|
|
|
|
سفینہء نجات
خوب جان لو __ خدا تم پر رحمت کئے رکھے __ کہ جو شخص نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو حجت ماننے سے منکر ہے، چاہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث آپ کا قول ہو یا آپ کا فعل، جبکہ وہ اصولِ حدیث کی معروف شروط پر پورا اترتی ہو، تو ایسا شخص کفر کا مرتکب ہے اور اسلام کے دائرے سے باہر، پھر وہ یہود میں شمار ہو یا نصاریٰ میں یا خدا اس کو کافروں کے کسی اور گروہ سے کرنا چاہے، تو اس کی مرضی۔ امام شافعی نے ایک بار ایک حدیث روایت فرمائی، اور آخر میں کہا: یہ حدیث صحیح ہے۔ تب مجلس میں ایک شخص آپ رحمۃ اللہ علیہ کو ادب کے ساتھ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی کنیت سے مخاطب کرتے ہوئے پوچھنے لگا: ابو عبد اللہ! اور کیا آپ بھی یہی بات کہتے ہیں ؟ امام شافعی ہل کر رہ گئے۔ فرمایا: ”ابے او شخص! کیا میں تم کو عیسائی نظر آتا ہوں ؟ کیا تم نے مجھے ابھی ابھی گرجا سے نکلتے دیکھا ہے؟ کیا تم نے میری کمر میں (عیسائیوں والا) زنار بندھا ہوا دیکھا ہے؟ یعنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بیان کروں گا اور خود اس کا قائل نہیں ہوں گا“؟؟؟ اس فاسد رائے کی جڑیں دراصل زنادقہ اور غالی رافضہ سے ملتی ہیں جوکہ سنت کو حجت ماننے کے منکر ہیں اور صرف قرآن پر اقتصار کرتے ہیں .... امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ”الرسالۃ“ میں کہتے ہیں ، جس کو پھر بیہقی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ”المدخل“ میں بھی نقل کرتے ہیں : یقینا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اپنے دین، اپنے احکامات اور اپنی کتاب کے معاملہ میں وہ خاص حیثیت دے رکھی ہے جوکہ اس نے خود ہی بیان کردی ہے، کہ اس کا رسول اس کے دین کے معاملہ میں ہدایت کی نشاندہی کا راستہ ہے، اس بنا پر کہ اس کی ہر ہر بات ماننا اور اس کی روکی ہوئی ہر ہر بات سے رکنا لوگوں پر اس نے فرض ٹھہرا دیا۔ پھر اس کی وہ فضیلت بھی واضح کردی کہ اس کے رسول پر ایمان خود اس پر ایمان کے ساتھ جڑا ہوا ذکر ہوگا، پس فرمایا: فآمنوا باللہ ورسولہ ”پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر“ (التغابن:8) اور فرمایا: انما المؤمنون الذین آمنوا باللہ ورسولہ ”مومن تو بس وہ ہیں جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسول پر“ (الحجرات: 15)۔ چنانچہ اس نے ایمان کا آغاز ہی اپنی ذات پر ایمان سے کیا اور پھر اپنے رسول پر ایمان سے۔ ”اللہ پر ایمان“ اور ”رسول پر ایمان“ ہوجائے تو باقی ارکانِ ایمان خود بخود ساتھ آتے ہیں ۔ ”اللہ نے انسانوں پر اتباع فرض کردی اپنی وحی کی اور اپنے رسول کی سنن کی۔ فرمایا: لَقَدْ مَنَّ اللّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَة وَإِن كَانُواْ مِن قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُّبِينٍ ”اللہ نے یقینا احسان کیا مومنوں پر جب بھیجا ان میں ایک رسول انہی میں سے،جوکہ پڑھتا ہے ان پر آیتیں اُس کی، اور سنوارتا ہے ان کو خوب، او رسکھاتا ہے ان کو کتاب اور حکمت۔ یقینا تھے وہ اس سے پہلے کھلی ضلالت میں “ اور اس کے علاوہ اس معنیٰ کی کئی آیتیں نازل فرمائیں جن میں ’کتاب‘ اور ’حکمت‘ ہر دو کا ذکر کیا۔ شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
چنانچہ اللہ نے (اس آیت میں ) ”کتاب“ کا ذکر کیا جوکہ قرآن ہوا، مگر اس
کے ساتھ ”حکمت“ کا ذکر کیا۔ میں (شافعی رحمۃ اللہ علیہ) ان بزرگانِ علم
سے، کہ جن کے علمِ قرآن پر میں پورا وثوق رکھتا ہوں ، (اس کی تفسیر
بابت) سن چکا ہوں کہ یہاں ”حکمت“ سے مراد ہے سنتِ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم“ سنت سے اگر حجت ثابت نہ ہونی ہوتی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبہ میں حاضرین کو ان کے امورِ دین کی تعلیم دے کر اختتام میں یہ نہ کہتے کہ الا فلیبلغ الشاہدُ منکم الغائبَ، فرب مبلَّغٍ اوعیٰ من السامع یعنی ”خبر دار! پس چاہییے کہ جو حاضر ہے پہنچا دے (اس بات کو) اس تک جو غیر حاضر ہے، کیونکہ کئی ایسے جن کو بات پہچائی جائے زیادہ سمجھ کے مالک ہوتے ہیں بہ نسبت ان کے جو ان کو (وہ بات) پہنچائیں“۔ پھر بیہقی رحمۃ اللہ علیہ یہ حدیث لاتے ہیں : نضر اللہ امر ا سمع منا حدیثا فاداہ کما سمعہ، فرب مبلغ اوعیٰ من سامع ”اللہ ایسے شخص کو شاداب رکھے جو ہم سے ایک حدیث سنے پھر اس کو جیسے سنی ویسے آگے پہنچا دے، کیونکہ کئی ایسے جن کو بات پہنچائی جائے زیادہ سمجھ کے مالک ہوتے ہیں بہ نسبت ان کے جو ان کو (وہ بات) پہنچائیں “۔ پھر کہتے ہیں : یہ حدیث ہے بھی متواتر، جس کا کہ میں بیان کروں گا۔ شافعی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وہ بات سننے والوں کو توجہ دلائی کہ وہ آپ کی بات کو غور سے سنیں ، سن کر یاد کرلیں ، اور پورے ضبط کے ساتھ آگے پہنچانے کی کوشش کریں ، تو اس سے ثابت ہوا کہ آپ اپنے حوالے سے وہی بات آگے پہنچوا دینا چاہتے ہیں جس کو جو جو سنے اس کیلئے وہ حجت ہو۔ کیونکہ جو چیز آپ سے سن کر آگے پہنچائی جارہی ہوگی وہ کوئی حلال ہوگا جس کو اختیار کرنا شریعت ہوگا، وہ کوئی حرام ہوگا جس سے بچنا فرض ہوگا، وہ کوئی حد ہوگی جس کا قیام کیا جانا ہوگا، مال کی بابت بات ہوگی جس کا لینا یا دینا شریعت بنتا ہوگا، یا کوئی فائدہ مند بات ہوگی جو دین یا دنیا میں کام آنے والی ہوگی۔ اس کے بعد بیہقی رحمۃ اللہ علیہ اپنی اسناد کے ساتھ شبیب بن ابی فضالہ مکی سے ایک روایت لے کر آتے ہیں کہ: ایک بار (صحابی رسول رضی اللہ تعالی عنہ) عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ شفاعت کی بابت کچھ ذکر کر رہے تھے۔ تب مجلس میں سے ایک شخص بولا: اے ابو نجید! (عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ کی کنیت) تم لوگ ہمیں ایسی حدیثیں سناتے ہو کہ جن کی ہم قرآن میں کوئی اصل نہیں پاتے۔
عمران رضی اللہ تعالی عنہ غضب ناک ہوئے اور اس شخص سے کہنے لگے: ”کیا
تم نے قرآن پڑھا ہے؟“
عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ نے سوال کیا: ”تو کیاتم نے قرآن میں
کہیں پڑھا کہ عشاءکی چار رکعات ہیں اور مغرب کی تین اور صبح کی دو اور
ظہر اور عصر کی چار چار“؟ عمران رضی اللہ تعالی عنہ بولے: ”تو پھر کس سے لیں تم نے یہ رکعتیں ؟ کیا تم نے یہ ہم سے نہیں لیں ، اور ہم جنہوں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیں ؟ اور کیا قرآن میں تم نے یہ بھی کہیں پڑھا کہ بکریں چالیس تک پہنچ جائیں تو ان میں ایک بکری کی زکات ہے اور اونٹ اتنے ہوں تو اتنی زکات اور فلں چیز اتنی ہو تو اتنی زکات؟“ شخص بولا: نہیں ۔ عمران رضی اللہ تعالی عنہ بولے: ”تو پھر کس سے لیں تم نے یہ (مقداریں )، کیا ہم سے نہیں لیں تم نے یہ، اور ہم جنہوں نے یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لیں ؟“ پھر بولے: کیا قرآن میں تم نے یہ پڑھا کہ ولیطوفوا بالبیت العتیق ”پھر چاہیے کہ طواف کریں وہ گرد بیتِ عتیق کے“ تو قرآن میں کیا یہ کہیں پڑھا کہ طواف کے سات چکر لگاؤ اور مقامِ ابراہیم کے پیچھے کھڑے ہوؤ، تو دو عدد رکعت پڑھو؟ کیا قرآن میں تم نے پڑھا جلب جائز ہے اور نہ جنب اور نہ شغار(ا)؟ کیا تم نے اللہ کو اپنی کتاب میں یہ کہتے نہیں سنا کہ وما آتاکم الرسول فخذوہ وما نہاکم عنہ فانتہوا ”رسول تمہیں جو دیں اسے لے لو اور جس سے تمہیں روک دیں اس سے رک جاؤ“؟ تب عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ کہنے لگے: ”یقینا ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کچھ لیا ہے جس کا تمہیں علم نہیں “ اس کے بعد بیہقی کہتے ہیں : ”وہ حدیث جس میں یہ ہے کہ حدیث کو قرآن پر پیش کیا کروبالکل بے بنیاد ہے اور ثابت نہیں ۔ اور پھر یہ حدیث خود اپنا ہی رد کرتی ہے۔ کیونکہ (خود اسی حدیث کو اگر ہم قرآن پر پیش کریں تو) قرآن میں تو کوئی دلیل نہیں کہ حدیث کو قرآن پر پیش کیا جانا چاہئیے!“ اس کے بعد بیہقی اپنی اسانید کے ساتھ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ، قتادہ رحمۃ اللہ علیہ، او ریحیی بن کثیر رحمۃ اللہ علیہ سے بیان کرتے ہیں کہ آیت میں مذکور ”حکمت“ سے مراد ہے سنت۔ پھر بہقی اپنی اسناد کے ساتھ مقدام بن معدی کرب رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبیصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار، مجھے قرآن دیا گیا اور اس کے ساتھ اس جیسی ایک چیز۔ خبردار، وقت آئے گا کہ ایک شکم سیر شخص اپنی گدی پر براجمان کہے گا ’بس قرآن کو لازم پکڑو، پس جو چیز تم اس میں حلال پاؤ اس کو حلال کرلو اور جو اس میں حرام پاؤ اس کو حرام کر لو‘۔ خبردار، گھریلو گدھا تمہارے لئے حلال نہیں اور نہ ہی کچلی والا درندہ اور نہ ہی معاہد کا گرا ہوا مال“ پھر ایک اور طریق سے بیہقی مقدام بن معدی کرب رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث لاتے ہیں ، کہا: خیبر کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ چیزیں حرام ٹھہرائیں ، گھریلو گدھا اور کچھ اور چیزیں ۔ پھر فرمایا: ”قریب ہے کہ تم میں سے ایک شخص اپنے تکیہ پر نشست جمائے میری حدیث کا ذکر کرے اور پھر بولے ’میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہوئی، پس جسے ہم اس میں حلال پائیں اس کو ہم حلال کریں گے اور اور جسے ہم اس میں حرام پائیں اس کو حرام‘ حق یہ ہے کہ جیسے اللہ نے (قرآن میں ) حرام ٹھہرایا ویسے اللہ کے رسول نے (سنت میں ) حرام ٹھہرایا“ صحیحین میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں ، کہا، فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے من اطاعنی فقد اطاع اللہ ومن عصانی فقد عصیٰ اللہ ”جس نے میری اطاعت کی اس نے یقینا اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے یقینا اللہ کی نافرمانی کی“
بخاری جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت لائے ہیں ، کہا:
ملائکہ اللہ کے نبی کے پاس آئے، جبکہ آپ سو رہے تھے۔ فرشتوں میں سے کچھ
بولے: ’سو رہے ہیں ‘، کچھ بولے ’آنکھ سوتی ہے اور دل جاگتا ہے‘ تب وہ
کہنے لگے ’آنجناب ایک مثال رکھتے ہیں ، ان کو یہ مثال بیان کردو‘ تب کچھ
بولے: ’سو رہے ہیں ‘، کچھ بولے ’آنکھ سوتی ہے اور دل جاگتا ہے‘ تب وہ
گویا ہوئے: ’ان کی مثال ایسی ہے گویا ایک شخص ہو جس نے ایک گھر بنایا
اور اس میں ایک بڑی دعوت رکھی اور ایک شخص کو (لوگوں کو) بلانے بھیجا۔
پس جو اس بلانے والے کے پیچھے چل دیا وہ تو اس گھر میں پہنچ گیا اور
اسی کو یہ دعوت کھانی ملی، اور جس نے اس بلانے والے کی تسلیم نہ کی وہ
اس گھر میں نہ آپایا اور نہ اس کو یہ دعوت کھانی ملی‘ پھر وہ (فرشتے)
کہنے لگے: ’اس (مثال) کا ان کو مطلب بیان کردو، سمجھ جائیں گے‘ کچھ
بولے: ’سو رہے ہیں ‘، کچھ بولے ’آنکھ سوتی ہے اور دل جاگتا ہے‘ تب انہوں
نے کہا: ’یہ گھر، بہشت ہے اور بلانے والا، محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہیں ،
پس جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مانی دراصل اس نے خدا کی مانی اور
جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نہ مانی دراصل اس نے خدا کی نہ مانی،
اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان معیار اور پیمانہ ہیں
‘ ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ علیہ عبد اللہ بن مسعود کا ایک قول لاتے ہیں ، کہا: ”کوئی چیز نہیں جو قرآن میں بیان کی جانے سے رہ گئی ہو۔ مگر یہ ہمارا فہم ہے جو اس تک رسائی سے قاصر رہتا ہے۔ اس لئے ہی تو اللہ تعالیٰ نے (اپنے نبی سے) یہ کہا ہے لتبین للناس ما نزل الیہم یعنی ’تاکہ اے نبی تو بیان کردے لوگوں کیلئے جو (اس میں ) نازل کیا گیا‘ بیہقی قبیصہ بن ابی ذؤیب سے بیان کرتے ہیں ،کہا: (ورثاءمیں سے کسی شخص کی) دادی ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آئی اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ سے (پوتے کے ورثہ میں ) اپنا حق مانگا۔ ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا:کتاب اللہ میں تو تمہارے لئے کچھ نہیں ہے، سنت رسول اللہ میں میں نہیں جانتا کہ تمہارا کوئی حق رکھا گیا ہو، تم ابھی چلی جاؤ اور مجھے لوگوں (دیگر صحابہ) سے پوچھ لینے جو۔ پھر آپ رضی اللہ تعالی عنہ لوگوں سے دریافت کرنے لگے، تب مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا اور آپصلی اللہ علیہ وسلم نے دادی کو چھٹا حصہ دیا تھا۔ ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا ’کیا تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟‘ تب محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہ اٹھے اور وہی حدیث بیان کی جوکہ مغیرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کی تھی۔ اس پر آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے عورت کو حصہ دلوا دیا۔ بیہقی سعید بن المسیب سے روایت کرتے ہیں کہ عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ کہا کرتے تھے کہ مقتول کی دیت پر صرف اسی کے خونی رشتہ داروں کا حق ہے اس کی بیوہ کا اس میں کوئی حصہ نہیں (کیونکہ دیت ان کے نزدیک میت کا ترکہ نہ بنتا تھا لہٰذا قرآن کے بیان کردہ احکامِ وراثت کا اس پر اطلاق نہ ہوتا تھا) یہاں تک کہ عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو ضحاک نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مکتوب بھیجا تھا کہ وہ اشیم ضبابی کی بیوہ کو اس کی دیت میں سے وراثتی حصہ دلائیں ۔ تب عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے قول سے رجوع کرلیا۔ بخاری رحمۃ اللہ علیہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کرتے ہیں ، کہتی ہیں : عمر رضی اللہ تعالی عنہ مجوسیوں سے جزیہ لینے سے توقف کئے رہے (کیونکہ جزیہ قرآن میں اہل کتاب کی بابت ہی آیا ہے) یہاں تک کہ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نے شہادت دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علاقہ ہجر کے مجوس سے جزیہ لیا تھا۔ صحیحین میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت آتی ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا لاتمنعوا النساءباللیل من المساجد ”عورتوں کو رات کے وقت مساجد میں جانے سے مت روکو“۔ تب عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ کے کسی بیٹے نے ہم تو ان کو نہیں جانے دیں گے، مبادا درختوں اور جھنڈوں (کے پیچھے سے کوئی گل کھلنے لگیں )۔ تب ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کے سینے پر ہاتھ مارا اور بولے: میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سناتا ہو اور تم اپنی یہ توجیہیں سناتے ہو؟ (ایسے کئی واقعات ذکر کرنے کے بعد) امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : ”میں نے کوئی ایک بھی واقعہ ایسا نہیں جانا کہ صحابہ اور پھر تابعین میں کبھی ایسا ہوا ہو کہ کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث پہنچائی گئی ہواور اس نے اس کو تسلیم نہ کیا ہو، پھر اس پر بات ختم نہ کردی ہو اور اس کو سنت (2) نہ مان لیا ہو“ پھر شافعی رحمۃ اللہ علیہ سالم بن عبد اللہ (حضرت عمر کے پوتے، ایک عظیم فقیہ) سے روایت لاتے ہیں کہ عمر رضی اللہ تعالی عنہ منع فرماتے تھے کہ آدمی کنکریں مار لینے کے بعد خوشبو لگا کر زیارتِ کعبہ کو جائے۔ مگر سالم کو عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے علم ہوا، کہا ’میں نے اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام کے وقت بھی خوشبو لگائی تھی اور تحلل (احرام ختم کرنے کی حالت) کے وقت طوافِ بیت سے پہلے بھی خوشبو لگائی تھی، اور سنتِ رسول اللہ ہی اتباع کیلئے اولیٰ ہے‘۔ شافعی کہتے ہیں : تب سالم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے دادا (عمر رضی اللہ تعالی عنہ) کا قول ترک کردیا اور عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی خبر پر عمل اختیار کرلیا۔ پھر جو سالم کو (عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا قول) بتاتا آپ رحمۃ اللہ علیہ اس کو بتاتے: ’نہیں ، یہ سنتِ رسول اللہ ہے اور اسی کو اختیار کرنا برحق ہے‘۔ آگے چل کر امام شافعی کہتے ہیں : وضع ذلک الذین بعد التابعین والذین لقیناہم، کلہم یثبت ال اخبار ویجعلہاسنۃ (3) یُحمَد من تبعہا ویُعاب من خالفہا، فمن فارق ہذا المذہب کان عندنا مفارق سبیل اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و اہل العلم بعدہم الیٰ الیوم وکان من اہل الجہالۃ ”یہی روش تابعین کے بعد کے (اہل علم) تک رہی جن کو کہ خود ہم نے اپنے دور میں پایا۔ یہ سب، اخبارِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کرتے اور ان کو سنت (3) مانتے جس کا پیروکار (ان کے نزدیک) قابلِ ستائش ہو اور جس کی خلاف ورزی کرنے والا قابل مذمت۔ پس جو شخص اس مذہب سے مفارقت اختیار کرے وہ ہمارے نزدیک مفارقت کرگیا اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے سے اور اصحاب رضی اللہ تعالی عنہم کے بعد آج تک پائے جانے والے اہل علم کے راستے سے، اور شمار ہوگا اس کا اہل جہالت میں سے“۔ یہ اب تک جو کچھ کتاب کی ابتدا سے بیان ہوا سارے کا سارا امام شافعی کا توثیق کردہ ہے، چا ہے یہ یہاں نقل کردہ اقوال ہوں یا استدلالات۔ (یہ سب آ پ کی کتاب الرسالۃ سے ماخوذ ہے) جس میں آپ نے اس موضوع پر بہت طویل اور مدلل کلام فرمایا ہے، کیونکہ اس کی آپ کے زمانے میں بے حد ضرورت ہوگئی تھی۔ زنادقہ اور روافض، جوکہ اخبارِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رد کیا کرتے، آپ کے ساتھ اس موضوع پر مناظرے کرتے رہے تھے۔ بیہقی نے امام شافعی ہی کے یہ دلائل اپنی کتاب (المدخل) میں نقل کردیے اور کچھ محاسن کا ان پر اور بھی اضافہ کردیا، جن کو کہ اب میں (سیوطی) نقل کرتا ہوں اور ان پر کچھ اور بھی اضافے کرتا ہوں ۔ بیہقی اپنی اسناد کے ساتھ ایوب سختیانی رحمۃ اللہ علیہ سے بیان کرتے ہیں ، کہا: جب ایک آدمی کو تم سنت سے کوئی حدیث سناؤ اور وہ کہے ’چھوڑو اسے، ہمیں تو بس قرآن سے بتاؤ‘، تو جان لو وہ بہکا ہوا ہے۔ اوزاعی رحمۃ اللہ علیہکہتے ہیں : یہ اس لئے کہ سنت قرآن (میں بیان کردہ امور) کے فیصلے کرنے والی ہے نہ کہ قرآن (سنت میں بیان کردہ امور) کے فیصلے کرنے والا۔ بیہقی نے ایوب سختیانی رحمۃ اللہ علیہ سے ہی بیان کیا، کہا: مطرف بن عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں ایک شخص کہنے لگا: ’ہمیں تو بس وہی بیان کرکے دو جو قرآن میں ہے‘۔ تب مطرف بولے: ’ہمارے نزدیک بخدا قرآن کا کوئی نعم البدل نہیں ، مگر ہم اس ہستی کا قصد کرتے ہیں جو قرآن کا علم ہم سے زیادہ رکھتی ہے‘ مسلم نے یسار بن سلیمان سے روایت کیا کہ ابوہریرہ، ابن عباس اور ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف کے مابین بحث چھڑ گئی، بیوہ کے متعلق جو حاملہ ہو اور شوہر کے وفات پاتے ہی حمل وضع کردے۔ (قرآن میں دونوں کی عدتیں الگ الگ بیان ہوئیں ، بیوہ کی چار مہینے دس دن اور حاملہ کی جب تک وہ حمل وضع نہ کرلے، اب ایک عورت جس پر ان دونوں قرآنی مدتوں کا بیک وقت اطلاق ہوتا ہو وہ کیا کرے؟) ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کا کہنا تھا جو عدت بعد میں ختم ہوتی ہو اس کو وہ پوری کرنا پڑے گی۔ جبکہ ابو سلمہ رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا تھا ’نہیں ، وہ حمل وضع کرتے ہی نکاح کیلئے حلال ہوگی‘۔ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہنے لگے میں اپنے بھتیجے کے ساتھ ہوں ۔ تب انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی جانب یہ سوال روانہ کیا۔ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا جواب تھا: قبیلہ اسلم کی خاتون سبیعہ نے اپنے شوہر کی وفات سے کچھ ہی دیر بعد حمل وضع کر دیا تھا اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ مانگا تھا تو آپ نے اس سے فرمایا تھا کہ شادی کرلے۔ بیہقی براء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں ، کہا: ’ہم سب کے سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نہ سنتے تھے۔ ہماری بھی زمینیں اور کام کاج تھے۔ مگر بات یہ ہے کہ (تب) لوگ جھوٹ نہیں بولتے تھے ، چنانچہ جو (آپ کے پاس) حاضر ہوتا وہ غیر حاضر کو حدیث بیان کردیتا‘ بیہقی نے مالک بن انس سے بیان کیا، کہا، عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ کہا کرتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنتیں جاری کیں ۔ پھر آپ کے بعد آپ کے خلفا نے سنتیں جاری کیں ۔ ان سنتوں کو اختیار کرنا کتاب اللہ کی ہی تصدیق ہے اور اللہ کی فرمانبرداری کی ہی وسیع تر صورت اور اللہ کے دین پر قوی رہنے کا ہی ایک ذریعہ۔ جو ان سنتوں کی راہ سے راہ پائے گا بس وہ شخص ہی ہدایت یافتہ ہے۔ جو ان کی راہ سے خدا کی نصرت کا طالب ہوگا اسی کو نصرت ملے گی۔ اور جو ان کی خلاف ورزی کرے گا تو درحقیقت اس نے سبیل المؤمنین کے ماسوا راستے کی اتباع کی اور اللہ ایسے شخص کے بارے میں فرماتا ہے: نولہ ما تولیٰ ونصلہ جہنم وساءت مصیرا ”جدھر کا اس نے رخ کیا ادھر کو ہی ہم اسکا رخ پھیر رکھیں گے اور جہنم میں اس کوداخل کریں گے جوکہ برا ہے ٹھکانہ“ بیہقی ہی اپنی اسناد کے ساتھ مزنی یا ربیع سے بیان کرتے ہیں ، کہا: ایک بار ہم شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس حاضر تھے کہ ایک بزرگ جو پاجامہ اور جبہ سے لے کر دستار تک اون ہی اون پہنے ہوئے تھے چھڑی ٹیکتے آئے۔ شافعی رحمۃ اللہ علیہ ان کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ اپنے لبادے کو سنوارا اور اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔ بزرگ بھی سلام کرکے بیٹھ گئے۔ شافعی رحمۃ اللہ علیہ خاموشی سے ان کو دیکھتے رہے تاآنکہ بزرگ سوال کرنے لگے: اللہ کے دین میں حجت کیا چیز ہے؟ فرمایا: کتاب اللہ۔ سوال کیا: اور؟ فرمایا: سنتِ رسول ا للہ۔ پوچھا: اور؟ فرمایا: امت کا کسی امر پر متفق ہوجانا۔ وہ بولا: یہ امت کے اتفاق کی بات تم نے کتاب اللہ میں کہاں سے کی؟ تب شافعی رحمۃ اللہ علیہ ساعت بھر سوچتے رہے۔ آخر بزرگ کہنے لگے: چلئے آپ کو تین دن کی مہلت دیتے ہیں ۔ اگر تو کتاب اللہ سے اس (اجماع) کی دلیل لے آؤ تو ٹھیک ورنہ اللہ سے توبہ کرلو۔ شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ گھر چلے گئے۔ تین دن تین راتیں باہر نہ آئے۔ نکلے تو چہرے اور ہاتھوں پیروں پر بے آرامی کے باعث سوجن آئی ہوئی تھی۔ آپ اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔ ساتھ ہی بزرگ آپہنچے اور سلام کرنے کے بعد بیٹھ گئے اور کہنے لگے: میں نے آپ سے کوئی مطالبہ کیا تھا! شافعی رحمۃ اللہ علیہ بولے: جی ہاں ۔ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم، فرمایا اللہ تعالیٰ نے: وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءتْ مَصِيرًا ”اور جو رسول کے ساتھ شقاق کرے، جبکہ ہدایت اس پر واضح ہوچکی ہو، اور پیروی کرے وہ ایمان والوں کے راہ کے ماسوا کی، تو (پھر) اختیار کرائیں گے ہم اس کو وہی جو اس نے اختیار کیا، اور داخل کریں گے ہم اس کو جہنم میں ، اور برا ہے وہ ٹھکانہ“ (النساء: 115)۔ پھر شافعی کہنے لگے: ’مومنوں سے راستہ الگ کرلینے پر اللہ اسے جہنم میں ڈالے گا۔ اسی لئے تو ڈالے گا کہ مومنوں کے اختیار کردہ راستے پر رہنا ہی اس پر فرض تھا‘۔ بزرگ بولے: آپ کی بات درست ہے، اور چلے گئے۔ بزرگ کے جانے کے بعد شافعی رحمۃ اللہ علیہ ہمیں بتانے لگے: تین روز سے ہر دن اور رات میں تین تین بار قرآن پڑھ جاتا تاآنکہ میں اس دلیل پر جا پہنچا۔ بیہقی نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے بیان کیا: کہا: ربیعہ (امام مالک کے استاد) کہا کرتے تھے: اللہ نے اپنے نبی پر اپنی کتاب اتاری البتہ سنت کیلئے جگہ چھوڑ دی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنتیں جاری کیں البتہ رائے (قیاس و اجتہاد وغیرہ) کیلئے جگہ چھوڑ دی۔ بیہقی مسروق رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں ، کہا: عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے: ”لوگوں کو ابہامات اور اشکالات سے نکالنے والی جو چیز ہے وہ ہے سنتِ رسول اللہ“ صحیحین میں علی بن امیہ سے روایت ہے، کہا: میں نے عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے سوال کیا: قرآن میں ہے فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُواْ مِنَ الصَّلاة إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُواْ ”تم پر گناہ نہیں کہ تم نماز میں قصر کر لو اگر تم ڈرو کہ کافر تمہیں فتنہ (جنگ) میں ڈالیں گے“ (النساء: 101) مگر اب تو لوگوں کو امن حاصل ہے (یعنی قرآن میں جو قصر بیان ہوئی اس کا اطلاق اب کیسے؟) تب عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا: تمہیں جس بات پر تعجب ہوا مجھے بھی اسی سے تعجب ہوا تھا۔ تب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا تھا: ”یہ صدقہ ہے جو اللہ نے تم پر کیا ہے۔ پس اللہ کا صدقہ قبول کرو“ (اس آیت کے ضمن میں ) علماءکا بیان ہے کہ صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم نے یہی سمجھا تھا کہ جب حالتِ خوف باقی نہ رہے تو قصر کا حکم باقی نہ رہے گا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بتایا کہ یہ رخصت ہر دو حال (خوف اور سفر) میں ہے۔ بیہقی اسی ضمن میں امیہ بن عبد اللہ بن خالد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے دریافت کیا: قرآن کے اندر تو ہمیں حضر (گھروں میں مقیم حالت) کی نماز ملتی ہے اور صلوٰۃ خوف۔ صلوٰۃ سفر کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ فرمانے لگے: ”میرے بھتیجے! اللہ نے ہمارے پاس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا اس حال میں کہ ہم کچھ نہ جانتے تھے۔ پس جو جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہم نے کیا“
طبرانی نے روایت کیا: مسدد کہتے ہیں : ”سلطان اللہ فی الارض، اللہ کی
کتاب ہے اور اس کے نبی کی سنت“ دارمی نے اپنی مسند میں عبد اللہ دیلمی سے بیان کیا، کہا: مجھے (اہل علم سے) یہ بات پہنچی ہے کہ دین میں سب سے پہلی چیز جو ترک ہوگی وہ سنت ہے۔ دارمی نے ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کا قول نقل کیا، فرمایا: سنت کی راہ میں رہ کر درمیانہ چل لینا بدعت کے راستے میں ہمت دکھانے سے بہتر ہے۔ (بیہقی، طبری اور دارمی کے بعد) اب ہم امام لالکائی کی (مشہور کتاب) السنۃ سے بھی نقل کریں گے.... لالکائی اپنی اسناد کے ساتھ ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ کا قول لاتے ہیں ، فرمایا: سنت راستے میں دھیرے چل لینا خلافِ سنت راستے میں ریاضتیں کرنے سے بہتر ہے۔ ایسا ہی قول وہ ابو الدرداءسے بھی لاتے ہیں۔ پھر لالکائی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کا قول لاتے ہیں ، فرمایا: اہل سنت میں سے ایک ایسا آدمی جو راہِ سنت کی دعوت دیتا ہے اور بدعت سے روکتا ہے، ایسے شخص کو تو دیکھنا ہی عبادت ہے۔ لالکائی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے یہ بھی روایت کرتے ہیں ، فرمایا: بخدا میرا نہیں خیال آد اس وقت روئے زمین پر مجھ سے بڑھ کر کوئی شخص ہے جس کی موت کیلئے شیطان بے تاب ہو۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا گیا: کیوں ؟ فرمایا: اس لئے کہ وہ مشرق میں کہیں بدعت کو جنم دے آئے یا مغرب میں ، کوئی نہ کوئی شخص اس کو میرے پاس اٹھا لائے گا۔ پھر جب وہ مجھ تک پہنچ جائے گی تو میں سنت کے ذریعے اس کا صفایا کردوں گا۔ پس جیسے اس نے وہ بدعت نکالی ویسی اس کے پاس وہ واپس جارہے گی۔ لالکائی ابو العالیہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں ، فرمایا: لازم پکڑے رہو اپنے اپر اپنے نبی کی سنت کو اور اس راستے کو جس پر نبی کے اصحاب رضی اللہ تعالی عنہم تھے۔ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کا قول لاتے ہیں ، فرمایا: کوئی قول درست نہیں جب تک اس کے ساتھ عمل نہ ہو۔ قول اور عمل دونوں درست نہیں جت تک نیت ساتھ نہ ہو۔ قول، عمل اور نیت تینوں درست نہیں جب تک یہ سب سنت بر نہ ہو۔ ایسا ہی قول سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ سے بھی لاتے ہیں ۔ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول بھی لاتے ہیں : اے اہلِ سنت! (بستیوں اور شہروں میں ) پھیل جاؤ، گو تم تعداد میں تھوڑے ہو۔ ایوب سختیانی رحمۃ اللہ علیہ کا قول لاتے ہیں ، فرمایا: اہل سنت میں سے جب میں کسی کی موت کی خبر سنتا ہوں تو گویا میرے جسم کا کوئی حصہ چلا گیا۔
اوزاعی رضی اللہ تعالی عنہ کا قول لاتے ہیں ، فرمایا: سنت کے ساتھ رہو،
خواہ جہاں بھی سنت پائی جائے۔ سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کا قول لاتے ہیں ، فرمایا: اہلسنت کو خیر پر جانتے رہنا، یہی غرباءہیں ۔ فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ کا قول لاتے ہیں ، فرمایا: اللہ کے عباد کچھ ایسے ہیں کہ جن کے ذریعے اللہ شہروں اور بستیوں کو زندگی بخش دیتا ہے ، اور یہ اصحابِ سنت ہیں ۔ ابن عوف رحمۃ اللہ علیہ کا قول لاتے ہیں ، فرمایا: جس کو موت اسلام پر اور سنت پر آئی اس کو ہر خیر کی خوشخبری! حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کا قول لاتے ہیں ، فرمایا: قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ”اے نبی کہو، اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تمہیں محبوب رکھے گا“ خدا سے محبت کی یہ نشانی اہل سنت کو ملی، کہ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کر پائے“ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کا قول لاتے ہیں ، کہ قرآن کی آیت یوم تبیض وجوہ وتسود وجوہ ”جس دن کچھ چہرے روشن ہوں گے تو کچھ چہرے سیاہ“ (آل عمران: 106) کی تفسیر میں ابن عباس نے فرمایا: چہرے روشن ہوں گے یعنی اہل سنت کے چہرے ، اور چہرے کالے ہوں گے یعنی اہل بدعت کے چہرے۔
علاءبن المسیب سے بروایت ان کے والد عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ
قول لاتے ہیں : ہم اقتداءکرتے ہیں نہ کہ ابتدائ۔ ہم اتباع کرتے ہیں نہ
کہ ابتداع۔ ہم کبھی نہ بھٹکیں گے جب تک آثار کے ساتھ متمسک رہیں
۔ چند اقوال اب امام نصر المقدسی کی کتاب الحجۃ علیٰ تارک المحجۃ سے: جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کا قول لاتے ہیں ، فرمایا: سب مخلوق بند راستوں پہ کھڑی ہے، سوائے وہ لوگ جو اخبارِ رسول اللہ کے متبعین ہیں اور آثارِ رسول اللہ کے مقتدی۔ اللہ تعالیٰ نے تو کہہ دیا: لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ کہ ”تمہارے لئے اچھا نمونہ تو رسول اللہ کی ذات میں ہے“ احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا قول لاتے ہیں ، کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا ’کیا زمین میں اللہ کے کوئی ابدال ہیں ؟‘ فرمایا: ”ہاں ہیں “۔ پوچھا گیا’کون ہیں ؟‘ فرمایا: ”اگر اصحابِ حدیث وہ ابدال نہیں تو میں نہیں جانتا اللہ کے کوئی ابدال ہیں “۔ کہمس ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ کا قول لاتے ہیں ، فرمایا: جس کو اس بات کا وثوق نہیں ہوا کہ اہل سنت ہی دین کے پاسبان ہیں وہ بے چارہ ہے۔ سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کا قول لاتے ہیں ، فرمایا: ملائکہ آسمان کے پاسبان ہیں اور اصحابِ حدیث زمین کے۔ وکیع رحمۃ اللہ علیہ کا قول لاتے ہیں ، فرمایا: حدیث کی اتباع میں آدمی کے ہاتھ کچھ بھی نہ آئے سوائے اس بات کے کہ وہ ہوائے نفس سے بچا لیا گیا،تو اس نے بڑا کچھ پالیا۔ امام احمد کتاب الزہد میں قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول لاتے ہیں ، فرمایا: اللہ کی قسم جس کسی نے اللہ کے نبی کی سنت سے منہ موڑا وہ ہلاک ہو کر رہا۔ پس لازم پکڑو اپنے اوپر سنت کو اور خوب بچ کر رہو بدعت سے۔ لازم پکڑو اپنے اوپر فقہ کو اور خوب بچے رہو شبہہ سے۔ حاکم اپنی مستدرک میں عبد الرحمن بن ابزی سے روایت کرتے ہیں ، کہا جب لوگ دورِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ والے فتنہ میں پڑے تو میں نے ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا اس فتنہ سے نکلنے کا راستہ کہاں ہے؟ فرمایا: کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ۔ اس میں جو کچھ تم پر واضح ہو اس کے عامل ہوجاؤ اور جہاں اس میں اشکال ہو اس کے عالم پر چھوڑ دو۔ قشیری اپنے رسالہ میں جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کا قول لاتے ہیں ، فرمایا: راستے مخلوق پر سب کے سب بند ہیں سوائے ان کے جو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کے نشاناتِ قدم ڈھونڈیں ۔ مزید فرمایا: جس نے قرآن حفظ نہ کیا، جس نے حدیث نہ لکھی اس کی اس معاملہ(اصلاحِ قلوب) میں اقتدا نہ کی جائے گی کیونکہ ہمارا یہ علم کتاب اور سنت کے ساتھ مقید ہے۔ قشیری ہی کے رسالہ میں ابو عثمان حیری کا قول وارد ہوا، فرمایا: جس نے اپنے اوپر سنت کی حکمرانی کروالی جب وہ بولے گا تو اس کی زبان سے حکمت جاری ہوجائے گی اور جس نے اپنے اوپر ہوائے نفس کی حکمرانی کروا لی وہ جب بولے گا اس کی زبان سے بدعت نکلے گی۔ دینوری اپنے رسالہ المجالسۃ میں اپنی اسناد کے ساتھ ابن وہب سے یہ قول لاتے ہیں ، کہا: ہم امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں سنت کا مذاکرہ کر رہے تھے۔ تب مالک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: سنت، نوح علیہ السلام کا سفینہ ہے جو اس پر سوار ہوگیا پار لگ گیااور جو پیچھے رہ گیا وہ غرق ہو کر رہا۔ ٭٭٭٭٭
(2) امام شافعی کی عبارت کے الفاظ ملاحظہ ہوں ، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پندرھویں صدی کی ایک بدعت ہے جو حدیث کو ’سنت‘ قرار پانے کے معاملے میں نا اہل مانتی ہے اور اپنے پاس سے اس پر کچھ ایسی شروط عائد کرتی ہے جو اس کے ’سنت‘ مانا جانے کیلئے آخری صدی میں ہی جا کر ایجاد ہوئیں ۔ سبحان اللہ کس صراحت کے ساتھ امام شافعی واضح کرتے ہیں کہ صحابہ اور تابعین میں کوئی ایک واقعہ بھی ریکارڈ پر نہیں آیا جب ایک حدیث اپنی صحت وثقاہت کے معاملہ میں پایہء ثبوت کو پہنچتی ہو اور پھر اس کو سنت ماننے سے انکار کر دیا گیا ہو۔ اس کے باوجود کوئی شخص اگر اکیسویں صدی کے اسلام پر ہی چلنا چاہتا ہے اور اسی کے دلائل سے متاثر ہونے پر اپنے ہاں شرحِ صدر پاتا ہے، جوکہ صحابہ اور قرونِ سلف کے ائمہء دین کا راستہ بہرحال نہیں ، تو وہ جس حالت میں بھی خدا کا سامنا کرنا چاہے، آزاد ہے۔ ( مترجم)
(3)
یہاں ایک بار پھر امام شافعی کے الفاظ بغور ملاحظہ ہوں ۔ اخبار رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ صرف قبول کرنا اور ان کو حجت مانناقرونِ
اولیٰ کا متفقہ طریقہ اور آئین ہے بلکہ اخبار رسول اللہ کو سنت ماننا
بھی امام شافعی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار پھر بصراحت ذکر
کردیا ہے۔ امام شافعی صلی اللہ علیہ وسلم جوکہ اصول فقہ اور مبادی ِ
استنباط میں امت کے اندر ایک عظیم ترین مرجع مانے جاتے ہیں وہ ایک بات
کو اسلام کے پہلی تین نسلوں کا اتفاقی مسئلہ بتاتے ہیں جبکہ وہ خود بھی
تبع تابعین (اسلام کی تیسری نسل) سے ہیں ۔ پھر وہ اسی پر بس نہیں کرتے،
اس مذہب سے مفارقت کرنے والے کو صحابہء اور مابعد کے ائمہء علم کے طریق
سے مفارقت بھی قرار دیتے ہیں اور ایسے شخص کو صاحبِ جہالت بھی۔ مترجم |