|
|
|
|
تربیت کی اخلاقی جہتیں حامد کمال الدین
’اخلاق‘ ہمیشہ سے دنیا کا ایک بڑا موضوع رہا ہے۔ فلسفیوں سے لے کر معاشرتی مصلحین تک اور ’مذہب‘ و ’دھرم‘ کے بانیوں اور مبلغوں سے سماجی تنظیم کاروں اور تعلیمی ماہرین تک، ’اخلاق‘ کی بابت اپنے اپنے نظریات پیش کرنے میں کوئی پیچھے نہیں رہا۔ جبکہ ہم دیکھتے ہیں انبیاءاور شرائعِ خدواندی کا بھی یہ ایک نہایت اہم موضوع رہا ہے۔ جب ایسا ہے تو مسئلہ محض ’اخلاق میں ترقی لانا‘ نہیں، گو مسلم نوجوانوں کی محنت کا یہ ایک بڑا میدان رہے گا، بلکہ سب سے پہلے اس درست بنیاد کو اختیار کرنا ہوگا جو ’اخلاق‘ کے موضوع پر ہمیں دین انبیاءسے ملتی اور دینِ انبیاءتک پہنچاتی ہے۔۔۔۔ باوجود اس کے کہ ’اخلاقی رویوں‘ کی بابت بہت سی تفصیلات میں قریب قریب دنیا کے سبھی فلسفوں، مذہبوں اور دھرموں کے مابین مشترک امور کی ایک طویل فہرست بنتی ہے، حتیٰ کہ اسلام کے دیے ہوئے اخلاقی رویوں کے ساتھ بھی بے شمار جگہوں پر ان کا ایک اشتراک ہے، اور یہی وجہ ہے جو بہت سے لوگ آج یہ رائے اختیار کئے نظر آتے ہیں کہ سب کے سب مذاہب کا ایک ہی اصل موضوع ہے اور اسی ’اصل موضوع‘ کی بنا پر ہی ہر مذہب کا ایک ’عادِ اعظم‘ highest common factor نکال لیا جانا چاہیے اور اس کے سوا ہر مذہب کے بقیہ امور، جوکہ عموما ’اختلافی‘ ہوتے ہیں، پس منظر میں چلے جانے چاہییں! یہاں تک کہ اپنے ہاں کے کئی ایک منحرف جدت پسند دینی حلقے آج اس بات کی تبلیغ کرتے نظر آتے ہیں کہ پرائمری میں بچے کو صرف ’اخلاق‘ کی تعلیم دی جانی چاہیے تاکہ وہ ’مذہب‘ کی ’اصل روح‘ کو ہی پہلے پالے اور اقوامِ عالم کے ساتھ ایک ’انسانی اشتراک‘ ہی سے زیادہ سے زیادہ مانوس ہو اور یہ کہ ایسا ہوجانے کے بعد ہی، بعد کی جماعتوں میں اس کو ’مذہب‘ کی ’دیگر‘ تعلیمات پڑھائی جائیں۔۔۔۔! یہی وہ نقطہ ہے جو وحدتِ ادیان اور تقاربِ ادیان کے داعیوں کو ان کے تئیں ایک زبردست ’علمی‘ اور ’اخلاقی‘ بنیاد فراہم کرتا ہے۔۔۔۔! باوجود مذاہب میں پائے جانے والے اس اخلاقی اشتراک کے جو آج بہت سے اہواءپرستوں کے بہک جانے کا سبب بنا ہے، اصل محنت طلب بات ہمارے نوجوانوں کیلئے صرف یہی نہ ہوگی کہ وہ اپنے عمل اور تحریک کے اخلاقی جوانب کو نہایت پختہ وپرکشش بنائیں، بلکہ اس سے زیادہ محنت طلب بات یہ ہوگی کہ وہ اپنی اور اپنے معاشرے کی اس اخلاقی کایا پلٹ کو عین اس بنیاد سے برآمد کریں جوکہ منہجِ رسل کا ان سے تقاضا ہے، اور جس کی ابتدا حقیقتِ توحید ہے۔ خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی! ٭٭٭٭٭ معتزلہ کے ہاں تحسین (اشیاءکا خوب ہونا) اور تقبیح (اشیاءکا بد ہونا) عقل سے ثابت ہوتا ہے نہ کہ شرع سے۔ اشاعرہ کے ہاں تحسین اور تقبیح کی بنیاد صرف اور صرف شرع ہے نہ کہ عقل۔ جبکہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اہلسنت کا موقف بیان کرتے ہوئے واضح فرماتے ہیں کہ یہ ہردو اقوال سلف سے ثابت نہیں۔ اہلسنت کے نزدیک اشیاءکا حسن وقبح عقل سے بھی معلوم ہوتا ہے اور شرع سے بھی، جبکہ شرع عقل کی توثیق بھی کرتی ہے اور تصویب بھی اور عقل کا تزکیہ وراہنمائی بھی، ہاں یہ ضرور ہے کہ اشیاءکی حلت وحرمت اور وجوب، اور ان کی بنیاد پر بندوں کا مستوجب عذاب ہونا تب تک ثابت نہیں ہوتا جب تک شرع ہی آکر اس کو ثابت نہ کردے۔ علاوہ ازیں عقول میں اگر کوئی اختلاف، ابہام، قصور یا تفاوت پایا جائے تو شرع وہاں حکم ہوتی ہے۔ شیخ الاسلام منہجِ اہلسنت کی بابت صراحت فرماتے ہیں کہ شرع کو عقل پر مقدم رکھا جائے گا البتہ تحسین اور تقبیح کے معاملہ میں عقل اور فطرت کا کردار معطل نہ مانا جائے گا۔ ابن تیمیہ فرماتے ہیں: معتزلہ کے قول سے لازم آتا ہے کہ خالق کی تحسین اور تقبیح مخلوق کی تحسین اور تقبیحکے تابع ہواور خدا کی حکمت اور دانائی مخلوق کی حکمت و دانائی جیسی ہی ہو اور یہ کہ اشیاءکی صحت اور سقم کا تعین کرنے میں شرع ایک زائد از ضرورت چیز سمجھی جائے۔یوں وحی، معتزلہ کے قول کی رو سے، معاذ اللہ، ایک فضول چیز مانی جائے گی۔ غرض معتزلہ کے قول کا بطلان خود بخود واضح ہے۔ آج کے وہ طبقے جو ’اخلاق‘ کی صورت میں مذہب کا ’خلاصہ‘ نکالنے کے چکر میں ہیں اور اسی کو وہ سب ’مذاہب‘ اور ’اخلاقی فلسفوں‘ کے مابین قدرِ مشترک مانتے ہوئے اہم تراور نمایاں تر کرنے کے داعی ہیں ، حتی کہ اس ذہن کے بعض لوگ گلوبلائزیشن کے آنے والے دور کیلئے ’مذہب‘ کا ایک عالمی ایڈیشن بھی مرتب کرنے کے مشن پر ہیں اور اس مقصد کیلئے ہر مذہب کے دانشوروں کی ایک کثیر تعداد کو اس وقت یہی آہنگ بلند کرنے کی راہ دکھا رہے ہیں۔۔۔۔ درحقیقت اسی ذہنیت کی پرورش کررہے ہیں ۔ جو وحی کو ایک زائد از ضرورت چیز مانتی ہے، جس کے نزدیک ’مذہب‘ دراصل وہ چیز ہے جس کا ادراک تو انسان کو آپ سے آپ ہوتا ہے مانند ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی کرنا، ناپ تول پورا کرنااور خیانت سے باز رہنا، کسی کو اذیت نہ پہنچانا، ناحق خون نہ کرنا، خندہ روئی کے ساتھ ملنا، دوسرے کی زیادتی پر صبر وبرداشت سے کام لینا وغیرہ وغیرہ۔۔ البتہ اس کو ’مذہب‘ قرار دینے کے کچھ اور فوائد ہوسکتے ہیں! یہ ذہنیت دنیا کے اندر نزولِ کتب اور بعثتِ انبیاءایسے برگزیدہ ترین وقائع کا کیا مول لگاتی ہے، آپ سے آپ واضح ہے۔ گویا انبیاء دنیا کو ایک ایسی بات بتانے اور پڑھانے جارہے ہیں جو دنیا ویسے ہی جانتی ہے! رہی انبیاء کی وہ بات جسے دنیا نہیں جانتی یا جس کو جاننے پر دنیا ’تیار‘ نہیں، تو وہ ویسے ہی اتنی زیادہ اہم نہیں اور بڑے آرام سے پس منظر میں دھکیلی جاسکتی ہے! دوسری طرف اشاعرہ کا یہ کہنا کہ تحسین اور تقبیح کی بنیاد صرف اور صرف شرع ہے اور عقل سے اس امر کو کچھ علاقہ نہیں،درحقیقت معتزلہ کی گمراہی کے خلاف ایک قسم کا ردعمل ہے۔ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اس موقف کے رد میں فرماتے ہیں: ایسا نہیں کہ نفس الامر میں ہردو اشیاء برابر ہوں اور اللہ نے ان میں سے ایک کا ’بس‘ حکم دے دیا ہو اور دوسری سے ’بس‘ روک دیا ہو! ایسا نہیں کہ اس نے محض اپنی مرضی سے تقویٰ کو فرض ٹھہرادیا اور بدکاری کو ممنوع، یوں کہ اس کی مرضی ہوتی تو وہ تقویٰ کو ممنوع ٹھہرادیتا اور بدکاری کو فرض! معاذ اللہ۔ یعنی اس طرزِ تفکیر کی رو سے۔۔۔۔ نہ معروف فی نفسہ معروف ہوا اور نہ منکر فی نفسہ منکر، نہ طیبات فی نفسہ طیبات ہوئیں اور نہ خبائث فی نفسہ خبائث، بلکہ معروف کو معروف، منکر کو منکر، طیبات کو طیبات اور خبائث کو خبائث جس چیز نے بنایا وہ محض اور محض شریعت میں اس کا حکم آجانا یا اس کی ممانعت ہوجانا ہے! یہ اندازِ فکر بھی بہر حال ایک انحراف ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان: بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَآئِثَ (الاعراف: 157) یعنی”وہ ان کو حکم دیتا ہے معروف کا اور روکتا ہے منکر سے، حلال ٹھہراتا ہے ان کیلئے طیبات اور حرام ٹھہراتا ہے ان پرخبائث“۔۔۔۔ ابن تیمیہ کہتے ہیں: (اشاعرہ کے) اس انداز فکر کی رو سے تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ ”وہ حکم دیتا ہے ان کو معروف کا“ بلکہ گویا یہ کہا جائے گا: ’وہ حکم دیتا ہے ان کو اس چیز کا جس کا بھی حکم دے‘! اور بجائے اس کے کہ کہا جائے ”وہ روکتا ہے ان کو منکر سے“ یہ کہا جائے گا: ”وہ روکتا ہے ان کو جس چیز سے بھی روکے‘! اسی طرح بجائے یہ کہنے کے ”وہ حلال ٹھہراتا ہے ان کیلئے طیبات اور حرام ٹھہراتا ہے ان پرخبائث“ اس طرز فکر کی رو سے یہ کہنا بنتا ہے: ’وہ حلال ٹھہراتا ہے ان پر جس بھی چیز کو حلال ٹھہرائے اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر جس بھی چیز کو حرام ٹھہرائے‘! قرآن میں متعدد مقامات پر شرعی امور کی بابت ایک توجیہ بھی ساتھ کی جاتی ہے اور ایک معنیٰ میں عقل سے اس کیلئے گویا ایک شہادت دلوائی جاتی ہے۔ ابن تیمیہ اس کی مثالیں دیتے ہوئے کئی قرآنی آیتیں پیش کرتے ہیں: قُلْ إِنَّ اللّهَ لاَ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاء (الاعراف: 28) ”کہو، اللہ تو بے حیائی کا حکم نہیں دیتا“۔۔۔۔ پس یہاں اللہ نے اپنے آپ کو اس بات سے منزہ ومبرا قرار دیا کہ وہ کسی بے حیائی کا حکم دے۔ أًمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ أّن نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاء مَّحْيَاهُم وَمَمَاتُهُمْ سَاء مَا يَحْكُمُونَ (الجاثیہ: 21) ”کیا وہ لوگ جو بے دھڑک بدکاریاں کرتے ہیں یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم ان کو ویسا ہی کر رکھیں جیسا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور صالح اعمال کرتے رہے، ایک سی زندگی اور ایک سی موت؟؟؟ بہت برا ہے جو یہ حکم لگاتے ہیں“۔۔۔۔ أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ (القلم: 36-35)”تو کیا ہم کر دیں گے فرماں برداروں کو مانند مجرموں کے؟ تمہیں کیا ہوگیا ہے، کیسا حکم لگاتے ہو؟!“ ۔۔۔۔ یہاں اللہ نے اپنے آپ کو اس بات سے مبرا قرار دیا کہ وہ مومنوں اور بدکاروں کا ایک سا انجام ہوجانے دے اور اس کو باعث تعجب گردانا کہ کوئی شخص اس معاملہ کی بابت ایسی سوچ رکھے۔ مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ ۔۔۔۔یہ اندازِ خطاب بہت واضح ہے۔ شریعت کے سب کے سب امور کی بابت اگر ایسا ہوتا کہ بس یہ اللہ کے ٹھہرائے ہوئے امور ہیں اور عقل انسانی ان کا کوئی ادراک کر ہی نہیں سکتی اور نہ عقل کو ایسی کوئی کوشش کبھی کرنی چاہیے تو ظاہر ہے قرآنی اسلوب میں اس انداز سے سوالات انسان کے سامنے نہ لائے جاتے۔ جبکہ اس اسلوب سے جو قرآن میں اختیار کیا گیا ہے، واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ انسان شرعی حقائق کو جاننے اور ماننے میں اپنے عقلی و فکری قویٰ کو بھی بھر پور طور پر کام میں لائے اور اپنی فطرت کی مدد سے اس کو خوب خوب سراہے۔ اس بحث کا خلاصہ کرتے ہوئے ابن تیمیہ احکامِ شریعت کی سہ گانہ تقسیم کرتے ہیں: الف) شریعت نے کسی ایسے فعل کا حکم دیا ہو جس کی مصلحت، یا کسی فعل سے روکا ہو جس کی مفسدت، واضح ہو۔ جیساکہ شریعت میں نہ بھی آیا ہو تو یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ عدل میں تمام عالم کی صلاح وخیر ہے اور ظلم میں فساد و شر۔یہ وہ قسم ہے جس میں تحسین اور تقبیح شرع سے بھی ہوتی ہے اور عقل سے بھی۔ ب) دوسری قسم ایسے امور کی ہے کہ شارع نے جب کسی چیز کا حکم دے دیا تو وہ خوب ہوگی اور جب کسی چیز سے روک دیا تو وہ بد ہوگی۔ اس قسم میں آنے والے امور اپنے حسن وقبح کی صفت صرف اور صرف شریعت سے لیں گے۔ یعنی تحسین اور تقبیح صرف اور صرف شرعی ہوگی۔ ج) تیسری قسم یہ کہ شارع بندے کو کسی چیز کا حکم دے اور مقصد صرف یہ دیکھنا ہو آیا بندہ فرماں برداری کرتا ہے یا نہیں، جبکہ اس پر عملدرآمد کروانا شارع کا مقصد ہی نہ ہو۔ جس طرح کہ اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کو بیٹا ذبح کرڈالنے کا حکم دیا تھا۔ پھر جب دونوں باپ بیٹا فرماں برداری دکھا چکے اور ابراہیم علیہ السلام نے بیٹا ماتھے کے بل لٹا لیا تو اس حکم کا مقصد پورا ہوگیا اور تب ’ذبحِ عظیم‘ سے اس کا فدیہ دلوا دیا گیا۔ اسی طرح جیسے مثلا کوڑھی، گنجے اور اندھے والی حدیث میں فرشتے نے ان میں ایک ایک سے مال طلب کیا تھا پھر جب اندھے نے اس کی طلب پر لبیک کہی تو فرشتے نے اس کو کہا: ’اپنا مال پاس رکھو، یہ تو محض تم لوگوں کو آزمایا جارہا تھا، اللہ تم سے راضی ہوا البتہ تمہارے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہوا‘۔ پس یہاں حکمتِ خداوندی نفس امر (حکمِ خداوندی) میں ہے نہ کہ مامور بہ (جس چیز کا حکم دیا گیا) میں۔ ان تینوں اقسام کو ذکر کردینے کے بعد ابن تیمیہ لکھتے ہیں: ”یہ جو آخری دونوں قسمیں ہیں ان کو معتزلہ نہیں سمجھے اور یہ مذہب اختیار کیا کہ حسن اور قبح کسی فعل کی اپنی ہی ذاتی صفت ہے اور وہ شریعت کے آنے یا نہ آنے پر منحصر نہیں۔ جبکہ اشاعرہ یہ دعویٰ کر بیٹھے کہ پوری کی پوری شریعت ہی از قسم امتحان ہے اور یہ کہ افعال کی اپنی کوئی صفت (حسن و قبح) ہے ہی نہیں نہ شریعت سے پہلے اور نہ شریعت کے بعد۔ رہ گئے حکماءاور جمہور امت تو انہوں نے ان تینوں اقسام ہی کو تسلیم کیا ہے، اور یہی بات صحیح ہے“۔(1) ٭٭٭٭٭ یہ مذکورہ بالا بحث جو تحسین وتقبیح کی بابت منہجِ اہلسنت کے بیان میں کی گئی، مکارمِ اخلاق اور حسنِ سیرت وکردار کی بابت ہمارے نوجوانوں کو ایک زبردست بنیاد فراہم کرتی ہے اور عمل کی بے حد خوبصورت جہتیں برآمد کراتی ہے۔۔۔۔ اس کی بدولت نہ صرف یہ کہ مسئلہء اخلاق ”عقیدہ“ سے پھوٹتا ہے اور خدا کے درست تعارف اور حقیقتِ بندگی کی صحیح پہنچان کے ساتھ وابستہ ہوجاتا اور خدا کے فرستادہ نمونہ انسانوں کی اتالیقی اختیار کرواتا ہے۔۔۔۔ اور نہ صرف انبیاءاور شرائع کی حاکمانہ حیثیت انسانوں کے ہاں پائی جانے والی سب کی سب اخلاقی قدروں اور سماجی رویوں پر مسلّم ٹھہرتی ہے۔۔۔۔ بلکہ اس میں وہ عقلی، فطری اور وجدانی جہتیں بھی شامل ہوجاتی ہیں جو مسلم اخلاق کو اور بھی رشکِ خلائق بنا دیتی ہیں۔ ”دین اسلام“ میں یقینا بے شمار باتیں ایسی ہوں گی جو دوسرے ’مذاہب‘ میں بھی پائی جاتی ہوں گی، یا جو بہت سے سماجی فلسفوں کے اندر بھی مانی جاتی رہی ہوں گی، یا جو ’عقلِ عام‘ سے بھی سمجھ میں آجانے والی ہوں گی۔ ایسے سب مقامات جہاں اسلام اور غیر اسلام کے مابین بظاہر ایک ’اشتراک‘ پایا گیا ہو، ایسے مقامات تو خاص طور پر اس لائق ہیں کہ ان کی وہ بنیادیں ایک مسلمان کے ذہن میں واضح ہوں جن کو اس کے دین میں اختیار کرایا جانا ہو۔ ایسے ’اشتراک‘ کے مقامات پر، وہ بغور دیکھے، تو ہو سکتا ہے وہ اسلام کے ایسے ایسے ”امتیازات“ سے متعارف ہو کہ رسولوں کی لائی ہوئی روشنی پر داد دینے کے سوا اس کے پاس کہنے کو کچھ باقی نہ رہے! ٭٭٭٭٭
بہرحال جہاں
اخلاق کی عقائدی بنیادیں ہمارے اس وقت کے تحریکی خطاب میں بہت کم توجہ
پارہی ہیں، وہاں اخلاقی قدروں اور رویوں کی عقلی و وجدانی جہتیں بھی
محنت اور توجہ سے بڑی حد تک محروم ہیں۔ پس یہ واضح ہو کہ ابتدائے اسلام میں مسلم ’سیرت و کردار‘، اقوامِ عالم کیلئے مسلم ’عقیدہ‘ ہی کی طرح ایک بے حد خوبصورت اور دل کش چیز ہوگئی تھی اور ملکوں کے ملک اس کے باعث مفتوح ہوتے چلے گئے تھے، تو اس واقعہ کے پیچھے وہ بہت سے قلبی و وجدانی حقائق بھی کارفرما تھے، علاوہ شرعی و عقائدی بنیادوں کے، جن کو سمجھنا اور اپنی اس نئی اسلامی بیداری کے عمل کی بنیاد بنانا ہمارے لئے بے حد ضروری ہوجاتا ہے۔ ٭٭٭٭٭ ’اَخلاق‘ اور ’سلوک‘ کا خاصا بڑا حصہ چونکہ ’عقل‘ کی مدد سے ادراک میں آجاتا ہے، پھر ’انسانی ضمیر‘ اسی اخلاقی و سلوکی عمل کیلئے ایک بہت بڑی بنیاد فراہم کرتا ہے،اور ’انسانی احساسات‘ کو بھی اس میں بہرحال ایک بہت بڑا دخل حاصل ہے، جبکہ شریعت نے ان سب امور کی نہ صرف یہ کہ نفی نہیں کی ہے بلکہ حوصلہ افزائی کی ہے، جیسا کہ پیچھے ہم دیکھ آئے ہیں۔۔۔۔ تو یہاں سے دنیا کے عقلاءکے مابین، جوکہ انبیاءکے دین کی جانب تحاکم اور رجوع نہیں کرتے، انسانی نفس اور انسانی معاشرے کے سامنے ’اخلاقی تقاضے‘ رکھنے کے معاملہ میں ایک بہت بڑا اختلاف اٹھ کھڑا ہوجاتا رہا ہے۔۔۔۔ اور افراط وتفریط کی بہت سی صورتیں سامنے آجاتی رہی ہیں۔ معاملہ یہ ہے کہ’عقل‘، ’ضمیر‘، ’حقوق‘، ’واجبات‘، ’قانون‘، ’عدالت‘، ’رضاکاری‘ voluntary commitment، ’پابندی‘legal enforcement ۔۔۔۔ بے شمار عوامل ایسے ہیں جن کی سرحدیں بہت سی جگہوں پر گڈمڈ ہوجاتی ہیں اور نتیجتا ’اخلاق‘ کا مسئلہ ایک چیستان کی حیثیت اختیار کرجاتا ہے، خصوصا جبکہ دنیا کے سب فلسفے بلکہ ’مذاہب‘ تک ’مسئلہء خیر و شر‘ پر ہی انسانی فکر کو مطمئن نہیں کرسکتے۔ یوں اخلاقی تقاضوں کو انسان کے سامنے لے کر آنے کے سلسلہ میں کسی معاملے کو کتنا کس دیا جانا ضروری ہے اور کسی معاملے میں کتنی ڈھیل دے دی جانی چاہیے، عقل، فطرت اور ضمیر کی عمومی صلاحیت کے باوجود یہ سب سوالات __عقلائے عالم کے ہاں __ تشنہء وضاحت رہتے ہیں۔ اس کی اصل وجہ تو یہ ہے کہ عقل اور ضمیر وغیرہ انسان کو خدا کی راہ میں بڑھنے کیلئے اس کے مددگار ہونے اور نزولِ شرائع کی ستائش appritiate کرنے کیلئے وجود میں آئے ہیں نہ کہ ایسے کسی معاملہ میں حکم arbiter بننے۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ اس نے انسان کی ہدایت کیلئے ان امور میں بھی جن میں اس کی عقل اور اس کا ضمیر کچھ نہ کچھ بلکہ بڑی حد تک اس کی راہنمائی کرتے ہیں، ایک مفصل اور منضبط ہدایت کی صورت میں اپنی شرائع نازل فرمائیں۔ پس علیم وخبیر کی شریعت ہی ہے جو ’علم اخلاق‘ کے ماہروں اور ’ضمیر‘ کے داعیوں تک کے تنازعات کے فیصلے چکائے اور انسانیت کے تعامل کیلئے ایک پختہ وقابل اعتماد زمین فراہم کرکے دے۔ پس جس طرح ”اعمال“ میں پیچھے ہم دیکھ آئے کہ فرائض اور مستحبات کی تقسیم ہوتی ہے، اور اس فرائض اور مستحبات کی تقسیم ہی سے ہم اسلامی ترجیحات کا پورا ایک خاکہ بنا لیتے ہیں اور تربیتی عمل میں بھی اہم سے اہم تر کی ایک ترتیب بنا لیتے ہیں، یوں مسلم شخصیت کی تشکیل میں ہم خدائی اور نبوی ہدایات سے بھر پور راہنمائی پاتے ہیں۔۔۔۔ عین اسی طرح ”اخلاق“ میں بھی اسلام ہمیں فرائض اور مستحبات ہر دو کی نشان دہی کرکے دیتا ہے۔ نہ صرف واجبات و مستحبات، بلکہ ”اخلاق“ کی دنیا میں بھی ”اعمال“ ہی کی طرح۔۔۔۔ مباحات بھی پائے جاتے ہیں، محرمات بھی، اور مکروہات بھی۔ یوں سیرت و سلوک کے وہ خطے جہاں سختی اور پابندی کرائی جانا ہے اور اس کے وہ خطے جہاں تطوع اور رضاکارانہ بنیاد پر حسنِ اخلاق کو پروان چڑھایا جانا ہے، ہردو کا نقشہ ہمارے سامنے نہایت وضاحت سے آجاتا ہے ۔۔۔۔ جس سے ایک ایسا متوازن پیمانہ ہمارے ہاتھ آجاتا ہے، جس سے مسلم فرد اور مسلم معاشرہ کو اپنے اندرون و بیرون میں تزکیہ واصلاح کیلئے پوری یکسوئی کے ساتھ ایک راہنمائی ملتی ہے اور وہ اپنی ترقی و کارکردگی کیلئے ایک زبردست روشنی تک رسائی پاتا ہے۔ بنا بریں، نہایت ضروری ہوجاتا ہے کہ ”احکامِ شریعت“ اور ”دروسِ زہد“ کے مابین امتیاز اور توازن اور ربط کی ایک بہترین بنیاد ہمارے ان نوجوانوں کو حاصل ہو جو اسلامی بیداری کے اس عمل کو آج کے مسلم معاشروں میں لے کر چلنے والے ہیں۔ ’فقہ‘ اور ’رقائق‘ ہر دو اسلامی تعلیم و تربیت کا حصہ رہیں گے، لیکن ان میں اگر کوئی خلط پایا جاتا ہے اور بلاشبہہ بہت سے دینی حلقوں کے اندر کچھ فکری عارضے ایسے پائے جاتے ہیں، جبکہ صوفیت نے بھی ان کی ترویج میں کچھ کردار ادا کیا ہے اور فقہ میں کوتاہ واعظوں اور مبلغوں نے بھی، دوسری طرف مستند اور خدا رسیدہ اہل علم کی راہنمائی کے بغیر حاصل کئے گئے علم نے بھی ان اغلوطات کے تقویت پانے میں اپنا ایک کردار ادا کیا ہے، خصوصا قرآن وحدیث کو ’ذاتی مطالعہ‘ سے سمجھنے کے رواج نے تو اس بحران کو بے اندازہ بڑھایا ہے اور رہی سہی کسر شرعی علوم کے اس رائج تصور نے نکال دی ہے جو علم کو ایمان، زہد، طلبِ آخرت اور جہاد کے ساتھ جوڑنے کے بجائے ایک ’پیشہ ورانہ‘ عمل کے طور پر لیتا ہے۔۔۔۔ غرض ”اخلاق“ کے ”واجبات“ اور ”مستحبات“ اور ”مباحات“ میں اگر کوئی خلط پایا جاتا ہے تو نہ صرف وہ ایک کامل اور بیّن ترین شریعت کے نزول کے معاملہ میں خدا کی ناشکری شمار ہوگی بلکہ وہ اس تصویر کو شدید طور پر دھندلا بلکہ بھدا کردینے کا بھی سبب ہوگا جس کا بنایا جانا اسلامی ہستی کی تشکیل نو کے اس مرحلہ میں بے حد ضروری ہے اور جس کا نظارہ کرنے کیلئے آج کے ان فکری اور اخلاقی بحرانوں میں گرفتار انسانی دنیا شدت کے ساتھ ہماری منتظر ہے۔ اس خطرناک عارضے کا محض ایک مظہر آج ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اسلامی زہد کا جو ایک خوبصورت تصور ہمیں ہمارے دین نے دیا ہے اور جس نے کہ ہمیں دنیا اور آخرت ہر دو کی ترقی میں ایک عظیم الشان عروج بخشا تھا اس وقت قریب قریب ترکِ دنیا، منفیت، مردہ دلی اور پسماندگی کا مترادف ہوچکا ہے۔۔۔۔ جس سے ’دینداری‘ کی تصویر معاشرے کے اندر اس حد تک مسخ ہوچکی ہے کہ معاشرے کے مرکزی دھارے mainstream میں پائے جانے والے بہت سے طبقے کچھ دینی شعارات اور ’مذہبی‘ حلیہ و خدوخال سے ایک ’تحفظ‘ سا محسوس کرتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں، جبکہ اسلام کے ان شعارات کو اپنانے کے سوال پر تو وہ اور بھی بڑی الجھن اپنے اندر پانے لگے ہیں، باوجود اس کے کہ دین سے محبت بلکہ دین کے بہت سے فرائض کی ادائیگی میں یہ طبقہ بھی شاید کسی سے کم نہیں۔ یہاں تک کہ یہ طبقہ، جو ہماری نگاہ میں حقیقی اسلامی تبدیلی کیلئے بے حد اہم اور فیصلہ کن ہے، دین کی مروجہ تعبیروں سے ہی شاکی نظر آتا اور اب تو ان نئی صداؤں کی جانب کسی حد تک متوجہ ہونے لگا ہے جوکہ درحقیقت اسلام میں جدت پسندی کی دعوت ہیں، اور جنکی گمراہی کا ہمارے اس طبقے کو ظاہر ہے کہ ابھی اندازہ نہیں۔۔۔۔ اور یہی اس معاملے کی ایک آشوب ناک جہت ہے۔ دوسری طرف اس صورتحال نے یہاں کے دین دشمنوں اور زندیقوں کو، جوکہ ادب اور میڈیا کے حلقوں میں ایک قابل لحاظ وجود رکھتے ہیں، ’دینداری‘ کی تصویر کو اور بھی خراب کرکے پیش کرنے کا ایک موقعہ فراہم کردیا ہے۔ یہاں تک کہ صہیونی ہدایت کاری سے چلنے والا عالمی میڈیا بھی اب اسی تصویر کو گہرا سے گہرا کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ نہایت ضروری ہوگا کہ ہمارے حوصلہ مند نوجوانانِ اسلام کا وہ طبقہ جو آج کے معاشروں کو اسلام کی اصل تصویر بنا کر دے گا۔۔۔۔ نہ صرف وہ اس صورتحال کی ایک کافی وشافی تشخیص کرے اور لوگوں کی الجھنوں اور مشکلوں کا ٹھیک ٹھیک اندازہ کرے، بلکہ اسلامی حقیقت کا وہ متوازن و منفرد فہم پانے پر بھی محنت کرے جو ’دینداری کے رائج تصورات‘ کی بجائے ”اسلامی شخصیت کے ایک اصیل اور بے ساختہ تاثر“ کو سامنے لائے۔ اس سے معاشرے کے پڑھے لکھے طبقے کی راہ سے دین کی جانب بڑھنے کے معاملہ میں جو رکاوٹیں دور ہونے لگیں گی، اور جوکہ فی الوقت ناقابل عبور دکھائی دیتی ہیں، حق یہ ہے کہ وہ بھی ایک بے حد زبردست پیش رفت ہوگی۔ فعلی اللہ التکلان، وہو المستعان ٭٭٭٭٭ اسلامی تربیت کی ایک زبردست خاصیت یہ ہے، جیسا کہ محمد قطب کہتے ہیں، کہ یہ اسلام کی حقیقت کو نفس انسانی کے اندر کچھ اس نفاست کے ساتھ گہرا اتارتی ہے کہ اجزائے دین میں کہیں کوئی جوڑ اور پیوند لگا رہنے نہیں دیا جاتا۔ اسلامی حقیقت ایک کل کی صورت نظر آتی ہے اور اس کے اندر ایک قدرتی ربط اس کو کامل و متکامل بنا دیتا ہے۔ چنانچہ جن اشیاءکو کسی وقت ہم بیان اورتوضیح کیلئے الگ الگ مباحث میں بیان کرلیتے ہیں وہ محض پڑھنے پڑھانے کے حوالے سے ہی، اور وہ بھی ضرورت کی حد تک، الگ الگ ذکر ہوسکتے ہیں نہ کہ در حقیقت۔ ورنہ اسلامی حقیقت ایک کل ہی کا نام ہے۔ نبوی منہج تربیت میں ’عقیدہ‘، ’عبادت‘ اور ’اخلاق‘ کو یوں علیحدہ علیحدہ نہیں کیا گیا، جیسا آج ہمیں کئی ایک مناہج میں نظر آتا ہے، یہاں تک کہ ہر ایک پر محنت کرانے کیلئے الگ الگ دنیائیں اور ’سلسلے‘ وجود میں آچکے ہیں۔۔۔۔ اہلسنت کے ہاں ایسے کسی اسلوب کی کبھی بھی پزیرائی نہیں ہونے دی گئی۔۔۔۔
قرآنی آیات
میں ہم دیکھتے ہیں ’عقیدہ‘، ’عبادت‘ اور ’اخلاق‘ کو یوں گوندھ دیا جاتا
ہے کہ یہ ایک ہی خوبصورت اور دل نشین حقیقت بنی دکھائی دیتی ہے۔ محمد
قطب اس سلسلے میں کچھ آیات خاص طور پر بطور مثال لاتے ہیں۔ ہم ان میں
سے دو مقامات کا ذکر کریں گے: ٭٭٭٭٭ حقیقت یہ ہے کہ نزولِ قرآن کی عین ابتدا ہی میں عقیدہ کے اخلاقی جوانب کو ایک زور دار اور بھر پور انداز میں نمایاں کیا جانے لگا تھا۔ جاہلیت کے آداب واخلاق کی مذمت اور بیخ کنی بالکل ابتدا میں شروع کردی گئی تھی۔ یہیں سے نفس کے تزکیہ وتربیت اور سماج کی تبدیلی واصلاح کی نہایت صحت مند جہتیں آغازِ دعوت ہی سے جنم لینے لگی تھیں۔
اسلام کے
درست تعارف کیلئے مکی سورتوں کے یہ مضامین واضح ہوجانا بھی اشد ضروری
ہے۔ ابتدائے دعوت کے یہ اخلاقی مضامین واضح نہ ہوں تو ’عقیدہ کی دعوت‘
کا وہ نقشہ ہی غلطی سے دعوت کا وہ اصل نبوی نقشہ سمجھا جاسکتا ہے جو
بدقسمتی سے آج ان کئی ایک طبقوں کے مابین پزیرائی پا چکا ہے جو اپنے آپ
کو ‘عقیدہ کا داعی‘ سمجھتے ہیں اور جن کی ’دعوتِ عقیدہ‘ چند بے جان
عبارتوں سے آگے نہیں بڑھتی۔
وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ
الَّذِينَ
إِذَا اكْتَالُواْ عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ
وَإِذَا
كَالُوهُمْ أَو وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ
أَلَا يَظُنُّ أُولَئِكَ
أَنَّهُم مَّبْعُوثُونَ
لِيَوْمٍ
عَظِيمٍ
يَوْمَ
يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ
یعنی
”بربادی ہے ڈنڈی مارنے والوں کیلئے، جو کہ لوگوں سے لیتے ہیں تو پیمانہ
پورا لیتے ہیں (مگر) جب لوگوں کو ماپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کمی
کردیتے ہیں۔ کیا ایسوں کا گمان نہیں کہ عنقریب وہ (قبروں سے) اٹھا کھڑے
کرلئے جانے والے ہیں، ایک بہت بڑا دن آنے پر، کہ جب لوگ جہانوں کے
پرودگار کے حضور کھڑے ہوں گے“۔۔۔۔ یہ اس عظیم شعوری واقعہ کی چند ایک مثالیں ہیں جس کو مکی دور میں دلوں کی لوح پر رقم کیا جارہا تھا اور جس سے اسلامی تبدیلی کے کچھ بنیادی ترین خدوخال متعین کئے جارہے تھے اور جس کو انسانی دنیا کے اندر ایک عظیم الشان تبدیلی برپا کردینے کیلئے بنیاد بنایا جارہا تھا۔
مکی قرآن کی
یہ چند ایک مثالیں ہیں، ورنہ اس کی بے شمار مثالیں کتاب اللہ سے لائی
جاسکتی ہیں ۔جن سے واضح ہو کہ اسلامی حقیقت کو دلوں میں بٹھانے کیلئے
اخلاق کو کس انداز سے عقیدہ کے مواد میں اور کس زور کے ساتھ عقیدہ کو
اخلاق کے عنصر میں گوندھ دیا گیا، جس سے ان دو کو الگ الگ کیا ہی نہیں
جاسکتا۔ اسی عقیدہ میں گندھے ہوئے اخلاقی عنصر کے خمیر سے پھر اسلامی شریعت کی سماجی، خانگی، معاشی، سیاسی اور انتظامی بنیادیں اٹھائی گئیں۔ بے شک اسلام کے ان سب شعبوں کی بابت مفصل ہدایات وقفے وقفے سے اور حالات وواقعات کی مناسبت سے اتاری جاتی رہیں، جوکہ الگ سے اسلامی شریعت کا ایک نہایت دل کش پہلو ہے، البتہ اسلامی شریعت کا بنیادی فریم یہیں سے تیار ہوگیا تھا۔ یوں اس فریم میں فٹ ہونے کیلئے بعد ازاں اترنے والی تفصیلات کا ہی آنا باقی رہ گیا تھا۔ ابتدائے دعوت میں قلوب اور عقول پر کر لیا گیا کام واقعتا اسی قدر مکمل اور دور رس تھا۔ مکہ کے ابتدائی سالوں کو محض ’عقائدی اصلاح‘ کا سا ایک تاثر دیا جانا دعوت کے اس بنیادی اور اساسی عمل کے ساتھ حد درجہ زیادتی ہوگی۔ پس ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمارے آج کے اس دور میں بھی ’عقیدہ کی دعوت‘ دینے والے طبقے اسلام کے تحریکی عمل کا ایک ایسا لہجہ متعارف کراتے جس میں لوگ عقیدہ کی اخلاقی جہتیں اور اخلاق کی عقائدی جہتیں بھی اسی روشن بیّن انداز میں ملاحظہ کرتے جس انداز میں پہلے پہل دعوتِ عقیدہ نے اپنا ایک جداگانہ تعارف کرایا تھا اور اس سے خود بخود دنیا کے ضعیف اور نادار اور مظلوم پسے ہوئے طبقے عقیدہ کی اس دعوت میں کچھ ویسے ہی خوبصورت پیغام پڑھتے جیسے پیغام اس دعوت سے ان کو ابتدائے اسلام کے اندر موصول ہوئے تھے اور جس کے باعث وقت کے طاغوت اس دعوت سے نالاں ہونے کیلئے اپنے یہاں کچھ اضافی وجوہات پاتے رہے تھے۔۔۔۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے آج کے اس دور میں ’عقیدہ کی دعوت‘ کو اِن بہت سی خوبصورت اخلاقی اور سماجی جہتوں سے ہمکنار نہ کرایا جا سکا، اور جس کے باعث۔۔۔۔ باوجود اس کے کہ آج کی اس دعوت میں بھی خدا کے حق پر بات کی جاتی تھی اور خدا کے اسماءوصفات بھی اس کا موضوع تھے مگر یہ ایک بے انتہا محدود، بے جان، غیر عملی اور معاشرے سے کٹی ہوئی دعوت تھی۔ پھر جب داعیانِ عقیدہ کی جانب سے ’اصلاحِ عقائد‘ کی اس دعوت کو ایک ’جامع دعوت‘ کہا گیا بلکہ کئی بار تو یہاں پائی جانے والی کئی ایک اصلاحی اور سماجی تحریکوں(3) کے بالمقابل اور بلکہ متبادل کے طور پر پیش کیا گیا تو دیکھنے سننے والوں کا تاثر اس کی بابت اور بھی الجھنوں کا شکار ہوا۔ کیا یہ امر باعث تعجب نہ ہونا چاہیے کہ غریبوں کے حق کی بات کی جانا اور مظلوم و استحصال زدہ طبقوں کی حمایت میں ظالم کے خلاف آواز بلند کی جانا یہاں کمیونسٹوں اور ترقی پسندوں کی شناخت تو بنا مگر قرآن اور عقیدہ کے داعیوں کی پہنچان نہ بن پایا؟!!! سود اور سرمایہ داری نظام کے خلاف گو ایک مزاحمت ہمارے دینی طبقہ میں پائی گئی، جوکہ ایک نہایت خوب امر ہے، اور اس کو برملا غلط گردانا گیا۔۔۔۔ مگریہ ناسور جو آج کے طواغیت میں خدائی کا ایک بہت بڑا دعویدار ہے اور انسان کی انسان کیلئے بندگی اور غلامی کی بہت سی رائج صورتیں اسی کی قوت اور بڑائی سے وابستہ ہیں۔۔۔۔یہ باطل معبود ’دعوتِ عقیدہ‘ کی زد میں پھر بھی بہت کم لایا گیا۔ مسکین کا پیٹ بھرنا اور مظلوم کی داد رسی ہونا وغیرہ ایسے امور ’اسلامی انقلاب‘ کی ’کامیابی‘ کے ساتھ نتھی کردیے گئے۔ یعنی مسکین، تنگ دست اور مقہور طبقے ہمیں ووٹ اب دیں البتہ اپنی فریاد رسی و چارہ گری کی امید سیاست میں ہمارے کامیاب ہوجانے کے بعد رکھیں اور تب تک ہمارے پاس ان کے لئے سوائے نیک وعدوں کے شاید کچھ نہیں۔۔۔۔ باعث افسوس یہ کہ یہ مسکین اور مقہور طبقوں کا ذکر تک عمومی طور پر دینداروں کے انہی طبقوں میں سنا گیا جو یہاں سیاسی میدان میں پائے گئے، رہے وہ طبقے جو سیاست کو شجر ممنوعہ سمجھتے رہے ان کے ہاں سماجی ظلم کا ذکر تک سننے میں نہ آپایا!!! یہاں تک کہ یہ باور کیا گیا کہ سماجی ظلم و استحصال پر بات کرنا ’دعوتِ عقیدہ‘ ہی کے منافی ہے! حالانکہ دعوتِ عقیدہ کے منافی بات کوئی ہے تو وہ یہ کہ سماجی اور ماحولیاتی مسائل ہی دعوت کے لہجے اور مضامین میں غالب آجائیں اور دعوت کے زیادہ بنیادی مضامین انہی مسائل کے شور تلے دب کر رہ جائیں۔ وگرنہ وہ دعوت کیا ہے جو معاشرے کے مسائل سے اور وہاں پائی جانے والی زیادتیوں اور ناہمواریوں سے لا تعلق ہو؟ اسلامی حقیقت کی صحیح عکاسی کرنے والے دینی طبقوں کی محنت کا یہ بھی بہر حال ایک میدان ہوگا۔ ٭٭٭٭٭ (1) دیکھئے مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ جلد 8 صفحہ 413 تا 436۔ اس مسئلہ کی تفصیل کسی اور مقام پر بیان ہوگی، یہاں صرف مسئلہء اخلاق کی ایک جہت بیان کرنے کیلئے اہلسنت کا یہ موقف ذکر کیا گیا ہے۔ (2) اس کا کچھ حصہ ایقاظ جولائی تا ستمبر 2006ء کے اداریہ کی صورت میں شائع ہوچکا ہے۔
(3)
مراد یہ نہیں کہ یہ دعوتیں عین صحیح و مثالی بنیاد پر اٹھائی گئی تھیں۔
ان اصلاحی و سماجی دعوتوں میں عقیدہ کی بنیادیں بڑی حد تک ناپید دیکھنے
میں آتی ہیں ، مگر اس پر بات ہمارے یہاں دیگر مقامات پر ہوتی رہتی ہے۔
|