|
|
|
|
اللہ کے کلام سے:
جو آخرت کی نسبت دنیا کو پسند کرتے اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکتے اور اس میں کجی چاہتے ہیں۔ یہ لوگ پرلے سرے کی گمراہی میں ہیں اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان بولتا تھا تاکہ انہیں (احکام خدا) کھول کھول کر بتا دے۔ پھر خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ غالب (اور) حکمت والا ہے (ترجمہ جالندھری) فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: عن جابر بن عبد اللہ، ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: أُعطِیتُ خَمساً لَم ´ یُعطَہُنَّ أحَد قَبلِی : نُصِر´تُ بالرُّعبِ مسِیرةَ شہرٍ، وجُعِلَتلِیَ الأرضُ مسجداً وطَہُوراً فَأیُّمَا رجل مِن أُمتی أدرکتہ الصلاةُ فَلیُصَلِّ،وأحِلِّت لِیَ المغانمُ ولم تحل لأحدٍ قبلی، و أُعطِیتُ الشفاعةَ، وکانَ النبیُّ یُبعثُ اِلیٰ قومِہ خاصةً وبُعِث ´تُ اِلی النَّاسِ عامةً۔ متفق علیہ
مجھے پانچ چیزیں مرحمت فرمائی گئی ہیں، جو کہ کسی کو مجھ سے پہلے نہیں ملیں: ٭ مجھے ایک ماہ کے فاصلے پر سے پڑ جانے والے رعب و دبدبہ کی بدولت نصرت دی گئی، ٭ میرے لئے (پوری) زمین کو سجدہ گاہ اور پاک کردینے والی بنا دیا گیا، پس جس بھی شخص کو میری امت میں سے نماز (کا وقت) پا لے، وہ (بغیر کسی دقت کے) نماز پڑھے۔
٭ میرے لئے اموال غنیمت حلال کر دیے گئے، جوکہ مجھ سے پہلے کسی کیلئے حلال
نہ تھے۔ ٭ اور یہ کہ پہلے کوئی نبی خاص اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا، جبکہ مجھے جملہ انسانوں کی جانب مبعوث کیا گیا۔ |