سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ جنوری 2008

Download in PDF format

اور یہ کہ میری محبت اللہ کیلئے ہو

ماخوذ: اغاثۃ اللھفان

مؤلفہ: ابن قیم الجوزیہ

انتخاب: محمد زکریا

جملہ عبادات کی ایک لازمی صفت، محبت کے شدید جذبات کا پایا جانا ہے۔ اللہ کے ساتھ محبت کے جو جذبات روا ہونا چاہیں اور واجب بھی ہیں وہ نہ غالی صوفیوں کی طرح بیہودگی پر مشتمل ہوں اور نہ ہی شریعت کی پابندی سے آزاد ہوں۔ امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے اغاثہ اللہفان میں اس موضوع پر سیر حاصل بحث کی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کیلئے محبت کے جذبات کے اظہار کیلئے ایسے الفاظ کا استعمال ناجائز ہے جس میں پاکیزہ جذبات اور غایت درجے کی ذلت اور انکساری اور حاجت روی کے جذبات نہ پائے جاتے ہوں۔

عشق، غرام(1)صَبابۃ (2)، شغف (3) اور ھَوَی جیسے الفاظ پاکیزہ جذبات کے اظہار کیلئے استعمال نہیں ہوتے۔ محبت کے جذبات کیلئے جو الفاظ اللہ کیلئے جائز اور درست ہیں، ان کا تذکرہ کرتے ہوئے امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ علاوہ لفظ ’محبت‘ کے عبادت، انابت (4) اور اخبات (5) کا ذکر کرتے ہیں۔

(1) فریفتگی

(2) (محبت کے جذبات میں) سلگتا ہوا جوش اور جذبہ اشتیاق۔

(3) کسی کی طرف اُس کے پرکشش ہونے کی وجہ سے دِل پر کھچاﺅ محسوس کرکے بے قرار ہو جانا اور سب کچھ کرنے پر آمادہ ہونا۔

(4) داد رسی کیلے پُرامید ہو کر رجوع کرنا۔

(5) اللہ کے سامنے فروتنی، انکساری اور ذلت کے جذبات کو بہ خوشی قبول کرکے پیش کرنا۔
صالحین کی نظر میں اللہ کیلئے محبت کس قدر اہم ہے اور کس قدر یہ نازک، لطیف اور پُر مغز جذبہ ہے، اس کا اندازہ تو اقتباس پڑھ کر ہوگا البتہ اگر کتاب وسنت کو چھوڑ کر کسی اور ذریعے سے محبت کے جذبات کی آبیاری کی جاتی ہے تو وہ نہایت سنگین نتائج کو لاتی ہے، اگر شرعی علم ہی سب جذبات کی بنیاد بنا رہے اور علم ہی کے ہاتھ میں جذبات کی باگ رہے تو پھر بندہ منزل پر جلد پہنچ جاتا ہے، بھٹکنے سے بچ جاتا ہے۔

محبت میں ایک ایسی طاقت ہوتی ہے جو مطلوب کی طرف ایک زبردست حرکت کا باعث بنتی ہے۔رحمن سے محبت قرآن سے محبت، علم وعرفان اور ایمان سے محبت اِن لطیف معانی کی طرف کھینچ کر لے جاتی ہے تو مال و دولت، حصول زر، صنم پرستی اور مظاہر پرستی کی محبت شرک کی طرف کھینچ لے جاتی ہے۔ عورتوں اور چھوکروں سے محبت رذیل اخلاق کی طرف جبکہ وطن پرستی، قوم پرستی اور نسل پرستی سے محبت تعصب کی طرف لے جاتی ہے اور اگر تم غور وفکر سے کام لو تو بندے کے ہر فعل کے پیچھے محبت کی وجہ سے ارادے کی قوت پیدا ہوتی ہے لہٰذا ایسی زور آور اور مفید قوت کو صحیح رخ پر نہ ڈالا جائے تو بڑے بھیانک نتائج سامنے آئیں گے، اِس لئے بندہ سب سے زیادہ جس چیز کا محتاج ہے وہ اُن امور کی بابت اس کی آگاہی ہے جو اُسے ہلاکت میں ڈالنے والے ہیں اور اِس آگاہی کا نام شریعت میں علم ہے۔ علم کی بدولت ضرر رساں اور نفع بخش چیزوں سے آگاہی ہوتی ہے۔ پس جب کبھی کوئی بندہ اِس بات کا علم حقیقی پا لے گا کہ بندے کیلئے کون کون سی چیزیں ضرر رساں ہیں اور کون کون سی نفع بخش تو وہ ضرر سے بچے گا اور اُس سے نفرت کرے گا، نفع دینے والے کام دلجمعی سے انجام دے گا تو ایسے قلب میں نفرت اور محبت کی صحیح پہچان ایسی بیٹھے گی کہ وہ اُس چیز سے محبت کرے گا جسے اُس کے رب نے پسند کیا ہوگا اور اُس چیز سے نفرت کرے گا جو اُس کے رب کے ہاں قابل نفرت ہے۔

اِس بات کو تم ایک اور طرح سے بھی سمجھ سکتے ہو، ایک طریقہ عقل اور دانش کا ہے اور دوسرا شریعت اور وحی کا ہے، واقعہ یہ ہے کہ انسان کی عقل اور فطرت میں اچھائیوں سے محبت ایسی رچ بس گئی ہے کہ ہر عاقل اس بات سے محبت کرتا ہے کہ سچ کا بول بالا ہو، عدل وانصاف، احسان، وفاداری اور فرماں برداری، عفت، دلیری، سخاوت، بلند اخلاق، امانت میں خیانت نہ کرنا، صلہ رحمی کرنا، لوگوں کا بھلا چاہنا، عہد وپیمان کا پاس لحاظ رکھنا، پڑوسی کے حقوق ادا کرنا، مہمان نواز اور غریب نواز ہونا، دُکھ بانٹنا اور ایسے ہی دوسرے اعلیٰ اخلاق سے محبت انسانی فطرت میں بسا دی گئی ہے، دوسری طرف بُرائیوں کے خلاف نفس کی فطرت اللہ کی طرف سے ایسی بنائی گئی ہے کہ وہ اُن سے نفرت کرتا ہے۔ پس اعلیٰ قدروں کو اس پر قیاس کرو کہ آدمی پیاس کی حالت میں صاف شفاف ٹھنڈے پانی کی طرف فطری طور پر مائل ہوتا ہے، بھوک کے وقت پاکیزہ اور تازہ پکوان بھوک کو تو مٹاتے ہی ہیں، نفس میں ایک تازگی اور قوت بھی پیدا کرتے ہیں، گرمی میں ٹھنڈے لباس اور جاڑے میں گرم لباس بدن کو سکون پہنچاتے ہیں۔ جیسے ان چیزوں کی طرف طبیعت کا رجحان ایک فطری واقعہ ہے، اُسی طرح بلند اخلاق کی طرف انسان کا فطری میلان بھی ایک واقعہ ہے اور اُن کے متضاد اخلاق سے نفرت کرنا بھی اس کا فطرح رجحان ہے۔ بعضے لوگوں نے جو یہ کہا ہے کہ اچھائی اور بُرائی کا سارا دارومدار وحی پر ہے اور عقل ودانش اور انسانی فطرت اچھائیوں کا ادراک کرنے سے قاصر ہے تو اُن کا دعویٰ سراسر انسانی فطرت اور خالق کی تخلیق کی غایت کے خلاف ہے۔ ایک دوسرے مقام (1) پر ہم نے اس پر تفصیل سے بحث کی ہے۔

انسان کی فطرت کو جودوسرا طریقہ متاثر کرتا ہے وہ شریعت اور وحی کا ہے۔اِس معتمدذریعے سے بندے کو اس بات کا علم دیا جاتا ہے کہ وہ اچھے اور بُرے میں تمیز کر سکے۔ اچھائی سے محبت اور بُرائی سے نفرت جہاں انسانی فطرت ہے وہاں وحی بھی اسی فطرت کو مہمیز دینے کے واسطے نازل ہوئی ہے مگر علم کا یہ ذریعہ عقل اور فطرت کی نسبت بہت وسیع، واضح، سچ اور عدل پر مبنی ہے کیونکہ عقل سے جو نتائج برآمد ہوتے ہیں وہ یقینی اور واضح نہیں ہوتے، آج تک عقل اور فطرت کے ذریعے صرف ایک ذات تمام اچھائیوں کو پا گئی تھی اور وہ ذات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے، آپ سب سے زیاہ علم رکھتے تھے اور بہت اعلیٰ و ارفع عقل و رائے کے مالک تھے۔ امام مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ درست رائے سب سے بڑی عبادت ہے اور سنت کی پیروی سے ہی درست رائے حاصل ہوتی ہے۔ جن شخصیات کو علم میں رسوخ ہوتا ہے اُن کی رائے حق کے موافق ہوتی ہے۔ اس بات کو سورت سباء میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: ویری الذین اوتو العلم الذی انزل الیک من ربک ھو الحق ”جن لوگوں کو علم سے بہرہ مند کیا گیا ہے اُن کی رائے یہی ہے کہ جو تمہاری طرف (کلام) نازل کیا گیا ہے تمہارے رب کی طرف سے وہی عین حق (کی بات) ہے“۔

بلاشبہ سلف صالحین بھی اپنی آراءکا اظہار کیا کرتے تھے مگر وہ سنت کی پیروی میں رہ کر رائے دیتے تھے جبکہ سلف صالحین نے ہی دوسرے فرقوں کو جنہوں نے امور غیبیہ اور شرعی احکام میں غلط رائے کو اپنایا، اھواءپرست اور شبہات کو فروغ دینے والے اہل شبہات کے ناموں سے موسم کیا تھا کیونکہ سنت کے مخالف رائے صرف جہالت ہے علم سے اُس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہی خواہش پرستی انسان کو صحیح علم سے دور لے جاتی ہے پھر اس کی مار محبت اور نفرت پر پڑتی ہے ۔نفس پرست غلط چیزوں سے محبت کرنے لگتا ہے۔ اے قاری! محبت اور نفرت کی باگ ڈور علم کے ہاتھوں میں دے دو۔ خواہش نفس سے بچنے کا صرف یہی ایک طریقہ ہے۔

اب کچھ نفع بخش محبتوں کا حال سنوں اور اگر سچ پوچھو تو یہ محبتیں بالآخر اللہ کی محبت کیلئے معاون ہی ثابت ہوتی ہیں۔ اِن میں سے ایک محبت تو وہ ہے جو شوہر اپنی جورو سے کرتا ہے، اِس محبت کیلئے تم چاہو تو عشق کا لفظ بھی استعمال کرلو۔ آدمی اپنی منکوحہ اور زیر ملکیت لونڈی سے جو حظ حاصل کرتا ہے اُس سے نفس میں عفت پیدا ہوتی ہے اور نفس پر قابو پانے کا ملکہ حاصل ہوتا ہے۔ پھر عفت مآب نفس غیر عورت کی طرف مائل نہیں ہوتا اور خود شارع کو یہ مطلوب بھی ہے کہ آدمی کا دِل اپنی جورو سے خوب آشنائی پائے کیونکہ جتنا زوجین میں محبت کا رشتہ مضبوط ہوگا اتنا مرد اپنے نفس کو غیر عورت کی طرف جھکاﺅ سے محفوظ پائے گا، اس طرف رغبت دلاتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے: هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا  (اعراف: 189) ”وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی کی جنس سے اُس کا جوڑا بنایا تاکہ اُس کے پاس سکون حاصل کرے“۔

اسی طرح سورت روم کی آیت 21 میں زوجین کے بیچ پیدا ہونے والی محبت کو اللہ کی ایک بڑی نشانی کے طور پر پیش کیا گیا ہے: وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً  ”اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اُس نے تمہارے لئے تمہاری جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم اُن کے پاس (جا کر) سکون حاصل کرو (اور اِس کے علاوہ اُس نے) تمہارے درمیان محبت اور رحمت (الفت بھی) پیداکر دی“۔

صحیحین کی روایت ہے کہ آپ سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ کون پسند ہے تو آپ نے فرمایا: عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا ! آپ کے اِس قول کی وجہ سے محدث زمان حضرت مسروق رحمۃ اللہ علیہ جب کبھی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کرتے تو اِن الفاظ کا بھی اضافہ فرماتے کہ مجھ سے بنت صدیق رضی اللہ تعالی عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی چہیتی بیوی نے روایت کی ہے کہ جس کی پاک دامنی سات آسمانوں سے بھی اوپر سے نازل ہوئی تھی۔

آپ فرمایا کرتے تھے کہ تمہارے امور دُنیا میں سے میرے لئے تین چیزوں میں محبت کا سامان پایا جاتا ہے، عورت اور خوشبو، اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک تو نماز میں ہے۔

بنا بریں شوہر کا اپنی بیوی سے محبت کرنا ناپسندیدہ فعل نہیں ہے جب تک یہ محبت اُس محبت کے آڑے نہ آجائے جو اِس محبت سے بڑھ کر نفع بخش ہے اور وہ اللہ اور اُس کے رسول کی محبت ہے۔ ہر وہ محبت جو اللہ اور اُس کے رسول کی محبت کے آڑے آئے یا اُس میں کمزوری پیدا کرنے کا سبب بنے تو وہ حد درجے مذموم ہے کیونکہ وہ محبت ضرر اور نقصان کا باعث بن رہی ہے، ہاں اُن مشروبات یا ماکولات کی طرف میلان ہونا کچھ مانع نہیں جو اللہ اور اُس کے رسول کی محبت کے آڑے نہیں آتے اور نہ ہی وہ اللہ اور اُس کے رسول سے محبت کے رشتے کو کمزور کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ٹھنڈے اور میٹھے مشروبات کو پسند فرماتے تھے۔ شہد اور میٹھے حلوا بھی آپ کو بے حد مرغوب تھے، گھوڑوں سے آپ شدید محبت کرتے تھے، آپ لبادوں میں قمیض کو سب سے زیادہ پسند فرماتے تھے اور ترکاریوں میں کدو پسند فرماتے تھے۔ اِن چیزوں کی محبت ایسی نہیں ہے کہ وہ اللہ کی محبت کے آڑے آئے بلکہ الٹا یہ اُس محبت میں تقویت کا ہی سبب بنتی ہے، نفس جب اِن سے اپنی ضرورت پوری کر لیتا ہے تو پھر وہ اللہ کی محبت کیلئے اپنے آپ کو فارغ البال پاتا ہے۔ ہاں اِن چیزوں کی محبت کے پیچھے طبیعت کا میلان اور نیت کا بڑا دخل ہے۔ اب اگر لباس اور خوراک سے محبت کی وجہ یہ ہوئی کہ جسم میں توانائی حاصل کرکے اور صاف ستھرا ہو کر اللہ کی محبت کے اظہار کیلئے عبادت کی طرف مائل ہوتا ہے تو اُس کا کھانا پینا اور سونا سب باعث اجر وثواب ہے اور اگر محض انسانی فطرت کی وجہ سے اچھا لباس پہننے یا خوراک کھانے سے محبت رکھتا ہے تو پھر اِس کام پر نہ ثواب ہے اور نہ عتاب، اگرچہ وہ اِس موقع کو ہاتھ سے جانے دیتاہے کہ اِن چیزوں کو حاصل کرکے ثواب بھی پا سکتا تھا اگر اِن چیزوں سے اُس کی محبت اس لئے ہوتی کہ وہ اللہ سے اُس کی محبت میں معاون بنیں۔

قارئین، امام قیم رحمۃ اللہ علیہ کا منتخب کلام یہاں پورا ہو جاتا ہے مگر ہم یہاں ایک اور اضافہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں جو غالباً صرف اس صدی میں پیدا ہوا ہے اور وہ محبت کی ایسی بدترین شکل ہے کہ جس سے خدا کی پناہ مانگنا چاہیے۔ اِس صدی میں لباس کی تراش خراش اور کھانے کی چیزوں میں آرٹ پیدا کرنا خود ایک ایسی مصیبت(craze) بن گئی ہے کہ آدمی کی محبت بلکہ آخری درجے کی محبت کا دائرہ بس انہیں چیزوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اور اگر اس میں شہوت پرستی اور شہوت رانی کا اضافہ کرلیں تو محبت کے تمام سوتے انہیں سے پھوٹتے ہیں اور انہیں تین چیزوں کے گرد منڈلاتے ہیں: فیشن، لذت اور شہوت، اس صدی کے اکثر انسانوں کی محبت کو ان تین چیزوں میں محصور کرنے کیلئے جو علوم اِس تہذیب نے پیدا کئے ہیں، اُن کی فہرست دیکھ کر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان تین چیزوں کی محبت اس صدی کے انسان کیلئے کس قدر سنجیدہ مسئلہ ہے!

٭٭٭٭٭

(1) کتاب المفتاج لابن قیم الجوزیہ