|
یہ دنیا
جہاں قومیں بات بات پر بگڑ کر دکھانا اپنا پیدائشی حق
جانتی ہیں... ظالم بار بار’پوچھتے‘ ہیں:
ایک ’شخص‘ جو
چودہ صدیاں پیشتر سرزمین حجاز میں ہوگزرا ہے وہ آج کے سوا
ارب انسانوں کے لئے اتنا اہم کیوں ہے کہ اس کے معاملے میں
ایک ’چھوٹی سی‘ بات ہو جانے پر زمین کے کئی ایک براعظم
مسلم غم و غصہ کے باعث یوں تھرانے لگے ہیں!
یہ تو ان
انسانوں کی خوش نصیبی ہے جو خدا کے رسول کی توقیر کی خاطر
اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، اصل میں تو یہ خدا ہے جو بصیرت کے
اندھوں کو دکھاتا ہے کہ اس کا رسول زمین میں آج بھی کتنا
معزز ہے کہیے تو کوئی اور بھی شخص ہے جس کی ناموس کے سوال
پر زمین کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک انسانوں کے سمندر
یوں ٹھاٹھیں مارنے لگیں؟!
هُوَ الَّذِيَ
أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ(الانفال:62)”(اے
نبی)وہی تو ہے جس نے تیری مدد کی ،اپنی مدد سے ،اور مومنوں
کے ذریعے“ |