|
|
|
|
نبوتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ’موضوع بحث‘ آنے کی دیر تھی کہ عقیدہ کے کئی ایک مباحث خودبخود لوگوں کی توجہ لینے لگے ہیں ۔۔۔۔ ۔۔۔کائنات کے خالق نے انسانی دنیا کے ساتھ رابطہ و اتصال کرنے کی اگر تو کبھی ضرورت نہیں جانی پھر تو بات الگ ہے لیکن اگر کوئی چیز زمین پہ ’نازل‘ ہوئی ہے تو پھر انبیاءکے سوا اور وہ کس کے ہاں ٹٹولی جاسکتی ہے؟ لہٰذا انبیاءکے مسئلہ کو توجہ دینے میں کیا مانع ہے؟۔۔۔۔ ۔۔۔۔انبیاءکے ’وجود‘ پر تو تاریخ کے بے شمار دلائل پائے جاتے ہیں ۔ مغرب سمیت دنیا کے بیشتر معاشرے انبیاءکے تذکرہ سے ناآشنا نہیں ۔ مگر انبیاءکی ’تعلیم‘ کوتاریخ کے ملبے سے کیونکر برآمد کیا جائے، خصوصاً آج جب ہر چیز ’تحقیق‘ کے عمل سے گزرتی ہے؟ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔اس مخمصے میں پڑے انسان کو جب بھنک پڑتی ہے کہ قدیم انبیاءپر اب صرف ایک مجمل ایمان ضروری ہے البتہ انبیاءکی تعلیم تک مفصل اور مستند رسائی پیش نظر ہو تو وہ اس مصدر سے رجوع کرسکتا ہے جو آج بھی اپنی اصل شفاف حالت میں اور اپنی اسی زبان میں ہوبہو دستیاب ہے اور خودمغربی محققین کی ایک بڑی تعداد کی شہادت ہے کہ انسانی تحریف کا اس میں کوئی گزر تک نہیں ، یعنی نبوتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو آسمانی اشراق کی تلاش و مطالعہ کا ایک نیا زینہ اس انسان کے سامنے آجاتا ہے۔ مگر اس ’زینے‘ تک پہنچنے کے لئے لوگوں کو چھوڑا کیونکر جاسکتا ہے؟!البتہ سمجھداروں کو اس سے روکا بھی کیونکر جاسکتاہے؟! ۔۔۔۔ ۔۔۔۔یاتو یہ کہہ دیں کہ خدا نے انسان کی ہدایت کے لئے آج تک کوئی نبی بھیجا ہی نہیں اور نہ ہی کبھی کوئی کتاب اتاری ہے۔ پھر اس صورت میں بائبل کی ترسیل کے دیوہیکل منصوبے بھی لپیٹ کر رکھ دیں اور عہد قدیم کے انبیاء کی بھی اسی طرح ڈٹ کر مخالفت کریں جس طرح یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خدا واسطے کا بیر رکھے ہوئے ہیں بلکہ عہد جدید کے بھی وہ حصے جن میں ’تلوار‘ کا ذکر ہے خصوصا ’یسوع‘ کی آمدِ دوئم کے حوالے سے.. ’یسوع‘ کو اور اس کے کلام کو بھی اسی صف میں کھڑا کریں اور سب پر ایمان کے لئے ایک سا ’علمی معیار‘ بنائیں ۔۔۔۔ اور اگر ایسا ممکن نہیں تو پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جانے والے عقل اور دلیل کے ان سب راستوں میں یہ کیونکر اور کب تک جم کر بیٹھ سکتے ہیں ؟ انبیاءکا آنا اگر سچ ہے تو پھر ایک اسی نبی کا ہی انکار کیوں جس کی نبوت کے دلائل سب سے مضبوط ہیں اور جس کی زندگی کے حالات اور جس کی تعلیمات مستند ترین صورت میں آج کے انسان کو سب سے زیادہ اور سب سے وافر اور سب سے روشن صورت دستیاب ہیں اور جس کا انسانی زندگی پر کسی بھی انسان سے بڑھ کر اثر انداز ہونا تاریخ کا ایک واضح معلوم محسوس واقعہ ہے؟؟؟ کسی مستشرق نے کیا سچ کہا ہے کہ محمد ہی ایک وہ نبی ہے جو تاریخ کے نصف النہار میں پیدا ہوا اور سورج کی روشنی میں دیکھا گیا! پچھلے نبیوں کے تو حالات ہی مستند طور پرآج دستیاب نہیں ۔ ******** ’ایمان‘ کے لئے کسی دور میں انسانوں پر خدا اتنے ہی دلائل آشکار کرتا ہے جتنے کسی سچائی کے متلاشی کے لئے معقول حد تک ضروری ہوں ۔ خواہ یہ خدا کی ذات پر ایمان کا معاملہ ہو، خواہ اس کی کتابوں پر، خواہ اس کے نبیوں پر اور خواہ یوم آخرت پر۔ خدا کے فرشتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کا تقاضا کیا گیا۔آخرت پر ایمان کے لئے قبروں سے مردوں کے زندہ اٹھ کھڑے ہونے کی شرط لگائی گئی۔ ہتھیلی پہ سرسوں جما دینے کے نبیوں سے تو ہزار انداز میں مطالبے کئے گئے مگر خدا کا انسانوں سے ایمان بالغیب کا مطالبہ خدا کی اپنی شروط پر ہی برقرار ہا۔ ایک بڑی خلقت ’دستیاب دلائل‘ سے مدد لے کر ایمان لائی ہوں اس کیلئے روشنی کی اتنی مقدار جو خدا نے زمین پر اشیا نظر آنے کیلئے متعین کر دی تھی خدا اور اس کے نبیوں تک پہنچ پانے کیلئے کافی ہوئی جبکہ ایک بڑی خلقت پر عذاب کی بات سچ ثابت ہوئی اور وہ ’زیادہ واضح‘ دلیل کا تقاضا کرتے کرتے جہنم کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے جا پہنچے۔ پس غیبیات کو اپنی آنکھوں سے دیکھے بغیر کوئی اگر ’ایمان‘ لانے پر آمادہ نہیں وہ تو پھر ’انتظار‘ ہی کرے۔ کیونکہ ایسا کوئی منصوبہ جس میں یہ شرط پوری ہو یہاں خدا کے اس جہان میں بالفعل نہیں پایا جاتا۔ ایسا شخص ’ایمان‘ کے بغیر ہی یہاں سے سدھار جانے پر اگر بضد ہے یا پھر وہ ’ایمان‘ لانے کیلئے اگلے جہان کے برپا ہونے کا ہی منتظر ہے تو زندگی میں اسے اس بات کا اختیار ہے۔ چاہے تو بخوشی ’خطرہ‘ مول لے ۔۔۔۔ لیکن بات اگر ’دستیاب دلائل‘ کے ذریعے ایمان لانے کی ہے.. یعنی کوئی شخص اپنی شروط کی بجائے خدا کی شروط پر ایمان لانے میں مخلص ہے .. تو یہاں البتہ اسلام کا کھلا چیلنج ہے: کسی انسان کی نبوت کو جانچنے کیلئے کوئی بھی معقول معیار ٹھہرا لیجئے پھر اس پر اگلے پچھلے سب انسانوں کو جن کا دعوائے نبوت ہم تک پہنچا ہے ایک موضوعی Objective انداز میں پرکھیے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور آپ کی نبوت کے دلائل اور آپ کی چھوڑی ہوئی تعلیم ایسے ہر معیار پر سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر پورا اترے گی۔ بلکہ آج کے اس دور میں صرف ایک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ہی اپنے دلائل اور شواہد اور ثبوت کے لحاظ سے اس پر پورا اترے گی۔ دُنیا کا کوئی انصاف پسند آپ سے پہلے نبیوں پر ایمان لائے گا تو صرف اور صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت سے اور آپ کی لائی ہوئی تعلیم پڑھ کر۔ پس اگر کوئی چیز پچھلے انبیاءکو بھی (معاذ اللہ) دیومالائی کردار بنا کر پیش کرنے کے بجائے (جیسا کہ اہل کتاب کے ہاں پائی جانے والی تعلیمات سے عیاں ہے) تاریخ کا ایک حقیقی یقینی واقعہ اور ایک نارمل طبعی وقوعہ ثابت کر سکتی ہے تو وہ سب سے پہلے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کے بغیر انبیاءکی پوری تاریخ ہی دھندلی ہو جاتی ہے۔ انسانیت اتنے بڑے خسارے کی بھلا کب متحمل ہے؟؟؟ شام کے ایک مصنف نے حال ہی میں مغرب کے کچھ اہم اہم نومسلم مفکروں کے قبول اسلام کے تجربات ایک کتاب میں قلم بند کئے ہیں جس کا عنوان بہت خوبصورت رکھا ہے: ربحتُ محمداً (صلی اللہ علیہ وسلم) ولم اخسر المسیح علیہ السلام یعنی”میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا مگر مسیح علیہ السلام کو بھی نہ کھویا“ یہ بات بے انتہا سچ ہے۔ یہ نبی پچھلی نبوتوں کی توثیق کرنے آیا ہے اور پہلے سے پائی جانے والی اعلیٰ قدروں اور بلند رویوں کی تکمیل۔ یہاں ’کھونے‘ کے لئے کچھ ہے ہی نہیں ۔سب کچھ البتہ ’پایا‘ جاسکتا ہے۔ ایک خیرِ وافر ہے۔ حتی کہ وہ حق جو ان کے ہاں پایا جاتا ہے مگر اس پر یقین اور وثوق کے شواہد اب ان کے پاس ناپید ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہ آکر ان کو وہ بھی مل جاتا ہے۔ خود ان کے گھروں کی روشنی اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مرہون منت ہے۔ روشنی کا منبع جہان میں ایک ہی تو رہ گیا ہے اس کو چھوڑ کر یہ کہاں جائیں گے؟ فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ لِمَن شَاء مِنكُمْ أَن يَسْتَقِيمَ وَمَا تَشَاؤُونَ إِلَّا أَن يَشَاء اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ (التکویر:29۔26) ”پھر تم کہاں جارہے ہو۔سب جہانوں کے لئے یہ نصیحت نامہ تو ہے۔ ہر شخص کے لئے ہے جو سیدھی راہ پالیناچاہے۔ اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے“ بعثت انبیاءکا واقعہ دنیا میں واقعی اگر کبھی ہوا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ان انبیاءمیں سے ایک ہونا کسی ’علمی معیار‘ کی رو سے (معاذاللہ) اگر ’پایہءثبوت‘ کو نہیں پہنچتا تو کون ہے جس کی نبوت پھر ’پایہءثبوت‘ کوپہنچتی ہے؟؟؟ کسی ایک نام کی پھر’نشان دہی‘ تو ہو!!! یہ نہیں پھر تو گھپ اندھیرا ہے! اور یہ تو خدا کے ساتھ ہی بدگمانی ہے: وَمَا قَدَرُواْ اللّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِذْ قَالُواْ مَا أَنزَلَ اللّهُ عَلَى بَشَرٍ مِّن شَيْءٍ (الانعام:92) ”اور ان لوگوں نے خدا کی کوئی قدر ہی نہ لگائی، جیسی اس کی قدر کرنا واجب تھی، جب یہ کہنے لگے کہ خدا نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا۔“ اب تو اگر روشنی ہوگی تو وہ صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دم سے ہوگی۔ اس کے سوا کوئی روشنی بالفعل یہاں آج زمین پر دستیاب نہیں ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔چنانچہ وہ مسکین جو خود اپنے ہاں پائے جانے والے مسلمات کا ثبوت دینے سے آج بری طرح عاجز ہیں اور اپنے لوگوں کو محض ’دھونس‘ کے ساتھ اُن پر ایمان دلواتے ہیں بلکہ ’ایمان‘ کی شرط ہی یہ ٹھہراتے ہیں کہ اس پر ’دلیل‘ اور ’ثبوت‘ کا مطالبہ ہی نہ کیا جائے، یعنی نرادھکہ.. یہ ظالم آج نبوتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ’ابطال‘ پر ’دلائل‘ لانے کا زعم رکھتے ہیں ! سمجھتے ہیں آپ کی شخصیت کی بابت کہی گئی کوئی نہ کوئی غلط سلط اوٹ پٹانگ بات تو ضرور ہی اثر دکھائے گی۔ مگر یہ واقعہ کہ کچھ متنفر کر دینے والی باتیں بھی ایک نبی کے حوالے سے کہنے والوں نے کہی ہیں نہ تو اس کی نبوت کو رد کر دینے کیلئے ازخود کوئی بنیاد ہیں اور نہ اس کی نبوت کے حق میں پائے جانے والے بے شمار دلائل اور شواہد سے آنکھیں بند کر لینے کیلئے حجت۔ خود مسیح علیہ السلام کی مثال ہی کس سے روپوش ہے؟ مسیح علیہ السلام کی ایک پیدائش ہی جہاں ایمان والوں کیلئے ایک معجزہ ہے وہاں اہل کفر اور اہل نفاق کیلئے ہلاکت میں جا پڑنے کا ذریعہ۔ ایک غیر مسلم اور غیر عیسائی شخص اگر معجزات پر پیشگی ایمان نہیں رکھتا یا خاص اس معجزے پر ایمان نہیں لاتا تو وہ نصاری یا اہل اسلام سے پیدائشِ مسیح علیہ السلام کی کہانی سن کر کیا کیا کفر نہیں بک سکتا؟ بلکہ بکنے والوں نے مسیح علیہ السلام اور مریم العذرءالبتول کی بابت کیا یہ کفر بکا نہیں ہے؟ وقولھم علی مریم بھتانا عظیما۔ بلکہ صورتحال تو اس وقت تصورکرنے کی ہے اگر وہ شخص پیدائش مسیح علیہ السلام کی کہانی سنتا ہی مسیح علیہ السلام کے کسی دشمن سے ہے۔ ایسا شخص مسیح علیہ السلام کی بابت کیسی کیسی گمراہی میں نہیں ’پڑ‘ سکتا؟مگر خدا نے مسیح علیہ السلام کو ایک پاکدامن کنواری دوشیزہ کے بطن سے جنم دلوانے کا جب فیصلہ کیا تو کیا اُس سے (معاذ اللہ) یہ روپوش رہا کہ بعد ازں کچھ بدبخت اُس کے اِس برگزیدہ نبی کے واقعہء پیدائش میں اپنے لئے ایسے ایسے کفر کی گنجائش پائیں گے؟ لیکن خدا نے اگر مسیح علیہ السلام کی نبوت کے کافی شواہد اس کے اپنے زمانے کے لوگوں کیلئے، خصوصاً بنی اسرائیل کیلئے، ظاہر کر دیے تھے اور پھر اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے نبوتِ مسیح علیہ السلام کی توثیق کرادی ہے اور پیدائشِ مسیح علیہ السلام کی حقیقت بھی اپنے آخری نبی کی زبانی بیان کروادی ہے تو اس کو اب پھر کیا پرواہ کہ کوئی اس میں اپنے لئے گمراہی کا کیا کیا سامان پاتا ہے۔ بلکہ یہ بھی اس کی منشا ہے اور اس حقیقت سے مسیح علیہ السلام پرایمان کا دعویٰ کرنے والے تو بخوبی ہی واقف ہیں ۔ یہ ہتھکنڈے جو یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت برتتے ہیں جب مسیح علیہ السلامکی بابت برتے گئے تھے یا اگر مسیح علیہ السلام کی بابت آج برتے جاتے ہیں تو اس پر یہ کیا موقف رکھیں گے؟ ************ یہ خود جانتے ہیں انبیا دُنیا میں بت تڑوانے آئے تھے اور خدا کی بندگی کروانے اور اس کی عظمت کے ڈنکے بجوانے اور اس کے ہاں سے نازل ہونے والی علمی و اخلاقی بلند قدروں کو معاشروں میں قائم کرنے۔ ’عہد قدیم‘ کے سب انبیاءاس مشن پہ گامزن رہے مگر سرگرمی کے لحاظ سے ایک محدود دائرے سے آگے نہ بڑھ سکے، حتی کہ وہ محدود سے خطے بھی، جہاں یہ انبیاء پائے گئے، کچھ بہت زیادہ بتکدوں سے پاک نہ ہو سکے۔ بعد ازاں نصرانیت میں تو موحد عنصر ہمیشہ آٹے میں نمک کے برابر رہا اور اگر رومن ایمپائر کی نسبت نصرانیت سے کسی نہ کسی معنی میں مان لی جائے تو بھی وہ اپنی تمام تر شان و شوکت کے باوجود اور اپنا پورا زور لگا کر بھی پڑوس کی ایک آتش پرست ساسانی ریاست کو ہی ختم نہ کر سکی۔ گویا بت خانوں سے بھری یہ دُنیا اور شرک میں ڈوبا ہوا یہ سارا جہان اس انتظار میں پڑا تھا کہ دُنیا میں خدا کا وہ آخری نبی آئے اور پھر صدیوں کے فاصلے لمحوں میں طے ہونے لگیں ۔ اس نبی سے خدا کی آیات پڑھ پڑھ کر اور اس کے ہاتھوں اپنے قلب وذہن اور فکر وعمل کی کایا پلٹ کروا کر خدا پرست انسانوں کی ’جماعتیں ‘ زمین میں ہر سو نکلتی ہیں اور ملکوں کے ملک پھر ان کو یوں راستہ دیتے ہیں گویا مزاحمت جانتے تک نہیں ۔ خود وہ دونوں ’بڑی طاقتیں ‘ جو صدیوں سے ایک دوسرے کو گرانے میں لگی ہوئی تھیں اس کے آگے دھڑام دھڑام گرتی ہیں اور اس کی فوجیں ان سے گزر کر افغانستان، وسط ایشیا، چین اور ہندوستان تک بت خانے گرانے جاتی ہیں اور یورپ اور افریقہ تک خدا کا نام بلند کرکے آتی ہیں ۔ قومیں دنوں میں اس کے گیت گانے لگتی ہیں اور دل سے اس کی مفتوح ہوتی ہیں ۔ عین وہی مشن جو انبیاءکا تھا مگرضعیفی اور گوشہ نشینی کے ایام سے گزرتا تھا اب اس کی افواج کے ذریعے پورے طمطراق کے ساتھ براعظموں پر سلطنت کرنے لگتا ہے۔ خدا کی عظمت اور وحدانیت کے ڈنکے زمین کے اندر جو اس اُمت کے ہاتھوں بجوائے جاتے ہیں اس کی کوئی مثال پیش کی ہی نہیں جا سکتی۔ اعلیٰ وبلند قدریں اس اُمت کے ہاتھوں دُنیا میں یوں قائم ہوتی ہیں کہ بعد کی تمام تر تہذیبی ترقی (تہذیبی فساد کو نفی کرتے ہوئے) اسی کی مرہون منت ہے۔ مشن وہی نبیوں کا مشن ہے مگر حصول مقاصد کی عجب انتہا ہے! نبوت محمد کے اس سارے واقعے کی تفسیر یہ لوگ اب کیا کریں ؟ اتنا بڑا سورج!!!!
کہہ دیں کہ دن چڑھ آیا ہے تو پھر رات ختم۔ اور (پہلے نبیوں پر سوائے
مجمل ایمان) ’تاروں ‘ سے راہ پانے کا دور تمام۔ اور اگر کہیں کہ ابھی
نہیں چڑھا ہے تو لوگ اس ”سورج‘ ‘کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پھر یہ کیا
ہے جس کی روشنی ہے وہی جو ’تاروں ‘ کی تھی مگر ہے اتنی زیادہ کہ زمین کے
سب افق روشن ہیں
!
سبحان اللہ! قرآن نے کوئی بات ذکر کئے بغیر چھوڑی کب ہے۔ تفاسیر میں مذکور ولید بن المغیررضی
اللہ تعالی عنہ کا نام ذرا دیر ذہن میں نہ لائیے ۔۔۔۔ گویا یہ
کتابوں سے لدی میز پر بیٹھے ہوئے ایک استشراقی ’محقق‘ کی تصویر ہے جو
نبوتِ محمد کے ’بطلان‘ پر کوئی بہت ہی ’معقول‘ دلیل لانا چاہ رہا ہے
اور ایک کے بعد ایک سوچ ترک کرتا اور پیچ وتاب کھاتا جا رہا ہے اور
بالآخر کوئی گھسی پٹی بات ہی کر پاتا ہے:
”اس نے سوچا اور اندازے دوڑائے۔ تو خدا کی مار اس پر، کیسے اندازے
دوڑائے۔ ہاں خدا کی مار اس پر، کیسے اندازے دوڑائے۔ پھر نظر اٹھا کر
دیکھا۔ پھر پیشانی میں سلوٹیں ڈالیں اور منہ بنایا۔ پھر پلٹا اور گھمنڈ
میں آیا۔ آخرکار بولا یہ تو صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے۔ سوائے
انسانی کلام کے کچھ بھی نہیں
“ ’بے چارگی‘ اس نبی کے منکروں کے حصے میں تب آئی تھی اور ’بے چارگی‘ ہی ان کے حصے میں آج آرہی ہے۔ یہ بات معاذ اللہ گویا یہ خدا سے پوچھ آئے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول نہیں لہٰذا یہ ایک بات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سوچی ہی نہیں جا سکتی! باقی کوئی بات سوچے بغیر چھوڑی نہیں گئی ! یہ سوال جوں کا توں برقرار ہے کہ خدا نے دُنیا میں اگر کوئی رسول بھیجا ہے تو وہ دوسرے کیوں ہو سکتے ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیوں نہیں ہو سکتے؟؟؟! نبوتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں خدا کی ایک عجیب سنت دیکھی گئی ہے: اس کی مخالفت کے معاملے میں کسی قوم کے دانش ور سب سے زیادہ محتاط نظر آئیں گے اور اس کے اوباش سب سے جری، مکہ اور طائف کی بات ہو یا اٹلی اور ڈنمارک کی! ٭٭٭٭٭ |