے گا اور جب حجت پوری ہو جائے گی تو اُن سے توبہ کرائی جائے گی اگر توبہ کر لیں  گے تو اُن کے احکام اور حقوق وہی ہیں  جو دوسرے مسلمانوں  کے ہیں  بصورت دیگر اُن کی تکفیر کر دی جائے گی اور حجت کے پورا ہونے سے پہلے تکفیر کرنا جائز نہیں  ہے۔ (مجموع الفتاوی: 410/7)

مجموع الفتاوی کی جلد 11 ص 408 میں  اِس بات کو ذرا تفصیل سے بیان کرتے ہیں : جو شخص ایسے ماحول میں  پیدا ہوا ہے کہ وہاں انبیاءکی دعوت اور جو پیغام اور وحی انہوں  نے لوگوں  تک پہنچانی تھی، وہ سب ازکار رفتہ ہو کر ناپید ہو گئی ہو، بستی میں  کوئی ایسا مبلغ بھی نہ رہا ہو جو اسلام کی بڑی بڑی باتیں  بتانے والا ہو تو ایسے لوگوں  کی بابت تمام اہل علم کا اتفاق ہے کہ اُن کی تکفیر نہ کی جائے گی۔ اس کی بابت ایک صریح حدیث بھی ہے۔ آپ نے فرمایا: یاؤتی علی الناس زمان µ (بعض) لوگوں  پر ایک ایسا وقت بھی آئے گا کہ لا یعرفون فیہ صلۃ ولا زکۃ ولا صوماً ولا حجاً وہ اُس زمانے میں  نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج میں  سے کسی فریضے کے متعلق کچھ نہیں  جانتے ہوں  گے، الاّ الشیخ الکبیر والعجوز الکبیرۃ یقول اَدرکنا آباءنا یقولون لا الہ الا اﷲ کچھ بڑی عمر کے بوڑھوں  کو البتہ اتنا یاد رہا ہوگا اور وہ کہتے ہوں  گے کہ ہم نے اپنے بڑوں  کے منہ سے یہ سنا ہے کہ وہ لا الہ الا اللہ پڑھتے تھے ہمیں  بھی بس یہی کلمہ یاد رہ گیا ہے۔ آپ نے مزید فرمایا کہ انہیں  نماز، زکوٰۃ، حج اور روزہ میں  سے کسی عبادت کے متعلق کوئی علم نہیں  ہوگا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  ایک اور جگہ فرماتے ہیں : تم نے ائمہ کرام کے اقوال میں  سے ایسی باتیں  سن رکھی ہوں  گی کہ انہوں  نے کسی شخص کے متعلق کہا ہو گا کہ اُس نے غلطی کی ہے، یا ’فلاں شخص کافر ہو گیا ہے۔ یاد رکھو کسی امام کے ایسے قول کو حکمِ عام نہ سمجھا جائے (اور اگر تم ایسی غلطی یا کفر کا فعل اپنے سامنے کسی کو کرتا پؤ تو جھٹ سے اُسے غلطی یا تکفیر سے منسوب کر لو) کسی کو غلطی سے منسوب کرنا یا تکفیر کرنا ان دونوں  کیلئے شروط کا پورا ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص دین کے بنیادی امور میں  کسی امر کا انکار کرتا ہو تو ممکن ہے وہ نیا نیا اسلام میں  داخل ہوا ہو۔ یا مسلمانوں  کی آبادیوں  سے دور، علم کے مراکز سے ہٹ کردور افتادہ مقامات میں  رہتا ہو یا جہاں وہ رہتا ہو وہاں جہالت عام ہو اور علم اٹھ گیا ہو یا ایسی کوئی شرط جس کے ہوتے ہوئے اُس شخص کو غلطی یا تکفیر سے منسوب نہیں  کیا جاتا یہاں تک کہ اُس پر حجت پوری ہو جائے۔ (مجموع الفتاوی: 61/6)

ایک اور مقام پر شیخ الاسلام لکھتے ہیں : بلاشبہ تکفیر کا حکم دین کے اُن سنگین احکام میں  شمار ہوتا ہے جنہیں  ’وعید‘ کہتے ہیں  اور جس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ یوں  تو نبی علیہ السلام کی کسی بات کا انکار اللہ کے نبی کی تکذیب کے زمرے میں  آتا ہے لیکن بسا اوقات کوئی شخص آپ کی کسی ایسی بات کا انکار کر لیتا ہے جو اُس کے نزدیک آپ کا قول نہیں  ہوتا یا کوئی شخص نیا نیا اسلام میں  داخل ہوا ہوتا ہے او ر اُسے شریعت کے احکام معلوم نہیں  ہوتے یا کسی ایسی جگہ رہتا ہے جو مسلمانوں  کی بستیوں  سے دور ہے اور وہاں علم ناپید ہے۔ ایسی تمام اصناف تکفیر کے حکم سے مستثنیٰ ہیں  یہاں تک کہ ان پر حجت تمام ہو جائے۔ (مجموع الفتاویٰ: 331/3)

بعض مرجئۃ العصر نے شیخ الاسلام کی تالیفات سے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ شیخ الاسلام کسی متعین شخص کی تکفیر میں  حد درجے محتاط واقع ہوئے ہیں  اور آثارِ اولیائ، قبر پرستی اور مزاروں  پر جا کر عبادت کے شعائر بجا لانے والوں  کی تکفیر نہیں  کرتے تھے کیونکہ ان کا اسلام پر ہونا ثابت ہے اور محض اُن کی کسی حرکت سے عبادت کا گمان ہونے کی وجہ سے اُس کی تکفیر کر دینا ایک جلد باز کا کام ہے۔ شیخ الاسلام جیسے ائمہ سے ایسا کوئی قول منسوب نہیں  ہے کہ وہ گمان کو بنیاد بنا کر یقین پر قائم ایک حکم کو ساقط کر دیں ۔ قارئین کرام یہ وہی عقیدہ ہے کہ جس کا رد ہی کرنے کیلئے شیخ الاسلام نے اتنی ڈھیر ساری کتب تالیف فرمائی تھیں  لیکن بات یہ ہے کہ اللہ جس کا چاہتا ہے سینہ علم وعرفان کے لیے کھول دیتا ہے اور متعصب کیلئے وہی ہے جس کا وہ اپنے تئیں  قائل ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  نے جو قواعد اور اصول اپنی تالیفات میں  بیان کی ہیں  وہ اُن سے پہلے گزرے ہوئے اہل علم، صحابہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چھوڑی ہوئی تراث سے ماخوذ ہیں  دوسرا شیخ الاسلام کی تالیفات کا اکثر معاصرین نے سرسری سا مطالعہ کیا ہے یا اپنی مطلب کی بات اچک لینے کیلئے ورق گردانی کی ہے۔ شیخ الاسلام کی تالیفات کے درست اور صحیح ترجمانی کرنے والے محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ  اور ان کی اولاد اور شاگرد ہیں ۔ شیخ الاسلام کے حقیقی شاگردوں  میں  سے کوئی بھی ایسی بات نہیں  کرتا۔ عبادات میں  سے کسی عبادت کو غیر اللہ کیلئے انجام دینے والا خواہ اپنے تئیں  کتنا ہی نیک نیت ہو، یا پھر اولیاءاللہ سے شدید محبت اور وارفتگی اُس کا سبب بنی ہو یا ایسی تاویل اُس کی وجہ ہو کہ جس کا اعتبار اہل علم نے نہیں  کیا ہے یا اُسے مغالطہ لگا ہو یا ایسا جہل لگا ہے کہ جو اُس جیسے دوسرے شخص کیلئے عذرنہ بن سکتا تو ایسے تمام حالات میں  وہ مشرک اور کافر ہے۔ شیخ الاسلام نے شرک اکبر کے مرتکب کے عذر کیلئے جو شرطیں  لگائی ہیں  اگر فی الواقع کوئی شخص ایسے ہی حالات میں  رہتا ہو تو حجت پوری ہونے سے پہلے اس کی تکفیر میں  توقف کرنے کو البتہ شیخ الاسلام نے درست قرار دیا ہے چناچہ جس بات کو مرجئۃ العصر نے کلی قاعدہ بنا لیا ہے وہ بات مجموع الفتاوی: 165/35 میں  مطلق طور پر نہیں  بلکہ مقید بیان ہوئی ہے اور یہی ہمارے مقالے کا موضوع ہے۔ شیخ الاسلام فرماتے ہیں :

عبادت میں  سے کوئی عبادت غیر اللہ کیلئے کرنا شرک اکبر اور اس کا مرتکب کافر ہے جبکہ وہ یہ کام برسرعام کرتا ہو اور اگر وہ اپنے دِل میں  غیر اللہ کی عبادت کو جائز سمجھتا ہو اور مسلمانوں  کے ڈر کی وجہ سے ایساکام برسرعام نہ کرتا ہو تو وہ منافق زندیق ہے۔ اب جو تم ہمارے زمانے میں  لوگوں  کو دیکھتے ہو کہ وہ یہ سارے کام بڑی رغبت سے سرانجام دیتے ہیں  تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کی دعوت دینے والے ناپید ہیں ، بیشتر علاقوں  میں  انبیاءکی تعلیم مسخ ہوکر رہ گئی ہے اور ایسے علاقے بھی کم نہیں  جہاں علم وعرفان میں  سے کچھ نہیں  پایا جاتا، ایسے حالات میں  کوئی بھلا ہدایت پر کیسے پہنچ سکتا ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ جب علم اُٹھ جائے تو ہر شخص پر بس یہی واجب ہے کہ اُسے دین کی جس بات کا علم ہو اُس پر چمٹا رہے امکان ہے کہ جس بات کا اُسے علم نہیں  ہو سکا تھا اور حجت پورے نہیں  ہوئی تھی اُن تمام باتوں  کو اللہ اُس کے حق میں  معاف کردے گا۔ یہاں پر شیخ الاسلام وہی حدیث بیان کرتے ہیں  جس کا ترجمہ ہم گزشتہ سطور میں  کر آئے ہیں ۔ شیخ الاسلام فرماتے ہیں  کہ صحابی رسول حذیفہ بن یمان نے اس حدیث کی وضاحت چاہتے ہوئے آپ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ، لا الہ الا اﷲ کا ایسے شخص کو کیا فائدہ پہنچے گا؟ آپ نے فرمایا: تنجیہم من النار یہ کلمہ انہیں  آگ سے نجات دلا دے گا۔

شیخ الاسلام نے تکفیر معین میں  جن باتوں  کو موانع کہا ہے وہ درج ذیل ہیں :

(الف) اسلام میں  نیا نیا داخل ہونا۔

(ب) مسلمانوں  کی آبادی سے ہٹ کر دور افتادہ مقام میں  رہنا۔

(ج) ایسے تمام علاقے یا ایسا زمانہ کہ جس میں  علم اٹھ جائے گا اور لوگوں  کو صرف اتنا یاد ہوگا کہ ان کے بڑے لا الہ الا اﷲ کہتے تھے۔

(د) جو متعین شخص مذکورہ بالا تین حالات میں  سے کسی حالت میں  نہیں  ہے تو یہ سمجھا جائے گا کہ اُس پر حجت تمام ہو چکی ہے اور مسائل ظاہرہ ہیں ، اُس کی تکفیر کی جائے گی۔

٭٭٭٭٭

(1) مراد ہے وہ فرقے جنہیں بدعت مکفرہ سے منسوب کیا گیا تھا جیسے قرامطہ، قدریہ اور جہمیہ

(2) اس بات کا بیان کہ کوئی شخص اس طرح نماز پڑھے کہ اس کے آگے (جلتا ہوا) تنور ہو یا آگ (جل رہی) ہو یا کوئی اور ایسی ہی چیز جس کی (دوسرے ادیان میں) عبادت ہوتی ہو جبکہ نماز پڑھنے والے کی اس سے اپنی غرض اللہ کی عبادت ہی ہو۔

(3) شریعت کے بنیادی اور عام مسلمانوں کے جانے پہچانے عقائد انہیں المسائل الظاھرۃ کہتے ہیں یعنی کھلے،ظاہر، جلی، آشکار، نمایاں، صریح، مکشوف اورواضح تصورات۔دوسری طرف دین کے عقائد اور مسائل میں گہرے، مخفی، غیر مکشوف یا جن امور پر اہل علم ہی اللہ کے خاص فضل اور عمیق مطالعے اور گہری نظر کے بعد پہنچتے ہیں،ان امورمیں عوام الناس میں سے کوئی الجھ جائے تواُسے رعایت دی جاتی ہے۔

(4) غزوہ تبوک میں منافقین نے جو باتیں کی تھیں مفسرین نے ان کا تذکرہ اپنی تفسیروں میں کیا ہے جن میں سے یہ باتیں بھی تھیں: کیا رومی سپاہ بھی عربوں کی طرح (ہمارے ان سورماؤں) نے سمجھ رکھی ہے۔ کل پتا چلے گا کہ ہمارے ان سورماؤں  کا کیا حال ہوتا ہے، سب رسیوں سے بندھے ہوں گے۔ ایک کہنے گا کہ اوپر سے پورے سو کوڑے بھی پڑیں تو مزہ ہی آجائے۔ ایک منافق نے آپ کو جنگ کی کیفیت میں پرجوش دیکھ کر کہا: آپ روم اور شام کے قلعے فتح کرنے چلے ہیں!

(5) یہاں خلق قرآن کی مثال اس مسئلے کی وضاحت کیلئے پیش کی جا سکتی ہے۔ کوئی شخص جب یہ کہے کہ وہ اوراق پر لکھے ہوئے اور چھپے ہوئے الفاظوں کے مجموعے کو کلام اللہ نہیں کہتا تو اس قول کا لازمی معنی اللہ اور اُس کے رسول اور تمام صحابہ کے فہم کی تکذیب ہے مگرمتکلم اللہ اور اُس کے رسول اور اہل خیر کی تکذیب نہیں کرنا چاہتا تو یہاں اُس پر کفر سے پہلے حجت پوری کرنا واجب ہوگا۔

(6) یعنی بے خیالی میں الفاظ نہ نکلے ہوں یا نیند کی حالت یا نشے کی حالت یا شدید غصے کی حالت نہ ہو۔ اگر الفاظ صریح الدلالہ ہوں گے تو مزید جانچ پڑتال کی ضرورت نہیں ہوگی، اگر ذومعنی ہوں گے تو متکلم کے بارے میں مسلمانوں کی رائے کو مدنظر رکھا جائے گا، عین ممکن ہے کہ وہ زندیق سمجھا جاتا ہو، اور اگر وہ الفاظ کے معانی اور مراد ہی نہ سمجھتا ہو تو اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ البتہ کفریہ الفاظ اُس نے اپنے ارادے سے اُس معنی کیلئے کہے ہوں جو الفاظ سے ظاہر ہوتے ہوں۔