
|
|
|||||||||||||||||||||||
آسانی اور رواداری پر مبنی ٹھیٹ موحدانہ طرز عمل
حنیفیت ملتِ ابراہیم
علیہ السلام کا ایک خوبصورت وصف بھی ہے اور اس کا ایک معروف
لقب بھی۔ ظہورِ اسلام سے پہلے عرب میں شرک اور بتوں کی عبادت کو غلط
جاننے والے اور خالص فطرت پر برقرار رہتے ہوئے ماحول کے اثرات کے خلاف
برسرِ مزاحمت، عقلِ سلیم کے پیروکار، جاہلیت کی عام برائیوں سے دامن کش
رہنے والے با ہمت انسان جوکہ خدا سے ایک خاص انداز کی موحدانہ لو لگا
رکھیں حنفاءکے نام سے مشہور تھے۔ قرآن میں بیشتر مقامات پر ابراہیم
علیہ السلام کا تعارف حنیف کے وصف سے کرایا گیا ہے۔ خود مسلمانوں کو
"حنفاءللّٰہ غیر مشرکین بہ" رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ صبح شام کے بعض
مسنون اذکار میں جو کہ توحیدِ بندگی کی زبردست یاد دہانی ہیں، حنیفاً
مسلماً کے الفاظ آتے ہیں۔
(10) ضرور پھر اس لفظ میں کوئی ایسی بات ہے جو
خدا کو خاص طور پر مطلوب ہے اور جس کو دعوت اسلام کا تعارف کرانے میں
نہایت برمحل جانا گیا ہے۔ یہ تو ہوا حنیفیت کا مطلب۔ سمحہ کیا ہے؟ اس کے معنی میں نرمی، آسانی، رواداری، رحمدلی، میانہ روی، رعایتِ فطرت، معقولیت، اعلیٰ ظرفی اور وسعت نظر کے مفہومات آتے ہیں۔ گویا یہ ’مذہب‘ اور ’دھرم‘ کے لگے بندھے مفہوم سے یکسر مختلف چیز ہے۔ ہر دھرم کی پیشہ ورانہ تفسیر اس کو پیچیدگیوں کا مجموعہ اور ایک ازکار رفتہ چیز بنا دیتی ہے۔ ’مذہب‘ جکڑبندی کا دوسرا نام ہو جاتا ہے۔ اس پر ایک خاص کاہن پیشہ قسم کے لوگوں کا اجارہ ہوتا ہے۔ مذہب کو ترکِ دُنیا اور مردم بیزاری کا ہم معنی کر دیا جاتا ہے۔ قدرتی جذبوں کا قتل اورجائز خواہشات کو دبا دینا ’مذہبی‘ ہونے کا تقاضا مان لیا جاتا ہے۔ شریعت کو سخت سے سخت کر دینا خدا کے تقرب کا ذریعہ باور کیا جاتا ہے۔ پھر چونکہ یہ ایک بے بنیاد دین ہوتا ہے، جہالت، خرافات اور انسانی اھواءو خواہشات بلکہ بسا اوقات تو انسانی حماقتوں کا مجموعہ ہوتا ہے لہٰذا اسے ثابت کرنے اور منوانے میں دھونس اور زبردستی کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ سمحہ کا لفظ ان سب مفہومات کو باطل کر دیتا ہے اور دینِ اسلام کا ان جکڑ بندیوں سے یکسر ایک مختلف تعارف کراتا ہے.. اسلام فطرت کی اپنی ہی آواز ہے اور انسانی ضمیر اور عقل سے سیدھا سیدھا خطاب۔ لہٰذا اس کو ثابت کرنے اور منوانے میں کوئی جبر اور زبردستی نہیں۔ اس معنی میں اسلام کے اندر رواداری ہے..
پھر شریعت کے احکام میں نرمی اور آسانی ہے، جو کہ "گنجائش" اور
"رواداری" کا ایک اور پہلو ہے..
دین سکھانے میں تدریج ہے۔ کسی بات کا مکلف ہونا استطاعت سے مشروط ہے۔
بھول چوک معاف ہے..
حنیفیہ اور سمحہ۔ یہ دونوں رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلمکے مشن کو بے انتہا منفرد بنا
دیتے ہیں۔ ایک طرف اصول ہیں جن پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔ حنیفیت ہے یعنی
باطل سے کوئی سازگاری نہیں۔ ہر باطل راستے، ہر باطل نظام اور ہر باطل
معبود سے مکمل ناطہ توڑ لینا ہے جس کے بعد باطل سے مسلم فرد یا مسلم
جماعت یا مسلم معاشرے کاکوئی لینا دینا ہی نہ رہے۔ اللہ وحدہ لا شریک
سے _ خالصانہ بندگی پہ مشتمل _ ایک خاص نکھرا ہوا تعلق ہے۔ اصولوں پر
بے پناہ سختی ہے۔ عقیدہ پر بے حد زور ہے۔ یہاں کوئی چھوٹ نہیں۔ چنانچہ ان بے شمار جہتوں سے اسلام میں بے حد وسعت، آسائش اور رواداری ہے، بلکہ آسائش اور رواداری _ مکارم اور پاکیزہ قدروں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ _ ہے ہی صرف اسلام میں۔ البتہ جاہلیت جس رواداری کامطالبہ کرتی ہے اس سے مراد کچھ اور ہے! ایک نگاہ ہمیں اس پہلو سے بھی ڈالنا ہے، مگر ذرا آگے چل کر۔ (17) پہلے "گنجائش" کے حوالے سے ابھی اوپر جو اصولی زاویئے نشان دہ کئے گئے، ان میں سے چند ایک کو تھوڑا سا اور جلی کردیا جانا ضروری ہے۔ علاوہ ازیں "حنیفیت" کی اساس کو بھی کچھ مزید واضح کردیا جانا۔ اس کے بغیر وہ "جامعیت" اور "مانعیت" اور وہ "وسعت" اور "توازن" اور وہ "سلفیت و اصالت" اور "عصریت" جن کو بیک وقت جمع کرنے سے ہی اسلام کی وہ تصویر بن سکتی ہے جن کا ذہنوں میں بٹھا دیا جانا یہ سب لکھنے لکھانے سے در اصل ہمارے پیشِ نظر ہے، شاید تشنہ وضاحت رہے۔ گو آپ یہ محسوس کریں گے کہ ان میں سے ہر زاویہ بذاتِ خود ایک بہت بڑا مبحث ہے اور الگ سے واضح کیا جانے کا ضرورت مند۔ ٭٭٭٭٭ "حنیفیت" اور پھر ”سمحہ“.... یہ اس قدر گہری اور دور رس اور پُر معنی فطری و قلبی، ذہنی و عقلی، منطقی و بدیہی، شعوری و ادبی، سماجی وعمرانی و تہذیبی، عملی و واقعاتی، دنیوی و اخروی، مادی و روحانی، خدائی و انسانی جہتیں _ بیک وقت _ اپنے اندر رکھتا ہے جو اپنے اس تمام تر حسن کے ساتھ وہ "دین" ٹھہرتا ہے جو _ بیک وقت _ انسان کے شایانِ شان ہو تو خدا کے ہاں مقبول. إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللّهِ الإِسْلاَمُ (18) وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلاَمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ َ۔ (19) اس کو جاننے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ کسی اور چیز پر قیاس ہوتا ہے اور نہ کوئی چیز اِس پر! پس سب سے پہلی بات اس کی طرف آنے کیلئے یہ ہے کہ اس کو "منفرد" مانا جائے اور "اِس" کے اور "اِس کے ما سوا" کے مابین حقیقی معنی میں کسی "مترادفات" کا پایا جانا بھی دور از امکان سمجھا جائے. واقعتاً یہ دین اتنا ہی منفرد ہے، بلکہ اِس سے بھی زیادہ!
مراکش کے ایک مسلم دانشور، عبد السلام یاسین، جنہوں نے فرانسیسی زبان
میں اسلام کی بعض فکری اور تہذیبی جہتوں پر ایک بہت خوبصورت کتاب لکھی
ہے اور جس کا عربی ترجمہ "الاسلام والحداثہ" کے عنوان سے ہمیں پڑھنے
کیلئے دستیاب ہوا.. اپنی کتاب کے آغاز میں یورپ کے انسان کو مخاطب کرتے
ہوئے لکھتے ہیں: میری اصل دقت یہ ہے کہ میں تمہیں "ریلیجین" کے زیرِ
عنوان "اسلام" کی تفسیر کر کے دوں! ٭٭٭٭٭
ہمارے وہ بہت سے شاعر اور ادیب جو ”دین“ کو، جسے یہ ظالم ’مذہب‘ کہتے
ہیں، کچھ بے معنیٰ رسوم اور بے دید جکڑ بندیوں کے رنگ میں لا کر پیش
کرتے ہیں اور بسا اوقات ’دیر‘ اور ’حرم‘ کا ایک ہی سانس میں ذکر کر
جاتے ہیں۔ پھر اپنے جیسے سفیہوں سے اس نکتہ آفرینی پر داد پانے کے
خواستگار تک ہوتے ہیں.... ’دیر‘ اور ’کعبہ‘ کو ایک ہی مصرعے اور ایک ہی
سیاق میں جڑ کر یہ زندیقیت کی راہ پر تو چلتے ہی ہیں (خاص طور پر وہ جو
بالقصد اس اندازِ سخن کو رواج دیتے ہیں، بے شک کسی اور وقت وہ ’نعتیں
بھی کہتے سنے جائیں)، ”حنیفیتِ سمحہ“سے اپنے کورا پن کا بھی ثبوت دیتے
ہیں۔ خود یہ جس ’رسم‘ پہ ہیں وہ ایک بے حد پٹی ہوئی لکیر ہے۔ پیتل اور
سونے کو ’ایک نظر‘ سے دیکھنا ان کے نزدیک صاحبِ نظر ہونا ہے! کون یہ
تکلیف کرے کہ اشیاءکو الگ الگ کرکے دیکھے، خاص طور پر اس ’دیکھنے‘ کی
اگر کوئی قیمت بھی ہو! گو اس بات کو بھی نظر انداز نہ کرنا چاہیے کہ ہمارا ’مذہبی‘ طبقہ نہ صرف اس اندازِ فکر کو سمجھنے اور اسے ”حنیفتِ سمحہ“ سے آشنا کروانے میں کچھ بہت کامیاب نہیں رہا (بلکہ ایک بڑاطبقہ شاید خود اس سے آشنا نہیں!) بلکہ نادانستہ، ماحول میں اس اندازِ فکر کو مقبولیت پانے کے بعض مواقع بھی اپنے پاس سے فراہم کرتا رہا اور بدستور کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دینِ اسلام کی یہ فطری حسین جہتیں اور یہ عقلی و فکری افق، اور اس کی یہ روحانی شفافیت جو قلب اور نظر کی بیک وقت تسکین کرتی ہے، بلکہ اس کے سوا کوئی چیز پائی ہی نہیں جاتی جو قلب و نظر کی تشفی کرسکے.... ’ہدایت‘ اور ’خدا آگاہی‘ کا یہ خالص بے ساختہ قرآنی و نبوی اسلوب.... جو کہ سارا کا سارا ”حنیفیتِ سمحہ“ کے تحت خوبصورتی کے ساتھ مندرج ہوتا ہے اور ”دین“ کو ’احکام‘ سے پہلے ایک ’پیغام‘ بناتا اور ’اعمال‘ سے پہلے ’قلوب‘ میں جگہ پاتا ہے.... اور جوکہ ”دین“ کو لینے اور پیش کرنے کا ایک باقاعدہ منہج ہے، اور نبوی اسلوبِ تربیت کی اصل اساس.... اس وقت عام کیا جانا (20) بے حد ضروری ہے۔ ہم اس پر جا بجا زور دیتے نظر آتے ہیں تو اس کی کچھ یہی وجہ ہے۔ ٭٭٭٭٭ نصوص کے فہم و استیعاب، جمع و تطبیق، تحقیق و تخریج، تعیینِ مناط، استدلال و استنباط وغیرہ کے معاملہ میں تعددِ آرا اور تنوعِ مذاہب، جب تک کہ وہ "اہلسنت" کے دائرہ میں رہیں، بھی اس "گنجائش" اور "آسائش" کا ایک زبر دست مظہر ہیں، جیسا کہ ابتدا کے اندر بیان ہوا۔
بعض فقہی مسائل پر مناظراتی دنگل جن سے ہمارے عوام کو "دین" کے نام پر
متعارف کرایا جاتا رہا ہے، اور جن کو اہلِ علم کے علمی مناقشوں سے باہر
نکال کر باقاعدہ ’سڑک‘ پر لے آیا جاتا ہے، بلکہ عوام کو ان میں باقاعدہ
فریقِ معاملہ بنانے کی کوشش ہوتی ہے اور بسا اوقات تو قاضی اور حَکَم
بھی، حتی کہ کسی وقت ان کو ان فقہی موضوعات پر بھڑکایا اور مشتعل بھی
کر لیا جاتا ہے بلکہ ان میں ایمان کی غیرت جگانے تک کا یہی ایک میدان
تجویز ہوتا ہے، غرض ان فقہی مسائل ہی کو حق اور باطل کا عنوان ٹھہرا
دیا جاتا ہے یا شاید کسی وقت کفر و اسلام کا مسئلہ تک.... غایت درجہ
مذموم ہے اور علم سے کوئی مس ہی نہیں رکھتا۔
ہاتھوں کا سینے کے اوپر یا سینے کے نیچے باندھا جانا، آمین کہی جانے کی
کیفیت، نماز کی کچھ خاص حالتوں میں رفع یدین کیا جائے یا نہ، تراویح کی
تعداد، قنوت میں کونسی دعا پڑھی جائے، تشہد میں انگلی کے اٹھانے کا وقت
اور ہیئت، سجدے کو جاتے وقت زمین پہ گھٹنے پہلے پڑیں یا ہاتھ، وغیرہ
وغیرہ وغیرہ وغیرہ.. ایسے ہزاروں مسائل اہلِ علم کے مابین دوستانہ
"علمی مناقشوں" کے اندر آ سکتے ہیں جبکہ عوام کے مابین ایک "تعلیمی
عمل" کے اندر، اور بس!.. ائمہ تابعین و اتباعِ تابعین کے دور
میں، کہ مذاکرہ علم و دلیل میں اس سے بہتر کوئی دور نہیں، یہ
مسائل کبھی محاذ نہیں بننے دیئے گئے علما کے مابین اور نہ عوام کے ما
بین۔ پس ہمارے سلف وہ ہیں اور ہمارے لئے "اتباعِ سنت" و "اجتنابِ بدعت"
کی علمی وعملی مثال بھی وہی۔ ٭٭٭٭٭ دین کی تعلیم.. لوگوں کو ان کے فرائض بتائے اور "سمجھائے" جانے میں ایک خاص ترتیب، "ایمان کی حقیقت" قلوب کے اندر راسخ کی جانا اور "اعمال" کو پھر ہی جا کر اس سے "برآمد" کرنا، معاشرے کے اندر پائے جانے والی رجحاناتی دقتوں اور دشواریوں کا درست اندازہ رکھنا اور اسی کے مناسبِ حال "علاج" کی زور دار مگر درست اور دانشمندانہ حکمتِ عملی اختیار کرنا، زمان و مکان کی رعایت سے "اصلاحی اولویات و ترجیحات" کی فقہ رکھنا، "نفسِ انسانی" کے "مطالعہ" اور اس سے "معاملہ" کرنے کی بابت ایک درست ومؤثر انداز رکھنا اور اس باب میں "نبوی اسلوب" کا اپنایا جانا وغیرہ وغیرہ جو کہ "فقہ الدعوہ" کے تحت باقاعدہ ایک پڑھی اور پڑھائی جانے والی "سائنس" ہے.. بھی اسی "سمحہ" کے تحت مندرج ہوتی ہے۔ درشت دینی رویّے، دین کے چھوٹے امور کو بڑا اور بڑے امور کو چھوٹا کردینا، لوگوں کو دینی فرائض پہ لانے یا برائیاں چھڑوانے میں کسی "ترتیب" کا خیال نہ کرنا بلکہ تعلیم اور اصلاح کے عمل میں کسی ترتیب کا سرے سے تصور ہی نہ ہونا.. لوگوں کی استعداد اور پسِ منظر کو دیکھے اور جانے بغیر بلکہ لوگوں کی استعداد اور پسِ منظر کا کوئی تصور تک رکھے بغیر انکو شرعی احکام کی بس ایک فہرست تھما دینا.. اور جملہ مسائلِ شرع پر یکساں شدت یا یکساں نرمی سے بات کرنا.. ایسے کچھ رجحانات جو دین ہی کی بابت ایک عام شخص کا تاثر آخری حد تک خراب کر دینے کا باعث بنے ہیں ہمارے نزدیک حد درجہ قابل مذمت ہیں۔ ان سب امور پر کسی اور موقعہ پر زیادہ تفصیل سے بات ہونا باقی ہے۔ ٭٭٭٭٭ معاشرے کی فاعلیت dymamism کو ختم نہ ہونے دینا، بلکہ اس کو باقاعدہ ایک مہمیز دینا اور ایجابیت کو ہر ہر معاملے کے اندر اختیار کر رکھنا.. یہ بھی اس عقیدہ اور اس شریعت کی "سماحت" کا ایک زبردست پہلو ہے۔ اس کی بے شمار جہتیں ہیں جن کے بیان کیلئے کوئی اور محل درکار ہے، مگر اس مقام پر ہم یہاں کی بعض الجھنیں دور کردینے کیلئے اس کی ایک جہت کی جانب ذرا اشارہ کردینا چاہیں گے جو کہ کئی ایک ذہنوں کے اندر اس وقت پیدا ہو جاتی ہیں یا ہو سکتی ہیں جب ہم "عقیدہ" اور "شریعت" پر مبنی ایک "ٹھیٹ" دعوت کی بات کرتے ہیں اور جبکہ اذہان خودبخود "ٹھیٹ" دعوت کے بعض دستیاب نمونوں models at hand کی جانب چلے جاتے ہیں.. يُمَتِّعْكُم مَّتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ (ہود:3) وہ ایک وقتِ مقررہ تک تمہیں بہترین سامانِ زیست دے گا اور ہر صاحبِ مقام کو اس کا مقام دے گا أَنِّي لاَ أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ (آل عمران:195) یہ کہ میں ضائع نہیں کرتا کسی عمل کرنے والے کا عمل، وہ مرد ہو یا زن، تم سب ایک دوسرے میں سے ہی ہو" پچھلی کئی ایک صدیاں یہاں __ زوال کے کئی اور مظاہر کی طرح __ معاشرے کے اندر عورت کا کردار جس طرح نہ صرف فراموش کیا گیا بلکہ متعدد انتظامات بالاہتمام ایسے عمل میں لائے گئے کہ معاشرے کے اندر ایک صحت مند انداز میں عورت کا نہ تو کوئی "دینی" کردار رہے اور نہ "دنیاوی"۔ الا ماشاءاللہ۔ یہاں تک کہ صنفِ نسواں کی بابت اس انداز میں سوچنا گویا "عقائد" کے بنیادی مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے! پس یہ ضروری ہے کہ عقیدہ کی ایک اصیل دعوت اس انداز کے معاشرتی رویوں کے معاملے میں اپنا ایک جداگانہ تاثر بنائے.. اور ایسا ہم بوجوہ ضروری سمجھتے ہیں۔ بیشتر مساجد ہمارے بر صغیر میں اس بات کی روادار نہیں کہ عورت جمعہ و جماعت کے اندر کبھی شریک تک ہو اور دین کی روز مرہ سرگرمیاں جس کا مرکز "مسجد" ہی کو ہونا چاہیئے، اور جو کہ سنت سے ثابت اور واضح ہے، اس میں صنف ِ نسواں کو بھی افادہ و استفادہ کا _ حدودِ شریعت کے اندر رہتے ہوئے _ موقعہ حاصل ہو۔ فتنہ پھیل جانے کی دلیل ایسی زبر دست حجت رہی کہ صدیوں "عورت" یہاں "مسجد" کی شکل نہ دیکھ پائی اور یہ بات ہرگز کوئی فتنہ نہ جانی گئی۔ جبکہ نہ صرف یہ کہ اپنے یہاں پائی جانے والی یہ صورت سلف سے ماخوذ نہیں در اصل "عورت" کے کردار کو __ دوسری طرف __ عین ہماری ان صدیوں میں ہی ہماری مدِ مقابل اقوام کے اندر آخری حد تک لے کر جایا گیا جو اگر بنیادی طور پر "تخریب" کیلئے تھا اور بلا شبہہ تخریب کیلئے تھا تو اس کے روبرو ہمارے یہاں "تعمیر" کیلئے اس کو آخری حد تک لے جایا جانا ضروری تھااور عورت کے ایک زور دار دینی و سماجی کردار کی ایک درست مگر بھر پور تصویر پیش کی جانا ہم سے مطلوب تھا۔ تاکہ "تہذیبوں کے اس ٹکراؤ" میں برابر کی چوٹ ہوتی اور "عورت" کے حوالے سے مغرب نے اور یہاں اس کے لاؤڈ سپیکروں نے جو گمراہ کن انداز اپنایا اس کے مقابلے میں ہماری "عورت" فکری اور تہذیبی اور معاشرتی فاعلیت کے اس مقام پر ہوتی کہ "عورت کے حقوق" پر اسلام کا مقدمہ آج کی اس جدید جاہلیت کے خلاف ہماری جانب سے بڑی حد تک وہ خود لڑتی۔ مگر ایسا بہت کم ہو پایا۔
مغرب کے اسلامی مراکز کے اندر ایک "عصری" اسلامی عمل کا جو ایک واقعہ
بڑی محدود سی سطح پر سہی ہماری اس صدی میں سامنے آیا ہے، کئی ایک
خطرناک غلطیوں اور تجاوزات کو اس سے منہا کرتے ہوئے، وہ یقیناً دیکھے
اور پڑھے جانے کے لائق ہے۔ خصوصاً اسلام کی عصری تہذیبی جہتوں کے حوالے
سے اور ان میں بطورِ خاص اسلامی ماحول کے اندر اور اسلام کے اجتماعی و
معاشرتی عمل میں عورت کا تعمیری حصہ۔ بلکہ بوجوہ اسے ایک ایسا رخنہ بنا کر چھوڑ دیا گیا جسے پر کرنے کو یہاں کے بے دین اور لادین ہی رہ جائیں! بلا شبہہ عورت کے دینی و دنیوی کردار کے موضوع پر اسلام اپنی خاص متعین "حدود" رکھتا ہے اور پھر اپنی خاص متعین "ترجیحات"۔ مرد و زن کا آزادانہ گھلنا ملنا اسلامی معاشروں کے اندر ممنوع ہی رہنا ہے۔ "پردہ" کا ادارہ مضبوط ہی کیا جانا ہے۔ محکمہءجنگلات کی اوور سیری یا نہروں کی کھدائی کی انجنیری ایسی نوکریاں بھی مسلمان عورت کی ضرورت ہیں اور نہ مرد و زن کی مساوات کو مغربی انداز میں حماقت بننے دینے کی یہاں ایسی کوئی گنجائش۔مگر وہ بہت سے دینی و معاشرتی احاطے جہاں ہمیں "نساء مؤمنات" کا کردار پھر سے زندہ کرنا ہے آئندہ کی وہ سماجی تبدیلی جو کہ ان شاءاللہ اسلام کے نقشے پر ہونے والی ہے اُس کا یہ ایک اہم حصہ ہوگی۔ ٭٭٭٭٭ اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف بڑھیں گے.. کوئی صدی بھر سے، ہمارے برِّ صغیر میں، یہاں کے بہت سے فکری و تحریکی حلقوں کے اندر، "دین" کے "مقصد و مزاج" اور "حقیقت و کردار" اور "انبیا کی جدوجہد کا نقطہ مرکزی" پر خوب بحث وگفتگو ہوتی آئی ہے اور ابھی ہوتی رہے گی۔ کئی ایک "مکتبِ فکر" اس حوالے سے اب باقاعدہ یہاں وجود رکھتے ہیں۔ یہ ایک صحت مند عمل ہے اور اس میں ابھی تک بہت اچھی اچھی جہتیں سامنے آ چکی ہیں۔ البتہ یہ ایک واضح امر ہے کہ بر صغیر کی فکری دنیا "عقیدہ اسلامی کی اصل روح" کو پانے کے حوالے سے پچھلی کئی صدیوں سے ایک "ارتقائی عمل" سے گزر رہی ہے، بے شک اس موضوع پر کئی ایک نے "حرفِ آخر" پہ پہنچ جانے کا دعوی کرلیا ہو اور اگرچہ اس کا "حرفِ آخر" کچھ دیر بعد خود اسی کو "حرفِ آخر" نظر نہ آتا ہو! جدیدیت کی وارداتیں بھی اسی لئے یہاں پر ہی سب سے زیادہ ہو رہی ہیں۔ گو جمود اور قدامت پسندی کی کچھ کہنہ مثالیں بھی سب سے زیادہ اور ایک بہت بڑی سطح پر ہمیں اپنے اس بر صغیر میں ہی ملیں گی.. اور ان دونوں کے مابین سب سے نایاب چیز "نقطہءوسط"!!!
البتہ ہمیں جو تشنگی ہے وہ یہ کہ "تعبیرِ دین" کے حوالے سے محمد بن عبد
الوہاب کے مکتبِ فکر کو جو کہ در اصل ابنِ تیمیہ و ابنِ قیم کا مکتبِ
فکر ہے، اور جو کہ ایک کامل و متکامل منہج ہے، کسی طرح یہاں برِ صغیر
کے ان فکری اور تحریکی حلقوں کے اندر باقاعدہ طور پر لے کر آیا جائے
اور __ اس کی چند عصری جہتوں کی حد تک __ سید قطب کے مکتبِ فکر کو بھی
جوکہ سید مودودی کے "ماقبل تقسیمِ ہند" منہج کی ایک عمیق تر و مرکوز تر
و ترقی یافتہ صورت ہے۔ ہمارا یہ مضمون اسی سمت میں ایک ناچیز کوشش ہو
گی۔ اس حوالے سے ایک باقاعدہ موضوعی objective انداز میں اور تفصیل کے ساتھ بات کی جانا تو ابھی باقی ہے اور وہاں ہمیں اپنے بر صغیر کے اندر منظرِ عام پہ آنے والے بعض مکاتبِ فکر کا ایک ملاحظہ اور ان کے مابین ایک موازنہ کرنے کی بھی شاید ضرورت پڑے۔ مگر یہاں اس وقت ہم نہایت اختصار کے ساتھ ہی "اپنے" اس منہج کا ایک مقدمہ اپنی بساط کی حد تک بیان کر پائیں گے۔ اِس مکتب کے توضیحِ مطالب میں، جس کے ویسے ہم ہرگز اہل نہیں، اور جو کہ کبھی بھی ہمارا موضوعِ مشق نہ بنتا اگر برصغیر کا یہ "خلا"جو کہ پھاڑ کھانے کو آتا ہے اور جو کہ اہلِ علم کے لئے پھر بھی موجود ہے ہمیں اس کیلئے بے صبر نہ کر دیتا، ہم سے البتہ یہاں جو تقصیر یا غلطی ہو اُس کو ہمارے ہی نقصِ بیان یا پھر کوتاہیِ فہم پر محمول کیا جائے۔ توفیق اور بخشش کیلئے ہم سب خدائے ذوالجلال ہی کے سوالی ہیں اور اسی کے در کے محتاج۔ ٭٭٭٭٭ حنیفیت: "تحقیق توحید" یہ دنیا جس نے بنائی ایک خاص ترتیب اور سلیقے سے بنائی ہے اور ایک نہایت خاص نقشے پر۔ اُس کے اِس نقشے اور منصوبے کو نظر انداز کرکے یہاں پورے ایک دھڑلے سے رہنے کی کوشش گو ایک بڑی دنیا کرتی ہے، کیونکہ کچھ دیر کیلئے انہیں اِس پر کچھ نہیں کہا جاتا، مگر یہ وہ پہلی اور آخری غلطی ہے جو یہاں رہ کر جانے والے یہاں کرتے ہیں اور وہ سب سے بڑا خطرہ جو وہ روزانہ مول لیتے ہیں۔ وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالإِنسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لاَّ يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لاَّ يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لاَّ يَسْمَعُونَ بِهَا أُوْلَـئِكَ كَالأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُوْلَـئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ (الاعراف: 179)
ہم نے کثیر جن اور انسان جہنم کیلئے رکھ چھوڑے ہیں؛ ان کو قلوب حاصل
ہیں مگر یہ ان سے سمجھ کا کام نہیں لیتے. یہ آنکھیں رکھتے ہیں پر ان سے
دیکھنے کا کام نہیں لیتے. کان رکھتے ہیں مگر ان سے سنتے نہیں ہیں. ان
کا حال چوپایوں جیسا ہے بلکہ ان سے بھی گمراہ تر. یہ ہیں وہ لوگ جو
"غافل" ہیں" وہ "انسان" کو اس اتنے بڑے جہان کے ایک بہت چھوٹے سے حصے پر اور ایک بہت تھوڑے سے وقت کیلئے لا کر رکھتا ہے۔ جیسے بس وہ اس میں کچھ دیکھنا ہی چاہتا ہو! اور جیسے وہ اِس کو اور اِس کے ذریعے اوروں کو کچھ دکھانا ہی چاہتا ہو! بلکہ جو آنکھیں کھولنے میں دیر کردے وہ جہالتیں اٹھائے یہاں سے رخصت ہو! پس ہم دیکھتے ہیں کچھ دیر بعد یہاں کا ہر انسان چپ چاپ یہاں سے غائب ہو جاتا ہے۔ اس چھوٹی سی جگہ پر بھی اِسے ’رہنے‘ نہیں دیا جاتا! "اشرف المخلوقات" کو یہاں کچھ ایسی عاجزی درپیش ہے کہ اس بظاہر لا متناہی کائنات میں دو گز زمیں بھی کہیں رہ پڑنے کیلئے، خواہ وہ کیسی بھی شرطوں پر ہو، میسر نہیں۔ آخر یہ اتنا بڑا سنسار کہ جس میں سیارے اور کہکشائیں سائیں سائیں کرتی ہیں، ہے کس لیئے!؟ ادھر اِس کے چاؤ اور اِس کی خواہشیں دیکھو تو گویا یہ پوری کائنات اِن کے پورا ہو جانے کیلئے کم ہے! ان آرزوؤں کے پورا ہونے کی کوئی جگہ ہی نہیں تو ُاس نے "عقل" اور "جذبے" اور "احساس" اور "چاہت" سے بھری اس مخلوق کے اندر یہ ڈھیر ساری پیدا ہی کیوں کر ڈالیں؟ کم از کم بھی وہ انکے پایا جانے کیلئے کوئی اور محل پیدا کرتا کہ ’کہیں اور جا بسیں‘! ایسا امتحان!! آخر کوئی جواب تو ہو!!! مجموعی طور پر بھی نوعِ انسانی کا وجود یہاں بہت پرانا نہیں۔ پس یہاں کچھ بڑے بڑے سوال ہیں اور کسی کے پاس ان کا کوئی جواب نہیں۔ مگر یہ سوال ایسے نہیں کہ ان کو ویسے ہی جانے دیا جائے۔ یہ تو انسان کو روز اندر سے کھاتے ہیں۔ اِس خردمند مخلوق کو روٹی کپڑا اور مکان کی یہ دوڑ لگوا رکھنے، کہ جس سے کسی وقت یہ اچانک پھسلے اور "قبر" میں جا پڑے، اور اس حسرتوں کے گھر کو اس کیلئے رنگین و آراستہ اور اس قبیح بڑھیا کے تن کو اس کے التفات کیلئے زرق برق پوشاک اوڑھا رکھنے کی سعی شیاطین کے ہاتھوں اس لئے تو ہوتی ہے کہ اس سے بہل کر یہ عقل کا پُتلا ان بڑے بڑے سوالوں کے جواب مانگنے سے کہیں رک جائے یا کم از کم بھی ان کیلئے زیادہ سنجیدہ نہ ہو جنکے جواب یقینی بات ہے کہ اِس کے اِس چھوٹے سے جہان سے باہر کہیں ہیں! بلکہ تو یہ اس میں مدہوش ہو کر ملے ہوئے جواب بھول جائے! شیطان کو غَرور (23) اور دنیا کو متاع الغُرور (24) قرآن میں کہا گیا ہے تو بھلا اس سے برجستہ لفظ ان دونوں کیلئے کہیں مل سکتے ہیں! ایسے چھوٹے اور ناپائیدار اور ایسے بے بسی کے جہان پر ریجھ جانا اور اسی کو کل متاع جان لینا اور مزے کی زندگی کے تعاقب میں یوں ہمیشہ کیلئے دفن ہو بیٹھنا وہ بھی اتنی ڈھیر ساری عقل رکھتے ہوئے اور قبرستانوں کی آبادی کو مسلسل بڑھتا دیکھتے ہوئے!
یہ واضح ہے کہ ان سوالوں کے جواب یہاں درختوں کی ڈالیوں کے ساتھ ہر جگہ
نہیں لٹکا رکھے گئے بلکہ انہیں فطرت کی لطیف تہوں میں چھپا سا دیا گیا
اور ان کے پڑھا جانے کیلئے صُحُف اور رُسُل کا ایک نفیس و پائیدار بند
وبست کرایا گیا تو یہ کچھ اس وجہ سے نہیں کہ "انسان"کو غبی جان کر اس
سے واضح تر بندوبست یہاں ممکن نہ تھا۔ ایک تو بنانے والے کی مرضی اور
دوسرا اس کی حکمت و دانائی، دونوں ہمارے محدود علم اور ہماری جلد باز
فرمائشوں کی پابند نہیں۔ پھر تیسرا، انسان کی وہ زبر دست اور حیرت
انگیز استعداد جس کے باعث کسی وقت اِسے باقاعدہ سجدہ ہوا تھا اور جس کی
تحقیر کرانا صرف شیطان کی تسکینِ خواہش ہو سکتی ہے۔ کیا یہ آدم کا بچہ یہاں بیٹھ کر اور دور بین میں آنکھیں دے کر خلاؤں میں دور دور تک نہیں جھانکتا!؟ حالانکہ خلاؤں میں اس کا پڑا کیا ہے؟! محض ایک تجسس؟ پر یہ تجسس تب کہاں چلا جاتا ہے جب انبیا اسے خدا تک لے کر جاتے ہیں اور آخرت کے وہ افق دکھا کر لاتے ہیں جہاں اس کا وہ ”سب کچھ“ پڑا ہے جسے یہاں یہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر مر گیا ہے مگر اس کو کہیں اس کا نشان تک نہیں ملا؟؟! کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک انسان کا جب جنازہ اٹھتا ہے تو اس کے ساتھ اس کا کیا کچھ اٹھ جاتا ہے!!! "آگے" کی بابت، اور "پیچھے" کی بابت، اور سب سے بڑھ کر "یہاں" کی بابت کیا انبیا سے پڑھے بغیر کچھ چارہ ہے؟! پس اس امر کیلئے.. انبیا کا اس جہانِ آب و گل اور اس عالمِ رنگ و بو میں استقبال کرنے کیلئے.. اور ان کی وساطت "حقیقت" کے چشمے سے سیراب ہونے کیلئے.. جہاں ہمیں ایک صاف شفاف "فطرت" ودیعت کی گئی اور ایک دور رسا "عقلِ سلیم" عطا ہوئی اور بندگی کے جذبے سے آراستہ و پیراستہ ایک "قلب" مہیا کیا گیا وہاں البتہ اس کو امتحان اور جانچ کا ذریعہ بنانے کیلئے "شرورِ انفس" بھی ہمارے اندر فٹ کردیئے گئے۔ ہمارے درون میں بیک وقت پس وہ آلات بھی نصب ہیں جو عالمِ ملکوتی سے اتصال کریں اور وہ آلات بھی جو شیاطین کی نشریات موصول کریں۔
یہی نہیں بلکہ ان آلات کی اصلاح و نگہداشت اگر روز مرہ بنیاد پر نہ ہو
___ جوکہ "صبر" اور "صلوۃ" ہے اور "ذکر" اور "خشوع" اور "تسبیح و
تہلیل" (توحید).. جبکہ اس سے پہلے "عِلم" اور "بصیرت" اور "تواصی
بالحق" اور "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" اور "اولیاءالطاغوت" کے
روبرو "جہاد فی سبیل اللہ اور اصلاحِ ارض" کا راستہ اختیار کرلیا گیا
ہو ____ غرض "شرورِ انفس" اور "سیئاتِ اعمال" سے، اور ان کی راہ سے
شیاطین کی آماجگاہ بن رہنے سے، خدا کی پناہ میں آنے کا نظام یہاں ایک
بہت چالو حالت میں نہ رکھا گیا ہو.... تو "نفس" کی سطح پر بھی اور
"ماحول" کی سطح پر بھی یہ آلاتی نظام اس قدر درہم برہم ہو سکتا ہے کہ
ہدایت اور ضلالت سب کچھ اس میں خلط ہو جائے اور تب اس کارگہِ زَر خیز
کے اندر سے مختلف اندرونی و بیرونی عوامل کے زیرِ اثر قسما قسم ملغوبے
برآمد اور بھانت بھانت کے پروگرام نشر ہوں؛ کبھی عقائد کے نام پر، کبھی
مذاہب کے نام پر، کبھی تہذیب کے نام پر، کبھی رسم و رواج اور کبھی
نظریات کے نام پر، کبھی نظام اور دستور اور قانون کے نام پر.. کبھی خدا
کے نام پر تو کبھی انسان کے نام پر، کبھی سماج تو کبھی جنتا، کبھی باپ
دادا و قبیلہ برادری تو کبھی قوم ملک اور سلطنت، کبھی ترقی و خوشحالی
تو کبھی علم و فن اور حُسن و محَبّت، کبھی عقل اور فکر تو کبھی ذوق اور
معرفت.. جبکہ وہ سب حسرت
(25) اور جہنم کا سامان ہوتا ہے اور ایک بے حد
وقتی زینت و آرائش اور دل کے خوش رکھنے کی ایک صورت، ذہین لوگوں کیلئے
کوئی تو کم ذہینوں کیلئے کوئی اور۔ ٭٭٭٭٭ پس یہاں پار لگنے کیلئے __ خدا کی مدد و توفیق کے بعد __ دو باتیں آدمی کا اصل سہارا ہیں: ”فطرت کی سلامتی" اور "خدائی تنزیل" کی "خالص حالت میں" اور "صحیح فہم و تطبیق کے ساتھ" دستیابی۔ان دونوں کا تحفظ البتہ جس چیز میں مضمر ہے وہ ہے "نفس" اور "ماحول" کے اندر ”اہوائ“ اور "ظنون" کے لشکروں کے خلاف انسان کا مسلسل اور ہر سطح پر رو بہ جہاد رہنا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے جسم کے اندر خون کے مرض شکن جسیمے کوئی لمحہ بھر توقف کئے بغیر، مسلسل، برسرِ عمل رہتے ہیں اور کبھی اس ’انتظار‘ میں نہیں رہتے کہ مرض پہلے بڑھے اور نمایاں ہو جانے کی سطح کو پہنچے تو پھر یہ اپنا ’عمل‘ شروع کریں! مرض پایا جائے یا نہ، اور مرض تو کب نہیں پایا جاتا، پس یوں کہیئے مرض دور دور تک کہیں نظر آئے یا نہ، ان کو اس کے خلاف مسلسل حرکت میں رہنا ہوتا ہے۔ جتنا کوئی جسم آپ کو صحت مند اور مرض سے دور نظر آئے اتنا ہی اس کے یہ مرض شکن جسیمے در حقیقت مستعد اور صحیح کام کر رہے ہوں گے۔ پس دینِ انبیا پر پایا جانے والا کوئی شخص اپنی اس ایمانی کیفیت میں جو خدا کے ہاں قبول ہوتی ہے ___ نہ کہ دینداری کا وہ عام رائج تصور جسے دنیا معتبر جانتی ہے _ ایمان کی اس حقیقی عکاسی میں جتنا زیادہ کوئی آپ کو صحت مند اور قابلِ رشک نظر آئے اس کا راز اسی قدر اُس کا "نفس" اور "ماحول" کی دنیا میں باطل کے خلاف برسرِ جنگ ہونا ہوگا۔ "باطل" در اصل "مرض" ہی کا نام ہے جو انسانی "نفس" اور انسانی "معاشرے" کو اپنی انتہائی صورت میں "ہلاک" کر ڈالتا ہے، اور اپنی ایک آخری انتہائی حالت میں یہاں نوعِ انسانی کا وجود ہی ختم کرادے گا۔ (30) یہ بات نہ ہو تو آپ ابو الحنفاءابراہیم علیہ السلام کو قریب قریب اپنے اختتامِ حیات پر گڑگڑا کر خدا سے یہ "دعا" کرتا دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں: وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الأَصْنَامَ ۔ (31) یعنی "مجھے بچائیو اور میری اولاد کو بھی کہ ہم بتوں کو پوجنے لگیں“.. ”بتوں کو پوجنے لگیں“!!! ابراہیم علیہ السلام؟!! ابو الانبیاء، قدوۃ الحنفاء، رئیس الموحدین؟!! ساری زندگی توحید پر ہی تو گزری! ڈھیر ساری ہجرتیں اسی راہ میں تو ہوئیں! کلہاڑے ان بتوں پر ہی تو برسائے! پکار اسی توحید کی تو لگائی! مگر اس میں حیرانی کی کیا بات؟! یہ، جیسا ہم نے کہا، وہی "مزاحمت" ہے جو در اصل "صحت مندی" کی علامت ہے نہ کہ محض "بیماروں" کی ضرورت!!! پس "حنیفیت" دینداری کی ایک خاص موحدانہ کیفیت کا نام ہے جو خدا کا نام یہاں ایک خاص سلیقے سے لیتے ہیں اور رشکِ خلائق ٹھہرتے ہیں۔ ان کا خدا کو "سجدہ" کرنا، ان کا خدا کی "تسبیح" کرنا، ان کا خدا کو اپنا "معبود" کہنا، "دعا" کیلئے ان کا خدا کے آگے "ہاتھ اٹھانا"، خدا کی "تعظیم"، خدا کی "کبریائی"، خدا کی "شریعت پہ چلنا"، خدا کی "حدوں کو پہنچاننا"، خدا کو پسند آنے والا "کردار" اور "اخلاق" اپنانا، "مواساتِ یتیم"، "اطعامِ مسکین"، "خدمتِ خلق"، "اصلاحِ معاشرہ".. ان کی ہر چیز میں خدا آشنائی کا ایک خاص رنگ اور خدا آگاہی کا ایک خاص اعتماد جھلکتا ہے اور ان کے "عمل" کے اندر ایک خاص "جان" ہوتی ہے. "اکثریت" میں تو کم ہی یہ کبھی ہوئے ہیں، اور جب ایسا ہو تو دھرتی دہلتی ہے، "اقلیت" میں بھی ہوں تو پتہ چلتا ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ دنیا ان کا ایک "وزن" محسوس نہ کرے۔ پس "حنیفیت" ہر اندازِ دینداری سے ایک مختلف انداز ہے۔ (32) اس کے سوا جو اندازہائے دینداری ہیں یا تو وہ ابتداءً "ظنون اور اہواء" ہیں، یعنی خدا کے نام پر اور خدا کی بابت اور خدا کی منشا و مقصود کے تعین کے معاملہ میں نری من گھڑت باتیں اور جاہلانہ خواہشیں جو کہ ہر شرک کی تہہ میں پڑی ہوتی ہیں.. یا پھر خدا کی اتاری ہوئی "حقیقت" کے اندر "ظنون اور اہواءکی آلائش" جو کہ خدا کے دین کے اندر انسانی تحریف ہو جانا ہے، خواہ وہ لفظی ہو اور خواہ معنوی۔ دینداری کی یہ دونوں صورتیں در اصل خدا پر جھوٹ باندھنا ہے، جس سے بڑھ کر دنیا کے اندر ظلم اور اندھیرا کردینے کا کوئی تصور ہی نہیں۔ (33) یعنی ایک تو انسان کا اندھیرا اور پھر خدا کے نام پر۔ عالمِ اسلام کے اندر بھی وہ سب رجحانات جن کا منبع و مصدر، کسی بھی صورت میں، یہ جاہلیت اور یہ شرک ہو اپنے اپنے درجے کے مطابق اسی دشمنی اور مخاصمت کی بنیاد پہ لئے جانا ہیں اور اس امت کے مصلحین و مجددین ،لے کر احمد بن حنبل سے آج تک، اس کو ___ ایک خاص منہج اور طریقِ کار پہ کاربند رہتے ہوئے، جسے کہ اصولِ اہلسنت کہتے ہیں ___ اسی انداز میں لیتے رہے اور اس پر اسی انداز میں تیشے برساتے رہے۔ ٭٭٭٭٭ باطل اور جاہلیت کا اصل "خلاصہ"، اور انسانی نفس اور معاشرے میں اترنے کیلئے شیاطینِ جن انس کا حقیقی "مدخل" اگر یہی ہے جو اوپر بیان ہوا، اور جو کہ یا خدا کی بابت ابتداءً "ظنون اور اہوا" ہیں اور یا پھر خدا کی بابت "درست" تصور کے اندر "ظنون اور اہواءکی آلائش".... تو پھر جاہلیت کی اِس ہر دو صورت کے خلاف برسرِ جہاد ہونا دینِ انبیاءکا وہ مقدمہ ہے جو کہ "نفی" سے عبارت ہے اور جو کہ کلمہ توحید کے "شطرِ اول" یعنی "لا الہ" کے تحت مندرج ہوتا ہے۔ کلمہ توحید کے شطرِ ثانی تک جانے کیلئے "یہاں" سے "باقاعدہ" گزر کر جانا اِس منہج کا ایک اہم شعار ہے۔ خدا کی طرف آنے کا ایک خالص، زوردار اور جاندار دھارا "نفس" کی سطح پر بھی اور "معاشرے" کی سطح پر بھی دراصل یہیں سے تشکیل پا جاتا ہے..
بنا بریں، "خدا" کے نام پر "غلط بات نہ کرنا" اور ایسا کرلینے کو وجود
کا سب سے بڑا اور سب سے گھناؤنا اور سب سے تباہ کن "جرم" جاننا ہی
اسلام کا وہ اصل جوہر ہے جو یہ دیگر ادیان کی نسبت رکھتا ہے۔ خدا نے تو اپنی وحی اتارتے وقت ان فضاؤں اور خلاؤں تک میں پہرے بٹھا دیئے کہ اُس کے نام پر کوئی جھوٹ شیاطین کی جانب سے اس میں خلط نہ ہو جائے، کیونکہ سب سے بڑا ظلم ہے ہی خدا اور دین کے نام پر وہ بات کرنا جو کہ خدا نے نہیں کہی، اور کیونکہ خدا کے نام پر کسی اور کی بات کا مطلب ہوگا خدا کے نام پر کسی اور کی اطاعت وبندگی ہونے لگنا یعنی خدا کے سوا کسی اور کا خدا ہو رہنا۔ مگر "تقاربِ ادیان" کے یہ داعی یہاں اِس "فرق"ہی کو اور اسلام کے اس اصل جوہر ہی کو نگاہوں کے سامنے ملیامیٹ کر دینا چاہتے ہیں۔ یعنی پہلے اسلام کو اس کے اس اصیل ترین "امتیاز" سے ہی محروم کردیا جائے کہ جس کے باعث، اور پہلی شرائع کے اپنی اصل حالت میں دستیاب نہ رہنے کے سبب، در اصل اس کا نزول ہوا تھا۔ یا کم از کم بھی اس کے اس "امتیاز" کو پسِ منظر میں جانے دیا جائے۔ پھر یہ کارنامہ کر کے، اسلام کو ’ادیان‘ جیسا ایک دین ہونے کی بدصورتی کا تمغہ پہنا کر، سمجھا جائے کہ یہ ہوئی اسلام کی عصری خدمت! پھر، ایک بڑی خلقت نے ادیان کو ان کا "اندھیرا" دیکھ کر ہی تو چھوڑا ہے، کہ ان کو اس میں فطرت کی وہ روشنی نظر نہیں آئی جو "خدا" کے نام پر پائی جانی چاہیئے! آخر چرچ سے دنیا کیوں بھاگی؟ ہندومت، بدھ مت، پارسیت سب کے "آثارِ قدیمہ" بن رہنے کے دن آیا ہی تو چاہتے ہیں اور پیاس کی ماری ایک دنیا اپنی یہی "پیاس" بجھانے کیلئے آج "اسلام" کی طرف بھاگی آرہی ہے تو وہ "اسلام" کی اِسی اصیل خاصیت کے باعث اور ادیان سے یکسر ایک مختلف "دین" ہونے کے باعث اور "اسلام" کے اسی امتیاز کی کشش میں ہی! کیا اسلام کے یہ محسن ذرا دیر اسلام کو اس کے اپنے حال پہ چھوڑ سکتے ہیں!؟ ٭٭٭٭٭ البتہ "باطل" اور "شرک" یہاں "دینداری" کے رنگ میں بھی پایا جا سکتا ہے اور "غیر دینی" اسلوب میں بھی ۔ نام سے کوئی بھی فرق نہیں پڑتا۔ "ظنون" اور "اہواء"، جو کہ "جاہلیت" اور "عبادتِ طاغوت" کا لبِّ لباب ہے، اِس رنگ میں پائے جائیں یا اُس رنگ میں، زمین پر "حق" کی اتباع سے کوئی مفر نہیں۔وجود کا مقصد بروئے کار لانے کی، اور دنیوی و اخروی ہلاکت کی آخری صورت میں جا پڑنے سے تحفظ کی، اول و آخر بس یہ ایک ہی صورت ہے یعنی "نفس" اور "ماحول" کے اندر صرف اس "حق" کا احقاق اور قیام جو انبیا کے قلوب پر اترتا ہے اور جس کے سوا کسی چیز کا انسانوں پر ماننا اور اس کے آگے انسانی نفوس اور انسانی بستیوں کا نسل در نسل سرِ تسلیم خم کرتے چلے جانا نہ صرف درست نہیں بلکہ یہ انسان کی تحقیر ہے اور خدا کے حق کی توہین۔ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنفُسُ وَلَقَدْ جَاءهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَى أَمْ لِلْإِنسَانِ مَا تَمَنَّى فَلِلَّهِ الْآخِرَةُ وَالْأُولَى ( النجم23-25) یہ نہیں پیچھے چلتے مگر نرے ظن کے اور اہوائے انفس کے، جبکہ ان کے پاس خاص ان کے پروردگار کی جانب سے راہنمائی آ چکی. کیا یہ انسان، جو یہ کہہ دے سو اِس کا ہوا؟! پس اللہ ہی کا ہے اگلا جہان اور اللہ ہی کا ہے یہ جہان! ٭٭٭٭٭
"شرک" کا ہمارے اس دور میں ایک نیا روپ اختیار کر لینا اور دنیا کے ایک
بڑے حصے سے شرک کے کچھ پرانے "مظاہر" کا ایک بڑی سطح پر روپوش ہو جانا
بھی یہاں"تحقیقِ توحید" کی راہ کا ایک بڑا معضلہ بن گیا.. آج کے اس انسان کو، پرانے دور کے انسان کے برعکس، خدا کے نام پر جھوٹ گھڑنے کی ضرورت نہیں رہی۔ کیونکہ پرانے دور کا انسان خدا کا اتنا پاس ضرور کرتا تھا کہ سچ یا جھوٹ جو کرے اُس کے نام پہ کرے اور معاشروں کو جیسے چلائے اس کا یا اس کے نام نہاد اختیار بخشیدگان کا نام لے کر چلائے۔ اتنی جرات اُس میں ابھی بہر حال نہ ہوئی تھی کہ خدا کو سائڈ پہ کردے اور اس کا "نام" لیا جانے کے واقعہ کو عبادت خانوں میں قید کر کے آئے بلکہ "معاشروں" کی ڈگر کو خدا اور مذہب کے دائرہ اختیار میں آنے کا جہالت کے نام سے ذکر کرے۔ پس یہ "خدا" کو ایک اختیار سے باقاعدہ فارغ کر چکا ہے۔ خدا کو، اس باب میں، اس کے نزدیک کسی خاطر میں لایا ہی نہ جانا چاہیئے۔ معاذ اللہ۔ اُس کے نام سے جھوٹ نہ سچ، کسی بات کی ضرورت ہی نہیں!"خدا"کو اب جس جگہ سے بے دخل کیا گیا، معاذ اللہ، وہ جگہ انسان نے خود لی۔ پس یہ، بغیر کسی لاگ لپیٹ، خدا سے آزاد ہونے اور انسان اور مادہ کے آپ خدا ہونے کا دور ہے۔ یہ شرک کی بدترین اور جرات مند ترین صورت ہے۔ اس بڑی سطح پر یہ انسانی دنیا کے اندر ایسا پہلا اور انوکھا واقعہ ہے۔ اور چونکہ ایسا ہے، اور چونکہ وہ "پرانے زمانے کا شرک" آج کی ان جدید سوسائٹیوں کے معاشرتی عمل کے اندر ڈھونڈنے بھی نکلو تو کہیں نہ ملے، لہٰذا ہمارے وہ داعیانِ عقیدہ جو شرک کی ایک خاص صورت ہی سے مانوس تھے نہ کہ شرک کے اُس اصل جوہر سے جو ہزار صورت میں پایا جا سکتا ہے، انہیں بہت کم یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ یہ اس کا "شرک" کے نام پر رد تک کرپائیں!
پتھر اور لکڑی کے "بت" ان کو یہاں کہیں نظر نہیں آئے تو بہت سے موحدین
کے ہاتھوں میں اس کیلئے "تیشے" بھی دکھائی نہ دیئے! بلکہ ان کے ہاں یہ
مسئلہ سرے سے "عقیدہ" کے احاطے میں ہی نہ پایا گیا! بہت سے تو اس کو
مسئلہ ہی ماننے پر تیار نہیں اور نہ مسائل کی کسی فہرست پہ آنے دینے پر
آمادہ! ٭٭٭٭٭ انسانی زمین پہ اترتے رہنے کیلئے پس شیاطین کو یہ دو ہی اڈے حاصل ہیں اسی وجہ سے آپ دیکھتے ہیں یہ دونوں ہر وقت قرآنی "رجوم"۔ (35) کی زد میں رہتے ہیں۔ ایک "اہواء" جوکہ "فطرت" کو کثیف اور بالآخر مسخ کر جاتی ہیں اور اس میں حقیقت کو، چاہے وہ لا کر اس کے سامنے ہی دھر دی جائے، "دیکھنے" کی صلاحیت نہیں رہنے دیتیں، بلکہ بسا اوقات تو "فطرت" کا یہ "مسخ" ہو جانے کے باعث اِسے پھر کچھ سے کچھ نظر آتا ہے جوکہ بدبختی اور گم گشتگی کی ایک آشوب نا ک صورت ہے۔ دوسرا "ظنون" جوکہ انسان کیلئے اُس "مطلق حقیقت" کا متبادل بنادیئے جاتے ہیں جس کا اہلِ زمین کو ابلاغ کرانے کیلئے آسمانوں کا مالک اور روشنی کا خالق صرف اور صرف انبیا کے قلوب کا انتخاب کرتا ہے، جبکہ یہ "ظنون"بھی بالآخر انسان کی "فطرت" کو ہی اور اس کے ان قدرتی قویٰ کو ہی جو کہ خدا کو پوجنے اور خدا کے ساتھ معاملہ کرنے کیلئے انسان کو حاصل ہیں، خاک آلود کرتے ہیں۔
"ظنون" اور "اہوا"، جو کہ "عبادتِ طاغوت" کی اساس ہیں، چنانچہ قدیم ہوں
یا جدید، مذہبی ہوں یا غیر مذہبی، پڑھے لکھوں کے ہاں پائے جائیں یا ان
پڑھوں کے ہاں، نری ہلاکت ہیں۔ "حق" کی اتباع سے کوئی چیز کفایت نہیں
کرتی۔ اِس معاملے کو اتنا ہی دوٹوک ہو کر "انسان" پر واضح کیا جانا ہے۔ إِنَّا بُرَاء مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاء أَبَدًا حَتَّى تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ (الممتحنۃ: 4) "ہم بری و بیزار ہوئے تم سے اور ان سب ہستیوں سے جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر معبود ٹھہراتے ہو۔ ہمارا کفر ہوا تمہارے ساتھ، اور کھلی عداوت اور بغض ہے ہمارے اور تمہارے مابین اب ہمیشہ ہمیشہ کیلئے یہاں تک کہ تم ایک اللہ وحدہ لا شریک پر ہی ایمان نہ لے آؤ"
زندگی تو وہی زندگی ہے مگر اس کا لطف سب سے زیادہ ایک صحت مند ترین شخص
ہی لے سکتا ہے۔ جبکہ صحت مندی کا اصل راز، جیسا کہ ہم نے کہا،
"آثارِمرض" کے خلاف جسم کا ایک زور دار ترین اور ہمہ وقت سرگرمی رکھنا
ہے۔"غذا" کا درجہ اس کے بہت بعد آتا ہے، بلکہ غذا کا لطف ہی اس ”صحت“
کا مرہونِ منت ہے۔ بعینہ اسی طرح.. ایمان، عبادت اور بندگی، جو کہ
"زندگی" ہی کا دوسرا نام ہے، کا سب سے زیادہ لطف وہی شخص لے سکتا ہے جس
کی باطل سے براءت اور عداوت اور مزاحمت سب سے زیادہ جاندار ہو۔ "خدا سے
تعلق" کی ایک خاص جاندار کیفیت بھی، جو کہ "تعبیرِ دین" کے تحت بجا طور
پر ذکر ہونی چاہیئے، اور جو کہ محض خدا کی بابت میٹھی میٹھی باتیں کر
لینا نہیں، در اصل ایسے ہی باطل بیزار دل کے اندر جنم پاتی ہے اور
ابراہیم علیہ السلام نے خدا سے جس "قلبِ سلیم" کا سوال کیا اس کی تفسیر
(39) بھی
در اصل یہی بنتی ہے۔ پس نجات ہے تو یہ "توحید" اور یہ "اتباع"۔ اب اگر دو جہاں کی سرخروئی کا بس یہی ایک عنوان ہے.. عالمِ وجود میں انسان کے پریشان ہونے کی اس سے بڑی کوئی بات اگر کبھی پائی ہی نہیں گئی.. تب تو اِس "توحید" اور اِس "اتباع" میں اس کا لہجہ جتنا ٹھیٹ اور گہرا ہو.. اور "بندگیِ طاغوت" کے خلاف، جو کہ "توحید" کی ضد ہے، اور "ابتداع" و "غی" کے خلاف، جو کہ "اتباع" کی ضد ہے، اِس کی مزاحمت جتنی شدید ہو اتنی ہی کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موحدین، جو کہ اس کرہ ارض پر پائی جانے والی وہ واحد صنف ہے جو "خدا" کا درست پتہ رکھتی ہے، "توحید" اور "اتباع" کے اِن تذکروں میں اور "عبادتِ طاغوت" اور "غی و ضلال" سے اِس اظہارِ عداوت میں وہ لذت واطمینان اور وہ ناقابلِ بیان لطف پاتے ہیں کہ کوئی شخص جو وہ نہیں جانتا جو یہ جانتے ہیں اِنہیں نرا مفتون (42) سمجھے۔ بلکہ دونوں ہی ایک دوسرے کو کسی اور دنیا کا سمجھیں تو کیا تعجب! اتنی بڑی بات کو "جاننا" اور "نہ جاننا" برابر تو نہیں ہو سکتا!
قُلْ هَلْ يَسْتَوِي
الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا
يَتَذَكَّرُ أُوْلُوا الْأَلْبَابِ
(الزمر:9)
انسان کی یہ "استعداد" جو ایک خاص انداز اور سلیقے سے اپنے "خالق" ہی
کی جانب "متوجہ" اور سب "غیر" ہیستوں سے "بیزار" ہو جانے کیلئے اس کے
اندر رکھی گئی ہے.. اُس "خاص انداز اور سلیقے" سے جس کو ابھی ہم
"توحید" اور "اتباع" کہہ آئے ہیں.. "نفس" کی سطح پر بھی اور "معاشرے"
کی سطح پر بھی.. پہلے استعمال کی صرف ایک مثال: إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاء مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ ( الزمر 2,3) ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف حق کے ساتھ نازل کی ہے پس تم بندگی کرو اللہ ہی کی، دین (بندگی) کو سارا کا سارا اسی کیلئے خاص اور خالص کر رکھتے ہوئے۔ خبردار! دین (بندگی) خالص اللہ کا حق ہے۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے اور "صاحبانِ حق" پکڑ رکھے ہیں کہ ہم تو ان کو پوجتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرادیں یقیناً یہ لوگ جس اختلاف پر ہیں اس کا (سچا) فیصلہ اللہ خود کرے گا۔ اللہ اس کو ہرگز ہدایت نہیں دیا کرتا جو جھوٹا اور ناشکرا ہی ہو گیا ہو دوسرے استعمال کی ایک مثال:كِتَابٌ أُنزِلَ إِلَيْكَ فَلاَ يَكُن فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنذِرَ بِهِ وَذِكْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ اتَّبِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلاَ تَتَّبِعُواْ مِن دُونِهِ أَوْلِيَاء قَلِيلاً مَّا تَذَكَّرُونََ (1,2 - الاعراف) ایک کتاب جو تم پر نازل کی گئی، پس ہرگز کوئی تنگی نہ ہو اس سے تمہارے سینے میں، کہ ڈراؤ تم اس کے ذریعے سے اور ایمان لانے والوں کو یاددہانی ہو. (انسانو!) پیچھے چلو اس کے جو تمہاری جانب نازل کیا گیا اور نہ پیچھے چلو اُس ایک کے سوا کسی "صاحبانِ حق" کے۔ کم ہی تم نصیحت مانتے ہو" انسان کے اس جوہر کو، جس پر صرف خدا کا حق ہے، کوئی اور اٹھا لے جائے اور خدا کے سوا اپنی طرف پھیر لے، اس سے بڑی اور اس سے گھناؤنی واردات قابلِ تصور نہیں۔ حدیث میں واقعتاً اس کیلئے "ڈکیتی"، "لوٹ لے جانے" اور "یرغمال کر لے جانے" کے مترادف لفظ استعمال ہوا ہے: عَن عِیَاضِ بنِ حِمَارٍ ال مُجَاشِعِیِّ ا نَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ یَو مٍ فِی خُطبَتِہِ ا لَا انَّ رَبِّی امَرَنِی ان ا عَلِّمَکُم مَا جَہِلتُم مِمَّا عَلَّمَنِی یَو مِی ہَذَا کُلُّ مَالٍ نَحَلتُہُ عَبدًا حَلَال وَ انِّی خَلَقتُ عِبَادِی حُنَفَاءَ کُلَّہُم وَ انَّہُم اتَتہُم الشَّیَاطِینُ فَاجتَالَتہُم عَن دِینِہِم وَحَرَّمَت عَلَیہِم مَا احلَلتُ لَہُم وَا مَرَتہُم ا نیُشرِکُوا بِی مَا لَم ا نزِل بِہِ سُلطَانًا (43) بروایت عیاض بن حمار المجاشعی رضی اللہ تعالی عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: خبرداررہو! میرے رب نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں تمہیں وہ کچھ سکھاؤں جس سے تم لاعلم رہے ہو، جو کہ آج اِس روز میرے رب نے مجھے سکھایا: بے شک ہر وہ مال جو میں نے کسی بندے کو بخش رکھا ہے حلال ہی ہے۔ اور بے شک میں نے اپنے بندوں کو، سب کے سب کو، حنفاء(خدائے واحد کی بندگی وفرماں برداری، کہ جس میں دیگر ہر رواج اور نظام سے قطعی رخ پھیر رکھا جائے، کی قابلیت کے ساتھ) پیدا کیا، اور بے شک پھر شیاطین ان پہ آئے اور ان کو ان کے اس (صحیح) طرزِ بندگی سے ڈکیتی کر کے لے گئے اور لگے ان پر حرام کرنے جو میں نے ان پر حلال کر رکھا تھا اور ان کو اکسانے اس بات پر کہ وہ میرے ساتھ ان چیزوں کو شریک کریں جس کی کہ میں نے کبھی کوئی دلیل اور حجت ہی نہیں اتاری پس یہ صرف "حنفاء" ہیں جو ملتِ شرک سے اپنی بیزاری و عداوت اور بندگیِ طاغوت کے خلاف اپنے جہاد اور اسکے مدِ مقابل ہر دم چوکنا اور مسلسل ہتھیار اٹھا رہنے کے باعث خدا کے فضل سے یہاں محفوظ رہتے ہیں.. یہ صرف "حنفاء" ہیں کہ جو زمین پر شیاطین کی ان وارداتوں کو، جن میں دنیا روز لُٹتی ہے کیا "قدیم" انسان اور کیا "جدید" سوسائٹی اور تہی دست و درماندہ ہو کر یہاں سے "گھر" لَوٹتی ہے، اپنے اوپر کامیاب نہیں ہو جانے دیتے اور یوں زمین پر سلامتی کی امید اور بقائے انسان کی ضمانت بنے رہتے ہیں.. اور جو اپنے اُس جوہر کو جو خدا کی جانب التفات کیلئے "انسان"کو عطا ہوتا ہے اپنی سب سے قیمتی متاع جانتے ہیں اور اس کو عین اس کے محل پر ہی، اور ایک خاص سنت سلیقے سے، نچھاور کرکے آتے ہیں اور جو کہ ایسا محل ہے کہ جس قدر نچھاور کرو اسی قدر "اور" ملتا ہے اور زیادہ سے زیادہ خالص ہو کر۔ پس "موحدین" یہاں اس جہان میں بھی خدا کے فضل کی جس بارش میں نہاتے ہیں وہ پوری ایک جنت ہے جہاں ان کو روز ایک ”رزق“ ملتا ہے اور اگلا جہان تو کہ جہاں "باقیاتِ صالحات" در اصل کام آئیں گی ہے ہی، پورا کا پورا، انکا..
٭٭٭٭٭ یہاں عیاض المجاشعی رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث پر، جو کہ ابھی اوپر ذکر ہوئی، اور جو کہ "حنیفیت" کی ایک اہم جہت بیان کرتی ہے، ہم ذرا دیر رکنا چاہیں گے..
کُلُّ مَالٍ نَحَلتُہُ عَبدًا حَلَال "بے شک ہر وہ مال جو میں نے کسی
بندے کو بخش رکھا ہے حلال ہی ہے"۔
پس آج کے یہ خدا آزاد معاشرے جو کہ اشیا کو روا رکھتے ہیں مگر "شرعی
تحلیل" کے باب سے نہیں یعنی اس بنیاد پر نہیں کہ یہ "خدا کا مال" ہے
اور "خدا کا حلال کردہ" بلکہ یہ "شرعی تحلیل" ان کے ہاں سرے سے کوئی
سوال ہی نہیں، اور اشیا ان کے ہاں اپنے روا ہونے کی صفت اس بات سے پاتی
ہی نہیں کہ "یہ خدا کے ہاں قابلِ اعتراض نہیں"، بلکہ اشیا اپنے روا
ہونے کی یہ صفت ان کے ہاں کسی اور بات سے پاتی ہیں خواہ وہ کچھ بھی ہو۔
حنیفیت یعنی دینِ حق اور دینِ فطرت اور دینِ انبیا سے بہکے ہوئے ہونے
میں یہ اتنے ہی گمراہ ہیں جتنے کہ وہ جو اشیا کے حرام یا روا ہونے کو
سیدھا سیدھا "غیر" ہستیوںسے لیتے تھے اور جن کی جانب حدیث میں اس کے
مابعد الفاظ کے اندر اشارہ ہے۔ شیاطین اُن کے "اولیاء" تھے اور شیاطین
اِن کے "اولیاء" ہیں۔
انَّا جَعَل نَا الشَّیَاطِینَ ا و لِیَاءَ
لِلَّذِینَ لَا یُؤ مِنُونَ "بے شک ہم نے شیاطین کو ایمان نہ رکھنے
والوں کے "اولیاء" بنا دیا ہے"
”یہ اشارہ ہے اُس تحریم کی طرف جو وہ اپنے اوپر ٹھہرا لیتے تھے بسلسلہ
بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حا میہ“۔
(44) (جاہلیت میں مویشیوں کے حرام
ٹھہرائے جانے کی مختلف صورتیں جن کا سورہ المائدہ:103 میں ذکر ہے) چنانچہ، دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں وہ لوگ مردار جانور کو "حلال" ٹھہراتے تھے، جو کہ "حنفاء" کے نزدیک حرام رہا ہے، اور اس (مردار کے حلال ہونے) پر جو طرح طرح کی دلیلیں دیتے تھے اس پر ان کی جانب سے ’بتوں‘ وغیرہ کا کوئی حوالہ دینا کہیں مذکور نہیں۔ جو بھی دلیلیں تھیں وہ "عقلی" تھیں یاپھر " سماجی " مثلاُ یہ کہ آخر اس میں حرج کیا ہے!؟ (وہی ہمارے روشن خیالوں کی دلیل!) اور یہ کہ ’جس کو خدا مار دے وہ حرام (45) اور جس کو تم خود مارلو وہ حلال‘! اور وہ ایسی ہی شیاطین کی پڑھائی ہوئی پٹیاں پڑھ کر اہلِ ایمان سے جدال کرتے تھے۔ (46) اس پر اللہ تعالی نے آیت اتاری:وَلاَ تَأْكُلُواْ مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَآئِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ
"نہ کھاؤ اس سے جس پر نہ لیا گیا نام خدا کا اور یہ ہے یقیناً ایک
فسق۔ اور شیاطین وحی کرتے ہیں اپنے چیلوں کو کہ بحث کریں یہ تم سے۔ اور
اگر تم نے ان کی بات تسلیم کرلی تو یقیناً تم مشرک ہو"
"وَإِنْ
أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ
یعنی
جب تم اللہ کے امر اور اس کی شرع سے عدولی کرکے کسی اور کے قول و قرار
کی طرف چلے گئے تو تم نے اُس پر اُس کے غیر کو مقدم رکھا اور یہی شرک
ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرما رکھا ہے:(اتَّخَذُواْ
أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللّهِ
وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُواْ إِلاَّ لِيَعْبُدُواْ
إِلَـهًا وَاحِدًا لاَّ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا
يُشْرِكُونَ "انہوں نے پکڑ لیا
اپنے احبار اور اپنے رہبان کو خدا کو چھوڑ کر اپنے رب اور مسیحعلیہ
السلام بن
مریم کو بھی، جبکہ نہ حکم دیا گیا تھا اِن کو مگر اس کا کہ یہ عبادت
کریں بس الہِ واحد کی۔ کوئی ہے ہی تو نہیں عبادت کے لائق مگر وہ۔ پاک
ومنزہ ہے وہ اس سے جو یہ شریک ٹھہراتے ہیں۔" (التوبہ:31)) جبکہ ترمذی
نے اس آیت کی تفسیر میں عدی بن حاتم
رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے عرض
کی: اے اللہ کے رسول! وہ ان (احبار و رہبان) کی عبادت تو نہ کرتے تھے!
تب آپ نے فرمایا: ہاں تو انہوں نے ان کے لئے ناروا کو روا اور روا کو
ناروا کیا ، اور اس میں انہوں نے ان کی "اتباع" کی، تو یہ ہوا ان کا ان
کی عبادت کرنا"۔
(47) "وہ لوگ جو بت کو پوجنے والے پر تو "شرک" کا حکم لگا دیا کرتے ہیں مگر طاغوت کی حاکمیت تسلیم کرلینے والے پر "شرک" کا حکم کبھی نہیں لگاتے، "یہ" حکم لگاتے ہوئے جو گناہگار ہو جانے سے ڈرا کرتے ہیں پر "وہ" حکم لگاتے ہوئے گناہگار ہو جانے سے جنہیں کبھی خوف لاحق نہیں ہوا.. حق یہ ہے یہ لوگ "قرآن" نہیں پڑھتے۔ نہ ہی یہ لوگ اِس "دین" کی حقیقت سے آگاہ ہیں۔ ان کو چاہیئے یہ "قرآن" پڑھیں ویسے جیسے اللہ نے اس کو نازل کیا۔ان کو چاہیئے یہ اللہ کے اس کلام کو ذرا غور کرکے پڑھیں: وَ ان ا طَع تُمُوہُم انَّکُم لَمُش رِکُونَ ”اور اگر تم نے ان کی اطاعت کرلی تو پھر یقیناً تم مشرک ہو“۔ (48) (49) ٭٭٭٭٭ (1) لفظی وضاحت: ”حنِیفیت“ نسبت ہے "حنیف" سے، جو کہ ابراہیم علیہ السلام کا لقب ہے اور کچھ اہم ترین مضامینِ دین کا ایک جلی عنوان، اور جو کہ در اصل دینِ اسلام کا ایک جامع تعارف ہے ۔ اس فصل میں اسی کے بیان کی کوشش ہوئی ہے۔ .”حنِیفیت" کو لفظ "حنَفیت“ سے البتہ خلط نہ ہونا چاہیئے جو کہ لغوی طور پر نسبت ہے "حنیفہ" سے اور جو کہ عرف میں امام ابو حنیفہ کے مذہب سے، جو کہ اہلسنت کے فقہی مذاہب میں سے ایک معتبر فقہی مذہب ہے، منسوب ہونا ہے۔ (2) لفظ سمحہ میں نرمی ومیانہ روی کا معنی بھی آتا ہے۔ آسانی و آسائش کا بھی، وسعتِ نظر کا بھی اور رواداری وفراخ دلی کا بھی۔ ایک لفظ میں اس کا ترجمہ کر دینا ممکن نہیں (3) مسند احمد 21260حدیث ابی امامہ الباہلی، یہ ایک لمبی حدیث کا چھوٹا سا حصہ ہے. البانی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے. دیکھئے: السلسلہ الصحیحہ، رقم الحدیث( 2924)
(4)
امام بخاری یہ حدیث معلق (بغیر ذکرِ سند کامل) کتاب الایمان میں ایک
باب کے عنوان کے طور پر لاتے ہیں: "بَاب الدِّینُ یُسر وَقَولُ
النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ا حَبُّ الدِّینِ الَی
اللَّہِ الحَنِیفِیَّۃ السَّمحَۃ" ابن حجر العسقلانی بخاری کی شرح فتح
الباری میں اس حدیث کے ذیل میں لکھتے ہیں: مؤلف نے اس حدیث کا اسناد
نہیں کیا کیونکہ یہ ان کی شرط پر نہیں، ہاں مگر (بخاری نے) "الادب
المفرد" میں اس (کی سند) کو موصول کیا ہے۔ اسی طرح احمد بن حنبل و دیگر
نے اس حدیث کو موصول کیا ہے مُحَمَّد بن اسحَاق عَن دَاوُدَ بن
الحُصَین عَن عِکرِمَۃ عَن اِبن عَبَّاس کے طریق سے. (اس کے بعد ابن
حجر کہتے ہیں: اس کی اسناد حسن ہے) (5,6) صحیح مسلم:1479کتاب صلاہ العیدین، باب الرخصۃ فی اللعب الذی لا معصیۃ فیہ فی ایام العید۔ چونکہ مسلم کے الفاظ میں دف کی صراحت آتی ہے اس لئے مسلم کی حدیث ہی اوپر متن میں نقل کی گئی. بخاری میں یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ آتی ہے: عن عَائِشَۃ ا نَّ ا بَا بَکرٍ دَخَلَ عَلَیہَا وَالنَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عِندَہَا یَومَ فِطرٍ ا و ا ضحًی وَعِندَہَا قَینَتَانِ تُغَنِّیَانِ بِمَا تَقَاذَفَت الا نصَارُ یَومَ بُعَاثٍ فَقَالَ ا بُو بَکرٍ مِزمَارُ الشَّیطَانِ مَرَّتَینِ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ دَعہُمَا یَا ا بَا بَکرٍ انَّ لِکُلِّ قَومٍ عِیدًا وَ انَّ عِیدَنَا ہَذَا الیَومُ (بخاری:3638) ”عید فطر یا اضحی کے دن ابو بکر عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ہاں آئے، جبکہ انکے ہاں دو لڑکیاں انصار کے جنگِ بعاث کے روز کہے ہوئے بول گا رہی تھیں۔ ابو بکر نے دو مرتبہ کہا یہ شیطان کا آلہ؟ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں رہنے دو ابو بکر۔ ہر قوم کی خوشی کا دن ہوتا ہے اور ہماری خوشی کا دن آج ہے“۔ (7) صحیح مسلم:1483 کتاب صلاہ العیدین، باب الرخصہ فی اللعب الذی لا معصیہ فیہ فی ایام العید. اس حدیث کی شرح میں امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: قَولہَا: (جَاءَ حَبَش یَزفِنُونَ فِی یَوم عِید فِی المَسجِد )ہُوَ بِفَتحِ الیَاءوَ اسکَان الزَّای وَکَسر الفَاءوَمَعنَاہُ یَرقُصُونَ ، وَحَمَلَہُ العُلَمَاءعَلَی التَّوَثُّب بِسِلَاحِہِم وَلَعِبہم بِحِرَابِہِم عَلَی قَرِیب مِن ہَیئَۃ الرَّاقِص لِا نَّ مُعظَم الرِّوَایَات انَّمَا فِیہَا لَعِبہم بِحِرَابِہِم ، فَیَتَا وَّل ہَذِہِ اللَّفظَۃ عَلَی مُوَافَقَۃ سَائِر الرِّوَایَات ”حضرت عائشہ کے لفظ "یزفنون" کا مطلب ہے "یرقصون" یعنی "ناچتے ہوئے" علما نے اسے اس پر محمول کیا ہے کہ وہ اپنے ہتھیاروں اور نیزوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے اس انداز سے اچھل کود کرتے تھے جو کہ رقص کی ہیئت کے قریب ہو۔کیونکہ بیشتر روایات میں انکا صرف نیزوں کے ساتھ کھیل پیش کرنا آتا ہے.لہٰذا اس لفظ کا معنی سب روایات کی موافقت میں لا کر سمجھا جائے گا۔ جبکہ مسند احمد میں انس بن مالک کی حدیث (رقم:12082) کے یہ لفظ آتے ہیں: کَانَت الحَبَشَۃ یَزفِنُونَ بَینَ یَدَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ وَیَرقُصُونَ وَیَقُولُونَ مُحَمَّد عَبد صَالِح فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ مَا یَقُولُونَ قَالُوا یَقُولُونَ مُحَمَّد عَبد صَالِح " حبشی لوگ رسول اللہ کے سامنے اچھلتے اور رقص کرتے ہوئے گا رہے تھے: محمد عبد صالح یعنی محمد خدا کے نیک بندے ہیں" مسند احمد کی یہ حدیث صحیح مسلم کی مذکورہ بالا حدیث کے ساتھ محض ”زیادۃ معنیٰ“ کیلئے دی گئی۔ (8) مسند احمد:23710 و 24771 .... البانی نے (خذوا یا بنی رفدۃ ! حتی تعلم الیہود والنصاری Éن فی دیننا فسحۃ) الفاظ کے ساتھ حدیث کو صحیح کہا ہے. (یعنی "شاباش بھئی حبش کے گبھرؤو! تاکہ یہودی اور عیسائی جان لیں کہ ہمارے دین میں بڑی وسعت اور گنجائش ہے") جبکہ ان الفاظ کے ساتھ جو اوپر متن میں نقل ہوئے البانی نے جید اسناد کہا ہے. دیکھئے: السلسلہ الصحیحہ رقم1829) (9) صحیح بخاری رقم:38 کتاب الایمان باب الدین یسر، اس باب کی طرف اوپر اشارہ گزر چکا یہاں حدیث کے الفاظ کی خوبصورتی قابلِ غور ہے: دین کو یسیر (آسان) نہیں بلکہ یُسر (آسانی) کہا گیا ہے، جو کہ در اصل دین کے فکری و فقہی و معاشرتی پہلوؤں سے آسان ہونے ، عملی اور واقعاتی ہونے اور حالات سے معاملہ کرنے میں مناسب ترین انداز اپنانے کی ایک زبردست جہت پر دلالت ہے۔ حق تو یہ ہے کہ اس دین کے بغیر زندگی عذاب ہے۔ قلب و ذہن سے لے کر معاشرے اور ماحول تک.... دین صحیح معنی میں ایک آسودگی ہے۔ حدیث کے مؤخر حصہ کی شرح میں امام ابن حجر لکھتے ہیں:
"جو شخص بھی دینی اعمال کے
معاملہ میں زیادہ باریکیوں کے اندر جائے گا اور نرمی کو ترک کرے گا وہ
آخر کار عاجز آجائے گا اور ہمت ہار بیٹھے گا اور شکست کھاکر رہےگا. ابن
المنیر کہتے ہیں: یہ حدیث صداقتِ نبوت کی ایک نشانی ہوئی؛ کیونکہ ہم نے
دیکھا ہے اور ہم سے پہلے بھی لوگ دیکھ چکے ہیں کہ دین میں سختی کرنے
والا ہر شخص آخرِ کار تھک ہار کر بیٹھتا ہے۔" "اس سے شرعی رخصتوں کو اختیار کرنے کی جانب اشارہ اخذ کیا جا سکتا ہے، کیونکہ رخصت کے مقام پر عزیمت اپنانا سختی ہے جیسے مثلاً کوئی شخص پانی استعمال کرنے کے معاملہ میں عذر رکھنے کے باوجود تیمم پہ تیار نہ ہو اور پانی کا استعمال پھر اسے نقصان لاحق کرڈالے" (دیکھئے فتح الباری بہ ذیل مذکورہ بالا حدیثِ بخاری)
(10)
عَن ا بَیِّ بنِ کَعبٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ
عَلَیہِ وَسَلَّمَ یُعَلِّمُنَا اذَا ا صبَحنَا: روایت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہسے، کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سکھایا کرتے تھے کہ جب ہم صبح کریں تو کہیں: ”صبح کی ہم نے اسلام کی فطرت پر، اور اخلاص (توحید) کے کلمہ پر، اور اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر، اور اپنے باپ ابراہیم ع کی ملت پر کہ جو حنیف (ٹھیٹ موحد) تھے، سرِ بندگی تسلیم کر دینے والے اور مشرکوں سے الگ تھلگ ہو رہنے والے" (مسند ا حمد:20219، البانی نے اسے صحیح کہا دیکھئے السلسہ الصحیحہ حدیث رقم:2989) (11) آج کے کچھ مہذب ملکوں میں حرام کے بچے پیدا ہونے کی سالانہ شرح خوفناک حد کو پہنچی ہوئی ہے۔ تصور کیجیئے "انسان" ہو اور "حرام" کی راہ سے آیا ہو، ایسی معزز مخلوق کو اپنے وجود ہی کے معاملہ میں ساری عمر ایک با عزت نسب اور قبیلہ و برادری کی بجائے کسی کی "بدکاری" اور "بے راہ روی" کا حوالہ اٹھا کر پھرنا پڑے ”حقوقِ انسان“ سے یہ مسئلہ بھی کیا تعلق نہیں رکھتا؟ ”انسان“ کے ہمدرد ہمارے ترقی پسند مُلا کو چھوڑ کر کسی وقت اس "انسانی مسئلہ" پر بھی توجہ دیں اور کبھی اس مسئلہ کو بھی اپنے انسانی ایجنڈے پر آیا ہمیں دیکھنے دیں! (12) یہی وجہ ہے کہ صفائی کی بعض باتیں، جو کہ "حنفاء" صدیوں سے کرتے آئے ہیں اور ’روشن خیال‘ دنیا نے ان میں سے کچھ باتیں کہیں اب جا کر ان سے سیکھی ہیں، باقاعدہ طور پر "فطرت" سے جوڑی گئی ہیں وگرنہ شریعت میں انکا حکم ویسے بھی دیا جاسکتا تھا۔ پھر کسی وقت ان میں سے کئی ایک کی نسبت ابوالحنفاءابراہیم علیہ السلام سے بھی کرائی گئی ہے. مثال کے طور پر دیکھئے یہ دو روایتیں: - "روایت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے، بہ تعلق قولِ خداوندی " وَ اذَا اِبتَلَی ابرَاہِیمَ رَبُّہُ بِکَلِمَاتٍ" (البقرہ:124) کہا: یہ حکم پاکی سے متعلق تھا، پانچ باتیں پاکی کی سر سے متعلق اور پانچ دھڑ سے متعلق؛ سر سے متعلق: مونچھیں تراشنا، منہ کی کلی کرنا، ناک پانی ڈال ڈال کر صاف کرنا، دانت صاف کرنا، سر کے بال سنوارنا. جبکہ دھڑ میں: ناخن تراشنا، زیرِ نافمونڈنا، ختنہ کرانا، بغل کے بال اتارنا، اور بول و براز کا اثر دھونا". (دیکھیئے تفسیر ابن کثیر بہ ذیل مذکورہ بالا آیت) - "روایت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے، کہا: فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: "دس باتیں فطرت سے ہیں: مونچھیں تراش رکھنا، با ریش ہونا، دانت صاف کرنا، ناک میں پانی چڑھانا، ناخن تراشنا، (انگلیوں اور جوڑوں کی) اندرونی ملی ہوئی جگہیں مانجھنا، بغل کے بال اتارنا، زیرِ ناف مونڈنا، (قضائے حاجت کے بعد) پانی استعمال کرنا، زکریا (راویِ حدیث) کہتے ہیں: دسویں بات میں بھول گیا سوائے یہ کہ وہ منہ کی کلی کرنا ہو" (صحیح مسلم:384 کتاب الطہارہ باب خصال الفطرہ) (13) فَا تِیتُ بِثَلَاثَۃ ا قدَاحٍ قَدَح فِیہِ لَبَن وَقَدَح فِیہِ عَسَل وَقَدَح فِیہِ خَمر فَا خَذتُ الَّذِی فِیہِ اللَّبَنُ فَشَرِبتُ فَقِیلَ لِی ا صَبتَ الفِطرَۃ ا نتَ وَا مَّتُکَ (البخاری:5179 الا شربہ، شرب اللبن) "پھر (اسراءومعراج کی رات) میرے پاس تین ظروف لائے گئے ایک میں دودھ، ایک میں شہد اور ایک میں شراب. تب میں نے وہ لے لیا جس میں دودھ تھا اور اسے نوش کیا. تب مجھے کہا گیا: پا لیا آپ نے فطرت کو اور آپ کے ساتھ آپ کی امت نے!" کَانَ یَکرَہُ النَّومَ قَبلَ العِشَاءِ وَالحَدِیثَ بَعدَہَا (البخاری:53 "آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ناپسند فرماتے عشاءسے پہلے سو جانے کو اور عشا کے بعد باتوں کیلئے بیٹھ جانے کو" اللَّہُمَّ بَارِک لِا مَّتِی فِی بُکُورِہَا قَالَ وَکَانَ اذَا بَعَثَ سَرِیَّۃ ا و جَیشًا بَعَثَہُم ا وَّلَ النَّہَارِ وَکَانَ صَخر رَجُلًا تَاجِرًا وَکَانَ اذَا بَعَثَ تِجَارَۃ بَعَثَہُم ا وَّلَ النَّہَارِ فَا ثرَی وَکَثُرَ مَالُہُ (الترمذی:1133 البیوع، ما جاءفی التبکیر بالتجارۃ، سنن ابی داود، ابن ماجۃ واحمد، البانی نے اسے صحیح کہا دیکھیئے صحیح سنن ابن ماجۃ رقم 1818، صحیح ابی داود 2345) "اے اللہ! بابرکت کر میری امت کے صبح سویرے کام کاج میں لگ جانے کو. آپ کو جب کبھی کوئی سریہ یا جیش جہاد کیلیئے بھیجنا ہوتا تو اسے علی الصباح روانہ فرماتے. خود صخر (راویِ حدیث صحابی) ایک تاجر تھے اور جب انہیں کوئی تجارتی مہم روانہ کرنا ہوتی علی الصباح روانہ کرتے. چنانچہ بہت مالدار ہوئے اور ان کے ہاں بے حساب دولت ہوئی". (14) فَمَرَّ رَجُل بِغَارٍ فِیہِ شَیء مِن مَاءٍ قَالَ فَحَدَّثَ نَفسَہُ بِا َن یُقِیمَ فِی ذَلِکَ الغَارِ فَیَقُوتُہُ مَا کَان فِیہِ مِن مَاءٍ وَیُصِیبُ مَا حَولَہُ مِن البَقلِ وَیَتَخَلَّی مِن الدُّنیَا ثُمَّ قَالَ لَو ا نِّی ا تَیتُ نَبِیَّ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرتُ ذَلِکَ لَہُ فَ ان ا ذِنَ لِی فَعَلتُ وَ الَّا لَم ا فعَل فَا تَاہُ.. قَالَ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ انِّی لَم ا بعَث بِالیَہُودِیَّۃ وَلَا بِالنَّصرَانِیَّۃ وَلَکِنِّی بُعِثتُ بِالحَنِیفِیَّۃ السَّمحَۃ وَالَّذِی نَفسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَغَدوَۃ ا و رَوحَۃ فِی سَبِیلِ اللَّہِ خَیر مِن الدُّنیَا وَمَا فِیہَا وَلَمُقَامُ ا حَدِکُم فِی الصَّفِّ خَیر مِن صَلَاتِہِ سِتِّینَ سَنَۃ (مسند احمد عن ابی امامۃ الباہلی:21260، الالبانی: حسن لشواہدہ-السلسہ الصحیحہ2924)
"تب ایک صحابی کا ایک غار
کے پاس سے گزر ہوا جہاں پانی دستیاب تھا، اس کے جی میں آیا کہ وہ وہیں
رہ پڑے وہاں کا پانی پیا کرے اور آس پاس درختوں اور ہریالی سے اپنی غذا
کی کچھ ضرورت پوری کر لیا کرے اور یوں دنیا سے دور عبادتِ خدواندی کرتا
رہے. مگر پھر اس نے کہا: کیوں نہ میں خدا کے نبی کے پاس جاؤں اور آپ
سے اپنی اس خواہش کا بیان کروں اگر وہ اجازت دیں تو یہ کرلوں ورنہ
نہیں. تب وہ آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا.. تب آپ نے فرمایا: آگاہ رہو میں یہودی
انداز دینداری کے ساتھ بھیجا گیا ہوں اور نہ نصرانی طرزِ عمل کے ساتھ.
بلکہ مجھے بھیجا گیا ہے "حنیفیتِ سمحہ" کے ساتھ. قسم اس ذات کی جس کے
ہاتھ میں محمد
صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے خدا کے راستے میں گزاری ہوئی ایک صبح یا ایک
شام دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے اور تم میں سے کسی شخص کا صفِ جہاد میں
پوزیشن لے رکھنا اس کے ساٹھ سال تک نوافل ادا کرتے رہنے سے افضل ہے" (16) حوالہ پیچھے گزر چکا (17) ملاحظہ فرمائیے کتاب کی آیندہ فصل: ”رواداری کی حدود“ (18) آل عمران:19 ”بغیر کسی ادنی شک وشبہہ، "دین" تو اللہ کے نزدیک ہے ہی صرف "اسلام" (19) آل عمران85: ”اور جو "اسلام" کے ما سوا "دین" کی جستجو کرے اس سے ہرگز وہ قبول نہ ہو گا، اور آخرت میں وہ سب کچھ کھو دینے والوں میں سے ہو گا" (20) کچھ ”انسانی وسائل“ اگر دستیاب ہو جاتے ہیں تو ادارہ ایقاظ اس منہج کی تعریف و ترویج پر یہاں ایک باقاعدہ انداز سے کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ واللہ من وراءالقصد، وہو المستعان۔ (21) اس موضوع پر ذرا تفصیل سے دیکھنے کیلئے ملاحظہ فرمائیے اس کتاب کی فصل "فرقہ واریت ہے کیا؟" (22) اس کی محض ایک مثال.. چہرے کا پردہ ہمارے سامنے حق و باطل کا ایک دلچسپ اور زبردست موضوع بنا دیا جاتا ہے۔ تعددِ آرا کا جواز اس موضوع پر خارج از اعتبار ٹھہرتا ہے! فقہی اختلاف کی گنجائش مانی جانا قریب از محال ہے! ایک مسئلہ جس میں سلف کے مابین اختلاف ہوا آپ بھی رجحانِ ادلہ کی بنیاد پر یا اپنے کسی قابلِ اعتماد محقق پر سہارا کرتے ہوئے ان میں سے کوئی ایک رائے ہی رکھ سکتے ہیں اور چونکہ یہ ان مسائل میں آتا ہے جن میں اہلسنت کے مابین اختلاف ہو جانے کی "گنجائش" ہے لہذا اس موضوع پر زیادہ سے زیادہ آپ "تبادلہ آرا" اور "مناقشہ علم" ہی کر سکتے ہیں خواہ جتنا بھی کرنا چاہیں، اس کے بعد ان ہزاروں مسائل کی طرح جن میں سلف کے مابین اختلاف ہوا آپ اس مسئلہ پر بھی محاذ بنانے کی کوشش نہیں کریں گے۔ ادھر دیکھیئے ایک فریق یہ ماننے کیلئے تیار نہیں کہ "نقاب" اور "چہرے کے پردے" کی شریعت میں گنجائش تک ہے! حالانکہ چہرہ ڈھانپنے کی افضلیت پر متقدمین ہلِ علم میں کوئی اختلاف نہیں۔ ایک دوسرا فریق یہ ماننے کیلئے تیار نہیں کہ چہرے کا پردہ "فرض نہ ہونا" سرے سے کوئی معتبر رائے ہو سکتی ہے! جبکہ شریعت میں اور اصولِ اہلسنت کی رو سے یہ وہ مسئلہ ہے جس میں ہر دو رائے رکھی جانے کی گنجائش ہے۔ (23) فریب میں ڈال دینے والا (24) فریب میں پڑ جانے کا سامان (25) إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُواْ مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُواْ وَرَأَوُاْ الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الأَسْبَابُ وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُواْ لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّؤُواْ مِنَّا كَذَلِكَ يُرِيهِمُ اللّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ (البقرۃ167-166) ”ذرا تصور کرو جب یہاں کے پیشوا بیزاریاں کریں گے ان سے جو اِن کی "اتباع" کا یہاں دامن تھام کر رکھتے تھے، اور جب یہ سب سہارے ان کا ساتھ چھوڑ جائیں گے تب وہ جو یہاں پیچھے لگ کر رہے تھے کہیں گے اے کاش کہیں ہمیں موقعہ ہوتا تو ہم بھی آج ان سے یوں بیزار ہو کر دکھاتے جیسے یہ ہم سے بیزاری ظاہر کر چکے۔ اسی طرح تو اللہ ان کو ان کے اعمال اور کارنامے حسرتیں بنا کر دکھائے گا، اور آگ سے کبھی ان کی جان چھوٹنے والی ہی نہیں" (26) عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا لِيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالَاتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا(سورۃ الجن )”غیب کا پتہ پاس رکھنے والا وہ ہے۔ پس کسی کو وہ اپنے اُس غیب پر مطلع نہیں کرتا، سوائے یہ کہ وہ کوئی رسول ہی ہو جسے خود اُسی نے برگزیدہ ٹھہرا لیا ہو، تب وہ (اُس وحی کے تحفظ کیلئے) اُس کے آگے اور پیچھے پہرے لگوا دیتا ہے۔ تا کہ وہ یہ یقینی بنا دے کہ وہ (رسل) اپنے رب کے سب پیغام (انسانوں کو) پہنچا چکے، جبکہ وہ خود جو کچھ ان کے در پیش ہے اس کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کا گِن گِن کر حساب رکھے ہوئے ہے" (27) ثُمَّ اجْتَبَاهُ رَبُّهُ فَتَابَ عَلَيْهِ وَهَدَى قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعًا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَى وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمَى وَقَدْ كُنتُ بَصِيرًا قَالَ كَذَلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا وَكَذَلِكَ الْيَوْمَ تُنسَى (سورہ طہ126) "پھر اُس کے رب نے اُس کو برگزیدہ کیا. تب اُس کی توبہ قبول فرمائی. اور اس کو راہ دکھائی. کہا: تم دونوں اب یہاں سے (زمین پر) اتر جاؤ. تم (انسان اور شیطان) سب ایک دوسرے کے دشمن ٹھہرے. پس ضرور بضرور میرے پاس سے تمہارے یہاں جو ہدایت پہنچے گی تب جو بھی میری (بھیجی ہوئی) ہدایت کی "اتباع" کرے تو نہ تو وہ کبھی راہ بھٹکے اور نہ وہ بدبخت ٹھہرے. اور جس نے میرے (ارسال کردہ) پیغامِ نصیحت سے منہ موڑا تو اس کا نصیب درماندگی کی ایک زندگانی اور روزِ قیامت ہم اُس کا حشر کریں تو اندھا اٹھا کر. وہ کہے: پروردگارا! تو نے مجھے اندھا کرکے کیوں اٹھایا، میں تو آنکھوں والا ہوا کرتا تھا؟! اور وہ کہے: ایسے ہی تو، میرے آیات و نشانات تیرے پاس پہنچے تھے، تو تو نے ان کو بھلا ہی تو دیا تھا. ایسے ہی، آج تجھ کو بھی بھلا ہی تو دیا جائے گا" (28) رُّسُلاً مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلاَّ يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا (النساء:165) "رسول ہی رسول بشارتیں دیتے ہوئے اور انذاریں کرتے ہوئے تا کہ نہ رہ جائے لوگوں کیلئے اللہ کے اوپر کوئی حجت رسولوں کے آ رہنے کے بعد. اور اللہ تو ہے ہی طاقت والا اور حکمت والا" (29) وَلَوْ شَاء رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلاَ يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلاَّ مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لأَمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (سورہ ہود118,119) "اور اگر تیرا رب چاہتا تو سب انسانوں کو ایک ہی امت بنا دیتا. جبکہ یہ اختلاف کرتے رہیں گے _ سوائے جن پہ تیرا رب اپنی رحمت کردے _ اور اِسی لئے اس نے انہیں پیدا کیا. اور پوری ہوئی بات تیرے رب کی کہ ضرور بھروں گا میں جہنم کو ایسے سب کے سب جِنوں اور انسانوں سے" (30) َا تَقُومُ السَّاعَۃ الَّا عَلَی شِرَارِ الخَلقِ "قیامت قائم نہ ہو گی مگر بد ترین لوگوں پر" (صحیح مسلم:3550 کتاب ال امارۃ، باب قولہ صلی اللہ علیہ وسلم لا تزال طائفۃ من امتی ظاہرین) (31) سورۃ ابراہیم آیت 35 (32) ا ِنِّی لَم اُبعَث بِالیَہُودِیَّۃ وَلَا بِالنَّصرَانِیَّۃ وَلَکِنِّی بُعِثتُ بِالحَنِیفِیَّۃ السَّمحَۃ (مسند احمد:21260،) حدیث حسن کے درجے کو پہنچتی ہے، دیکھیئے: السلسہ الصحیحہ للالبانی رقم الحدیث:2924) ترجمہ: "میں یہودی (اندازِ) دینداری کے ساتھ بھیجا گیا ہوں اور نہ نصرانی (اندازِ) دینداری کے ساتھ، بلکہ میں تو بھیجا گیا ہوں حنیفیتِ سمحہ کے ساتھ" (33) وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ إِنَّهُ لاَ يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ(الانعام:21) "اور اُس سے بڑا ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹ گھڑے یا خدا کی آئی ہوئی نشانیوں (آیتوں) کو جھٹلائے؟ بات یہ ہے کہ ایسے ظالم تو کبھی فلاح نہیں پا سکتے" (34) ہمیں ادراک ہے کہ "تقاربِ ادیان" کی بعض کوششیں یہاں اور وہاں کے بعض طبقوں کی جانب سے اس وقت عالمی امن کی ایک ممکنہ صورت پیدا کرنے اور دنیا میں پائی جانے والی حالیہ کشیدگی کو کم یا ختم کرنے کے دواعی کے تحت بھی ہو رہی ہیں، نہ کہ مذہبی طور پر دنیا کو ایک یا قریب کردینے کیلئے۔ یہ مقصد بھی ہو تو "تقاربِ ادیان" اس کے حصول کی ایک مبغوض صورت ہے گو یہ مقصد فی نفسہ برا نہیں. عالمی امن کی سلامتی اور اقوام کے مابین انسانی بنیادوں پر ایک ہم آہنگی لے کر آنا اور اس زمین کو افراد اور اقوام کے رہنے کے قابل جگہ بنانا اور یہاں ایک ایسا جہان تعمیر کرنا جہاں علم اور حکمت کا ایک صحت مند اور آزادانہ تبادلہ ہو اور ہر ایک کو اپنی رائے رکھنے کا حق ہو، اور جس کا سب سے بڑھ کر فائدہ ہمیں ہی ہے، یقیناً اسلام کے اجتماعی مطالب میں سے ایک بڑا مطلب ہے اور بلا شبہہ اسلام کی اس جہت کو ہمارے بعض تنگ نظر انتہا پسند دینی رجحانات کی جانب سے نظر انداز کردیا جانے کے باعث یہاں ایک خلطِ مبحث پیدا ہوا بھی ہے. ہمارا یہاں عقیدہ کی ایک "باطل دشمن" جہت کو نمایاں کرنے کا مقصد بھی ہرگز "عقیدہ" اور "تلوار" کو اُس معنی میں خلط کردینا نہیں جس معنی میں یہاں اور وہاں کے انتہا پسندوں کی جانب سے اس کے خلط کردیا جانے کے باعث ہی، دوسری جانب، کچھ انصاف پسند مگر عقیدہ سے جاہل یا متجاہل ذہنوں کو اس "تقاربِ ادیان" کے اندر دنیا کے امن پا جانے کی تلاش اور امید اور ضرورت ہوئی۔ (35) یعنی پتھراؤ اور بمباری (36) اَنَا عِندَ ظَنِّ عَبدِی بِی وَانَا مَعَہُ اِذَا ذَکَرَنِی فَاِن ذَکَرَنِی فِی نَفسِہِ ذَکَرتُہُ فِی نَفسِی وَ اِن ذَکَرَنِی فِی مَلَاٍ ذَکَرتُہُ فِی مَلَاٍ خَیرٍ مِنہُم (متفق علیہ، صحیح بخاری:6856 کتاب التوحید باب قول اللہ تعالی ویحذرکم اللہ نفسہ، صحیح مسلم:4851 کتاب الذکر والدعاءوالتوبۃ والاستغفار باب فضل الذکر والدعاءوالتقرب الی اللہ تعالی "میں اپنے بندے کے گمان پہ جو وہ میری بابت رکھے پورا اترنے والا ہوں، اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب بھی وہ مجھے یاد کرے۔ پس اگر وہ اپنے جی میں میرا ذکر کرے تو میں اپنے جی میں اس کا ذکر کروں۔ اور اگر وہ برسرِ محفل میرا تذکرہ کرے تو میں اس سے کہیں بڑھ کر برگزیدہ محفل میں اُس کا تذکرہ کروں" (37) سَابِقُوا إِلَى مَغْفِرَة مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّة عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاء وَالْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاء وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ِ (الجدید:21) "مسابقت کرو ایک مغفرت کی جانب جو تمہارے پروردگار کی جانب سے ہے اور ایک بہشت کی جانب جس کا عرض ویسا ہے جیسا آسمانوں اور زمین کا عرض، جو کہ آراستہ کی گئی ان نفوس کیلئے جو ایمان لائے اللہ کے ساتھ اور اُس کے رسولوں کے ساتھ۔ یہ ہے خدا کا کسی کو بخشنے کا پیمانہ۔) اور یہ) وہ جس کو دینے پہ آئے دے۔ اور اللہ تو ہے ہی بڑے پیمانوں سے بخشنے والا" (38) أُوْلَئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ ا |