سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ اپریل 2008

تُراث

Download in PDF forma

اسلامی جمہوریہء ہند!
پہلا حصہ

آفتاب عالم
اردو استفادہ: ابو زید
 

بھارت کی وہ ساری میراث جس پر آج بھارت ناز کرتا ہے اور جس کو فخریہ طور پر اپنے تاریخی ورثے کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے اصلاً ہندوانہ نہیں ہے اس میں بس تھوڑا سا استثناءہوسکتا ہے۔ اس میں اگر کچھ اضافہ "اشوک اعظم"نے کیا ہو تو ہو لیکن وہ بھی بدھ مت کا پیرو تھا نہ کہ ہندو مت کا۔پھر برطانوی مملکت نے بھی بھارتی تمدن پر گہرے اثرات چھوڑے۔لیکن مسلمانوں کے ایک ہزار سالہ دور حکومت نے پورے بھارت بلکہ برصغیر کے تہذیب و تمدن کوتشکیل دینے (1) میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔

افسانوی کردار و قابلیت والا طبلہ نواز اللہ رکھا خان سے لے کر بھارت کے میزائیل پروگرام کے معمار عبدالکلام آزاد تک وہ تمام کردار جن پربھارت کا ہندو آج فخر محسوس کرتا ہے ان میں کثیر تعداد مسلمانوں کی ملے گی بشمول شعراء، مصنفین، مؤرخین، جغرافیہ دان ، ماہر تعمیرات، کھلاڑی، حتیٰ کہ فلم سٹار اور گلوکاروں کے۔اسی طرح ان کی مسحور کن تعمیرات جو سارے عالم میں قابل تحسین مانی جاتی ہے ان میں اکشر تعمیرات اصل میں مسلمانوں کی یادگار ہیں۔یہاں تک کہ ہندوؤں کے پاس اپنے ملک کا اپنا نام بھی نہیں ہے! انہوں نے ملک کا نام "انڈیا" مسلمانوں سے ٹھگا ہے جو کہ در حقیقت مسلمانوں کے ہاں مستعمل تھا۔اس سب کے باوجود مسلمانوں کو ذلت اور خواری کی حالت میں جینے اور مرنے پر مجبور کرتا درحقیتقت ظالمانہ برہمنی تعصب کا کھلا ثبوت ہے۔

ہندوستانی مسلمان چاہے وہ سرحد کی اس پار بھی رہے ہوں کبھی بھی پاکستان نہیں رہے اور ہندو چاہے وہ سرحد کے دوسری جانب رہے ہوں انڈین کبھی بھی نہیں رہے۔ہم ہمیشہ انڈین مسلم رہے اور وہ بھارت ہندو۔اسی طرح ہندوستانی مسلمانوں نے اپنے ایک ہزار سالہ دور حکومت میں اپنے وطن کا نام کبھی بھی پاکستان نہیں رکھا۔اور بھارتی ہندوؤں نے مسلمانوں کے دور حکومت سے پہلے اپنے وطن کا نام کبھی بھی انڈیا نہیں رکھا۔تقسیم ہند سے پہلے مسلمانوں نے اپنے پورے دور حکومت میں اپنے وطن کا نام مقامی زبان میں ’ہندوستان‘ یا ’ہند‘ اور مغربی زبانوں میں ’انڈیا‘ استعمال کیا۔اسی طرح بھارتی ہندوؤں نے ہمیشہ اپنے وطن کا نام بھارت رکھا چاہے وہ تقسیم سے پہلے ہو یا بعد میں۔اور آج بھی ان کے دستور کے مطابق ان کے ملک کا نام بھارت ہی ہے۔تقسیم سے پہلے بھارت نہ کبھی انڈیا رہا ہے اور نہ کبھی انڈیا بھارت۔

اس لئے در حقیقت انڈیا اور "بھارت " دو الگ حقیقتوں کا نام ہے۔ بھارتی ہندوؤں نے ہماری ہر قابل فخر روایت اور تہذیبی علامت کو دھیرے سے ہماری غفلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹھگ لیا ہے۔اس طرح بھارتی ہندو انڈیا کا نام استعمال کرتے ہوئے ایک پرفریب اور افسوسناک جرم کا مرتکب ہو رہا ہے۔بھارتی ہندوؤں نے ہمیشہ چانکیہ کی "مقدس تعلیمات" پر عمل کرتے ہوئے ہمیشہ اپنے پر فریب چہرے پر پردہ ڈالے رکھا۔تو صرف ہماری میراث کو ٹھگنے کی نیت سے انہوں نے وہ نام جو ہمارا اختیار کردہ تھا اس کو اپنایااور ان کے اصلی نام کو پس منظر میں رکھا۔ چونکہ ان کو اچھی طرح سے معلوم ہے کہ نہ وہ اپنے پرانے نام کو اٹھا کر پھنک سکتے ہیں اور نہ ہی اس نام سے بچ کر صفائی سے نکل سکتے ہیں۔اس لئے انہوں نے اپنی پرانی روایتی منافقت پر عمل کرتے ہوئے ہمارے اختیار کردہ نام کو آگے کرکے بھارت کو پوشیدہ اور پس منظر میں رکھا جنکہ ان کا حقیقی نام ہمیشہ سے بھارت ہی رہا ہے۔یہاں تک کہ اشوک اعظم کے زمانے سے پہلے سے جو کہ قبل مسیح کے دور کا ایک راجہ تھا۔ ہندوؤں کی ایک مذہبی کتاب پران کے مطابق ایک معروف راجہ بھرت یا بھارت نے شمال کے سات علاقون کو متحد کر کے ایک مملکت قائم کی اور وہ مملکت ایک بڑی طاقت بن کر علاقے میں ابھری۔اس دور میں راجہ بھرت کا مقبوضہ علاقہ جو کہ موجودہ بھارت سے کافی چھوٹا تھا کا نام جمبودویپا تھا۔اور اس راجہ کے مرنے بعد ہندوؤں نے اس علاقے کو بھرت ورش(بھرت کا علاقہ) کہنا شروع کیا۔ موجودہ بھارت اسی بھرت یا بھارت کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔
ملاحظہ ہو سری سوامی سیوانند کی کتاب All about Hindus سے اقتباس۔

انڈیا کا تاریخی نام جو سنسکرت ادب میں ملتا ہے وہ بھرت ورش یا بھرت کھنڈ ہے جوکہ راجہ بھرت کے نام پر رکھا گیا ہے ۔ جس نے صدیوں پہلے کافی بڑے علاقے پر حکومت کی تھی۔منو کے مطابق ہمالیہ اور دویپا پہاڑوں کے درمیانی علاقے کا نام اریا ورتا(اریوں کا مسکن) ہے۔انڈیا کا اور ایک نام جمبو دویپا ہے۔یونانیوں نے اس پورے ملک کو اندو کا نام دیا تھااسی بنا پر یہ ملک انڈیا کے نام سے پورے یوروپ میں جانا جانے لگا۔
معروف پروفیسر سی آر مشرا نے اپنی قابل قد تحقیق "Comprehensive history and culture of Orissan" میں لکھا ہے کہ اصل میں لفظ بھارت لفظ انڈیا کے ہم معنی نہیں ہے۔وہ یوں رقم طراز ہیں۔ ،بھارت ورش عمومی معنوں میں شمالی ہند کے علاقوں کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔،(8,121) اسی بات کو مزید تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ سب سے پہلے لفظ بھارت کا تذکرہ ہتمپھاکے مخطوطات میں ملتا ہے اور وہاں پر اس سے مراد صرف شمالی ہند ہے۔لکھتے ہیں کہ "بھارت کے پرانے تاریخی ریکارڈ میں بھارت ورش کا لفظ سب سے پہلے ہتمپھا کے مخطوطات میں ملتا ہے۔لیکن اس وقت اس سے مراد صرف شمالی ہند تھا۔
(C.R. Mishra, `Kharavela and His Times', P: 130, N: 79).

اسی لئے متشدد اور روایت پرست سیاسی پنڈتوں نے اپنے غیظ و غضب کے عمل مظہر کا نام "بھاتیہ جنتا پارٹی" رکھاہے۔ انکی ایک مذہبی کتاب کا نام بھی "مہا بھارت " ہے جو کہ بھارتا کی نسل کی دا شاخوں کورو اور پانڈو کے درمیان طویل ترین جنگ کی ایک منظوم کہانی ہے۔اپنی وطن کو وہ بھارت ماتا بھی کہتے آرہے ہیں اور انہوں نے اپنے پہلے خلائی جہاز کا نام بھی "بھارتینا" رکھا ہے۔ تقریباً پورے بر صغیر میں مسلمانوں کی ایک ہزار سال کی حکومت رہی ہے۔ اگر لفظ انڈیا کا براہ راست ہندو مت سے کوئی تعلق ہوتاتو مسلمان حکمران خصوصاً اورنگ زیب عالمگیرنے اس نام کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا ہوتا۔ لفظ انڈیا جو کہ بلا شرکت غیرے مسلمانوں کا اپنا ورثہ تھا اس کا بھارت ہندوؤں اسی طرح ہتھالیا جس طرح انہوں نے جونا گڑھ، حیدرآباد دکن، دیاچن، کارگل اور کشمیر کو ہتھیایا ہے۔انہوں یہ کس طرح کیا اسکے لیئے ہم یہاں Mr. Larry Collins اور Mr. Dominique Lapierre کی مشہور کتاب Freedom at Midnight سے اقتباس پیش کر رہا ہوں کانگریس نے بر صغیر کے سب سے قیمتی ورثے لفظ انڈیا پر اپنا دعوی کردیا اور اس تجویز کو مسترد کردیا کہ اس کے نئے ملک کا نام ہندوستان رکھ دیا جائے۔ کانگریس نے اس بات پر زوردیا کہ چونکہ پاکستان لفظ انڈیا کے نام سے دستبردار ہورہا ہے اسلئے یہ نام اور اس نام سے وابستہ شناخت اور بین الاقوامی تنظیموں جیسے اقوام متحدہ وغیرہ میں اس نام کی پہچان کا مالک بھارت ہوگا"

اب ذرا تاریخ سے "انڈیا" کی اصلیت کا سراغ لگاتے ہیں۔اس بات کا قطعاً انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یونانی لفظ انڈوس(indos) اور لاطینی لفظ انڈس(Indus) عظیم تر دریا دریائے سندھ کا تقدیمی نام ہے۔دنیا کی قدیم ترین تہذیبوںمیں سے وادئ سندھ کی تہذیب بھی ایک ہے۔جو کہ 3230 قبل مسیح سے پہلے اپنے شاب پر تھی اور اریوں کے حملوں کے نتیجے میں نابود ہوگئی اور اپنے مقام میں آج بھی مدفون ہے۔اس لئے وادئ سندھ کی تہذیب کا اصل مقام دریائے سندھ کا علاقہ ہے۔ اور اس تہذیب کا نام دریائے سندھ کے نام ہی سے ماءخوذ ہے۔ جس کو یونانی اور لاطینی زنانوں میں بالترتیب انڈوس اور انڈس کیا جاتا ہے۔ اسی لئے تاریخ کے قدیم ترین تمدن کو وادئ سندھ کی تہذیب کے نام سے جانا جاتا ہے اگرچیکہ دوسری تہذیبوں کے مقابلے میں یہ تہذیب زیادہ ترقی یافتہ تھی۔موجودہ پاکستان میں ہی اس تمدن کے مدفون کھنڈرات ملے ہیں جس میں فوجی گڑھی بھی شامل ہے۔موھنجدارہ سندھ کی نشیبی سطح کے لاڑکانہ ڈسٹرکٹ میں، چنہو دارو صوبہء سندھ کے نوابشاہ ڈسٹرکٹ، ہڑپا شمال میں سندھ کی اوپری سطح کے پاس سوبہ ء پنجاب کے ساہیوال میں ، شاہی ٹمپ بلوچستان کے علاقے کیج (مکران) کی وادی میں اور جودیرو دارو بلوچستان کے پٹھان علاقے میں۔

اب ذرا تاریخ کے کچھ اور پیچھے چلتے ہیں۔ آریوں کے حملے تین ہزار قبل مسیح سے شروع ہو ئے اور مسلسل ایک ہزار سال تک جاری رہے۔یہ آرین کوئی ایک قبیلہ نہیں تھے بلکہ وسط ایشیا کے بھانت بھانت کے قبائل کا ملغوبہ تھے۔ ابتدائی دور میںانہوں نے عظیم تردریا کو اوپری حصے کو اپنا مسکن بنایا جسے وادئ سندھ کہا جاتا ہے۔ جس کو اس دور میں سپتا سندھوا"Saptasindhva" یا سپتا سندھس" Sapta sindhus" کہا جاتا تھا، جس کا مطلب سات دریاؤں کی زمین ہے(ستلج، بیاس، راوی، چناب، جہلم، سندھ اور معدوم دریا سرسوتی)۔
معروف مصنف بوڈے روئے پنجابی (Bode Roy Punjabi) نے ایک دوسرے معروف مصنف ڈاکٹر ابھیناس چندر داس (Dr. Abinas Chandra Das) کا حولہ دیتے ہوئے یوں رقم طراز ہے "رگ وید کے مطابق وہ علاقہ جہاں یہ ویدک آریائی مقیم تھے سپتا سندھ یا سات دریاؤں کی زمین کے نام سے معروف تھا جس میں انڈس یا سندھ اپنی شاخوں سمیت مغرب میں اورمشرق میں سرسوتی شامل تھی گنگا اور جمنا کا ذکر بھی ضرور ہوا ہے لیکن اور ان سات دریاؤں کے گروپ میں قطعاً شامل نہیں ہے جس سے اس ملک کا نا ماءخوذ ہے"
بوڈے روئے پنجا بی (Bode Roy Punjabi) اپنی کتاب میں Saptasindhva میں ہوں لکھتے ہیں۔

اسطرح وہ علاقہ جو موجودہ دور میں کشمیر، پنجاب، صوبہء سرحد، نشرقی بلاچستان اور سندھ آریوں کا مسکن تھا۔

ممتاز اسکاکر A.L. Bhasham نے اپنی مشہور تصنیف The Wonder that was India’ میں یوں لکھا ہے "دو مشہور دریائی مجموعوں میں سندھ جا کہ ےقریباً پورا موجودہ پاکستان میں ہے وہ ایک قدیم ترین تمدن کا مظہر ہے اور اسی سے انڈیا کا نام ماءخوذ ہے۔پنجاب کی زرخیز زمین کو جہ دریائے سندھ کی پانچ شاخوں سے مرطوب ہے دو ہزار سال قبل مسیح میں ایک اعلی پائے کی تہذیب کا مسکن رہاہے اور یہ تہذیب دریائے سندھ کے بہاؤ کے بچلے حصے جہاں پر یہ سمندر سے جا ملتا ہے تک پھیل گئی تھی۔ اسی طرح معروف محقق شری سوامی سیوانند اپنی تحقیق ‘Origin and Significance of the term Hindu’ (لفظ ہندو کی اہمیت اور اصلیت) میں یوں رقم طراز ہیں۔

عظیم آریائی نسل کا جو حصہ سب ایشیاءسے ترک وطن کرکے پہاڑوں سے گزرتا ہوں انڈیا میں داخل ہواتو وہ پہلے دریائے سندھ کے دوسری طرف کے علاقہ جات میں آباد ہوا۔پارسی قوم سندھو کو ہندو کہا کرتی تھی اور اسطرح انہوں نے اپنی برادری کے اس حصے کو جو سندھ کے پاس آباد ہوئے تھے اسکو ہندو کا نام دیا۔ لفظ ہندو در حقیقت سندھو کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔

چونکہ آریائی قوم کا نیا وطن مجموعی طور پر سپتا سندھو کے اطراف میں تھا اس لئے ان کو علامتی طور پرمشرقی زبانوں میں سندھو یا سندھی کہا جانے لگا ۔ اورچونکہ مغربی زبانوں میں دریائے سندھ کو Indus کہا جاتا تھا اسی وجہ سے ان کو مغربی زبانوں میں Indian کہا جانے لگا۔کوئی بھی آریائی اس وقت قطعاً ہندو نہیں تھا اور نہ ہی یہ ممکن تھا کہ اس وقت لفظ ہندو موجودہ مفہوم میں وجود میں بھی نہیں آیا تھا۔ اسی طرح وادئ سندھ کی تہذیب کے مرکز کو جو کہ اب پاکستان کا ایک حصہ ہے کو آج بھی سندھ (صوبہء سندھ) اور وہاں کے باشندوں کو آج بھی سندھی کہا جاتا ہے۔

تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لفظ سندھو جو کہ سندھ کے مقامی باشندوں کے لئے استعمال ہوتا تھا بگڑ کر لفظ ہندو میں کیسے تبدیل ہوگیا جو کہ ایک مخصوص مذہب ہندومت کے لئے استعمال ہونے لگا۔دوسرے الفاظ میں سندھو جہ کہ سندھ سے ماءخوذ تھا بگڑ کر ہندو کیسے بن گیا کو کہ ایک مخصوص عقیدے کے لئے مستعمل ہے۔درحقیقت لفظ ہندو کا ہندو مذہب سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ لفظ ہندو کا ظہور ہندو مذہب کے مقابلے میں بہت پہلے ہوچکا تھا۔ہندوازم ( بمعنی ہندو مذہب) کی اصطلاح بہت جدیدہے (لفظ ہندو کے وجود میں آنے کے تقریباًدوہزار سال بعد)۔ ذات پات اور نسلی امتیاز پر بنے ہوئے مذہب ک(ورن آشرم) کو مستشرقین نے جو نام دیا وہ ہندوازم تھا۔

یہ بات تقریباً سب کے نزدیک متفقہ ہے کہ لفظ ہندو اصل میں سندھو کی بگڑی ہوئی شکل ہے جس کے معنی وادئ سندھ کے باشندہ کے ہوتے ہیں۔اور آج بھی پاکستان کے سندھ کے باشندوں کو سندھی ہی کہا جاتا ہے۔ قبل مسیح کے پہلے ہزارے(millennium) کے نصف اول میں ہندوستان کے قریب ترین پڑوسی پارسیوںنے ہندوستان پر چڑھائی شروع کی تو انہوں نے اپنے تلفظ کے مطابق سپتا سندھو جو کہ اس وقت وادئ سندھ کا اصلی نام تھا کو "ہفت ہندو" قرار دیا۔ پارسی زبان میں ہفت کا مطلب سات کے ہوتے ہیں جو کہ بعینہ سپتا کے معنی بھی ہے۔ تو چونکہ ہندو سندھی کی بگڑی ہوئی شکل ہے تو لا محالہ یہ مانن پڑے گا کہ ہندی بھی سندھی کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔یہی وجہ ہے آج بھی عرب ممالک میں انڈین مسلمانوں کو بشمول پاکستانیوں کے ہندی کہا جاتا ہے جبکہ لفظ ہندو سے مراد نسلی امتیاز کی بنیاد پر بناہوا ایک مذہب ہے۔آج بھی کوئی ہندو مذہب کا ماپیرو اپنے مذہب کے ماننے والوں کے علاوہ کسی اور کو ہندو نہیں کہہ سکتا۔ لفظ ہندو اور ہندی اتنے واضح طور پر مختلف رہے ہیں کہ ورن آشرم (بمعنی ہندو مذہب) کی پیدائش کے وقت سے عربی زبان میں ہندو یا ہندوکی کے الفاظ فقط ہندو مذہب کے ماننے والوں کے لئے ہی مستعمل رہے ہیں۔ اس کی جمع بھی پہلے سے عربی زبان میں ہندوس یا ہنادکہ رہا ہے جبکہ لفظ ہندی کا جمع (ہنود) بالکل الگ سے پہچانا جاتا رہا۔

اب کچھ اور گہرائی میں چلتے ہیں۔ آریوں کے نقل وطن کے دو ہزار سال بعد تریباً ایک ہزار قبل مسیح میں انہوں نے پرانے بت پرستون کی طرح سے بتدریج ایک ایسے تمدن کی بنیاد رکھی جو بنیادی طور پر فن سنگ تراشی پر مرتز تھا۔پہلے تو انہوں نے اس فن میں انتہائی کشش محسوس کی پھر اس فن کو اپنایا اور آخر میں جاکر یہی فن ان کا مذہب وہ عقیدہ بن گیا۔تو کچھ ایسے حالات تھے کہ ایک ہزار ق م میں فن سنگ تراشی کی بنیاد پر بنا ہوا عقیدہ اپنی ہیئت تبدیل کر کے نسلی امتیاز پر اور ذیت پات پر بنا ہوا ایک مذہب بن کر ابھرا۔ لیکن ابھی بھی اس مذہب یا عقیدے کو ہندو کا نام نہیں دیا گیا تھا۔ پہلے تو اسے ورن آشرم بھر سناتن دھرم (دائمی راستہ)کا نام دیا گیا۔ جیسا کہ ان کی نہایت ہی بنیادی قدیم ترین اور مقدس ترین مذہبی کتابوں (رگ وید، یجر وید، سام وید اور اتھروا وید) میں مذکور ہے اور اس قدامت کی وجہ سے ہی انہیں ہندو دھرم کا بچپن کہا جاتا ہے۔وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ آریوں میں نسلی اور عقائد کا فرق بھی غیر معمولی طور پر واضح ہونا شروع ہوا۔ چونکہ آرین نسل کے تمام لوگوں نے ورن آشرم یا فن سنگ تراشی اور نسلی امتیاز کی بنیاد پر بنے ہوئے مذہب جوں کا تں قبول نہیں کیا تھااس پنا پر آرین اور ہندو (سندھو) جیسے الفاظ نے اپنی معنی کھودئے۔آرین نسل کا وہ حصہ جن نے ورن آشرم کو اپنے مذہب کے طور پر قبول کرلیا اس کے لئے لفط ہندو خاص ہو گیا اور باقی لوگوں کے لئے مشرقی زبانوں میں ہندی اور مغربی زبانوں میں Indian خاص ہو گیا۔ تو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ جس طرح لفظ ہندو سندھو کی بگڑی ہوئی شکل ہے اسے طرح ہندو قوم ان آریوںکی بگڑی ہوئی باقیات ہے جنہوں نے ورن آشرم بطور مذہب کے قبول کر لیا تھا۔بعد ازاں جب آرین قوم پورے برصغیر میں پھیل گئی تو یہ علاقہ مشرقی زبانوں میں برصغیر ہند کہلایا اور مغربی زبانوں میں Indian subcontinent اور بلاتفریق مذہب یہاں کے باشندون کو بالترتیب ہندی اور انڈین کہا جانے لگا۔جبکہ ورن آشرم یا ذات پات پر مبنی مذہب کے ماننے والوں کو تخصیص کے ساتھ ہر زبان میں ہندو کہا جانے لگا۔اسی طرح ایشین سے مراد ایشیاءکے باشندے ہیں قطع نظر اس سے کہ وہ کس مذہب کے ماننے والے ہیں۔آج انڈیا کے باشندوں کو عمومی طور پر انڈین کہا جاتا ہے جبکہ بھارت کے مسلمانوں کو انڈین مسلم ، عیسائی مذہب کے مننے والوں کو انڈین کرسچن اور سکھ مذہب کے ماننے والوں کو انڈین سکھ کہا جاتا ہے۔جیساکہ ہم نے پہلے کہاتھا کہ آریائی قوم کوئی واحد قبیلہ یا نسل نہیں تھی بلکہ ایک کثیر نسلی ملی جلہی قوم تھی۔اس بنا پر جب ایک بڑی تعداد نے ترک وطن کرکے دوسری جگہ بود و باش اختیار کیا توان میں مذہبی اختلافات ظاہر ہونا شروع ہوئے تو لفظ ہندو ایک متعین مذہب کے لئے خاص ہو کر ہوگیا اور ہندی، سندھی یا انڈین جیسے الفاظ اپنے اصلی معنوں میں باقی رہے۔ دراصل ہندو مذہب کا اپنا کوئی نام تھا ہی نہیں۔پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہیہ مذہب امی ابتداءسے بغیر نام کے رہا کیوں؟ اسکی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ مذہن اپنے آغاز میں کوئی منظم مذہب تھا ہی نہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ جس طرح انسانوں کے بنائے ہوئے مذہب کے بانی ہوتے ہیں اس مذہب کا کوئی بانی نہیں تھا۔ نہ زمین میں نہ آسمان میں۔ اس کے بالمقابل ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی روحانی پیشوا دوسرے مذہب کا بانی رہا ہے۔ گوتم بدھ، کنفیشس، زرتشت، لاؤزئی، مہاویر، جوزف سمتھ، گرو نانک وغیرہ اپنے مذاہب کے باقاعدہ بانی مانے جاتے ہیں۔

اپنے ابتداءمیں ورن آشرم مختلف رسوم کا مجموعہ تھا جو کہ عقیدے کے بجائے صرف ایک طرز زندگی کے طور پر لیا جاتا تھا۔ آہستہ آہستی آریوں کے مختلف قبائل اور مقامی دراوڈ قوم کے نتیجہ میں ویدک تمدن وجود میں آیا۔اس کے باوجون تقریباً دو ہزار سال کے بعد ہی لفظ ہندو کو اس مذہب کے لئے تعین کے ساتھ استعمال کیا جانے لگا۔

معروف ہندو اسکالر "نراد سی چودھری" اپنی کتاب "Continent of Circe" میں یوں لکھتے ہیں۔

مجھے یہ جان کر تعجب ہو کہ ہم میں سے کتنے تعلیم یافتہ لوگبھی یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہندو اس لئے ہیں کیونکہ ہم ہے مذہب "ہندو مت "کے ماننے والے ہیں۔وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ لفظ ہندو اسی طرح ایک مذہب سے نکلا ہے جس طرح مسلم اسلام سے اور عیسائی عیسائیت سے۔جبکہ لفظ ہندو کا ہندو مذہب سے اسطرح کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ جب زمانہء جدید کے مغربی مستشرقین نے ہندوستان کے مذاہب کا مطالعہ شروع کیا تو انہوں نے دیکھا کہ اس مذہب کے ماننے والوں کے احساسات، عقائد اور رسوم ورواج کا سوائے سناتن دھرم(دائمی رستہ) کے کوئی نام متعین نہیں ہے۔ انکے اپنے حساب سے اس مذہب کا کوئی نام تھا ہی نہیں اسلئے انہوں نے اس مذہب کا نام خود سے ہندوازم تجویز کردیا۔درحقیقت ہم اس لئے ہندو نہیں ہیں کیونکہ ہم ہندوازم نام کے ایک مذہب کے ماننے والے ہیں۔ہمیں ہندوازم کا جو لیبل دیا گیا ہے وہ بالکل ہی نا مناسب ہے۔ ہندوازم انڈیا کے مختلف عقائد اور رسوم کے بے ترتیب اختلاط کا نام ہے۔اس طرح تو یونانی مذہب کو Hellenism اور Graecism ہونا چاہیئے۔

ایک اور مشہور ہندو اسکالرپنڈت شیو کشن کول نے اپنی کتاب Wakes up Hindus میں یوں لکھا ہے۔
ہندوازم کا لفظ ہندو سے ماءخوذ ہے جو کہ سندھو کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ ویدک دور میں پنجاب کو سپتا سندھ (سات دریاؤں کی زمین) کہا جاتا تھاجس کو ایرانیوں نے ہفت ہندو کردیا۔ اسی بنا پر پر مسلم حملہ آوروں نے پنجا ب کے باشندوں کو "ہندو"قرار دیا۔

(جاری ہے)

(1) واضح رہے کہ یہاں پر یہ بتانا قطعاً مقصود نہیں ہے کہ مسلمانوں کی کونسی چیز اسلامی ہے اور کونسی نہیں۔ موضوع یہ چل رہا ہے کہ جس چیز پر آج ہندو فخر کر رہا ہے وہ بہرحال ان لوگوں کے کارنامے تھے یا ہیں جو معروف معنوں میں مسلمان ہی تھے اور ان کی صلاحیتیں جو غلط رخ پر لگی ہے وہ بہر حال ان کی تھی جن کے اباءو اجداد مسلمان ہی سمجھے جاتے ہیں۔