سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ اپریل 2008

بیداری<< منہج

Download in PDF forma

 اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے !

شبابِ اسلام کو درپیش چند مغالطے

حصہ اول

حصہ دوم

(شیخ صالح ابن عثیمین رحمۃ اللہ علیہ)
اردو استفادہ: عائشہ جاوید

 

ہمارے لیے یہ موقعہ بے پایاں اعزاز کا باعث ہے کہ اس بابرکت مجلس میں ہم ایک ایسے مسئلے کی جانب توجہ مبذول کرائیں جو نہ صرف اسلامی معاشرے کیلئے باعث تشویش ہے بلکہ دور جدید میں تما م اقوام عالم کا نوجوان طبقہ اس مسئلے کی بابت اضطراب کا شکار نظر آتا ہے۔نفسیاتی الجھنوں کی دلدل میں بتدریج دھنستے ہوئے یہ نو جوان تاریکیوں سے روشنی کی طرف لیجانے والی راہگزر سے قطعی نابلد ہوتے ہیں اور بالآخر یہ لا علمی ہی انکے لیے سوہان روح بن جاتی ہے۔ہمارے نزدیک نوجوانوں کی اکثریت کو یہ باور کرانے کی جتنی ضرورت اب ہے ، شاید پہلے کبھی نہ تھی کہ انکے جملہ مسائل کا حل اپنے کردار کو اللہ کے دین کے مطابق ڈھال لینے میں ہے ۔ایسا کر لینے سے ہی اجمالی طور پر معاشرے میں خیر اور بھلائی کے پنپنے اور شر اور برائی کے قلع قمع ہونے کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔بلاشبہ جس طرح اقوام کی تقدیر افراد کے ہاتھوں بنتی اور بگڑتی ہے اسی طرح اللہ کے دین کی تقویت کا موجب اس دین کے پیروکار ہوا کرتے ہیںجبکہ وہ خلوص نیت سے اس دین کی سربلندی کا بیڑہ اپنے سر لینے کا عزم کر چکے ہوں ۔پھر نصرت الہی خود بخود انکا مقدر بن جاتی ہے۔

اے لوگو جو ایمان لائے ہو،اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط جما دے گا۔رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے تو انکے لیے ہلاکت ہے اور اللہ نے انکے اعمال کو بھٹکا دیاہے “(47:7,8)

اب یہ ایک لازمی امر ہے کہ اس بار عظیم کو بطریق احسن نبھانے اور ایک عالم کی قیادت اور رہنمائی سے نبردآزما ہونے کیلئے اس دین کے علمبردار اپنی ذمہ داریوں کا بخوبی ادراک کر لیں ۔چنانچہ یہ طے پانا ناگزیر ہے کہ ہم اپنے اعمال و اقوال، دعوت و رہبری کیلئے ایسے مصادر سے رجوع کریں جن کی مدد سے متلاشیانِ حق کو منزل مقصود تک پہنچنے کا موثر گر بتا پائیں اور باطل طاغوتوں سے ٹکر لیکر منہ توڑ جواب دے سکیں۔

اور یہ مصادر موثوق اللہ عز وجل کی کتاب اوراسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت حسنہ ہیں ۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نہ صرف ان روشن دلائل سے علمی استفادہ کریں بلکہ ایمان ، خلوص اور جذبہء قربانی سے سرشار اسکے عملی پیکر بن کر ابھریں۔ سامعین کے دلوں پر محض خطابت اس وقت تک اثر انداز نہیں کرتی جب تک کہ اسکے پس پردہ عمل کا ایک بھر پور نمونہ موجو د نہ ہو۔

”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ،تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں“ (61:3,4)

اگر ہم صدق دل سے نوجوانوں کی اصلاح کے متمنی ہیں تو ہمیں اس بات کا بغور جائزہ لینا ہو گا کہ انکے فکری انداز اور افعال کے پیچھے کونسے عوامل کارفرما ہیں۔شریعت اسلامی نے صحیح خطوط پر شباب کی تربیت اور تزکیہ نفوس پر اسی لیے خاطر خواہ زور دیا ہے کہ انکے عقیدہ اور فکر کی پختگی ہی اللہ کے فضل سے امت مسلمہ کے لیے ایک ضوفشاں مستقبل کی ضامن ثابت ہو گی۔

٭٭٭٭٭

شاب اسلامی ایک نظر میں۔۔۔۔

صورتحال کا حقیقت پسندی سے تجزیہ کرنے پر ہمارے خیال میں دریں حالات عالم اسلام کے نوجوان طبقے کوتین گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

اول الذکر وہ نوجوان جو اللہ کے فضل و کرم سے راہ راست پر ہیں ، یہ وہ خوش نصیب ہیں جو ایمان کی حلاوت سے آشناہوتے ہیں۔بنا بریں اس لازوال دولت کو پا لینا انکے نزدیک عظیم کامیابی، اسکو ہر چیز پر مقدم رکھنا انکو سب سے بڑھ کر محبوب اوراسکی جدائی کا تصور انکے دل کو دہلا کر رکھ دیتا ہے۔وہ تمام خلائق سے کٹ کر اس خدائے واحد کی جانب لپکتے ہیں کہ جسکے سوا زندگی کا کوئی حاصل نہیں۔وہ سید المرسلین، خاتم النبیین محمد بن عبداللہ علیہ الصلوۃ والسلام کی اتباع کو اللہ کی محبت پانے کاذریعہ جانتے ہیں ،نمازوں میں خشوع اختیار کرنے کی بھرپور سعی کرتے ہیں کہ یہ دنیوی اور اخروی نجات کی نوید لیے ہوئے ہے،نالہء نیم شب اور آہ سحر گاہی سے فضائے آسمانی کو مرتعش کیے رکھتے ہیں،اپنے رب کے حکم کی پابندی کرتے ہوئے اسکے عطاکردہ رزق کو زکوۃ کے توسط پاک رکھتے ہیں اپنے نفس کی خواہشات پر اپنے رب کی رضا پا لینے کو ترجیح دیتے ہوئے رمضان کے روزوں کا اہتمام کرتے ہیں، اپنے خالق حقیقی کی محبت سے سرشار ، اسکے مقدس گھر کی ایک جھلک پانے کی آرزو انکے وجود کو ماہیِ بے آب کیطرح بیتاب رکھتی ہے، استطاعت رکھنے کیصورت میں وہ حج کا مقدس فریضہ ادا کرنے کیلئے دور دراز سے بیت العتیق کی سمت کھنچے چلے آتے ہیں۔
ان اہل ایمان کو اپنے گرد و نواح اور مظاہر کائنات کے ہر ذرے میں مالک کون ومکاں کی تجلیات دکھائی دیتی ہیں ، تخلیق دنیا کے لا یعنی فلسفے انکے عقائد کو متزلزل نہیں کر سکتے ، وحی کے نور کے بالمقابل عقلی دلائل کی انکے ہاں کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔انکی نظر میں ایک منظم اور مربوط نظام بذات خود اس بات کا گواہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ دنیا ”حادثاتی“ طور پر معرض وجود میں نہیں آ گئی بلکہ اسکی تخلیق ایک بلند و بالا ہستی کی مرہون منت ہے ، اسکا ذرہ ذرہ اس رب جلیل کی قدرت کی پکا ر پکار کر گو اہی دے رہا ہے جسکو کبھی فنا نہیں اور جسکا کوئی کام خالی از حکمت نہیں۔

”اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤگے“ (33:62)

”تم رحمان کی تخلیق میں کسی قسم کی بے ربطی نہ پاوؤ گے۔پھر پلٹ کر دیکھو ، کہیں تمہیں کوئی خلل نظر آتا ہے؟بار بار نگاہ دوڑاوؤ۔تمہاری نگاہ تھک کر نامراد پلٹ آئیگی“ (67:3,4)

یہ ہمارے وہ صالح فطرت نوجوان ہیں جو ملائکہ پر ایمان رکھتے ہیں کہ انکے خصائل ان مصادر میں بیان ہوئے جو براہ راست وحی ہیں۔انکا ایمان ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے بنی نوع انسان کی رشد و ہدایت کیلئے مختلف ادوار میں صحائف اور کتب نازل فرمائی ہیںکہ محدود سمجھ بوجھ رکھنے والے انسانی ذہن کیلئے بندگی کے دقیق پہلووؤں تک رسائی انکی عدم موجودگی میں ممکن نہ تھی۔مزید برآںیہ اس عقیدے کو اپنے ایمان کا لازمی جز تصور کرتے ہیںکہ اللہ نے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کیلئے انبیاءو رسل کی صورت میں قاصد بھیجے کہ جہالت و تاریکی کی دھند چھٹ جائے اور سنت اللہ کے عین مطابق لوگوں پر حجت قائم ہو جائے۔اس طبقے کیلئے یہ بات بھی باعث صد اطمینان ہے کہ اس فانی دنیا میں کی گئی ذرہ برابر نیکی بھی رائیگاں نہیں جائیگی اور اسکا احسن بدلہ اس روز مل جائےگاجس روز انصاف کرنے والا ہر ذی روح کے ہر ہر عمل کا پورا پورا حساب چکائے گا،یہ حقیقت بھی ان پر اظہر من الشمس ہے کہ قضا و قدر کا معاملہ اللہ جل جلالہ کے اختیارمیں ہے ،قلم اٹھا لیے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہو چکے ہیں تاہم یہ اسباب کے وجود اور انکے اثرات سے بھی انکاری نہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ خیر اور شر کی بابت انتخاب کا اختیار ابن آدم کو دے دیا گیا ہے۔

اس نوجوان طبقے کی اصول اہل السنتہ و الجماعتہ کی امتیازی حیثیت پر گہری نظر ہوتی ہے، لہذٰا اسکی روشنی میں یہ رب العرش ،اسکے سفیران حق ،وحیءخالص اور اولی الامر کی طاعت کے شعار حسنہ پر کاربند رہتے ہیں،عامتہ المسلمین کے ساتھ وسیع النظری کا معاملہ رکھتے ہیں،حق بات کی ترویج میں لیت و لعل سے گریزکرتے ہیں،اپنے رب کی طرف اس حکمت سے دعوت دیتے ہیں جیسا کہ انکے رب نے انکو حکم دیا ہے اور جسکا عملی منہج یہ قرون اولیٰ کے مسلمانوں سے اخذ کرتے ہیں۔امر بالمعروف و نہی عن المنکرکی معاشرے کیلئے افادیت کو پیش نظر رکھتے اس میں بھر پور کردار کرتے ہیں۔

”اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کےلئے میدان میں لایا گیا ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو“(3,110)

”اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو اور حکمت اور عمدہ نصیحت کیساتھ اور لوگوں سے مباحثہ کر و ایسے طریقہ پر جو بہترین ہو“ (16:145)

یہ برائی کے خاتمہ کیلئے اپنی تماتر توانائیاں اسی جہت میں صرف کرتے ہیںجسکا طریقہءکارانکو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و احادیث میں ملتا ہے،انکی ز بان سے حق کے علاوہ کوئی بات نہیں نکلتی کہ یہ جانتے ہیں کہ صدق گوئی جنت کی جانب لیجانے والی شاہراہوں میں سے ایک ہے۔یہ اپنے گردو پیش کے بھائیوں کیلئے ہر معاملہ میں خیر کے خواہاں ہوتے ہیں ۔اللہ اور اسکے دین کی سربلندی کیلئے اپنی انا اور ذاتی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر جد و جہد کرنا اور اس ضمن میں تن من دھن کی بازی لگا دینا انکا نصب العین ہے۔سلام ہو ان پر !کہ یہ عنفوان شباب میں اللہ کے نزدیک سرخروئی پالینے کیلئے اس عزیمت کا مظاہرہ کر دکھاتے ہیں جو ایک سچے مومن کا خاصہ ہوا کرتی ہے۔اس لیلائے مقصود سے ہمکنارہونے کیلئے وہ اپنے شب و روز اس ذات باری تعالی کے دین کی نشر و اشاعت میں صرف کرنے کو دنیا میں دی گئی مہلت کا بہترین مصرف تصور کرتے ہیں ۔انکی تمنائیں قلیل، انکے مقاصد جلیل، انکی نیکدلی اور پاکبازی ضرب المثل ہوا کرتی ہے۔غرضیکہ یہ ہمارے وہ گوہر نایاب ہیں جن سے ہم امت محمد کی نشۃ ثانیہ کیلئے بہت سی توقعات وابستہ کیے بیٹھے ہیںہماری دعا ہے کہ رب رحیم انکو اس قابل کرے کہ یہ ظلمت کی روسیاہی کو اجالوں میں بدل ڈالنے کا کٹھن فریضہ بخوبی انجام دے پائیں۔

ثانی الذکر وہ نوجوان جو صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے ہیں یا سچائی کی تلاش میں راستہ کھو بیٹھے ہیں۔حق کے مقابل انکی ہٹ دھرمی کے نتیجے میں انکے دلوں پر مہر لگ چکی ہوتی ہے۔ اندھے گونگے اور بہرے کر دیے گئے ہوتے ہیں جس کے باعث انکے پلٹ جانے کے امکانات مدہم تر ہوتے ہیں۔ دعوت حق سے کنارہ کشی ،گناہ سے حصول لذت وسرور، حقوق اللہ اور حقوق العباد سے بے نیازی،خودپسندی ،خالق حقیقی کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز،اخلاقی اقدار کی پامالی غرضیکہ رحمان کی راہوں سے دور لے جانے والا ہر عمل انکی رگ و پے میں سرایت کر چکا ہوتا ہے۔ یہ وہ بدنصیب ہیں جنکے لیے انکے اعمال خوشنما بنا کر پیش کر دیے گئے ہیں، پس یہ سمجھتے نہیں۔تف ہے اس گھاٹے کے سودے پر! کہ ا نکی تمامتر سعی و جہدراہ راست سے بھٹکی ہوئی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ کمال کے کام کرہے ہیں۔ ناکامی اور نامرادی کا اس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہوگا؟؟؟بلاشبہ ایسے عناصر کا وجود امت کے لیے رستے ہوئے ناسور سے کم نہیں گناہوں پر اصرار کی بنا پر ان پر ہدایت کے در بند کر دیے گئے ہیں کہ یہ اسکے طلبگار ہی نہیںالا ما شاءاللہبیشک ہر ذی روح کی پیشانی اس کے رب کے ہاتھ میں ہے۔

اور آخر الذکر وہ جو حق اور باطل کی کشمکش کے مابین خود کو معلق پاتے ہیں اور تاحال گوہرِ مطلوب تک مکمل طور پر نہیں پہنچ سکے۔ حق کی صدا ان کے ذہن کے دریچوں تک رسائی پا گئی ہوتی ہے تاہم جس معاشرے میں یہ زندگیاں گزار رہے ہوتے ہیں وہاں برائیوں کی بہتات انکے دل میں شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے عمل کی راہیں مسدود کرتی ہےایمان تزلزل کا شکار نظر آتا ہےیوں یہ بھٹکے ہوئے راہی سوئے حرم چلتے چلتے نشان منزل کی بابت تذبذب کا شکار نظر آتے ہیں۔یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ آیا فلاح کی راہ پانے کیلئے زمانے کے شانہ بشانہ وقت اور حالات کی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھ کر چلا جائے یا سلف صالحین کے نقوش پا کو مشعل راہ بنایا جائے۔ایمان کی ڈگمگاتی حالت کے مابین یہ کبھی ایک جانب لپکتے ہیں کبھی دوسری جانبمگر انکے دل اس روحانیت سے آشنا نہیں ہو پاتے جسکی لگن اور جستجو انہیں کوئی راہ منتخب کرنے کیلئے تڑپائے رکھتی ہےتھک ہار کر یہ خاموشی اختیار کر لیتے ہیںلیکن ایک بے نام خلش ان کے دلوں کو مسلسل بے چین رکھتی ہے

یہاں ایک بہت اہم نکتہ توجہ طلب ہے کہ واضح اکثریت میں موجود اس نوجوان طبقہؤ فکر کیلئے رہنمائی کا فریضہ کون انجام دے اور کیسے؟

عمومی مشاہدے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ سیکولر نظام تعلیم کی یہ پیداوار پود روایتی دینی تعلیم سے ہی متعارف ہوتی ہے جس میں اساس دین کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔چنانچہ وہ دین کی حقیقی روح سے لاعلم ہونے کی بنا پر منزل کی تلاش میں خود کو بے بس پاتے ہیںرہروئے منزل راہبر کا سراغ کیسے پائیں؟ نصب العین کا تعین کیسے ہو آخر؟؟ اسکا یہی حل ہے کہ وحی کے شفاف چشمے سے سیراب ہوں کہ اس تشنگی کو دور کرنے کی کوئی اور صورت نہیں۔مصادر موثوق سے استفادہ بذریعہءورثائے انبیائہمارے نزدیک یہی شاہ کلید ہے اور اس پر عمل پیرا ہونا شاید اتنا مشکل نہیں جتناعوام الناس کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے

منزل سے دور لے جانے کا سبب کونسے محرکات ہیں،تلاش حق کے راہی کن مسائل میں الجھ کر راہ کھو دیتے ہیں، قضا و قدر کے متعلق انکے تحفظات کیا ہیںاس بارے میں گفتگو آئندہ نشست میں ہو گی انشا ءاللہ

٭٭٭٭٭