سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ اپریل 2008

بیداری << منہج

Download in PDF forma

 بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسول اللہ
اما بعد.
.

شعور اور ادراک کا قحط..

مگر سوتے پھر پھوٹ سکتے ہیں !

”موحد معاشرہ نہ کہ تیسری دنیا“ کے ابتدائیہ میں ہم ذکر کر آئے ہیں کہ توحید کی فصل _ معاشرے کی سطح پر -_ بونے کا عنوان صرف آخرت ہوسکتی ہے باوجود اس کے کہ اس فصل کی کاشت سے آخرت کے ساتھ دنیا خودبخود آتی ہے، بعینہ جس طرح دانوں کے ساتھ بھوسہ آنے سے کبھی نہیں رکتا۔لہٰذا آخرت کے سوا کوئی ہدف اس گفتگو سے ہمارا نہ ہونا چاہیے اور نہ ہے، اگرچہ یہاں کے کچھ حلقوں کیلئے بات کی ترتیب ہم کچھ ایسی رکھیں کہ وہ سماجی و سیاسی محرکات جو اِن کو پریشان یا مصروفِ عمل رکھتے ہیں ، اور جنکا عنوان ظاہر ہے کہ ’دنیا‘ ہے.... یہ حلقے اپنے وہ محرکات بھی ہمارے یہاں _ ایک خاص سیاق میں - زبر بحث پائیں ۔

٭٭٭٭٭

قوم کے خیرخواہ اس وقت یہاں کی قومی و معاشرتی ناکامی پر پچھلی نصف صدی سے زائد عرصہ ہوا جس انداز کی آہ و بکا کے عادی ہو گئے ہیں ، خصوصا یہاں کے صحافی اور دانشور اور منظر عام پر رہنے والے کچھ دیگر باشعور طبقے، اور وہ قوم کو ’امید‘ لگوا دینے کی اِس کے سوا کوئی بنیاد تک اپنے پاس نہیں پاتے کہ کسی طرح ’اچھے لوگ‘ ملک میں برسر اقتدار آجائیں یا پھر موجودہ حکمران ہی کسی خوش نما اتفاق کے نتیجے میں ’پابندِ جمہوریت‘ ہوجائیں .... اور اس گریہء اجتماعی کا آہنگ جس طرح رفتار سے مسلسل اب بلند سے بلند ہوتا جارہا ہے، خاص طور پر اگر کبھی آپ یہاں کے اخباری کالم نگاروں کے نالے سننے کے متحمل ہوں ، بلاشبہہ تشویشناک ہے۔

کثرتِ گریہ اور گردانِ شکوہ اگر کسی مسئلہ کا حل ہوتا تو جتنا رونا پچھلی نصف صدی سے ہمارے یہ مخلص و باصلاحیت ہمدردانِ قوم اب تک رو چکے اور خاص اس موضوع پر جتنے دفتر سیاہ کئے جا چکے اور گَلوں کو جس قدر مشقت کروائی جا چکی، وہ اس قدر کافی تھا کہ اس کے ہوتے ہوئے نہ صرف ہمارا کوئی مسئلہ تشنہء حل پڑا نہ رہتا بلکہ اب تک ہم دنیا کی ہر قوم سے بڑھ کر ترقی بھی کرچکے ہوتے!

اقوامِ عالم کو اپنی راہ پر زور و شور سے گامزن دیکھنا، اور چلنے کی شدید خواہش رکھنے کے باوجود خود اپنے لئے راستے کو مسلسل بند پانا.... پھر، ہر وہ راستہ جو بظاہر کھلا نظر آئے کچھ دیر بعد اپنے اوپر بند ہوتا دیکھنا،اور یوں مایوسیوں اور ناکامیوں پر مبنی ایک مسلسل آہ وفغں ، جو نصف صدی پر محیط ہو.... خدشہ ہے ہمیں کچھ نفسیاتی مسائل سے دوچار نہ کردے، اور یوں جس بحران سے ہم گزر رہے ہیں اس کو کچھ مزید نہ الجھا دے۔

ضروری ہے کہ ’چلنے‘ کی بجائے سب سے پہلے ’راستہ‘ ہی ہمارے ان مخلص و سنجیدہ حلقوں سے کچھ توجہ پا لے!

’درد‘ ایک نعمت ہے، کہ یہ جسم کے اندر کسی خلل کا پتہ دینے کیلئے ایک خدائی بند و بست ہے۔ پس یہ چیخ و پکار جو نصف صدی سے ہم مسلسل کر رہے ہیں اس سے کچھ اور ثابت ہو نہ ہو یہ اپنی اس دلالت میں قطعی ہے کہ اپنے یہاں کوئی بہت بڑا اور غیر معمولی خلل پایا جاتا ہے۔ ایک ’قطعی‘ بات کو ثابت کرنے کی کوشش فضول ہے، ضروری صرف یہ ہے کہ اس کی تہہ میں جانے کی کوشش کی جائے کہ یہ ساری ’تکلیف‘ ہے کس خلل کی پیدا کردہ؟

اپنے سب مخلص و ہمدرد طبقوں کے مابین اس بات پر قریب قریب ایک ’اجماع‘ دیکھنے میں آرہا ہے کہ ہمارا نہ صرف ’سسٹم‘ بلکہ ’معاشرہ‘ ہی ایک بڑے بحران سے دوچار ہے، بے شک اس بحران کا تعین کرنے میں یہ لوگ آگے پھر اپنی اپنی رائے اختیار کرتے ہوں ، اور اگرچہ اس بحران کی تشخیص کے معاملہ میں پائی جانے والی ’کثرتِ آرائ‘ بذاتِ خود ایک بحران ہو!

بطور قوم ہمیں عارضے بے پناہ لاحق ہیں مگر ان میں سے بیشتر، علامات symptoms ہی کہلائیں گی نہ کہ علتیں causes ۔ ہمارے سیاسی مسائل، ہمارے سماجی مصائب، ہمارے معاشی بحران، انتظامی بدحالی، ہماری سائنسی پسماندگی، ہماری عسکری مغلوبیت اور اس طرح کے بہت سے اور رونے.... سب ہمارے اس بحران کے ظاہری پرتو ہیں نہ کہ حقیقی علتیں ۔ جہاں تک حقیقی علتوں کا تعلق ہے تو شاید وہ چند ایک امور ہی کی جانب لوٹائی جاسکتی ہیں ....

قبل اس کے کہ یہاں اس بحران کی بعض حقیقی علتوں اور ان سے نبرد آزما ہونے کی امکانی صورتوں پر ہم کچھ گفتگو کریں .... یہ ذکر کر دینا ضروری ہے کہ ہم ہر اس شخص کی دل سے قدر کرتے ہیں جو اخلاصِ نیت کے ساتھ اور اپنی بہترین صوابدید سے کام لیتے ہوئے کسی بھی انداز اور حیثیت میں اس امت کا کوئی محاذ سنبھال کر بیٹھا ہے، خواہ وہ سماجی محاذ ہو، یا سیاسی، یا عسکری، یا معاشی، یا انتظامی، یا علمی اور سائنسی۔ ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ ایسے کسی محاذ پر سرگرمی کا امت کو کوئی فائدہ نہیں ۔ ایسے منفی اندازِ فکر کو ہم حد درجہ غلط اور نقصان دہ جانتے ہیں ۔ نہ صرف یہ، بلکہ ہمارے نزدیک ضروری ہے کہ ان سب محاذوں پر برابر کام ہوتا رہے بلکہ امت کی ترقی کے ان سب منصوبوں کی بھر پور نصرت ہوتی رہے، جبکہ اس دور ان اس اصل کام کو پروان چڑھانے پر ایک خاص زور اور ترکیز صرف کردی جائے جو اس امت کے ایک معتد بہ حصہ کو لا الہ الا اللہ پر ازسرنو کھڑا کردے، اور جس کو ہم امت کا ”بنیادی انفراسٹرکچر“ سمجھتے ہیں ، اور جوکہ یہاں ہمارا موضوع رہے گا۔

جہاں تک اس بحران کی حقیقی توصیف description کا تعلق ہے تو ہماری نگاہ میں وہ تین بنیادی مسائل سے باہر نہیں :

1) ہمارے ہاں شعور کی کوئی ترقی اور ادراک کی کوئی پرورش نہیں ہورہی، کم از کم اس سطح کی نہیں ہو رہی جو قوموں کی اس دوڑ میں ہمیں کسی باعزت مقام پر پہنچا سکے اور اپنی تاریخ کے اس بد ترین گرداب سے نکال کر ہمیں کسی کنارے لگا سکے۔

2) ہمارے یہاں _ قومی سطح پر_ جذبہء عمل اور صبر و حوصلہ، خصوصا لمبا چلنے اور کام میں عمدگی اور نظم لانے کیلئے، مطلوب ہمت و صلاحیت کا شدید فقدان ہے۔

3) اپنے اس سفر میں _ اجتماعی سطح پر _ ہمیں خدا کی معیت حاصل نہیں ۔

تیسری بات ظاہر ہے کہ سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر ذکر ہونے والی ہے، مگر چونکہ یہ ہمارے اس پورے سلسلہء مضامین میں اسلوب بدل بدل کر دہرائی جا رہی ہے اور دہرائی جاتی رہے گی، نیز ہماری اس گفتگو کا زیادہ تر رخ چونکہ سماجی اصلاح پسندوں کی جانب ہے جو اس موضوع پر ’تقریر‘ سننے کے متحمل عموماً نہیں دیکھے گئے، لہٰذا یہاں ہم پہلی دو باتوں کو ہی نقطہ وار زیر بحث لائیں گے اور یہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ ایک ”موحد معاشرے“ کے قیام میں اپنی قومی زندگی کے یہ دونوں زریں مطالب _ کس زبردست اور زوردار انداز میں _ ساتھ ہی حاصل ہو جاتے ہیں ۔

ان میں سے پہلا مسئلہ،یعنی ”شعور و ادراک کا قحط“ ہماری اس حالیہ فصل کا موضوع رہے گا، جبکہ دوسرا مسئلہ یعنی ”جذبہء عمل اور صبر و حوصلہ کا فقدان“ آئندہ فصل میں ہمارے زیرِ بحث آئے گا۔

٭٭٭٭٭

ایک پسماندہ قوم کی اجتماعی زندگی میں زبردست انقلاب برپا کردینے کیلئے، ایک بکھری اور بے ہدف قوم کا شیرازہ مجتمع کر ڈالنے، اس کی صفوں میں حیرت انگیز تنظیم لے آنے اور کچھ عظیم ترین اہداف اور مشکل ترین گھاٹیوں سے اس کی آشنائی کرادینے کیلئے، اور اس میں وہ جوہر پیدا کردینے کیلئے کہ کچھ عاجز کردینے والے چیلنجوں کو مات دے کر اور سرگردں کر رکھنے والی بے یقینیوں کا ہالہ چیر کر وہ اپنے لئے عمل اور جدوجہد کی ایک عظیم شاہراہ بنا لے.... ناگزیر ہے کہ کسی بھی سیاسی یا سماجی یا معاشی جہت کو زیر بحث لانے سے پہلے وہ ایک فکری و نظریاتی طوفان سے ہی آشنا کرا دی جائے، اس کے شعور کے بحر میں کچھ ایسا زورآور اضطراب اور ایک بے قابو تلاطم برپا کیا جائے جو کسی عظیم حادثے سے کم نہ ہو اور جس سے پھر ادراک وآگہی کے میدان میں وہ ایک نئی اور زور دار کروٹ لے کر اٹھے، یہاں تک کہ جب وہ قوم اپنی راہ پر گامزن ہو تو پھر وہ اک ”سیلِ روں “ ہو....اقوام عالم کے مابین اور چیلنجوں کے ہجوم میں ایک قوم کو ناقابلِ تسخیر بنانے کی اس کے سوا کوئی صورت نہیں ۔

چونکہ ہمارے بہت سے اصلاح پسندوں کو مغرب کی مثال بہت پسند آتی ہے، اور ہم بھی اقوام کے تجربات کا بے لاگ تجزیہ کرنے کے منکر نہیں ، لہٰذا کوئی حرج کی بات نہیں کہ اس معاملہ میں بھی، اپنے قرونِ سلف پر بات کرنے سے پہلے، ہم مغرب کی اس نئی اٹھان پر ہی ایک نظر ڈال لیں جو ہمارے یہاں کے ایک بڑے طبقے کو آج ناقابلِ یقین حد تک متاثر کئے جا رہی ہے....

ہمارے وہ بہت سے لوگ جو مغرب کی معیشت، انتظامی قابلیت اور سائنس و ٹیکنالوجی میں اس کے ہاں پائی جانے والی قابل رشک مثالیں دے دے کر، اپنی پسماندگی کا رونا رو تے ہیں .... اپنے اِن حضرات کے اندازِ تفکیر کو دیکھ کر کسی وقت شک گزرتا ہے کہ مغرب نے شاید اپنے اس عمل کا آغاز ہی مہنگی کرنسی کے نوٹ چھاپنے اور ٹینکوں ، طیاروں اور میزائلوں کی صنعتیں لگانے اور ملٹی نیشنلز کے قافلے روانہ کرنے سے کیا تھا!
مغرب کے یہ مداح خود اپنے ممدوح کی وہ ساری کہانی بھول جاتے ہیں جو مغرب کی تاریخ میں بالآخر اس خوشحالی اور اس اجتماعی نظم و ضبط اور اس ترقی و اقبال پر منتج ہوئی جو ہمارے اِن ظاہر پسندوں کی نظروں کو آج خیرہ کئے جاتی ہے! وہ ساری نظریاتی کایا پلٹ جس سے ایک نہایت بے رحم انداز میں کسی وقت یہ مغربی معاشرے گزارے گئے تھے اور وہ زبردست فکری (در حقیقت عقائدی) کشمکش اور جان لیوا جدوجہد جو مغرب کی اس نئی اٹھان کی تہہ میں پڑی ہے، ہمارے اربابِ دانش کی نظر سے روپوش رہتی ہے! یہ لوگ شاید یہ سوچتے تک نہیں کہ یہ وہی مغرب تو تھاجو صدیوں سے پسماندگی کی آخری حد کو چھو رہا تھا آخر کیونکر ایک دم اس کی کوکھ سے بڑے بڑے سائنسدان، سماجی تنظیم کار، فاتحین اور سٹریٹجسٹ پیدا ہونے لگے اور کیونکر وہاں کے منتشر معاشرے ایک دم اس ناقابل یقین ڈسپلن کی لڑی میں پروئے گئے جو ہزار جتن کرلینے کے باوجود ہمارے لئے اپنے معاشروں میں پیدا کر لینا ممکن نہ ہوا!مغرب کی اس عظیم الشان تبدیلی کے پیچھے کیا کوئی سماجی حقائق اورکوئی بنیادی عمرانی مسلمات کار فرما نہیں ؟ اور اگر ہیں تو آخر وہ کیا ہیں ؟!

مغرب کی اِس شادابی کے پیچھے ان زورآور ’آتش فشانوں ‘ کی کہانی نظر انداز کردینا جو وہاں پائے جانے والے فکری بنجر پن کو ملیامیٹ اور وہاں پائے جانے والے کہنہ نظریات کی بے جان آبادیوں کو تہ و بالا کر گئے تھے.... اُس ’لاوے‘ کی ناقابل برداشت گرمی اور شدت کو بھول جانا جو وہاں کے دانشوروں نے اپنے وجود کو جلا کر برآمد کیا تھا اور اُس کے ذریعے اپنے اُن چٹیل ویرانوں میں بالکل ایک نئی طرز کے پید آور ذہنی واقعے کو جنم دے ڈالا تھا.... یہ سب کچھ بھلا کر ہمارے ان دانشورں کا محض وہاں کے کچھ ’جاذبِ نظر‘ مناظر ہی کی تصویریں کھینچ کھینچ کر لانا اور یہاں ’تقریروں ‘ اور ’سیمیناروں ‘ میں اپنی ان پسماندہ اقوام کو یہی البم دکھا دکھا کر کچھ خطرناک قسم کے عقدوں میں مبتلا کرنا، کہاں تک کسی مسئلہ کا حل ہے؟

چنانچہ جس مغرب کی ترقی نے آج ہمارے بہت سوں کی آنکھیں چندھیا دی ہیں اور جس کی تقلید میں کبھی یہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنے یہاں انقلاب لانے کی بات کرتے ہیں اور کبھی صنعت کی دنیا میں اور کبھی معیشت کو بہشت بنانے کا سوچتے ہیں .... اس مغرب نے بھی سب سے پہلے اپنی قوم کو ایک شعوری جہت ہی دی تھی اور’فتوحات‘ پر روانہ ہونے سے پہلے نظریات (درحقیقت عقائد) کی دنیا میں ہی ایک اندرونی جنگ لڑی تھی۔ مغرب کی وہ شعوری جہت جتنا بھی بڑا کفر یا جیسا بھی مہلک شرک تھی اور اس میں جس درجہ کا بھی الحاد پایا جاتا تھامگر مغرب نے اپنے اندر سب سے پہلے ’عقیدہ‘ کا ایک انقلاب برپا کرکے اور اسی کی بنیاد پر اپنے معاشرے کی ایک تعمیر نو کرکے، خواہ ابتدا میں اس کو وہ کتنا ہی مہنگا پڑا ہو، اپنے لئے ایک نیا جہان پیدا کیا تھا اور اپنے ترقی و کمال کیلئے ذہنوں کی دنیا میں درحقیقت ایک مضبوط ’انفراسٹرکچر‘ کھڑا کر لیا تھا۔

ایک نظریاتی جنگ کسی قوم میں ہمیشہ ادراک اور شعور کی پیدا کردہ ہوتی ہے، جس کا سہرا وہاں شعور وادراک کے مربیوں اور آگہی کے تخلیق کاروں کو جاتا ہے، مگر نتیجے کے طور پر وہ اس کے ادراک اور شعور کو اور بھی جلا بخش کر جاتی ہے؛ اور یہیں سے اس کے سامنے ”ترقی“ کے راستے کھلنے لگتے ہیں !

چنانچہ مغرب کے مفکرین ہی جدید مغرب کی اس اٹھان کے موجد ہیں ، نہ کہ وہاں کے سیاستدان یا فوجی جرنیل یا بینکار یا وہاں کی بیوروکریسی۔ (ہمارے یہاں البتہ ’امیدیں ‘ لگانے کی ترتیب الٹ جاتی ہے!) مغرب کیلئے جب ہم ’مفکرین‘ کا لفظ بولتے ہیں تو درحقیقت اس سے مراد ہوتی ہے وہاں کے ’علمائے عقیدہ‘ ، کیونکہ وہ ان کا عقیدہ ہی ہے جسے وہ ’فکر‘ اور ’نظریہ‘ کا نام دیتے ہیں ۔

یوں ایک نئی فکری جہت دے کر مغرب کے مفکرین نے اپنی قوم کو یہ اعتماد بھی دیا کہ وہ دوسری اقوام کی نسبت ایک ”منفرد“ انداز میں سوچتی ہے .... یعنی قومی سطح پر ایک ”شعوری و نظریاتی انفرادیت“، جس کے بغیر قومیں کسی دور مار منصوبے پر روانہ ہونے یا کسی کٹھن منزل کو سر کرنے کیلئے کبھی نہیں اٹھ سکتیں ۔

٭٭٭٭٭

مغرب کے اس ’تجربے ‘ پر ابھی ذرا دیر ہم اور رکیں گے....

مغرب کی اس فکری اٹھان کے پیچھے، جوکہ مغرب کی ساری ترقی کا اصل محرک رہی ہے، ہمیں تین باتیں بڑی واضح نظر آتی ہیں :

الف) مغربی مفکرین کے وہ نظریات جو ان کی اس نئی اٹھان کی تہہ میں پڑے ہیں ، اُس ذہنی عیاشی کی قبیل سے نہیں تھے جو عموماً فلسفے بگھارنے والے طبقوں کے ہاں پائے جاتے ہیں ۔ یہ ایسے نظریات تھے جن کی بنیاد پر وہ مفکرین ان نظریات سے جن کو وہ فرسودہ اور ’باطل‘ سمجھتے تھے ٹکرانے پر آمادہ ہوجاتے تھے۔ اس کیلئے جان دے دینے پر تل جاتے۔ سزائیں پانے اور ہجرتیں اختیار کرنے تک نوبت پہنچتی۔ ان معتقدات کو جنہیں وہ خرافات قرار دیتے تھے اپنے معاشرے کے اندر ملیامیٹ کردینے کیلئے وہ ایک باقاعدہ تحریک کھڑی کر چکے تھے اور اس ’باطل‘ کے قلعے مسمار کرنے کیلئے ہر اس سطح پر جانے کیلئے تیار تھے جو ان کی اس کشمکش کو ان کے مطلوبہ نتیجے تک پہنچا دے۔ اس جدوجہد کے نتیجے میں وہ اپنے معاشروں کے اندر ایک ایسا نظریاتی دھارا تشکیل دینے میں بالآخر کامیاب ہوگئے جو، نسل در نسل چلتی آنے والی ایک روٹین اور یبوست زدہ زندگی میں ، ایک نئی کروٹ لینے کیلئے، اقوام کی بنیادی ترین ضرورت ہوا کرتی ہے۔

’نظریات کا ٹکراؤ‘ہمیشہ ایک خاص قسم کی حرارت پیدا کرتا ہے جو پھر توانائی کی ہزارں صورتیں دھار لیتی ہے۔ یہ ’حرارت‘، باطل نظریات ہوں تو بھی پیدا ہوجاتی ہے، بشرطیکہ ’ رگڑ ‘ کا عمل صحیح طور پر روپزیر ہوا ہو!البتہ ایک نظریاتی کشمکش کھڑی کرنے کیلئے اگرخالص ”حق“ دستیاب ہو جو باطل کے خلاف معاشرے کے اندر باقاعدہ ایک ’عمل‘ کرے پھر تو وہ ”توانائی“ حاصل ہوتی ہے جس سے صدیوں معاشرے پوری کامیابی اور مستعدی کے ساتھ چلائے جاسکیں ، جس کا کچھ تذکرہ ذرا آگے چل کر ہم قرون سلف کا ایک جائزہ لینے کے دوران کریں گے۔

البتہ ہمارے دانشور ہیں جن کو وہ خالص حق بھی دستیاب ہے جو معاشروں کیلئے درکار ”روشنی“ اور” حرارت“ اور ”توانائی“ کا نایاب ترین سرچشمہ ہے اور جن کے سامنے شرک اور باطل کی پوری ایک فرسودہ عمارت بھی کھڑی ہے جس کے خلاف سرگرم عمل ہو کر یہ اس توانائی کی افزودگی کر سکتے ہیں جو اپنے روپزیر ہونے کیلئے ہمیشہ ایک نظریاتی کشمکش چاہتی ہے۔ ان کے سامنے ”عمل“ کا پورا ایک میدان بھی موجود ہے اور تربیت اور جہت پانے کو پوری ایک قوم بھی ان کی طرف دم بخود دیکھ رہی ہے، لیکن نصف صدی سے حکمرانوں اور فوجی جرنیلوں اور بیوروکریسی کے رونے رو رو کر کبھی یہ ہمیں رلا دینے میں ’مسائل‘ کا حل دیکھتے ہیں اور کبھی دوسروں کے گھروں کی خوشحالی کے تذکرے کر کرکے ہمیں بہلا دینے میں ! اس سے پہلے ان کی ایک صدی ’غیر قوم‘ کی حکمرانی کے رونوں اور ڈراووں میں گزری یا پھر ’آزادی‘ کے خواب دکھانے میں ۔ کیا واقعتا یہ اپنی قوم کیلئے اس کے مسائل کا کوئی حل بھی رکھتے ہیں ؟

ٍٍِیہ نظریاتی کایا پلٹ، جو مغرب میں روپزیر ہوئی، بے حد بنیادی ’عقائد‘ کے معاملہ میں تھی، نہ کہ محض ایک سیاسی ’انقلاب‘ یا ’تبدیلیِ حکومت‘ قسم کا کوئی واقعہ یا ’انتظامی‘ قسم کا کوئی ایجنڈا۔ زندگی، وجود، کائنات، مابعد الطبیعات، مادہ کی خدائی، انسان کی مرکزیت، فلسفہء حقوق و واجبات، تقسیم دولت، تعلقاتِ مرد وزن.... غرض یہ باقاعدہ ایک عقیدہ تھا اور پوری ایک شریعت۔ اس نئے عقیدے اور شریعت کو لے کر جدید مغرب کے معماروں نے وہاں پائے جانے والے عقیدے اور شریعت سے صاف صاف ایک اختلاف کیا تھا اور اس کے ساتھ سیدھی سیدھی ایک ٹکر لی تھی۔ وہ بڑے عرصے تک اس پر تیشے برساتے رہے اور اس’ باغیانہ‘ عمل کی کسی معاشرے کے اندر جو کوئی سزا ہوسکتی ہے اور نظامِ قائم کی بقاکیلئے پریشان طبقے اس جرم پر جو جو رد عمل ظاہر کرسکتے ہیں ، پامردی کے ساتھ اسکا سامنا کرتے رہے۔ یوں معاشرے کے اندر کسی بھی معاشی یا سیاسی یا تکنیکی تبدیلی سے پہلے ایک ”نظریاتی“ تبدیلی کیلئے وہ ایک زبردست تحریک کھڑی کرلینے میں کامیاب رہے۔ بلکہ اس تحریک کے راستے میں جو جو آیا، کوئی پروا کئے بغیر اس کو بھی ساتھ ہی ملیامیٹ کردیا گیا۔

اب چونکہ ان کے پاس کوئی وحی کی روشنی نہ تھی لہٰذا ان خرافات کا متبادل ایک طرف مادیت قرار پائی اور دوسری طرف سیکولرزم۔یہ نیا شرک بھی ظاہر ہے گمراہی ہی تھی۔ شرک جو بھی ہوخرافات ہی ہوتا ہے، مگر کوڑھ مغز پیرانِ کلیسا کے دست نگر معاشروں کی بجائے یہ ایک ایسے معاشرے کی راہ ہموار کرنے جارہا تھا جس میں انسانی خرد کا استعمال نسبتاً بہتر انداز میں ہوتا ہو۔

اس نئے شرک کے جو کوئی نقصانات ہوتے ان کے سامنے آنے کو ابھی کچھ وقت لگتا، البتہ اس عقلی جہت نے کچھ مدت کیلئے مغرب پر ترقی کے در ضرور وا کردئیے، یہاں تک کہ مغرب باقی دنیا کیلئے باقاعدہ ایک فتنہ بنا دیا گیا۔ بہرحال اس امر میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ ایک ”تبدیلی“ کا احساس جو مغرب کے رگ و پے میں سرایت کرتا دیکھا جارہا تھا اور ہر ہر میدان میں ایک زبردست تبدیلی لے آنے کا مقدمہ بن گیا تھا، اس کا نقطہء ابتدا یہی ذہنی و فکری تبدیلی تھی جس سے وہاں کے معاشروں کو ایک پر مشقت عمل کے نتیجے میں گزارا گیا تھا۔

ب) دوسری بات جو مغرب کی اس اٹھان کے پیچھے ہم دیکھتے ہیں ، وہ اس کا اپنے معاشروں کو فکری ’خود اعتمادی‘ دلانا ہے اور ان کے اندر نظریاتی طور پر ’خود کفیل‘ اور ’مستغنی‘ ہونے کا احساس پیدا کرلینا....
مغرب میں کلیسائی خرافات کے خلاف بغاوت اور ایک عقلی اپروچ اختیار کرلینے کی سوچ کہاں سے آئی؟ ایک طرف اندلس کی مسلم جامعات میں پڑھ کر، دوسری طرف صلیبی حملوں کے دوران شام، مصر اور تیونس کی مادرہائے علمی سے متاثر ہوکر اور تیسری طرف اول اول کی عثمانی سلطنت کے ہاتھوں مشرقی اور وسطی یورپ تک پہنچی ہوئی مسلم تہذیب کی روشنی سے آنکھیں چار کرکے۔مغرب کے یہ مفکرین جو یہاں سے متاثر ہوکر اپنے ملکوں میں ایک نئے انقلاب کا پیغام لے کر گئے، اگر مسلمانوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری ہوئی خالص وحی بھی ساتھ لے جاتے تو ظاہر ہے وہ اپنی اقوام میں اسلام کے داعی ہوتے، جوکہ ان کیلئے ایک مشکل چناؤ hard choice تھا، خصوصا جبکہ ہدایت و ضلالت کا معاملہ جوکہ قلوب کے ساتھ متعلق ہے خدا کی حکمت ومنشا پر منحصر ہے۔ دوسری صورت یہ تھی کہ وہ مسلمانوں کے ہاں اس ثقافتی حسن اور اس تہذیبی آسائش کو دیکھ کر، جوکہ ان کے اسلامی عقیدے کی دین تھی اور جس کی بدولت مسلمانوں کو ضمیر کی راحت سے لے کر معاشرے کی فلاح وبہبود تک سب نعمتیں وافر طور پر حاصل تھیں ، اس دیدہ پرور ثقافتی حسن و آسائش کو دیکھ کر وہ اپنے کلیسا کے تنگ نظر خرافاتی دین سے تو برگشتہ ہوجاتے البتہ اس باطل دین کا خلا وہ دینِ حق سے پر کرنے کی بجائے ”فوق العقل“ معاملات میں بھی صرف عقل پر ہی انحصار کرتے۔ اس دوسرے چناؤ کو اختیار کرنا انہوں نے اپنے لئے آسان پایا۔

اس عمل کے نتیجے میں کلیسا کی خدائی کا تو خاتمہ ہوا، البتہ وحیِ خاص کی ابتاع اور عقلِ صحیح کے التزام کی بجائے، جوکہ اسلامی تہذیب کی بنیاد ہے، عقل کی مطلق خدائی کا آغاز کرایا گیا۔

مسلمانوں کے ہاں عقل کا جو استعمال ہوتا تھا وہ اسے وحی کے تابع و ہم آہنگ رکھ کر کیا جاتا تھا، اور یہ نعمت صرف مسلمانوں کے ہاں پائی جاسکتی ہے اس لئے کہ ایسی وحی جس کے ساتھ عقل کی ہم آہنگی ممکن رہے صرف مسلمانوں کے ہاں پائی جاتی ہے۔ حق تو یہ ہے ایسی وحی بھی صرف مسلمانوں کے ہاں پائی جاتی ہے اور ایسی عقل بھی! اس چیز نے اسلامی زندگی کو ایک بے انتہا خوبصورت اور دل کو موہ لینے والا تہذیبی واقعہ بنا دیا تھا۔ وحی عقل سے نہیں ٹکراتی تھی اور عقل وحی کے سر نہیں آتی تھی۔ صدیوں مسلمان یونہی آرام اور چین سے بستے آئے تھے۔ سب سے زبردست راحت ذہن اور ضمیر کی راحت ہوا کرتی ہے۔ یہ ہر دو نعمت عالم اسلام کو ہزار سال تک حاصل رہی تھی!

یورپ نے مسلمانوں سے البتہ عقل لے لی اور وحی چھوڑ دی۔ اس کے نتیجے میں یورپ میں ایک نیا دین متعارف ہوا۔ باوجود اس کے کہ یورپ نے اس کو ’دین‘ کا نام نہیں دیا، کیونکہ لفظِ ’دین‘ سے بھی اس کو اب ایک چڑ ہوگئی تھی، اس کے بجائے ’آئیڈیالوجی‘ اور ’سسٹم‘ ایسے الفاظ متعارف کرائے گئے، آئیڈیالوجی بمعنیٰ عقیدہ اور سسٹم بمعنی شریعت۔ پس یہ باقاعدہ ایک دین تھا۔ اس دین کے اپنے خدا تھے اور اپنے پیغمبر، اپنی شرائع تھیں اور جزا وسزا کا اپنا فلسفہ۔

ایک نیا عقیدہ یورپ کے ہاتھ آچکا تھا۔ اس عقیدے کی کھل کھلا کر اور اور پورے زور سے تبلیغ کی گئی۔ اس کی حقانیت کے باقاعدہ دلائل دئیے گئے اور اس پر باقاعدہ مناظرے لڑے گئے۔ اس محنت کے نتیجے میں یورپی معاشرے بڑی حد تک نظریاتی معاشرے بنا لئے گئے تھے۔ پوری قوم کو اس کی بنیاد پر ایک نئی جہت دے لی گئی تھی۔ عقیدہ اور نظریہ باطل بھی ہو معاشرے میں اس کیلئے اخلاص اور وابستگی قائم کرا لی جائے اور معاشرے کو اسی کے ڈھب پر تربیت دے لی جائے تو وہ معاشرے سے بہت کچھ کرا لیتا ہے۔ یورپ کی یہ ضرورت اس مادی اور عقلی نظریے کے پرچار نے پوری کر دی تھی۔ اس کا نتیجہ کچھ دیر بعد ہم اس ترقی کی صورت میں دیکھنے لگے جو یورپ کو پچھلی کئی صدیوں سے حاصل رہی ہے۔

یورپ کو ترقی کا یہ بے مثال موقعہ دینے میں گو ایک اور بہت بڑا عامل کار فرما تھا.... اور یہ وہ خلا تھا جو عالم اسلام کے اپنے ہاں بڑھتے جانے فکری اور شعوری زوال نے پیدا کردیا تھا، جس نے کہ یورپ کیلئے آگے چل کر نہ صرف دیگر خطوں میں بلکہ خود عالم اسلام کے اندر استعمار کی راہ کھول دی۔ یورپ عقل کا استعمال پہلے ہی جان گیا تھا۔ اب پوری دنیا اس کے آگے ’خام مال‘ کی صورت میں ڈھیر تھی اور دنیا کی بیشتر قومیں خصوصا مسلمان قومیں _ اپنے تاریخی منصب کو فراموش کردینے کے سبب _ اسکے لئے ارزں نرخوں پر مزدور بن جانے کیلئے تیار تھیں ۔ بہر حال اس دوسرے عامل پر ہم یہاں گفتگو نہیں کریں گے اور اپنی بات کو پہلے عامل پر بحث تک ہی محدود رکھیں گے، یعنی یورپ کے پاس ایک زور دار قسم کی فکری جہت کا آجانا اور اس کے یہاں باطل سہی مگر ایک شعوری جہت کی پرورش ہونے لگنا۔

مغرب کے پاس ایک نئی فکری جہت کا آجانا اور دور ہائے تاریک dark ages کے ادبار اور بلادت سے اس کی جان چھوٹ جانا ایک لحاظ سے اسلامی تہذیب ہی کی بدولت تھا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین نے ایک آدھی دنیا کو تو اس لحاظ سے متاثر کیا کہ وہ اللہ کی بندگی کرنے لگی اور دنیا و آخرت کی باقی سب خیر اسے آپ سے آپ مل گئی۔ البتہ باقی آدھی دنیا کو بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہنے دیا۔ یہ آدھی دنیا گو مسلمان نہ ہوئی مگر اس کے اپنے کفر میں بہت سی ترامیم ہوئیں ۔ یوں پوری انسانی دنیا ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے نتیجے میں ارتقا کے عمل سے گزری۔ ہمارا ہندوستان اس ارتقا سے مستثنیٰ رہا اور نہ جدید یورپ۔

اس لحاظ سے مغرب کو اس کے دورہائے تاریک سے نکال کر ایک نئے دوراہے پر کھڑا کردینے والی چیز دراصل اسلامی تہذیب ہی تھی۔ البتہ مغربی مفکروں نے اسلام اور مسلمانوں کا اس پوری داستان میں کہیں ذکر نہ ہونے دیا اور اگر کہیں کسی مسلمان سائنسدان یا مفکر کا ذکر کرنا یا اس کی کسی تصنیف کا حوالہ دینا ضروری جانا بھی تو اس انداز سے دیا کہ سننے پڑھنے والے کو پتہ تک نہ چلے کہ ان علمی ذخیروں کا مصدر اسلامی تہذیب ہے۔ حتی کہ بعض مسلم سائنسدانوں اور مصنفوں کے نام تک انہوں نے اس طرح بدلے کہ ان پر مسلمان ہونے کا شک نہ گزرے!

مغرب کی اس نئی اٹھان کے تذکروں میں اسلامی تہذیب کی کہانی گول کرجانا.... حق یہ ہے کہ یہ مغربی دانشوروں کا محض تعصب اور بغض ہی نہ تھا۔ ایک اور بڑا عامل اس کے پیچھے کارفرما تھا، اور یہ ہے کسی قوم کی وہ ضرورت جسے فکری استغنا و خود انحصاری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جو چیز آپ کیلئے باقاعدہ دین کا درجہ اختیار کر گئی ہو اور وہ آپ کی پہنچان بن گئی ہو اس کے معاملہ میں آپ کسی کے خوشہ چین نظر آنے کے روادار نہیں ہوتے۔ کم از کم اپنی قوم پر اس کے معاملہ میں آپکو یہی ظاہر کرنا ہوتا ہے کہ آپ نے کسی اور کی اترن زیب تن نہیں کر رکھی۔ یہ اگر جھوٹ بھی ہو تو کسی قوم کی زندگی میں یہ جھوٹ ’ناگزیر‘ ہوتا ہے!
یہی وجہ ہے کہ مغربی دانشوروں نے اس عقلی مذہب کے ’جملہ حقوق‘ اپنے نام کر الئے تھے۔ ایک طرح سے وہ اس مذہب کے موجد تھے بھی۔ کیونکہ مسلمانوں کے ہاں عقل پسندی تھی۔ ان کے ہاں پہنچی تو عقل پرستی ہوگئی۔ عقل پرستی بہرحال مغرب ہی کی ایجاد تھی۔ اس لحاظ سے وہ اپنے اس دعوےٰ میں سچے بھی کہے جاسکتے تھے۔ مگر وہ اس نقطے تک پہنچے کیسے اور چند صدیوں کے اندر یہ تبدیلی ان کے ہاں روپزیر کیونکر ہوئی، اس میں اسلامی تہذیب کا جو کردار تھا وہ بہرحال گول کردیا گیا۔ پھر اس میں اضافی طور پر جو بات ممد ثابت ہوئی وہ یہ کہ یہ عقل پرستی، ہوتے ہوتے جب تک یورپی معاشروں کا باقاعدہ مذہب بنا، تب تک مسلم دنیا خود ہی فکری پسپائی کی اس حد کو چھو چکی تھی کہ یورپ کے ایک عام انسان کو اگر بتایا بھی جائے کہ یورپ کو مسلم دنیا سے کیا کیا کچھ ملا ہے تو اس کیلئے اس پر یقین کرنا دشوار ہو۔ اس پر یقین کرنا تو ہمارے بہت سے مسلمانوں کیلئے دشوار رہا ہے!

یہاں ہمیں اس موضوع پر بات نہیں کرنی کہ مسلم تہذیب نے انسانی دنیا پر کیا کیا اثرات چھوڑے۔ مغربی دانشوروں کی ڈنڈی ماری بھی یہاں ہمارا موضوع نہیں ۔ یہاں ہمیں جو بات واضح کرنی ہے وہ یہ کہ عقل پرستی کو باقاعدہ ایک دین اور عقیدے کے طور پر یورپ میں قبول کیا گیا اور اس کی بنیاد پر قوموں کی قومیں شعوری اور فکری پہلوؤں سے ایک نئی جہت اختیار کر گئیں تو اس شعوری اور نظریاتی انقلاب کو اس مقصد کیلئے بھی باقاعدہ طور پر کام میں لایا گیا کہ مغربی معاشروں میں اپنے تشخص کی انفرادیت پرانکا ایمان بڑھے، مغربی معاشرے اپنی فکری خود انحصاری پر ناز کریں اور باقاعدہ یہ زعم پالیں کہ انکی قومی سوچ اور انکا اجتماعی اندازِ فکر کسی اور قوم کا چربہ نہیں بلکہ ان کی اپنی ہی ایجاد ہے یا پھر ان کی اپنی ہی قومی میراث، جس میں لوگ ان کے دست نگر ہوں تو ہوں یہ کسی کے زیر بار نہیں اور یہ کہ اس میں دوسری اقوام ان کی برابری کرنے کی سکت سے عاری ہیں ۔

نظریاتی میدان میں آپ اپنے لئے کافی ہونا یا کم از کم اس بات کا زعم ہوجانا، کسی قوم کی بے حد بڑی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ مغربی مفکرین نے جیسے کیسے اپنی قوم کی یہ ضرورت پوری کردی تھی۔ ہمارے قومی دانشوروں کے پاس اپنی قوم کی یہ ضرورت پوری کرنے کی کیا صورت ہے، البتہ کوئی پیجیدہ سوال نہیں ۔

یہ نہایت اہم بات ہے کہ جس چیز کو آپ اپنی قوم کا امتیاز بنا لیتے ہیں اور اس کو قومی سطح پر اپنے لئے پہنچان کا درجہ دے لیتے ہیں عملاً وہی چیز آپ کا ”دین“ کہلانے کے لائق ہے .... اس چیز میں آپ کسی اور کے طفیلی نظر آئیں تو یہ بات پھر آپ کو ہر معاملے میں دوسروں کا طفیلی بنا کر رکھ دیتی ہے۔ جو چیز آپ کیلئے ’دین‘ کی حیثیت اختیار کر گئی ہو، خود اسی کے اندر اگر آپ دوسروں پر انحصار کر رہے ہوں تو اس کا مطلب صرف یہی ہوسکتا ہے کہ آپ کسی اور کے ’دین‘ پر ہیں ! جدید یورپ کی اٹھان میں اور ہماری ترقی دیکھنے کے خوابوں میں ایک بڑا فرق یہ بھی ہے۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرونِ سلف میں مسلمانوں کو دیگر اقوام سے ”دین“ کے سوا بہت کچھ لے لینے میں نہ صرف کوئی مانع نہ تھا بلکہ وہ اس پر کوئی کمتری بھی محسوس نہ کرتے تھے تو وہ اس لئے کہ وہ چیز جو وہ دوسروں سے لیتے تھے ان کیلئے نہ تو مرکزی اہمیت کی حامل تھی اور نہ ان کیلئے ”پہنچان“ کا درجہ رکھتی تھی۔ ”پہنچان“ کیلئے ان کے پاس ”دین“ تھا اور اس پر ان کی جس قدر محنت ہوئی تھی اس کی بدولت وہ دوسروں سے جو بھی لے رہے تھے اس کی بہرحال ایک کمتر حیثیت ہی تھی۔

یعنی کسی سے کچھ لینے کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ آپکی نظر میں ”کمتر“ حیثیت رکھنے لگی ہو اور یہ جبھی ممکن ہے کہ کوئی چیز اس سے پہلے آپ کی نظر میں ”برتر“ حیثیت اختیار کر گئی ہو، جس پر اپنے معاشرے میں آپکی ڈھیروں محنت صرف ہوچکی ہونا ضروری ہے۔ یہ انتظام کئے بغیر دوسروں سے ’لینے‘ لگ جانا آپ کو نہ صرف دوسروں کی نظر میں بلکہ خود اپنی اور اپنے بچوں کی نظر میں ایک پیروکار follower اور طفیلی parasite کی حیثیت دے دیتا ہے اور تب آپ اپنی قوم کے اندر کسی منفرد مقام کیلئے بے چینی پیدا کر ہی نہیں سکتے۔ ہاں البتہ اگر آپ اپنی انفرادیت پر یہ محنت کرلیتے ہیں اور اس کے معاملے میں اپنی قوم میں ایک خود داری پیدا کرلیتے ہیں تو پھر نہ صرف آپ کمتر اشیا کو دوسروں کے ہاں سے بے تکلف لیتے ہیں بلکہ اپنی قوم کی انفرادیت برقرار رکھنے کے معاملے میں بھی کسی بحران کا سامنا نہیں کرتے۔ قوم اپنی منفرد ساکھ بنانے اور برقرار رکھنے اور دوسروں سے آگے نکل جانے کیلئے تب خود بخود بے چین دیکھی جاتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ اسے تب جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ تذکیر اور یاددہانی ہے، جس کیلئے کچھ واعظ اور ’کالم نگار‘ اس کو کفایت کرسکتے ہیں ، اور یہ اس وقت جب اس کا نظریاتی انفراسٹرکچر کھڑا کرنے کا کام تکمیل پاچکا ہو۔

آج تو خیر کسی بھی معاملے میں کہیں سے کچھ بھی لینے میں ہمیں کوئی عار نہیں مگر کوئی دور تھا جب ”ہدایت“ کیلئے اللہ اور رسول کے سوا کسی اور طرف کو جھانکنا ہمارے لئے ناقابل تصور جرم تھا البتہ ”دین“ کے علاوہ یعنی عقیدہ اور نظام حیات کے علاوہ کسی اور معاملے میں ، خواہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی ہو، خواہ وہ شعر و ادب ہو، خواہ وہ دانائی کی کوئی بات اور انسانی تجربات کاکوئی نچوڑ ، ہمارے لئے کہیں سے بھی کچھ لینا اور حتی کہ باقاعدہ حوالہ دے کر لینا کہ یہ بات ہم نے کہاں سے لی ہے ، ہرگز معیوب نہ تھا۔ بلکہ یہ دیانت داری ہماری تہذیب کو اور بھی حسن دے جاتی تھی۔ اس کی وجہ یہ کہ ’انسانی علوم و فنون‘ ہمارے زیر استعمال ضرور رہے اور ہم نے بھی ان میں بڑے بڑے مفید اور قابل ذکر اضافے کئے اور ان کی ترقی میں بھی ہم نے نہایت بڑھ چڑھ کر حصہ لیا مگر یہ کبھی ہمارا ’دین‘ نہیں رہے۔ کیونکہ ہمارا دین خدا کی طرف سے آئی ہوئی وحی کی پیروی تھا ور عقل کے ذریعے اس وحی کا فہم و ادراک اور عمل کے ذریعے اس کے نقشے پر انسانی زندگی کی تعمیر وترقی۔

چنانچہ جو چیز آپ کیلئے ”دین“ کا درجہ اختیار کر گئی ہو اس میں آپ دوسروں کے خوشہ چین نظر آنے کے روادار نہیں ہوتے۔ رہے اس کے علاوہ معاملات تو ان میں قوموں کے مابین لین دین چلتا ہی رہتا ہے۔ مغرب کو مسلمانوں کی ہزار سالہ علمی و عقلی برتری کا کھل کر اعتراف کرنا دوبھر ہورہا ہے، خصوصاً یہ ماننا تو خاص طور پر اس کے حق میں معیوب ہے کہ ان کی یہ عقلی ترقی مسلمانوں کی مرہونِ منت ہے، تو اس کی وجہ یہ کہ عقل کی پرستش اور انسانی علوم و فنون کی تقدیس مغرب کے ہاں باقاعدہ ’دین‘ ہے۔

پس جو چیز ہمارے لئے فائدے اور استعمال کی چیز تھی وہ مغرب کیلئے معبود کا درجہ رکھنے لگی، بعینہ اسی طرح جس طرح ’گائے‘ ہمارے اور ہندوؤں کے مابین کئی صدیاں باعث نزاع رہی! ’گائے‘ کی پرستش ہوئی تو اس لئے کہ وہ زرعی دور تھا اور گائے بیل پر سہارا کرتا تھا۔ اب ’عقل‘ کی پرستش ہوئی تو اس لئے کہ یہ صنعت اور کمپیوٹر کا دور ہے جوکہ ’عقل‘ پر سہارا کرتا ہے۔ انسان تب بھی مسکین تھا انسان آج بھی بیچارہ ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ مغرب کی ’عقل‘ ہندوستان کی ’گائے‘ سے بہت بڑی تھی! ہم موحدین کیلئے دونوں استعمال کی چیز ٹھہریں اور نری خدا کی نعمت، جس پر ہم شکر کریں تو خدا ہی کا۔ اس لحاظ سے شرک کی دنیا میں عقلی ارتقاءکا امکان بھی مانا جاسکتا ہے۔ مغرب نے واقعی بہت بڑی زقند بھر لی تھی۔دلچسپی استعمال کی ان سب اشیا میں ہم بھی بے حد رکھتے ہیں البتہ ہم موحدین کیلئے جو ازل سے ابد تک صرف اس ایک ہستی کو پوجنے کے روادار ہیں جو عقل اور حسن اور زندگی اور نیچر اور روشنی اور قوت اور توانائی ایسی سب اشیا کی خالق ہے.. ہم موحدین کیلئے ان چیزوں میں دلچسپی کی کوئی بات ہے تو وہ یہ کہ ہم انہیں اپنے صالح دنیوی و اخروی مقاصد کیلئے بروئے کار لائیں ، مزید یہ کہ ہم انہیں خدا کی نشانیاں باور کرتے ہوئے ان کے ذریعے خدا تک پہنچیں ۔ پس عقائد میں ارتقا کا فلسفہ درست مانا جاسکتا ہے بشرطیکہ اس کا تعلق مشرک تہذیبوں تک رہے۔ بہرحال مغرب کے حق میں واقعتا اس کو ایک بڑی پیشرفت مانا جاسکتا ہے۔ کسی قوم کا معبود بہرحال اس کی ذہنی سطح پر دلالت کرتا ہے!

قصہ مختصر، مادہ اور عقل کی پرستش اختیار کرکے اور اس پر اپنے معاشروں کو ایک باقاعدہ رخ دے کر مغرب نے نہ صرف اپنی اقوام کو ایک نظریاتی تبدیلی سے گزار لیا تھا بلکہ اس کو اپنی انفرادیت اور اپنی شناخت بناکر اس نے فکری خود انحصاری کا ہدف بھی حاصل کرلیا تھا۔

ہمارے دانشوروں نے ان دونوں میدانوں میں اپنی قوم کی ضرورت کیونکر پوری کرکے دی ہے؟ اس سوال کا جواب دینا تو خیر بڑی بات ہے اس کا جواب لینے کی فکر بھی شاید یہاں بہت کم پائی گئی۔

ج) تیسری بات جو مغرب کی اس نشاۃ نو میں ہمارے لئے قابل غور ہے وہ یہ کہ وہ نظریات جن پر مغربی اقوام کو رخ دینا اس کے مفکریں کے ہاں ٹھہرا تھا، اس سے متصادم نظریات پر دائرہء حیات تنگ کر دینے پر ان کے یہاں آخری حد تک دلجمعی پائی گئی۔ ایک معاشرے کے پاس اپنے اختیار کردہ نظریات پر ایک زوردار ترین جہت اور تربیت پانے کیلئے اس کے سوا کوئی راستہ ہی نہیں ۔ بنیادی طور پر ایک معاشرے کے اندر کسی فکر کے زندہ ہونے کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ اس سے متصادم نظریات کے خلاف اس کے اطراف و اکناف میں ایک شدید رد عمل پایا جائے۔ ذرا دیکھ لیجئے مغرب سے کلیسا کی خدائی کا خاتمہ کس بے رحمی سے کیا گیا۔ خرافات کو اجتماعی اور انفرادی زندگی سے بے دخل کردینے پر کس قدر زور دیا گیا۔ بادشاہت کو کس شدت سے مسترد کیا گیا۔ انسانی خدائی کو یقینی بنانے کیلئے ’عوام‘ کی رائے اور ’عقل‘ سے ٹکرانے والی ہر چیز کو کس زور سے ٹھکرا دیا گیا۔ یہاں تک کہ کلیسا اور مذہب کی خدائی کے خلاف ایک ایسا رد عمل پیدا کردیا گیا جو صدیاں گزر جانے کے باوجود آج تک ہر مغربی مفکر کی گھٹی میں پڑا نظر آتا ہے۔

یعنی معاملہ ایسا نہیں کہ مغرب نے اپنے اختیار کردہ نظریات کو اپنے معاشروں کے اندر کھڑا کردینے کیلئے ان سے متصادم نظریات پر بے رحمی کے ساتھ کلہاڑے برسانے کا کام ایک بار کیا تو اس میں کامیاب ہوجانے کے بعد یہ کام اپنے یہاں موقوف کردیا۔ بلکہ معاملہ یہ ہے کہ مغرب نے ان نظریات کو، جنہیں وہ ’باطل‘ قرار دے آیا تھا، اپنے یہاں سے مٹا دینے کے بعد بھی ان پر کلہاڑے چلانے کا کام جاری رکھا اور آج تک جاری ہے۔

چنانچہ آپ دیکھتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ ’بادشاہت‘ اور ’کلیسا کی خدائی‘ اور ’خرافات‘ ایسی اشیا بہت عرصہ پہلے مغربی معاشروں میں ختم کردی گئی تھیں اور ان کا نام و نشان بھی کم ہی کہیں رہا ہوگا پھر بھی مغرب نے کئی صدیاں ان ’گمراہیوں ‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے گزار دیں اور آج تک وہاں انہی کا تذکرہ ہوئے جاتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی غور فرمایا ایک چیز جو عرصہء دراز سے معاشرے میں کہیں وجود تک نہیں رکھتی اور بہت دیر پہلے مسترد کردی گئی تھی کیوں آج تک مغربی اقوام کے زیر بحث رہی؟ کسی عقیدے کو زندہ رکھنے کا دراصل یہی طریقہ ہے۔ ایک نظریاتی واقعہ کو عمر دراز دلانے کیلئے یہ ایک بے حد فطری اور طبعی طریق کار ہے کہ اس سے متصادم نظریات پر ان کی موت ہوجانے کے بعد بھی تیشے برسائے جاتے رہیں ۔ مرے کو مارنا بہادری نہیں ، مگر یہ انسانوں کے معاملہ میں ہے، عقائد و نظریات کا معاملہ البتہ اور ہے۔ یہاں اگر ایسا نہ کیا جائے تو جس کو زندہ رہنا ہے وہ مر سکتا ہے۔

معاشرے کو ایک خاص فکری جہت دینا اگر ایک چیلنج ہے تو اس جہت کو نسل در نسل برقرار رکھنا اس سے بھی ایک بڑا چیلنج۔ اس پہ پورا اترنے کی یہی صورت ہے کہ اس سے متصادم جہتوں کا بھی قوم کے اندر مسلسل تذکرہ ہو اور ان سب غیر مطلوب جہتوں کی معاشرے کی ہر نسل سے ہی شدید مخالفت کروائی جائے۔ ہر نسل کو ہی ان فکری و سماجی رویوں سے خوب خوب ڈرایا اور خبردار کیا جائے جن کو آبا نے کسی وقت دفن کر ڈالا تھا۔ پس ’دور جاہلیت‘ کے تذکروں ہی کے اندر دراصل ایک قوم کا تسلسلِ حیات پوشیدہ ہے۔ لازم ہے کہ اس کی صفوں میں ہر وقت یہ آوازیں پڑتی رہیں اور وہ اس بات سے شدید چوکنا رکھی جائے کہ اس کا ’دور جاہلیت‘ پھر سے اس کی صفوں میں عود نہ کر آئے۔ ایسا کرنے سے ہی، مطلوبہ سمت میں آگے بڑھنے کیلئے، اس کے سامنے راستے کھلتے چلے جانے کا عمل جاری رہتا ہے۔ ایک مطلوبہ طرز حیات کے حق میں ’اثبات‘ کو زوردار اور پائیدار بنانے کی واحد صورت یہ ہے کہ اس کے ماسوا کی ’نفی‘ کو اس سے پہلے قوم کی زندگی میں دوٹوک اور جاندار بنا لیا جائے۔

پس کسی قوم کو ایک خاص متعین جہت دئیے رکھنا ، کہ پھر نسلوں اس کا قبلہ بدلنے نہ پائے، صرف اسی طور ممکن ہے کہ اس کے ماسوا سب جہتوں سے اس کو بے راہ و بے زار رکھا جائے۔ ورنہ قومیں صدیوں تک ایک ہی راہ میں کیسے یکسو رہ سکتی ہیں ؟ اور اگر قومیں صدیوں ایک ہی راہ میں یکسو نہیں رہتیں تو پھر وہ تاریخ پر کوئی دیر پا نقش کیسے چھوڑ سکتی ہیں ؟ ’قوم‘ آخر کسی ایک ’نسل‘ کو تو نہیں کہا جاتا!!! قوموں کی زندگی میں نسلیں وہی حیثیت رکھتی ہیں جو فرد کی زندگی میں ماہ و سال۔ جتنا ناکام وہ فرد ہوسکتا ہے جو ہر چند سال بعد اپنا راستہ بدل لیتا ہو اتنی ہی ناکام وہ قوم ہوگی جس کے نظریات و موضوعات ہر نسل دو نسل بعد یکسر بدل جایا کریں !

پس ’اقوام‘ کی جنگ میں ایک قوم کے فاتح اور دوسری کے مفتوح ہو جانے کے بعد معاملہ تقریبا ختم سمجھا جاسکتا ہے، البتہ افکار و نظریات کی جنگ میں ایسا ممکن نہیں ۔ ایک عقیدے یا ایک نظریے کو مفتوح کرلینے کے بعد بھی قریب قریب آپ اس کو اتنا ہی رگیدتے ہیں جتنا کہ مفتوح کرلینے سے پہلے۔ یہ چیز حد درجہ ضروری ہے۔ ایک قوم میں وحدتِ فکر لے آنے کیلئے اورپھر اس وحدتِ فکر کو قائم رکھنے کیلئے اس بات سے ہرگز کوئی مفر نہیں ۔

٭٭٭٭٭

الف، ب اور ج کے تحت اوپر مغرب کے حوالے سے جو بات ہوئی، نقطہ وار اب ہم اس ”تبدیلی“ پر ذرا بات کریں گے جو اس امت کے قرنِ اول کے اندر نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں برپا ہوئی۔ اسی گفتگو کے دوران البتہ ہم اپنے اصل موضوع کو بھی زیر بحث لاتے رہیں گے..

الف) ہم یہ دیکھ آئے ہیں ، اور چونکہ مغرب کے حوالے سے بھی ہم نے اس کی نشاندہی کی ہے لہٰذا توقع کی جانی چاہیئے کہ ہمارے ’روشن خیال‘ بھی اس پر غور فرمائیں گے، کہ ترقی اور بلندی کے کسی بھی مشن پر گامزن ہونے سے پہلے کسی قوم کو ایک زور دار فکری جہت دینے کی ہی ضرورت ہوتی ہے۔ شعور کی مسلسل پرورش اور پیہم افزائش کرانے کی کسی قوم کی زندگی میں یہی صورت ہے کہ وہ قوم اپنے ’حقوق‘ اور ’مفادات‘ کی گردان سیکھنے سے پہلے کسی عقیدے اور نظریے کے ساتھ اپنے اجتماعی وجود کو جوڑ لے اور اس کے ساتھ ولاءاور وابستگی کی آخری حد کو پہنچ جائے۔ نظریے سے ہماری مراد کوئی ’قومی نظریہ‘ قسم کی چیز نہیں (ایسے نظریات تو ہر ملک کے ’قومی مطالعہ‘ ایسے مضمون میں پڑھائے جاتے ہیں ، جس سے ہر ملک کا ’شہری‘ ہی اپنے وطن سے محبت کی کچھ ایسی وجوہات سے آگاہی حاصل کرتا ہے جن کو جاننا اور جن پر ایمان رکھنا کسی اور ملک میں پیدا ہونے کی صورت میں اس پر چندں واجب نہ ہوتا!) نظریے سے ہماری مراد ہے انسانی وجود کی بابت اور انسان کے زمین پر کردار کی بابت کوئی نظریہ جس پر قوم کو یکجہت و یک آواز کر لیا گیا ہو۔ مغرب نے اس بار خاصی کوشش کی تھی کہ وہ تعلیم اور تربیت کے ذریعے اور ایک زور دار آتش فشں نما تحریکی عمل کے نتیجے میں اپنی اقوام کو ایک نظریاتی سوسائٹی میں تبدیل کرلے۔

ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو دیکھئے۔ آپ نے ایک ایسی نظریاتی سوسائٹی کی بنیاد رکھی کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں مل سکتی۔ جس طرح ہمارے دانشور زیادہ ہوا تو اس شرک اور اس باطل سے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلہاڑے برسائے تھے.... جس طرح ہمارے دانشور زیادہ ہوا تو اس شرک اور اس باطل سے ایک ’بے دلی‘ اور ایک ’بے رغبتی‘ پیدا کرا لینا ہی اس باب میں بہت کافی جانتے ہیں ، کوئی بہت کرے تو بعض شرکیہ خرافات کو لوگوں سے ایک بہت ہی ’غیر محسوس انداز‘ میں ترک کروا دینا ’اصلاح عقیدہ‘ کے باب میں اپنی دعوتی و تحریکی مساعی کی معراج جانتا ہے بلکہ اپنی ’کامیابی‘ کی کچھ ایسی مثالیں دیتا ہوا سنا جاتا ہے کہ اس کے ساتھ شامل کتنے ہی لوگ تھے جو کسی زمانے میں شرکِ جلی کے کچھ کام کرتے اور نواقض اسلام کے صریح مرتکب تھے کسی نے اس حلقے میں ان کو اس شرک یا اس گمراہی سے روکا تک نہیں مگر وہ خود ہی اس حلقہ کے اندر رہ کر ’رفتہ رفتہ‘اور ایک ’غیر محسوس انداز میں ‘ ان شرکیہ اعمال و رسومات اور ان نواقض ایمان کو ترک کر گئے ہیں !.... نہ صرف یہ بلکہ ان مثالوں کو شرک کے خاتمہ کی ’کامیاب ترین صورت‘ بھی قرار دیتے ہیں اور اس بات کی دلیل بھی کہ شرک کے معاملہ میں لوگوں کے ساتھ تصادم اور صریح دوٹوک معارضت کا انداز نہ تو درست ہے اور نہ دعوت کی ضرورت!.... جس طرح ہمارے دانشور زیادہ ہوا تو اس شرک اور باطل کے خلاف جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلکہ سب رسولوں نے پوری بے رحمی کے ساتھ کلہاڑے برسائے تھے، محض ایک قسم کی بے دلی اور بے رغبتی پیدا کرلینا اس باب میں اپنے لئے کرنے کا کل کام جانتے ہیں ، اس کے برعکس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منہج ایک شرک کو ’نظر انداز‘ کرواکر اور ’ناقابل ذکر‘ سی چیز بنا کر متروک کرانا نہ تھا۔ سچ یہ ہے کہ اللہ کا حق بھی اس سے بڑا ہے اور خود معاشرے کا حق بھی!

شرک اور باطل اور جاہلیت کے معاملہ میں آخری درجے کی شدت اور صراحت اور معارضت کا پایا جانا منہجِ انبیا کے اندر ناگزیر ہے۔ نماز کی سنتوں کا خیال رکھنے والے اور کھانے پینے کی سنتوں کے معاملہ میں آخرت کی فکر کرنے اور کرانے والے ہمارے قابل احترام طبقے کیا ”توحید“ کی سنتوں کو بھی ویسی ہی توجہ دیں گے؟؟؟!

ایک نظریاتی سوسائٹی کا وجود میں آنا ممکن ہی نہیں اور جن نظریات اور عقائد کی بنیاد پر اس سوسائٹی کو قائم کیا جانا اور رخ دیا جانا مطلوب ہو ان عقائد کو اس معاشرے کی اساس بنایا ہی نہیں جاسکتا جب تک اس سے متصادم نظریات اور عقائد کو صاف صاف مسترد نہ کرایا گیا ہو۔ توحید کو معاشرے کی بنیاد اور پہنچان بنانا اگر آپ کا مقصود ہے تو اس کی واضح صورت پھر یہ ہے، جیساکہ ہمیں منہجِ انبیاءکے اندر بھی واضح طور پر نظر آتا ہے، کہ شرک کے خلاف معاشرے میں سیدھا سیدھا اعلانِ جنگ ہو۔’سماجی اصلاحات‘ کا ایجنڈا آگے رکھ کر اور معاشرے میں موجود شرکیہ مظاہر کو لوگوں سے ’بتدریج‘ اور ’غیر محسوس انداز میں ‘ چھڑوانے کا طریقہ اختیار کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی مہم کو بہت آسان کرسکتے تھے مگر خدا کو منظور نہ تھا کہ یہ ’آسان‘ طریقہ اختیار کیا جائے۔ غیر اللہ کی پوجا اور پرستش کو صریح ترین الفاظ میں برا کہا گیا اور ’بت توڑنا‘ اپنی دعوت کا جلی عنوان بنایا گیا:

فقلت لہ: وماانت؟ قال:انا نبی۔ قلت: وما نبی؟ قال:ارسلنی اللہ۔ فقلت: بای شیئٍارسلک؟ قال:ارسلنی بصلۃ الارحام، وکسر الاوثان، وان یوحد اللہ وحدہ لا یشرک بہ شیئ، فقلت لہ: فمن معک علیٰ ہذا؟ قال: حر وعبد، قال ومعہ یومئذابو بکر وبلال ممن آمن معہ۔ فقلت: انی متبعک۔ (صحیح مسلم)

”میں (عمر بن عبسۃ رضی اللہ تعالی عنہ) نے آپ سے سوال کیا: آپ کون اور کیا ہیں ؟ فرمایا: میں نبی ہوں ۔ میں نے کہا: نبی کیا ہوتا ہے؟ آپ نے جواب دیا: اللہ نے اپنا پیغام اور مشن دے کر مجھے بھیجا ہے۔ میں نے دریافت کیا: کیا مشن دے کر بھیجا ہے؟ فرمایا: ”یہ مشن کہ رشتوں کو پختہ و مضبوط کیا جائے۔ بتوں کو توڑا جائے۔ اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کیا جائے یوں کہ کوئی اس کا شریک نہ ہونے دیا جائے“۔ میں نے سوال کیا: تو آپ کے ساتھ اس مشن پر کون کون ہے؟ فرمایا: ایک آزاد اور ایک غلام۔ عمر بن عبسۃ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ اس وقت آپ کے ساتھ ایمان لانے والوں میں ایک ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ تھے اور ایک بلال رضی اللہ تعالی عنہ۔ تب میں نے عرض کی: میں بھی آپ کا پیروکار ہوتا ہوں “

کیسی صریح اور زوردار دعوت ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے انسانیت کو دلوائی گئی۔شروع شروع میں ہوسکتا ہے اس کو چند ہی لوگ ملیں ، جیسا کہ ابتدا کے اندر اس کی نفری میں ’ایک آزاد اور ایک غلام‘ سے بڑھ کر کچھ دکھانے کو نہ تھا۔ لیکن یہ ایک ایسی زبردست dynamic دعوت ہے کہ اس کو بس کچھ ہی ”مرد“ مل جائیں تو یہ تاریخ کا دھارا بدل کر رکھ دیتی ہے۔

”یہ مشن کہ رشتوں کو پختہ و مضبوط کیا جائے۔ بتوں کو توڑا جائے۔ اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کیا جائے یوں کہ کوئی اس کا شریک نہ ہونے دیا جائے“

یہ ہرگز کوئی وقتی مشن نہ تھا جو تاریخ کے ایک خاص موقعہ پر محض جزیرہء عرب کی ضرورت تھی۔ یہ ایک آفاقی مشن ہے۔ یہ زمین پر انسان کے شایانِ شان منصب ہے۔ بعد کو آپ نے اور آپکے صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اور آپکی امت نے جو کچھ کیا وہ اسی مشن کی عملی تفصیلات تھیں ۔ نماز، زکوٰۃ، قربانی، ذکر، خانگی اور سماجی اصلاحات، حرام اور حلال کی پابندی، دعوت، تعلیم، تربیت، ہجرت، جہاد، ریاست، خلافت، فتوحات سب کچھ اسی مشن کی عملی تطبیق تھی۔

یہ ایک زبردست جہت تھی جو سب سے پہلے اس امت کو دے لی گئی تھی۔ اس کے بعد اس امت کو مجسم جہاد بنا دیا گیا۔ پس یہ ایک کمال کی جہت تھی اور کمال کی سرگرمی۔ یوں اس امت کو جہت اور عمل کی وہ یکسوئی میسر آئی کہ صدیوں تک یہ امت قابل رشک رہی۔ یہ ایک ایسا سیلِ روں تھا جس کے آگے دنیا پورا زور لگا کر بھی کوئی بند نہ باندھ سکی تھی۔ بلکہ اس حوالے سے کہ یہ زبردست سرمایہ اس امت کو آج بھی حاصل ہے، یعنی فکر وشعور کی یہ بے مثال جہت بھی اور عمل اور جہاد کا یہ بے نظیر داعیہ بھی.... اس لحاظ سے کہ یہ انمول دولت آج بھی اس کی دسترس میں ہے، یہ امت آج بھی ہر قوم کیلئے اور سماجی اصلاح کے ہر فلسفی کیلئے قابل رشک ہے۔ اس کو مارنے کی تدبیریں آج ہورہی ہیں تو وہ بھی اس لئے کہ یہ زندگی کے اس ابدی سرچشمے تک رسائی رکھتی ہے جس کے سامنے ہر عقیدہ ہیچ ہے اور ہر نظریہ ماند۔ جس کے ساتھ دوسرے سب نظریات کو وہی نسبت ہے جو ایک مردہ و بے جان شے کو کسی زندہ کے ساتھ:

مثل الذی یذکر ربہ والذی لا یذکر ربہ کمثل الحی والمیت

” اس کی مثال جو اپنے پرودگار کا نام لیتا ہے اور اس کی جو اپنے پروردگار کا نام نہیں لیتا ویسی ہی مثال ہے جیسی ایک زندہ اور ایک مردہ کی“!!!

مغرب کے بھیدی اور یہود کے اہل علم آج بھی امیوں کی اس امت سے حسد کی آگ میں لوٹ رہے ہیں کہ یہ امت جب چاہے اپنے قرآن اور اپنے رسول کی وساطت خدا سے براہ راست جڑ جائے اور تب ان کو تاریخ کے مشکل ترین چیلنج کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ توحید کی کاٹ ہی تھی جس نے مسلم معاشروں کو ایک ایسی قطعی جہت دے دینے میں اصل کردار ادا کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پر سب سے پہلے اور سب سے زیادہ محنت کی تھی اور اسی کی تعلیم دینے اور اسی کو معاشروں کی گھٹی میں اتار دینے پر سب سے زیادہ توجہ صرف کی تھی۔ توحید کسی قوم کے فکری اور شعوری طور پر یکسو ہوجانے کا زبردست راز ہے اور عمل کا جوش مارتا ہوا آتش فشں ۔ مریل سے مریل قوم اس کے سہارے اٹھ کھڑی ہوسکتی ہے اور ہر دوسری قوم سے آگے گزر سکتی ہے۔ کوئی بحران اور کوئی چیلنج اس کے سامنے کھڑا نہیں رہ سکتا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں قوموں سے مار کھانے کیلئے، اور درماندگی سے بچنے کاکوئی نسخہ بتائے بغیر، یونہی ہمیں لاوارث چھوڑ کر دنیا سے نہیں چلے گئے۔ تاوقتیکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض پر ہی جاکر نہ مل لیں سفر کی ہر منزل اور راستے کا ہر نشان وہ ہمارے لئے پوری طرح واضح کرگئے ہیں ۔ کونسی بات وہ ہمیں بتائے بغیر بلکہ اس پر بار بار تاکید کئے بغیر اور بہ تکرار ہمیں اس سے خبردار کئے بغیر دنیا سے رخصت ہوئے؟ کوئی اپنی ہی جہالت سے مار کھانے پر مصر ہو تو ہمارے دین اور ہمارے عقیدے کا اس میں کیا قصور؟ زندگی پانے کا سراغ کبھی ہم سے روپوش نہیں ہوا سوائے اس وقت جب ہم نے دیکھنے اور سننے سے ہی معذوری ظاہر کردی ہو:

  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ    وَاتَّقُوا فِتْنَۃ لا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّۃ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ     وَاذْكُرُوا إِذْ أَنْتُمْ قَلِيلٌ مُسْتَضْعَفُونَ فِي الأرْضِ تَخَافُونَ أَنْ يَتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَآوَاكُمْ وَأَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهِ وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ      يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ      وَاعْلَمُوا أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَۃ وَأَنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ     يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ     (الانفال: 29- 24)

”اے ایمان والو، اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک کہو جبکہ رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخش دینے والی ہے، اور جان رکھو کہ اللہ آدمی کے اور اس کے دل کے درمیان آڑ بن جایا کرتا ہے اور بلا شبہہ تم سب کو اللہ ہی کے پاس جمع ہونا ہے۔ اورتم ایسے وبال سے بچو جس کی شامت صرف انہی لوگوں تک محدود نہ رہے گی جو تم میں سے ان گناہوں کے مرتکب ہوئے ہوں اور یہ جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ اور ذرا اس حالت کو یاد کرو جب تم تھوڑے تھے۔ زمین میں تم کو بے زور سمجھا جاتا تھا۔ تم ڈرتے تھے کہ لوگ تم کو نوچ کھسوٹ نہ لیں ، پھر اللہ نے تم کو جائے پناہ مہیا کردی۔ اپنی مدد سے تمہارے ہاتھ مضبوط کئے اور تم کو نفیس چیزیں عطا فرمائیں کہ تم شکر گزار بنو۔ اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول (کے حقوق) میں جانتے بوجھتے ہوئے خیانت مت کرو۔ اپنی امانتوں میں (جو تم پر عائد ہیں ) خیانت کے مرتکب نہ ہو۔ اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد حقیقت میں سامانِ آزمائش ہیں اور اللہ کے پاس اجر دینے کیلئے بہت کچھ ہے۔ اے ایمان والو! اگر تم اللہ (کے حکم کی سرتابی) سے بچ بچ کر رہنے لگو گے تو اللہ تمہاری (راہ روشن کرنے کو) ایک کسوٹی تمہارے ساتھ کردے گا اور تمہاری برائیوں کو تم سے دفع کردے گا اور تمہارے قصور تمہیں معاف کردے گا۔ اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے“

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منفرد معاشرے کی بنیاد رکھی تھی جو صحیح معنوں میں اصولوں کیلئے جیتا تھا، کیونکہ یہ واحد معاشرہ تھا جس کو اصولوں کے سرچشمے تک رسائی کروائی گئی تھی اور اصولوں کی وہ قیمت اور وقعت ازبر کرائی گئی تھی جو ”اللہ اور یوم آخرت“ کی بنیاد پر تربیت پانے والے معاشرے کی نگاہ میں پوری دنیا پر اور دنیا کے اندر جو کچھ موجود ہے اس پر فوقیت پاجاتی ہے۔

یہ پہلا معاشرہ تھا جس نے اصولوں اور قدروں کے حوالے سے دنیا میں اپنی پہچان کروائی تھی کیونکہ یہ پہلا معاشرہ اور پہلا ’بین الاقوامی‘ گروہ تھا جس کی تعلیم کا آغاز خدا کی ذات سے اور خدا کا حق جاننے سے اور ’غیر اللہ‘ کی حیثیت پہنچاننے سے ہوا تھا۔ یہ پہلا معاشرہ تھا جس کو کائنات کے سب سے بڑے حقائق الہام کئے گئے تھے۔

یہ دنیا کا واحد اصولی معاشرہ تھا جس کی باقاعدہ ’رکنیت‘تھی اور اس رکنیت کو کچھ خاص شرائط پوری کر لینے کے بعد ہی حاصل کیا جاسکتا تھا بلکہ اس کے اصولوں کو توڑ دینے کی ایک خاص نوبت آجانے کی صورت میں ، جس کو کہ نواقضِ توحید کا ارتکاب کہا جاتا ہے، آدمی سے اس کی یہ ’رکنیت‘ چھن بھی جاتی تھی۔ اس سے زیادہ با شعور، اس سے زیادہ بااصول اور اس سے زیادہ نظریاتی سوسائٹی کا کیا آپ تصور کرسکتے ہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اصولوں پر یوں اصرار کرنا، جوکہ سب کے سب ”توحید“ سے پھوٹتے اور اسی سے اپنی سب قدر اور اور اپنی تمام تر وقعت ا ور اہمیت پاتے تھے....

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے پہلے توحید پر یوں ڈٹ جانا، اور شرک اور جاہلیت کے سب مظاہر کو ختم کرنے پر اس آخری حد تک مصر ہونا، اور اس معاملہ پر کوئی سمجھوتہ اور کوئی درمیانی راہ قبول کرنے کو سرے سے خارج از امکان قرار دے دینا، اور کوئی ساتھ چلے نہ چلے ہر حال میں اور زندگی کے آخری لمحے تک اپنی ہی راہ چلنا.... شروع شروع میں لوگوں کو ہرگز سمجھ نہ آسکا۔ آج بھی بہت سوں کو سمجھ آنا مشکل ہے۔ آپ کی سیرت پڑھنے والوں کو یہ ایک ایسا شخص نظر آتا ہے جس نے اپنے ساتھ چلنے کیلئے لوگوں پر بہت ہی کڑی شرطیں لگا رکھی ہیں اور کئی سال گزر جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ چند ہی لوگ کھڑے ہیں مگر وہ دنگ رہ جاتے ہیں جب وہ تیرہ سال بعد اس شخص کے گرد ایک جیتا جاگتا اور اصولوں پر جان دینے والا معاشرہ کھڑا ہوا دیکھتے ہیں ۔ ’تیرہ سال‘ بھلا کیا مدت ہے؟؟؟! بچہ پیدا ہو کر اتنی مدت میں ابھی بلوغت کو نہیں پہنچتا، ادھر اللہ کے فرستادہ اس شخص نے اللہ کی مدد سے ایک ایسا خوبصورت اور زندہ ترین معاشرہ کھڑا کردیا جو طاقت اور توانائی کا ابلتا ہوا ایک آتش فشں ہے اور پوری دنیا کو اپنی زد میں لے آنے کیلئے بے قابو اور بے چین! یہ چھوٹا سا معاشرہ، یہ بھوک سے مارا اور چیتھڑوں میں لپٹا ہوا معاشرہ ’روم‘ اور ’فارس‘ کو نظر میں کئے ہوئے ہے اور اس سے بھی پرے کے افق دیکھنے کو بے قرار۔ کیا عقل دنگ نہیں رہ جاتی؟؟؟!!!

یہ سارا کمال معاشرے کو توحید کی تعلیم اور تربیت ملنے کا تھا۔ ”اللہ اور یوم آخرت“ کو معاشرے کا عنوان بنادینے کا تھا۔ معاشرے میں ’ہدایت‘ کیلئے ایک پیاس پیدا کردینے کا تھا۔ یہ سب کچھ اس عمل کے ’دنیوی‘ ثمرات تھے اور آخرت کا انعام ابھی پورے کا پورا پڑا تھا۔ یہ وہ عقیدہ ہے جس پر آجانے سے دونوں جہان ملتے ہیں !

کسی قوم کو عقل و فکر اور شعور و ادراک کی ایک زوردار جہت مل جانا اس کی زندگی کا ایک بہت بڑا چیلنج ہے، کہ اس کا ہر فرد اپنے اپنے فیلڈ میں ’روٹین‘ کی زندگی کو خیرباد کہہ کر اور کچھ گھسی پٹی لکیروں کی سیدھ میں چلنا چھوڑ کر ’کمال‘ کی طلب میں بے چین دیکھا جائے اور ’تخلیقی‘ رویوں کی طلب اس کیلئے سرشت کا درجہ اختیار کر جائے۔ دیکھ لیجئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس خوش اسلوبی سے اور کس مختصر مدت میں معاشرے کو یہ چیلنج سر کرایا۔ جو شخص آپ سے توحید کا سبق پڑھ لیتا اور پرستش کا اصل محل اور نفیس جذبوں کا اصل مصرف پہنچان لیتا اور خدا کے تعارف پر مبنی پاکیزگی اور رفعت کی ناقابل بیان جہتوں سے روشناس ہوجاتا، وہ درحقیقت اپنی ایک نئی پیدائش کرواتااور لگے بندھے رویوں ، بے جان پیرایوں اور پسماندہ راہوں سے یکسر بیگانہ ہوجاتا۔ آپ سے تربیت پالینے کا یہ اثر ہوتا کہ آدمی کے عمل اور ادائیگی performance میں عمدگی perfection پھوٹ پھوٹ کر سامنے آنے لگتی۔ ایسی قوم کی اساس ایک بار رکھ دی جائے اور انہی خطوط بر رجال تیار ہونے لگیں تو، معاشرے کی تیاری کا یہ نبوی منہج شاہد ہے، کہ چند سالوں میں ہی ایک نوخیز معاشرہ سامنے آجاتا ہے اور نسل در نسل چلی آنے والی سماجی برائیوں کے خاتمہ کا سوال ہو یا متروک العمل خوبیوں کو اختیار کروانے کا چیلنج، یا دوسری اقوام کے مقابلہ میں بہتر ’مصنوعات‘ کو سامنے لانے کی مشکل گھاٹی، ہر الجھا مسئلہ حل ہوتا نظر آتا ہے اور ہر عاجز کردینے والی مصیبت دور ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

انسان کے پاس دو ظرف ہیں : ایک قلب وضمیر اور ایک ذہن وعقل۔ دونوں کو صالح غذا چاہیئے، تاکہ یہاں تہذیب کی تعمیر ہو اور ’انسان‘ ترقی کرے۔ بیشتر یہ ہوتا ہے کہ معاشرے کے اندر انسان کے یہ دونوں ظرف خالی رہتے ہیں اور معاشرے کی فکری یا روحانی قیادت کے پاس ان میں بھرنے کیلئے کوئی صالح مواد نہیں ہوتا۔ یوں افراد اپنے ان ظروف کو خالی کا خالی لئے یا پھر کچھ جھاڑ جھنکاڑ سے لدے، بے حال و بے کار، اس دنیا سے چلے جاتے ہیں اور یوں ایک بہت خوبصورت واقعہ روپزیر ہونے سے ہر دور کے اندر رہ جاتا ہے، سوائے جب اس ضرورت کا مداوا کرنے والے معاشرے کے اندر پائے جائیں ۔ انبیا دنیا میں مبعوث ہوتے ہیں تو وہ انسان کے انہی نفیس مطالب کو پورا کرنے کیلئے۔ کچھ معاشرے انبیاءکی چھوڑی ہوئی باقیات میں اپنے مطلب کی تحریف کرکے بھی یہ ضرورت کسی نہ کسی حد تک پوری کرتے ہیں مگر اصل یہی ہے کہ وہ خالص و نفیس مایہ سے ہی پر ہو، جس کا نقطہء ابتدا یہی ہے کہ اس ظرف کو سب سے پہلے خالق کی پہنچان ہی سے بھرا جائے اور اسی کی تعریف اور اسی کی توحید سے اس کو آشنا کرایا جائے، بلکہ اس سے بھی پہلے یہ کہ خالق کے ماسوا ہستیوں کی تعظیم اور بندگی سے اس کو آخری حد تک برگشتہ کردیا جائے اور اس معاملہ میں پاکیزگی اور طہارت کی ایک خاص کیفیت اور ایک مسلسل و خودکا ر بندوبست اس کے اندر ثبت کرادیا جائے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لا الہ الا اللہ کی صورت میں ایک ایسے ہی معاشرے کی اساس رکھی۔ ذہن وعقل کو آپ نے جو غذا فراہم کی، مواد کے لحاظ سے وہ بہترین غذا تھی۔ کوئی مفکر اپنی قوم کو فکر وذہن کیلئے اس سے بہتر غذا فراہم نہ کرسکا۔ رہا قلب اور ضمیر، تو اس کی غذا تو ایک خدا فرستادہ شخص کے سوا کسی کے پاس ہو ہی کیا سکتی ہے؟!الا بذکر اللہ تطمئن القلوب! رہا اس غذا کو پھر عقل اور ضمیر میں اتارنا، تو تعلیم اور ارشاد اور تربیت کا اس سے سادہ ، اس سے فطری ، اس سے دلنشین اور اس سے زیادہ ہمہ وقتی انداز کبھی کسی نے نہ دیکھا ہوگا۔ چشم تصور سے ذرا دار الارقم بن ابی الارقم کی ایمان میں ڈوبی مجالس کا ہی ایک نظارہ کرلیجئے۔ دنیا کا رخ بدل دینے کا عمل یوں سمجھئے بس یہیں سے شروع ہوجاتا ہے۔

معاملہ صرف یہی نہ تھا کہ آپ لوگوں کے قلب وذہن کو ایک خاص رخ دے دیں ۔ چیلنج یہ بھی تھا کہ اس رخ اور اس جہت پر آپ ان کے اندر ایک کمال درجے کی یکسوئی پیدا کردیں اور اس کے ماسوا، فکر وشعور کی ہر جہت سے اور اس سے متصادم ہر نظریے اور عقیدے سے ان کو آخری حد تک بے زار کر دیں ۔ لا الہ الا اللہ یہاں پر ہی کام دینے کیلئے تھا اور ہے، بشرطیکہ اس کے مفہوم کو آپ نے اپنی قوم کا موضوع بنا دیا ہو۔ چنانچہ آپ دیکھتے ہیں ’خدا کے ماسوا ہستیوں ‘ کو مسترد کرانے میں آپ نے وہ سختی کی اور ’شرک‘ اور ’جاہلیت‘ سے لوگوں کو برگشتہ کرنے پر وہ زور اور شدت اختیار کی اور ’ہدایت‘ کیلئے کسی اور طرف کو جھانکنے پر ایسی ایسی وعیدیں ان کو ازبر کرائیں کہ یقین کرنا مشکل ہوجائے کہ اس قدر نرم رو اور ریشم طبیعت آدمی کسی معاملے میں اتنا سخت بھی ہوسکتا ہے! وہ چہرہ جس سے مسکراہٹ اور تبسم کبھی روپوش ہی نہ ہو اور بڑی سے بڑی بات ہوجانے کے باوجود ہمیشہ خندہ زن ہی دیکھا جائے ، کچھ معاملات میں سرخ انار ہوجاتا ہے اور ایسا غضبناک کہ دیکھنے والے کی حالت تو کیا ’واقعہ‘ پڑھنے والے کی حالت غیر ہونے لگے!یہی تربیت پھر صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ سے پائی اور پھر آگے منتقل کی۔ ایک ایسی ہی نرم و گرم شخصیت تھی جس کی، اصحاب رضی اللہ تعالی عنہ کے اندر، آپ نے صورت گری فرمائی۔ ایک ایک نفس پر آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی انتھک محنت ہوئی تھی مگر چند ہی برسوں میں یہ فصل لہلہانے لگی تھی:

مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاء عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاء بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَۃ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُم مَّغْفِرَۃ وَأَجْرًا عَظِيمًاً (الفتح: 29)

” محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، اور جو لوگ آپ کی صحبت میں ہیں وہ کافروں پر سخت و شدید ہیں تو آپس میں بریشم۔ تم انہیں دیکھو گے (ہر دم) رکوعوں میں گئے ہوئے سجدوں میں پڑے ہوئے، اپنے رب کے فضل کے متلاشی اور اس کی خوشنودی کے طلبگار۔ سجدوں کا اثر ان کے چہروں پہ (نقش) ہے، جس سے وہ پہنچانے جاتے ہیں ۔ یہ ہے ان کی صفت تورات میں ۔ اور انجیل میں ان کی صفت یوں کی گئی: گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ گدرائی، پھر اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی۔ کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تاکہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں ۔ ان ایمان والوں اور نیک اعمال کرنے والوں سے اللہ نے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے“۔

ذرا الفاظ پر غور فرمائیے: َزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ ”گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ گدرائی، پھر اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی“!!!

عقیدہ، فکر، ادراک، شعور، جذبہ، احساس، وجدان، عزم، ارادہ، امید، ولولہ، امنگ، حوصلہ، خبر، نظر، قوت، نرمی، گرمی، کردار، سیرت، عمل، جہاد....کیا کچھ پیغام نہیں ملتا آپکو ان الفاظ سے! یہ انسان کی ایک پیدائشِ نو تھی جو نبوتِ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے نتیجے میں دنیا کے اندر روپزیر ہوئی۔ سچ تو یہ ہے کہ پورا انسان پیدا کرنا قرآن کا اور رسالتِ محمدی ہی کا کام تھا(1)۔ اس کے سوا کہیں ’انسان‘ کو معرضِ وجود میں لانے کی کوشش کی گئی تو وہ ایک ایسا انسان تھا جس کا کوئی نہ کوئی حصہ یا پھر اس کے متعدد اعضا مرے ہوئے ہوں ۔ پورا اور صحیح سلامت انسان خدا کی وحی سے ہی پیدا ہوسکتا تھا۔ تہذیبوں کی خاک چھاننے والے کیا یہ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ہم کتنے بڑے خزانے کے دھانے پر بیٹھے ہیں اور دانش کے کتنے بڑے مصدر تک رسائی رکھتے ہیں ؟!

أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ  (الملک: 14)

”کیا وہی نہ جانے جس نے پیدا کیا؟ وہی تو ہے باریک بیں اور باخبر“!!!

فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ !!!

(اسلام کی یہ فصل) پھر گدرائی، پھر اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی“!!!

یہ فکر وعمل اور سیرت و کردار کی ایک ایسی فصل ہے جو آپ اپنے تنے پر کھڑا ہونا جانتی ہے۔ یہ ایک ایسی فصل ہے جو ’سہاروں ‘ کی ضرورت مند نہیں ۔ اتنا بڑا سچ!!! کہاں ہیں ہمارے اسٹریٹجٹ؟ عقل وشعور میں ، احساس و ادراک میں ، جذبہء عمل میں یہ امت آپ اپنے آپ کو کافی ہے۔ اس کو خدا کی ہدایت اور خدا کی عنایت حاصل رہے اور اس کا رخ خدائے وحدہ لاشریک کی طرف رہے، عین اسی موحدانہ اسلوب میں جو اس کی نسل اول کو اپنے استاد کے ہاتھوں ملا تھا، تو اس امت کو اپنا آپ کافی کر دیا جاتا ہے۔ مرتی بس یہ تب ہے جب یہ خدا کی پناہ میں آنے کے اندر سستی کرے اور اس کا سہارا پکڑنے سے نابلد رکھی جائے:

إِن يَنصُرْكُمُ اللّهُ فَلاَ غَالِبَ لَكُمْ وَإِن يَخْذُلْكُمْ فَمَن ذَا الَّذِي يَنصُرُكُم مِّن بَعْدِهِ وَعَلَى اللّهِ فَلْيَتَوَكِّلِ الْمُؤْمِنُونَ(آل عمران: 160)

”اگر اللہ تمہاری مدد پہ ہو تو کوئی تم پر برتری پانے والا نہیں ۔ اور اگر وہی تمہیں بے مدد چھوڑ دے تو بھلا کون ہے جو اُس کے بعد تمہاری مدد کو آئے؟؟؟ اللہ ہی تو ہے جس پر سہارا کرنا ایمان والوں کے کرنے کا کام ہے!!!

کس قدر تعجب ہوتا ہے آج ہم کو فکر ونظر میں جس افلاس اور دیوالیہ پن کا سامنا ہے، اور بلاشبہہ ہے، اور جوکہ ہمارے ’ترقی‘ کرنے میں واقعتا اصل رکاوٹ ہے.... آج جو ہمارے ہاں شکوہ عام ہے کہ اپنے یہاں شعور کی کوئی ترقی اور ادراک کی افزودگی نہیں ہورہی، اور واقعتا نہیں ہورہی.... یہ شکوہ اس امت کے ہاں ہورہا ہے جو اپنے گھروں میں قرآن رکھتی ہے!!! یہ گلہ اس امت میں ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور رسالت کا دم بھرتی ہے!!! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے ”نبوت“ کا اقرار کرنے کا مطلب یہی تو ہے کہ زندگی اور وجود کے کچھ عظیم الشان حقائق سے متعلق محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر خدائے علیم وخبیر کی طرف سے وحی اور الہام اترتا تھا، یعنی آپ پر وہ عظیم حقائق منکشف کردیے جاتے تھے جو دینا کے کسی بڑے سے بڑے دانا اور حکیم پر کبھی کھل ہی نہ سکیں !

تصور کیجئے جس قوم کو جہان میں خدا کی تعریف کرنے پر مامور کیا گیا ہو اس کو شعور اور ادراک کا بحران درپیش ہو!!! جس قوم کو رکوع اور سجود کا ادب نہایت دقت اور تفصیل کے ساتھ سکھایا گیا ہو،یہاں تک کہ رکوع وسجود کے آداب کی بابت بیانِ جزئیات کی حد کردی گئی ہو، اس کے ہاں بہرہ مندی کا فقدان ہو!!! جس قوم کو پہلا الہامی درس ہی اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ   خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ     اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ    الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ     عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ  کا دیا گیا ہو اس کو فکری افلاس لاحق ہو اور اس کے یہاں پسماندگی کے رونے روئے جارہے ہوں ، جبکہ اس کے کچھ ’سمجھدار‘ قوم کو پیاس سے مرتا دیکھ کر باہر کو دوڑے جارہے ہوں !!! ندی کنارے پیاس سے مرنے کی اس سے بدتر صورت، آپ ہی بتائیے، کیا کوئی ہوسکتی ہے؟؟؟!!!

”حوضِ کوثر“ سے پینے کی ’امید‘ اور ’ذوق‘ رکھنے والی قوم یہاں اپنی پیاس بجھانے کو مغرب کی جوٹھ پر نظریں جمائے بیٹھی ہو! علم، ہدایت، شعور، ادراک اور آگہی کیلئے اس کو یہاں نبی کا حوض نظر نہ آئے اور اپنی درماندگی کا علاج اُس کے یہاں پائے جانے والے چشمہء حیات سے کرانے کی بے چینی اِس کے خردمندوں کو لاحق ہی نہ ہو! جس ساقیِ کوثر کا ذکر ہم کو نعتوں میں بہت بھلا لگتا ہے وہ ساقیِ دنیا بھی تو ہے!!! جس کو یہاں اس کا حوض نظر نہ آئے آخرت کے ازدحام میں اس کو وہ کہاں ملے گا؟! یہاں اُس کے در پر بھیڑ کرنے کیلئے ہم فکر مند نہیں تو وہاں اُس تک رسائی کا راستہ ہم پر کیونکر کشادہ ہونے لگا؟!!

یہ توحید، جو ہم کو اپنے نبی کی وساطت ملی، اور جس کو سکھانے پر نبی کی سب سے بڑھ کر محنت ہوئی، آخرت میں تو نجات و سرخروئی ہے ہی دنیا میں بھی زندگی ہے۔ جس چیز نے ہماری آخرت کی راہ روشن کی اسی نے ہماری دنیا کی راہ بھی روشن کردی تھی۔ ہمارے حق میں یہ ’دو‘ راستے ہیں ہی نہیں ، بس ایک ہی راستہ ہے۔ بے شک کسی کو سمجھ نہ آئے کہ ترقی اور افزودگی سے اس کا کیا تعلق ہے، مگر اللہ کی بندگی اور پہنچان اور اللہ کی تعظیم کا شعور دے کر ہمیں دنیا اور آخرت کی سب خیر دے دی گئی تھی اور ہمیں بار بار متنبہ کردیا گیا تھا کہ اس ”خیر“ پر جب تک ہماری گرفت ڈھیلی نہیں پڑتی تب تک خدا کے اس جہان میں ہم ہی بلند وبرتر ہیں ، اور کوئی ہماری ٹکر کا نہیں :

وَأَنتُمُ الأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ!!!

اللہ کی بندگی اور پہنچان نے اور اس کے مرتبہ اور مقام کو جان لینے اور اس کے ماسوا ہستیوں کو خدائی کے مرتبہ ومقام سے ہٹا دینے نے اور یوں زمین پر اللہ کے مرتبہ و مقام کا رضاکار محافظ بن جانے نے ہمیں شعور کی وہ روشنی دی تھی اور ادراک کے ہم پر وہ در وا کئے تھے اور ترقی کے ہم کو وہ افق دکھائے تھے، پھر سب سے بڑھ کر خدا کی نگاہ میں ہماری وہ قدر کروائی تھی اور دنیا کے دل پر ہماری وہ ہیبت بٹھائی تھی کہ اس کے باعث ہم پچھلے ادوار میں ہی نہیں آج تک قابل رشک ہیں ۔ ہمارے اس تاریخی مقام اور ہماری اس اصیل پہنچان کے باعث ہی آج تک دنیا ہم سے خائف ہے۔ ہمارے دشمن آج اس جلدی اور ندیدہ پن کے ساتھ ہر طرف اپنا کام دکھا رہے ہیں تو وہ اسی لئے کہ ہمارے جاگ اٹھنے اور اپنے تاریخی مقام کو ازسرنو بحال کرسکنے سے پہلے وہ جو کرسکتے ہیں کرلیں اور جو کچھ یہاں سے سمیٹ سکتے ہیں سمیٹ لیں ! ان کی ذہنی کیفیت اس دزدِ نیم شب سے مختلف نہیں جس کو اپنی واردات کرجانے کیلئے ’مالک‘ کی خوابیدگی نے ایک زبردست موقعہ فراہم کردیا ہو اور اس ’زبردست‘ موقعہ کے ختم ہوجانے میں ’مالک‘ کے اٹھ پڑنے کے سوا کسی چیز کی دیر نہ ہو!

توحید کی اس امانت نے واقعتا ہمیں پوری زمین کے حقوقِ ملکیت دے ڈالے تھے۔ اس کے بل پر ہم نے دنیا کے جس خطے کو چاہا اپنا گھر بنایا اور اللہ کی بندگی سے معمور کیا۔ اس ”حقِ ملکیت“ کیلئے اہلیت کے جو جو شرائط اور تقاضے ہوسکتے ہیں وہ سب کے سب اس ’پیکیج‘ کا حصہ ہیں ۔ کوئی چیز ایسی ہے ہی نہیں جس کا ہمیں ’الگ‘ سے انتظام کرنا پڑے!

توحید علم کا سرا بھی ہے، شعور کی روشنی بھی اور فکر کی غذا بھی۔ ذہن کی وسعت بھی ہے اور ضمیر کی راحت بھی۔ عقل کی تشفی بھی ہے اور فطرت کی تسکین بھی۔ یہ جذبے کی مہمیز بھی ہے اور عمل کی محرک بھی۔ سوز بھی ہے اور خشیت بھی۔ یہ خدا کا خوف بھی ہے اور خدا کی چاہت بھی۔ دیانت بھی ہے اور امانت بھی۔ احساسِ ذمہ داری بھی ہے اور جواب دہی کی فکر بھی۔ خیالات کی پاکیزگی بھی ہے اور کردار کی پختگی بھی۔ توحید حیا بھی ہے اور مکارمِ اخلاق بھی۔ فرد کی تعمیر کا سوال ہو یا معاشرے کی تاسیس کا، توحید سے بہتر کوئی مواد نہیں ۔ خالق کی بندگی ہو یا خلق کی خدمت، نفس کی اصلاح ہو یا سماج کی پرورش، حقوق کا معاملہ ہو یا واجبات کا، توحید ”توازن“ کی بہترین بنیاد ہے اور ”عدل“ اور ”موزونیت“ کی زبردست اساس۔ دنیا کی درماندگی سے بچاؤ کا سوال ہو یا قبر کی وحشت سے یا حشر کے ہول سے یا خدا کے سامنے کھڑا ہونے کے لمحے سے،توحید نجات کی کنجی ہے اور خلاصی کی راہ۔ توحید حقیقت بھی ہے اور عنوان بھی۔ ابتدا بھی ہے اور انتہا بھی۔ توحید عقیدہ بھی ہے اور راستہ بھی۔ منزل بھی اور جہت بھی۔ غایت بھی اور پہنچان بھی۔ توحید ہمارے لئے دنیا بھی ہے اور آخرت بھی۔ اسی سے فرد کو بننا ہے اور اسی سے سماج کو۔ یہی نظام بھی ہے اور یہی قانون بھی۔ اسلام بھی اور احسان بھی۔ محبت اور نفرت، دوستی اور دشمنی، ملنا اور ٹوٹنا، ولاءاور برائ، سب کی اساس توحید ہے۔ رشتوں کی پہنچان توحید کے دم سے ہے۔ ایثار، بے لوثی اور قربانی توحید کی دین ہے۔ ہر صلے اور ہر ستائش سے بے پروا ہوجانا اور بڑی سے بڑی نیکی کو آرام سے چھپا جاناتوحید کا مرہونِ منت ہوسکتا ہے۔ کسی مخلوق سے کرلی گئی ادنیٰ ترین زیادتی پر پریشان ہو جانا اور کسی ذرہ بھر سماجی دباؤ کے بغیر اس سے معاف کرانے کیلئے بے چین ہونا انسان کے درون میں توحید ہی کا ثمر اور اثر ہوسکتا ہے۔ توحید بہادری بھی ہے اور مردانگی بھی۔ جفاکشی بھی ہے اور صبر و برداشت بھی۔ امید بھی ہے اور حوصلہ مندی بھی۔ عاجزی و انکساری بھی ہے اور خود داری وعزتِ نفس بھی۔ غیرت اور حمیت بھی ہے اور رواداری و عفو و درگزر بھی۔ اعلیٰ ظرفی، بلند خیالی، خوش اسلوبی، حسنِ نیت اور جمالِ باطن سب خدا کے مرتبہ ومقام سے شناسائی کا ہی قدرتی انعام اور خدا کی صفات کو پہنچان لینے کا ہی وہ طبعی اثر ہے جو نفس انسانی پر ایک بے ساختہ نقش کی طرح بیٹھ جاتا ہے اور پھر خدا کے تذکرے اور اس کے مقام کی یاد دہانی، جوکہ مسلم معاشرے میں ہر وقت کرائی جانا ہے، اس نقش کو اور بھی گہرا اور اجلا کرتی جاتی ہے!!!

دنیا اور آخرت کی کونسی خیر ہے جو آپ کو اس راستے میں نہیں مل سکتی؟ آپ کی قوم کی کونسی ضرورت ہے جو آخر اس سے پوری نہیں ہوسکتی؟ اپنی قوم میں آپ جو شعور اور عمل کی جوت جگانا چاہتے ہیں اور صدی بھر سے اس کیلئے پریشان ہورہے ہیں بلکہ بہت سے در جھانک لینے کے بعد اب اس کے امکان تک سے مایوس ہورہے ہیں .... وہ سب کچھ اور اس کے سوا اور بہت کچھ آپ ہی کیلئے تو ہے بشرطیکہ اس کا وہ اصل سرا اور سراغ آپ پالیں جسے، بار بار، انسانوں کے ہاتھ میں تھمانے کیلئے ”بعثتِ انبیائ“ ایسے ایک لاکھ چوبیس ہزار خرق عادت واقعات دنیا کے اندر رونما ہوئے اور جس کو اب آخری بار اور ہمیشہ کیلئے ہم پر منکشف کردینے کیلئے اور اس پر ہماری نگاہوں کو آخری حد تک مرکوز کرا دینے کیلئے نبی خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اور جس کو ہم سے روپوش نہ ہونے دینے کیلئے آپ نے اپنا ایک ایک نقشِ قدم محفوظ کرادینے کے بعد ہی الرفیق الاعلیٰ کی جانب رحلت فرمائی!!!

رہی یہ بات کہ یہ عمل بہت محنت چاہتا ہے، رہی یہ بات کہ معاشرے کو پھر سے عین اسی موحدانہ بنیاد پر اٹھانے اور تربیت دینے پر اور توحید سے انسانی ضرورت کے یہ سب نفیس مطالب کشید کرنے کے اس عظیم الشان منصوبہ کو لے کر چلنے پر اور تن دہی کے ساتھ قوم سے اس پہ عملدرآمد کرانے پر بہت زور لگے گا.... تو سوال یہ ہے کہ قوم کی مسیحائی کا کونسا منصوبہ ’محنت‘ نہیں چاہتا اور قوم کے دن پھر جانے کی کونسی امید ’مفت‘ میں بر آجانے کا امکان ہے؟ اور کیا پچھلی ڈیڑھ صدی سے تو آپ کی کچھ ’محنت‘ نہیں ہوئی؟؟؟ چل چل کر کیا آپ روہانسے نہیں ہوچکے؟ اور ’منزل‘ کا پھر بھی کوئی نشان نہیں ! کیا ہے اب اگر آپ خدا کی طرف چل کر بھی دیکھ لیں ! قسمت میں اگریہی ’نقصان‘ لکھا ہے تو کیا ہی بہتر ہے وہ خدا کے راستے میں رہ کر ہو اور آخرت بچ جائے! صحیح راستے میں تو کچھ کھو دینا بھی شرف ہی کی بات ہے اور یہ بات اس سے کہیں بہتر ہے کہ غلط راستے میں کچھ پانے کی امید رکھی جائے۔ اجر کی آس سے تو کم از کم نہ جائیں !

رہی یہ بات کہ اس راستے کی تبلیغ کرتی آپ کو ایک بڑی خلقت نظر نہیں آتی اور اس ہدف کو بنیاد بنا کر ایک ایک فرد کو بنانے اور سنوارنے کا کام کسی بڑی سطح پر نہیں ہورہا، کہ جس سے قوم کی ایک تعمیر نو ہو، بلکہ ایسا کوئی منصوبہ ہی شاید زیر عمل نہیں .... تو یہ بات بطور واقعہ درست ہے نہ کہ بطور عذر۔ یہ کام ہورہا ہوتا تو پھر رونا ہی کس بات کا تھا؟ یہ اس بات کی دلیل بہرحال نہیں کہ یہ کام زور و شور سے اگر نہیں ہورہا تو اس کو اب بھی نہ کیا جائے!

کونسے کام کی ابتدا کرنے پر اور اس کو ایک بہترین رخ دینے پر عوام سے پہلے خواص(2) کی ضرورت نہیں ہوتی؟ کونسا کام ہے جس کے معاشرے میں پائے جانے کیلئے شرط یہ ہوتی ہے کہ بالکل ابتدا میں اس کو لوگوں کا ایک جمعِ غفیر مل گیا ہو؟ کونسا کام ہے جس کی بابت آغاز میں لوگوں کو بہت سی غلط فہمیں نہ ہوں ؟ہر کام ابتدا کرنے سے ہی تو ہوتا ہے اور کسی بھی چیز کا آغاز کرنے کیلئے سب سے پہلے ’مٹھی بھر‘ لوگ ہی تو پائے جاتے ہیں ! آپ ان ’مٹھی بھر‘ میں سے ہوجائیے جو یہاں ایک دور رس تبدیلی کی اساس رکھیں گے، ہوسکتا ہے آئندہ صدیوں میں آپ کے کام کے حوالے دیے جائیں ! کیا کوئی دعوت ’ہزاروں ‘ سے بھی شروع ہوئی ہے؟! اور چھوڑیے، تہذیبِ مغرب کا اپنے یہاں چلن کرنے والے شروع کے اندر کیا ہزاروں اور لاکھوں میں تھے؟ اور باوجود ان کو انگریز کی پشت پناہی اور بے شمار سہولتیں اور ذرائع حاصل ہونے کے اور باوجود ابلاغ کی ایک زبردست قوت پاس رکھنے کے، کیا ان کو یہاں کسی ’مخالفت‘ کا سامنا نہیں کرنا پڑا؟ بلکہ مغرب کے اندر جب ابتدا میں وہ تبدیلی آئی جو وہاں کے کہنہ وپسماندہ ماحول کو چیر کر برآمد کرائی گئی تھی اور جو، اپنے ’نتائج‘ اور ’ثمرات‘ کے معاملہ میں ، ہمارے یہاں کے بہت سوں کی نگاہوں کو آج تک خیرہ کئے جارہی ہے.... مغرب میں آنے والی وہ تبدیلی، ابتدائی طور پر، کیا وہاں کے ’مٹھی بھر‘ حوصلہ مند افراد کی برپا کردہ نہ تھی؟!! بہت سے عوامل تب اگر اُن تبدیلی لانے والوں کی پشت پر تھے تو بہت سے عوامل آج ہماری پشت پر ہوسکتے ہیں ۔ ہر راستہ بلا شبہہ بنانے سے بنتا ہے۔ ’بنے بنائے‘ راستے تو جو بھی ہوتے ہیں وہ تو پھر اپنی ہی کسی سمت میں جاتے ہیں نہ کہ آپ کی منزل پر!

ب) دوسری بات ہم مغرب کی اس جدید اٹھان کے معاملہ میں یہ دیکھ آئے ہیں کہ ایک نظریاتی تبدیلی برپا کرلینے نے نہ صرف ان کے اجتماعی شعور کی سطح بلند کر دی تھی جس سے ان کی اقوام کے سامنے ترقی کے راستے ایک دم کھل گئے تھے، بلکہ اس نظریاتی کایا پلٹ نے ان کو فکری خود انحصاری کا ایک مسحور کن احساس بھی بخش دیا تھا، جوکہ قوموں کی ایک بہت بڑی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک قوم کے اندر یہ احساس راسخ ہوجانا کہ وہ فکری اور نظریاتی لحاظ سے کسی دوسری قوم کا چربہ نہیں بلکہ یہ کہ وہ اپنی ایک علیٰحدہ و جداگانہ ساخت رکھتی ہے جس میں کہ ’کوئی اس جیسا نہیں ‘ اور یہ کہ اس کا تاریخی وجود اس کے اپنے ہی علمی وثقافتی مصادر کا مرہونِ منت ہے نہ کہ کسی اور کا عکس.... یہ احساس راسخ ہوجانا دنیا کے اندر ایک قوم کے سر اٹھانے میں بے حد اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پھر اگر اس قوم کو کسی طرح یہ زعم بھی حاصل ہوجائے کہ وہ دوسری قوموں سے ’پڑھنے‘ کی بجائے ان کو ’پڑھا‘ سکتی ہے اور یہ کہ علم، حکمت اور دانائی میں دوسرے اس سے نیچے ہیں اور یہ کہ وہ ان کو ’اونچائی‘ سے دیکھ سکتی ہے، پھر تو اس کا نخرہ ساتویں آسمان سے باتیں کرتا ہے اور اس میں جو خود اعتمادی آتی ہے اور دوسروں پر اپنا تفوق اور سبقت قائم رکھنے کی ایک خاص ذہنیت جو اس کے اندر آپ سے آپ پرورش پاتی ہے وہ اس کو کہیں سے کہیں لے جاتی ہے۔

بے شک یہ درست ہے کہ قوم، قبیلہ، نسل یا لسان کی برتری کو کسی قوم کی اٹھان کیلئے بنیاد بنا دیا جائے اور اس پر فخر کرنے کا اس کے یہاں بے پناہ رواج کردیا جائے تو بھی قوم کو متحرک کرلیا جاسکتا ہے اور اس کو دوسری اقوام پر برتری بھی دلائی جاسکتی ہے، پھر تاریخ انسانی میں ایسے بے شمار واقعات ہوئے بھی ہیں .... مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسی برتری بہت دیرپا نہیں ہوتی۔ ایک قومی عصبیت عموماً اپنے مخالف قومی عصبیت counter nationalism کو آپ سے آپ جنم دے جاتی ہے جس کی بنیاد پر مخالف قوم کی صلاحیتیں اور ان کے ذہین دماغ آپ سے آپ جاگ اٹھتے ہیں ، یوں بسا اوقات ایک عصبیت اپنی مخالف عصبیت کو کھڑا کردینے کا باعث بن جاتی ہے اور بلکہ تو بعض اوقات ایک سوئی ہوئی قوم کی خدمت کرجاتی ہے۔ البتہ نظریاتی برتری ایک ایسی چیز ہے جس کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے اور قومیں پہلے سے بڑھ کر آپ کے زیرنگیں آتی ہیں ۔

پھر جدید دنیا میں تو یہ ممکن ہی نہیں کہ محض قومی یا وطنی عصبیت کی بنیاد پر آپ قوموں پر برتری پا کر رہیں ۔ اپنی اقوام کے اندر ’منفرد‘ ہونے کی سوچ اور ذہنیت راسخ کردینے کیلئے آج آپ کو بہرحال خون، ذات برادری، رنگ و تخم اور خطہ و زمین کے سوا بھی کوئی بنیاد چاہیئے۔

باوجود اس کے کہ قومیت اور نسل پرستی بھی ہم کو مغرب ہی نے سکھائی ہے مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دور میں ’قومیت‘ سے بڑھ کر بھی کچھ تھا جو اقوامِ مغرب کے فخر کی بنیاد بنا، اور یہ وہی چیز ہے جس کو ہم نے ’نظریاتی برتری‘ یا پھر ’نظریاتی برتری کا زعم‘ کا نام دیا ہے۔

دراصل یہ اس عالمی دور کا ایک عمرانی واقعہ ہے جس کا آغاز تاریخ انسانی کے اندر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے کرایا گیا۔ یعنی دنیا کو ایک بڑی سطح پر اب قبیلوں اور قوموں کی بجائے ’مقاصد‘ متحرک کریں گے چاہے وہ صالح مقاصد ہوں یا فاسد۔ حکمرانی اب نظریات اور عقائد کی ہوگی چاہے وہ حق ہوں اور چاہے باطل۔ تاریخ انسانی کا پچھلا چودہ سو سالہ عرصہ اسی بات پر شاہد ہے۔
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں مغرب نے اپنی اس موجودہ اٹھان میں خاصی کوشش کی تھی کہ وہ افکار اور نظریات میں ہی اپنی وہ ضرورت تلاش کرے جس کو وہ دنیا کے اندر ’پہنچان‘ اور ’امتیاز‘ بنا کر رکھے۔ اس کوشش میں وہ محدود حد تک کامیاب بھی ہوا تھا۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ مغرب میں کچھ صدیوں کی محنت سے اور دراصل اسلامی تہذیب کے زیر اثر جو فکری انقلاب برپا ہوا، اسی کو مغرب نے اپنی پہنچان بنا لیااور وہی آگے چل کر پھر مغرب کی اس ساری ترقی کا راز ثابت ہوا۔ یہ فکری انقلاب کتنا غلط تھا، ایک الگ بحث ہے، مگر ’افکار‘ اور ’ثقافتی رجحانات‘ کے حوالے سے اپنی عالمی پہنچان کرانا مغرب نے اسلامی تہذیب سے بہرحال سیکھ لیا تھا۔

چنانچہ یہ تو ضرور ہوگا کہ مغربی اقوام آپس میں ایک دوسرے پر فخر و برتری کیلئے اپنی اپنی قوم اور قبیلے کا سہارا لیتی ہوں اور پھر دوسری اقوام کے مد مقابل بھی ان کی نفسیات میں نسلی برتری کی سوچ کارفرما ہو، مگر ایک باقاعدہ انداز میں مغربی اقوام نے جس چیز کو اپنی پہنچان بنایا اور جس پہ ان آخری صدیوں میں وہ بے حد اترائیں ، اور جس کے باعث دوسری قومیں بھی ان سے خوب خوب مرعوب ہوئیں ، وہ چیز افکار اور نظریات کی برآمد ہی تھی۔ یہ سب افکار و نظریات صورتیں بدل بدل کر مادیت کے گرد گھومتے تھے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ مغرب کا اصل عقیدہ تھا ہی مادیت۔ البتہ یہ بہرحال ایک عقیدہ تھا اور سیدھی سیدھی ایک فکری و نظریاتی یلغار۔

اس واقعہ کو سمجھنے کیلئے یہ واضح ہوجانا نہایت ضروری ہے کہ مغرب کی پیش قدمی جو پچھلی کچھ صدیوں میں ہوئی، نری پری ’فتوحات‘ سے مختلف کوئی چیز تھی۔ ’فتوحات‘ تو ہمیشہ سے قوموں اور بادشاہوں کا من پسند مشغلہ رہا ہے۔ مگر مغربی دنیا کی اقوامِ عالم پر اس بار کی چڑھائی ایک اور ہی طرز کا فنامنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد قوموں نے مغربی استعمار سے دھڑا دھڑ آزادیاں لیں مگر ’آزاد‘ نہ ہوسکیں ! بلکہ مغرب کی ثقافتی یلغار پچھلے چھ عشروں میں ، یعنی ’آزادیاں ‘ حاصل ہونے کا واقعہ رونما ہوچکنے کے بعد، یہاں بے اندازہ بڑھی اور فکری وتہذیبی معنوں میں مغرب کے ہاتھوں مفتوح و زیرنگیں ہونے کے رجحانات ان قوام کے ہاں پہلے سے کہیں بڑھ کر پزیرائی پاتے چلے گئے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ’مغرب کی برتری‘ پر مبنی اس واقعہ کو سمجھا ہی نہ گیا تھا جس سے ’آزاد‘ ہونے کی اپنے سطح بیں طبقے کے یہاں بہت جلد آوازیں پڑنے لگی تھیں ۔

اصل معاملہ یہ ہے کہ اسلامی فتوحات اپنے اعلیٰ ترین معنیٰ میں اور مغربی استعمار اپنے بدترین معنیٰ میں تاریخ انسانی کے دو منفرد ترین واقعے ہیں ۔ ان دونوں میں مشترک پہلو یہی ہے کہ یہ محض کوئی جغرافیائی توسیع یا محض ایک جسمانی برتری نہ تھیں ۔ ان دونوں میں فرق البتہ یہ ہے کہ پہلا واقعہ حق اور خیر کی مجسم اشاعت اور اصلاح فی الارض کی باقاعدہ و منظم دعوت تھا تو دوسرا واقعہ باطل اور شر کی مجسم اشاعت اور فساد فی الارض کی ایک انتہائی منظم صورت۔ آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ درحقیقت یہ دو ’تحریکیں ‘ تھیں ، ایک کے پیشِ نظر روئے زمین پر خدائے واحد کی بندگی کروانا تھا اور دوسری کے پیشِ نظر عقل اور مادہ اور خواہش کی بندگی کرانا۔ دونوں کے پاس بہرحال کوئی نہ کوئی ’ایجنڈا‘ تھا!!!

اپنے پاس آج کیا ’ایجنڈا‘ ہے؟؟؟

ہم ’تیسری دنیا‘ ہونے پر قناعت کرلینے والوں کو یہ سوال بھی شاید اوپرا لگے!!!

ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھئے، آپ توحید کی بنا پر نہ صرف ایک بالکل نیا اجتماعی و سماجی واقعہ وجود میں لاتے ہیں بلکہ توحید کو اس کی پہنچان بنا کر اقوام میں اس کو ممیز بھی کردیتے ہیں ۔ یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جس کے نتیجے میں ’اقوام‘ قریب قریب روپوش ہی ہوجاتی ہیں اور ان کی جگہ منصہء عالم پر __ تاریخِ انسانی کے بقیہ مراحل کیلئے __ ایک ”امت“ سامنے آجاتی ہے.. ”امت“ جس کا مفہوم ہی یہ ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی جمعیت ہے جس کو چلانے والے ’اہداف‘ ہیں نہ کہ ’انساب‘ اور جس کا وجود ہی ایک ’ایجنڈے‘ کے تحت عمل میں لایا گیا ہے اور جس کی پیش قدمی کا مطلب ہی دراصل ایک ’ایجنڈے‘ کی پیش قدمی ہے اور جس کی پسپائی کا مطلب بھی اس ’ایجنڈے‘ کی پسپائی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مشرک قوم کا ’عقیدہ‘ بدل ڈالا تھا، یہ اس حقیقت کا صرف آدھا حصہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برپا کردہ اس تبدیلی کی بابت کہی جاسکتی ہے۔معاملہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قوم کو شناخت ہی نئی دے ڈالی تھی اور ان کے جینے مرنے اور جوش و حمیت میں آنے اور ’جڑنے‘ اور ’ٹوٹنے‘ کی اساس ہی کچھ سے کچھ کر دی تھی۔ یہ ’عقیدہ‘ جو اس مبارک تبدیلی کی بنیاد بنا اس قوم کیلئے نام اور نسب سے بڑھ کر اہمیت اختیار کرگیا۔ ایک ہی قوم کو اس عقیدہ نے پھاڑ کر رکھ دیا اور ’مشرک‘ اور ’موحد‘ میں تقسیم کرڈالا۔ صدیوں سے بستی چلی آنے والی ایک قوم دیکھتے ہی دیکھتے دو الگ الگ ملتوں میں بٹ جاتی ہے۔ ایک ایک گھر تقسیم ہو کر ’کافر‘ اور ’مسلم‘ میں بٹ جاتا ہے۔ ایک ہی باپ کے دو فرزندوں کے مابین تلواریں نکل آتی ہیں اور ”حتیٰ تؤمنوا باللہ وحدہ“ سے کم کسی بات پر ان کے مابین صلح ہوجانے کا امکان ہی نہیں ۔ کیا ایسے واقعے کو محض ’عقیدے‘ یا ’نظریے‘ کی تبدیلی کہا جاسکتا ہے؟ لوگ آئے روز اپنا ’نظریہ‘ یا اپنا ’اعتقاد‘ بدلتے ہیں ۔ کسی معاملے میں پہلے جو ’رائے‘ تھی بعد ازں وہ نہیں رہتی۔ اس پر مگر گھر تو نہیں بٹتے۔ بھائیوں میں دوریاں تو نہیں پڑتیں ۔ ہجرتوں اور لڑائیوں کی نوبت تو نہیں آتی۔ رشتوں میں کوئی فرق تو نہیں آتا۔ پس یہ تبدیلی تو محض ایک نیا ’عقیدہ‘ قبول کروانے سے عبارت نہیں ۔ یہ تو ایک ساکن ماحول کو چیر کر، ایک ناقابلِ قبول سماجی واقعے کو تہ وبالا کرکے، ایک نیا انسانی واقعہ برآمد کرنا ہے جو صرف اپنے ہی مصادر پر انحصار کرنا جانتا ہے اور اپنے ہی مراجع کو ہر ہر حقیقت کے اثبات میں حَکَم مانتا ہے اور اس کے ماسوا ہر چیز کو رد کردیتا ہے.... اور اس کشمکش میں آخری حد تک چلا جانا مطلوبہ تبدیلی کا حق جانتا ہے۔

اللہ وحدہ لاشریک کے سوا ہر ہر معبود کو آخری حد تک مسترد کردیا جانا اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے سوا ہدایت کیلئے ہر ہر مصدر کا انکار کروانااس نئے تہذیبی واقعے کا نمیں ترین عنوان بنا دیاگیا۔ بلکہ حق تو یہ ہے کہ ”اسلام“ ہی اس کو قرار دیا گیا: یعنی شہادۃان لا الہ الا اللہ وان محمدا رسول اللہ۔ اس ”اسلام“ کے ماسوا ہر بات، ہر نظریے، ہر عقیدے اور ہر طرز حیات کو باطل اور رد ہونے کے قابل اور نرا جہنم کا سامان سمجھنا اس ”امت“ کے ہر فرد کا منشور اور دستور ٹھہرا۔ ”صراطِ مستقیم“ کو اپنی سب سے بڑی ضرورت ماننا دن میں پانچ بار فرض ٹھہرا دیا گیا، بلکہ پانچ بار پڑھی جانے والی نماز (جوکہ اس روحانی و تہذیبی واقعے کا نمیں ترین اور خوبصورت ترین مظہر ہے) کی ہر ہر رکعت میں اس ضرورت کا اعادہ کرنا اور دست بستہ خدا سے اس نعمت کا سوال کرنا لازم ٹھہرا دیا گیا۔ صرف اتنا نہیں ، اس ”صراطِ مستقیم“ کے ماسوا راستوں اور منشوروں سے براءت نامہ پڑھنا بھی اس پانچ وقتہ عبادت کا حصہ بنا دیا گیا۔ وہ سب راستے جو وحی کی پیروی نہیں وہ تو سرے سے مسترد ہیں ، وہ راستے بھی جو وحی کی پیروی اختیار کرنے کے بعد یا دوران، انحراف پہ چلے گئے ہوں ان سے بار بار براءت کرائی جاتی ہے، یوں اس ”امت“ کے سب کے سب افراد __ روز پانچ بار __ ہر گلی محلے کے اندر اکٹھے ہوکر، دست بستہ، اور صفیں باندھ کر، ایک ایک رکعت میں المغضوب علیہم اور الضالین کے راستوں سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ، ان پر چلنے والوں سے بیزاری کا کھلا اظہار کرتے ہیں اور اللہ سے صرف اور صرف اس راستے پر رہنے کی التجا کرتے ہیں جو ہر دور کے اندر اس کے خاص پسندیدہ و انعام یافتہ لوگوں کو ہی نصیب ہوتا رہا!!!

”منفرد“ ہونے کا احساس اس سے بڑھ کر کیا کوئی دین اور کوئی تہذیب دے سکتی ہے؟!! اپنا قومی و اجتماعی امتیاز ڈھونڈنے یا اپنے تشخص کے معاملے میں خلا پائے جانے کا سوال بھی کیا یہاں باقی رہ جاتا ہے؟!! دوسرے ثقافتی و نظریاتی واقعوں سے مانگ تانگ کر کام چلانااور دوسروں جیسا نظر آنے میں اپنی ’کمتری‘ کا حل پانا، یہ بحران کیا اس امت کی فطرت اور ساخت سے دور کا بھی کوئی واسطہ رکھتا ہے؟؟؟ سب دینوں اور سب تہذیبوں سے برتر ہونے کا احساس، بلکہ درست ترین بنیاد پر ہی سب قوموں ، سب امتوں اور سب تہذیبوں سے بہتر ہونے کا احساس اس دین اور اس عقیدے کی ایک ایک بات سے کیا پھوٹ پھوٹ کر نہیں نکلتا؟؟؟ علم، فہم، ادراک، شعور اور دانائی میں ، خود داری و خود انحصاری اور زندگی کے ہر ہر معاملے میں دوسروں پہ سبقت لے جانے کی تڑپ اور حمیت پیدا کردینے کا انتظام اس سے بڑھ کر کیا کوئی دین یا کوئی عقیدہ اپنے پیروکاروں کو کرکے دے سکتا ہے؟؟؟!

جیساکہ ہم نے پہلے کہا، لین دین تو امتوں اور قوموں کے مابین چلتا ہی رہتا ہے، اصل بات اپنا ”اصل امتیاز“ متعین کرنے کی ہے، جس میں آپ دوسروں کے بالمقابل اپنے لئے برتری کے اسباب اور وجوہات دیکھتے ہیں اور جس کو آپ کی قوم اپنے فخر کی بنیاد بناتی ہے اور جس کے اندر وہ کسی اور قوم کو اپنا ہمسر یا ہم پلہ دیکھنے کا تصور تک ختم کردیتی ہے، اور جس کو ”برتر“ مان کر پھر وہ دوسروں سے ’کمتر‘ اشیا بڑی بے پروائی سے لینے لگتی ہے اور اس سے اس کے فخر کو نہ صرف یہ کہ ذرہ بھر ٹھیس نہیں پہنچتی بلکہ یہ بات اس کے فخر و خود اعتمادی کو اور بھی چار چاند لگاتی ہے.... یہ بات اس اساس میں بہت واضح ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نئے اور منفرد سماجی واقعے کی بنا رکھی تھی۔

ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہمارے اسلام کا آغاز ’اعمال‘ سے نہ ہو بلکہ ان ”حقائق“ اور ان ”تصورات“ سے ہو جو ’اعمال‘ سے بہت پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کئے گئے تھے اور جوکہ مکی قرآن میں اسلوب بدل بدل کر بہ تکرار بیان ہوئے ہیں اور جن پر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زیر تربیت انسانی واقعے کے اندر ایک خاص اپروچ راسخ کرنے کے معاملہ میں اصل سہارا کیا۔ ان ”حقائق“ اور ان ”تصورات“ پر محنت کرا لی جائے تو ’اعمال‘ کے اندر آج بھی وہ رنگ بھرا جاسکتا ہے جو کہ ہمیں اس نوخیز معاشرے کے اندر نظر آتا ہے جس نے آج سے چودہ سو سال پہلے تاریخ انسانی کو وہ رخ دے دیا اور اس کو وہ طبیعت اور مزاج بخش دیا جس کو بدل دینا اب کسی کا بس نہیں ۔ مغرب نے تاریخ کے اس نئے مزاج کے ساتھ، جوکہ نبوتِ محمدی نے تاریخ کو بلاشبہہ دے دیا ہے، ’ٹکرانے‘ کی بجائے اپنے انداز کا ایک ’تعامل‘ کیا اور وہ بھی، گو ایک فاسد معنیٰ میں سہی، تاریخ پر اثرانداز ہونے میں کامیاب رہا۔ آج اب اگر ہم اس ’تعامل‘ کی حقیقت جان لیتے ہیں ، جو تاریخ کے ساتھ اور یہاں کے تہذیبی حقائق کے ساتھ اختیار کیا جانا ہے اور جس سے کہ کسی کو مفر نہیں ، تو یہ بازی جیت لینا ان شاءاللہ ہمارے ہی بس میں ہے۔

یقینا آپ بھی دنیا کے وہ سب کام کریں گے جو دوسرے کرتے ہیں ، بلکہ ان کاموں میں بھی آپ دوسروں پر سبقت لے جائیں گے، مگر اس سے پہلے اپنے ’اصل کام‘ اور ’اصل میدان‘ کا تعین ناگزیر ہے جس میں درحقیقت ہمیں اوروں کو مات دینی ہے۔

خدا کا یہ جوجہان ہے، کچھ قومیں ضرور اس میں پلاسٹک کی مصنوعات بنانے اور سستی برآمدات میں کمال پیدا کرنے کیلئے رکھی گئی ہوں گی کہ وہ اسی کو اپنا پیشہ اور اختصاص بنا کر اس فانی دنیا کے چار دن اپنی ایک اچھی گزر بسر کریں اور دوسروں کی خدمت کا بھی ایک کم لاگت ذریعہ بنیں ۔ مگر ساری دنیا ہی اس کام کیلئے رہ گئی ہو اور چھ کے چھ ارب انسان اس زمین پر ’روٹی‘ کھانے کیلئے رہ جائیں اور ’بہتر چارے‘ کیلئے جائیں ، ایسی بورکن دنیا کا تصور بعید از قیاس ہے۔ یہاں خیر اور شر کی جنگ کا زمانہ کبھی پرانا نہ ہوگا۔ یہی زمین کی سب سے دلچسپ اور سب سے مرکزی داستان ہے۔ کچھ قومیں بلا شبہہ یہاں اس ’شعبے‘ میں خدمت کیلئے رکھی گئی ہیں ۔ کسی کا شر اپنے تک رہے گا تو کسی کا شر اس حد کو پہنچے گا جہاں سے خیر اور شر کی یہ جنگ اپنے جاری رہنے کے باقاعدہ اسباب اور غذا پائے۔ کس کس دور میں کون کون سی قوم ’شر‘ کو اس سطح تک پہنچانے کیلئے رکھی گئی ہے جہاں خیر اور شر کی یہ جنگ جاری رہنا ممکن ہو، ہمیں کیا معلوم، گو تاریخی وقائع اس باب میں مغرب ہی کی طرف مسلسل اشارہ کئے جارہے ہیں ۔ البتہ ”خیر“ کو اس سطح تک لے جانے کیلئے جہاں آدم و ابلیس کی یہ جنگ اپنے استمرار کیلئے وجوہات پائے.... ”خیر“ کو اس سطح تک لے جانے کیلئے البتہ یہاں ایک ہی قوم رکھی گئی ہے اور قیامت تک وہ ایک ہی قوم ہے، اور وہ ہم ہیں ۔ اپنے پاس تو پس چارہ ہی نہیں کہ اپنے اس اختصاص میں کمزور رہیں ۔

ج) تیسری بات پیچھے ہم یہ تسلیم کر آئے ہیں کہ ایک نظریاتی سوسائٹی میں ، خواہ وہ کسی بھی نظریے پر ایمان رکھنے کے نتیجے میں معرض وجود کے اندر آئی ہو، ”نظریات کی جنگ“ ابتدا کے اندر تو ناگزیر ہوتی ہی ہے مگر بعد ازں جب وہ جنگ جیت لی جاتی ہے تو بھی نظریات کی وہی جنگ ویسے کی ویسے جاری رہتی ہے اور جن نظریات اور عقائد کو ابتدا کے اندر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا ان کا قتل عام اس قوم کی تاریخ میں مسلسل جاری رہتا ہے۔ ’مرے کو مارنے‘ کا یہ عمل نظریات کی دنیا میں کبھی موقوف نہیں ہوتا۔ یہ بات بہت سوں کیلئے عجیب ہوسکتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک شرعی حقیقت بھی ہے اور ایک عمرانی واقعہ بھی۔
اس کے عمرانی واقعہ ہونے پر ایک مثال پیچھے ہم مغربی معاشروں سے ہی دے آئے ہیں ۔ جس ’بادشاہت‘ اور ’شخصی استبداد‘ کے نظام کو یورپ اپنے تئیں صدیوں پہلے ختم کرچکا ہے اور اب اسکا ان کے ہاں کوئی وجود ہی نہیں اس ’بادشاہت‘ اور ’شخصی استبداد‘ کے خلاف ابھی تک ان کے ہاں بے پناہ لکھا اور بولا جاتا ہے۔ ’کلیسا‘ کی خدائی کی شناعت اور ’مذہب‘ کا ’سائنس‘ پر ظلم آج بھی اس کثرت سے ذکر ہوتا ہے گویا یہ ابھی کل ہی کا واقعہ ہے۔ ’خرافات‘ کے خلاف اب بھی اسی انداز میں بات ہوتی ہے جس طرح صدیوں پہلے ہوتی تھی۔
یہ طرزِ عمل دراصل کئی پہلوؤں سے ضروری ہوتا ہے..

ایک نظریاتی سوسائٹی کو جو جہت دے لی گئی ہوتی ہے ، یا یوں کہیے جس جہت پر ایک نظریاتی سوسائٹی کو تعمیر کرلیا گیا ہوتا ہے، وہ جہت صدیوں تک رہنے کیلئے ہی ہوتی ہے۔ ’معاشرے‘ کوئی دس بیس سال کیلئے نہیں بنائے جاتے! حقیقت تو یہ ہے کہ جب ’معاشرے‘ کو تشکیل دیا جاتا ہے تو وہ اس کے ہمیشہ رہنے کی نیت سے ہی دیا جاتا ہے۔ (یہی وجہ ہے کہ اس مرحلے کو سر کروانے کیلئے عموما پیغمبر بھیجے گئے، اور چونکہ یہ اس قدر دور رس کام ہے تو یہی وجہ ہے کہ ایک پوری نسل تو عموما اس کام کی بنیادیں اٹھانے میں ہی نمٹ جاتی ہے اور عام طور پر وہ اپنے کام کے پورے ثمرات اپنی زندگی میں نہیں دیکھ پاتی)۔ پس سب سے زیادہ ہوشمندی کی ضرورت ہوتی ہی اس وقت ہے جب کسی معاشرے کو کوئی رخ یا جہت دی جارہی ہو، کیونکہ یہ اس کی زندگی میں بہرحال ایک طویل المیعاد پراجیکٹ ہوتا ہے۔ اس میں روز روز کی توڑ پھوڑ کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔

’نظریاتی سوسائٹی‘ کے مفہوم میں ہم پیچھے یہ واضح کر آئے ہیں کہ جتنا ضروری اس کو ایک خاص جہت دی جانا ہے اتنا ہی ضروری اس کو دوسری سب جہتوں سے بے راہ کردینا بھی ہوتا ہے۔ بلکہ دوسری بات پہلی پر بھی بلحاظِ اہمیت مقدم ہے۔ یہ نفی اور یہ اثبات دراصل آمنے سامنے کے دو صفحات ہیں اور کسی نظریے کی کتاب آمنے سامنے کے ان دو صفحات کے بغیر تکمیل نہیں پاتی۔

پس جتنی دیر آپ کو اس سوسائٹی کی وہ ساخت اور وہ جہت برقرار رکھنا ہوتی ہے اتنی ہی دیر آپ پر لازم رہتا ہے کہ آپ اسے ان جہتوں سے برگشتہ کئے رکھیں جن کو مسترد کردینے کے نتیجے میں ہی اس سوسائٹی کی پیدائش ممکن ہوئی تھی۔ جونہی اس عمل میں سستی اور ناتوانی آئے سوسائٹی کی وہ ترکیب جو ایک خاص ترتیب کی ”نفی اور اثبات“ سے وجود میں آئی تھی ہوا میں تحلیل ہونا شروع ہوجائے گی اور آپ کے پاس ایک بے جان ڈھانچہ باقی رہ جائے گا۔

”نظریاتی سوسائٹی‘ کو نئی نسلوں کی پرورش بھی کرنا ہوتی ہے۔ نوواردوں کو اپنے اندر جذب بھی کرنا ہوتا ہے۔ اپنا طرزِ زندگی ممکنہ حد تک ’برآمد‘ بھی کرنا ہوتا ہے اور ’مفتوحہ‘ قوموں پر اس کے ذریعے مسلسل اثر انداز بھی ہونا ہوتا ہے۔ یہ سب اہداف تب ہی سر ہوسکتے ہیں جب وہ فکری رویے جو ایک نسل میں ختم کردیے گئے تھے ہر نسل میں ختم کئے جاتے رہیں تاکہ وہ روےے جنکا نئی نسل میں یا نوواردوں میں قائم کیا جانا مقصود ہو وہ اتنی ہی قوت سے ان کے قلب و ذہن میں راسخ ہوسکیں جس قوت اور جس دلجمعی کے ساتھ وہ پہلی نسل میں قائم کرالئے گئے تھے۔ضرور ایک قوم کی زندگی میں کچھ نئے نظریات بھی چیلنج کی صورت میں آسکتے ہیں جو اس کے بنیادی نظریات سے متصادم ہونے کے باعث ختم کردیے جانے کے قابل ہوں مگر اس کے نظریاتی تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ ان پرانے فکری رویوں کو بھی جو اول اول اس سے متصادم ہوئے تھے ذہنوں کی دنیا میں مسلسل تازہ کیا جاتا اور پھر موت کی وادی میں دھکیلا جاتا رہے۔

جو قوم اپنے فکر اور عقیدے سے متصادم نظریات کو اپنی ہر نسل کے سامنے درگور نہیں کرتی اس کی اپنی نظریاتی موت بہت جلد ہوجاتی ہے ، چاہے بطور ایک غیر نظریاتی قوم پھر وہ کتنی ہی دیر زندہ رہ لے۔ اپنے اصل شجر سے پیوستہ رہنے کی واحد صورت یہی ہے۔

اینٹ اور گارے کی دنیا میں بھی یہی ضروری ہوتا ہے کہ ایک مطلوبہ عمارت بنانے کیلئے غیر مطلوبہ عمارت گرادی جائے اور یہ کہ ’گرانے‘ کا عمل ’بنانے‘ سے پہلے ہی کیا جائے۔ البتہ ’اینٹ اور گارے‘ کی دنیا میں یہ عمل ایک ہی بار ہوتا ہے اور پھر وہ عمارت بڑی دیر تک کھڑی رہتی ہے۔ مگر ’افکار و عقائد‘ اور ’نظریات‘ کی دنیا میں یہ عمل بار بار دہرایا جانا ہوتا ہے۔ جس نسل کی زندگی میں یہ کام اپنی اسی ترتیب کے ساتھ ہونے سے رہ جائے اس نسل میں عمارت کا سارا نقشہ ہی تبدیل ہوجاتا ہے۔ اینٹ گارے کی عمارت کھڑی رہے تو کھڑی رہے، اپنی طبعی عمر پوری کرلے تو ختم ہوجائے البتہ نظریات کی عمارت ایسی ہے کہ کسی بھی لمحے اپنا نقشہ تبدیل کرلے۔ اس کی ’طبعی عمر‘ یہی ہے کہ نسل در نسل یہ ذہنوں میں تازہ اور دلوں میں زندہ رکھی جائے، جوکہ ہزاروں سال بھی ہوسکتی ہے۔ اس کی موت یہ ہے کہ یہ ذہنوں میں دھندلا جائے، چاہے لمحوں میں ایسا ہوجائے۔

چنانچہ ہر ایسے معاشرے کی، جس کو نظریاتی معاشرہ بنایا جانا ہو، یہ ضرورت ہوتی ہے کہ اس کے کچھ تاریخی موضوعات ہوں اور وہ موضوعات تو کبھی بھی نہ بدلیں ، اور نہ ہی کوئی ان موضوعات کے ذکر پر ناک بھوں چڑھائے، تاکہ اس معاشرے کا ایک تاریخی چہرہ اور ایک اصیل پہنچان ایک پورے تسلسل کے ساتھ اور اپنی اصل صورت میں برقرار رہے۔ پوری قوم کا اصل زور تو انہی موضوعات پر ہونااور رہنا چاہییے۔ پھر کچھ موضوعات بدلتے ادوار کے تقاضوں اور ضرورتوں کے حوالے سے بھی ضرور ہوں مگر ان بدلتی ضرورتوں کے حوالے سے بھی اس کے ہاں یہ انتظام ہو کہ اس کے یہ وقتی موضوعات بھی اس کے ان اصل تاریخی موضوعات سے ہی پھوٹ کر نکلیں اور اس سے ان کا ربط کسی بھی وقت روپوش نہ ہو۔ ایسا ہو تو وہ معاشرہ ایک ایسے جاندار درخت کی طرح ہوگا جس کی سب ڈالیں اور جس کے سب نئے نئے پتے اپنے اصل تنے اور اپنی پرانی شاخوں سے پھوٹ کر آتے اور اس کے پھیلاؤ کو مسلسل بڑھاتے چلے جاتے ہوں اور جس کے بڑھتے رہنے کیلئے اس کا کچھ بھی کاٹ کر ’کاٹھ کباڑ‘ کی صورت پھینکا جانا اور اس کے اندر نئی نئی ’پیوند کاری‘ ہونا ضروری نہ ہو!

البتہ یہ صلاحیت ہر عقیدے اور نظریے میں نہیں کہ اس کے سب نئے موضوعات اس کے تاریخی اور بنیادی موضوعات سے ہی جنم لیتے ہوں ، تاکہ معاشرے کی ہر دور کی فکری و مادی ضروریات بہم پہنچانے کیلئے اس کے بنیادی اصول اور نظریات نہ صرف یہ کہ ٹوٹنے نہ پائیں بلکہ اس کے یہ بنیادی اصول ہی ہر دور میں اس کی فکری اور معاشرتی نشو و نما کے کفیل ہوں ۔ یہ بات ہر نظرےے کے بس میں نہیں ہوتی البتہ ”الحنیفیۃ السمحۃ“(3) میں یہ خوبی بدرجہء اتم پائی جاتی ہے کیونکہ یہ علیم اور خبیر کی تنزیل ہے۔

بہرحال ہم دیکھتے ہیں ہمارے قرن اول کی تعمیر ہوئی تو اس کو جن زبردست فکری بنیادوں پر اٹھایا گیا تھا، بعد کی نسلوں نے انہی بنیادوں کو ہر دور اور ہر قرن میں پختہ کرایا۔ بے شک بہت سے زوردار طوفان ایسے اٹھے جو محسوس ہوتا تھا کہ اس امت کو بہا کر لے جائیں گے اور اس کے اصل دھارے سے ہٹا کر اس کو کہیں سے کہیں پہنچا دیں گے اور پہلی امتوں کی طرح اس کو بھی ایک قصہء پارینہ بنا کر رکھ دیں گے، مگر وہ طویل جنگ جو اس امت کی زندگی میں بے حد جان مار کر لڑی گئی دراصل کسی بیرونی محاذ پر نہ تھی۔ یہ جنگ درحقیقت ایک اندرونی محاذ پر رہی اور چودہ صدیاں اس ایک نقطے پر مرکوز رہی کہ اُس فکری، روحانی اور تہذیبی واقعے کو، جو اس زمین پر انسانیت کیلئے رسولوں کی چھوڑی ہوئی آخری یادگار اور اس امت کیلئے نبی آخر الزمان کی ابدی امانت اور وراثت ہے، اپنی اصل حالت پر قائم اور بحال رکھنے کا عمل یقینی بنایا جائے اور اس کی حقیقت کو دھندلانے والے ہر قسم کے نظریاتی وسماجی عوامل کے خلاف صف باندھ کر لڑا جائے۔ اس امت کو اس کی اصل بنیادوں سے باندھ کر رکھنا اور اس کے اصل تاریخی موضوعات اور خصائص کو اس کی زندگی میں زندہ و تازہ رکھنا اور ان سب جاہلی نظریات کو جنہیں آغاز میں موت کی نیند سلا کر اسلام اورتوحید کی اس حقیقت کو قائم کیا گیا تھا مسلسل موت کے گھاٹ اتارنا اور ان سب فکری رجحانات کے خلاف سینہ سپر رہنا جو ایمان اور اتباع کی اصل حقیقت پر کسی بھی دور میں حملہ آور ہوں اور نتیجے کے طور پر اس امت کی تاریخی ساخت میں کوئی ذرہ بھر تبدیلی لے آنے کے مضمرات رکھتے ہوں .... اس امت کو اور اس نبوی واقعہ کو اپنے اصل پر برقرار رکھنے کا یہ خوبصورت عمل جو نسل در نسل چلا اور ہر دور کے بہترین ائمہ و مجددین نے اس کو اپنے علم، اپنے کردار، اپنے جہاد اور حتی کہ کسی وقت اپنے لہو سے سینچا ”اہل سنت“ کے نام سے جانا گیا۔ ”سنت“ یعنی ایک چلا ہوا اور پختہ کردیا گیا راستہ جو اس امت کی ہر نسل کے چلنے کیلئے مخصوص کردیا گیا، اس وسیع تر مفہوم میں جو نماز روزہ یا کھانے پینے اور حلیہ و لباس کی چند سنتوں کے اندر محدود نہیں ۔ بلکہ جس کا دائرہ فکر و ادراک اور قلب وشعور میں سمانے والے حقائق اور تصورات اور اعتقادات سے لے کر بندگی کے سب فرائض و مستحبات تک اور ثقافت اور سماج کے رویوں اور رجحانات سے لے کر تہذیب اور اخلاق کے سب پہلوؤں اور روزمرہ زندگی کے جملہ امور تک جاتا ہے۔

چنانچہ ”تجدید“ کا عمل بڑی حد تک اس بات سے وابستہ ہے کہ اس امت کی زندگی میں ہر نئے دور کے اندر عین اسی قلبی، شعوری اور نظریاتی واقعہ کو دہرانے کا بندوبست کیا جائے جس کو اس امت کی تاسیس کے وقت وجود میں لایا گیا تھا اور اسی کیفیت کو اس کے ہاں زندہ اور تر وتازہ کردیا جائے جس کو ابتدا کے اندر اس کے قلب وذہن میں بھرا گیا تھا اور اس کے سماج میں جس کا ایک پرزور مظاہر ہ کیا گیا تھا۔ اس تجدیدی عمل کا ایک حصہ یقینا یہی تھا کہ ان موضوعات کو پھر سے امت کی زندگی میں زندہ کردیا جائے جو آغاز کے اندر اس امت کا موضوع بنے تھے۔ نہ صرف یہ، بلکہ اسلامی خطاب کا ایک ایسا لہجہ وجود میں لایا جائے کہ اپنے دور کے موضوعات کو بھی امت کے اُن تاریخی موضوعات سے ہی ایک بے ساختہ انداز میں برآمد کرایا جائے۔ پس لازم ہے کہ شرک، عبادتِ طاغوت، بدعت و ضلالت، حکمِ جاہلیت اور اتباعِ باطل اور فسق اور فجور کے خلاف اس امت کی مزاحمت کسی دور میں بھی نرم نہ پڑنے دی جائے، حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب ان مصائب کا امت کی زندگی میں قلعہ قمعہ کردیا گیا ہو۔ دورِ انحطاط میں تو یہ ضروری ہے ہی، لازم ہے کہ گمراہی کے ان سب شعارات کے خلاف امت کے دورِ عروج میں بھی اس کی کشمکش کمزور نہ ہونے دی جائے۔ یہ بات اللہ کا تقرب پانے کا یقینی ذریعہ تو ہے ہی، اور جوکہ سب سے اہم بات ہے، اس امت کو زندہ رکھنے کا بھی یقینی نسخہ ہے۔ پس شرک اور عبادتِ طاغوت اور بدعت اور جاہلیت اور باطل کو مسمار کرنے کا کام امت کے ان ادوار میں بھی نہیں رکنے کا جب شرک اور عبادتِ طاغوت اور اتباعِ باطل اور حکمِ جاہلیت ایسی کوئی مصیبت اس امت میں کہیں نام کو بھی نہ پائی جائے، یعنی جب اس امت کی زندگی میں خیر اور بلندی کا دور ہو، کیونکہ جیسا ہم نے کہا کسی امت کے ہاں اس کے تاریخی موضوعات کو ہر حال میں اور ہر دور کے اندر زندہ رہنا ہوتا ہے اور یہی اس کی زندگی کے تسلسل کا راز ہوتا ہے۔ پس جب یہ برائیاں اور یہ سب امراض امت میں کہیں نہ پائے جائیں تب بھی ان کے خلاف آواز بلند کی جانا ہے.... کجا یہ کہ شرک اور خرافات معاشرے میں عام ہوچکے ہوں اور عبادتِ طاغوت اور حکمِ جاہلیت ملک کا دستور بن گیا