سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ اپریل 2008

توضیح مفہومات

Download in PDF forma


تفہیم آیت

و منہم سابق بالخیرات باذن اللہ

سلمان العودۃ
انتخاب و اردو استفادہ: عائشہ جاوید

”پھر ہم نے اس کتاب کا وارث بنا دیا ان لوگوں کو جنہیں ہم نے(اس وراثت کیلئے)اپنے بندوں میں سے چن لیا۔اب کوئی تو ان میں سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے اور کوئی بیچ کی راس ہے،اور کوئی اللہ کے ا ذن سے نیکیوں میں سبقت کرنے والا ہے،یہی بہت بڑا فضل ہےہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن میں یہ لوگ داخل ہونگے۔وہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیا جائے گا، وہاں انکا لباس ریشم ہو گااور وہ کہیں گے کہ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہم سے اس غم کو دور کیا۔یقینا ہمارا رب معاف فرمانے والا اور قدر فرمانے والا ہے“ (فاطر:24۔23)

ملاحظہ کیجیے خالقِ کائنات کی زبانی اہل ایمان انسانوں کی اقسام
- معبودِ حقیقی کے حضور معصیت کا ارتکاب کرلینے والے لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے لوگ
- بیچ راہ کے مسافر لوگ جو معر کہءصدق و صفا اور کذب وخطا میں کبھی ایک طرف جھکتے رہے تو کبھی دوسری طرف
- عباد الرحمن اس ذات کی بارگاہ میں حضوری دینے و الے جن کی جبینوں پرسجدوں کے اثر سے نشان ثبت ہو گئے ، اپنا سب کچھ ا سکی راہ میں قربان کرنے کو سب سے بڑی سعادت تصور کرنے والے ’چنے ہوئے لوگ‘جنہیں انکے رب نے شرف ِانتخاب بخشا دیانیکیوں کی دوڑ میں بازی لیجانے والے خوش نصیبدنیا کے بدلے جنت کا سودا کرنے والے لوگجو اپنے رب سے راضی اور انکا رب ان سے را ضی سبحان اللہ کیا ہی بلند بخت لوگ ہیں یہ !
اس آیت ِمبارکہ کی سب سے قابلِ ذکر بشارت رب کی بارگاہ سے اکرام کی انتہاہر غم ، ہر پریشانی سے بر اءت اور یہ خوشخبری وہ دے رہا ہے جس سے بڑھ کر سچی بات کسی اور کی نہیں بنی نوع انسان کا کوئی بندہ بشر خواہ وہ دنیاوی اعتبار سے کسی بھی مرتبے پر پہنچ جائے، شہر ت کی بلندیوں کو چھو لے،بے حساب دولت کا انبار لگا لے،ہر محاذِ زندگی پر کامیابیں بظاہر اسکے قدم چومتی نظر آئیں کسی نہ کسی موڑ پر رنج و غم سے آشنا ضرور ہوتا ہے بلکہ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات دنیاوی نمود و نمائش اور جاہ و جلال ہی اسکے لیے وبال و فتنہ کا باعث بن جاتا ہے
حدیث ِجبرئیل میں بھی جہاں جبرئیل علیہ السلام اعرابی کے روپ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسلام، ایمان اور احسان کی حقیقت دریافت کرتے نظر آتے ہیں ،وہاں اہل ایمان کے تین درجات آشکار ہوتے ہیں گویا اس آیت اور حدیث میں ایک منفردمطابقت پائی جاتی ہے۔یہاں بھی تین گروہوں کی نشاندہی کر دی گئی۔ایک وہ جو دائرہ اسلام میں رہتے ہوئے فرائض کی انجام دہی میں گو کہ حتی الامکان غفلت نہیں برتتے مگر ان سے گناہ سر زد ہو جاتے ہیں ، عمل با لجوارح تو نظر آتا ہے مگر گناہوں سے فرار کی وہ طلب نہیں جو مومن کی شایان ِشان ہوپھر وہ طبقہ جو اس سے کچھ قدم آگے ایمان پر فائز ہے، یہ درجہ بندی کے اعتبار سے تصدیق بالقلب کے زمرے میں آ جاتا ہے جب انسان خو د اپنے دل کو حق کی گواہی پر آمادہ پاتا ہے یہ وہ مقام ہے جہاں وحی کا نور اسکے دل کو منور، اسکے وجود کو معطر اور اسکے ذہن کو روشن کر دیتا ہے، گناہ کا تصور بھی احاطہ ¿ خیال سے دامن بچاتا محسوس ہوتا ہے کہ اس دل میں کائنات کی سب سے بڑی سچائی راہ پا چکی ہوتی ہے۔اسی بات کو صادق الامین نے نہایت حسین پیرائے میں بیان کر تے ہوئے فرمایا کہ ایمان کی حالت میں انسان زنا کا مرتکب نہیں ہوسکتا(صحیحین) اور پھر اسکے بعد احسان کا درجہ آتا ہےشرح ِصدر کا وہ عالی مقام ، وہ معراج کہ جسکی رفعتوں کے پانے کی تمنا ہر مومن کے دل میں مچلتی ہےنیکیوں میں سبقت پا کر رب کو راضی کر لینے کی تمنا
ہم میں سے ہر شخص بلا ریب کبھی ’حالتِ اسلام‘ میں ہوتا ہے، کبھی ’حالتِ ایمان‘ میں اور کبھی ’حالتِ احسان‘ میں اور آخر ایسا کیوں نہ ہو جبکہ خیر البشرصلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرما دی کہ ©ابن آدم کا دل جوش مارتے پانی سے زیادہ طغیانی کی کیفیت سے دوچار رہتا ہے(مسند احمد) یہی وجہ ہے کہ اسکی حالت سدا ایک سی نہیں رہتی
یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ تمام انسا ن فہم و فراست کے اعتبار سے یکساں صلاحیت رکھتے ہوں یا یہ امید کہ ان کے دلوں میں حبِ الہی کا دیپ یکدم اس انداز سے جل اٹھے کہ اسکی تمازت انکی روح کو ہر آلائش سے پاک کر کے عبدیت کے مقام ِکمال تک پہنچا دے یا یہ خیال کہ وہ بلاچون و چرا دین کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے عمل کا بھرپور نمونہ اختیار کر لیں ،دعوت الی اللہ میں عجلت پسندی اور جلد بازی کی یہ ذہنیت دراصل عوام الناس کو متنفر کرنے کا سبب بنتی ہے نہ کہ اللہ کی راہ کیطرف مائل کرنے کیاصحاب رسول تک کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ ایمان کے اعتبار سے یکسں تھے پھر عام انسانوں کے بارے میں چہ خیال است؟
اس حوالے سے شاہراہ دعوت دین کے کارکنان کے کندھوں پرپیام الہی کو مخلوق خدا تک پہنچانے کا فریضہ درحقیقت ایک نہایت بار عظیم ہے زمین پر نیابتِ الہی کو اٹھانے کا معاملہ پیش ہوا یہ بار پہاڑوں کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے معذوری ظاہرکر دی، ابن ِآدم نے حامی تو بھر لی مگر جب اس ذمہ داری کا حق ادا کر نے کا معاملہ درپیش ہوا توداعیان حق نے خود کو ایک عجیب صورتحال سے دو چار پایالوگوں کو سمعنا و اطعناکی منزل تک فی الفور پہنچانے کا بیڑہ دل میں لیے ان احباب کی نیت پر ہمیں کوئی شبہ نہیں تاہم یہ توقع رکھنا کہ مطلوبہ نتائج پلک جھپکنے میں ظاہر ہوں ،دنیائے فکر و تحریک میں یقینا ایک بہت بنیادی غلط فہمی ہے
ہمارا مقصد دلوں کی دنیا کو مسخر کرنا ہے تو اسکے لیے ضبط و حوصلہ شرط ہےہر صاحب ِ شریعت کی سعی وجہد اور ہر دور کے مجدد کی تحریکی کاوشوں کا مطالعہ کریں تو یہی نتیجہ اخذ کریں گے کہ صبر وثبات کیساتھ اعلائے کلمتہ اللہ کیلئے راہیں ہموار کی گئیں اللہ کی سنت بھی کبھی تبدیل ہوئی ہے بھلا؟ تاریخ گواہ ہے کہ راستے کی رکاوٹوں کے سامنے خندہ پیشانی اور ثابت قدمی کا دامن تھامے رکھنے والے اصحاب ِخیر گوہر ِ مقصود کو پا سکےمولائے کل کا کرم شاملِ حال ہوااور چار دانگ عالم میں خدائے بزرگ و برتر کی وحدانیت کا بول بالا ہوا
داعیانِ حق کی جانب سے ایسی لغزش جس کے تحت وہ عدم تحمل کا ثبوت دیتے ہوئے حالات کی نزاکت کو پیش نظرنہ رکھیں ،اورعوام کو دین کی اصل خوبصورتی اور بنیادی تعلیمات سے روشناس کروانے کی بجائے فقہی مسائل میں الجھائے رکھیں راہ ِخدا میں کی گئی تمام جہد کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا دیتی ہے۔ہمارے پاس زندگی کی مہلت کم ہے اور کرنے کا کام بہت زیادہ یہ بات فراموش نہ ہونے پائے کہ آج ’یوم الدِین‘ نہیں اور ہم مختارِ جزا و سزا نہیں اس لئے کردار کشی ہمارا ہدف ہے اور نہ ہی لوگوں کی بابت رائے دہی ہم سے مطلوبہمارا کام توبس رب کے عاجز بندے ہوتے ہوئے اس پیغام کو نبوی خطوط پرآگے پہنچا دینا ہےاس راہ میں وہ عاجزی اور منکسر المزاجی ہمارا شعار ہو جو رحمن و رحیم رب کو بہت محبوب ہےاس نے تقوی کو عزت کا معیار قرار دیا ہے جو کہ دل کی کیفیت کا نام ہےیہ اور بات ہے کہ اسکا اظہار ہمارے اقوال و افعال سے کسی حد تک عیں ہو جائے مگرجب خوداللہ سبحانہ و تعالی نے باطن کی دنیا کوہی معیارٹھہرا دیا توپھر ہم ظاہر کو پرکھ کرکسی کے بارے میں رائے قائم کرنے والے کون ہوتے ہیں ؟
ہماری ترجیحات کا دائرہ کار ایمانیات اور تقرب الی اللہ کے مسلمہ اصول ہوں نہ کہ وہ فروعی مسائل جو ایک سادہ لوح مسلمان کے ذہن میں اتنی گتھیں چھوڑ جائیں کہ دین کی حقانیت کا تہہ ِدل تک پہنچنا دشوار ہو جائے اس بات سے ہمیں انکار نہیں کہ خوب سے خوب تر کی جستجو میں لگے رہنا چاہیے لیکن یہ خیا ل رہے کہ ایسا کرنے میں ہم معاشرے میں فرقہ واریت، عصبیت یاپھر دلوں میں نفرتوں اور کدورتوں کو ہوا نہ دیں کہ اصلاحِ معاشرہ کیلئے کیجانی والی کوشش میں ایک غلط قدم کے نتیجہ میں رونما ہونے والا خلفشارقوموں کی زندگی میں بعض اوقات اس فتنے سے کئی درجہ گرں تر ہوتا ہے جس کو رفع کرناہی اصلا ہدف تھا!
رہی اللہ کی رحمت تووہ تو بحرِ بیکرں کی مانند ہے جو ہماری محدود سوچ سے کہیں بالا تر ہےاسکی رحمت سے کیا بعید کہ کسی کو محض صدقہ میں دی گئی ایک صاع کھجور کے بدلے بخش دے،کسی جانور کو پانی پلانے پر اسکی رحیمیت جوش میں آ جائے،خشیتِ الہی کے باعث آنکھ سے ٹپکا ہوا ایک آنسو نارِ جہنم سے نجات دلانے کا پروانہ ٹھہرے، دل کی سیاہی پر ندامت کے آنسو بہا دینے والے کیلئے اسکا دامن ِ رحمت جائے پناہ بن جائے ،وہ چاہے تو خلوصِ نیت پرہی اجر کے کھاتے کھول دےاس لیے کہ وہ بے نیازرب ہے!
بعینہ یہ بھی ممکن ہے کہ جسکی پرہیزگاری اورزہد کے دنیا والوں میں چرچے ہوں ،اسکے دل میں احساسِ برتری یا ایک رائی کے دانے کے برابر تکبراسکو جنت کی پرنور راہوں سے کوسوں دور کر دے،کسی کا دل دکھا نے پر اللہ کے غضب کو للکار کر اسکے عتاب کا نشانہ بنے،فرعونیت کے زعم میں مخلوق اللہ پر زمین تنگ کر کے اللہ کی گرفت کا مستحق قرار پائےاگرچہ ایک عالم اسکے ظاہر کو دیکھتے ہوئے اسکی پارسائی کا معترف ہو!
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری خطاؤں کے بالمقابل اللہ کی رحمت وسیع تر ہے۔اسی حقیقت پر حدیث رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی دلالت کافی ہے کہ اگراللہ زمینوں اور آسمانوں کی تمام مخلوقات کو عذاب دینا چاہے تو وہ ایسا کرنے میں حق بجانب ہے اور اگر وہ رحمت کا معاملہ کرنا چاہے تو اسکی رحمت انکے اعمال کی خوبیوں سے کہیں وسیع تر ہے( سنن ابی داؤد)
 

٭٭٭٭٭