سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ اپریل 2008

اقتباسات

Download in PDF forma

فوائد

انتخاب: ضیغم المرتضیٰ
 

وہ آنکھ جو تیری خوشنودی کے سوا دوسرے مقصود کی خاطر جاگے، بیکار ہے!

اور تجھ کو چھوڑ کر کسی اور کے کھو جانے پر روئے، اس کے آنسو ضائع وبرباد ہیں!
 

ایک دوسرا (عرب) شاعر کہتا ہے:

وہ دل جس میں تیری یاد بسی ہو

اسے کسی چراغ کی ضرورت ہی نہیں رہتی

تیری متوقع رضا ہماری سب سے بڑی دلیل ہوگی

جس دن لوگ دلائل کے انبار لگائیں گے

ان تمام باتوں نے اخوان کی عقلوں اور ان کے دلوں پر گہرے اثرات چھوڑے۔ چنانچہ ایک ایسی خدا پرست نسل پروان چڑھی جو محض خدا کیلئے اپنی راتیں جاگتی تھی اور اس کی خاطر دن کو بھوک پیاس برداشت کرتی تھی۔

ٹھنڈک کی شدت اسے قیام سے روک سکتی تھی نہ چلچلاتی دھوپ اور آفتاب کی تمازت اسے روزہ رکھنے سے منع کرسکتی تھی۔ اس لئے کہ اسے اپنے رب کی عبادت میں مزہ آتا تھا۔ اس کی اطاعت میں لذت ملتی تھی۔ اور اس کے حضور کھڑا ہونا اپنی خوش نصیبی سمجھتی تھی۔ اس صورتحال کی بہترین تعبیر کشی مرد بزرگ کے اس قول میں ہے کہ اگر بادشاہوں کو اس لذت و سعادت کا پتہ چل جائے تو وہ اس جرم میں ہمارے گردنیں ناپ دیں۔

مجھے جیل خانہ طور کے تہجد گزاروں کی صفیں ہمیشہ یاد رہیں گی جہاں رات کے تہائی حصہ میں کوئی اخوانی مؤثر آواز میں یوں صدا لگاتا:

یا نائما مستغرقا فی المنام

قم فاذکر الحی الذی لا ینام

مولاک یدعوک الیٰ ذکرہ

وانت مشغول بطیب المنام

”اے سونے والے نیند میں ڈوبے ہوئے شخص!
اٹھ جااسی زندہ ہستی کو یاد کر جو سوتا نہیں
تیرا آقا تجھے اپنے ذکر کی طرف بلا رہا ہے
اور تو خواب خرگوش کے مزے لے رہا ہے

 

چنانچہ سونے والا بیدار ہوجاتا۔ بوجھل فرد ہلکا ہو جاتا اور سست طبیعت کا آدمی اٹھ بیٹھتا تاکہ رات کی اس مبارک گھڑی میں اللہ کی پاکیزہ خوشبو پاسکے، اس توقع کے ساتھ کہ اسے بھی سحر میں مغفرت چاہنے والوں کی برکت میسر آجائے۔

التربیۃ الاسلامیۃ ومدرسۃ الحسن البنا

(اخوان کا تربیتی نظام)

جب یہ دین ایک معاشرے اور تہذیب میں ڈھل گیا اور اس کی ضیا پاشیوں نے افکارِ عالم کو منو رکر دیا تو پھر شیطان کی چالیں کامیاب ہونے لگیں۔ دنیا کی محبت اور لذتوں نے مسلمانوں میں کمزوری پیدا کرنی شروع کردی۔ اس حالت میں منگولوں کا سیلاب اٹھا اور مسلم تہذیب کے مرکز اور ایک بڑے خطے کو بہا کر لے گیا۔

لوگ روتے رہ گئے۔ بستیاں ویران ہو گئیں اور شہر اجڑ گئے۔ بلکہ ہر شہر میں مسلمانوں کی کھوپڑیوں کے مینار بن گئے۔ اب بظاہر یہ اس دین اور اس تہذیب کا خاتمہ تھا لیکن اچانک یہ زخمی اور ہزیمت خوردہ شیر جاگ اٹھا اور وہی منگول جو اسے فتح کرنے آئے تھے اس کے سامنے مفتوح ہوگئے، اور اسلام اور مسلم تہذیب پھر غالب آگئی۔ چنانچہ ابن خلدون کہتا ہے کہ یہ منگولوں کا حملہ تھا جس نے مسلمانوں کو خوابِ غفلت سے جگایا اور انہیں حیات نو بخشی۔

ہم کہتے ہیں کہ جب اس مسلم تہذیب کی ابتدا یہ تھی کہ اس کے ماننے والے کمزور تھے پھر دشمنوں کے ظلم وستم نے اسے طاقت بخشی۔ جب اس کا وسط یہ ہے کہ جب منگولوں نے اس عظیم الشان عمارت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تو ان کے ظلم وستم نے ایک نئی امت مسلمہ کو جنم دیا،جو ان پر غالب آگئی.... تو اس تہذیب کے آخری دور میں یہ کیوں نہیں ہوگا کہ اس پر ظلم وستم کرنے والے مٹ جائیں گے اور اس کے نتیجے میں یہ تہذیب پہلے سے زیادہ توانا اور طاقتور ہوکر ابھرے گی؟ منطق کا کوئی فارمولا ہمارے اس دعویٰ کو رد نہیں کر سکتا۔ جو پہلی صدی ہجری میں سچ تھا، جو ساتویں صدی میں سچ تھا، وہ آج پندرھویں صدی کی ابتدا میں سچ کیوں نہیں ہوسکتا؟

(مسلم نشۃ ثانیۃ، اساس اور لائحہء عمل)

ڈاکٹر محمد امین