|
|
|
|
ایقاظ کی الجھن!
حامد کمال الدین کئی ایک ملاحظات ہمیں پچھلے شمارہ کے مضامین کے حوالے سے موصول ہوئے ہیں ، جن میں سے بعض کی بابت قارئین کو شریک خیال کر لینے میں ہمارا خیال ہے کوئی حرج نہیں .... ’رو بہ زوال امیریکن ایمپائر، عالم اسلام پر حالیہ صلیبی یورش کے پس منظر میں ‘....ہمارا گزشتہ شمارے کا اداریہ تھا۔ اس کی بابت کئی ایک امور ایسے ہیں جن کی کچھ وضاحت ہوجانا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ایقاظ کااصل موضوع، جیسا کہ اس کے مضامین سے عیاں ہے، در اصل امت کا اندرونی محاذ ہے، جس کی طرف اس بار کے اداریہ کا رخ بھی واضح ہے۔ لیکن اس وقت امت کے لڑنے کے بے شمار محاذ ہیں ، جن میں سے کوئی محاذ بھی ٹھنڈا نہیں پڑنا چاہیے اور نہ ہی کسی ایک بھی محاذ سے امت کی توجہ لمحہ بھر کیلئے ہٹنی چاہیے۔ پچھلا اداریہ دراصل ایقاظ کی جانب سے ایک کوشش تھی کہ اس وقت امت کے بیرونی محاذوں پہ لڑی جانے والی جنگ میں یہ اپنا ایک ادنیٰ سا حصہ ڈالے اور اس کیلئے ضروری یکسوئی اور تعیینِ ہدف کے معاملے میں امت کے اصحاب عمل و برسر جہاد طبقوں کی رائے کو فیصلہ کن اور ان کے وار کو کاری بننے میں مدد دے۔ نہ صرف یہ بلکہ امت کے جو کئی ایک طبقے ہیں اور جوکہ بے شک جہاد کے ساتھ براہ راست منسلک نہیں یا حتی کہ ان میں سے کئی ایک جہاد کے راستے میں رکاوٹ ہوسکتے ہیں ان کیلئے بھی کوئی ایسا لہجہ سامنے لایا جائے کہ ایک زور کا دھارا اس وقت امت کے بیرونی محاذوں خصوصا افغانستان و عراق کے معاملے میں پیدا کرلیا جائے۔ نہ صرف یہ بلکہ تہذیبی جنگ کے اس اندرونی محاذ پر بھی اہل توحید کے حق میں کامیابی پائی جائے۔ الحمد للہ ہمیں اس سلسلہ میں بہت اچھے اچھے تبصرے بھی موصول ہوئے ہیں ۔ یہ مضمون جو اب پمفلٹ کی صورت میں دستیاب ہے، ایک طرف جہادی طبقوں کے ہاں پسند کیا گیا تو دوسری طرف ہمارے وہ طبقے جو صلیب کے ساتھ ہماری اس حالیہ جنگ میں لاتعلق یا غیرجانبدار سے بن کر رہ رہے ہیں ان طبقوں کیلئے مفید دیکھا گیا ہے اور تیسری جانب ہمارے یہاں کے وہ مقامی طبقے جو کم از کم ظاہری طور پر اس جہاد کے حق میں زبان نہیں کھول سکتے یا حتی کہ جہاد مخالف کیمپ میں باور کئے جاتے ہیں یا کیا بعید ان میں سے بعض واقعتا جہاد مخالف ہوں بھی، اس طبقے کو اس حالیہ جہاد کے حق میں ہلانے جلانے اور ان کے سامنے اس کا وہ نقشہ پیش کرنے میں جو ان کو اس کے حق میں سوچنے پر مجبور کردے، یہ مضمون فائدہ مند رہا ہے۔ چوتھی طرف اس خطرے کی، جو دراصل مغرب کی جانب سے ہم پر مسلط کردی گئی جنگ کی کچھ نادیدہ جہتیں ہیں ، اور جن کی بابت اس وقت بے انتہا ابہام اور غموض پایا جاتا ہے اور جوکہ ہمارے مجاہدین کی فاعلیت کو شدید متاثر کردینے کیلئے اس وقت سامنے لائی جارہی ہیں اور جس کی محض ایک صورت اس وقت شمالی علاقوں میں درپیش ہے بلکہ بد امنی کی بہت سی حالیہ کارروائیاں بھی جس کی وجہ سے اہل جہاد سے خوامخواہ منسوب کی جارہی ہیں ، جبکہ نجانے ابھی اس حوالے سے اور کیا کچھ سامنے لایا جانا ممکن ہے.... اس خطرے کو ایک زیادہ گہری، دور رس، پر تحمل اور ذمہ دارانہ نظر سے دیکھنے دکھانے کی بھی یہ ایک کوشش تھی۔ جس وقت کئی ایک طبقوں کو بیک وقت ایک موضوع کی جانب متوجہ کیا جاناہو اور اس کی متعدد جہتیں دکھائی جانا ہوں ، مزید یہ کہ بہت سی باتیں ’کہے بغیر‘ سمجھا دی جانا مقصود ہوں ، اور جہاں ایک تحریر کو کثیر المقاصد بنانا مطلوب ہو.... وہاں اسلوب کی باریکی نظر سے روپوش ہوجانا اس کے بہت سے فوائد کو فوت کرا دیتا ہے۔کچھ اسی قسم کی شکایتیں ہمارے اس مضمون کے فہم کے حوالے سے بھی دیکھنے میں آئی ہیں .... یہاں کے ’غیر مذہبی سیکٹڑ‘ کے حوالے سے اس مضمون کے کئی حصوں کو شاید غور سے پڑھنے کی بجائے ہیجانی کیفیت میں لیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ہمارے کئی ایک اصحاب جن سے ہم خالصتا اللہ کیلئے محبت کرتے ہیں ، یہ شکایت کرتے دیکھے گئے کہ ہم نے اپنے اس مضمون میں کہیں یہ کہہ دیا ہے کہ ہم موحدین اور یہاں کے سیکولر اس وقت ایک ہی مورچے میں کھڑے ہیں ! لاحول ولا قوۃ الا باللہ!!!
کیا توحید
اور سیکولرزم جوکہ شرک کی ایک بدترین قسم ہے ایک ہی مورچے میں اکٹھے
ہوسکتے ہیں ؟ عراق میں بعث کے ہزاروں ہزار افراد بعث کے عقیدہء الحاد سے تائب ہوئے اور آج وہ اسلام، ایمان، جنت، شہادت اور جہاد کے علاوہ کسی لفظ کو نہیں جانتے۔ بوسنیا ہرزگوینا، کوسوا، البانیہ وغیرہ میں جو لوگ پرلے درجے کے بے دین تھے، بلکہ کسی دور میں کمیونسٹ رہے تھے ایک وقت ایسا آیا کہ سب کو خدا یاد آیا اور پناہ صرف اسلام میں ملی اوردشمن کا بھی ان کو وہ چہرہ نظر آیا جو ان کو صفحہء ہستی سے مٹا دینا چاہتا ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ دین کے ساتھ تعلق کے معاملہ میں کیسے ہیں ۔ ایسی چند ایک مثالیں سامنے لاکر یہاں کے دین گریز ’قومی طبقوں ‘ کو اس جانب توجہ دلائی گئی تھی کہ صورت حال جس جانب کو بڑھ رہی ہے اس کے پیش نظر کیوں وہ ان ہاتھوں کو توڑ رہے ہیں جو اگر واقعی کمزور پڑ گئے تو پھر یہاں سب کا وہی حشر ہوسکتا ہے جو ان ملکوں میں ہوا۔ چند سال پیشتر گجرات میں ہندوؤں نے مسلمانوں کا جو قتل عام کیا وہاں بھی انہوں نے اس بات کا کچھ خاص اہتمام نہیں کیا کہ وہ اپنے اس قتل و ظلم کا ہدف صرف اور صرف دیندار اور صالح عقیدہ مسلمانوں کو بنائیں ! چنانچہ اس مضمون کو ادا کرنے کیلئے جو جملہ بولا گیا تھا اس میں بالالتزام انگریزی کا لفظ بھی ساتھ اس وجہ سے استعمال کیا گیا تھا کہ مبادا مفہوم کی ادائیگی میں کوئی ابہام رہ جائے اور عبارت کا مقصد متاثر ہوجائے۔ جملہ ملاحظہ ہو اور خاص طور پر اس میں خط کشیدہ لفظ: ”اس لحاظ سے امکانی طور پر potentially یہاں کے بہت سے ’غیر دینی‘ طبقے بھی آج عین اسی خندق میں کھڑے ہیں جس میں کہ اس وقت کے ’دینی طبقے‘، چاہے کسی کو اس کا شعور آج ہوجائے یا کوئی کل اس کا تحربہ یا مشاہدہ کرنا چاہے!“ ٭٭٭٭٭ حضرات! یہ جنگ کسی ایک یا دو معرکوں کا نام نہیں ۔ ہماری درخواست ہے کہ اس کو ان تمام جہتوں کے ساتھ دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی جائے جن سے مرحلہ در مرحلہ آنے والے دنوں میں ہمیں سابقہ پیش آسکتا ہے۔یہ جنگ جس کے ماضی اور مستقبل کی بابت محولہ مضمون میں توجہ دلانے کی کوشش کی گئی ہے، کئی ایسی صورتیں دھار سکتی ہے، خدا ہمیں محفوظ رکھے، جن کے پیش آنے کی صورت میں ہم اپنے آپ کو ایک گھپ اندھیرے ایسی صورت حال کے سامنے پائیں اور جس میں درست اقدام کا تعین کرنا اور بھی زیادہ الجھا ہوا مسئلہ بن جائے۔ ضروری نہیں کسی بحران سے ہم اپنا بہت زیادہ نقصان کرالینے کے بعد نکلیں ! ہم موحدین کیلئے عالم اسلام میں ایک بے حد تابناک مستقبل دیکھتے ہیں مگر ان کے عمل کو آگے بڑھنے کے راستے دلانے کے معاملے میں آئندہ کیلئے جس رخ کی راہ ہموار کرنا ہم ضروری سمجھتے ہیں ، یقین کیجئے اس کی کئی ایسی جہتیں ہیں جن کو زیر بحث لانا اس وجہ سے اس وقت مشکل ہے کہ ایک طرف ہمیں ڈر ہوتا ہے کہ ہمارا مخلص جلد باز عنصر مضمون مکمل کئے بغیر کتاب بند کرکے رکھ دے گا تو دوسری طرف ہمارے وہ نیک دینی طبقے جو اس وقت یہاں کے قومی یا سیاسی رجحانات کے ساتھ چلنے میں کسی وقت ضرورت سے زیادہ آگے بڑھ جاتے ہیں ہمارے یہ بھائی ہمارے ان مباحث میں اپنے ’مطلب‘ کی بات پا کر، جوکہ ہم نے ہرگز نہیں کہی ہوگی، معاملہ ختم سمجھیں گے! اپنی اس الجھن کے اصل اسباب کا ہمیں بخوبی ادراک ہے۔ اور وہ یہ کہ وہ فکری اور علمی بینادیں ہی ابھی ہماری اس تحریکی دنیا کے اندر واضح نہیں جن کے واضح ہونے کے بعد ہی یہ مباحث صحیح سیاق وسباق میں سمجھ آسکتے ہیں ۔ یقینا ہم ان فکری و منہجی بنیادوں کو واضح کرنے پر ایقاظ میں کام کررہے ہیں مگر کچھ امور اور مسئلے یقینا ایسے ہیں جن پر بات کرنے کیلئے ایسے کسی وقت کا انتظار درست نہیں جب یہ سارے فکری و منہجی منصوبے سرے لگ جائیں ! لہٰذا اس وقت ہمیں جن دقتوں کا سامنا ہے ان سے ہم ہرگز الجھن محسوس نہیں کرتے کیونکہ جانتے ہیں کہ معاملہ رفتہ رفتہ آگے بڑھے گا اور راستہ بھی آہستہ آہستہ ہی کھلا ہوگا۔ ٭٭٭٭٭ ایسی ہی ایک مشکل ہمیں اس سوال کا جواب دینے کی بابت درپیش ہوگی، جو ہمیں چند دن پہلے موصول ہوا۔ ا س کے چند جملے یہاں دے دیے جانا بے فائدہ نہ ہوگا،
تازہ خبر ہے
کہ: میں کوئی مفتی، عالم، مجتہد یا فقیہ نہیں ہوں ۔ بہر حال اتنی سی بات ضرور جانتا ہوں اور اسے خود کو مسلمان کہلوانے کا بنیادی ترین تقاضا سمجھتا ہوں کہ اپنے ہر چھوٹے بڑے امر میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو اپنا حاکم ،بادشاہ مان لوں اور اسکے علاوہ تمام جھوٹے معبودوں کا انکار کر دوں ۔ میرے تمام فیصلے، تنازعات حتیٰ کہ زندگی کے ہر ہر معاملے کا چاہے وہ میری انفرادی زندگی سے متعلقہ ہو یا اجتماعی زندگی سے ان سب امور میں میرا حاکم اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے اور اس کے علاوہ جتنے بھی جھوٹے معبود ہیں جنھےں آج لوگوں نے حکم و قانون سازی کے اختیارات کا حامل سمجھا ہوا ہے میں ان سے برات اور نفرت کا اظہار کرتا ہوں اور یہی اللہ کا مجھ پر حق بھی ہے۔ میں یہ مانتا نہیں ہوں کہ اللہ رحیم نے اپنے نبی کی حرمت کے تحفظ کے اور تمام راستے مسدود کر دیے ہوں ۔ کیا ان تحریکوں کے لیے جو بڑے بڑے دعوے کرتی ہیں اور لاکھوں کارکنوں کی پشت پناہی کی حامل ہیں ، کیا ان کے لیے ایک یہی طریق رہ گیا تھا نبی کی حرمت کے تحفظ کے لیے (غور کیجیے، نبی کی حرمت کے تحفظ کے لیے) اس طاغوت کی زنجیر عدل ہلائی جائے۔میرے اسلام کی تحریکوں کے مخلص قائدین! دیکھیے گا کہیں میرے نبی کی ناموس کا تحفظ کرتے کرتے میرے اللہ کے حق سے دستبردار نہ ہو جانا۔اگر ایک طرف سے تھوڑی چڑھائی کرو گے تو دوسری طرف ایسی پسپائی ہے کہ جس کی سنگینی بیان سے باہر ہے۔اگر آپ لوگ آج لوگوں کو لا الہ الا اللہ کا مفہوم واضح نہیں کر سکتے تو لاالہ الا اللہ کی حقیقت کو مزید کال کوٹھری میں مت دھکیلو۔ان لوگوں کے پایہ استقامت میں لغزش کا باعث تو مت بنو جو ابھی لا الہ الا اللہ کی حقیقت کو سمجھنے کے حوالے سے ابتدائی مراحل میں ہیں ۔ اس قانون کو پاس کروانے کے لیے تو آپ کو اقوام متحدہ کے اور بہت سے فیصلوں کو سند توثیق بخشنی پڑے گی !! شاید اس انداز سے نبی کی حرمت کے تحفظ کی راہ اپنانا نبی کی حرمت سے نا واقفیت کی علامت ہے۔ اس کی حرمت اور ناموس کو تو ان پیمانوں سے ماپا ہی نہیں جا سکتا جو آج ناموس اور حرمت کی پیمائش کے لیے دنیا والوں نے گھڑے ہوئے ہیں ۔اس کے ذکر کو تو اللہ نے بہت بلند کر دیا ہوا ہے، انتہائی بلند۔ خدا کے لیے ان پلید پیمانوں سے نبی کی مقدس حرمت کو تحفظ مت دو۔ ایقاظ گھپ اندھیرے میں میرے لیے روشنی کی ایک کرن ہے، طوفانی جھکڑوں میں امید کی ایک لو ہے۔ مجھے امید ہے کہ انشاءاللہ آپ اس حوالے سے اہلسنت کا موقف واضح کریں گے اور ایک صحیح راہ کی نشاندہی کریں گے۔ ٭٭٭٭٭ اقوام متحدہ یقینا ایک لادین اور طاغوتی ادارہ ہے۔ اور اللہ کی حاکمیت، جو کہ حق رکھتی ہے کہ اس کے سوا جس جس کا زمین میں حکم اور فیصلہ چلتا ہے صاف مسترد کردیا جائے، یقینا ہمارا عقیدہ ہے اور اس پر جینا اور مرنا ہمارا ایمان۔ علاوہ ازیں اقوام متحدہ ایسے ادارے دراصل تیسری دنیا سے پانی بھروانے کیلئے رکھے گئے ہیں اور درحقیقت یہ دور غلامی کے تسلسل کی ہی ایک صورت ہے۔ پھر ان سے توقعات باندھنا تو بے حد فضول کام ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان جابر اداروں کے ساتھ مسلمانوں کے بعض جزوی مسائل اور ناگہانی امور کے معاملے میں تعامل کی کیا درست صورت ہے؟ مکہ کی حالتِ ضغیفی میں قریش کے کئی ایک صنادید کے ساتھ، ان کو کفر اور ہلاکت پر جانتے ہوئے بھی، بعض جزوی امور کے معاملے میں کیا برتاؤ رکھا گیا اور طائف جانے اور پھر واپس مکہ داخلہ کے معاملہ میں کسی قوم کے طواغیت کے ساتھ تعامل کی کیا حدود ہمارے سامنے آتی ہیں ، پھر مدینہ کے اندر یہود کے کئی ایک طواغیت جوکہ اپنی قوم کے فیصل تھے، کے ساتھ مسلمانوں نے باہمی معاملات کے بعض امور کی بابت کیونکر بیٹھنا قبول کیا اور باہمی حدود اور قیود کے معاملہ میں ایک عادلانہ اور منصفانہ بنیاد پر کیونکر بعض امور باہمی اتفاق کے ذریعہ نمٹائے، سیرت رسول اللہ اور تعامل اصحاب رضی اللہ تعالی عنہ میں اس سلسلہ میں راہنمائی کی بہت ساری بنیادیں بھی بہرحال پڑی ہیں ، جن کو زیر بحث لانا یہاں ہمارا موضوع نہیں ۔ پھر قانون سازی کی حدود پر بات کرنا بھی ضروری ہوجاتا ہے کہ کیا ہر قسم کا قانون پاس کرنا انسانی دائرے سے باہر ہے یایہ معاملہ کسی قیود کا پابند ہے ۔ پھر کسی وقت یہ بھی ہوگا کہ اسلامی تحریک ان اداروں کی منافقت کا پول کھولنے اور ان کے ہاں پائے جانے والے دہرے معیاروں کو خلق خدا کے سامنے لانے کیلئے اور ان کے اپنے ہی چمکیلے سلوگنوں کی پالش کھرچ کر اندر کی کھوٹی دھات سب کو دکھا دینے کیلئے ان کو ایسے کسی مسئلہ کا سامناکرنے پر مجبور کرکے کوئی ایسی صورت پیدا کر سکتی ہے جس سے یہ برہنہ ہوکر رہ جائیں ۔ اس لحاظ سے اسلامی تحریک کسی وقت اس بات کو میڈیا وار کے لئے ایک اہم ہتھیار کے طور پر برت سکتی ہے، جس سے مقصد _ اور اسلوب بھی _ ان اداروں سے ’مطالبے‘ کرنا نہ ہو بلکہ انکے اپنے دعووں اور چارٹروں کی حقیقت آشکارا کرنا ہو۔ گو اس بات کیلئے خطاب اور اسلوب کی جو پختگی درکار ہے اور جوایک گھاگ قسم کی اپروچ ہونا اس کیلئے ضروری ہے وہ بڑی حد تک یہاں مفقود ہے۔ پھر اسلامی تحریک کسی وقت ایسا اسلوب بھی سامنے لاسکتی ہے جو ان باطل اداروں اور قوتوں کے ساتھ کسی صالح امر میں اسکا معاملہ کرلینا اس بات کو لازم نہ رہنے دے کہ وہ ان اداروں کے باطل قوانین اور اتفاقات conventions قبول کرنے کی بھی پابند ہے۔ ایک عقائدی پختگی اور ایک ایمانی معرکہ قائم ہو تو بلاشبہہ ایسا اسلوب سامنے لایا جاسکتا ہے جو اپنی شدت اور صراحت میں یہ واضح کردینے کیلئے کافی ہو کہ اسلامی قوتیں کچھ انسانی بنیادوں پراہل کفر کے ساتھ اپنی تمام تر dealing کے باوجود نہ صرف یہ کہ ان باطل اداروں کے قوانین کو (حتیٰ کہ ضمنی طور پر بھی) قبول کرنے کی پابند نہیں بلکہ یہ اُن کے ان تمام امور کو جو اِن کی اسلامی شریعت اور اسلامی عقیدہ سے متصادم ہیں صاف مسترد کرتی ہیں ۔ گو یہ جبھی ہوگا جب وہ انکار اور وہ کفر جو اللہ نے باطل کے ساتھ فرض ٹھہرا دیا ہے مسلسل ہورہا ہو، جوکہ بالعموم اس وقت ہمارے دینی طبقے کی جانب سے نہیں ہورہا۔ پس اس مسئلہ کے کئی ایک عقائدی جوانب ہیں تو کئی ایک فقہی اور کئی ایک اسٹرٹیجک۔ مگر حضرات، اس سوال کے جواب میں جو ہمارے کسی معزز قاری نے ہمیں بھیجا ہے اگر ہم یہ فقہی مباحث بیان کرنا شروع کردیں گے جو سیرت کے ان بعض واقعات سے نکالنے لگیں تو شاید نکل آئیں .... تو ہم اپنے ایک قاری کے ایک سوال کا جواب تو دے لیں گے مگر ہوگا یہ کہ چونکہ حاکمیت کا مسئلہ ہی سرے سے یہاں واضح نہیں اور نہ کیا گیا ہے اور نہ کیا جارہا ہے لہٰذا ہمارے یہ جوابات صرف اس طبقہ کی عقائدی حمیت کو فقہی جوابات سے خاموش کرانے کی ایک کوشش ہوگی جسکا کہ وجود ہی اس وقت یہاں کی عقیدہ ناواقف دنیا میں بسا غنیمت ہے۔ دوسری جانب ہم اس طبقے کو بعض فقہی دلائل سے لیس کرنے کی مہم کا حصہ بنیں گے جس کے سامنے عقیدہ کے حوالے سے ابھی یہ سوال ہی نہیں اٹھے جو ان کے اندر اصل مطلوبہ پریشانی پیدا کردیں ۔ معاملہ یہ ہے کہ ایک بڑی دنیا یہاں عقائدی اور فکری پہلو سے کسی بڑی تبدیلی سے گزرنے کی روادار نہیں ۔ یہ صورتحال کو جوں کا توں برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ ہمارے بعض فقہی جوابات میں یہ اگر آدھی بات بھی اپنے مطلب کی پالیتی ہے تو ہماری باقی ’آدھی بات‘ پھر اس کی بلا سے! ایقاظ یہاں عقیدہ اور فکر کے معاملے میں تحریکی دلچسپی رکھنے والے قارئین کے سامنے اپنے موضوعات کو ایک خاص ترتیب سے لانا چاہتا ہے ۔ بہت سے موضوعات اس کیلئے شاید قبل از وقت ہیں جن کو یہ ترتیب بدل کر زیر بحث لے آنے سے اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کی بجائے ہم کچھ ایسے نتائج پیدا کر لیں گے جو ہمارے اس دعوتی منصوبے میں فٹ نہیں بیٹھتے۔ یقین کیجئے یہاں فی الحال کچھ اساسیں اور بنیادیں ہی ناپید ہیں ۔ ان بنیادوں سے متفرع ہونے والی ’تفصیلات‘ میں ابھی سے چلے جانا ہماری اس ترکیز کی قیمت پر ہوگا جو اس عمل میں فی الحال ہم قائم رکھنا چاہتے ہیں ۔ یہ حکمت عملی صرف ایقاظ کیلئے نہیں بلکہ بیشتر نوجوان جن کو اللہ نے عقیدہ کی سمجھ دے رکھی ہے ان کو بھی ہمارا یہی مشورہ ہوگا: ایک تو اپنی ترکیزِ موضوعات کو عقیدہ کے بنیادی مباحث اور منہج کے اساسیات ومبادی سے شفٹ ہو کر اسناد وتخریج کی بحثوں اور فقہی تفصیلوں اور استدلال و استنباط کی باریکیوں میں نہ پڑنے دیں چاہے ’ماحول‘ آپ سے کتنا ہی اس بات کا تقاضا کرے۔ دوسرا ، عقیدہ کے جو بنیادی مباحث آپ کی سمجھ میں آئیں ان کی تطبیق (جوکہ آپ چاہیں تو بھی ’فتویٰ‘ کی صورت بہرحال دھار لیتی ہے) کے معاملہ میں صرف اسی حد تک جائیں جس حد تک اپنے دور کے مستند اہل علم سے اس بابت راہنمائی ملتی ہو-
جو تبدیلی
ہم یہاں لانا چاہ رہے ہیں اس حوالے سے ہماری مشکل بلکہ الجھن، یقین
کیجئے ، بے اندازہ ہے اور اس کو حل ہونے کیلئے بہرحال وقت چاہیے....
اور محنت بھی۔
|