|
|
|
|
ایمان کا سبق کلیدِ سعادت!!! (اما م ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ) آدم علیہ السلام ابو البشر جنت سے نکال کر زمین پر اتارے گئے، تو ان کو اتارنے والی رحیم وکریم ذات اس تکلیف دہ واقعے کے پیچھے اپنی بے پناہ حکمتیں رکھتی تھی، جن کا ادراک کرنا عقول کے بس کی بات ہے اور نہ انکا ذکر زبانوں کیلئے ممکن۔ ابن آدم علیہ السلام کا زمین پر اترنا دراصل ایک خاص کمال پانے کیلئے تھا، کہ وہ بہشت میں واپس آئے تو اُن بہت سی خوبیوں سے مرصع ہوکر جو اِسی گرد و غبار اور میل پسینے کی دنیا میں ہی رہ کر پیدا ہوسکتی تھیں اور اِسی کسب کے جہان میں اتر کر ہاتھ آسکتی تھیں ۔ پس اُس کی منشا ہوئی کہ وہ آدم علیہ السلام اور اس کی اولاد کو دو گھڑی یہاں ڈھیر سارے غموں ، اندیشوں ، مصیبتوں اور پریشانیوں سے آشنا کرائے کہ جب وہ یہاں سے گھر بہشت لوٹیں تو تب بقیہ زندگی ان کو اس دار خلد کی خوب خوب قدر ہو جس میں نام تک کو کوئی دکھ ہے اور نہ تکلیف، مصیبت اور نہ پریشانی! کیونکہ اشیا کی ضد نہ ہو تو وہ حضرتِ انسان کی پہنچان ہی میں نہیں آ پاتیں ! ’رات‘ نہ ہو تو ’دن‘ کا لفظ بھی اس کی لغت میں جگہ نہیں پاتا۔ ہمیشہ اس نعمتوں کے جہان ہی میں رہے ہوتے تو بھلا کہاں پتہ چلتا کہ وہ سکھ چین کی زندگی، جو بہشت میں صاحب کو یوں فراوانی سے اور محض خدا کے فضل سے بے حد وحساب حاصل ہے، کتنی بڑی نعمت ہے! پھر، یہ بھی اس کی منشا ہوئی کہ وہ انسانوں کو اپنے امر و نہی کا پابند کر کے کم از کم ایک بار آزما ضرور لے آیا وہ اس کی مانتے بھی ہیں یا نہیں ۔ اب جنت ان پابندیوں کی جگہ کیونکر ہو کہ لوگ وہاں فرائض و محرمات کے ذریعے آزمائے جائیں اور ذمہ داریوں کے بوجھ تلے آکر دکھائیں ؟! پس یہ چیز بھی اس بات کی متقاضی ہوئی کہ کچھ عرصہ کیلئے وہ اسی چھوٹی سی دنیا میں اتار دیے جائیں جہاں وہ خدا کے اس ثواب اور رضا کو سمیٹ سمیٹ کر جائیں جس کا پایا جانا اسی دنیا میں ممکن ہے جہاں حلال اور حرام کی پابندی سے گزرا جائے اور خدا کے احکامات کا مکلف ہو کر دکھایا جائے۔ پھر، یہ بھی اُس کی منشا تھی کہ یہ اتنے سارے انسان ایک سے نہ رہیں ۔ اس نے چاہا کہ ان میں سے کچھ اُس کے ابنیاءاور رسول ہوں تو کچھ اُس کے اولیاءاور شہداء، جن سے وہ محبت کرے اور وہ اُس سے۔ پس ضروری تھا کہ وہ اپنے اِن سب پیاروں کو اپنے دشمنوں کے ساتھ آمنے سامنے کچھ دیر کیلئے اکیلا اور تنہا چھوڑ دے، اور ذرا دیر یوں بھی ان کی کچھ آزمائش کرلے! پھر جب یہ ایسی دنیا میں بھی اپنی محبت کیلئے ایک اُسی کا انتخاب کریں اور اُس کی رضا وخوشنودی کی طلب میں یہاں سے اپنے مال اور اپنی جانیں لٹا لٹا کر جائیں اور اُس کی محبت پر ہر محبت کو قربان کرکے اُس کے پاس پہنچیں تو تب وہ اِن کو اپنا جو قرب اور پزیرائی بخشے اور تب اِن کو وہ اپنی محبت کے جو جو پہناوے پہنائے اور جس جس انداز سے اِن کو اپنی خوشنودی بخشے، وہ کوئی اور ہی چیز ہو، جوکہ اس آزمائشگہِ زمین پر آئے بغیر حاصل ہونے والی ہی نہ تھی! پس رسالت اور نبوت کا درجہ اور پھر شہادت اور اس ولایت کا درجہ جوکہ تب ہی حاصل ہوتی ہے جب اُسی کیلئے آدمی کی محبت ہو اور اُسی کیلئے اِس کا بغض، اُسی کے دوستوں سے اِس کی دوستی ہو اور اُسی کے دشمنوں سے اِس کی دشمنی.... رسالت، نبوت، شہادت اور ولایت کا یہ درجہ اُس کے ہاں بلند ترین درجات میں سے ہے۔ یہ درجے اور یہ تمغے اپنے کچھ احباب کو دینے کی بھی اُس کے یہاں یہی صورت قرار پائی تھی کہ آدم علیہ السلام او راس کی اولاد زمین پر اتریں اور وہیں کچھ دیر اپنی چھوٹی سی ایک دنیا بسائیں ۔ پھر یہ بھی اُس کی منشا ہوئی کہ اُس کے یہ بندے یہاں آکر اُس کے اسمائے حسنیٰ اور صفاتِ عُلیٰ کے آثار کا مشاہدہ کریں ۔ یعنی و ہ جس کو چاہے بخشے اور جس پر چاہے اپنی رحمت کرے۔ جس کو چاہے نیچا کردے اور جس کو چاہے اونچا کر دے۔ جس کو چاہے عزت بخشے اور جس کو چاہے ذلت۔ جس کو چاہے پکڑلے اور جس کو چاہے چھوڑ دے۔ اُس کی صفات کے بہت سے جلوے نظر آنا یوں ہی ممکن تھا کہ وہ اس دار ابتلا میں آئیں اور اس سے پورا تعارف پانے کے بعد ہی ہمیشگی کے جہان میں لوٹیں ، اور پھر ہمیشگی کی زندگی میں بقیہ عمر اس کی خوب خوب تعریف کریں ۔
پھر، اس کی
منشا ہوئی کہ کوئی اس پر ایمان لائے تو اس کو دیکھے بغیر ہی۔ ایمان اُس
نے اپنے یہاں فائدہ مند ہی وہ ٹھہرایا جو بن دیکھے ہو۔ دیکھ لینے کے
بعد تو سب ہی اُس پر ایمان لے آئیں گے! قیامت کے دن کوئی بھی ’ایمان‘
لائے بغیر نہیں رہے گا! مگر کسی نفس کو اس کا ایمان لانا اس دن فائدہ
نہ دے پائے گا۔ وہ لذت جو اُس پر بن دیکھے ایمان لانے میں ہے، وہ سرور
جو بن دیکھے اُس کے ثواب اور عقاب پر یقین کرلینے اور غیب کی اوٹ میں
اس کی بندگی کرنے میں ہے اور وہ اعزاز جو غیب پر یقین کرلینے والوں کا
اُس کے پاس انعام ہوگا.... وہ لذت، وہ اعزاز اور وہ انعام اس صورت میں
کیونکر حاصل ہوتا جب سب کے سب اس دارِ نعیم ہی کے اندر رہے ہوتے؟! یہی وجہ ہے کہ جب اللہ نے فرشتوں سے کہا کہ ’میں زمین میں ایک خلیفہ پیدا کرنے والا ہوں ‘ اور فرشتوں نے اس پر سوال کیا کہ’کیا تو اس مخلوق کو زمین میں پیدا کرنے والا ہے جو وہاں فساد مچائے گی اور خون خرابہ کرے گی، جبکہ ہم ہر دم تیری تسبیج کرتے ہیں تیری حمد کے ساتھ اور تیری تقدیس کرتے ہیں ‘ تو اُس کا جواب تھا ’انی اعلم ما لا تعلمون ’ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے‘ تاآنکہ اُس نے فرشتوں کو دکھلایا کہ کیسے کیسے یہاں اُس کے مقرب بندے ہیں ۔ کیسے کیسے اُس کے بلند مرتبت رسول اور نبی۔ کیسے کیسے اُس کے ولی اور بن دیکھے اور غیب کے پردے میں اُس کو پہنچاننے والے اُس کے دوست یہاں ہیں جو اپنی جان اور اپنا آپ لٹا کر اُس کا تقرب پانے کو بے چین ہوتے ہیں ، جو اُس کی محبت اور طلب میں اپنی خواہشوں کو تج دیتے اور اُس کی خوشی پانے کیلئے روز اپنے نفس کی چاہت پر چھری پھیرتے ہیں ، جو اپنے مرغوباتِ نفس کو محض اُس کی قربت پانے کیلئے متروک ٹھہرا لیتے ہیں ۔ پھر اُس نے فرشتوں کو یہ بھی دکھلایا کہ کس طرح وہ اس آدم علیہ السلام کو اپنے پاس سے ایک علم عطا کرتا اور اِس کو حمد اور تسبیح کی وہ صلاحیت بخشتا ہے جو فرشتوں کو بھی حاصل نہیں ، جس سے یہ مخلوق دن کے شور اور رات کے سناٹوں میں اُس کی حمد اور تسبیح کرتی ہے باوجود اس کے کہ اِس کی نفس، اِس کی خواہش اور اِس کی شہوت اِس کو اپنی چاہت کی سمت کھینچنے کیلئے بے حد زور مارتی ہے، پر طرح طرح کے دشمنوں اور فتنوں اور آزمائشوں میں گھر کر بھی یہ مخلوق اُس کی یاد اپنے دل سے محو نہیں ہونے دیتی اور مسلسل اُس کے نام اور اُس کی عظمت کا پاس کرتی ہے! فرشتوں کو اُس نے یہ دکھایا کہ جس انداز کی حمد اور تسبیج اب تک وہ کرتے رہے ہیں اس سے بالکل مختلف یہ ایک اور انداز کی تسبیج ہے۔ فرشتوں کو اُن کے نفوس خدا کی تسبیج و تعظیم اور خدا کی فرماں برداری و کبریائی سے برگشتہ کب کرتے ہیں ؟ فرشتوں کے اندر یہ شہوتیں اور یہ خواہشیں کب ہیں جو خدا کی اطاعت و بندگی کے معاملہ میں ان کے پاؤں کی زنجیر بنیں ؟ فرشتوں کو ایسے فتنوں کا سامنا کب ہوا جو صورتیں بدل بدل کر ان پر حملہ آور ہوں اور کھینچ کھینچ کر ان کو خدا سے دور لے جائیں ؟ فرشتوں کو ایسی دشمنیوں سے کب واسطہ پڑا جن سے خدا کے صالح بندوں کو یہاں پالا پڑتا ہے، نفس ایک دشمن اندر سے اور شیاطینِ جن انس بے شمار دشمن باہر سے! یہ تو اس کے یہ بندے ہی ہیں جو اتنے سارے نرغوں میں آکر بھی خدا کی تعظیم اور تقدیس کا دامن نہیں چھوڑتے! پھر یہ کہ ابو البشر اور ابو الجن دونوں اپنی پشت میں کیا کچھ سامانِ حرب رکھتے ہیں اور دونوں کی ذریت میں کیونکر ٹھننے والی ہے اور کیسی زبردست جنگ ان دونوں کی پشتوں میں کروٹ لے رہی ہے ، فرشتے جب تک خدا علم نہ دے یہ کیونکر جانیں !؟ یہ جنگ جو ہونا تھی تو مناسب یہی تھا کہ یہ کارزار، جنت کی امن گاہ سے نکل کر اس میدانِ زمین میں ہی برپا ہو اور اس معرکہ سے نمٹ کر ہی، بلکہ اس میں فیصلہ کن جیت پاکر ہی، یہ فاتحانہ جنت میں لوٹیں ! پھر یہ کہ بنی نوع انسان میں دو عنصر فٹ کردیے گئے ہیں ، ایک عنصر خواہش اور ہوائے نفس کا اور ایک عنصر علم اور عقل کا۔ نفس اور خواہش کا عنصر اِس کو پستی کی طرف کھینچے ہے تو علم اور عقل کا عنصر، خدا کی طرف۔ خود ان دونوں عناصر کو آپس میں ایک جنگ کرنا تھی جس میں کامیاب ہوجانے کے بعد ہی، یا پھر یہ کہ اس میں ’خالص‘ ثابت ہو جانے کے بعد ہی، اس انسان کو سرفرازی کی سند ملنا تھی۔ عنصرِ خواہش و نفس اِس کو حیوانوں سے ملانے کیلئے زور ماتا ہے تو عنصرِ علم وعقل اس کو فرشتوں کی صف میں جا بٹھاتا ہے۔ پس ضروری تھا کہ ہر انسان اپنا وہ ظرف دکھاکر جائے کہ اس میں وہ کس عنصر کی افزائش کرتا ہے اور کس عنصر کو اپنے اندر بے اثر کردینے کیلئے کوشاں ہے اور یوں اپنے اس مقام کا تعین کروائے جوکہ اس اندرونی جنگ کے نتیجے میں اس کے لئے سزاوار ہے۔ اِس کو بہشت سے نکال دینے میں پس اُس کی حکمت تھی کہ ’عقل‘ کی بجائے ’خواہش‘ پہ کان دھرنے کا خمیازہ بالکل ابتدا میں ہی اِس کو وہ ایک ہی بار ایسا دکھا دے کہ اس پر پھر ہمیشہ کیلئے اِس کو کان ہوجائیں اور یہ بھی اِس کو خوب خوب اندازہ ہوجائے کہ اس ازل کے بیری کا حملہ اِس پر حب بھی ہوگا ’خواہش‘ کی راہ سے ہی ہوگا۔ چنانچہ اِس کے صرف اِس ایک ہی فعل پر جوکہ ’علم و عقل‘ کے بالمقابل ’خواہش‘ کی سننے کا نتیجہ تھا اِس کو بہشت سے نکال باہر کیا گیا تو دراصل اس کو یہ سبق از بر کرایا گیا کہ یہ خوب نظر میں کرلے کہ ِاس کی ’کمزوری‘ کہاں ہے جہاں سے کہ اِس کا دشمن ہمیشہ ہی اِس پر وار کرسکتا ہے اور اِس کی ’قوت‘ کہاں ہے جس سے کام لے کر یہ اپنے دشمن کو ناکام و نامراد لوٹا سکتا ہے، اور یہ کہ ’خواہش‘ کے پیچھے لگ کر مالک ہی کی نافرمانی کر بیٹھنا اِسے کتنے بھیانک انجام سے دوچار کرسکتا ہے.. اور یہ بھی کہ اس کو ذرا اندازہ ہوجائے کہ دشمن کے اس کی بابت کیا کیا عزائم ہیں ۔ یہ تو اس کا ایک وار تھا جس کے نتیجے میں یہ جنت سے نکل زمین پر آگرا، بھلا اگر یہ اس کی سننے ہی لگ جائے یا یہ اپنے بارے میں اس کے عزائم سے بالکل غافل ہی ہوجائے تو وہ اِس کو کہاں تک نہ پہنچا دے گا؟ یہ زمین آخر تو نہیں ، اس سے آگے جہنم بھی تو ہے جس میں وہ اِس کو پہنچانے کی کوشش کرسکتا ہے، بلکہ جہنم میں بھی جو ایک سے ایک بڑھ کر گڑھے ہیں وہ اس کی نظر سے کیونکر روپوش رہ سکتے ہیں ؟
پس اگر اِس
کو دشمن سے ڈسا جانے کا خمیازہ یوں اس قدر شدید نہ چکھایا گیا ہوتا اور
خدا کی نافرمانی کا انجام اس کو ایک بار اتنا تلخ کرکے نہ دکھا دیا گیا
ہوتاتو اس کو معلوم ہی نہ ہوتا کہ مالک کے ساتھ بندگی کا یہ معاملہ کس
قدر سنجیدہ ہے اور یہ کہ دشمن اور مالک ہر دو کے ساتھ اس کو کیونکر
چلنا ہے۔ علاوہ ازیں ، مالک کی محبت اور چاہت بندے کیلئے سعادت کا بلند ترین درجہ ہے اور کمال پانے کی اعلیٰ ترین صورت۔ اُس کی چاہت دل میں نہیں تو بھلا کونسی سعادت اور کونسا کمال!!؟ جبکہ سچی محبت اور چاہت کا پتہ ہی کیسے چلے جب تک محبوب کو تمام مرغوباتِ نفس پر ترجیح نہ دے لی جائے اور جب تک اُس کی طلب میں اور اُس کی کہی ہوئی بات کی لاج رکھنے کے معاملہ میں آدمی ڈھیروں مشقتیں سہہ جانے کو خوشی خوشی تیار نہ ہو؟؟؟ آدمی سے ایسے روےے ظاہر ہوں تو ہی ثابت ہوگا کہ اِس کے دل میں محبوب کی چاہت ہے اور اُسی کی طلب موجزن۔ پس اُس کی منشا ہوئی کہ کچھ دیر اِس کو ایک ایسی دنیا میں بھیج دیا جائے جو مرغوباتِ نفس سے بھری ہوئی اور خواہشوں اور شہوتوں سے اٹی ہوئی ہو اور جس میں خدا کی جانب بڑھنے والا راستہ خطرات سے پر ہو اور جہاں مشقتیں اور صعوبتیں اور نفس کے ناپسندیدہ امور اس قدر حائل ہوں کہ گویا راستہ اُس تک پہنچ ہی نہ پائے گا! پھر وہ دیکھے کہ خدا کی محبت کا یہ دعویدار کیونکر اُس کی طلب میں اِن سب مشقتوں اور صعوبتوں کو پھلانگتا ہے، یہ اُس کی جانب بڑھنے کیلئے کیونکر خطرات کو گلے لگاتا ہے، اِس کو اس راہ سے گمراہ اور برگشتہ کرنے والے جوجو اسباب اور دواعی اس کے سامنے آئیں یہ ان سے کیونکر نمٹتا اور ان کے خلاف مسلسل ایک مجاہدہ کرتا اور اس پر صبر واستقامت دکھاتا ہے اور وہ سب عوامل جو اِس کیلئے فتنہ کا باعث بنیں اور اِس کو راہ میں لبھانے یا گرا لینے کیلئے کوشاں ہوں یہ اپنے عزم و ہمت سے کیونکر ان کو مات دے کر آتا ہے۔ محبت کا شجر تو ظاہر ہے ایسے ہی دل کی سرزمین میں جڑیں گاڑتاہے اور ایسی ہی فضا میں اس کے برگ و بارآتے اور یہیں پر اس کے خوبصورت پھول اور شیرین میوے دیکھنے اور چکھنے کو مل سکتے ہیں ، جن سے کہ ایسے خوش بخت انسان کے جوارح لد چکے ہوتے ہیں ۔ محبت تو پس یونہی دیکھی جائے گی اور چاہت کا امتحان بھی بس یونہی ممکن ہوگا کہ اس میں رکاوٹیں بے شمار ہوں ، موانع بے حد زیادہ پائے جائیں اور آدمی کو اس سے پھیر دینے کے عوامل بہت ہوں مگر آدمی پھر بھی یہ ثابت کردے کہ محبوب ہی اس کا مطلوب ہے.... محبت تو وہی سچی ہوگی۔ رہی وہ محبت جو عافیت کے ساتھ مشروط ہو، جس میں نعمتوں اور لذتوں ہی کے دستیاب رہنے اور صرف مزے ہی ملتے رہنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہو اور جس کو آزمایا جانے کا کہیں تصور ہی نہ ہو، وہ ویسی سچی محبت تو نہ ہوگی۔فرق تو ہے ایک ایسی عبادت میں جو سکھ، آرام اور عافیت کی ضمانت کے ساتھ کی گئی اور اس عبادت میں جو سکھ اور دکھ، خوش حالی و بد حالی اور عافیت و ابتلا ہر دو حالت کے اندر اسی ایک خوئے بندگی کے ساتھ جاری رہی!!! پھر، خدا مطلق حمد کا سزاوار ہے۔ اس کی حمد دو پہلو ؤں سے ہے۔ وہ لائقِ حمد ہے ایک اپنے فضل کی بنا پر اور دوسرا اپنے عدل کی بنا پر۔ پس جہاں اُس کا فضل ظاہر ہوا، ضروری ہے اُس کا عدل بھی ملاحظہ ہو۔ تاکہ اس کی حمد اور ستائش بدرجہء اتم ہو۔ لازم تھا جہاں اسبابِ فضل دیکھے جائیں وہاں اسبابِ عدل بھی سامنے آئیں ۔ جس طرح وہ قابلِ صد ستائش ہے اپنے کرم، اپنے احسان اور اپنی بندہ نوازی کی بنا پر ویسے ہی وہ لائقِ صد حمد ہے اپنے انصاف، اپنے عقاب اور ظالم سے انتقام لینے کی صفت رکھنے پر۔ کہ ہر دو اس کی شانِ کبریائی، اس کی عزت وسطوت، اس کی سلطنت و جبروت اور اس کی حکمت و دانائی کا ہی ایک لازمی مظہر ہیں ۔ ہر چیز کو اس کی جگہ پر رکھنا اور ہر ایک کے ساتھ اس کے حسبِ حال پیش آنا ہی اس کی ستائش کا موجب ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں سورۃ الشعراءمیں ہر رسول کا اس کی قوم کے ساتھ قصہ ذکر کردیا جانے کے بعد، کہ ہر قصے کے آخر میں اہل ایمان کی جیت ہوتی ہے اور ظالموں کی بستیاں برباد پڑی اوندھی دیکھی جاتی ہیں .. وہاں آخر پر ہر بار ایک آیت کا اعادہ ہوتا ہے: وان ربک لہو العزیر الرحیم یعنی تمہارا پروردگار ہی وہ ہے جو عزت و شوکت اور غلبہ و اقتدار رکھنے والا ہے اور وہی ہے جو مہربان رحم کرنے والا ہے! اسی طرح سورۃ الزمر کے اختتام میں اس حالت کی تصویر کشی کی جاتی ہے جب روزِ حساب سب مخلوقات کے فیصلے کردیے جائیں گے: گویا اہل ایمان اپنے ٹھکانوں پر پہنچ گئے اور ظالم اپنے ٹھکانوں پر پہنچا دیے گئے، وقضی بینہم بالحق وقیل الحمد للہ رب العالمین۔ ٹھیک ٹھیک اور عدل کے ساتھ فیصلے کردیے گئے اور جو قول تب کہا گیا وہ یہ کہ ”حمد واسطے اللہ کے جو پروردگار ہے جہانوں کا“!!! پھر، اُس کی منشا تھی کہ بہشت جس میں اِس مخلوق کو پیدا ہونے کے بعد کچھ دیر رکھا گیا اور اِس کو اندازہ کرا دیا گیا کہ اِس کا گھر یہی ہے جس کے بغیر اس کا گزارا نہیں اوریہ کہ اِس کی سب خواہشیں اور ضروریات جو اِس کے درون میں رکھ دی گئیں کہیں اور پوری ہونے کی نہیں لہٰذا اس کے سوا جو بھی جہان ہوگا اِس کیلئے حسرتوں کا گھر بنا رہے گا.. ا ُس کی منشا ہوئی کہ یہ بہشت جس کے سوا کہیں اِس کی تسکین ممکن نہیں اِس کی اپنی ہی کمائی ہو اور اِس کو اِس کی اپنی ہی محنت اور عمل کے نتیجے میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اور ملکیتی بنیادوں پر دے ڈالی جائے.... کریمی اس کی صفت جو ٹھہری!!! اب یہاں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ آیت میں کہا جاتا ہے وتلک الجنۃ التی اورثتموہا بما کنتم تعملون (الزخرف: 72) کہ ”یہ ہے وہ جنت جس کے تم وارث بنا دیے گئے ہو، اس عمل کی بنا پر جو تم کرتے رہے تھے“ اور ادخلوا الجنۃ بما کنتم تعملون (النمل: 32) یعنی ”داخل ہوجا ؤ جنت میں اس عمل کی بنا پر جو تم کرتے رہے“ جب کہ حدیث کے اندر اس بات کی نفی کی جاتی ہے کہ کوئی جنت میں اپنے عمل کی بنا پر جا پائے گا۔ چنانچہ صحیحین کی حدیث ہے، بروایت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا، کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لا یدخل الجنۃ احد بعملہ : ”ہرگز نہ داخل ہو پائے گا جنت میں کوئی اپنے عمل کے بل پر“ صحابہ نے عرض کی: کیا آپ بھی نہیں اے اللہ کے رسول؟ فرمایا: ”میں بھی نہیں “۔ پس آیت میں بھی باءاستعمال ہوئی ہے اور حدیث میں بھی، جبکہ آیت میں ایک بات کا اثبات کیا گیا ہے اور حدیث میں نفی۔ اس اشکال کا رفع یوں ہوتا ہے کہ آیت میں باءکاجو مفہوم ہے حدیث میں آنے والی باءکامفہوم اس سے مختلف ہے۔ آیت میں باء، سببیت کامفہوم دینے کیلئے ہے اور اسی وجہ سے وہاں اثبات کیا گیا ہے یعنی اعمال، جنت میں داخلہ کا ”سبب“ ہوں گے۔ جبکہ حدیث میں باء، مقابلہ اور معاوضہ کا مفہوم دینے کیلئے ہے اور اسی وجہ سے وہاں اس کی نفی کی گئی ہے، یعنی اعمال جنت میں داخلے کا”مول“ نہیں ۔ پس اعمال، جنت میں چلے جانے کا ایک ”سبب“ اور ”ذریعہ“ ہوں گے البتہ یہ جنت کا ”مول“ بہرحال نہیں اور نہ ہی کوئی ”اعمال کے بل پر“ جنت میں پہنچ سکتا ہے، سوائے یہ کہ اللہ ہی اس کو اپنی ”رحمت“ اور ”فضل“ کی لپیٹ میں لے لے۔ خود بہشت ہی کی قدر جاننے کیلئے لازم تھا کہ یہ اسباب کی اِس دنیا میں ہی ذرا دیر کیلئے بھیج دیا جائے جہاں یہ دیکھے کہ بہشت تو خیر بہت بڑی چیز ہے اور اس کا تو کوئی مول ہو ہی نہیں سکتا، وہ چھوٹی چھوٹی غایتیں اور ادنیٰ قسم کے مطالب بھی کہ جن کی کچھ وقعت ہی نہیں اسباب مہیا کئے بغیر حاصل ہونے کے نہیں ۔ یہاں کھانا پینا اور پہناوا تک اچھے خاصے جتن کئے بغیر اور ٹھیک ٹھاک کھپے بغیر آدمی کو نہیں ملتا۔ ایک گھر بسانا اور اولاد پیدا کرلینا ہی محنت میں جتے بغیر ممکن نہیں ۔ جاہ و شرف پانا کس قدر محنت کے بعد ممکن ہوتا ہے۔ اور پھر یہ سب کچھ بھی ضروری نہیں محنت کرکے لازماً پا ہی لیا جائے۔ سب کچھ کر کرا کے بھی ہوسکتا ہے آدمی خالی کا خالی ہی رہے۔ دنیا کے یہ چھوٹے چھوٹے مطالب اور ادنیٰ قسم کی غایتیں محنت اور کوشش کئے بغیر ہاتھ آنے کی نہیں تو پھر وہ بلند ترین غایت اور وہ اعلیٰ ترین مقام مفت میں اور بغیر کوئی بھی سبب اختیار کئے کیسے پایا جاسکتا ہے ؟؟؟ یہ اور ان جیسے بے شمار دیگر اسرار اور حکمتیں ہیں جو متقاضی ہوئیں کہ بنی نوعِ انسان کچھ دیر یہاں زمین پر ہی لا بسائے جائیں .. گو ہو یہ کچھ دیر کیلئے ہی، کہ اللہ نے وہ بہشت درحقیقت اولادِ آدم کیلئے پیدا کی ہے اور انہی کو اس میں رہنا ہے۔ مگر یہ ضروری ہے کہ یہ منصوبہ اپنی تفاصیل سمیت ان پر بے حد واضح اور ہر دم نگاہ میں رہے۔ ٭٭٭٭٭ جنت انسان کی ہے اور انسان جنت کیلئے۔ جنت کے بغیر نہ انسان کسی گھر کا اور نہ انسان کے سوا جنت کے اس گھر کا کوئی باسی۔ مگر اس تک پہنچا وہی جس کا رخ اِس گزرگاہ میں اسی منزل کی طرف رہا! اس کے سوا کوئی گھر ہے ہی نہیں ، پھر بھی بہت سے اس تک نہ پہنچ پائے! خدایا! ایسا اعلیٰ و ارفع مقام مٹی کی اس مخلوق کیلئے کہ فرشتوں تک کے ساتھ ایسا کوئی وعدہ نہیں ہوا!!! خدا کی مجاورت ہمیشہ ہمیشہ کیلئے، اور فرشتے سلام کو آیا کریں !!! نبیوں کے ساتھ بیٹھکیں !!!جہاں کوئی خواہش پوری ہوئے بغیر نہ رہے، دلوں کو وہ تسکین جو کبھی خوابوں میں نہ ملے، اور نگاہوں کے دیکھنے کو حُسن ہی حُسن!!! اس خلد کو پانے کیلئے، جوکہ سچے خدا کا سچا وعدہ ہے، بلکہ کوئی سوچے تو اُس کی شانِ عظمت و کبریائی کے شایان ہی ’مانگنے والے‘ کو ایسا ایک جہان دے دینا ہے، جان لڑانے والوں نے جان لڑا دی اور کچھ نکمے بیٹھے کے بیٹھے رہ گئے! یہاں تو دنیا کے سفر کی بابت انسان کو بتایا گیا کہ تزودوا فان خیر زاد التقویٰ یعنی سفر پر نکلو تو کچھ زاد راہ ضرور ساتھ لے لو اور یاد رکھو سب سے بہتر زادِ راہ تقوی او رخدا کے مقام کا پاس ہے۔ یہاں دنیا کے سفر کیلئے زادِ راہ اٹھانا ضروری ہے تو آخرت کے سفر کیلئے کیا کیا کچھ ساتھ اٹھا لینا ضروری نہ ہوگا؟
یہاں کچھ
ندیدوں نے البتہ کیا کیا، کہ ایسی لامتناہی اور ہمیشگی کی اس بہشت کو
اس کے تمام تر ساز وسامان اور عیش وآرام سمیت یہیں کے کچھ کاٹھ کباڑ کے
عوض بیچ کھایا۔ کبھی نہ ختم ہونے والے سرود اور جمال کی اس حسین
زندگانی کو، کہ جس کے بارے میں خدا خود کہے کہ اُس کا یہ ایک شاہکار
ہوگا، اور اُس جہانِ پر لطف کے ابدالآباد تک رہنے والے ٹھاٹ باٹ کو
یہیں ، اِسی غموں کے گھر میں ، اور بے یقینی کی انہی دو ساعتوں کے عوض،
پھوٹی کوڑیوں کے مول دے ڈالا۔ نہ صرف یہ، بلکہ اپنا حصہ یوں پورا
کرجانے پر پھولے نہ سمائے اور سمجھا کہ واہ، عیش ہے تو بس یہ! بلکہ وہ
ہوش مند جو اپنی پونجی اِس پردیس میں پوری لگن سے جمع کرتے رہے اور
بہشت کی جنس یہاں مہنگے داموں خریدتے رہے یہ ان کو بے وقوف سمجھ کر ان
کا ٹھٹھہ اڑاتے رہے۔ یوں چند ہی دنوں میں یہ اپنی پونجی اڑا، مفلس ہو،
تہی دست وبے حال، اور سب امیدوں سے دامن جھاڑ، یہاں سے رخصت ہوئے۔
ادھر جن کو
توفیق ملی انہوں نے کیا کیا، کہ یہ جانچ کر کہ سودا تو بھئی یہی کرنے
کا ہے، خدا پر بھروسہ کیا اور اُس جہانِ دائم، بہشت، کے عوض اپنی جانیں
اور اپنے مال تک خدا کے ہاتھ بیچ ڈالے اور اِسی کو ہمیشگی کے اُس گھر
کی پونجی بنا، اور جس قدر ممکن ہوا یہاں سے بیچ باٹ، امیر مالدار،
جہانِ خلد کے سامان سے لدے پھندے، یہاں ملکِ عدم سے رخصت ہوئے، کہ رخصت
تو یہاں سے یوں بھی ہونا تھا اور یوں بھی.... تب امیدوں کے اُس دیس میں
کیا دیکھتے ہیں کہ اِن کی یہ تجارت رنگ لے آئی ہے اور اس تھوڑے سے مول
کے عوض جو یہ خدا کے کھاتہ برداروں کے ہاں پچھلے ملک جمع کرا آئے تھے،
ہمیشگی کے اس تاحدنگاہ ملک میں خد انے تو اِن کیلئے وہ عیش اور وہ
ٹھاٹھ مہیا کر دیے اور آنکھوں کی ایسی ایسی ٹھنڈک اِن کیلئے رکھ دی جس
کا کوئی حد وحساب ہے اور نہ انسان کے اندازے میں سمانے والی یہ چیز!
واہ!!! زمین میں ناپ تول کے اِن کے اپنے سیر اور گز تھے مگر کیا دیکھتے
ہیں ، یہاں تو خدائی پیمانے چلتے ہیں !!!نہ خدا کی دین کبھی ختم ہونے
میں آئے اور نہ اس کے لینے کا لطف!!!
خدا نے آدم
کو بہشت سے نکل جانے کا حکم ہی اس لئے دیا تھا کہ وہ کامل ترین حالت
میں آخر کار اپنے اِسی گھر لوٹ کے آئے، کہ اس کے سوا اس کا کوئی گھر ہے
ہی تو نہیں ! لسانِ حال سے گویا وہ اِسے کہتا ہے: اور ہاں دیکھیو مدد بھی مجھ سے ہی مانگتے رہیو، کہ مدد کرنے والا ایک تو میرے سوا کوئی ہے نہیں پھر مانگنے والے کو خالی ہاتھ لوٹانا میری صفت نہیں ، اور یاد رکھیو کارساز بھی میرے سوا کوئی نہیں اور بھروسے کے لائق بھی میری ہی اک ذات ہے، پس جا اور میرے اس عہد پر بھروسہ کر اور میری ذات پر توکل۔ اس ایک بات کے سوا جو میں نے تجھ سے کہہ دی اور جوکہ میرے بھیجے ہوئے نبی تجھ کو بار بار کہنے آئیں گے، کسی چیز پہ کان مت دھریو۔ بہتیرے تجھ کو میری یہ بات اور میرا یہ عہد بھلانے آئیں گے اور بڑی بڑی رنگین راہیں تجھ کو دکھائیں گے اور ایک سے بڑھ کر ایک بہلاوا دیں گے، پر دیکھیو یہ سب تیری دانش کا امتحان ہوگا اور مجھ پر تیرے بھروسے کی آزمائش۔ پس یاد رکھیو، کسی کی بات میں ہرگز مت آئیو، وگرنہ ”واپسی“ کا راستہ نہیں ملے گا!!! ٭٭٭٭٭
اردو استفادہ: حامد کمال
الدین
|