
|
|
|
|
الجہاد و السیاسہ الشرعیہ سے انتخاب
اردو استفادہ: محمد زکریا
محترم قارئین زیر نظر تحریر موءلف عبد المنعم مصطفی حلیمہ المعروف ابو بصیر طرطو سی حفظ اللہ ان معاصرشخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کیلئے کئی ایک تحریکی و جہادی حلقوں میں بے حد احترام پایا جاتا ہے۔ایقاظ مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ مسلم ممالک کی تمام تحریکوں کو امت کی معروف علمی شخصیات کی زیر سر پرستی کام کرنا چاہیے ۔منتخب مقالے میں تقریباً وہی بات کہی جا رہی ہے جو اس بار کے اداریے کا موضوع ہے اور ایقاظ کی مستقل پالیسی کا حصہ ہے۔ کتاب کے مقدمے میں مصنف نے عالم اسلام میں جہاد فی سبیل اللہ کا فریضہ انجام دینے والے اصحاب خیر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے اور اس کے بعد جہادی عمل سے امت کے دوسرے گروہ کسی نہ کسی سطح پر ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں وہ کل تین فریق بنتے ہیں: ایک وہ جو جہاد کے عمل کے خلاف ہیں اور اس عمل کے خلاف زہر اگلنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیںجانے دیتے، دوسرا فریق وہ ہے جوجہادی عمل کا پر زور حمایتی ہے اور اس فریضے کو انجام دینے والے اصحاب خیر کے لیے، میدانوں سے باہر بیٹھے ہوئے کسی درد مند کا قول،مشورہ سننے کے لیے تیار نہیں ہے، گویا جہاد کا فریضہ انجام دینے والے - اس فریق کے نزدیک - پوری دنیا سے بے نیاز ہو گئے ہیں اور ان سے نہ کسی شرعی غلطی کا ظہور ہوتا ہے اور نہ اسٹریٹجکل غلطی کا اور نہ ہی انہیں باہر بیٹھے کسی مسلمان کے مشورہ کی ضرورت ہے۔ایک تیسرا فریق ان علماءپر مشتمل ہے جن سے امید تھی کہ وہ جہاد کے عمل میں بھی امت کی راہ نمائی فرمائیں گے مگر ان کے ہاں صرف خاموشی پائی جاتی ہے اور اس فریق کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اُن کی ہم دردیاں جہاد گریز فریق کے لیے ہیں یا جہاد کرنے والے مجاہدین کے ساتھ ہیں، اغلب یہی ہے کہ وہ نتائج پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔دکھ کی بات یہ ہے کہ ان تینوں فریقوں میں لوگوںکی کثیر تعداد پائی جاتی ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ امت کو ایک دوسرے کے قریب ہونے کی جس قدر آج ضرورت ہے پہلے کبھی نہ تھی خصوصاًذرائع اتصالات کے مواقع ملنے کے بعد اس بات کی کم ہی گنجائش رہ جاتی ہے کہ اصحاب علم کی ایک بڑی تعداد اپنے آپ کو غیر ضروری یا غیر جانب داررکھ کر امت کے لیے کوئی بڑی خدمت انجام دے لے۔ہمارے اس دین میں خیر خواہی اور مشاورت ایک نہایت اہم اور ڈائنامک فرض ہے۔ نبی علیہ السلام نے اسلام کا تعارف اس طرح کرایا کہ اگر کوئی پوچھے کہ اسلام کیا ہے تو تم کہو : الدین النصیحۃ ”دین تو بس ہے ہی خیر خواہی کا نام، اللہ کے لیے اس کے رسول کے لیے اس کی کتاب کے لیے اور مسلمانوں کے ان افراد کے لیے بھی جنہوں نے امت کے اہم امور کو سنبھال رکھا ہو اور عام مسلمانوں کے لیے بھی۔ اس تمہید کے بعد مصنف کتاب لکھتے ہیں کہ اس کتاب کی تالیف کی غرض امت کے لیے خیر خواہی کے جذبات ہیں اور اس واجب کی تکمیل میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔ اس کے بعد مصنف نے جہاد کا مقصد بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جہاد بہ معنی قتال شریعت میں اس لیے مطلوب ہے کہ اس سے مقاصد شریعت کا حصول ہو۔ یعنی دین اسلام ، جان ، عقل ، مال یا مسلمانوں کی نسل کی بقاءاور عزت کا تحفظ ہو نہ کہ مقاصد شریعت کا زیاں ہو۔ جہاد بہ ذات خود محض مہم جوئی کے لیے برپا کرنا شریعت کو قطعاً مطلوب نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے فائدے کے لیے ہی مشروع رکھا گیا ہے۔ یہ ایک اجتمائی مسئلہ ہے جس کے لیے( وسیع سطح تک) مشاورت واجب ہے۔ جب کبھی کسی بھی مرحلے پر اور کسی بھی خطے میں مقاصد شریعت حاصل ہونے کی صورت نہ رہے گی تو امت کے اہل علم نئی صورت میں نئی حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے مشاورت کریں گے کیونکہ قتال در اصل کسی مقصد کے لیے روا ہے۔ اب اگر فریق مخالف اسلام لے آیا تو اس کے حق میں قتال موقوف ہو جائے گا یا پورا خطہ ہی اسلام لے آتا ہے یا مسلمان ان سے صلح کر لیتے ہیں یا دسیوں ایسی صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں کہ جن کے ظہور کے ساتھ ہی قتال کا حکم منسوخ ہو جاتا ہے۔اگرکوئی ایسی صورت پیدا ہو جاتی ہے کہ جہاد کی صورت میں مذکورہ بالا مقاصد میں سے سب یا بعض پوری طرح حاصل نہیں ہوتے اور قتال موقوف کرنے کا بھی ضرر ہے اور قتال کرنے کے نتیجے میں بھی مسلمانوں کو نقصان ہی اٹھانا پڑے گا تو اس صورت میں اہل علم اس قاعدے پر عمل کریں گے کہ کون سی اسٹرٹیجی اپنانے سے ہر دو نقصانات میں سے کون سا نقصان اٹھانااُس وقت کی مصلحت ہے اور جو کہ کم تر ہو ، شرعی اصطلاح میں اسے ’اہون الشرّین ‘کہتے ہیں اور اس میں سب سے اہم دین کا بچانا ہے اور اس کے بعد کی ترتیب کی ذمہ داری حالات کے مطابق اہل علم کا کام ہے۔ جہاد کی مذکورہ بالا تعریف کی رو سے شریعت میں مثال کے طور پر کسی بات کا جائز اور مباح ہونا اس بات کے لیے کافی دلیل نہیں ہے کہ اسے بروئے کار بھی لایا جائے بلکہ اس جائز اور مباح کام کو اس وقت اختیار نہیں کیا جائے گا جب تک اس سے مقاصد شریعت کم یا زیادہ حاصل نہ ہوتے ہوں۔ منافقوں کے سردار عبد اللہ بن ابیّ کے قتل نہ کرنے کی وجہ یہی تھی کہ اس کے نتیجے میں شرعی مصلحت حاصل نہیں ہوتی تھی۔ جہاد کی تعریف کے بعد مصنف نے شرعی احکام کی بجا آوری کے لیے شروط کا باب باندھا ہے اور لکھا ہے کہ شریعت کے تمام احکام کی ادائیگی کے لیے استطاعت شرط ہے۔استطاعت جہاد کے فریضے کو انجام دینے کے لیے بھی شرط ہے۔ مصنف کتاب و سنت سے وہ نصوص نقل کرتے ہیں جن میں صاحب عذر مسلمانوں سے جہاد کرنے کا مطالبہ نہیں کیا جاتا۔البتہ یہاں مصنف نے غلط مفہوم نہ لینے کے لیے یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھا ہے کہ دشمن کے مقابلہ کے لیے استطاعت اور وسائل کی فراہمی میں تقصیر کرنا قابل عذر نہیں ہے۔استطاعت کی شرط ا س بات کو مستلزم کرتی ہے امت جب حالت ضعف میں ہو تو وہاں حالت ضعف والے احکام کے مطابق لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا اور جب امت تمکنت کی حالت میں ہو گی تو وہاں کے احکام حالت ضعف والے نہیں ہوں گے۔کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مسلمانوں سے حالت ضعف میں کوئی بڑی مہم جوئی کرائے اور اگر وہ پس و پیش کرے تو اسے سخت سست کہا جائے اور بزدلی کے طعنے دیے جائیں۔جس طرح ضعیف سے جواں مردی والے کام لینا شرعاً و عقلاً نا جائز ہے اسی طرح طاقت ور کااپنے آپ کو ضعفاءوالی حالت پر سمجھنا بھی نا جائز ہے۔اس کے بعد صاحب تصنیف کتاب و سنت اور تاریخی وقائع سے ان دونوں حالتوں کے احکام مختلف ہونے کے دلائل پیش کرتے ہیں۔ بندوں کے حقوق اور ان کے واجبات کا تحفظ پیش نظر رکھنا : جہادی عمل امت کے دوسرے فرائض کی طرح ایک فرض ہے اور پوری امت سے متعلق ہے نہ کہ کسی فریق کے لیے خاص ہے۔ایسا تاثر پیدا ہونا کہ اس عمل سے صرف بر سر پیکار فریق کا مفاد پیش نظر ہے اور دوسرے مسلمان ثانوی حیثیت اختیار کر گئے ہیں ایسا تاثر بلا شبہ اس اہم فریضہ کے لیے نہایت نقصان دہ ہے۔اس کی بجائے اس عمل کو پوری امت کے فائدے کے لیے تسلیم کروانا از حد ضروری ہے۔ اس امت سے وابستہ اہل ایمان کا یہ وصف بیان ہوا ہے کہ جب اس امت کا کوئی گروہ بلکہ کوئی ایک فرد بھی اگر کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو پوری امت اس کی تکلیف میں خود بھی ایک قسم کی تکلیف محسوس کرتی ہے۔بنابریں جہادی عمل میں شریک اہل ایمان میں یہ وصف نمایاں ترہو کہ وہ پورے اخلاص ،سرگرمی اور پوری سنجیدگی سے امت کے آلام میں اسی طرح شریک ہیں جس طرح دوسرے مسلمان شریک ہیں۔ مسلمانوں سے جو حقوق چھین لیے گئے ہیں یاان کے مقدس مقامات یا مسلمانوں کی عزتوں سے جہاں جہاں کھیلا جا رہا ہے ،جہادی عمل سے وابستہ مسلمان ان کے حقوق اور ناموس خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے کے لیے ویسے ہی فکر مند ہیں اور پوری سنجیدگی سے ان کے دفاع اور بحالی کے لیے تگ و دو کر رہے ہیں جیسے دوسرے مسلمان فکر مند ہیں۔اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مجاہدین مسلمانوں کے لیے،ان کے دین کے لیے، ان کے مقبوضہ جات کے لیے ، ان کی عزت اور ناموس کے لیے،ان کے جملہ حقوق کے لیے اور ان کے خطوں کی آزادی اور مسلمانوں کے لیے امن کی بحالی کے لیے بر سر پیکار ہیں۔ افراط اور تفریط سے بچتے ہوئے منہج وسط کی پاپندی کرنا: جملہ مسلمانوں کے مسائل میں شریک ہونااور مسلمانوں کی عظمت رفتہ کو لوٹانے کی تحریک کا حصہ بننا ،ان باتوں کی تذکیر کے بعد فاضل مصنف نے اہل سنت کے منہج کی اہمیت اور اس کی پابندی کا تذکرہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:جہاد کے عمل کو سب سے زیادہ مسخ کرنے والی چیزیں یہ ہیں کہ اس عمل میں افراط و تفریط،غلو اور سخت روی پر مبنی اخلاقیات کا چلن ہوجائے۔ افراط و تفریط دونوں ہی نفرتوں کا بیج بوتے ہیں اور یہ دونوں صفات گھٹیا قسم کی عقول میں پرورش پاتے ہیں اور اس کا مذموم ترین پہلو یہ ہے کہ ایسے ہی کوتاہ بیں ذہنیت کے حامل افراد کے لیے افراط و تفریط بے حد پسندیدہ اور مرغوب ہوتی ہے۔اس کے بعد مصنف منہج وسط جو صلحاءکا طریقہ ہے اس کا مختصر تعارف کراتے ہیں اور جہاں تک سخت روی کی اخلاقیات کا تعلق ہے تو وہ حدیث مبارک پیش کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ آپ کو آسانی پسند تھی ۔ ہر چیز میں آپ آسانی فراہم کرنے کو پسند فرماتے جب تک اس میں اللہ کی نا فرمانی کا ڈر نہ ہوتا۔جن لوگوں میں سختی پائی جاتی ہے تم انہیں دیکھو گے کہ وہ ہمیشہ آسان او رآسان تر کی بجائے ان کی طبیعت انہیں مشکل اور مشکل ترین امر کی طرف کھنچ لے جائے گی۔سختی سے پیش آنا ان کو بہت بھلا لگتا ہو گابلکہ ان کی پہچان بن جاتا ہے یہی صفت دوسرے میں بھانپ کر وہ ایک دوسرے کے ساتھی بنتے ہیں۔محض شک اور اکثر غلط فہمی سے دوسرے مسلمان کی تکفیر کر دینا یا اسے دشمن کا آلہ کار سمجھ کر مباح الدم قرار دے لینا انہیں دین کی نصرت دکھائی دیتا ہے۔اختلاف رائے کو نہ برداشت کرنا اور بلکہ اس کی گنجائش تک کو قبول نہ کرنا،خوں ریزی کو بچوں کا کھیل سمجھنا ،حرمات کا پاس لحاظ نہ رکھنا۔ یہ سب شیطان ان کے لیے ایسا مزین کرتا ہے کہ وہ اسے عین حق سمجھتے ہیںاور میں تو یہ کہتا ہوں کہ غلواورجہالت میں یہ رویہ خوارج سے بھی بڑھ کر بھیانک ہے۔ خوارج کم از کم تکفیر کے لیے کبیرہ گناہ کی شرط تو لگاتے تھے،یہاں ایسے ایسے غالی پائے جاتے ہیںجومحض شک یا اپنی ہی گواہی پر دوسرے کو کافر قرار دینے کے بعد ارتداد کی حد لگنے میں بھی سبک روی کا مظاہرہ کرنے کو سارعوا فی الخیرات سمجھتے ہیں۔ (اپنی ذات اور اپنے تصور دین کو اعلیٰ سمجھنے ، اور اپنے علاوہ دوسروں کو غیر حق پر سمجھ بیٹھنے کا یہ نتیجہ ہے)کہ ایسے متشدد گروہ کسی عہد پیمان کو پورا نہیں کرتے،عہد شکنی گویا ان کے ہاں ایک چال سمجھی جاتی ہے۔ بعض سلف صالحین نے سورت الرعد کی آیت ۵۲ کا مصداق فرقہ حروریہ کو قرار دیا تھاجو حد درجے بد عہد تھے۔غلو پسندی کا یہ خاصا ہے کہ غالی لوگوں کے تصرفات میں انتقامی جذبہ اس قدر غالب ہوتا ہے کہ یہ جذبات شریعت کے متوازن حکم کو نظر انداز کروا دیتے ہیں اوروہ ہمیشہ مبنی بر جذبات اور انتقامی نفسیات کی رو میں غیر متوازن فیصلہ ہی کرتے ہیں۔علاوہ اس کے جن لوگوں میں افراط و تفریط پایا جاتا ہے ان میں یہ وصف بھی پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ عامۃ المسلمین کی بابت سوءالظن رکھتے ہیں جبکہ اہل اسلام کا اصل حکم یہ ہے کہ ان کی بابت حسن ظن رکھا جائے اور اگر ان سے خلاف قاعدہ کوئی امر ظاہر بھی ہو تو عذر کے امکان کو رد نہ کیا جائے جب تک اس کے بر خلاف کوئی واضح دلیل اور معتبر گواہی نہیں آ جاتی۔ایسے افراد میں امت کے صالحین، علمائ، امت کے لیے کلمہ خیر کہنے والے اور امت کی سر کردہ شخصیات کے لیے احترام کے جذبات نہیں پائے جاتے۔نبی علیہ السلام امت کو نصیحت کر گئے ہیں کہ:لیس من امتی من لم یُجِلّ کبیرنا ، و یرحم صغیرنا،و یعرف لعالمنا (رواہ احمد) ”میری امت میں ایسا کوئی شخص شامل نہیں ہو سکتاجو ہمارے سر کردہ شخصیات کی عزت افزائی نہ کرے،یا ہمارے چھوٹوں پر شفقت نہ کرے یا ہمارے عالم کے ساتھ معروف(احترام) کے ساتھ پیش نہ آئے“ جنگ زدہ علاقوں اور غیر جنگ زدہ علاقوں کا فرق ملحوظ خاطر نہ رکھنا یا جن خطوں میں صلح یا امن کی حالت ہے وہاں تک لڑائی کے بڑھ جانے کی پروا نہ کرنا: وہ علاقے جہاں مسلمانوں پر جنگ مسلط ہے یا وہ اپنا دفاع کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں ایسے خطوں میں اپنا دفاع کرنا ایک بالکل جائز اور معروف رد عمل ہے لیکن اگر اس دائرے کو جہادی عمل میں شریک غلۃ(جن لوگوں میںافراط و تفریط کا وصف پایا جائے)بڑھا کر ان علاقوں کو بھی شامل کر لیتے ہیں جہاں امن کی حالت ہے یا مسلمانوں نے وہاں صلح کر رکھی ہو تو ایسے افراد کے نزدیک نہ کسی پر امن خطے کا کوئی اعتبار ہے اور نہ یہ اپنے علاوہ دوسرے مسلمانوں کے صلح یا امن کے معاہدوں کو کوئی اہمیت دیتے ہیں۔ان کے ہاں ایسے تمام شرعی اخلاقی سیاسی یا اسٹرٹیجکل دائروں کی کوئی اہمیت ہے اور نہ سمجھ۔ان شرعی ضوابط کی خلاف ورزی کے نتیجے میں مسلمانوں کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ہر وہ شخص جو شرعی علوم کا طالب علم ہے اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ جنگ زدہ خطوں کے اور احکام ہوتے ہیں اور امن والے یا جن قوموں کی ساتھ مدت معین کے لیے صلح کا معاہدہ ہو گیا ہو وہاں کے اور احکام ہوتے ہیںاور صرف ایک جاہل ہی اس فرق کو نظر انداز کر سکتا ہے۔جہاں تک صلح یا جنگ بندی کا تعلق ہے تو وہ ہر شخص کے لحاظ سے اور گروہ یا جماعتوں کے لحاظ سے یا ملکوں کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ صلح یا جنگ میں شریک نہ ہونے کا معاہدہ کبھی ایک فرد کرتا ہے اور کبھی ایک گروہ کرتا ہے اور کبھی ایک بڑا خطہ جیسے کوئی ملک کرتا ہے۔ فرد سے لے کر ملک کی سطح تک البتہ یہ معاہدے شریعت کی نظر میں قابل نفاذ ہیںاور معاہدہ کرنے والا فرد ہو یا جماعت یا ملک اس پر واجب ہے کہ وہ معاہدے کی پاس داری کرے۔بعض دفعہ ایسا ہو سکتا ہے کہ کوئی خطہ پوری امت کے لیے دار الحرب کی حیثیت رکھتا ہو سوائے ان مسلمانوں کے جو کفار کے ساتھ کسی امن معاہدے میں پہلے سے شریک ہوںیا دار الحرب سے تعلق رکھنے والے کسی فرد یا گروہ سے بر سر پیکار مسلمانوں نے صلح کا یا امان کا معاہدہ کر لیا ہو تو ان لوگوں کو چھوڑ کر کہ یا تو انہوں نے مسلمانوں سے پناہ لے لی ہے یا دار الحرب کے باسی مسلمانوں نے اپنی حکومت یا قیادت سے یہ عہد کر لیا ہو کہ وہ جس کافر ملک میں رہ رہے ہیں اور جس سے مسلمانوں کی جنگ جاری ہے وہ مسلمانوں کی طرف سے اپنے خطے میں جنگ نہیں کریں گے، ان استثنائی لوگوں کے علاوہ باقی سب مسلمانوں کے لیے وہ خطہ دار الحرب کہلائے گا۔ اور جن مسلمانوں نے ،وہ افراد ہوں یا جماعتیں، خطہ ¿ مسلمین میں نہ ہونے کی وجہ سے عدم جنگ کا معاہدہ کیا ہو گا اس پر واجب ہے کہ وہ اپنے عہد پر قائم رہیں اور مسلمانوں کی طرف سے ان کے خلاف جنگ نہ کریں۔شریعت کی نظر میں یہ دو باتیں باہم متعارض نہیں ہیں کہ مسلمانوں کا ایک فریق کفار سے بر سر پیکار ہو اور مسلمانوں ہی کا دوسرا فریق مثلاً جو دار الحرب کے باسی ہوں وہ ان ہی کفار سے جن کی مسلمانوں سے جنگ ہو رہی ہو صلح کا معاہدہ کر لیں (کفار کی طرف سے کسی مسلمان کا دوسرے مسلمان کے خلاف لڑنا تو بالاجماع حرام ہے البتہ یہ کہ دار الحرب کے باسی مسلمانوںکے تحفظ میں اپنے اس خطے میں جہاں کے وہ مقیم ہیں جنگ نہیں کریں گے تو یہ بالکل ایک جائز صورت ہے اور انہیں اس کا پابند رہنا پڑے گا) سورت انفال میں ایسے ہی مسلمانوں کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ جن کفار کے ساتھ مسلم قیادت نے یہ عہد کر لیا ہو کہ وہ ان کے ساتھ صلح کی حالت میں ہیں تو صلح کے اس عرصے میں دار العہد میں رہنے والے مسلمان کی عند الطلب مسلمان ایسی مدد نہیں کریں گے جس سے معاہدے کے نکات متصادم ہوں۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: إِنَّ الَّذِينَ آمَنُواْ وَهَاجَرُواْ وَجَاهَدُواْ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَالَّذِينَ آوَواْ وَّنَصَرُواْ أُوْلَـئِكَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ وَالَّذِينَ آمَنُواْ وَلَمْ يُهَاجِرُواْ مَا لَكُم مِّن وَلاَيَتِهِم مِّن شَيْءٍ حَتَّى يُهَاجِرُواْ وَإِنِ اسْتَنصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ إِلاَّ عَلَى قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَاقٌ وَاللّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ” جن لوگوں نے ایمان قبول کیااور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنی جانیں لڑایئں اور اپنے مال کھپائے ، اور جن لوگوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی ، وہی در اصل ایک دوسرے کے ولی ہیں۔رہے وہ لوگ جو ایمان تو لے آئے مگر ہجرت کر کے (دارالاسلام)آ نہیں گئے تو ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیںجب تک کہ وہ ہجرت کر کے (دارالاسلام کے شہری )نہ بن جائیں۔ہاں اگر وہ دین کے معاملہ میں تم سے مدد مانگیں تو ان کی مدد کرنا تمہارا فرض ہے لیکن کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں جس سے تمہارا معاہدہ ہو۔جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔“ (سورت انفال : آیت 72) اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کے دو گروہ کفار کے ایک ہی فریق سے دو مختلف معاملہ کرتے ہیں اور شریعت دونوں معاملات کو درست قرار دیتی ہے۔ مسلمانوں کا ایک گروہ کفار سے بر سر پیکار ہے اور دوسرے مسلمان جو ان کفار کے ہاں مقیم ہیں اور کفار کے ساتھ پر امن رہنے کا عہد کر چکے ہیں تو ان کے لیے یہ جائز نہیں کے وہ بر سر پیکار مسلمان گروہ کی حمایت میں اپنے کیے ہوئے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے خطے کے کافروں پر شب خون مارتے پھریں۔ اگر وہ ایسا کریں اور اسے دینی حمیت کا تقاضا بتائیں تب بھی وہ شریعت کی نظر میں خیانت کرنے والے ہی شمار کیے جائیں گے۔ اسی طرح یہ بھی درست نہیں ہے کہ غیر اسلامی ممالک میں رہنے والے مسلمانوں سے اس امر کا تقاضا کیا جائے کہ وہ اپنی اپنی حکومتوں کے خلاف ہتھیار اٹھا لیں۔اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو انہیں گناہ کی حالت پر سمجھا جائے۔مسلمان ظاہر ہے وہاں اقلیت میں اور حالت ضعف میں رہ رہے ہوں گے(یہ کہنا کہ وہ ہجرت کر کے مسلم اکثریت والے خطوں میں آ کر بس جائیں ایک غیر عملی مطالبہ ہے)جو مسلمان ایسے خطے کو دار الحرب قرار دے چکے ہیں جہاں مسلمان اقلیت میں رہ رہے ہیں تو محاربین کی وجہ سے ان مسلمانوں کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔طاقت ور دشمن کو ذرا بھی شبہہ ہوا کہ اس کے خطے میں رہنے والی مسلم اقلیت محارب مسلمانوں سے مل کر ساز باز کرنے کی مرتکب پائی گئی ہے تو ان کے لیے اقلیتی مسلمانوں کو مکمل طور پر ملیا میٹ کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگے گی۔اقلیتی مسلمانوں سے ایسا مطالبہ کرنانہ صرف صریح حماقت ہو گی بلکہ اس میں شریعت کی کوئی خدمت نہیں ہے بلکہ شریعت کی واضح نص کی خلاف ورزی ہے۔تم اس بات کو یوں سمجھ سکتے ہو کہ اگر یہی صورت مسلم آبادی کی اکثریت رکھنے والے علاقوں میں پیش آئے یعنی وہ مسلمانوں کے خلاف غنیم کا ساتھ دیں تو اسلامی قیادت ان سے کس طرح پیش آئے گی(کیا اسی طرح نہیں جس طرح مدینے کے رہنے والے یہودیوں کے ساتھ آپ نے معاملہ کیا تھا جبکہ وہ مسلمانوں کے حلیف تھے مگر موقع پا کر دشمن سے ساز باز کر رہے تھے۔) حدیثوں میں خیانت کرنے والوں کے لیے جتنی وعیدیں آئی ہیں اور بہت زیادہ آئیں ہیں ایسے خیانت کرنے والے سب کو شامل ہیں۔ یا تو اگر ممکن ہو وہاں کے مسلمان با ضابطہ طریقے سے معاہدے سے دست بردار ہو جائیں یا پھر اس کی پابندی کریں۔چناچہ صحیح مسلم میں حضرت حذیفہ بن یمان فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر میں میرے شرکت نہ کرنے کی اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہ تھی کہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف نکلتے ہوئے قریش سے میں نے عہد کر لیا تھا کہ میں وہاں پہنچ کر (بدر کی متوقع جنگ میں مسلمانوں کے ساتھ مل کر ان کے خلاف)نہیں لڑوں گا۔ بدر کا معرکہ اسلام کی تاریخ میں ایک عظیم اور باعث صد افتخار معرکہ شمار ہوتا ہے اس کے باوجود نبی علیہ السلام حضرت حذیفہ کو عہد پورا کرنے کا کہتے ہیں اور انہیں معرکے میں شریک ہونے کا نہیں کہتے اور نہ ہی حضرت حذیفہ کے بارے میں کسی نے یہ کہا کہ وہ بدر سے پیچھے رہنے والوں میں سے تھے۔مدینہ ہجرت کرتے ہوئے ان سے قریش نے جنگ بندی کا معاہدہ کر لیا تھا۔ اس جنگ بندی کے معاہدے کو آپ نے ان کے حق میں بر قرار رکھا۔اسلام معاہدہ پورا کرنے والا دین ہے نہ کہ خیانت کرانے والا دین۔ جہاد کا عظیم فریضہ انجام دینے والوں کے بارے میں یہ عام ہو جانا چاہیے کہ وہ مسلمانوں کے کیے گئے عہد و پیمان کو بر قرار رکھتے ہیں۔البتہ جو جہادی عمل میں غلۃ پائے جاتے ہیں وہ کسی قسم کے معاہدوں کو اہمیت نہیں دیتے۔افراط و تفریط کرنے والوں میں بد عہدی عام ہوتی ہے۔ یہ بات بے حد اہم ہے کہ جنگ کا دائرہ انہیں خطوں تک محدود رکھا جائے جن خطوں کو مسلمان ارض جہاد کہتے ہیںالبتہ جو علاقے مسلمانوں کے لحاظ سے امن کے علاقے ہیں ان میں جنگ برپا نہ کی جائے اس لیے کہ ارض جہاد کے احکام اور ہوتے ہیں اور مسلمانوں کے امن والے خطوں کے احکام اور ہوتے ہیں۔ قابل عمل اور واضح اسٹریٹجی بنانا: یہ بات بے حد اہم ہے کہ جہاد کا عمل ڈسپلن سے نکلنے نہ پائے۔جتنی طاقت ہو اور مرکزی قیادت بہ آسانی اسے سنبھال سکے جہاد کا دائرہ اسی قدر محدود رہے۔یہ بات جہادی عمل کرنے والے اور جن جن کے خلاف جہاد کرنے کا فیصلہ مسلمانوں کی قیادت نے اپنی استطاعت کے مطابق کیا ہو سب کو معلوم ہو کہ فلاں خطہ دار الحرب ہے اور مسلمانوں کی قیادت نے فلاں خطے یا فوج کے خلاف با ضابطہ اعلان جنگ کر دیا ہے۔ یہ طے پا جانے اور متعلقین کو معلوم ہو جانے کے بعد کہ فلاں مقامات ارض جہاد ہیںیا فلاں ملک کی سپاہ کے خلاف جہاد کرنا طے پا گیا ہے تو لازم ہے اب طے شدہ مقامات کے علاوہ جنگ کا دائرہ ہرگز وسیع نہ ہونے دیا جائے۔عین ممکن ہے کہ دشمن خود جہادی فریق کو الجھانے کے لیے نئے محاذ کھولنا چاہے۔ یہ ذمہ داری جہادی قیادت پر ہے کہ وہ کس خوب وضع کردہ حکمت عملی سے ایسی ہر چال سے اپنے آپ کو بچا لیتی ہے جس سے جنگ کا دائرہ پھیلے نہ اور انہیں جگہوں تک محدود رہے جو مسلم قیادت نے طے کر لی ہے۔اگر دشمن جہادی قیادت پر الزام لگائے اور اپنے ذرائع ابلاغ کو مجاہدین کے خلاف اس طرح استعمال کرے کہ فلاں سانحے کی ذمہ دار فلاں جہادی گروپ ہے،تاکہ جہادی عمل سے وابستہ قیادت پر سے عام مسلمان کا اعتماد اٹھ جائے تو لوگ خود ہی اس پروپیگنڈے کو غلط قرار دے لیں کیونکہ جہادی قیادت واضح طور پر اعلان کر چکی ہو گی کہ ان کے عمل کا فلاں میدان ہے اور فلاں میدان ان کا ہدف نہیں ہے اور محض جہاد مخالف لابی کا پروپیگنڈہ ہے۔بر سبیل مثال جہادی قیادت نے کیا فیصلہ کیا ہے کہ وہ کتنے محاذ پر بیک وقت لڑ رہے ہیں یا لڑ سکتے ہیں یا لڑیں گے؟کیا وہ صرف فلاں ملک کی مرکزی حکومت سے لڑنے کا فیصلہ کر چکے ہیں یہ خطے کی تمام ہی حکومتوں سے انہوں نے ٹکر لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔یا مثلاً یہ کہ دنیا بھر کی تمام نظاموں اور حکومتوں سے ان کی جنگ ہے؟یا ان کی اسٹریٹجی یہ طے پائی ہے کہ ان کی جنگ طویل اور مرحلہ وار ہے۔وہ اپنی سر گرمیاں بیرونی حملہ آور قابض فوج سے خطے کو آزادی دلانے تک محدود کرتے ہیںاگر وہ ما بعد آزادی خطہ کی بھی پلاننگ بنا لیتے ہیں تب بھی ان کی اسٹریٹجی مرتب مانی جائے گی۔کیا مثلاً وہ اس سے بھی آگے کی حکمت عملی وضع کر چکے ہیں کہ مثلاً فلاں ملک کو آزاد کرانے کے بعد ان کا ہدف فلاں دشمن ہو گا اور فلاں بھی اور وہ خطہ بھی ضرور اس کے بعد آزاد ہونا چاہیے بلکہ کل دنیا یکے بعد دیگرے ارض جہاد بننے والی ہے؟کیا جہادی قیادت کے پیش نظر سب کافر یکساں سلوک کا حکم رکھتے ہیں اس لیے کہ وہ کافر ہیں اور کفار کے خلاف جنگ عبادت ہے؟اس میں وہ حملہ آور ممالک اور خاموش یا احتجاج کرنے والے کافر ممالک جو مسلم اراضی پر حملے کو غلط کہہ رہے ہیں سب کا بس ایک ہی حکم یعنی ان سے بلا امتیاز جہاد کرنے کا حق رکھتی ہیں؟ یا بڑے ‘ ناگزیر اور مسلط دشمن سے مقابلہ کرنے تک ہی لڑائی محدود رکھی جائے گی؟ کیا قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ خود کش جنہیں استشہادی کارروائی کہا جاتا ہے کہ ایسی کارروائیاں کرنا ان کی طے شدہ حکمت عملی ہے یا مثلاً ایسی کارروائیاں کرنا ان کی پالیسی نہیں ہے۔ اسی طرح مسلم آبادی والے علاقوں (مانند عراق و افغانستان )میں عوامی مقامات ان کا نشانہ بن سکتے ہیں یا نہیں؟کیا کسی متعین شخص کو ہدف بنا کر ایسی جگہ اسے نشانہ بنانا ان کی پلاننگ کا حصہ ہے کہ اگر اس کے نتیجے میں ایک یا زیادہ ایسے لوگ بھی مارے جاتے ہیں کہ جن کا مارا جانا مطلوب نہیں تھا؟ کیا ان کے مثلاً بم دھماکے میں مارے جانے کے لیے یہ دلیل کافی سمجھ لی گئی ہے کہ وہ اصل ٹارگٹ نہیں تھے ،ایک بڑے طاغوت کو سوائے اس طرح کے قتل نہیں کیا جا سکتا تھا؟پھر اگر ایک جہادی گروہ یا کوئی قیادت اپنی اسٹریٹجی کا اعلان کر دیتی ہے تو کیا یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ اس قیادت کی اسٹرٹیجی کے علاوہ اور کوئی ٹولہ اپنی الگ اسٹریٹجی نہیں بنائے گا اور اگر بنائے گا تو اس کی ذمہ داری مثلاً فلاں قیادت پر نہیں ہے اور مثلاً یہ کہ فلاں قیادت فی الواقع اپنے کارکنوں پر اپنی اسٹریٹیجی کی پابندی کرا سکتی ہے اور اگر وہ تجاوز کریں تو ان کی تادیب یا خلاف ورزی کا بھر پور نوٹس لے سکتی ہے؟ایسے اور بھی بہت سے نکات اٹھائے جا سکتے ہیں کہ جن کے واضح نہ ہونے یا مبہم رہ جانے کا نقصان نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ایسا تو نہیں کہ جہادی قیادت کوئی بڑا بول بول کر اپنے آپ کو بے وقعت کر دینے کا سامان کر رہی ہو۔ہاں ایسی غیر عملی دھمکیوں کے نتائج البتہ دوسرے مسلمان اٹھا رہے ہوں تو مسلمانوں کو اس وجہ سے جو ضرر پہنچے گا،جہادی قیادت کو اس سے لا تعلق نہیں سمجھا جائے گا۔ ان مثالوں کے بعد میں چاہتا ہوں کہ جہادی قیادت کے سامنے حکمت عملی کا ایک ایسا اسکیچ رکھ دوںجو مندرجہ بالا اسٹریٹجی کو ایک قابل عمل رخ دے دے ۔ بیرونی قابض فوج کے خلاف ہی جہاد کو محدود رکھنا دانش مندی اور اپنی قوت کا صحیح مصرف ہے۔ حسب ضرورت یہ بھی اشارہ کر دیا جائے کہ ہماری جنگ صرف فلاں کے ساتھ ہے اور دیگر خطے ہم سے پوری طرح محفوظ رہیں گے۔اس طرح جہادی عمل مرتکز ہو جائے گا اور چھوٹے چھوٹے محاذوں میں الجھ جانے سے بھی بچ جائے گا۔ ساری توانائی بڑے دشمن کی سر کوبی تک محدود کر کے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ایسے حلیف ممالک کی تلاش یا شخصیات کی تلاش میں بھی کوئی مضائقہ نہیںجن کے سیاسی مفادات ہمارے ترجیحی دشمن کے کم زور ہونے سے وابستہ ہوں۔ ان ممالک یا شخصیات کے توسط سے ہماری اسٹریٹیجی کو فائدہ پہنچتا ہے تو اس میں نہ عقلاً کوئی حرج ہے اور نہ شرعاً۔نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ تم اہل روم سے ایک مرتبہ جنگ بندی کا معاہدہ کرو گے(ستصالحون الروم صلحاً آمناً) اور تم اور وہ مل کر ایک ایسے دشمن کے خلاف لڑو گے جو تم پرپیچھے سے حملہ کر چکا ہو گایا دوسری روایت ہے کہ اُن(اہل روم)کے پیچھے حملہ کر چکا ہو گا۔یہ روایت سنن ابی داو ¿د میں صحیح سند سے مذکور ہے(و تغزون انتم و ہم عدواً من ورائکم و فی روایۃ من ورائہم)میرے خیال میں دونوں الفاظ یعنی من ورائکم اور من ورائہم ہی اپنی اپنی دلالت کے لیے شریعت کو مطلوب ہیں۔ اس روایت کی رو سے جب کبھی مسلمانوں کے دینی اور دنیوی ضروریات ان میں سے کسی ایک صورت کا تقاضا کریں تو وہ اہل روم سے مل کر کسی مشترکہ دشمن سے لڑ سکتے ہیں۔(ظاہر ہے اہل روم اس طرح کا معاہدہ تو نہیں کریں گے کہ اگر مسلمانوں کی مصلحت روم کے ساتھ مل کر جنگ لڑنے میں ہو تو وہ اپنی قوت فرہم کر دیں اور اگر انہیں عند الطلب مسلمانوں سے مدد کی ضرورت ہو تو مسلمان انہیں مدد نہیں دیں گے ظاہر ہے ایسا معاہدہ کوئی ذی ہوش نہیں کر سکتا)بنا بریں اگر مسلمانوں کو ایسے مشترکہ دفاعی معاہدے میں فائدہ پہنچتا ہو(ظاہر ہے اہل روم کو بھی ایسے معاہدے کا کوئی فائدہ ہو گا تب ہی وہ معاہدے میں شامل ہوں گے)تو وہ ایسا معاہدہ کرنے کے مجاز ہیں۔اس کی مثلاً ایک بڑی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ بڑے اور خطرناک دشمن تک رسائی روم کے خشک یا بحری یا فضائی راستوں سے گزرے بغیر نہ ہو سکتی ہو۔یہ فقہ الواقع کا اچھا خاصا خزانہ ہے جو شریعت نے ہی ہمیں فراہم کر دیا ہے اسے بروئے کا رنہ لانا کوئی تقوے کی بات نہیں ہے۔آپ کی سیرت مطہرہ سے فقہ غزوات میں ترجیحات کو واضح طور پر اخذ کیا جا سکتا ہے۔(یثرب(مدینہ منورہ)میں یہودی قبائل کو آپ نے دفاعی معاہدے میں شریک کرنے کے بعد)اپنی تمام تر توجہ قبیلہ قریش کی قوت کم زور کرنے پر لگائے رکھی۔اس میں کامیابی کے بعد آپ نے قریش اور ان کے حلیف قبائل کے خلاف غزوات شروع کیے پھررفتہ رفتہ جہاد کا دائرہ عرب سر زمین کے تمام ان قبائل کی طرف کر دیا جو ابھی تک اپنے شرکیہ تصورات پر جمے ہوئے تھے۔اس میں کامیابی کے بعد ہی آپ نے فارس اور روم کی بڑی سلطنتوں سے عربوں کی سر زمیں پر بھی قتال کیا اور ان کے ملکوں کے اندر گھس کر بھی قتال کیا اور بعد ازاں پوری دنیا میں اسلام کا کلمہ بلند کرنا آپ کے لیے ممکن ہوا۔ایسا تقریباً نہیں ہوا کہ آپ نے بیک وقت دو بڑے محاذوں پر اپنے اصحاب کے ساتھ جنگ میں کود جانے کی اسٹریٹجی اپنائی ہو۔ آپ کی یہ عظیم بصیرت تھی کہ غزوہ خندق میں کم از کم عربوں کاایک قبیلہ غطفان کو قریش کا ساتھ نہ دینے کے لیے آپ نے مال کی پیش کش کی اور مدینے کی کھجوروں کی کل پیداوار کا نصف ان کو دینا آپ کی رائے تھی۔(بلا شبہ اگر مال دینے سے امت کو کوئی فائدہ حاصل ہو سکے تو یہ ہمارے دین میں گھاٹے کا سودا نہیں ہے)۔اس کے بعد فاضل مصنف نے افغانستان میں اہل علم کی اسٹریٹجی کو حاشیے میں لکھا ہے ، ہم اس عبارت کا ترجمہ متن میں کر رہے ہیں کیونکہ اس حاشیے کا براہ راست تعلق اس اسٹریٹجی سے بنتا ہے جو مصنف پیش کرنا چاہ رہے ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ افغان روس جہاد میں اہل الرائے نے ایسی کوئی کوشش نہیں کی کہ وہ روس کو نقصان پہچانے کے لیے افغانستان سے نکل کر روس کی سرحدوں میں جاگھسے ہوں۔اس وقت اہل ا لرائے میں ایک بڑی شخصیت مرحوم عبد اللہ عزام کی بھی تھی جنہوں نے کمال ہوشیاری سے پورے دس سال جنگ کے دائرے کو افغان سر زمیں سے باہر نہیں نکلنے دیا۔اس پورے عرصے میں روسی سفارت خانہ اسلام آباد میں کھلا رہا۔پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے مجاہدین کی برابرمدد بھی کر رہا تھا مگر نہ پاکستان کے خفیہ اداروں نے روس کے سرکاری دفتر کو نشانہ بنایا اور نہ بننے دیا اور نہ یہ رائے ہی بنی تھی کہ ایسا کرنے میں مسلمانوں کا فائدہ ہے۔جہاد فلسطین پر بھی پوری امت کو اس لیے اعتماد ہے کہ ممکن ہوتے ہوئے بھی فلسطین کی ہوشیار قیادت اپنی اراضی سے باہر یہودیوں کو نشانہ نہیں بننے دیتی۔دوسری طرف جہادی عمل میں شریک بہت سے معاصرگروہ اس اسٹریٹجی پر ذرا بھی کان دھرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ان کے نزدیک دنیا میں اکثر تو کافر اصلی ہیں اور ان کی جان کی تو کوئی حرمت ہوتی ہی نہیں ہے اور مسلم اکثریتی خطوں میں بھی طاغوتی نظام رائج ہے اس لیے جب چاہیں کہیں بھی جہاد کر لیں سب اللہ کو مطلوب و منظورہے! فاضل مصنف کے نصف سے زائدمضمون کا خلاصہ ہم نے اوپر والی سطور میں پیش کیا ہے اور اتنی بات کرنا ہی سر دست ہمارے پیش نظر ہے۔یہ ایک درست رویہ ہو گا کہ امت کے بڑے بڑے مسائل باہمی افہام و تفہیم سے طے پائیں نہ کہ امت کے نوجوانوں کا مستقبل جذباتیت کی نذر کر دیا جائے خصوصاً اس دور میں جب پوری امت کی سر کردہ شخصیات کا تبادلہ خیال ہو جانا ممکن ہے۔ایقاظ ان شاءاللہ آئندہ بھی ایسی بحث و مشاورت میں شریک ہونے کو اپنے لیے ایک اعزاز سمجھے گااور امت کی کسی ادنیٰ ترین خدمت کو اپنے لیے نجات کا ذریعہ سمجھے گا۔یہ ایک ایسی امت ہے کہ اس کے ایک ایک فرد کا کرب پورے عالم اسلام میں بے چینی پیدا کر دیتا ہے۔
٭٭٭٭٭
|