|
|
|
|
جمع و ترتیب: محمد زکریا خان
ایمان جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے ہاں ایک معلوم حقیقت تھی اس کے لیے علم کلام کی بحثوں میں پڑنے والوں نے یہ ضروری سمجھا کہ ایمان کے لیے ایک منطقی تعریف کی جائے جسے اہل منطق اس طرح کہتے ہیں کہ جامع اور مانع تعریف ۔ ایسی تعریف کہ جس کے بعدنہ کوئی رکن تعریف کے مدلول سے باہر رہے اور نہ کوئی غیر متعلق بات اس میں داخل ہو سکے۔ جب علم منطق کے مطابق شریعت کی ہر اصطلاح کے لیے تعریف ضروری سمجھ لی گئی تو اس کے بعد ہر چھوٹے بڑے فرقے نے دین کی سب سے بڑی خدمت یہی سمجھی کہ اپنے جیتے جی تعریفات شرعیہ کا علمی ذخیرہ ورثے میں ضرورچھوڑ جائے۔یہی بات شیخ سفر الحوالی نے اپنی کتاب ظاہرۃ الارجاءمیں لکھی ہے اور اس کے بعد وہ نبی علیہ السلام کے سنہری دور سے وہ احادیث مبارکہ نقل کرتے ہیں جو آپ نے ایمان کے متعلق کیے گئے سوالات کے جواب میں ارشاد فرمائی تھیں ۔آپ کے ایمان کی بابت احادیث کا تذکرہ ہم آگے جا کر کریں گے،یہاں اس تمہید کا مقصد اس بات کی وضاحت کرنا ہے کہ صحابہ کرام کا عہد زریں ایسے منطقی جوابات سے خالی تھا جو بلا شبہہ دین میں ایک تکلف ہے ۔ شریعت کو پیچیدہ بنانے کی بدعت یہود کے ہاں پائی جاتی تھی۔نبی علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ: لتتبعن من کان قبلکم،شبراً بشبرٍ و ذراعاً بذراعٍ (تم اپنے سے پہلے والوں کے نقش قدم پر ایسے چلو گے جیسے تمہارے اور اُن کے درمیان کوئی فرق نہ ہو( مختلف روایات میں مختلف الفاظ مذکور ہوئے ہیں جو سب کنایتاً کامل موافقت کے لیے استعمال ہوئے ہیں )ہم نے کہا: کیا آپ کی مراد ہے یہود اور نصاریٰ ، آپ نے فرمایا :تو اور کون؟ ) اہل سنت کو یہ امتیاز حاصل رہا ہے کہ وہ عوام مسلمانوں کو علماءسے وابستہ کر دیتے ہیں اور انہیں الجھنوں سے بچائے رکھتے ہیں اور خود اہل سنت کے ائمہ عظام اور علماءکرام اہل بدعت کی بدعتوں کا جواب اسی زبان اور اسی اسلوب میں دیتے ہیں جو خود اہل بدعت نے اپنی بدعات کو رواج دینے کے لیے اختیار کر رکھا ہوتا ہے اور اہل سنت عوام مسلمانوں میں اہل بدعت کے دلائل کا چرچا بھی نہیں کرتے اور نہ ہونے دیتے ہیں تاکہ عام مسلمان ان کے دلائل سے اپنی کم علمی کے سبب الجھ کر نہ رہ جائے، البتہ اہل سنت کتاب و سنت سے ماخوذ علم کو عام کر دیتے ہیں اور عامۃ المسلمین کو صحیح عقیدے پرباقی رکھنے کے لیے اس قدر ہی بات بتاتے ہیں جس قدر اس کی ضرورت ہو۔اگر کسی شخص کی تسلی نہ ہو تو پھر وہ بہ خوشی ان تمام دلائل سے واقف ہونے میں آزاد سمجھا جاتا ہے جو ابتداً اہل بدعت کو مسکت جواب دینے کے لیے مرتب کیے گئے تھے۔امر واقع یہ ہے کہ اہل سنت اُن علوم میں بھی اہل بدعت سے زیادہ درک رکھتے ہیں جو ابتداً اہل بدعت نے اسلام میں داخل کیے تھے۔ یہ درست ہے کہ اہل سنت نے بھی ایمان کی تعریف کی ہے اور اس کے لیے اسلوب بھی وہی اختیار کیا ہے جو اہل بدعت کے ہاں ضروری سمجھ لیا گیا ہے اس کی وجہ وہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کی ہے کہ ایمان کے لیے بدعت پر مبنی تعریف کی بجائے اُس تعریف کو عام کیا جائے جو کتاب و سنت سے خیر القرون میں ائمہ کرام نے بدعت کا رد کرنے کے لیے وضع کی تھی۔حقیقت یہ ہے کہ تمام گمراہ فرقوں کو دوام ایمان کی تعریف کی وجہ سے حاصل رہا ہے ۔اگرچہ پرانے فرقے اپنی پہلے والی مجتمع قوت کی صورت میں اب باقی نہیں ہیں اور بیشتر ایسے بھی ہیں جو ایمان کی مبنی بربدعت تعریف سے ہی واقف ہیں لیکن وہ اپنے آپ کو اس فرقے میں نہیں سمجھتے کہ جس میں انہیں ایمان کی اس تعریف کی وجہ سے، جو انہوں نے اختیار کر رکھی ہے، ہوناچاہیے تھا، اس کی وجہ خواہ ان کی کم علمی ہو۔ حق یہ ہے اگر اہل سنت کے سر کردہ لوگ اس کا فائدہ اٹھانا چاہیں تو یہ علم کی کمی اور دوسرا اہل سنت میں رہنے کی خواہش کو بروئے کار لا کر انہیں ذرا سی محنت سے صحابہ کرام کے طریقے پر لایا جا سکتا ہے۔ایمان کی مبنی بر بدعت تعریف پر رہنے مگر بدستور اہلسنت کا نام اختیار کر رکھنے کی دوسری وجہ ان کی چالاکی بھی ہو سکتی ہے تاکہ عوام مسلمانوں کے ہاں خفت سے بچا جا سکے۔وجہ کچھ بھی ہو تمام گم راہ فرقوں نے ٹھوکر یہیں سے کھائی ہے۔ خلافت راشدہ کا دوسرا دور اگر شہادت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ سے مان لیا جائے تو اس وقت سے لے کر اگلے کئی سالوں تک فرقہ خوارج سے ایمان کے مسئلے پر اہلسنت کا تصادم رہا اور جوں ہی اہل سنت اس فتنے کی سرکوبی سے فراغت پاتے ہیں تو فتنہ ارجاءپوری قوت کے ساتھ مسلم ذہن کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور ایسی پیچیدہ صورت اختیار کرتا ہے کہدیکھتے ہی دیکھتے فتنہ ارجاءکی بنیاد رکھنے والے اصحاب بدعت یونانی ،اور ساسانی فلسفے اور منطق کی مدد سے ایسا علم کلام مرتب کر لیتے ہیں کہ اس کا توڑ کرنے کے لیے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ جیسی شخصیات کو میدان میں اترنا پڑتا ہے ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ’ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ تمام اہل بدعت کے دلائل کو جس گہرائی میں جا کر سمجھتے تھے اتنا درک ابو ثور رحمۃ اللہ علیہ کو حاصل نہ تھا ہاں مرجئہ کے دلائل پر ابو ثور رحمۃ اللہ علیہ کی بھی گہری نظر تھی‘۔ امام ابن تیمہ رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اہل بدعت کے دلائل کافی پیچیدہ صورت اختیار کر چکے تھے اور اب تک وہ پیچیدگی موجود ہے۔خوارج کے فتنہ کے بعد سب سے طویل فتنہ،فتنہ ارجاءکا رہا ہے۔مرجئہ نے ایمان کی جو تعریف کی ہے اس کا تذکرہ آگے آرہا ہے سر دست یہ بات واضح کرنا پیش نظر ہے کہ ارجاءکا فتنہ تب سے اب تک بر قرار ہے اوربقول شیخ سفر الحوالی ، بیشتر دینی مدارس میں ایمان کی تعریف وہی پڑھائی جا رہی ہے جو مرجئہ کے ہاں کی جاتی ہے ۔ مرجئہ کے عقائدسے اکثر اہل علم نے خبر دار کیا ہے۔ امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :ما ابتدعت فی الاسلام بدعۃ اضرّ علی اہلہ من الارجائ(اسلام میں ایسی اور کوئی بدعت نہیں جس کا ضرر اہل اسلام پر ارجاءسے زیادہ ہو) ایسی ہی تنبیہ یحی بن ابی کثیر رحمۃ اللہ علیہ اور قتادہ رحمۃ اللہ علیہ سے بھی بیان کی گئی ہے۔شریک القاضی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ: مرجئہ سب سے گندے لوگ ہیں (ہم اخبث قوم)گو کہ رافضہ کا فتنہ(تمہارے نزدیک) کچھ کم نہیں مگر مرجئہ اللہ کو جھٹلاتے ہیں ۔‘اس سے ملتی جلتی بات سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے۔در اصل ارجاءکی سر پرستی میں ایسی شخصیات کو داخل سمجھا گیا ہے کہ جن کا مقصد قطعاً وہ نہ تھا جو اس تعریف سے مرجئہ کے غالی فرقوں نے حاصل کیا ہے۔اگلی سطور میں ہم مختلف گم راہ فرقوں کی تعریفیں اختصارسے بیان کریں گے اور مرجئہ کی تعریف سے جو اثر سنی طبقوں پر پڑا ہے اس پر ہم ذرا تفصیل سے بات کریں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ ارجاءاب بھی اہل سنت کے حلقوں میں بہت پایا جاتا ہے خواہ وہ جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں ۔ اس مضمون کا علمی مواد زیادہ تر شیخ سفر کی معرکۃ الآراءکتاب ظاہرۃ الارجاءسے لیا گیا ہے: رافضی فقہ کے اکثر فقہاءکا اس تعریف پر اتفاق ہے کہ ’ایمان یہ ہے کہ اللہ، اُس کے رسول اور امام کا اقرار کرنا اس طرح کہ جو کچھ ان کی طرف سے آیا ہے اُس سب کا اقرار کرنا جبکہ معرفت کا پایا جانا اس اقرار کی ضرورت ہے،بنا بریں جس نے اقرا کیا اور اسے معرفت بھی ہے تو وہ اس تعریف کی رو سے اُن کے ہاں مومن ہے اور اگر صرف اقرار کیا اور معرفت نہیں ہے تو وہ مسلم ہے مومن نہیں ہوا ‘۔ رافضیوں کا ایک دوسرا فرقہ جو تعداد میں کم پایا جاتا ہے یہ تعریف کرتا ہے کہ ’ اطاعت کے سب کام ایمان ہیں اور معصیت کے سب کام کفر ہیں ‘۔ زیدیہ کے اکثر فقہاءنے ایمان کی یہ تعریف کی ہے کہ’ معرفت، اقرار اور کبائر (وعید)سے بچنا ایمان ہے اور وعید والے کسی فعل کا ظہور نہ شرک ہے اور نہ انکار بہ معنی کفر بلکہ یہ کفران نعمت ہے ‘ دوسرا فرقہ ایمان کی تعریف یہ کرتا ہے ’اطاعت کے سب کام ایمان ہیں اور وہ تمام کام جن پر وعید آئی ہے ان کے ارتکاب سے کفر لازم نہیں آتا ‘تاہم زیدیہ کے تمام فرقے اس بات پر متفق ہیں کہ( آخرت میں ) کبیرہ گناہ کے مرتکب آگ کے سزا وار ہوں گے جس سے وہ کبھی جدا نہیں ہوں گے اور یہ کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ اپنے مخالفیں کے ساتھ لڑنے میں حق بجانب تھے اور ان کے مخالفیں غلطی پر تھے۔ خوارج میں سے ازارقہ کے نزدیک کبیرہ کا مرتکب کافر اور مخلد فی النار ہے اور (ان کے مخالفیں جس خطے میں رہتے ہوں وہ)خطہ دار الکفر ہے۔(اور ان کے نا بالغ) بچوں کو قتل کرنا جائز ہے، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہنے(معاذ اللہ)کفر کا ارتکاب کیا تھا اور ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ (فریقین میں قرآن کو چھوڑ کراز خود تصفیہ کرانے کی وجہ سے)کافر ہو گئے تھے۔ خوارج کے جمہور کے ہاں یہ تعریف کی جاتی ہے: ’اللہ اور اس کے رسول کے تمام اوامر کو بجا لانا اور تمام ممنوعات سے اجتناب کرنا ایمان ہے ان اوامر میں سے کسی ایک کو بجا نہ لانا یا ممنوعات میں سے کسی ایک ممنوعہ کام کا ارتکاب کفر ہے اور دنیا میں ہی ایسا شخص کافر ہو جاتا ہے اور آخرت میں وہ مخلد فی النار ہو گا‘ معتزلہ نے بھی ایمان کی یہی تعریف کی ہے مگر وہ مرتکب کبیرہ کے لیے ایک خاص منزل کا تصوررکھتے ہیں جو صرف معتزلہ کی اپنی خاص اصطلاح ہے کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب دنیا میں ایسا فاسق ہوتا ہے جسے نہ کافر کہا جا سکتا ہے اور نہ مسلمان بلکہ وہ منزلہ بین منزلتین میں ہوتا ہے جبکہ آخرت میں ایسے شخص کے انجام کے بارے میں معتزلہ خوارج کے ہی ہم خیال ہیں کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب مخلد فی النار ہو گا‘۔ خوارج اور معتزلہ کے نزدیک ہرایک عمل از قسم واجبات و ممنوعات میں اعتقاد شامل ہے اور واجبات کے ترک سے یا منہیات کے ارتکاب سے اعتقاد کی تکذیب ہوتی ہے جو کفر ہے۔ مرجئہ کے گم راہ ترین فرقوں میں سے جہمیہ کے نزدیک اللہ کی معرفت (کامل) ایمان ہے اور عدم معرفت کفر ہے۔فکر ارجاءسے جو متاثر ہوئے ہیں ان کی اکثریت صرف تصدیق کر لینے کو ایمان کہتے ہیں ، جبکہ اس تعریف پر جن کا اتفاق ہے وہ اقرار کو اضافی رکن کہتے ہیں حقیقی نہیں ۔ اقرار کی ضرورت اس لیے اس فکر میں تسلیم کر لی گئی ہے کیونکہ دنیا میں اقرار باللسان کے علاوہ اور کوئی ایسی صورت نہیں کہ جس سے کسی کے بارے میں یہ مان لیا جائے کہ اس نے تصدیق کی ہے۔ ایمان کی اس تعریف میں عمل کو شامل نہیں کیا جاتا۔ اہل الرائے اور متکلمین کے بر عکس ائمہ حدیث نے ایمان کی تعریف میں (جنس)عمل کو شامل کیا ہے نیز ان علماءکرام نے ابتداءمیں ایمان کی کسی منطقی تعریف کی ضرورت بھی نہیں سمجھی تھی اورنہ ایمان کے مفہوم کو کسی تعریف میں قید کرنے کی کوشش کی۔خود نبی علیہ السلام سے ایسی جامع اور مانع تعریفات ثابت نہیں ہیں کہ جس کی کمی بعد میں متکلمین کو اس قدر محسوس ہوئی کہ انہوں نے ہر تصور کے لیے کوئی نہ کوئی تعریف کر ڈالی۔ ائمہ حدیث نے ایمان کی تعریف اس وقت کی جب ایک ایسی تعریف رواج پا رہی تھی کہ اگر اس کے مقابلے میں کتاب و سنت اور صحابہ کے اقوال کو سامنے رکھ کر منطقی معنی میں تعریف نہ وضع کی جاتی تو متکلمین کی وضع کردہ تعریف کا چرچا ہو جاتا۔خود حنفی مکتبہ فکر نے بھی جہمیہ اور خوارج کے توڑ کے لیے ایمان کی ایسی تعریف کرنا چاہی کہ ایک طرف منطق کا بھی پاس لحاظ ہو جائے اور دوسری طرف متکلمین اور فلاسفہ کا بھی منہ بند ہو جائے۔بلا شبہہ حنفی مکتب فکر نے صدق دل سے یہ فریضہ انجام دینے کی کوشش کی کہ اہل حدیث اور متکلمین کی آراءکے بیچ ایسی تعریف کی جائے جو بیک وقت عقلی طور پر بھی ثابت کی جا سکے اور اس میں عمل کو نہ شامل کر کے خوارج کی سختی کا بھی سدباب ہو جائے۔علماءاحناف نے ایمان کی تعریف وضع کرنے کے بعد اس کی تشریح محدثین کے فہم کے مطابق ہی کی ہے لیکن الفاظ کے چناؤ سے ارجاءکا رخنہ رہ گیا۔ایمان کو تصدیق تک مقید کرنے کے بعد یہ مشکل پیدا ہو گئی کہ اگر عمل کو مسمیٰ ایمان میں داخل کریں تو خوارج کو کیسے نکالیں گے اور اگر عمل کو شرط قرار نہ دیں تو اقرا باللسان کی شرط کس طرح پوری ہو۔اگرچہ ان ائمہ کو اس کا حل ڈھونڈنے کے لیے پورا علم کلام وضع کر نا پڑا مگر یہ مسئلہ کم از کم منطقی طور پر اب بھی تشنہ ہے جیسا کہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ و غیرہ نے کہا ہے۔دوسری طرف ائمہ حدیث نے اس قسم کے تکلفات کو بالا طاق رکھ کر ایسی تعریف کی کہ جو سلف صالحین کے مفہوم کو ثابت کرنے والی ہو ۔ائمہ حدیث نے ایمان کی تعریف مختلف الفاظ میں بیان کی ہے لیکن ان سب کا مفہوم ایک ہی ہے کہ’ ایمان قول اور عمل کا نام ہے اور ایمان میں کمی بھی ہوتی ہے اور زیادتی بھی‘۔ عربی میں اسے یوں کہتے ہیں :’الایمان قول µ و عمل µ یَزیدُ و یَنقُصُ‘۔ کسی نے اس تعریف کو واضح کرنا چاہا تو یوں کہا کہ: الایمان اعتقاد بالقلب(ایمان دل کے اعتقادات) و اقرار باللسان(زبان سے اقرار) و عمل بالجوارح‘(اور اعضاءسے عمل کا مجموعہ ہے)اس تعریف میں سلف صالحین نے اعتقاد کا لفظ استعمال کیا ہے جبکہ اہل الرائے تصدیق کا لفظ استعال کرتے ہیں ۔ الفاظ کے مدلول کی حد تک تو یہیں ایک بڑا فرق آ جاتا ہے۔ تصدیق دل کا صرف ایک فعل ہے جبکہ اعتقاد میں دل کے سارے اعمال آ جاتے ہیں ۔ مضمون کے آخر میں ہم یہ فروق ذرا تفصیل سے بیان کریں گے ۔ائمہ حدیث مذکورہ بالا تعریف کو ان الفاظ میں بھی بیان کرتے ہیں کہ ’ایمان قول، عمل اور نیت کا مجموعہ ہے‘بعض نے ایک اور شرط کا اضافہ کیا ہے کہ ’ایمان قول، عمل، نیت اور اتباع سنت کا مجموعہ ہے‘۔کسی نے ایمان کے گھٹنے بڑھنے کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ’دل کے اعتقاد،اعضاءکا عمل اور ایمان میں لوگ ایک دوسرے سے کم یا زیادہ ہوتے ہیں (برخلاف اس تعریف کے کہ جس کی رو سے تمام اہل ایمان تصدیق کرنے میں برابر ہوتے ہیں ۔)کسی نے اس امر کو سامنے رکھا جیسے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کہ سلف کی تعریف سے کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ (جنس)عمل زائد شرط ہے تو ان الفاظ میں تعریف کی کہ’قول،عمل اور نیت کا مجموعہ ایمان ہے ان میں ہر رکن دوسرے ارکان سے مکمل ہوتا ہے‘۔ اس مضمون میں ہم صرف ایک ہی تعریف کو زیر بحث لائیں گے جس کی وجہ یہ ہے کہ اس تعریف کا اثر پوری طرح ہمارے معاشرے میں پایا جاتا ہے۔اس تعریف کی رو سے ایمان تصدیق اور اقرار کا نام ہے اور عمل ایمان کا حصہ نہیں ہے اور تمام لوگ جو تصدیق اور اقرا کر کے ایمان میں داخل ہوتے ہیں وہ اصل ایمان میں برابر ہوتے ہیں اور اللہ کے ہاں جو مراتب بلندی کے پائے جاتے ہیں تو وہ تصدیق کی تکرار اور علم میں گہرائی کی وجہ سے ہیں ۔احناف کے بڑے ائمہ کرام نے ایمان کی اس تعریف کو کئی دلائل کی وجہ سے صحیح قرار دیا ہے۔ ان ائمہ کرام کے نزدیک تصدیق میں نقص اور زیادہ کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور عمل کو بھی ایمان کا جزءتسلیم نہیں کیا جا سکتا اس لیے کہ ایمان لغت میں تصدیق کو ہی کہتے ہیں ۔تصدیق یا ہو گی یا نہیں ہو گی۔ اس لیے تصدیق میں نقص نہیں ہو گا شک ہو گا جو کفر ہے۔اس لیے تصدیق میں سب برابر ہوتے ہیں کیونکہ تصدیق نہ کم ہوتی ہے اور نہ زیادہ۔ تصدیق بس تصدیق ہی ہوتی ہے۔اور عمل اس لیے ایمان کا حصہ نہیں مانا جا سکتا کہ حائضہ عورت کو اپنے ایام ماہواری میں نماز نہیں پڑھنا ہوتی توکیا جن دنوں میں اس سے نماز کا عمل موقوف ہو جاتا ہے تو اس کا ایمان بھی نہیں رہتا،ظاہر ہے یہ بات کوئی عالم بھی نہیں کہتا یا جس کے پاس مال کی مقدار زکوٰۃ کے نصاب تک نہیں پہنچتی تو اس سے زکوٰۃ کے عمل کا تقاضا نہیں کیا جاتا۔ زکوٰۃ کے عمل کے نہ ہونے سے اس سے ایمان زائل نہیں ہوتا۔ بنا بریں ایمان زیادتی اور نقصان قبول نہیں کرتا یا ایمان ہو گا یا نہیں اور یا پھر شک ہوگا ۔اور شک کرنے والا بھی دراصل تصدیق نہیں کرتا۔ شیخ سفرالحوالی ایمان اور عقیدہ کے مسائل میں سند کا مقام رکھتے ہیں اور اس کی وجہ علاوہ اُن کے تبحر علم کے یہ بھی ہے کہ وہ سلف صالحین کے مذہب سے باہر نہیں نکلتے۔جہمیہ کے افکار سے امت میں جو بے عملی آئی ہے اس پر آپ کی گہری نظر ہے۔علم کلام کے بے جا استعمال کی بجائے سلف کے طریقہ کو اصلاح امت کے لیے وہ ایک آزمودہ نسخہ قرار دیتے ہیں ۔مسئلہ ایمان پر اور خصوصاً ایمان کی تعریف پر آپ نے جو علمی خدمت انجام دی ہے اگلی سطور میں ہم اس میں سے مضمون سے متعلق مواد کا ترجمہ قارئین ایقاظ کی خدمت میں پیش کررہے ہیں : ٭٭٭٭٭ اہل الرائے مکتبہ فکر کے علم عقیدہ کے اماموں نے ایمان کی تعریف تصدیق بالقلب و اقرار باللسان سے کی ہے۔اس کے بارے میں شیخ سفر لکھتے ہیں کہ ان ائمہ نے زبان سے لا الہ الّا اللہ محمد رسول اللہ کے اقرار کو اس بات کا اعلان قرار دیا ہے کہ زبان کا اقرار دل کے فعل تصدیق کی اطلاع ہے ۔جب کوئی کلمہ پڑھ لے تو وہ ظاہر اور باطن دونوں میں مومن ہے۔اور اگر استطاعت کے ہوتے ہوئے وہ اقرار نہ کرے تو جو ان علماءمیں سے اس امتناع کو کفر سے تعبیر کرتے ہیں ان کی تعریف کی رو سے وہ ظاہر میں کافر ہوتا ہے اس امکان کے ساتھ کہ باطن میں وہ مومن ہو سکتا ہے۔اگر کوئی شخص ظاہر میں کفر کا ارتکاب کرے تو یوں کہیں گے کہ صرف ظاہر میں کافر ہے۔اب یہاں مسئلہ ابلیس کا پیدا ہو گیا کہ جس نے ظاہر میں ہی صرف کفر کیا تھا اور جہمیہ کی تعریف کی رو سے تو ابلیس کو اللہ کی معرفت تھی۔مشکل یہ ہوئی کہ ابلیس کو باطن میں کس طرح کافر کہا جائے۔تو اس کے لیے ان علماءنے یہ تشریح کی کہ بذریعہ وحی ہمیں خبر پہنچ گئی ہے کہ ابلیس کافر ہے اور اس سے ابلیس کا ظاہراً اور بہ باطن کفرثابت ہوتا ہے کیونکہ اس کی اطلاع ہمیں شارع نے دی ہے جو دلوں کے احوال کو جانتا ہے مزیدبرں جن جن کے بارے میں وحی سے ثابت ہوا ہے کہ وہ کافر تھے تو ان کے دل میں سرے سے تصدیق پائی ہی نہیں جاتی تھی۔اور جن یہودیوں نے یہ کہا تھا کہ آپ نبی ہیں مگر کلمہ نہیں پڑھا تھا تو ان کے دل میں بھی تصدیق نہیں تھی۔ اس کے بعد شیخ سفر لکھتے ہیں کہ ایمان کی اس تعریف کے بعد اسے ثابت کرنے میں کافی پیچیدگی پیدا ہو گئی ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ یوں کہنا درست نہ تھا کہ زبان سے اقرار دل کی تصدیق کی خبر ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے تھا کہ زبان سے یہ کہا جا رہا ہے کہ میں اب زبان سے جو اقرا کر رہا ہوں تو وہ اس بات کے آغاز کرنے کی اطلاع اور اعلان ہے کہ میں زبان سے نکلنے والے الفاظ کے تمام تقاضوں کو پورا کروں گا۔ایسا کہنے کے بعد مختلف اعمال کا ظہور ہی اس اعلان کو ثابت کرتا یا پھر ثابت نہ کرتا۔امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب’ایمان‘کے حوالے سے وہ لکھتے ہیں کہ تمام اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کلمہ شہادت استطاعت کے باوجودنہ کہنے والا ظاہراً و بہ باطن کافر ہے خواہ اس کے دل میں تصدیق پائی ہی کیوں نہ جاتی ہو۔دنیا میں بھی اس کے احکام کافروں والے ہیں اور آخرت میں بھی۔ میں بھی۔اس کے بعدابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ ایک مثال سے اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ شدید ضرورت کے وقت بھی اگر کوئی شخص اپنی محبوب ہستی کے لیے کلمہ خیر نہیں کہتا اور اس پر کوئی جبر اور اکراہ بھی نہیں ہے تو ہر شخص یہی کہے گا کہ وہ دل میں اُس شخصیت کے لیے رائی کے دانے کے برابر بھی محبت کے جذبات نہیں رکھتا۔جیسے یہ ناممکن ہے کہ اگر کسی شخص سے کہا جائے کہ ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ اور عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے یہ کہو کہ رضی اللہ عنہما مگر وہ یہ الفاظ کہنے سے انکار کر دیتا ہے یہاں تک کہ اسے قتل کر دیا جاتا ہے۔ رضی اللہ عنہما کہنے میں نہ اُسے کوئی رکاوٹ تھی اور نہ خوف کہ اگروہ یہ الفاظ کہہ دے گا تو اسے نقصان پہنچے گا۔ اس فرضی صورت کو سامنے رکھ کر کوئی اس شخص کے بارے میں کہہ سکتا ہے کہ اسے ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ اور عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے بڑی محبت ہے۔ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ اس بات کو یوں سمجھوں کہ ایک شخص نبی علیہ السلام سے ظاہراً و باطناً محبت رکھتا ہے اور کوئی خوف اور رکاوٹ بھی نہیں ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ کہو :محمد رسول اللہ،اور وہ انکار کر دیتا ہے،تقاضا بڑھتا جاتا ہے اور وہ برابرانکار کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ قتل ہونا گوارا کر لیتا ہے مگر محمد رسول اللہ کے الفاظ ادا نہیں کرتاتو کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ شخص باطن میں اللہ کے رسول سے بہت محبت رکھتا ہے۔ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اس مثال سے یہ بات مخاطب کو سمجھانا چاہتے ہیں کہ جو شخص ظاہر میں کافر ہے تو وہ باطن میں بھی کافر شمار ہو گاکیونکہ اگراس کے دل میں تصدیق(ایمان)پائی جاتی تو وہ استطاعت رکھتے ہوئے اور خوف کی عدم موجودگی اور دوسری طرف اس سے اقرار باللسان کا شدید تقاضا ہو اور وہ زبان سے اقرار نہ کرے تو وہ یقیناً بہ باطن کافر ہے۔بنا بریں یہ کہنا کہ کوئی شخص باطن میں مومن ہو سکتا ہے خواہ اقرار نہ کرے اور اقرار نہ کر کے وہ ظاہر میں کافر ہوا ہے ایک غلط قیاس ہے۔ اس کے بعد ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ تمام سلف کے نزدیک قلبی ایمان کے لیے ظاہر میں قول شرط ہے۔اس بات میں سلف کی مخالفت صرف جہمیہ نے کی ہے یا پھر اشاعرہ اور جو ان کے ہم خیال ہوئے ہیں ۔ (کہ زبان سے اقرار نہ کرنے والا باطن میں مومن ہو سکتا ہے) آگے چل کر ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دل کے چند کیفیات اور اعمال کی نوعیت ایمان کے ایسے لوازمات میں سے ہے کہ ایمان کے وجود کے ساتھ وہ خود بخود وجود پا جاتے ہیں اور اس کے لیے قصد اور الگ سے ارادہ نہیں کرنا پڑتا بلکہ وہ توایمان کے ساتھ ہی پائے جاتے ہیں جیسے کفار کے ساتھ موالات کا معاملہ ہے۔دل کے ایسے اعمال ایمان کو ثابت کرتے ہیں یا نہیں کرتے اس لیے یہ کہنا کہ عمل ایک ایمان سے خارج چیز ہے غلط ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءهُمْ أَوْ أَبْنَاءهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُوْلَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ(مجادلہ : 22)’تم کبھی یہ نہ پاؤ گے کہ جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہوں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے،خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے اہل خاندان۔ایسے ہی لوگوں کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کر دیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح عطا کر کے ان کو قوت بخشی ہے۔ ‘ اگر دل میں یہ صفت نہیں پائی جاتی تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ معتبر ایمان(الایمان الواجب)سرے سے پایا ہی نہیں جاتاکیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود اس کی صراحت کر دی ہے۔اور اس لیے بھی کہ ایک ہی وقت میں دو باہم متضاد باتیں اکٹھی نہیں پائی جاتی ہیں ۔اگردل میں ایمان ہے تو اس کی ضد کفار سے محبت نہیں ہو گی۔بنا بریں عمل ہی ایمان کو ثابت کرتا ہے دل کا صرف ایک عمل ’تصدیق‘ معتبر ایمان کے لیے کافی نہیں ہے۔ جہاں تک خود تصدیق کا تعلق ہے تواس پر بھی ائمہ حدیث نے عدم اطمنان کا اظہار کیا ہے اس لیے کہ ایک تو اس سے صرف دل کا ایک عمل تصدیق ثابت ہوتا ہے اور دوسرا اس تعریف سے ایمان میں کم اور زیادہ ہونے کو تسلیم نہیں کیا جاتادرں حالیکہ دل کے متعدد افعال کتاب و سنت سے ثابت ہیں اور اگر دل کا ایک ہی عمل تصدیق کو ہی فرض کر لیا جائے تو تب بھی تصدیق میں سب افراد برابر ہوں واقعے کے بھی خلاف ہے اور سلف کی تعریف کے بھی خلاف ہے۔ابراہیم علیہ السلام کا اللہ سے جو تعلق ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔سورہ بقرہ میں ابراہیم علیہ السلام کہتے ہیں :ربّ ارنی کیف تحی الموتی ’اے میرے رب مجھے دکھا دے تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے‘ اللہ تعالی نے سننے والوں کا اشکال دور کرنے کے لیے پوچھا: اَ وَ لَم تُومِن (کیا تو ایمان نہیں رکھتا!)ابراہیم علیہ السلام نے کہا :بلی(مجھے غائب پر تو پکا ایمان ہے کہ اے اللہ تو مردوں کو زندہ کرتا ہے مگر میں اس منظر کو بسرچشم دیکھ کر)ولکن لیطمئن قلبی ’اپنے دل کے لیے (ایمان کو اور بڑھا کر)اطمینان حاصل کرنا چاہتا ہوں ‘۔ اگر ایمان کے لیے دل کا صرف ایک عمل تصدیق تسلیم کیا جائے اور اوپر سے یہ بھی کہا جائے کہ تصدیق میں سب برابر ہوتے ہیں تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ محولہ بالا آیت کی تاویل میں کتنا بڑا علم کلام ایجاد کرنا پڑے گا تاکہ کسی دور میں مثلاً خوارج کے رد عمل میں ہی ایک تعریف وضع ہوگئی تو اس میں کسی رخنے کی گنجائش تسلیم نہ کرنا پڑے۔ہمارے ہاں ایک طبقہ تو وہ ہے جو بغیر کسی علمی بنیاد کے محض تعصب کاشکار ہے اور یہ بیشتر برصغیر کے خانقاہی نظام سے وابسطہ ہیں اورجن کے لیے اپنے اکابر کے اقوال شریعت کی نصوص کی طرح اہمیت رکھتے ہیں یا اس سے بھی زیادہ ۔ دوسرا طبقہ جدید تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہے ۔ اس جدید تعلیم یافتہ طبقے کی اس طرح ذہن سازی ہوئی ہے کہ رواداری خود ایک بڑا عقیدہ بن گیا ہے کہ رواداری نبھاؤ خواہ دین کی کسی بنیاد میں لچک ہی تسلیم کرنا پڑے۔اس ذہنیت کے مطابق سلف کی تعریف اور عقیدے کے دوسرے اماموں کی تعریف میں اختلاف لفظی ہے جوہری نہیں ۔ یہ بات علمی لحاظ سے بھی غلط ہے اور دوسری طرف یہ بہت بڑے بڑے ائمہ حدیث و فقہ کی علمی دھاک پر ایسی چوٹ لگاتی ہے کہ وہ معاذاللہ غیر سنجیدہ لوگ تھے جنہوں نے کئی صدیں اس مناظرے کو جیتنے میں لگا دیں کہ ایمان کی حقیقت میں (جنس)عمل شامل ہے جبکہ معاصرین کے نزدیک یہ تو کوئی جوہری اختلاف کی بات ہی نہ تھی!ان حضرات کا حسن نیت اپنی جگہ مگر ہمیں ایسی بھی رواداری سے کیا پڑی جو سلف کے سارے زور کو محض لفظی اختلاف تک پہنچا کر رواداری کا پرچم بلند کر آئے۔ہاں یہ البتہ درست ہے کہ عملاً سلف کی تعریف سے ہٹ کرعقیدے کی بحثیں کرنے والے اماموں نے عوام الناس میں بے عملی کو نا پسندیدہ ہی رکھا اور اس تاثر کو برقرار رکھا کہ اہل بدعت کے مقابلے میں وہ سلف کے مفہوم ہی کی پاسداری کرنے والے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ تمام محدیثین اور جلیل القدر ائمہ کرام فقہ حنفی کے اماموں کو اہل سنت کی سرکردہ شخصیات میں شمار کرتے ہیں اور مجموعی طور پر فقہ حنفی اہل سنت کا ایک تسلیم شدہ اسکول آف تھاٹ ہے۔مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ایمان کی مذکورہ بالا تعریف کو سلف نے قبول نہیں کیا بلکہ اسے لفظی اختلاف بھی نہیں کہا جوہری اختلاف کہا ہے۔ ذیل میں ہم شیخ سفر الحوالی کے مقالے سے وہ نقاط قارئین کے سامنے پیش کریں گے جو سلف اور متاخرین کی تعریف سے لازمی نکلتے ہیں : (الف)سلف کے نزدیک ایمان کم اور زیادہ ہوتا ہے جبکہ اس تعریف کی رو سے اصل ایمان صرف ایک ہی ہوتا ہے۔ (ب) فاسق(کبیرہ گناہ کا مرتکب)اس تعریف کی رو سے یا تو پورا مومن رہتا ہے یا پھر اگر حکم لگے گا تو صرف کفر کا لگے گاکیونکہ ایمان صرف تصدیق کو کہتے ہیں یا تو تصدیق ہو گی اور سب کی برابر ہو گی یا پھر نہیں ہو گی دوسری طرف سلف فاسق کے لیے ایمان کا اثبات مقید کرتے ہیں ۔(1) (ج)سلف کے نزیک عمل کے بغیر ایمان پورا نہیں ہوتا اور اس تعریف کی رو سے عمل کے بغیر بھی ایمان پورا ہوتا ہے۔
(د)سلف کے
نزدیک دل کے دوسرے اعمال از قسم خشیت اور تقویٰ ایمان کی حقیقت میں
شامل ہیں جبکہ اس تعریف کی رو سے دل کے دوسرے افعال ایمان کی حقیقت میں
شامل نہیں ہیں ۔ (و)سلف کے نزدیک کسی (عمل یا حالت کے) اعتبار سے ایمان کا استثناءہوتا ہے جبکہ مذکورہ بالا تعریف کی رو سے استثناءشک کو مستلزم ہے۔(2) (ز)اس تعریف کی رو سے یہ کہنا بالکل درست ہے کہ میرا ایمان اور جبریل علیہ السلام کا ایمان برابر ہے جبکہ سلف کہتے ہیں کہ کسی صورت میں بھی یہ کہنا جائز نہیں ہے۔ حقیقۃ الایمان الشرعیۃ کے عنوان کے تحت شیخ سفر لکھتے ہیں : صحابہ سے جب ایمان کے بارے میں پوچھا جاتا تھا تو وہ اپنے ظن کی بجائے وحی کے مطابق جواب دیتے تھے۔جواب دیتے ہوئے وہ سائل اور موقع محل کا پورا خیال رکھتے اور اُس وقت کی مناسبت سے جواب دیتے۔کبھی کسی جامع آیت سے جواب دیتے جیسے ابو الحسن اور علی بن حسن رضی اللہ عنہما نے جواب دیا تھا اور ایمان کے متعلق یہ آیت تلاوت کی تھی: لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّواْ وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَـكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَالْمَلآئِكَة وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّآئِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلاة وَآتَى الزَّكَاة وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُواْ وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاء والضَّرَّاء وَحِينَ الْبَأْسِ أُولَـئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَـئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ(البقرہ:177) کبھی حدیث جبریل جس میں وہ ایمان،اسلام اور احسان کے متعلق آپ سے سوال کرتے ہیں اور خود ہی جواب دیتے ہیں یا کبھی وہ جواب دیتے جو آپ نے ایسے ہی سوال پر وفد عبد القیس کو دیا تھا اور اس حدیث میں آپ نے موقع کی مناسبت سے ایمان کی وہ تعریف کی جو حدیث جبریل میں اسلام کی کی تھی۔یہ دونوں حدیثیں مشہور عام ہیں اس لیے طوالت کی وجہ سے ہم ان کا تذکرہ یہاں نہیں کرتے۔ ایسا بھی ہوتاتھا کہ صحابہ ایمان کی تعریف اپنے فہم کے مطابق کرتے جو انہوں نے آپ کی صحبت میں رہ کر حاصل کیا تھا اور یہ تعریف بھی ایسی فیصلہ کن نہ ہوا کرتی تھی کہ جسے منطقی اصطلاح میں تعریف کہا جائے۔بعض صحابہ کہتے کہ صبر نصف ایمان ہے اور یقین پورا ایمان ہے۔ایمان کی اصطلاحی تعریف اہل علم نے نصوص کو سامنے رکھ کر بعد میں مرتب کی تھی جیسا کہ پچھلی سطور میں گزر چکا ہے۔ شیخ سفر لکھتے ہیں کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں قریہ قریہ گھومتا رہا،حجاز کے اہل علم سے ملتا رہا،مکہ،مدینہ،کوفہ،بصرہ،واسط،بغداد،شام اور مصر تک گیا۔شام مصر اور جزیرہ دو مرتبہ گیا۔بصرہ مختلف اوقات میں چار بار گیا۔حجاز چھ سال تک جاتا رہا۔اور خراسان کے محدثین کے ساتھ تو میں لا تعداد مرتبہ کوفہ اور بصرہ جاتا رہا ہوں ۔(بڑے بڑے نامور محدثین میرے رفقاءکار ہوئے ان میں سے اہم ترین)مکی بن ابراہیم،یحی بن یحی،علی بن حسن بن شقیق،قتیبہ بن سعیداور شہاب بن معمر شامل تھے۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اس کے بعد اور محدثین کا بھی تذکرہ کرتے ہیں جو ایک لمبی فہرست ہے ،ہم نے چند کا ذکر موضوع کی اہمیت بتانے کے لیے کیا ہے۔خود امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بھی کہتے ہیں کہ میں نے بھی نمونے کی شخصیات کا ذکر کیا ہے ورنہ فہرست بہت بڑی بن جاتی۔ اس کے بعد امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جن اہل علم سے میں چھیالس برس تک مسلسل ملتا رہا ہوں اور ان کی تعداد ایک ہزار سے بھی زیادہ ہے،ان سب حضرات نے مجھے ایک ہی بات بتائی ہے کہ: الدین قول و عمل (میں نے سب اہل علم کو یہی کہتے سنا ہے کہ دین یعنی ایمان قول اور عمل کا مجموعہ ہے۔) محترم قارئین مسئلہ ایمان اہل بدعت کی دست برد کی وجہ سے امت میں نزاعی مسئلہ بنا رہا ہے۔ایمان کی اور بھی بحثیں ہماری توجہ چاہتی ہیں یہاں ہم ایک اہم پہلو کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں اور وہ یہ کہ فتنہ ارجاءامت کے اندر بے عملی کا سب سے بڑا عنصر رہا ہے۔ارجاءیہ ہے کہ جب تک تصدیق کی نقیض تکذیب (جسے اصطلاح میں کفر جحود کہتے ہیں )نہ پائی جائے کوئی عمل بذات خود کفر کا موجب نہیں ہوتا۔اول تو کفر کی یہ ایک قسم ہے جسے اعقادی کفر کہتے ہیں شریعت میں کفر کی اقسام ایک سے زیادہ ہیں تفصیل کے لیے آپ ایقاظ کے سابقہ شمارے دیکھ سکتے ہیں دوسرا سلف میں سے کسی نے بھی کفر کے مرتکب کے لیے اعتقاد کی شرط نہیں لگائی۔کفر اعتقادی بھی ہوتا ہے اور عملی بھی۔اعتقاد کی شرط علمی طور پران کے ہاں پائی گئی ہے جو عمل کو ایمان سے خارج کہتے ہیں اورعملاً ان کے ہاں بھی جو(جنس) عمل کو ایمان کا جزءکہتے ہیں لیکن ایسی شروط اور موانع کا اضافہ کرتے ہیں جو سلف سے ثابت نہیں ہیں ۔اگر سلف کے راستے پر چلنے میں ہم اسی طرح پس و پیش کرتے رہے تومسلم امہ پر غیر اللہ کا نظام مسلط کرنے والے بھی مومن کہلائیں گے۔مسلمانوں کے مقابلے میں کفار کا ساتھ دینے والے بھی مومن رہیں گے۔دین کا یہاں کوئی مذاق اڑاتا رہے وہ مومن ہے۔کوئی اسلامی سزاؤں کو بے رحم کہے وہ مومن ہے۔کوئی اشتراکی نظام کو مسلمانوں کی ترقی کا نسخہ قرار دے وہ مومن رہے گا۔کوئی عوام کی خواہشات کو جمہوریت کے نام سے سلامتی کا راستہ بتائے وہ مومن رہے گااور زوال حد سے گزرتا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ کفر اعتقادی بھی ہوتا ہے اور عملی بھی۔کفر کے لیے اعتقاد کی بدعت صرف جہمیہ کی پیدا کردہ ہے اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ جہمیہ کو بہتر فرقوں میں بھی شامل نہیں کرتے چہ جائے کہ ان کا تصور ایمان اہل سنت کے صاف ستھرے عقیدے میں تلوث پیدا کرنے کا باعث بنے۔ ******** (1) سلف کے نزدیک گناہ سے ایمان کم ہو جاتا ہے پورا نہیں رہتا ۔اور حالت زناءمیں زناکار سے نکل کر معلق ہو جاتا ہے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ لا یزنی الزانی حین یزنی و ھو مومن
(2) ایمان میں استثناءایک علمی اصطلاح ہے اور ایمان
کو تصدیق کہنے والے اور ایمان کو اعتقاد اور اعمال کا مجموعہ کہنے
والوں کے درمیان ایک نزاعی مسئلہ رہا ہے۔استثناءکہتے ہیں کہ’میں ان
شاءاللہ مومن ہوں‘ فریق اول کے نزدیک ایمان کم اور زیادہ نہیں
ہوتا،ایمان یا پورا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا تو پورا ہی نہیں ہوتا۔’ان
شاءاللہ‘میں شک پایا جاتا ہے اور شک ایمان کے مسئلہ میں کفر ہوتا
ہے۔دوسرا فریق سلف صالحین کا ہے جو استثناءکو جائز کہتے ہیں اس تفصیل
کے ساتھ کہ یہ شک پر دلالت کرنے والا نہ ہو بلکہ احتیاط کے طور پر کہنا
ہو تو انسان اس طرح کہہ سکتا ہے کہ ’میں ان شاءاللہ مومن ہوں‘جب مخاطب
کو اطمینان دلانا ہو جیسے نو مسلم کو ضرورت پڑ جاتی ہے کہ وہ یہ بتائے
کہ وہ ایمان لے کر دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا ہے تو وہ اس طرح کہہ
سکتا ہے کہ میں مومن ہوں۔شیخ سفر الحوالی سلف کے اقوال سے نقل کرتے
ہیں:جب سلف کے مفہوم کے لحاظ سے ایمان لانے والا ان شاءاللہ کہتا ہے تو
وہ اس آیت کو سامنے رکھتا ہے کہ :
تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ هُوَ
أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى
(سورہ نجم : 32)’پس اپنے نفس کی پاکی کے دعوے نہ کیا کرو،وہی بہتر
جانتا ہے کہ فی الواقع تقوی اختیار کرنے والا کون ہے:۔یہاں شیخ سفر کا
قول ختم ہوا۔
|