|
|
|
|
بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ والصلوٰہ والسلام علیٰ رسول اللہ اما بعد۔۔ اسلامی قیادتیں۔۔۔اب یا کبھی نہیں
وردی اتر گئی اور وردی پوش بھی۔۔ قوم کو کیا ملا؟ اس کا جواب دینے اور
لینے والے یہاں بہت ہوں گے اور اس پر یقینا بہت کچھ کہا جانے کی گنجائش
بھی ہے۔ قوم کے مسائل سے ہم بھی واسطہ رکھتے ہیں، قوم کی آزمائش مختصر
ہوجانے اور اس کے دن پھر جانے کیلئے ہم بھی شدت سے آرزومند اور تہِ دل
سے دعا گو ہیں، البتہ جو سوال فی الوقت ہمیں اور بھی زیادہ جواب طلب
نظر آتا ہے وہ یہ کہ: ہم اسلام پسندوں کے ہاتھ کیا آیا؟ کچھ کچھ ان لوگوں کی نظر ’شمالی علاقوں‘ کی طرف بھی چلی جاتی ہے اور اس ’بھونچال‘ کی طرف بھی جو ملک کے طول و عرض میں ابھی بظاہر آہستہ آہستہ کروٹیں لے رہا ہے، مگر اِس گتھی کو بھی یہ لوگ بحالیِ جمہوریت ہی کے اندر سلجھتا ہوا دیکھتے ہیں! نتیجہ یہ کہ جمہوریت کی زلفِ گرہ گیر اگر سلجھ جاتی ہے تو ہر مسئلہ یہاں آپ سے آپ حل ہوجاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہی ’ام المسائل‘ ہے اور اسی پر ہر بحران کے حل ہوجانے کا تمام تر انحصار!اور چونکہ’ قومی شعور‘ جمہوریت کی منازل بڑی تیزی کے ساتھ طے کر رہا ہے اور عنقریب اس باب میں ہم بھارت کی ٹکر کے ہوجانے والے ہیں، اور دنیا میں ایک ’حقیقی جمہوریت‘ کے طور پر ابھر کر سامنے آنے والے ہیں، لہٰذا اپنی سب ناکامیاں اور سب محرومیتیں جاتی رہیں گی، بلکہ تو اپنے سب دلدر ہی دور ہوجانے والے ہیں۔ سب حسرتیں پوری ہوجانے والی ہیں اور سب الجھنیں ختم! ہر گردان اب یہیں سے شروع ہوتی ہے اور یہیں پر ختم۔ ’جمہوریت‘ کے سوا اس قوم کیلئے نہ کوئی منزل رہ گئی ہے اور نہ اس کی زندگی میں ’اِس‘ کے سوا کوئی کمی۔ وائے حسرت! نہ اس کے سوا اپنا کوئی ’قومی المیہ‘ ہے اور نہ اپنی کوئی ’اجتماعی ناکامی‘!!! جتنے بھی سانحے اپنی قومی زندگی کے اندر رونما ہوئے ان کی تاریخ، جسے یہاں کا ہر کالم نگار آئے روز ایک ’حیرت انگیز انکشاف‘ کے طور پر بیان کرنے بیٹھا ہوتا ہے، انہی رونوں کی داستان ہے۔ کسی کو ان ’حقیقت نگاروں‘ کی نہایت حقیر دنیا میں ’ہیرو‘ بننا نصیب ہوا تو اِسی کی برکت سے۔ کوئی ’مجرم‘ ثابت ہوتا ہے تو اِسی ’مظلوم‘ کی بد دعائیں لے کر۔ اپنا ماضی، حال اور مستقبل سب کچھ اسی ’آمریت اور جمہوریت‘ کی جدلیات کے گرد طواف کرتا ہے۔ حتیٰ کہ معیشت، لوٹ کھسوٹ، خورد برد، گرانی، بھوک، اور لوڈ شیڈنگ ایسے مضامین پر مشتمل وہ سب نالے جو کبھی آسمان تک جاتے تھے اب گلے میں آ کر اٹک جاتے ہیں اور یہ دیکھ کر کہ ’حقیقی جمہوریت‘ کے بغیر یہ محض وقت کا ضیاع ہے، کسی ’مناسب وقت‘ کے انتظار میں نچکے ہو کر بیٹھ جاتے ہیں! جیسا کہ ایک عربی محاورہ ہے: کُلُّ اِنَاء بِمَا فِیہِ یَنضَح یعنی ہر برتن وہی چیز انڈیلے گا جس سے کہ وہ بھرا گیا ہے! مصیبت یہی تو ہے کہ کچھ مفلس اور ہدایت سے تہی دامن اذہان آج امتِ محمد کو اِس کے ماضی، حال اور مستقبل کے ’تجزیے‘ کر کے دے رہے ہیں! خواب بھی دیکھنا ہوں تو کیا دیکھیں، یہ راہنمائی اس آسمانی امت کو اب انہی ’عبقریوں‘ سے ملے گی! شہروں کے شہر صبح سویرے انہی ’اخبارات‘ کیلئے بے چین ہوتے ہیں اور جہاں یہ وقت کبھی تلاوتِ قرآن اور فہمِ آیات، ذکر واستغفار اور نصیحت و تذکرہ کیلئے مخصوص ہوتا تھا اب ان ارسطوؤں کی حکمت اور دانائی سے فیضیاب ہوا جاتا ہے! شامتِ اعمال، ’جمہوریت‘ کے نوحے عین تڑکے سے شروع ہوتے ہیں اور ’ترقی‘ کی آہیں پورا دن چلتی ہیں۔ صبح زندگی کا آغاز یوں ہوتا ہے تو شام کو اس تھکی ہاری اور مایوسیوں کی ماری قوم کیلئے ’ہدایت‘ کے یہی منبعے ’چینلوں‘ کی صورت میں دستیاب ہوتے ہیں! ’اکیسویں صدی میں پیر رکھنے کیلئے‘ ہونے والی اس مسلسل ’محنت‘ کے دم سے اور ’آگہی‘ و ’ادارک‘ کے اس بے قابو سیلاب کے زیر اثر۔۔۔ فی الوقت یہ خیال رائج عام ہے کہ اپنے یہاں بڑی تیزی کے ساتھ ’قومی شعور‘ بڑھ رہا ہے اور یہ کہ اگر معاملہ اسی سمت میں جاری رہا تو قوم کی ’حقیقی منزل‘ اب چند ہی کوس دور رہ گئی ہے۔ نہ بھی ہو، قوم کی منزل ’واضح‘ تو ضرور ہی ہو گئی ہے! خدایا! قوم کی ’منزل‘ واضح ہوتی تو رونا کس بات کا تھا؟ اسلامی قیادتیں جتنی خاموش آج ہیں، بخدا اتنی خاموش کبھی نہ پائی گئی تھیں۔ ٭٭٭٭٭ کوئی تو ہو جو اِن خرد مندوں کی نظریں ’زمین‘ سے ذرا اٹھوا دے۔ جو، عشروں سے ناک کی سیدھ میں چلے جانے والے ان نکتہ آفرینوں کی نگاہ ”آسمان“ کی جانب بلند کروا دے اور اپنے کچھ عاجز کر دینے والے سوالوں کا جواب اُدھر سے لے لینے پر ہی اِن کو تیار کرے، بے شک یہ اِن ’مبصرین‘ کو ایک نہایت ’غیر صحافتی‘ اور ’غیر واقعی‘ طرزِ عمل لگے! وقت کی ”آسمانی امت“ کو پیش آنے والی زبوں حالی کے کچھ ”خاص اسباب“ کیا ہو سکتے ہیں جوکہ ’ظاہری اسباب‘ کے پیچھے ”درحقیقت“ کارفرما ہوتے ہیں تاکہ سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر انہی کو توجہ دی جائے، کوئی اِس سوال کا جواب یہاں سال ہا سال سے جاری اِن کے یبوست زدہ ’تجزیوں‘ کی بجائے، ’خدائی سنتوں‘ کے اندر ہی تلاش کرنے کی بات اٹھائے۔۔۔ کیا یہ بات ہرگز قابل غور نہیں کہ کسی چیز کی اپنے یہاں کمی نہ ہونے کے باوجود اور ہزار ہا بار دماغ لڑا لینے کے بعد، اپنی ہر تدبیر الٹی پڑ جاتی ہے، اپنی امیدیں ہر بار دغا دے جاتی ہیں اور اپنا ہر ’نجات دہندہ‘ آخر کار ’شکاری‘ نکلتا ہے!؟ یہ ”خدائی سنتیں“ جو ”وقت کی آسمانی امت“ کی ترقی اور تنزلی کی بابت ہوشمندوں کیلئے اصل مرجع اور حوالہ ہوا کرتی ہیں۔۔ یہ ”خدائی سنتیں“ جو ”وقت کی آسمانی امت“ کے سب معاملات سیدھے ہونے یا الٹے پڑ جانے کے پیچھے ”درحقیقت“ کارفرما ہوتی ہیں۔۔ اور یہیں سے اِس ”قومِ رسولِ ہاشمی“ کے دن پھرنے کا معاملہ سب اقوامِ مشرق ومغرب پر ناقابل قیاس ہوجاتا ہے، جس کے باعث اِس امت پر ”صرف“ ان اصولوں کا اطلاق کرنا نری جہالت ٹھہرتا ہے جن کا اطلاق اُن قوموں پر تو واقعی ہوتا ہے جو دنیا میں ’روٹی کھانے‘ کیلئے ہی رکھی گئی ہیں۔۔۔۔ یہ ”خدائی سنتیں“ تو خیر ایک بڑا موضوع ہے اور سب سے پہلے تو یہ ہم ’داعیانِ اسلام‘ سے ہی کافی توجہ چاہتا ہے۔۔۔۔ مگر خود یہ ”آسمانی امت“ کس ”حقیقت“ کا نام ہے، اور یہ دنیا میں ’پائی‘ کیوں جاتی ہے۔۔۔۔؟ ”اِس“ کے دم سے ایک ’نہایت بے معنیٰ دنیا‘ کیونکر ’نہایت با معنیٰ‘ بنتی ہے۔۔۔۔؟ محض ایک ’روٹی کھانے‘ کی کہانی جہان کے اندر ”اِس“ کے کردار کے دم سے کیونکر ”روٹی کھلانے والے کے ساتھ انسانیت کا معاملہ کرانے“ کی کہانی میں بدلتی ہے۔۔۔۔؟ صرف یہ بات ہی ہمارے ان دیدہ وروں کیلئے ’اجنبی‘ ہے جن کی للچائی ہوئی نظریں آج بھارت کے ’جمہوری شعور‘ اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ’ترقی‘ کو حسرت کی آہیں بھر بھر کر دیکھتی ہیں اور جن کیلئے ہندوؤں، بدھوں اور کنفوشیوں کے گھروں میں آجانے والی دولت کی ریل پیل کی تاب لانا ہی دشوار ہوا جاتا ہے! ہم ضرور یہ کہتے کہ ہمارا بحران اصل میں تو یہاں پائی جانے والی وہ ’فکری و سماجی قیادت‘ اور وہ ’نکتہ ور‘ ہی ہیں جو اس بحران کا ’تجزیہ‘ اور اس قوم کی ’تشخیص‘ پر قادر ہونے کا زعم رکھتے ہیں اور جوکہ یہاں کے مین سٹریم میڈیا میں بول بول کر اور لکھ لکھ کر پچھلے ساٹھ سال سے دماغوں کے اندر ’اخباری ردی‘ کے بڑے بڑے ڈھیر لگا چکے ہیں، اور جوکہ ایک ”مسلم قوم“ کی بنیادی ترین ضرورتوں سے ہی ناواقف اور اس کی اٹھان کی ابجد سے ہی آخری حد تک کورے ہیں۔۔ ہم ضرور کہتے کہ ہمارا اصل بحران ’سیاست کے کھلاڑی‘ نہیں بلکہ یہاں پائی جانے والی یہ ’آگہی‘ کی راہ نما قیادتیں ہی ہیں جو پچھلے ساٹھ سال سے ہمیں اس بحران کا ’حل‘ دینے میں لگی ہیں۔۔۔۔ ہم یہ ضرور کہتے، بشرطیکہ ہمارے پاس اس سوال کا کوئی جواب ہوتا کہ ہماری اسلامی قیادتوں کا یہاں کیا کردار رہا ہے؟ نہایت معذرت کے ساتھ، اس مؤخر الذکر مسئلہ پر بھی اس بار ہم کچھ بات کریں گے، مگر چند کلمات ابھی ماحول کی اس ’آلودگی‘ کی بابت ہی ہمیں مزید کہنا ہوں گے جو کہ اذہان کو آخری حد تک متاثر کر چکی ہے۔ ٭٭٭٭٭ اخبار اور ذرائع ابلاغ سے ’مطلع‘ رہنا بے حد ضروری ہے مگر اس کی گمراہ کن تاثیر سے ’خبردار‘ رہنا اور بھی ضروری۔ یہ توازن رکھنا گو ایک مشکل امر ہے۔ آدمی کو لگتا ہے کہ واقعتا دنیا وہی ہے جس کی تصویر ’میڈیا‘ میں آتی ہے، اور دنیا کے مسائل عین وہی ہیں جن کا رونا یہاں کے صحافتی دانشور مسلسل رو رہے ہیں۔ یہ ’اخباری فضا‘ سب سے بڑھ کر ہمارے ان حوصلہ مند مسلمانوں کے حق میں نقصان دہ ہے جن کو اپنے تحریکی و سماجی اہداف کو لے کر اس معاشرے کے اندر آگے بڑھنا ہے اور یہاں ایک بنیادی تبدیلی کی بنیاد بننا ہے۔ چند لمحے اگر اِن کو ’ملکی حالات‘ کے ساتھ گزارنا ہیں اور یہاں کے سیاسی واخباری ’جہاں نماؤں‘ کے خیالات پڑھنا اور سننا ہیں، جوکہ یقینا ضروری ہے، تو طویل ساعتیں روز اِن کو اپنے دینی وتحریکی مطالب کو دہرانا اور ازبر کرنا ہے۔ وگرنہ کچھ دیر بعد خود بخود یوں ہوگا کہ وہ بہت بڑی بڑی باتیں جن کو یہ تحریکیں ہی آج کے ان معاشروں کا موضوع بنا کر رکھ سکتی ہیں وہ اِن تحریکوں کی اپنی نظر میں ’موضوع‘ نہ رہیں گی اور زیادہ ہوا تو ’کتابچوں‘ اور ’پمفلٹوں‘ اور روٹین کے کچھ ’پروگراموں‘ میں ہی بطورِ ’حوالہ‘ ذکر ہونے والی چیز بن رہیں گی۔ البتہ وہ موضوعات جو اِن کے اپنے حلقوں میں صبح شام ’گرمجوشی‘ کے ساتھ زیر بحث آیا کریں گے وہی ہوں گے جو ’اخبارات‘ کے زیرِ تاثیر یہاں کے کسی بھی ’قومی شعور‘ رکھنے والے شخص کو جوش میں لاتے اور گھنٹوں کے گھنٹے مصروفِ سخن رکھ سکتے ہیں! ہم اسلام پسندوں کی زندگی اور بقاءدرحقیقت اس بات میں مضمر ہے کہ یہاں پائی جانے والی جاہلیت سے ہم ایک نہایت ’بنیادی اختلاف‘ کریں۔ بصورتِ دیگر ہمیں کوئی حق ہی نہیں کہ ہم یہاں کوئی ’بنیادی تبدیلی‘ لے کر آنے کا زعم رکھیں۔ کیونکہ یہ جاہلیت کے ساتھ ہمارا ’اختلاف‘ ہی ہے جو، جیسے جیسے نمایاں ہوتا چلا جائے گا، ویسے ویسے ہی دیکھنے والے کیلئے، اور بلکہ خود ہماری اپنی نظر میں، اس ’تبدیلی‘ کا ’گہرا پن‘ واضح کرے گا اور اس ’تبدیلی‘ کے مضمرات و حدود کا اندازہ کروائے گا، جس کی آج یہاں ہم ’دعوت‘ دینے جا رہے ہیں۔ بلکہ یوں کہیے ہماری ساری زندگی اور ہمارا دعوتی کردار ہی یہاں سے برآمد ہوگا۔ ہمارا سارا وجود ہی اسی ’اختلاف‘ کا رہینِ منت ہوگا۔ ہماری ساری قوت اور ہمارے عمل کا سب زور اسی ایک بات میں پوشیدہ ہوگا۔ ہم اگر اس پر جاہلیت کو ’عجیب وغریب‘ لگیں گے تو یہ ایک طبعی امر ہونا چاہیے اور یہاں ہمارے ’پائے جانے‘ کی ایک قوی دلیل۔ بلکہ ’عجیب‘ یہ ہوگا کہ کسی اسلامی تحریک کی زندگی میں یہ واقعہ رونما ہونے سے رہ جائے، یا پھر کسی وقت اس میں تعطل آجائے اور وہ پھر بھی سمجھے کہ وہ یہاں کوئی ’تبدیلی‘ لے کر آنے والی ہے۔۔۔۔! جاہلیت کو اسلامی تبدیلی کے داعی طبقوں کا ’عجیب وغریب‘ لگن۔۔۔۔ اِس میں اگر کوئی تعطل آتا ہے تو دراصل یہ ’تبدیلی‘ کی داعی ایک تحریک کے حق میں ’زندگی‘ کے اندر تعطل آجانا ہے۔ یہ مسئلہ واقعتا اسی قدر سنگین ہے اور اسی قدر واضح۔ یقین نہ آئے تو کسی بھی حقیقی اسلامی تحریک کے پچھلے پچاس ساٹھ سال کے عروج وزوال پر اس پہلو سے ایک نگا ڈال لیجئے! جس قدر آپ کا اور ماحول کا ’فرق‘ کم ہوتا جائے گا اسی قدر آپ کے ہاتھوں ماحول میں ’تبدیلی‘ آنے کے امکانات آپ سے آپ روپوش ہوتے چلے جائیں گے۔ جس شدت کے ساتھ آپ اپنا یہ ’اختلاف‘ سامنے لائیں گے اور اس پر مصر اور ثابت قدم رہ کر دکھائیں گے اسی شدت کے ساتھ آپ کا ’تبدیلی‘ کا مقدمہ خود بخود ایک ’آتش فشاں‘ بننے لگے گا۔ پس ناگزیر ہو گا کہ جاہلیت کے ساتھ ہم یہاں ایک ’بنیادی اختلاف‘ کرتے ہوئے ہی پائے جائیں۔۔۔۔یہ ایک اتنا گہرا اختلاف ہوگا کہ وہ باتیں بھی جو ہمارے اور جاہلیت کے مابین بظاہر ’مشترک‘ نظر آئیں گی درحقیقت مشترک نہ ہوں گی، کیونکہ ان کو لینے، ان تک پہنچنے اور ان کو روپزیر کرانے میں ہی ہمارے اور اُن کے مابین زمین آسمان کا فرق ہوگا، بلکہ تو ان کو ’دیکھنے‘ میں ہی ہمارے اور اُن کے مابین ایک بعد المشرقین پایا جائے گا۔ خصوصاً اشیاءکی ’ترتیب‘ میں تو بالکل ہی ہمارا اور ان کا کوئی اشتراک نہ ہوگا۔ ’ترتیب‘ سے ہماری مراد محض ایک ’ترتیبِ زمانی‘ نہیں، ’ترجیحات‘ کا مسئلہ ’ترتیب‘ میں اِس سے کہیں پہلے آتا ہے۔ یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ایک چیز ہمارے ’سامنے‘ ہے یا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ دوسری اشیاءکے مقابلہ میں ہمارے نزدیک وہ کتنی ’بڑی‘ ہے اور کتنی ’چھوٹی‘؟ اور یہ کہ کسی چیز کے ’بڑی‘ یا ’چھوٹی‘ ہونے میں، ہماری نگاہ میں اس کی کیا ’ترتیب‘ ہے اور جاہلیت کی نگاہ میں کیا؟ سماجیات کی دنیا میں۔۔۔۔ ’اشیاء‘ جو سامنے ہی پڑی ہوں، ان کو مجرد ’دیکھنے‘ میں عقلاءکے مابین بھلا کیا اختلاف ہوگا؟ اختلاف تو ہوگا ہی اِس معاملہ میں کہ کیا چیز آپ کو ’بڑی‘ نظر آتی ہے اور کیا چیز ’چھوٹی‘؟کونسی چیز کس چیز سے ’پہلے‘ آتی ہے اور کس چیز کے ’بعد‘؟ ’دیکھنے کے فرق‘ سے یہی دراصل ہماری مراد ہے ورنہ دیکھنے کو تو سبھی دیکھتے ہیں! دیکھنے کیلئے یہ ’نظر‘ ہی تو ہمیں آسمان سے اتری ہوئی ہدایت سے پانا ہے اور اِسی پر آخری درجہ کا اصرار کرنا ہے۔۔ اور اسی پر ہمیشہ کی طرح آج بھی جاہلیت سے برا بھلا سننا ہے۔ ’عقیدہ‘ دراصل تو یہی اہلیت پانے اور رکھنے کا نام ہے۔ قوموں کی کایا البتہ اسی کے دم سے پلٹی جا سکتی ہے، اس کیلئے بہرحال کوئی اور نسخہ نہیں! اس لحاظ سے آپ دیکھیں گے تو سارا معاملہ ’زاویہء نگاہ‘ پر ہی آرہے گا۔ ’انکار‘ تو یہاں کی کسی سماجی اور اجتماعی ضرورت کا نہ ہم کریں گے اور نہ یہاں کے وہ ’مسلمان‘ جو ’مذہب‘ کا ’احترام‘ کرتے ہیں تاہم وہ_ اشیاءکو ان کے حقیقی حجم میں دیکھنے کیلئے_ نظر قرآن سے اور رسولوں کی لائی ہوئی ہدایت سے نہیں پاتے اور نہ اِس پر زندگی میں اُنکی کوئی محنت ہوئی ہے، مگر وہ اپنے آپ کو باقاعدہ ’صاحبِ نظر‘ اور قوم کو ’راہ دکھانے‘ کا اپنے تئیں پورا مجاز جانتے ہیں۔۔۔۔ اپنی قوم کے لئے ایک ’سماجی نقشہ‘ ترتیب دیتے ہوئے، ’انکار‘ تو کسی ضرورت کا شاید نہ ہم کریں گے اور نہ وہ۔ ’انکار‘ کی نوبت ہماری یا اُن کی جانب سے آئے گی بھی تو شاید کچھ خاص مقامات پر اور وہاں پر بھی ’تاویلات‘ اور ’وضاحتوں‘ کی بڑی گنجائش ہوگی، البتہ ایک ایک بات پر فریقین میں جھگڑا اور تکرار ہوگی تو وہ اشیاءکو ’بڑی‘ یا ’چھوٹی‘ کردینا ہی ہے۔ اُنکی نظر میں ’پہلے‘ آنے والی کسی بات کو ہم ’پیچھے‘ کر دیں گے تو وہ آسمان سر پر اٹھا لیں گے اور ہمارے اعتقاد کی رو سے ’مقدم‘ مانی جانے والی کسی بات کو وہ ’مؤخر‘ رکھیں گے یا ’ثانوی‘ مانیں گے تو ہم انہیں گمراہی اور ضلالت پر جانیں گے، باوجود اس کے کہ کسی امر یا کسی ضرورت کا انکار _ اکثر و بیشتر _ ہماری جانب سے ہوا ہوگا اور نہ اُن کی جانب سے۔ اِس نقطہ پر آئیں تو ہمارے اور جاہلیت کے مابین پایا جانے والا ’اشتراک‘ بالکلیہ ختم ہو جائے گا۔ جہاں ہم ’مشترک‘ ہوں گے عین وہاں پر ہی ہم ’مختلف‘ ہوں گے۔ ’اصل تصویر‘ یہیں سے بدلنا شروع ہوگی۔ آج کے اس ماحول میں جو جاہلیت سے سر تا سر ڈھک گیا ہے، زمانہ ایسی ہی ایک اسلامی تحریک کا منتظر ہے جو جاہلیت کے ساتھ اپنے ’اختلاف‘ کو اس نقطہ تک لے جائے۔ ایسا ہو جاتا ہے تو آج کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اس کی روشنی خود بخود نظر آئے گی اور روشنی کے لئے ترسے ہوئے خود بخود اس کی طرف لپکیں گے! اندھیرے میں ’روشنی‘ ہی تو ایک ایسی چیز ہے جس کو دکھانے اور نمایاں کرنے کیلئے ’کچھ‘ درکار نہیں ہوتا سوائے ’روشنی‘ کی اپنی ہی ’قوت‘ اور ’شدت‘ کے! اور سوائے اس کے اپنے ہی ’شعاع کے ارتکاز‘ کے! بس اسی کا کچھ بندوبست ہوجائے تو ’کارواں‘ کا ازسر نو جادہ پیما ہو جانا ہم سے بالکل دور نہیں! سارا فرق جو ہماری مسلم تحریکوں کو یہاں برآمد کرنا ہے، دراصل ’زاویہء نگاہ‘ کے فرق سے ہی جنم پاتا ہے۔ اپنا سارا امتیاز اور اپنے یہاں پائے جانے کا ساراrationale اسی پر انحصار کرے گا۔ اسلامی قوتوں کی ساری محنت جو اس وقت ہونا ضروری ہے، یقین کیجئے، فی الوقت اسی محاذ پر مرکوز ہو جانا لازم ہے۔ ’عقیدہ‘ سے یہی چیز لے کر ہمیں اپنے نوجوانوں کو اور پھر پوری قوم کو دینا ہے۔ جس تحریک کو آج یہ بات نصیب ہو جائے گی کہ وہ اِس زمین کو اور زمین کے ان سب ’عاجز کر دینے والے‘ مسائل کو آسمانی نگاہ سے دیکھنے اور دکھانے لگے، اور ’زمینی نگاہ‘ رکھنے والے ’نابغاؤں‘ کے ساتھ شریکِ بحث اور شریک عمل ہونے کی بجائے ان کو نہایت قابل ترس جانے، اور جو ’زمین‘ اور ’ملک‘ کے مسائل کی تشخیص کرنے میں ہی جاہلیت سے مختلف اور الگ تھلگ نظر آئے اور یہاں کی قومی اور صحافتی لغات میں پائے جانے والے ’مسلمات‘ کو ہی محتاجِ ثبوت جانے اور بلکہ تو ٹھکرا دینے کا برتہ رکھے۔۔ وہ تحریک یہاں اُس تبدیلی کی اساس یقینا رکھ دے گی جواسلام کو آج کے ان معاشروں کے اندر مطلوب ہے۔ ٭٭٭٭٭ آج کی اس دنیا میں جہاں ’اخبار‘ چھپتے ہیں اور ’میڈیا چینل‘ نشر ہوتے ہیں، سب سے مشکل کوئی بات ہو گئی ہے تو شاید یہی کہ کوئی آدمی اپنی نظر سے اشیاءکو دیکھ سکے۔۔۔۔ خصوصا یہ کہ ایک مسلمان اپنی دنیا میں ماضی، حال اور مستقبل کو اپنی اُس تاریخی نگاہ سے دیکھے جس میں ہمارا اور جاہلیت کا ایک بنیادی اختلاف ہے بلکہ جسے مسخ کرنے پر جاہلیت کی ایک طویل محنت ہوئی ہے۔ جاہلیت تو یقینا چاہے گی کہ ہم وہیں سے ’شروع‘ کریں جہاں یہ معاملے کو ’پہنچا‘ چکی ہے، تاکہ وہ گنجلک جس میں یہ ہمیں گرفتار کرا چکی ہے اس سے ہم کبھی نکلنے ہی نہ پائیں۔ جاہلیت چاہے گی کہ ہم معاملے کو اِس حالیہ نقطے present point سے ہی من وعن لیں اور جو بھی کوئی ’اسلامی حل‘ ہمارے ذہنوں میں ہے بس وہ ’یہیں‘ سے برآمد کر ڈالنے کا معجزہ دکھائیں البتہ اِس کی چنی ہوئی اینٹوں کو ڈھاتے ہوئے ذرا ’پیچھے‘ جانے کی زحمت ہرگز نہ کریں، حتیٰ کہ وہ تحریکیں جو کبھی یہ ’جسارت‘ کر چکی ہوں وہ بھی اس سے ’تائب‘ ہوتی اور ’قومی دھارے‘ میں روپوش ہوتی ہی نظر آئیں۔ مگر ہمیں اپنی اصل مطلوبہ تصویر بنانے کیلئے، جاہلیت کی جانب سے ڈال دی گئی بہت ساری خاک ہٹاتے ہوئے، لازماً پیچھے ہی جانا ہوگااور ذہنوں کی صورت گری کرنے کیلئے خاصا نیچے سے ہی ایک بنیاد اٹھانا ہوگی۔ ایک الگ تھلگ نظر اور طریقِ فکر رکھنا، جو جاہلیت کے پروان چڑھائے ہوئے بہت سے ’مسلمات‘ کو ہی فرسودہ جانے اور اس کے بہت سے ’بدیہیات‘ کو ہی خرافات کا درجہ دینے لگے، اور جس پر کہ جاہلیت لازماً تلملا اٹھے گی، اور بجائے اس کے ہم اِس پر ’فتوے‘ لگائیں اور جھٹ سے ’تکفیری‘ گنے جائیں اس صورت میں جاہلیت ہم پر ’فتوے‘ لگائے گی اور طریقوں طریقوں سے ہم پر دل کی بھڑاس نکالے گی، جوکہ ایک نہایت درست ابتدا ہوگی اور جیساکہ مکہ میں ابتدائے دعوت کے اندر بالفعل ہوا تھا۔۔۔۔ ’نظر‘ کی یہ انفرادیت ہمارے نوجوانوں کی شاید سب سے پہلی ضرورت ہے۔ ’زاویہء نگاہ‘ کا فرق ایک بے حد بڑا فرق ہے۔ ’آگے‘ چلنے کے سب نقشے یہیں سے ’علیحدہ‘ ہوتے ہیں اور یہیں پر ’انحصار‘ کرتے ہیں۔ ٭٭٭٭٭ بہت سی چیزیں ہیں جنہیں یہ لوگ ’بدیہیات‘ کے طور پر لیتے ہیں، جبکہ اسلامی تبدیلی کے داعیوں کو یہیں پر ایک الگ طرزِ نگاہ اختیار کر لینا ہوگی۔۔۔۔ --- اسلامی تبدیلی کے داعیوں کو، جوکہ دنیا کو اسلام کے نقشے پر سر تا پیر بدل دینے کا حکم براہِ راست کلام اللہ سے اور سنت رسول اللہ سے لیتے ہیں، اس بات سے کیا غرض کہ پاکستان کو بنانے والوں کے پیش نظر ’کہاں تک‘ اور ’کس انداز‘ کی ’اسلامی ریاست‘ بنانا تھا اور ’کہاں تک‘ اور ’کس جدید انداز‘ کی ایک ’سیکولر ریاست‘ جو خاص حدود میں ’مذہب‘ کا صرف ’احترام‘ کرنے پر یقین رکھے گی اور زیادہ ہی ہوا تو اسے پارلیمنٹ کو ’ریفر‘ کر دینے پر، نہ کہ خدا کے ہاں سے اتر آنے والے ہر ہر حکم کے سامنے سمعنا واطعنا کہتے جانے کا وتیرہء بندگانہ اپنا رکھنے پر۔۔۔۔؟! --- وہ لوگ جن کا ’عقیدہ‘ براہ راست اس سوال کا جواب دیتا ہے کہ ایک پاکستان نہیں پوری زمین اور زمین کے ساتوں بر اعظم کس مقصد کیلئے معرضِ وجود میں آئے ہیں؟ اُن کو اِن بحثوں کے طول کھینچنے سے کیا غرض کہ اس ملک کے تاسیس کنندگان کے اہداف ومقاصد کو ’نفاذِ شریعت کے داعی طبقوں‘ نے صحیح سمجھا ہے یا غلط۔۔۔۔؟! --- وہ لوگ جن کا ’ایمان‘ ان کو بتاتا ہے کہ مسلم اقوام اور معاشروں کا اپنا وجود ہی، شرک و الحاد کے سومناتوں سے بھری اس زمین پر کیا معنیٰ اور کیا دلالت رکھتا ہے؟۔۔۔۔ وہ موحد جنہوں نے یہ بات شریعت کے مصادر سے سمجھی ہے کہ یہ مسلم معاشرے زمین پر انسانی تاریخ کی کس کہانی کو مکمل کرنے کیلئے یہاں رکھے گئے ہیں اور یہ کہ اِن کو ’روٹی‘ ملنے اور دوسری اقوام کو ’روٹی‘ ڈالے جانے میں خالقِ کائنات کی جانب سے کس قدر عظیم الشان فرق رکھا گیا ہے۔۔۔۔؟ اور پھر جو لوگ ان سوالوں پر قیامت کے روز خدائے رب العالمین کے روبرو جوابدہ ہونے پر ایمان رکھتے ہیں۔۔۔۔ اُن لوگوں کا لائحہء عمل اِس بات پر کیونکر ’کلی انحصار‘ کرے گا کہ کسی ملک کے بنتے یا علیحدہ ہوتے وقت __ شریعتِ خداوندی کی ’آئینی حیثیت‘ متعین کرنے کے حوالے سے __ اُس وقت کی سیاسی قیادتوں کی ’دلی خواہش‘ کیا تھی اور کیا نہیں تھی۔۔۔۔؟ کوئی اچھی خواہش تھی تو اس کا اچھا صلہ وہ اگلے جہان میں پاکر رہیں گے، البتہ ہمارے فرائض منصبی __ بطورِ قوم، بطورِ امت، بطورِ ملت __ اِن فوت شدگان کی ’خواہشات‘ اور ’ترجیحات‘ سے نہیں خدا کی اتاری ہوئی واضح وکامل شریعت سے ہی اخذ ہوتے ہیں، جوکہ چودہ صدیاں پیشتر اور سب بانیانِ پاکستان وہندستان کی پیدائش سے بہت پہلے مکمل ہو چکی ہے۔ اور اگر ان کی خواہشات اور ان کے منصوبے خدا کی شریعت کے ماسوا کسی طرز حیات سے وابستہ تھے تو وہ مالک الملک کے سامنے اپنے ان فاسد اعتقادات اور غیر صالح اعمال کا حساب دینے سے یہ دیکھ کر مستثنیٰ نہ کر دیے جائیں گے کہ ہم نے اپنی دنیا میں انکی تعظیم کے کیا کیا انتظام کر رکھے ہیں ، اور ایسی صورت میں ان کے اعتقادات یا ان کی خواہشات کی پیروی، چاہے وہ کتنی بھی قومی عقیدت کے ساتھ کی گئی ہو، خدا کے ہاں ہمارا اپنا حساب مشکل کرانے کا ہی باعث ہوگی۔
--- ’ملک کا آئین‘ توڑنے کی بات جتنی بھی شرمناک اور قابلِ نفرین ہو،
لیکن ایک ہی شخص اگر ’ملک کا آئین‘ بھی توڑتا ہو اور ’خدا کی شریعت‘
بھی توڑ رہا ہو، تو کونسی بات سب سے بڑھ کر سیخ پا ہونے کی ہے؟؟؟ کیا
کسی بھی صاحبِ ایمان کے یہاں اس پر دو رائیں پائی جاسکتی ہیں؟ کونسی
بات سب سے بڑھ کر شور مچانے اور آسمان سر پر اٹھا لینے کی ہے؟ رتی بھر
ایمان بھی ہو تو کیا یہ مسئلہ ’سوچ کر‘ جواب دینے کا ہے۔۔۔۔؟؟؟ ’آئین‘ کچھ حدوں ہی کا تو نام ہے جو کسی زمانے میں پارلیمنٹ کے اندر پائی جانے والی مخلوق نے اپنے مابعد ادوار کیلئے ’تین چوتھائی‘ اکثریت سے متعین ٹھہرا دی تھیں اور جن میں ’تین چوتھائی‘ سے کام لے کر کسی بھی دور کی پارلیمانی مخلوق کسی بھی وقت اپنی مرضی کی ترمیم کر سکتی ہے۔ ان ’حدوں‘ کی شان تو ملاحظہ فرمائیے، ان کے ٹوٹ جانے پرکیسے کیسے تبرے نہیں کئے جاتے؟ کتنے دفتر ہیں جو روز اس پر سیاہ نہیں کر دیے جاتے؟ کیسا کیسا ’غم وغصہ‘ ہے جو دل کی گہرائیوں سے اٹھتا ہے اور اپنا بے ساختہ اظہار کئے بغیر نہیں رہتا؟ کیسی کیسی مذمت ہے جو روز کی جاتی ہے اور پھر بھی کم سمجھی جاتی ہے؟! کیسا کیسا شدید رد عمل ہے جو مسلسل ہوتا ہے اور دلوں کی پھر تسلی نہیں ہوتی؟! کیا شان ہے ’آئین‘ نامی ایک کتاب کی، جو اس کو توڑے گا قوم کا بچہ بچہ اس پر تف کرے گااور نسلیں اس کو دشنام دیں گی!!! جو اس کی راہ میں مارا گیا، یا کم از کم ایسا باور کر لیا گیا، اس کی ’شہادت‘ پر شک کرنا بھی ایمان کھو دینے کے مترادف!!! اِسی کا نام ’قومی شعور‘ ہے، جس کو پھلتا پھولتا دیکھنے سے بڑھ کر دلوں کو ٹھنڈک دینے والی کوئی چیز نہیں! کیسی دنیا ہے جہاں خدا کی حدوں کو صبح شام توڑنا اور رسول کی لائی ہوئی شریعت کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرنا ’کالم‘ تو کیا ایک ’خبر‘ بننے کے لائق نہیں!ماتھے پر تیوری لے آنے کے قابل نہیں! ’ناگواری‘ کا ایک لفظ بول دینے تک کا مستوجب نہیں! ’مذہب کا احترام‘ دل میں ہے تو خدا کا سارا حق ادا ہو چکا! زبانیں گنگ ہوجائیں جو کبھی ایک دن بھی خدا کی حدوں کو پائمال کرنے پر ’سیخ پا‘ ہوتی نظر آئیں، جو کبھی بھول کر بھی ’شریعت توڑنے‘ کا ذکر اس سنگینی کے ساتھ کریں جس سنگینی کے ساتھ ’آئین توڑنے‘ کا ذکر کیا جانا صبح شام کا معمول ہے اور’با ضمیر‘ اور ’باشعور‘ ہونے کی علامت اور ’حق پرستی‘ کا معیار! قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ وَإِن تُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَا يَلِتْكُم مِّنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (الحجرات: 14) یہ بدو کہتے ہیں ’ہم ایمان لے آئے‘۔ کہو: تم ایمان تو نہیں لائے، تم ابھی یہ کہو کہ ’ہم اسلام میں داخل ہوئے ہیں‘ جبکہ ایمان ابھی تمہارے دلوں میں تو اترا ہی نہیں يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (الحجرات: 1) اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے کچھ آگے نہ بڑھاؤ، اور ڈرو اللہ سے۔ بے شک اللہ سننے والا ہے جاننے والا ’خدا اور رسول پر کسی چیز کو مقدم نہ ہونے دینا‘ واضح طور پر شرطِ ایمان ہے۔ ’احترامِ مذہب‘ کا دعویٰ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں۔ خدا اور رسول کے حق کو ہر حق پر مقدم رکھنا محض ایک آئینی ودستوری معاملہ نہیں، مومن کے رویہ اور اپروچ کے اندر بھی اسی چیز کو بولنا ہوتا ہے۔ معاشرے اور نظام اور سیاست کے ’ناقدوں‘ اور ’تجزیہ کاروں‘ کو بھی اسی معیار پر پورا اترنا ہوتا ہے۔ یہاں اگر کچھ اور چیزیں اللہ اور رسول کے حق پر مقدم ہوں، اللہ اور رسول کی حدوں کی پائمالی کچھ دیگر حدوں کی پائمالی کی نسبت نہایت ہیچ نظر آنے والا مسئلہ ہو۔۔۔۔ تو یہ اس بات کی دلیل ہوسکتی ہے کہ ’ایمان‘ ابھی ’دلوں‘ میں تو کیا ’دماغوں‘ میں بھی نہیں اترا۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ (الحجرات: 2) اے ایمان والو! اپنی آوازوں کو نبی کی آواز سے اوپر مت لے جاؤ، اور نہ اس کے روبرو یوں اونچا بولو جیسے تم ایک دوسرے کے روبرو اونچا بول لیتے ہو، مبادا کہ تمہارے سب اعمال برباد ہو جائیں اس حال میں کہ تمہیں اندازہ تک نہ ہو“ قرآن تو ایک ’مسلم معاشرے‘ کا دستور یہ بتائے کہ نبی کی آواز سے اونچی وہاں کسی کی آواز سنی تک نہ جائے، اور نہ کسی کو اس کی جراءت ہو، اور نہ یہ بات اہل ایمان کو کسی صورت گوارا ہو، بلکہ اس پر سب کے سب اعمال غارت چلے جانے کا اندیشہ ہو، یہاں تک کہ اس آیت کی تفسیر میں ہم دیکھیں کہ وہ صحابی جو قدرتی طور پر بھاری آواز رکھتے ہیں وہ خوف میں مبتلا ہو کر اس پر گریہ کرنے لگتے ہیں کہ مبادا ان کے اعمال غارت ہو کر رہ جائیں۔۔۔۔ کوئی ایک نظر دیکھے تو سہی قوم کو ’راہ دکھانے‘ والے ان ’اصحابِ نظر‘ کی ترجیحات میں ’نبی کی آواز‘ کو کیا حیثیت حاصل ہے اور وہ پھر بھی اپنے آپ کو ’روشنی‘ کا منبع اور ’آگہی‘ کا مصدر اور ’شعور‘ کا برآمد کنندہ سمجھتے ہیں! پس۔۔۔۔ وہ بہت کچھ جو یہاں کی ’قومی لغت‘ میں ’مسلمات‘ کے طور پر جانا اور ’بدیہیات‘ کے طور پر مانا جاتا ہے، مگر وہ خدائی میزان کی رو سے سراسر محرومِ اثبات ہے ۔۔۔۔ سب سے پہلے ہمیں اسے ہی مسترد کر کے اپنے قرآنی مسلمات اور شرعی بدیہیات کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا، چاہے کسی کیلئے یہ بات کتنی بھی ناگوار ہو اور چاہے اس پر کتنے ہی ’قومی فتوے‘ ہمارے منتظر ہوں۔ وہ بہت کچھ جو اِن لوگوں کے یہاں ’مقدس گائے‘ کی حیثیت اختیار کر گیا ہے اور جس کا سنتے ہی زبان گنگ اور سر نگوں نہ ہو جانے پر یہ آدمی کو گردن زدنی سمجھیں گے، ایسی ہر چیز کو بڑی ہی بے پروائی کے ساتھ کتاب اور سنت کے گھاٹ پر پیش کر دیا جائے گا، اور اس کے حقِ وجود یا اس کی شرعیت validity کی بابت کتاب وسنت ہی کا فیصلہ حرفِ آخر مانا جائے گا، چاہے کسی کا ’قومی فلسفہ‘ اس سے کتنا ہی متاثر ہوتا ہو۔ وہ بہت سے زاویے جو اشیاءکے دیکھنے اور بلحاظِ وقعت ان کی درجہ بندی کیلئے یہاں متعین کر رکھے گئے ہیں، اور جوکہ آسمانی ہدایت کے آئینہ دار نہیں۔۔۔۔ سب سے پہلے ہمیں ان زاویہ ہائے نگاہ کو ہی گمراہی کا نقطہء آغاز ماننا ہوگا اور ان کی جگہ سوچ اور فکر اور نظر کے نئے زاویے سامنے لانا ہوں گے، چاہے یہ طرزِ عمل کیسی ہی ’گستاخی‘ پر محمول ہو۔۔۔۔ یہ ایک طے شدہ بات ہے؛ جس چیز کی تعظیم میں آپ آخری حد تک چلے جانا چاہتے ہیں اس کے ’ماسوا‘ کو ہیچ جاننا آپ سے آپ لازم لائے گا اور اسی میں ایک خاص ’تسکین‘ بھی۔ مَّا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِّن قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ (الاحزاب: 4) ”خدا نے کسی آدمی کے سینے میں دو دل رکھے ہی نہیں“۔ آپ ایک چیز کی ’تعظیم‘ میں آخری حد کردینا چاہتے ہیں تو اس کے ’ماسوا‘ کی تعظیم میں آپ سے آپ کمی آجائے گی۔ یہاں تک کہ اُس ’ماسوا‘ کی تعظیم کرنے والے کی نگاہ میں یہ ایک ’گستاخی‘ باور ہوسکتی ہے! بلکہ ’ہر دو‘ کو ایک دوسرے سے ایسی کسی ’شکایت‘ کا ہوجانا باعثِ حیرت نہ ہوگا۔ دل جس کی پوجا کریں زبانیں اس کے ذکر سے کب تھکتی ہیں! وَالَّذِينَ آمَنُواْ أَشَدُّ حُبًّا لِّلّهِ !!! پس خدا ئے مالک الملک اور اُس کی شریعت کی ایسی تعظیم، جسے جاہلیت اپنے ’مسلمات‘ کے حق میں ’گستاخی‘ پر محمول کر لیا کرے، آج بھی کوئی نئی بات ہوگی اور نہ باعثِ خوف۔ ’زاویے‘ کا یہ فرق متحقق ہوجائے گا تو چند ہی قدم چلنے کے بعد ’راستوں‘ کا فرق آپ سے آپ نظر آنے لگے گا اور ’منزل‘ کا سوال بھی ہرگز کوئی ’چیستاں‘ نہیں رہے گا، کہ ستر سال گزر جانے کے بعد بھی ایک قوم کی زندگی میں اس سوال کا جواب نہ دارد! ذرا تصور تو کیجئے، لگ بھگ پون صدی گزر جانے کے بعد بھی ایک قوم کے ہاں ’بحثیں‘ ہورہی ہوں، بلکہ ’بحثوں‘ کی ابھی بے حد گنجائش باقی ہو، کہ ’چلنا کس طرف کو ہے‘!!! ایسی سرگردانی!!! ایک ایسی کمال کی ہمت رکھنے پر بے شک اس کو داد دینا بھی بنتا ہے، تاہم اس سے بڑا بحران کسی قوم کی زندگی میں کیا ہوسکتا ہے؟؟؟ ٭٭٭٭٭
مگر یہ بحران ہماری نگاہ میں یہاں ایسی فکری قیادتوں کا ’پایا جانا‘
نہیں جو قوم کو اس کے حقیقی اہداف کی نشاندہی کر کے دینے سے ہی قاصر
ہیں بلکہ تو نابلد ہیں، چاہے وہ اپنے آپ کو اس منصب کا کتنا ہی اہل
جانیں۔ یہ بحران تو دراصل ان قیادتوں کا ’نہ پایا جانا‘ ہے جو قوم کو
اس کے حقیقی اہداف کی نشان دہی کر کے دیں اور پھر یہ راستہ تن تنہا کچھ
دیر کیلئے چل کر بھی دکھائیں تاکہ ’قافلہ‘ بننے کی کوئی صورت پیدا ہو۔ اپنا اصل بحران تو اِن کا ہمیں نہ ملنا ہے۔ اس بے چاری قوم کی اصل درماندگی تو یہ ہے۔ ’مشرف‘ اور ’زرداری‘ اور اس سے پہلے ’ایوب‘ اور ’یحییٰ‘ اور ’بھٹو‘ اور نہ جانے کیا کیا، یہ جتنے بھی دکھتے یا رِستے ناسور ہوں مگر یہ اس مہلک عارضے کا ’سبب‘ تھوڑی ہیں۔ ’سبب‘ اور ’نتیجہ‘ کو خلط کر دینا ہی تو وہ گنجلک ہے جس سے نکلنے کا کوئی راستہ آدمی کو پھر کبھی نہیں ملت۔۔۔۔ لہٰذا ہمیں رونا ہے تو اس ’ہُمائے جمہوریت‘ پر نہیں جو اس قوم کے سر پر ’حقیقی معنوں میں‘ جلوہ افروز ہونے سے ’بوجوہ‘ گریزاں ہے۔ خود وہ مغرب ہی جس کو ہم بار بار ’رشک‘ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، یہ ’طائرِ قسمت‘ اُس کے سر پر تو کیا یونہی آکر بیٹھ گیا تھا، یا پھر جدید یورپ کی خالق کچھ فکری قیادتیں ہیں جنہوں نے اپنے پورے معاشرے کو ہی ہر ہر پہلو سے ایک نئی ترتیب دے ڈالی تھی اور اس پر ان کی ایک طویل محنت بھی ہوئی تھی بلکہ اسٹیٹس کو نظریات کے ساتھ ایک دل گیر جنگ بھی؟ یہی تو وہ کام ہے جو ہمارے یہاں ایک حوصلہ مند اسلامی قیادت کا بڑی دیر سے منتظر ہے! پس ہمیں رونا ہے تو اسلامی قیادت کے اس فقدان پر اور اسلامی راہ نمائی کے اس خلا پر، جس نے آخری حد تک ماحول میں اندھیرا کر رکھا ہے، اور جس کے باعث یہ قوم ستر سال سے اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہی ہے اور دین ناآشنا قیادتوں کے دیے ہوئے لا یعنی اہداف کی راہ میں بار بار کی ٹھوکروں سے آخری حد تک اپنا آپ لہو لہان کرا چکی ہے! یہاں تک کہ ’اعداد و شمار‘ کی زبان بولنے والے اب خبردار کرنے لگے ہیں کہ اس ’قافلہ‘ کے مجتمع رہنے کے امکانات تیزی کے ساتھ مخدوش ہورہے ہیں اور بلکہ تو بعید نہیں کسی بھی بڑے جھٹکے کے نتیجے میں، جس کی کہ فی الوقت کئی ایک صورتیں افق پر دھیرے دھیرے رونما ہورہی ہیں اور یک دم کوئی ناگہانی صورت بھی دھار سکتی ہیں، اب یہ مریض زندگی ہی ہار دے! مگر کیا ایسا تو نہیں کہ ’سمت‘ اور ’راستے‘ کی یہ سرگردانی اکیلے اس قوم کو لاحق نہ ہو، بلکہ خود ہماری اسلامی قیادتوں کے ہاں ہی یہ سب سے بڑھ کر پائی جاتی ہو؟! یہ بحثیں کہ ’چلنا کدھر کو ہے؟‘ قوم سے پہلے، ہماری اسلامی قیادتوں کے ہاں ہی سرے نہ لگ پائی ہوں؟! ہماری اسلامی قیادتوں کے ہاں بھی صبح شام عین اِسی ’مسئلے‘ پر شش و پنج جاری ہو؟! ’جائے رفتن نہ پائے ماندن‘ کی صورتحال کا سب سے بڑھ کر انہی کو سامنا ہو؟! ’نارسائی‘ کی الجھنیں اور ’بے یقینی‘ کے سائے سب سے بڑھ کر یہیں پر منڈلا رہے ہوں؟! بلکہ یہ ’مسئلہ‘ بھی اپنی ان مخلص اسلامی قیادتوں کا ہو جو امت کا درد رکھنے اور حقائق کو سنجیدگی کے ساتھ لینے میں اوروں سے بڑھ کر ہوں اور اس وجہ سے نہایت واجبِ احترام اور لائقِ سپاس مانی جانے کے قابل۔ ورنہ تو حال یہ ہو کہ ’اسلامی قیادتیں‘ یہاں ’پیروکار‘ بڑھانے اور ’رقیبوں‘ پر سبقت لے جانے کی فکر سے ہی کسی وقت فراغت نہ پاتی ہوں۔۔ ’بند گلی‘ میں ہونے کا ان کو ملال اتنا نہ ہو جتنی کہ ’حاضری‘ بڑھنے پر ان کی خوشی اور ’مجمع‘ گھٹ جانے سے متعلق ان کے اندیشہ ہائے دور دراز! اگر ایسا ہے تو پھر اس سے بڑھ کر آشوب ناک صورت کیا ہوسکتی ہے؟؟؟ تب کیا پھر ہم ’آئین‘ کا گریہ کریں؟؟؟ ’آمریت‘ کا ماتم کریں؟؟؟ ’وردی‘ کا شور الاپیں؟؟؟ سترھویں یا اٹھارویں یا ہزارھویں ’ترمیم‘ کیلئے ہلکان ہوتے پھریں؟؟؟ ’جمہوریت‘ کی زلفیں سنوارنے کیلئے ہر چند سال بعد سڑکیں بھریں؟؟؟ ’پارلیمانی روایات‘ کی بحالی کو امید افزا کہتے اور ’عوامی امنگوں‘ کیلئے آنسو بہاتے پھریں۔۔گویا اپنے مسائل کی راہ میں رکاوٹ بس یہی تھی اور یہی ہے؟؟؟ ’کارواں‘ کی حالتِ زار پہ جتنا بھی رو لیا جائے، لیکن ’راہ نمائی اور ’چارہ گری‘ کی حالت ہی اگر ایسی دگر گوں ہو تو پھر رویا کس چیز پر جائے؟ ؟؟ ’قوم‘ کے اس حالت کو پہنچ جانے کے پیچھے اگر ہم اسلامی طبقوں کے یہاں پایا جانا والا اپنا ایک داخلی بحران ہو، قوم کی اس سرگردانی کے پیچھے اگر ہماری اپنی سرگردانی ہو، تو ’آنے‘ اور ’جانے‘ والوں کی چیرہ دستیاں اور ’آئینی خلاف ورزیاں‘ ہی اپنا موضوع بنا رکھنا اور انہی کے ازالہ سے اپنے نوجوانوں کی امیدیں وابستہ کر رکھنا آخر کس مسئلے کا حل ہے؟ یہاں تو ایک ایک کر کے لوگ آتے بھی رہیں گے اور جاتے بھی رہیں گے اور بلاشبہ ہر ’آنے‘ اور ’جانے‘ والا ہی صیہونیت و صلیبیت کے اسلام دشمن ایجنڈے کو اس قوم میں آگے بڑھانے پر ’مجبور‘ ہوگا۔ کون نہیں جانتا کہ یہاں کا کوئی حکمران بھی یہاں کے ٹیکس دہندہ ’عوام‘ کا نہیں بلکہ ان ’عالمی مالیاتی‘ اداروں کا نوکر ہوتا ہے جو امدادوں اور قرضوں کے ’ڈرافٹ‘ پر دستخط کرتے ہیں؟ ’قومی شعور‘ جتنا بھی جاگ گیا ہو، اس کو فی الحال انہی ’جانے‘ اور ’آنے‘ والوں سے اپنی امیدیں ختم کرتے اور لگاتے رہنا ہے۔ اس کو انہی مہروں کے پس منظر میں سرگرم عمل ایجنڈوں کی تکمیل کا ذریعہ بنا رہنا ہوگا، جب تک کہ دینی قیادتیں اِس ’قومی شعور‘ کو ’دینی بصیرت‘ میں بدل کر نہ رکھ دیں اور جب تک ’حدود اللہ کی مطلق تعظیم‘ پر اصرار کرنا ہی یہ قوم کو نہ سکھا دیں اور صرف اور صرف ’اسلامی شرعی اصطلاحات و اہداف‘ ہی کو قوم کا موضوع نہ بنا دیں۔۔۔۔ اور جوکہ بہر حال ہو کر رہنا ہے۔
سیدھا سیدھا، یہاں ایک میدان سجنے والا ہے۔ یا یوں کہیے، یہاں ایک
میدان برپا ہو کر رہنا ہے۔۔اسلامی قوتوں کا برپا کیا ہوا میدان(2)،
جوکہ اِن کی اپنی شروط پر ہوگا، اِن کی اپنی اصطلاحات کے ساتھ، اِن کے
اپنے اہداف سے تشکیل پایا ہوا اور اِن کے اپنے کھڑے کئے ہوئے موضوعات
کا پیدا کردہ۔ میدان اِن کا اپنا ہوگا اور موضوعات بھی انہی کے اٹھائے
ہوئے، تو جاہلیت کو ’دفاعی حکمتِ عملی‘ اختیار کئے بغیر چارہ نہ ہوگا،
اُس جاہلیت کو جو ’عالمی‘ بساط پر بھی اور ’ملکی‘ سطح پر بھی بقاء
survival کے معاملہ میں اپنا عدم استحقاق آخری حد تک ثابت کر چکی ہے۔
نہ جاہلیت کے اٹھائے ہوئے ’موضوعات‘ اس کشمکش کا عنوان ہوں گے اور نہ
جاہلیت کی دی ہوئی ’اصطلاحات‘ اور نہ اُس کے ہاں قبولیت پا چکے ’نعرے‘،
جن کے اندر آج تک ہم اپنے لئے ’جگہ‘ تلاش کرتے رہے ہیں۔ ’اسلام‘ اپنی
ٹھیٹ حقیقت کے ساتھ برسرِ پیش قدمی ہو تو کیا یہ جاہلیت اس کی راہ میں
کھڑی ہوگی جو ساٹھ سال میں قوم کو ایک ’آٹا‘ نہ دے سکی!؟ ’اسلام‘ اُسی
طاغوت شکن باطل بیزار موحدانہ شان کے ساتھ، جس طرح کہ یہ پہلے پہل
میدان میں اترا تھا۔۔ اپنی چودہ سو سالہ تاریخ اِن قوتوں کی پشت پر
ہوگی اور عالمی افق پر طلوع ہونے والا اسلامی مستقبل کا سورج جس کی
کرنوں کی تمازت آج پورا جہان محسوس کر رہا ہے اِن کے سروں پر، تو جاہلی
قوتیں اِن کے آگے ’سائے‘ ہوں گے جوکہ ویسے ہی تیزی کے ساتھ سمٹ رہے
ہیں۔ ابھی عالمی سرمایہ داری نظام کے زمیں بوس ہوتے ہی، جوکہ اشتراکیت
کے مردے سے عنقریب جا ملنے والا ہے، یہاں جو ہا ہا کار مچ جانے کو ہے،
اس صورتحال کے ساتھ پورا اترنے کیلئے ہم پہلے ہی بہت لیٹ ہو چکے ہیں۔
اب بھی اگر ہم اپنی ایک نئی صف بندی کر لینے پر تیار ہو جاتے ہیں، اور
نہایت دلجمعی کے ساتھ کوشش کریں تو شاید اس کیلئے ہمیں کچھ وقت مل
جائے، تو وہ سب ’عالمی‘ اور ’علاقائی‘ حالات جو اس وقت ہمارے لئے
پریشان کن ہیں، خود بخود اس ’میدان‘ کے برپا ہونے میں ہمارے ممد ہوں
گے۔ بخدا جس قدر صورتحال اس وقت ہمارے حق میں جاسکتی ہے، اس کا امکان
عشروں میں تو کیا شاید صدیوں میں نہ ہوا تھا۔ ایک اتنا بڑا میدان ہمیں
خالی ملنے والا ہے بلکہ ملا ہوا ہے کہ ہم بہت تھوڑی کوشش کر کے معاملے
کو اپنے اور اپنی قوم کے حق میں نہایت کامیابی کے ساتھ پلٹ سکتے ہیں۔ ٭٭٭٭٭ رہی یہ بات کہ وہ ’سنگِ گراں‘ جو حائل ہے، وہ ’کسی‘ کے جانے اور ’کسی‘ کے آنے سے اس قوم کی راہ سے ہٹ جانے والا ہے، رہا یہ خیال کہ کسی ’آمریت اور جمہوریت‘ کی جدلیات میں اس قوم کے دیرینہ روگ اپنا علاج پا لینے والے ہیں اور تاریخ کا دھارا جو کوئی صدی بھر سے اس قوم کے حق میں تھم سا گیا ہے اب کسی پارلیمانی ’نمبرز گیم‘ کے نتیجے میں بحال ہو جانے والا ہے اور افق پر خطرات کی جتنی آندھیاں ہیں وہ آپ سے آپ اس کی ہیبت سے روپوش ہوجانے والی ہیں اور بلکہ تو ’نسیمِ صبح‘ میں تبدیل ہوجانے والی ہیں۔۔۔۔ جس کے نتیجے میں ’روٹی‘ اور ’ترقی‘ کے مواد سے بُنا گیا ’اکیسویں صدی کے پاکستان‘ کا وہ خواب جو یہاں کے کچھ ’روشن دماغ‘ عرصے سے اس قوم کو دکھا رہے ہیں __ اپنے اس حیا باختہ کلچر، اپنے ان شرمناک چینلوں اور اپنے تمام تر ’لالی وڈ‘ سمیت، کہ جس میں ’مذہب‘ کیلئے صرف ’احترام‘ رکھا گیا ہے __ ان کا یہ خواب اب شرمندہء تعبیر ہونے کو ہے، اور بھارت کے نقش قدم پر یہ ملک بھی اب ہمیشہ کیلئے جمہوریت اور فلاح کی راہ پر گامزن ہو جانے کو ہے۔۔۔۔ تو چونکہ ان لوگوں کی دنیا بہت چھوٹی ہے اور یہ زمینی سیارچہ جو چھ ارب نفوس کو چھاتی سے چمٹائے درحقیقت تو کسی مقصدِ عظیم کی تکمیل کے لئے اس تاریک مہیب خلا میں مسلسل لڑھکتا جا رہا ہے، اِن کے خیال میں محض ’روٹی‘ کھانے کیلئے رکھا گیا ہے اور محض ان کے کھیل تماشے کیلئے اتنی ساری مشقت پر مامور ہے، اور یہ کہ اپنے یہ ارمان پورے ہوجانے کی راہ میں چند آمروں اور ان کے کاسہ لیسوں کے سوا یہاں کوئی چیز حائل نہ تھی، لہٰذا اب کوئی وجہ نہیں کہ ’عوامی امنگوں‘ کی ترجمان قیادت کے زیر سایہ اس شاہراہ میں آگے بڑھنا مزید مؤخر ہو اور یہ کہ آنے والے دن اِن کے لئے بس یہی کچھ لے کر آرہے ہیں۔۔ تو یہ اب بھی نرا خیال ہی ہے۔ بلکہ اب تو یہ خیال ہی ہو سکتا ہے۔۔۔۔ آج اگر ہمیں ’جمہوریت‘ واقعتا مل جاتی ہے، تو بھی ہمارے لئے یہ ایک ایسے میلے میں شرکت کے مترادف ہوگا جس پر شام پڑ چکی اور جس کا بازار سمیٹا جانے لگا ہے! ایک طویل صبر اور انتظار کے مارے مسافر کے حق میں یہ ایک ایسی ٹرین کے اندر ’مرضی کی نشست‘ پانا ہے جس کو اب آگے کہیں نہیں جانا!معاملہ اگر صرف اتنا ہی ہو جتنا ہمارے ان ’تجزیہ نگاروں‘ کو نظر آرہا ہے تو اِن کے ظاہر کردہ امکانات کو درست یا غلط بتانے پر وقت صرف کرنا شاید کچھ اتنا بے کار مشغلہ نہ ہوتا۔ معروضی لحاظ سے یہ لوگ سو فیصد بھی درست ہوں، اور ’بھارت ایسی سیاسی پختگی‘ کے امکانات ایک یقینی واقعہ بھی ہو، مگر ان تجزیہ نگاروں کی اپنی بصیرت حیران کن حد تک باعث تشویش ہے! معلوم نہیں ’زمینی حقائق‘ کو جاننے کے دعویدار یہ خردمند حضرات کونسی دنیا میں بس رہے ہیں! یہ اگر نگاہ اٹھا کر دیکھیں تو پوری دنیا میں ایک زوردار تبدیلی کروٹیں لے رہی ہے، اور اس تبدیلی نے یورپ اور امریکہ کے منصوبہ سازوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔ دنیا ’جمہوریت اور آمریت‘ کے جدل سے بہت آگے بڑھ چکی، عین اسی طرح جس طرح ’بورژوائی اور پرولتاری‘ کی بنیاد پر دنیا کی ’تقسیم‘ متروک الرواج ہو چکی بلکہ اپنی موت آپ مر چکی۔ صاف صاف، دنیا ’اسلامی اور غیر اسلامی‘ میں تقسیم ہونے جارہی ہے۔ دنیا انبیاءکے لائے ہوئے حق اور اس کی راہ روکنے والے باطل کے مابین ایک معرکہء عظیم دیکھنے والی ہے۔ یہاں تک کہ ’مغرب‘ کو اپنی جان کے لالے پڑے ہیں اور وہ اسی وجہ سے آپ کے افغانستان کے پہاڑوں میں عشرے بھر سے خاک چھانتا اور ہلکان ہوتا پھر رہا ہے، جوکہ ’ایک شخص‘ یا ’چند اشخاص‘ کی تلاش میں نہیں ہو سکتا۔۔۔۔ البتہ ہمارے یہ تجزیہ کار قوم کو ’جمہوریت‘ کی نویدیں سنانے سے بڑھ کر، کہنے کیلئے کچھ اپنے پاس نہیں رکھتے! یہ ’اسلامی تبدیلی‘ ہے، جس کو یہ آنکھیں کھول کر دیکھنا نہیں چاہتے اور جس کے تصور سے مغرب کے مستقبل بینوں پر عرصہ سے لرزہ طاری ہے، اور اب وہ پوری دنیا کے خدوخال کو، جوکہ مغربی تہذیب کی یادگار ہیں، تہس نہس ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ پورا انسانی جہان بلا شبہہ آج ایک ایسی تبدیلی کے دھانے پر کھڑا ہے جو صدیوں میں رونما ہونے والا ایک واقعہ ہو، بلکہ جس طرح اِس کا راستہ روکنے کی کوششیں ہو رہی ہیں، بعید نہیں بہ اعتبارِ حجم یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا آتش فشاں ثابت ہونے والا ہو، جس کے نتیجے میں اِس عالمی ساہوکاری نظام کے صرف دو برج نہیں، جن کے گرنے کو وہ ’گیارہ ستمبر‘ کا نام دیتے ہیں اور جس پر وہ زمین آسمان ایک کر دینے پر تیار ہوگئے تھے، بلکہ اس نظام کے سارے کے سارے برج ہی الٹے جانے والے ہوں۔ جس کسی کیلئے یہ باتیں ناقابل یقین ہیں، وہ صرف آج سے تین عشرے پہلے کی ’سرمایہ داری بہ مقابلہ اشتراکیت‘ دنیا کو نگاہ میں لے آئے اور ذرا بتائے کہ جن حقائق کو صف آرا ہوتا وہ آج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے آج سے تین عشرے پیشتر ان کی پیشین گوئی بھلا کب ممکن تھی؟ ٭٭٭٭٭ ہمارے ایک مستقل قاری پر ہمارا یہ مقدمہ گو واضح ہے، پھر بھی تاکہ ایک نیا قاری اوپر گزرنے والی ہماری گفتگو کے مقصد اور مراد کی بابت کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہو ۔۔۔۔ قوم کیلئے ترقی اور خوشحالی مانگنا بلاشبہ مستحسن ہے۔ بنیادی حقوق بحال ہونے کے مطالبے کئے جانا ہرگز ہمارے نزدیک قابل اعتراض نہیں حتیٰ کہ اس کیلئے جدوجہد ہونا اور کسی بھی طبقے کے ساتھ مل کر اس جائز انسانی مطلب کیلئے کوشاں ہونا معیوب نہیں بلکہ ترجیحات کے ایک خاص محور کا پابند رہتے ہوئے یہ جدوجہد آج اس وقت بھی ہونی چاہیے۔ کوئی ایسی لاٹھی اس قوم کے ہاتھ آجائے جس سے ’آمریت‘ کا سر واقعتا کچلا جائے اور عوامی امنگوں کو پنپنے کی راہیں میسر آئیں، ایسی خواہش کرنے میں کوئی برائی ہے اور نہ اس کیلئے حسب استطاعت کوشش کرنے میں کوئی قباحت اور نہ کسی بھی طبقے کے ساتھ اس کیلئے تعاون کرنے میں کوئی حرج، بلکہ تو یہ مطلوب ہے۔معاملہ صرف اتنا ہے کہ اس بات کا تعین ہو کہ: 1) ان معاشروں میں اسلامی قوتوں کا اصل کردار کیا ہے؟ 2) اور پھر یہ کہ خود ان معاشروں کی اصل ضرورت کیا ہے، جس پر کہ سب سے زیادہ زور لگا دیا گیا ہو؟ اور جو کہ مصلحین کی جدوجہد کا اصل محور ہو؟ اور جہاں سے ’روٹی‘ اور ’حقوق‘ ایسے مسائل پر اسلامی قوتوں کے لہجے کا فرق دین ناآشنا طبقوں کی اپروچ کے مقابلے میں واضح اور عیاں ہو؟ 3) اور پھر یہ کہ مسلم معاشروں کی ترقی و فلاح سے متعلق جو خدائی سنتیں ہیںاور جوکہ ہمیں ان معاشروں میں پائی جانے والی حالیہ معاشی و سماجی ابتری کی اصل تفسیر پیش کرکے دے سکتی ہیں، اور جنکے اندر سے ہی اس امت کے حق میں ترقی و خوشحالی کی راہیں کھولی جانے کی در حقیقت کوشش اور امید ہونی چاہیے۔۔۔۔ بجائے اسکے کہ یہاں کی ’اخباری‘ عقول و نقول کا ہم لہجہ ہوکر اِن ’مسائل‘ کی دہائی مچائی جائے، اُن ”خدائی سنتوں“ پر ہی قوم کی توجہ زیادہ سے زیادہ مرکوز کرا دی جائے۔ ٭٭٭٭٭ تمام اسلامی طبقوں کے ساتھ محبت اور احترام کا رشتہ رکھنا ہمارے لئے جزو ایمان ہے۔ لیکن مسلم مفاد ہم سب سے بالا تر ہے۔ کوئی بات سامنے لانا اگر مسلم مفاد کا تقاضا ہے، خصوصاً وہ بات کہہ دینے کا وقت اگر آج ہی ہے، تو پھر اپنے کسی بھائی کو اپنے سے ’راضی‘ اور ’خوش‘ رکھنے کیلئے اس حقیقت سے خاموشی اختیار کر رکھنا مسلم مفاد سے ہی نہیں خود اپنے اس عزیز بھائی کے ساتھ بھی خیانت شمار ہوگی۔ پس ضروری ہے کہ شمالی علاقوں میں قائم اس وقت کی صورت حال ہو، یا سیاسی و سماجی و جہادی محاذوں پہ سر گرمِ عمل تحریکوں کے کام یا کوتاہی کے حوالہ سے کوئی ضروری بات سامنے لانے کا سوال ہو۔۔۔۔ ’لحاظ ملاحظے‘ کی اپروچ چھوڑ کر، جوکہ ’تیسری دنیا‘ کے اندر ’دوستوں کا حق‘ باور کی جاتی ہے، ایک صریح اور بے لاگ معروضی انداز میں بات سامنے رکھ دی جائے، جوکہ قولِ سدید میں آتا ہے اور ہمارے دین کا ہمیں باقاعدہ حکم ہے۔ ’دوستوں کا حق‘ کوئی ہے تو وہ یہی؛ یعنی اپنی اور ان کی، اور سب سے بڑھ کر مسلم مفاد کی ہمدردی کی جو کوئی بات ہے، اور جسے کہہ دینے کا وقت آج ہی ہے، وہ بات باحسن اسلوب اور حفظِ مراتب کا پابند رہتے ہوئے حتی الامکان صراحت کے ساتھ کہہ دی جائے۔ رہی یہ بات کہ ویسے ہم اپنے کسی بھائی یا بزرگ سے کس قدر محبت اور اس کیلئے کس قدر احترام دل کے اندر رکھتے ہیں، اور دین اور ملت کیلئے ا س کی خدمات اور محنت کو کس کھلے دل سے سراہتے ہیں، تو وہ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے جوکہ ایسے کسی تبادلہء آراءسے متاثر ہو جانے والی نہیں۔ حضرات! یہ بات ہم اس لئے بھی کہہ دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ ایقاظ اپنے تحریری سفر کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے؛ جہاں، اب تک چلا آنے والا ہمارا ’تجریدی‘ انداز جوکہ کچھ لوگوں کیلئے ’پریشانی‘ کا باعث رہا ہے، رفتہ رفتہ کم ہونے لگے گا، اور بعض ’مبہم حروف‘ پر ’نقطے‘ ڈالتے چلے جانے کا عمل بھی شروع ہو جائے گا۔ لہٰذا ہماری ان باتوں کو اس محدود سیاق میں لینا کہ کونسی بات کس کی ’حمایت‘ میں جا رہی ہے اور کس کی ’مخالفت‘ میں، تحریر کے مقصد کو فوت کر دینے کے مترادف ہوگا۔ یہاں کے دین نا آشنا طبقے کے ساتھ ہم ایک علیٰحدہ انداز اختیار کرتے ہیں، جس میں ہمدری کا عنصر پھر بھی غالب ہی رہے گا۔یہاں کے دین بیزار طبقے سے ہماری بیزاری البتہ ایک کھلی حقیقت ہے، اور اس پر کبھی ہم معذرت خواہانہ اسلوب کا سہارا نہ لیں گے۔ البتہ یہاں کے دینی طبقے جو ایک عمومی معنیٰ میں اہلسنت دائرہ کے اندر آتے ہیں، ہمیں دل وجان سے عزیز ہیں اور ان کے ساتھ محبت اور موالات ہمارے ایمان کا حصہ۔ ان کے ساتھ ہماری کوئی گفتگو کبھی کتنی ہی ’صریح‘ کیوں نہ ہو جائے، یہ بات ان شاءاللہ ہر شبہے سے بالاتر ہے اور رہے گی۔ ٭٭٭٭٭ خدا محفوظ رکھے اور اس میں سے بھی کوئی خیر ہی برآمد کرا دے، ’شمالی علاقوں‘ میں ایک بہت بڑی سطح پر ’لال مسجد‘ کا اسٹیج تیار ہو رہا ہے۔ شاید خون کی کوئی بڑی ہولی کھیلی جانے والی ہے۔ کچھ نہیں کہا جا سکتا ’شمالی علاقوں‘ کے ساتھ ہی کون کون سے علاقے اور بلکہ تو کیا بعید پورا ملک ہی اس کی لپیٹ میں آنے والا ہو۔ دوسری جانب ہم دیکھتے ہیں اسلامی قوتیں یہاں کے ’قومی دھارے‘ میں بے وزن اور بے آواز اور بلکہ تو بے وقعت اور ’غیر متعلقہ‘ irrelevant ہوجانے کی جس حد کو چھونے لگی ہیں، اور اس کے نتیجے میں ’اسلامی ایجنڈا‘ یہاں کی روز مرہ بحثوں اور گفتگوؤں اور تبصروں و تجزیوں سے جس شدید حد تک روپوش ہوگیا ہے، وہ ایک خبردار کر دینے اور بلکہ تو جگا دینے والی صورتحال ہے۔ اس معاملے کے ساتھ پورا اترنے کیلئے اگر کوئی ”انتہائی غیر معمولی اقدامات“ اب بھی نہ کئے گئے اور محض کچھ نئے ’الائنس‘ کھڑے کر لینے اور محض ایک ’نئے زور و شور‘ کے ساتھ اسی ’پرانے میدان‘ میں اترنے پر اکتفا کر لیا گیا جوکہ ہمارے لئے بند گلی بن چکا ہے اور جس کے کہ ہم کافی سے زیادہ تجربات کر چکے ہیں، تو خدشہ ہے ہم اپنی رہی سہی رمق سے بھی کہیں ہاتھ نہ دھو لیں اور تھوڑے ہی عرصے میں معاملہ بالکل ہی کوئی اور رخ اختیار نہ کر لے، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ معاملہ بڑی دیر سے ’کوئی اور رخ‘ اختیار کر چکا ہے اور اس کے ساتھ پورا اترنے میں پہلے ہی ہم بہت دیر کر چکے ہیں۔ یہ دو باتیں حد سے بڑھ کر توجہ طلب ہیں اور حد سے بڑھ کر خوفناک اور پریشان کن۔ یہ سمجھنا کہ ان دونوں میں کوئی خاص تعلق نہیں، ایک سطحی اندازِ فکر ہے۔ اس حوالے سے، کچھ ایسے مباحث چھیڑ دینا ہماری نظر میں بہت ضروری ہو گیا ہے جن کو نگاہ میں رکھنا یہاں اسلامی عمل کے آگے بڑھنے میں، خصوصا اس کے درست سمت پانے میں، ممد ہو سکتے ہیں۔۔۔۔ ٭٭٭٭٭ ’جمہوریت‘ و ’آمریت‘ کا ڈائلیکٹ ہو یا ’روشن خیالی‘ و ’قدامت پسندی‘ کا، ’انتہا پسندی‘ بہ مقابلہ ’اکیسویں صدی کا پاکستان‘ ہو یا پھر ’دہشت گردی‘ رو بروئے ’فاختہ ہائے نیو ورلڈ آرڈر‘۔۔۔۔ ہر معاملے کا تجزیہ کرنے میں، آپ دیکھیں گے کہانی کو ’ذرا پیچھے سے‘ شروع کرنا یہاں کا رائج اسلوب ہے اور روز کوئی نہ کوئی کتاب، کوئی نہ کوئی ’اسٹڈی‘ اور کوئی نہ کوئی ’محقق‘ یہاں ’گزرے عشروں‘ کی داستان لئے بیٹھا ہوتا ہے! ’اسلامی قوتوں‘ کے کردار کے حوالے سے، نہایت اختصار کے ساتھ، ہمیں بھی کچھ پیچھے جائے بغیر چارہ نہ ہوگا۔ ویسے تو کبھی ہم کوشش کریں گے کہ یہاں اپنے ماضی کا جائزہ لیتے ہوئے صدی دو صدی پیچھے تک جائیں اور اس الجھن کے کئی کھوئے ہوئے سرے برآمد کرنے کی کوشش کریں، البتہ یہاں ہم اپنا جائزہ ’قیام پاکستان‘ کے وقت سے شروع کریں گے۔۔۔۔ پاکستان کا قیام عمل میں آتے ہی، زمام کار جہاں کچھ ایسے جاگیر داروں، بیوروکریٹوں اور جرنیلوں کے پاس تھی جس کو اس ’کالونی‘ کا ایک نہایت بوسیدہ ڈھانچہ کہا جا سکتا تھا۔ ’یس سر‘ کے سوا کوئی ایک ہنر پاس نہ رکھنے والا، لکیر کا فقیر، جذبہء عمل سے سراسر عاری، بصیرت سے کورا، اپنا کوئی بھی وژن نہ رکھنے والا، ’اسلامی‘ تو خیر بہت دور کی بات ہے کوئی ’قومی‘ نگاہ رکھنے تک سے محروم،’تخلیقیت‘ سے آخری حد تک ناآشنا۔۔ یہ ایک ایسا ٹولہ تھا جو اگر دیانتدار ہو بھی تو صرف ’ملازمت‘ کیلئے اچھا تھا، اور ملازمت بھی اسی سسٹم میں جو کسی ’کالونی‘ کو چلانے کیلئے ہو۔ کجا یہ کہ ’دیانت‘ بھی میسر نہ ہواور ’صاحب‘ کے چلے جانے کے بعد ’کرسی‘ ہی خالی مل گئی ہو، جبکہ ان کے سامنے چیلنج ایک گھسی ہوئی ’کالونی‘ نہیں بلکہ ایک نوزائدہ ’ملک‘ کو چلانا ہو کہ جس کو کہ پوری دنیا ’آزاد‘ کہنے لگی تھی، اور قوموں کی شدید ترین دوڑ کے زمانے میں ایک نو پیدا شدہ ’قوم‘ کو راہ دکھانا ہو! (3) یہ ’قومی‘ عمارت جہاں ایک ایسے بوسیدہ ڈھانچے پر کھڑی تھی، وہاں دو نوخیز قوتیں بڑی تیزی کے ساتھ ابھر کر سامنے آرہی تھیں، اور جوکہ اپنی تاثیر میں نہایت دور رس اثرات کی حامل تھیں اور دونوں ہی اس ’ڈھانچے‘ کے حق میں ایک شدید امکانی خطرہ۔ یہ دونوں ’تحریکیں‘ تھیں۔ ایک سرخ سویرے کی نوید دینے والی، جو ایک آندھی کی طرح پوری دنیا پر چھا جانے کیلئے بے قابو ہو رہی تھی اور اِس ملک کے ’ڈھانچے‘ کو بھی بہت نیچے تک ہلا رہی تھی۔ دوسری ’تحریکِ اسلامی‘، جوکہ عالمِ نو میں اپنا ظہور کرانے کیلئے سر اٹھا رہی تھی، اور ویسے تو عالمی سطح پر ہی مگر بر صغیر میں تو خاص طور پر سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی فکر سے راہنمائی پا رہی تھی۔ یہ بھی یہاں پائے جانے والے نظامِ کہن کو جڑ سے اکھاڑ دینے کی جہت میں نہایت کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھی۔ ’سرخوں‘ کے برعکس اس تحریک کی پشت پر کوئی ’سوویت یونین‘ ایسی توسیع پسند سپر پاور نہ پائی جاتی تھی، مگر پھر بھی اس کی اٹھان دیدنی تھی، اس کی اپیل اور اس کے پیغام کی جاذبیت کمال کی تھی اور اس کا مومنٹم بے حد زوردار تھا۔ اس کا مقابلہ ایک سپر پاور کے ساتھ تھا اور یہ تن تنہا اس کے ساتھ پورا اتر کر اور اپنے عزم و استقلال اور اپنی بڑھتی ہوئی پزیرائی کے ذریعے ثابت کر رہی تھی کہ یہ آپ اپنے پیروں پر کھڑی ہے اور اپنے وجود کے معاملہ میں کہیں ’باہر‘ نہیں بلکہ یہ آپ اپنی بنیادوں پر سہارا کر سکتی ہے۔ ایسی ’خود کفیل‘ قوت تھرڈ ورلڈ کے اندر پائی جانے لگے اور زندگی و توانائی کے سب سوتے اس کے اپنے اندر ہی سے پھوٹ رہے ہوں، بڑوں کے کان کھڑے کر دینے کیلئے ایک یہی بات بہت کافی تھی۔ اسٹیٹس کو کی کرسی، جسے چاروں طرف سے آندھیوں کا سامنا تھا اور اس کا اپنا وجود حالتِ ضعیفی سے دوچار تھا، طبعی بات تھی کہ ان دو نوخیز قوتوں کی چشمک میں ہی اپنی بقاءکا راستہ تلاش کرتی۔۔۔۔ بیرون سے ’امریکی امدادیں‘ اس بیمار کو سہارا دینے کیلئے موجود تھیں، اور جوکہ مفت میں ’قوم‘ پر احسان بھی تھا اور اس کے پر کترنے کی ایک ترکیب بھی، جبکہ داخلی طور پر اسلام اور سوشلزم کی داعی قوتوں کے مابین جنگ جوکہ یہاں ہر سطح پر ہو رہی تھی اس بیمار کے حق میں ایک نعمتِ غیر مترقبہ تھی۔ پچاس اور ساٹھ کے عشرے نکلوا دینے کا یہی دو بڑے ذریعے بنے اور یوں یہ نظامِ کہنہ ’کامیابی‘ کے ساتھ چلتا اور ’آزادی‘ کی سالگرہیں مناتا رہا! البتہ اس نوخیز اسلامی تحریک کو وقت سے بہت پہلے گھن لگنا شروع ہو گیا، جبکہ اس کی جگہ لینے کو کوئی اور اسلامی قوت موجود تک نہ تھی۔ اس کی بنیاد پچاس کی دہائی میں ہی پڑ چکی تھی مگر ایک حقیقی تحریک کو جو زور حاصل ہوتا ہے وہ اس کے عشرے دو عشرے تو بڑے ہی آرام سے نکلوا دیتا ہے۔ کہیں اگر ایسا ہوتا کہ ستر اور اَسی کے عشروں میں یہ تحریک اپنے اسی زور اور مومینٹم کے ساتھ داخل ہوتی اور نوے کے عشرے میں کہ جب سرخوں کے سر سے ’باپ کاسایہ‘ ہی اٹھ گیا تھا اور میدان میں کوئی حقیقی قوت باقی ہی نہ رہ گئی تھی، نوے کی دہائی میں کہیں اگر ’تحریکِ اسلامی‘ کے وجود کے اندر وہی ’تلاطم‘ اور ’دنیا کو الٹ دینے‘ کا وہی حیران کن جذبہ اور جوش برقرار ہوتا جو اس سے پہلے ’شوکتِ اسلام‘ کی صورت بے قابو ہو ہو کر اس کے وجود سے باہر آرہا تھا، تو آج کا نقشہ ہی بالکل اور ہوتا۔ ’نو آبادیاتی‘ نظام کے بڑے یہاں بنفس نفیس نہیں رہ گئے تھے، مگر ان کے کثیر لاگت سے چلنے والے ’تھنک ٹینک‘ اپنے تھرڈ ورلڈ کے پسماندگان کو ’فنی مدد‘ دینے تک میں بخل کرتے ہوں ، یہ بات ماننے والی نہیں۔ ’بھٹو‘ کی صورت میں ’سوشلزم‘ کو ’قومیا لینے‘ کی ایک خاصی حد تک کامیاب ترکیب چلی گئی، اور ’ضیاءالحق‘ کی صورت میں ’اسلامی قوتوں‘ کو۔ ستر کی دہائی کے آخر تک اگر ’سرخے‘ اس بوڑھے نظام کے ہاتھوں اپنے سر کے بہت سے بال ہلکے کروا چکے تھے تو اَسی کی دہائی ختم ہونے سے پہلے اُس وقت کی ’اسلامی تحریک‘ کے زیادہ تر ’فیوز‘ نکالے جا چکے تھے۔ ایک ’شہید‘ بالآخر سوشلسٹوں کے حصے میں آیا اور ایک ’شہید‘ اسلام پسندوں کے حصے میں۔ کفن دفن سے فارغ ہوئے تو چلنے کیلئے دونوں کے پاس البتہ اپنا راستہ نہ رہ گیا تھا! نوے کی دہائی شروع ہوئی تو یہاں دور دور تک ’خلا‘ تھا۔۔ اور بوڑھے نظام پر جوانی کا گمان ہوتا تھا! ایک فریق تو روپوش ہی ہو گیا تھا، اور اس کی ’وجہ‘ بھی سمجھ آتی ہے۔ مگر دوسرا فریق جس کیلئے بلا شبہ یہ ’وقتِ قیام‘ تھا، اس ’قیام‘ سے عاجز نظر آ کر اپنے سب خیر خواہوں اور ہمدردوں کو حیران کر رہا تھا۔ ہمیں یاد ہے عرب دنیا میں سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے عقیدت مند، جن کی توقعات پاکستان کے معاملے میں اب آسمان کو پہنچ گئی تھیں، اس صورتحال کو ہکا بکا ہو کر دیکھ رہے تھے۔ اس دوسرے فریق کے ساتھ آخر ہوا کیا؟ آخر فرق کیا آیا؟ اَفرادی قوت میں کمی آئی؟ نہیں۔ بلکہ نفری تو کچھ بڑھی ہی ہو گی۔ دستور بھی وہی رہے۔ منشور بھی۔ پروگرام بھی۔ معمولات بھی۔ نصاب بھی۔ شروطِ رکنیت بھی۔ حتیٰ کہ قیادتوں تک میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ مگر ’بحر کی موجوں کا وہ اضطراب‘ جو یہاں ایک کھلبلی مچا رہا تھا اس پر اب ’کھڑے پانی‘ کا گمان ہوتا تھا۔ پانی تو ’وہی‘ پانی ہوتا ہے مگر پانی کے چڑھنے کا ایک سماں ہوتا ہے تو اس کے اترنے کا سماں بالکل ہی اور۔ بلند ہوتی موجوں کی طغیانی جہاں دیکھنے والوں کو حیران کرتی ہے وہاں وہ کچھ خاص لوگوں کو اپنے بہت پیچھے کسی شان دار ’حقیقت‘ کا پتہ دے رہی ہوتی ہے۔ پھر جب اس طغیانی کا زور ٹوٹتا ہے تو بھانپنے والوں کو اُس ’حقیقت‘ کے اندر تبدیلی کا اندازہ کرنے میں بھی ہرگز دیر نہیں لگتی۔ جیسا کہ ہم نے کہا، اس پسپائی کی بنا بہت پہلے رکھ دی گئی تھی۔ ہم اس مسئلے کے سب پہلوؤں کو یہاں زیر بحث نہیں لائیں گے۔ ایک بہت اہم بات یہ ہے کہ جب تک ’تنظیم ایک فکر کی پیدا کردہ‘ تھی تب تک اس کا رنگ ہی کچھ اور تھا مگر جب ’فکر ایک تنظیم کی پیدا کردہ‘ ہونے لگی تو اب اس مرحلہ میں ایک عمل کی صحیح ترتیب الٹ چکی تھی اور ایک ’تولیدی عمل‘ reproduction کا جاری رہنا اب ممکن ہی نہ تھا۔ کم از کم ایک جاندار عمل ممکن نہ تھا، بے شک ’تنظیم‘ وہی کیوں نہ ہو اور ’فکر‘ بھی وہی کیوں نہ ہو۔ نتیجتاً نصاب بھی وہی رہے، منشور بھی، دستور بھی، پروگرام بھی، اور معمولات بھی، اور لوگ بھی، مگر وہ ’حقیقت‘ جو اس کے اندر بول رہی تھی بلکہ پھوٹ پھوٹ کر باہر آرہی تھی اب دھیمی پڑنے لگی تھی، بلکہ تو رفتہ رفتہ روپوش ہونے لگی تھی۔ لازم تھا کہ ’تنظیم‘ یہ ایک حد تک ہی ہوتی اور اپنی بنیاد اور اپنی افتاد میں مسلسل یہ ایک فکری آتش فشاں ہی بنی رہتی جو اپنا پھیلاؤ ’امت‘ کی سطح کا رکھے اور جو خود بخود تنظیموں، اداروں، انجمنوں، مدرسوں، مسجدوں، سماجی پروگراموں اور مختلف چینلوں کو ایک دھارے میں لائے۔ اس کا زور ہی اس قدر ہوتا کہ اسلام اور جاہلیت کی اس مڈھ بھیڑ میں جو ’دیندار‘ اس دھارے میں نہ آتا خواہ وہ کتنی بھی کثرت رکھتا خود بخود حاشیائی اور غیر متعلقہ ہو جاتا۔ بلکہ ابتدا میں کسی حد تک ایسا ہوا بھی؛ مختلف دینی طبقوں میں یہ مقدمہء دعوت بڑی کامیابی کے ساتھ ایک ہلچل پیدا کرنے لگا تھا اور بہت سوں کو ’سوچنے‘ پر مجبور کر رہا تھا، جس کے باعث بڑے بڑے ’نام‘ اس کے سامنے حاشیائی ہونے لگے تھے۔ بلکہ تو قریب تھا کہ کئی ایک ’بند‘ ہی ٹوٹ جائیں اور اِدھر اُدھر کا بہت سارا ’جمع شدہ‘ پانی اس کے ریلے کو اور بھی اٹھا دے۔ اس کا متبادل بننے کیلئے البتہ بعد ازاں جو پیشرفتیں یہاں ہوئیں وہ تو اور بھی زیادہ ’تنظیم‘ تھیں اور ابتدا ہی سے ’جماعت‘ کی طرف دعوت دینے کے سبب ان کے اندر ’تبدیلی‘ کا وہ آتش فشاں جو ہمیں سید مودودی کی تیس اور چالیس کی دہائیوں والی جدوجہد میں ملتا ہے اور بھی کم زور تھا۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ ’جماعت سازی‘ کا تصور بھی کئی نہایت اعلیٰ پائے کی کوششوں کو، جو ویسے شاید کمال کی افتاد رکھتیں، بہت جلد ’بند گلی‘ میں پہنچا دینے کا ذمہ دار رہا ہے۔ اس کے بعد تو پھر جماعتوں کا سلسلہ ہی چل نکلا۔ دین کا سب سے ’پہلا فرض‘ گویا ایک عدد ’جماعت‘ کھڑی کرنا تھا اور اس کے بعد دین کا باقی سب کام ’حسبِ استطاعت‘! اور اب حال یہ ہو گیا ہے کہ جاہلیت کے ساتھ اپنا جھگڑا اور اختلاف بتانے سے زیادہ اہم کام ایک دینی جماعت کی زندگی میں گویا یہ ہے کہ وہ دوسری اسلامی جماعتوں کے ساتھ اپنے اختلاف کی روداد سنایا کرے اور یہ ثابت کرے کہ دیگر دینی جماعتوں کی نسبت کن کن دلائل کی بنا پر یہ ’اقرب الی الحق‘ ہے! الا ماشاءاللہ۔ پچھلے چند عشروں سے جماعتوں کی زیادہ تر سعی اپنے آپس کے مابین رہی ہے۔ نہ معلوم کن ’شرعی‘ دلائل سے ’جماعت‘ کا ایک ایسا تصور نکالا گیا کہ ’کون حق پر ہے؟‘ کا فیصلہ سب سے پہلے جماعتوں کے اپنے مابین ہو نہ کہ جاہلیت کے مد مقابل!۔۔۔۔ مگر نہایت اہم ہونے کے باوجود یہ نکتہ چونکہ ’تربیت‘ اور ’منہج‘ سے تعلق رکھتا ہے، اور ہماری گفتگو کا سیاق فی الحال ذرا مختلف ہے، لہٰذا اس پر قدرے تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالنا کسی اور وقت ممکن ہوگا۔ ٭٭٭٭٭ ہماری یہ گفتگو محض ’مطالعہء تاریخ‘ نہیں بلکہ اپنے اِس خوفناک حالیہ بحران کے پس پردہ جھانکنے کی ایک کوشش ہے جس سے کہ ہمارا آج اِس وقت کا تحریکی عمل دوچار ہے۔ہم اپنے ان نوجوانوں کو بڑے آرام کے ساتھ مذموم ٹھہرا سکتے ہیں جو ’شمالی علاقوں‘ میں پیدا شدہ صورتحال کے بظاہر ’ذمہ دار‘ ہیں۔ لیکن درحقیقت یہ ہمارے دینی طبقوں کا پیدا کیا ہوا وہ خلا ہے جس کی قیمت یہ نوجوان اپنے خون سے دے رہے ہیں۔ یہ درحقیقت ہمارا پیدا کیا ہوا وہ بحران ہے جس کے اندر ہمارے آج کے کچھ مخلص و جذبہء عمل سے سرشار نوجوان اپنے اپنے طور پر ’کچھ‘ کر گزرنے کی کوشش میں لگے ہیں۔ آخر یہ نوجوان ہیں اور دشمن آگ لگا چکا ہے، کیا یہ قیامت تک ’قیادت‘ کا انتظار کریں گے؟ یہ ایک سماجی بنیاد اٹھائے بغیر ہی جاہلیت سے الجھ جانے کیلئے تیار ہیں، جوکہ ہماری نگاہ میں درست نہیں، تو بھی یہ ان کی ایمانی حمیت کا منہ بولتا ثبوت بہرحال ہے۔ اور پھر جبکہ یہ ’سماجی بنیاد‘ اِن کو نہیں اِن کے ’بڑوں‘ کو اٹھانا تھی جو اپنے اپنے مدرسوں اور جماعتوں کے ’روزمرہ‘ اشغال سے فارغ نہیں اور جن کے پاس ہمارے ان نوجوانوں کے لئے ’ٹائم‘ تک نہیں اور نہ اِن نوجوانوں کے چیختے ’سوالوں‘ کے جواب اور نہ ’غضِ بصر‘ کے سوا اُن چیلنجوں کے ساتھ پورا اترنے کیلئے کوئی لائحہء عمل جوکہ آج کے حقیقی چیلنج ہیں اور جن کا سامنا کرنے کا جذبہ اور پریشانی اِن نوجوانوں سے اپنا گھر بار چھڑوا رہی ہے۔ بے شک یہ نوجوان آج جس راستے پر ہیں اس میں کئی بڑے بڑے نا خوش گوار حادثات کا قوی ترین امکان پایا جاتا ہے، بلکہ تو معاملہ ہی پٹڑی سے سرک جانے کا واضح امکان ہے اور یقینا مقامی و عالمی ایجنسیوں کے بڑے بڑے گھاگ، ’پاکستانی طالبان‘ کے نام سے چلنے والے اس جنگی سلسلہ کو ’اسلامی خطرے‘ کے اپنے وجود پر ہی الٹ دینے کیلئے صبح شام مصروف عمل ہیں اور کم از کم بھی اِس پر تو وہ ضرور ہی کام کریں گے کہ کسی طرح ایک پھل کو پکنے سے پہلے ہی تڑوا دیا جائے تاکہ سرمایہ داری نظام کے دھڑام سے گرتے ہی یہاں جو خلا پیدا ہونے والا ہے اس کا فائدہ لے جانے کیلئے کوئی نہایت زیرک و مشاق اسلامی قوت خطے میں پہلے سے موجود نہ بیٹھی ہو(4) اور تاکہ یہاں کے معاشرے جن کی تربیت کا کوئی کام نہیں ہوا ہے اور جن کے اندر ڈھیروں زہر بھرنے کیلئے جاہلیت دھڑا دھڑ اپنے ’چینل‘ کھول رہی ہے، یہاں کے یہ معاشرے اس ’خونیں طالبانائزیشن‘ سے جس کو میڈیا کمال محنت کے ساتھ اب بھیانک سے بھیانک تر بنا رہا ہے۔۔۔۔ یہ معاشرے اس ’طالبانائزیشن‘ سے آخری حد تک متنفر ہو جائیں جس کے اندر اس قوم کا ایک بڑا طبقہ اپنی ساٹھ سالہ محرومیتوں کا حل دیکھنے لگا تھا ۔۔۔۔ بلا شبہ یہ راستہ جس پر ہمارے بعض نوجوان طبقے چل پڑے ہیں، اور جس کے اندر اَن دیکھے ہاتھوں کے کردار کا تعین ہونا گو الگ سے ضروری ہے، کچھ نہایت خطرناک اور تباہ کن مضمرات کا حامل ہے اور یہ ہمارے اس بحران کو جس کا اسلامی قوتوں کو سامنا ہے بے اندازہ پیچیدہ کر دینے والی ایک پیشرفت ہوگی۔۔۔۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ اپنے ان نوجوانوں کو دینے کیلئے ہمارے پاس ’کام‘ ہے کیا؟ جس تیزی کے ساتھ معاشرے میں فساد پھیل رہا ہے اور آئے روز خباثت کے نہایت دور رس ایجنڈے لانچ کئے جارہے ہیں، جس واضح انداز میں یہ ملک امریکہ کی جنگ کو اپنی جنگ مانتا ہے اور کوئی ایسا سماجی دھارا نہیں جو اِس کے پالیسی سازوں کو ’نظر ثانی‘ پر مجبور تک کر سکے، جس آخری حد تک ’شریعت کے قیام ونفاذ‘ کو یہاں کی ’قومی بحثوں‘ سے روپوش کرا دیا گیا ہے اور جس کے سامنے اسلامی قوتوں کی خاموشی سکوتِ صحرا پہ بھاری ہے۔۔۔۔ کیا ہم توقع کریں کہ وہاں سب لوگ ہی، خصوصاً غیرت،جوش اور جذبہء عمل سے کھولتے ہوئے ہمارے نوجوان، اور وہ بھی ایک غیر معینہ عرصے تک، ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے رہیں گے؟! یقین کیجئے یہ بیشتر نوجوان جو دیکھنے میں ’منہ زور‘ اور ’کسی کے کہنے میں نہیں‘ نظر آرہے ہیں، در حقیقت اُس ’قیادت‘ کی راہ ہی تک رہے ہیں جس کے ’کہنے میں رہنا‘ واقعتا یہاں کے عمل پسند طبقوں کے دل کی ایک دیرینہ حسرت ہے! مگر وہ ’قیادت‘ ہے کہاں؟ اُسی کے انتظار میں تو بوڑھے ہوگئے!!! قربانیاں دینے والے طبقوں کو’صبر‘ اور ’ضبط‘ کی اپیل ہرگز بری نہیں لگتی اگر وہ ایک ایسی ’قیادت‘ کی طرف سے آرہی ہو جو ’عزیمت‘ کی راہ میں واقعتا ان سے آگے ہو اور واقعتا کسی حکمتِ عملی کے تحت ہی وہ اپنے اِن برسر عمل نوجوانوں کو کسی ’اقدام‘ سے دستکش رہنے کی ہدایات دے رہی ہو اور جبکہ بہت کچھ اس عزیمت کے راستے میں ان کو دینے کیلئے وہ قیادت اپنے پاس رکھتی ہو۔ لیکن یہ علماء، یہ مفکرین اور یہ راہبرانِ دین اگر ایک روٹین کی کارروائی پوری کر رہے ہوں، الا ما شاءاللہ، مصلحت کوشی عروج پر ہو، اپنی اپنی ’جماعتیں‘ اور ’دھڑے‘ اور ’ادارے‘ اور ’مدرسے‘ نہایت ’معمول کے مطابق‘ چلائے جا رہے ہوں اور ’زندگی‘ یونہی تمام ہو رہی ہو، جبکہ نوجوان یہ دیکھ رہے ہوں کہ گھر کو آگ لگی ہوئی ہے اور اس کا ہر ہر گوشہ جل رہا ہے، تو اِن ’قیادتوں‘ کی جانب سے ’صبر اور ضبط‘ کی تلقینیں ان نوجوانوں کو شاید زہر سے بری لگیں۔ یقین کیجئے اس صورت میں رہبرانِ ملت کی جانب سے اختیار کی گئی ’خاموشی‘ کتنی بھی نقصان دہ کیوں نہ ہو، گو آپ کا جاہلی میڈیا بار بار پوچھ رہا ہے کہ آخر ’علماء‘ اس موقعہ پر کیوں نہیں بول رہے، مگر یہ ’خاموشی‘ ان کے بولنے سے، خاص طور پر ان نوجوانوں کی مذمت میں بولنے سے، پھر بہتر ہو گی۔ کونسا موقعہ اور کونسا زمانہ ہے کہ جب ’علماء‘ کا بولنا ضروری نہ ہو۔۔۔۔؟! مگر وہ ’مضمون‘ تو طے ہو جو اِس ’بولنے‘ سے ادا ہو! کیا وہی ’مضمون‘ جس کا تقاضا ظلم کی قوتوں کی جانب سے ہو رہا ہے اور جس کیلئے ’میڈیا‘ نے زبانیں کھول رکھی ہیں؟ ٭٭٭٭٭ بخدا ہمارا بحران ایک حقیقی بحران ہے۔ اِس کو اُن سِروں سے پکڑنا جو اس وقت ہمارے ’پاکستانی طالبان‘ بھائیوں نے پکڑ رکھے ہیں، چاہے اس کے پیچھے کچھ بھی اسباب ہوں اور چاہے ان کے اِس پر مجبور ہو جانے کے کچھ بھی عوامل ہوں، اس بحران کی پیچیدگی کو اور بھی بے اندازہ بڑھا دینے والا ہے۔ رہے اس بحران کے حقیقی سِرے تو ان کو پکڑنے پر کوئی تیار نہیں!رہا وہ خلا جس نے ہمارے نوجوانوں کو اپنے بڑوں سے آخری حد تک مایوس کر دینے میں اصل کردار ادا کیا ہے، اور جس کے باعث ہمارا بہترین باصلاحیت نوجوان سرمایہ ہزار ہا طریقوں سے ضائع جا رہا ہے اور عشروں سے اسلامی قیادتوں کی عدم فاعلیت کی بھینٹ چڑھ رہا ہے، بڑے بڑے ہیرے جس کے باعث خاک میں رل رہے ہیں اور کچھ کیلئے تو واحد چناؤ جاہلیت کی زلف میں سجنا رہ گیا ہے، بصورت دیگر ان کو معاشرے کا عضوِ معطل بن کر رہنا ہے اور اپنی صلاحیتوں کے جوہر کو اپنے ہی اندر گھٹ کر مر جانے دینا، ’پلیٹ فارم‘ کا فقدان کہ جس پہ آکر عمل کیلئے جوش کھاتا ہوا مسلم جذبہ اپنے ظہور میں آنے کی خوب خوب راہ پائے، اور جس کی عدم دستیابی ہی یہاں صالح نوجوانوں کی اکثریت کو بے کار اور غیر پید آور non-productiveرکھنے کی باعث ہے تو نوجوانوں کی ایک تعداد کو اپنی راہیں خود تلاش کرنے اور اپنا فرض ادا کرنے کی کچھ ’فوری صورتیں‘ نکالنے کی جانب دھکیل رہی ہے۔۔۔۔ رہا اپنا یہ اصل بحران جس کے جاری رہنے کی صورت میں ایک ’شمالی علاقوں کی صورتحال‘ ہی کیا، نجانے آئندہ سالوں میں ہمیں کیا کیا کچھ دیکھنا پڑ سکتا ہے، تو اِس پر سر جوڑ کر بیٹھنا کم ہی کہیں نظر آتا ہے۔ ایک ایسا بحران جس کا سِرا خود ہم سے ہی پھوٹتا ہو، اس کے ’نتائج‘ کی مذمت کردینا بحران کا کوئی حل ہے اور نہ ان سے لا تعلق رہ کر دکھانا! حضرات کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم اس ’حقیقی بحران‘ پر اب ہی کچھ توجہ دے لیں؟ یہ نقصان جو مسلسل ہو رہا ہے کم از کم اپنی یہی قیمت دے جائے کہ یہ ہمیں اب ہی جگا دے؟ ہمیں یہ بحران پیدا ہی نہ ہونے دینا چاہیے تھا، ٹھیک ہے، مگر چلیں اب اس کے نتائج دیکھ کر ہی اس کی سنگینی کا کچھ اندازہ کر لیں اور وہ راستہ چلنے پر اب ہی پوری طرح یک آواز ہو جائیں جو اس بحران کے ازالہ کی کسی حقیقی صورت تک پہنچا دینے کی ایک امکانی صلاحیت اپنے اندر رکھتا ہو؟ یہاں کئی اسلامی قوتیں آج بھی ایسی ہیں جو __ اپنی صاحبِ نظر قیادتوں کی سطح پر __ اگر مل بیٹھ کر راہ نکالنے پر آجائیں، اور ان امکانات کو بروئے کار لانے پر آخری حد تک چلی جانے کا فیصلہ کر لیں جوکہ ہم غور کریں تو ہمیں ایک بڑی سطح پر حاصل ہیں،اور اپنے اس عزم کی ہر ہر قیمت دے دینے پر اتر آئیں، تو یقنیاً یہ ایک راستہ نکال لینے پر ایک بڑی قدرت رکھتی ہیں۔ یہ کام ان کو ’جماعتی اعتبارات‘ سے بلند ہو کر، محض اور محض اللہ کیلئے، اور اس کو اسلامیانِ برصغیر کا خود پر حق جانتے ہوئے، کرنا ہوگا۔ اسی صورت میں امکان ہے کہ دلوں میں وہ قربت پیدا ہو جو اس عمل کے اندر مطلوب ہے اور خدا کی جانب سے وہ توفیق ملے جو ایک بند راستے کو کھلوا دے، اور پورا مسلم برصغیر ان کی کامیابی کیلئے دعاگو ہو۔ تاہم اب بھی اگر ایک ایک عدد ’جماعت‘ یا ’مدرسہ‘ یا ’ادارہ‘ چلانے پر اکتفا کر رکھا گیا اور ’تن تنہا‘ منزل پہ پہنچ دکھانے کا ’ارادہ‘ نہ بدلا گی۔۔ اب بھی اگر ’حزبی‘ اعتبارات کو ہی مقدم رکھا گیا اور تمام تر توجہ اس بات پر رکھی گئی کہ امت کی سطح کے کسی اشتراکِ عمل سے ’ہماری‘ جماعت کو کیا ملتا ہے۔۔ اب بھی اگر ایک بے سمت عمل کو سمت دے دینے میں ’دیوانہ وار‘ حد تک نہ جایا گیا۔۔۔۔ تو واضح ہو،پھر یہ کام کوئی نہ کوئی تو ضرور کرے گا۔ ایک بات کہہ دینے کا وقت اگر آج ہی ہے تو اپنے بھائیوں اور بزرگوں کا حق جان کر یہ امانت ان کے گوش گزار کر دینا آج ہی ضروری ہے۔ اس حقیقت کو جس قدر جلد پڑھ لیا جائے اتنا ہی ضروری ہے کہ: آج اس وقت کی بیشتر اسلامی قیادتیں جو ’قومی دھارے‘ کے اندر دیکھنے کو ملتی ہیں، یہ اگر مل کر ایک نہایت اصیل اسلامی دھارے کو وجود میں لانے کیلئے غیر معمولی اقدامات کرنے پر نہیں آتیں __ ایک ایسا دھارا کہ جس کی ایک کامیاب تصویر ہمیں سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی تیس اور چالیس والی ایمان افروز جدوجہد میں ملتی ہے اور جوکہ پورے برصغیر کو اپنے بہاؤ میں لے آنے کی امکانی صلاحیت رکھتا تھا __ یوں آج اگر ان جماعتوں کے اپنے ہی اندر ’تجدید‘ کی ایک بڑی سطح پر اور ایک نہایت زور کی دہائی نہیں پڑتی۔۔ تو بعید نہیں پھر یہ قیادتیں اور بلکہ تو یہ جماعتیں تاریخ کا حصہ بن کر رہ جائیں۔ اسلامی بیداری جہاں پہنچ چکی ہے، اس کو دیکھتے ہوئے یہ پیشین گوئی بہت مشکل نہیں کہ یہاں کی تحریکی دنیا میں ایک نئی صف آرائی کیلئے بہت سے عوامل بڑی تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ ’آگے بڑھنے‘ کا عمل یہاں کی تحریکی دنیا میں، ایک عمومی معنیٰ میں، کبھی ایک دن بھی نہیں رکا۔ یہاں کچھ لوگ رکے ہوں یا کچھ طبقے کہیں بیٹھ کر سستانے لگے ہوں، مگر تحریکی شعور برابر ترقی کرتا رہا ہے۔ کارل مارکس کی طرح ہم کسی ’ حتمیاتِ تاریخ‘ پر ایمان نہیں رکھتے، مگر سامنے کے حقائق کو دیکھ کر کچھ واضح نتائج پر پہنچنا ایسا غلط بھی نہیں۔۔۔۔ آنے والے عشروں میں دنیا کے اندر ’قومیں‘ اور ’ملک‘ نہیں بلکہ ’امتیں‘ اور ’عقیدے‘ (نظریے) اور ’تہذیبیں‘ بولتی سنی جائیں گی۔ پس آنے والے دنوں میں وقت تو اِنہی تحریکوں کے سنا جانے کا ہے اگر یہ اس کیلئے تیار ہو جائیں اور اگر یہ اُن سُروں کو بدلنے کیلئے تیار ہو جائیں جو اپنی عدم افادیت آخری حد تک ثابت کر چکے ہیں۔ ’قومیت‘ ایک دلدل ہے اور آنے والے دنوں میں آپ کو بہت تیز چلنا ہوگا! ایک زوردار تحریکی عمل کیلئے ایک طرف ’ضرورت‘ حد سے بڑھ گئی ہے بلکہ تو وہ ’خلا‘ پیدا ہو گیا ہے جو صحرا کے اندر ایک ’طوفان‘ کا پیش خیمہ بن جایا کرتا ہے، تو دوسری طرف ایک ایسے تحریکی عمل کے ’امکانات‘ نہایت اعلیٰ ہوتے جارہے ہیں اور اس کی عمارت اٹھانے کیلئے نہایت عمدہ معیار کے ’مواد‘ کی تیاری مختلف طریقوں سے آج بھی ہو رہی ہے (جس کی تفصیل میں ہم پھر کسی وقت جائیں گے) کہ کسی کے پاس عزم ہو تو راستے کھلنے کا امکان آج ہمیشہ سے بڑھ کر ہے۔ پس جس عمل کی ’ضرورت‘ بھی روز بروز بڑھتی جارہی ہو اور ’امکانات‘ بھی روز بروز ترقی کر رہے ہوں، اس کے ’روپزیر‘ ہونے میں پھر کیا رکاوٹ رہ جاتی ہے؟ حضرات! ایک اعلیٰ تحریکی عمل کو روپزیر ہونے کیلئے یہاں تو صرف ایک ’سِرا‘ چاہیے۔ سب کچھ تو پہلے سے موجود ہے۔ محض ایک جہت کا عملی آغاز کرا دینے کی کسر ہے، اور یہ جو بھی کرا دے۔ خواہ موجودہ اسلامی تحریکیں اس کیلئے تیار ہو جائیں، جوکہ ایک زیادہ بہتر اور صائب تر راستہ ہوگا، اور خواہ اس خلا کو پر کرنے کیلئے یہاں کسی نئی صورت کو سامنے آنا پڑے۔ ایک طوفان کا آنا یہاں بہر حال طے ہے، قطع نظر اس سے کہ اس کا سرا کون بنتا ہے!!! گو یہ ایک نہایت صالح اور بھلائی لے کر آنے والا ’طوفان‘ ہو گا (صَیّباً نَافِعاً!!!) نہ کہ ’انقلاب‘، اپنے اس معنیٰ میں جس سے مغربی دنیا کو پالا پڑا تھا اور جوکہ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةً کے مصداق آخری حد تک بے رحم اور کسی قوم کا سب کچھ تہ وبالا کر کے رکھ دینے والا ہوتا ہے: وَأَنِ اسْتَغْفِرُواْ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُواْ إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُم مَّتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ (ہود: 3)”اور یہ کہ بخشش مانگو اپنے رب کی، اور لوٹ آؤ اس ایک کی طرف؛ تب وہ دے گا تم کو ایک نہایت خوب سامانِ زیست، اور ہر مرتبے والے کو ہی اس کا (صحیح) مرتبہ۔۔۔۔“ ٭٭٭٭٭ آگے چلنے سے پہلے ایک اور حقیقت کا بیان یہیں ضروری ہے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ ایک زوردار تحریکی دھارا تشکیل دینے کا کام اتنا مشکل نہیں جتنا کہ بادی النظر یہ لگتا ہے۔۔۔۔
’صفر‘ سے آغاز کرنا اور ایک مطلوب حقیقت کو بالکل ’ابتدا‘ سے وجود میں
لانا صرف انبیاءکا کام ہے۔ نبی کے یہ کام کر جانے کے بعد جب تک اس امت
کا ’وقت‘ باقی ہوتا ہے اس کو یہ تکلیف دو بارہ کرنے سے کفایت کر دی
جاتی ہے۔ اس کے اپنے اندر اور اس کے گرد و پیش میں آپ ہی اس قدر
امکانات باقی رکھے جاتے ہیں کہ معاملات کو صرف ایک ’ترتیب‘ ہی دے لینے
کی ضرورت ہوتی ہے اور اشیاءکو اپنی ’اصل حالت‘ پر لانے (تجدید) کی ہی
ایک کسر ہوتی ہے۔ جونہی کچھ اصحابِ علم وفضل اور ان کے ساتھ کھڑے ہونے
والے کچھ باہمت طبقے امت کو یہ رخنہ پر کر کے دیتے ہیں تو ایک رکا ہوا
قافلہ اٹھ کر پھر اپنی پیش قدمی شروع کر دیتا ہے اور جب تک اس عمل کے
وہ اجزائے ترکیبی اپنی اس حالت میں برقرار رہتے ہیں وہ قافلہ رواں دواں
رہتا ہے۔ وہ ’تجدیدی کوششیں‘ جو اس سے پہلے امت کے اندر کبھی ہوئیں ان کی بھی یہی حقیقت ہے کہ وہ پہلے سے ایک ’موجود‘ چیز کو ’نیا‘ کردینے سے ہی عبارت رہی ہیں۔ پس ہر تجدیدی کوشش کو یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اُس کو کیا کیا امکانات پہلے سے حاصل ہیں جن کو بروئے کار لا کر اسے ان امکانات کو ظہور میں لانا ہوتا ہے جو تاحال ناپید ہوں۔ اس لحاظ سے ہم دیکھیں تو اب جو تحریک میدان میں اترے گی اس کو جو عظیم الشان امکانات اللہ کے فضل سے حاصل ہیں وہ دنگ کر دینے والے ہیں۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ آج سے آٹھ عشرے پیشتر بر صغیر کی اسلامی دنیا میں جو امکانات پائے جاتے تھے، اور جن سے اُس وقت کا تحریکی عمل خوب خوب کام لینے لگا تھا، وہ آج ہمارے یہاں پائے جانے والے امکانات(5) کا عشر عشیر بھی شاید نہ ہوں، تو کچھ ایسا غلط نہیں۔ لہٰذا اِس پہلو سے ہم آج جس بہترین پوزیشن میں ہیں وہ ہمیں اس سے پہلے شاید ہی کبھی حاصل رہی ہو، بلکہ تو یہ ایک موقعہ ہے جو سمجھئے چل کر ہمارے پاس آیا ہے اور ایسے نادر موقعے ظاہر ہے ’تاریخ‘ سے آپ کے حق میں آپ کے خلاف گواہی دلوائے بغیر جانے والے نہیں ہوتے۔ ٭٭٭٭٭ آج تو حال یہ ہے کہ وہ ’دائرے‘ جن میں کبھی لوگوں کا خیال ہوتا تھا کہ وہ ہیں ہی خاص الخاص ’مغربی‘ طرز کے لوگوں کیلئے، اور جن کو وجود میں لانے پر استعمار کی بے حد محنت ہوئی تھی اور ابھی تک ہو رہی ہے، ’ثقافت‘ کے یہ گھڑ عین اپنے گھر میں ’سکارف‘ کی پیش قدمی دیکھ کر آج ہکا بکا ہیں اور اس صورتحال سے ’جان‘ چھڑانے اور ماضی کا وہی ’دورِ استعمار‘ اور فسق وفجور کی وہی ’ذہنی اور علمی‘ برتری intellectual supreriority قائم رکھنے کے لئے اور پڑھے لکھے ذہنوں پر مغربی تہذیب کی یلغار کے معاملہ میں ان ملکوں کے اندر وہی ’ایام گزشتہ‘ واپس لانے کیلئے کہ جب یہاں ’خلیل میاں فاختہ اڑایا کرتے تھے‘ اور دینداروں کو ان کے سامنے جھینپ کر اور اپنی دینداری کے معاملہ میں ’شرمسار‘ ہو کر رہنا ہوتا تھا، آج سوائے ’گٹ آوٹ طالبان‘ کے بھونڈے نعرے کے ان کو کچھ سوجھ تک نہیں رہا۔ حالانکہ ’طالبان‘ افغان ماحول میں یا شمالی علاقوں کی حد تک اسلام کی ایک بہت اچھی نمائندگی ہوں گے، مگر اُس اسلام کا تو ان ’کانونٹ‘ چلانے والوں کو ابھی شاید اندازہ تک نہیں جس کی اپیل سب سے بڑھ کر آج کے ’ماڈرن‘ طبقے کیلئے ہی ہے، اور جس کے آگے علمی و ثقافتی intellectual & cultural سطح پر ہی جاہلیت چاروں شانے چت نظر آتی ہے اور جس پر ہمارے ہاں نہیں تو کئی ایک ملکوں میں داعیوں کی اچھی خاصی محنت ہو چکی ہے، بلکہ تو اپنے ثمر دینے لگی ہے۔ اسلام اور اسلام کے شعائر سے وابستگی یہاں کی ’اشرافیہ‘ میں بہت اندر تک جا چکی ہے اور بلکہ تو اس کو واضح طور پر تقسیم کر چکی ہے۔ آج کے ماڈرن ترین اداروں میں ہمارے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں __ بے شک ان میں سے کئی ایک پر اسلامی مظاہر فی الحال نہ بھی دیکھنے میں آرہے ہوں، اور جس سے دھوکہ کھا جانا ہرگز حقیقتِ حال کا درست مطالعہ نہ ہوگا __ ہمارے یہ نوجوان اسلام، اسلام کی تاریخ، اسلام کی ملت اور اسلام کی نظریاتی اساس کے ساتھ ماضی کے کسی بھی دور کی نسبت آج زیادہ جڑے ہوئے ہیں۔ ان کی مصیبت یہ ہے کہ یہاں کا دینی طبقہ اِس ’ماڈرن یوتھ‘ کو دینے کیلئے بہت کم کوئی چیز اپنے پاس رکھتا ہے۔ بے شک یہ درست ہے کہ اس معاملہ میں یہ نوجوان خوش قسمت واقع ہوئے ہیں کہ آج انٹرنٹ کے دور میں اِن کو ’انگریزی‘ آتی ہے اور اسلام کی بابت ان کی جیسی کیسی پیاس بجھتی ہے تو وہ انہی چیزوں سے جو ’ڈاؤن لوڈ‘ ہونے میں آجائیں! اسلام کا live پیغام سمجھنے کے معاملہ میں اور جاہلیت کے مقابلے میں علم اور دلیل کے ہتھیاروں سے لیس ہونے کے معاملہ میں ان کی ضرورت زیادہ تر پوری ہوتی ہے تو امریکہ، یورپ اور بعض دیگر خطوں میں پائے جانے والے مسلم داعیوں، خصوصاً کچھ ہدایت یافتہ ’نو مسلم داعیوں‘ کے توضیح وبیان سے، کیونکہ ہمارا یہ جدید نوجوان طبقہ جس دنیا میں بستا ہے اور اسلام اور جاہلیت کی کشمکش کے حوالے سے اس کو جس صورتحال سے سابقہ ہے اس کیلئے یہاں کی ’مسجد‘ اس کو بہت کم کوئی چیز دے پاتی ہے اور مسجد کے علاوہ بھی یہاں کے بیشتر داعیانِ دین لگتا ہے کہ ماضی کے ہی کسی زمانے میں رہتے ہیں، جو ’ثقافت‘ کے گڑھوں میں پائی جانے والی آج کی صورتحال کا ’ادراک‘ تک نہیں رکھتے، اس کا ’تدارک‘ تو کیا کریں گے۔۔۔۔ پس جہاں یہ ان نوجوانوں کی ایک ’خوش قسمتی‘ کا بیان ہے کہ سر سید کی پڑھائی ہوئی ’انگریزی‘، جاہلیت کے مد مقابل اسلام کے ٹھیٹ پیغام کو سمجھنے اور کسی حد تک پھیلانے میں ان کے کام آرہی ہے وہاں ہمارے لئے کیا یہ ایک لمحہء فکریہ نہیں کہ اِن کو ’اپنے یہاں‘ سے قریب قریب کچھ نہیں مل رہا؟! عقیدہ، تہذیب اور فقہ الواقع (حالاتِ حاضرہ) سے متعلق نہایت اہم بحثیں جو ان کے ہاں چلتی ہیں اس کے زیادہ تر علمی وفکری حوالے انہی تحریروں اور انہی آڈیو یا ویڈیو کلپوں کے ہوتے ہیں جو انٹرنٹ پر تیرتے ہوئے کسی نہ کسی طرح ان تک پہنچ جاتے ہیں؟! ان کو ’راہنمائی‘ انہی شخصیات کی تقریروں اور تحریروں سے ملی ہوتی ہے جن کے ساتھ بالمشافہ ملنے اور براہ راست تعامل کرنے کا __ جوکہ ایک تربیتی و تحریکی عمل میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے __ اِن نوجوانوں کے پاس اور نہ اُن شخصیات کے پاس کوئی صورت قریب قریب ہے ہی نہیں، کیونکہ اِن کے اور اُن کے مابین ملکوں اور براعظموں کا فاصلہ حائل ہے؟! پس ایک طرف اِس ’طلب‘ کا اندازہ ہو جو اللہ کے فضل سے آج بر اعظموں کو چیر کر گزر رہی ہے بلکہ تو اُن امکانات کا بھی جن کے راستے میں ’صحرا ودریا‘ تو کیا بر اعظم حائل ہونے سے عاجز ہوئے جاتے ہیں، اور دوسری طرف اُس خلا کا بھی ذرا اندازہ ہو جو اِس ’طلب‘ کے ساتھ پورا اترنے کے معاملہ میں __ ہماری مقامی قیادتوں کے حوالے سے __ ایک ’سائیں سائیں‘ کرتی ہوئی کیفیت کا عکاس نظر آتا ہے۔ یہ تو رہی ان ’امکانات‘ کی صورت جو یہاں کے ’ثقافتی‘ منجدھار میں اترنے کے معاملہ میں ہمارے منتظر ہیں۔رہ گئی عوامی سطح پر ، اور مسجدوں سے لے کر بازاروں اور روزمرہ زندگی کے مراکز میں دیکھی جانے والی صورتحال، تو یہاں پر بھی اسلام کی جانب رخ کرنے میں تیزی اور دلجمعی معاشرے کے اندر ہر طرف دیدنی ہے۔ پھر تیسری طرف جہادی میدانوں میں ہمارے نوجوانوں کا جوش وخروش تو آسمان سے باتیں کرتا ہے۔ بلکہ پچھلے دو عشروں سے اپنا سب سے کامیاب محاذ یہی جا رہا ہے اور یہاں پر جس قدر پیشرفت ہو چکی ہے وہ آنے والے سالوں اور عشروں میں امت کے حق میں ایک نہایت قیمتی اثاثہ ثابت ہونے والی ہے، ان شاءاللہ۔ بلکہ تو یوں کہیے کہ اس پر صرف ایک اعلیٰ قیادت کی چھت پڑنا باقی ہے۔ اِس جہادی جہت پر ہم یہاں زیادہ بات نہیں کریں گے، کیونکہ ’انتفاضہ‘ کے حوالے سے ایک پورا مضمون اس بار کے شمارے میں شامل ہے، جوکہ درحقیقت صرف ’فلسطین‘ کے تناظر میں نہیں بلکہ امت کے اندر ہونے والی ایک نئی اٹھان کی تصویر پیش کرنے کیلئے بھی اپنے آپ کافی ہے۔ یہ چند پیرے صرف اس معاملہ کے بعض جوانب دکھانے کی ایک کوشش تھی، ورنہ ’امکانات‘ کی بابت الگ سے گفتگو ہونے کی ضرورت ہے جوکہ اس وقت غیر معمولی حد تک ہم تبدیلی کے داعیوں کو اللہ کے فضل سے آج حاصل ہیں۔ ٭٭٭٭٭ اگر یہ ایک ایسی صورتحال ہے کہ ’چلنے والے‘، ’چلانے والوں‘ سے پہلے تیار کھڑے ہیں، اور واقعتا ایسا ہی ہے، تو پھر سوال یہی رہ جاتا ہے کہ اگر کچھ اسلامی قوتیں عمل کے ایک حقیقی میدان کے اندر اترنے کا فیصلہ کر لیتی ہیں، یا پھر ایسی حقیقی اسلامی قوتوں کو وجود میں لایا جانے کا سوال اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔۔۔۔ تو اس میدان میں ان کے عمل کا نقطہء آغاز کیا ہو؟ تیس اور چالیس کے عشرے میں ہونے والے تحریکی عمل کی حیرت انگیز اٹھان کو بطورِ مثال پیش کرنے کے حوالے سے اگر آپ ہمارے ساتھ متفق نہیں تو کسی اور موقعہ پر ہم اس کی کچھ اور مثالیں بھی یقینا پیش کر سکیں گے، مگر فی الحال ہم اسی کو بطور ٹیسٹ کیس لینے پر اپنی اس بحث کو مرکوز رکھیں گے۔۔۔۔ اس عمل کی جان جس چیز میں ہے، اگر ہم چند جملوں میں سمیٹنا چاہیں، تو وہ ہے: اپنے وقت کی جاہلیت کے ساتھ اپنے وقت کی زبان میں ایک نہایت گہرا اور اصیل اختلاف سامنے لے کر آنا اور اسی کو سب سے پہلے اپنا اور پھر اپنے معاشرے کا مسئلہ بنا دینے پر پورا زور لگا دینا۔جاہلیت کے ساتھ ’مشترک‘ نکات میں جلدی کرنے کے بجائے جاہلیت کے ساتھ اپنے نہایت بنیادی ’متنازعہ‘ نکات کو ہی نمایاں ترین کر دینا اور حتیٰ کہ ’مشترک نکات‘ کو بھی بڑی حد تک ’متنازعہ‘ نکات پر ہی موقوف ٹھہرا دینا۔ اور بلکہ تو ’ہر چیز‘ کو ہی ’ایک چیز‘ پر موقوف کر دینا۔۔ اس ’ایک چیز‘ پر جس کا تعین بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا ہو اور جوکہ دین اسلام کی اساس ہو۔ وہ ’چیز‘ جو جاہلیت اسلام کے تقاضوں کو دینے پر بڑے آرام سے تیار ہے یا کم از کم اسلامی دعوت کو اُس پر آجانے پہ آمادہ کر لینا چاہتی ہے، بے شک وہ غلط نہ بھی ہو، اس کو مسترد کر کے اُس ’چیز‘ کا ہی فیصلہ ہوجانے پر اصرار کرنا اور ’اُس چیز‘ پر ہی سارے کے سارے ’تنازعہ‘ کا انحصار کروا دینا، جو جاہلیت کسی قیمت پر اسلام کو اور اسلام کی دعوت کو دینے پر تیار نہیں۔ غرض حقیقتِ توحید کی بنیاد پر، اور انبیاءکے نقش قدم پر چلتے ہوئے، ایک ایسا تنازعہ کھڑا کر دینا جس کا ’بظاہر‘ کوئی حل نہ ہو بلکہ واقعتاً کوئی حل نہ ہو سوائے یہ کہ دونوں میں سے ایک فریق اپنی ’ضد‘ چھوڑ دے، یا پھر اللہ ہی ان دونوں کا جو فیصلہ کر دے۔ (حتیٰ یحکم اللہ بیننا وہو خیر الحاکمین) اس اسلوب کے سامنے آنے کی دیر ہوتی ہے کہ معاشرے میں آپ سے آپ ایک ہلچل کھڑی ہو جاتی ہے، اور دعوت کا پہلا مرحلہ تو سمجھئے یہیں سر ہو جاتا ہے۔۔۔۔ ابتدا میں معاشرے کا ہر شخص اس بظاہر ’خوامخواہ‘ کے اختلاف کو نہایت حیران ہو کر دیکھتا ہے۔ جاہلیت کی پشت پر صرف ’اسٹیٹس کو‘ کی دلیل ہوتی ہے جوکہ اس وقت تک نہایت معقول لگتی ہے بلکہ معقول ہے جب تک ’حق‘ میدان میں نہیں اترا ہوتا۔ اور ویسے یہ ’اسٹیٹس کو‘ کا حق بھی ہے کہ اس کے مقابلے میں میدان کے اندر اگر ’حق‘ نہیں بلکہ کوئی اور ’مسئلہ‘ ہے، یعنی باعثِ تنازعہء آں صاف صاف اگر حق اور باطل کا جھگڑا نہیں تو نہایت معقول بات یہی ہے کہ پھر جو چیز پہلے سے ہے، یعنی ’اسٹیٹس کو‘، اسی کو ہی برقرار رہنے دیا جائے۔ اسی لئے اسلامی دعوت کو، جو یہاں ایک بہت ہی بنیادی اور جان دار تبدیلی کا تقاضا کر رہی ہوگی، ’عجیب وغریب‘ نظروں سے دیکھا جاناابتدا میں ایک نہایت طبعی امر ہو گا اور اس کے لئے آپ کو پہلے سے تیار بھی رہنا ہوگا۔ مگر پھر جب اس ’تنازعہ‘ کی حقیقت سامنے آتی ہے اور جس پر کہ دعوت کا بے حد زور لگتا ہے تو رفتہ رفتہ عقل، خرد، ضمیر، فطرت، حق پرستی ایک فریق کے ساتھ کھڑی ہونے لگتی ہے اور جہالت، ظلم، بے حسی، مفاد پرستی اور عاقبت نا اندیشی دوسرے فریق کے ساتھ۔ ایسے اعلیٰ اختلاف کی جب ایک بنیاد رکھ دی جائے تو پھر وہ آپ ہی اپنا بیان ہوتا ہے اور آپ ہی اپنا عنوان اور آپ ہی اپنی اپیل اور جاذبیت۔ آپ کا کا کوئی کام ہوتا ہے تو بس یہ کہ اُسی ’اختلاف‘ پر اپنا زور بڑھاتے چلے جائیں، باقی کام وہ خود کرے گا! ماحول میں آپ کو ایک راستہ بنا کر دینااب اُس کی ’ذمہ داری‘ ہوگی! روشنی کو اندھیرے پر فوقیت پانے کیلئے کس چیز کی ضرورت؟؟؟ ایک ’نیا راستہ‘ بننے کیلئے ’راستوں کا فرق‘ سامنے لایا جانا ہی تو اس عمل کا نقطہء اساس ہے! لہٰذا اشد ضروری ہوتا ہے کہ سوائے ’مسئلہء حق وباطل‘ کے اور سوائے ایک اصیل ’تنازعہء اسلام وجاہلیت‘ کے کوئی مسئلہ ’ہائی لائٹ‘ ہونے ہی نہ دیا جائے۔ خود دعوت کی جان جب اس تنازعہ کی شدت میں ہے اور اسی کے ’دعوت‘ کے اندر سے پھوٹ پھوٹ کر نکلنے میں، تو وہ دیگر ’مسئلے‘ تو آپ سے آپ اس تنازعہ کے تابع ہوئے جو کسی وجہ سے اصحابِ دعوت کو پریشان کر رہے ہوں! اب جس ’اختلاف‘ کی پشت پر آسمانی صحیفے بول رہے ہوں، انبیاءکا مقدمہء دعوت خطاب کر رہا ہو، مقصد تخلیق بولتا ہو، اور جس کے حق میں زمین، آسمان اور پوری کائنات کی گواہی ہو، اور جس کے سامعین عقل وفطرت ہوں، ضمیر اور شعور ہوں، قلوب اور اذہان ہوں اور انسانوں کے اندر ودیعت کر دی گئی وہ قدرتی استعداد ہو جو حق سے ٹکرانے کی بجائے حق کو سراہتی ہے بے شک کچھ دیر کیلئے اس کی آنکھ پر معاشرے کا پردہ کیوں نہ پڑا رہے اور جس کو کھینچ کر اتارنا دعوت کے فرائض میں سے ہی ایک فریضہ ہے۔۔ جس ’اختلاف‘ کا خطاب انسان کے اندر پائی جانی والی اس فطری استعداد سے ہو جوکہ خدا کے ساتھ معاملہ کرنے میں اور خدا کے عذاب اور ثواب میں سے کسی ایک کا چنا ¶ کرنے میں کوئی خطرہ مول لینا اپنے حق میں بہرحال نقصان دہ جانتی ہے۔۔۔۔ اور پھر جبکہ یہاں تو جاہلیت کے ساتھ اپنے اس تنازعہ میں طرفدار ہونے کیلئے پوری ایک امت پائی جاتی ہے اور پہلے سے اس کی راہ تک رہی ہے۔۔۔۔ اس اختلاف کے سامنے، اگر وہ پوری ’شدت‘ سے سامنے لے آیا جائے، جاہلیت بھلا کیونکر اور کب تک کھڑی رہ سکے گی؟ یہی وجہ ہے کہ ’تفصیلِ آیات‘ کا ’سبیل المجرمین کے واضح وعریاں ہوجانے‘ کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے(6)، اور حق کیلئے راستہ بس یہیں سے کھل جاتا ہے۔ وَكَذَلِكَ نفَصِّلُ الآيَاتِ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ (الانعام۔55) ” اور اسی طرح ہم تو اپنی نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ مجرموں کی راہ بالکل نمایاں ہوجائے“۔ یقین کیجئے جاہلیت کے تن سے ’اسٹیٹس کو‘ کی عبا اتارنا، ’دستوری بحثوں‘ اور ’آئینی شقوں کے حوالوں‘ سے نہیں ’تفصیلِ آیات‘ سے ہی ممکن ہے۔ قوم کے ساتھ اپنے موضوعات آپ کو بالکل بدل کر رکھ دینا ہوں گے اور ایک سراسر مختلف اپروچ اختیار کر لینا ہوگی۔ اس کیلئے پہلے تو ’مقدمہء دعوت‘ کو ہی ایک ترتیبِ نو دینا ہو گی۔ مگر بہت جلد، انشاءاللہ، یہاں آپ ایک اور سماں پیدا کر لیں گے۔۔۔۔ ’طریقتکم المثلیٰ‘ ایسے زعم کے تحت جاہلیت جن زرق برق عبارتوں سے اپنا ننگ چھپا کر رکھتی ہے، اور اس کی ہمیشہ یہی ریت رہی ہے۔۔۔۔ کمیونسٹ معاشرے تھے تو وہاں یہ کمال کے نعرے رکھتی تھی، بلکہ ’ترقی پسندوں‘ کا ادب دیکھیں تو پوری دکھی انسانیت کا غم گویا انہی کے دل میں ہے حالانکہ جہاں جہاں ان کا اقتدار قائم ہوا وہاں وہاں ظلم اور بربریت کے سوا کبھی کچھ دیکھنے میں نہیں آیا __ جبکہ بقول مسیح علیہ السلام، تم ان کو ان کے ثمرات سے پہچانو گے __ جہاں جہاں معاشرے ان کے رحم وکرم پہ ہوئے وہاں وہاں ’انسانیت‘ سب سے زیادہ ’دکھی‘ انہی سے ہوئی، یہاں تک کہ ’مظلوم‘ ان کے شکنجے سے بھاگ بھاگ کر اسی ’سرمایہ داری‘ کی چار دیواری میں پناہ پانے لگے جس کے ’ظلم‘ اور ’غریب دشمنی‘ کے تذکروں کو اپنے نعروں اور اپنے انقلابی ادب میں بھر کر یہ کسی بارود کی طرح داغا کرتے تھے۔ یہی حال ’جمہوریت‘ کے نعروں کا ہے جوکہ عوام کو بے وقوف بنانے کی سب سے زیادہ امکانی استعداد رکھتی ہے، بے شک کوئی صدر ’دوتہائی اکثریت‘ سے آیا ہو یا چپکے سے آئین میں ’ترمیم‘ کر کے، نفس الامر میں کوئی بھی فرق نہیں، کھیل چند ہی لوگوں کا ہوتا ہے، باقی سب ’مشقت‘ کرتے ہیں۔ یہی حال ’فری مارکیٹ اکانومی‘ کا ہے جوکہ غلامی کی ایک نہایت ترقی یافتہ صورت ہے اور یہی حال ’سول سوسائٹی‘ کے افسوں کا۔ ’حق‘ کے سوا یہاں سب فریب ہے، چاہے کوئی کتنا ہی اخلاص کیوں نہ رکھتا ہو، اور اس ’حق‘ کا تعین صرف شریعت کرتی ہے اور اس کا روپزیر ہونا بھی ’شریعت‘ کے لئے دوڑ دھوپ کرنے سے ممکن ہے، خاص طور پر اس امت کے حق میں۔۔۔۔ پس جاہلیت جن عبارتوں کو صبح شام جپتی ہوہم بھی انہی عبارتوں کا ورد کرنے لگیں تو ’راستوں کا فرق‘ کہاں سے آئے گا؟ جاہلیت جو نعرے صبح شام الاپتی ہو ہم بھی انہی میں اپنے لئے ’گنجائش‘ ڈھونڈیں تو جاہلیت کے ساتھ ہمارا وہ ’امتیاز‘ جس سے درحقیقت ہماری زندگی شروع ہوتی ہے اور جاہلیت کی موت، آخر کہاں سے برآمد ہوگا؟ پس جن زرق برق عبارتوں سے جاہلیت اپنا ننگ چھپاتی ہے ہمارا کام یہ نہیں ہوگا کہ ہم بھی انہی کی تحسین میں لگ جائیں اور بلکہ تو خود بھی انہی کو مستعار لینے کی سوچیں۔ آپ کو اپنا مقدمہ خود اپنی اصطلاحات کے ساتھ سامنے لانا ہوگا، جس کے ہر ہر لفظ کی تعبیر اور ترجمانی کا حق صرف آپ رکھتے ہوں گے۔ فریقِ دیگر ان کو قبول یا رد کرنے کا اختیار ضرور رکھے گا اور ضرور اس پر ماحول میں ایک طویل مکالمہ بھی ہوگا، مگر وہ کوئی ایسی دھول نہیں اڑا سکے گا جس میں آپ اپنے ’مقدمہء دعوت‘ سمیت روپوش ہو جائیں اور ’بطورِ فریق‘ ہی بالآخر آپ کا وجود محل نظر ہو جائے’کہ ہے نہیں ہے‘! وہ کوئی ایسی واردات نہیں کر سکے گا کہ مسئلے کا سرا ہی کہیں گم ہو کر رہ جائے؛ لوگ ہمیں ’بولتا‘ پائیں مگر ہمارا ’مدعا‘ روپوش ہو! جاہلیت کے سب زرق برق لباس اس سے دور کر دینا بغیر اس کے کہ اس کی اترن کو آپ اپنے قریب آنے دیں۔۔۔۔ ’نقطہء نظر‘ کی بجائے سیدھا سیدھا اس کو ’عقیدہ‘ کا اختلاف بنا ڈالنا۔۔۔۔ طویل ’وضاحتوں‘ کی بجائے ’چند لفظوں‘ میں بات ختم کرنا جوکہ ’عوام‘ میں اترنے سے پہلے ایک دعوت کی بے حد بنیادی ضرورت ہے۔۔۔۔ جاہلیت کے ساتھ صاف صاف ایک حملہ آور اسلوب اختیار کرن۔۔۔۔ ’علم‘ اور ’آگہی‘ اور ’روشن خیالی‘ ایسے اس کے سب زعم اور دعوے بے بنیاد ثابت کر دینا، کہ جس کے ہو جانے کے بعد ہی آپ کے لئے معاشرے میں کوئی جگہ بنے گی۔۔۔۔ ’مالک‘ ہونے میں ’اشتراکیتِ خلق‘ کا فسوں ہو جوکہ مشرقی بلاک کا طریقہء واردات تھا، یا ’حاکم‘ ہونے میں ’سلطانیِ جمہور‘ کا طلسم جوکہ مغربی بلاک کی دی ہوئی سوغات ہے، جاہلیت کو ایسے تمام چمکیلے القابات رکھنے کے علی الرغم صرف اور صرف ظالم، سرکش، جاہل اور معتدی کے طور پر سامنے لانا بلکہ اس بھڑکتے چمکیلے لبادے میں اس کو اور بھی پھوہڑ اور بدنما بنا کر دکھانا۔۔۔۔ یہ دعوت کے مطالب میں سے ایک اہم مطلب ہے اور اس کے متحقق ہونے کا جہاں اور کئی ایک باتوں پر انحصار ہے وہاں ان میں سے ایک بات بلکہ دعوت کی ایک اہم ضرورت یہ بھی ہے کہ لفظوں اور تعبیروں کے اس اشتراک کو کم سے کم کر دیا جائے جو آمنے سامنے کے ان دو صفحوں کو ’ایک ہی اسلوب‘ میں پڑھا جانے کا احتمال پیدا کراتا ہو۔ نہ ہم ان کے شعارات کی ’اپنی‘ تشریح کریں اور نہ وہ ہمارے تقاضوں اور مطالبوں کو اپنی ’لغت‘ کے مطابق لیں۔۔ اور نہ معاملہ کہیں ’بیچ‘ میں الجھا رہے، اس کیلئے زیادہ سے زیادہ کوشش ہونی چاہیے کہ ہر دو جانب سے ’ملتا جلتا‘ نعرہ نہ لگ رہا ہو! ہر دو فریق کا نعرہ اگر ایک سا ہے تو اس صورت میں جو فریق فائدے میں رہے گا اس کا نام ’اسٹیٹس کو‘ ہے البتہ آپ جو ایک ’حقیقی تبدیلی‘ کا ایجنڈا رکھتے ہیں ایسے ’مشترک نعرے‘ لگانا کچھ دیر ضرور ایک ’پیش قدمی‘ جانیں گے مگر بالآخر گھر لوٹنے پر مجبور ہوں گے! پس جو چیز ہمیں تیس اور چالیس کے عشروں میں یہاں کی تحریک اسلامی میں نظر آتی ہے وہ یہ کہ اس نے اپنے زمانے کی جاہلیت کے ساتھ ایک نہایت اصیل اور گہرا اختلاف کرنے کا سراغ پا لیا تھا۔وقت کی جاہلیت کے ساتھ وقت کی زبان میں اختلاف ہونے لگا تھا اور اپنے اس اختلاف کی پشت پر نبیوں اور صحیفوں اور فطرت اور مقصدِ تخلیق کی گواہی کو لے آنے کا انتظام ہونے لگا تھا۔ جاہلیت کو عین اس کی اساس سے ہاتھ ڈال دیا گیا تھا۔ ایک ایسا تنازعہ کھڑا کر دیا گیا تھاجس کا کوئی حل نہیں ہوتا سوائے یہ کہ اپنے عقیدہ اور طرزِ حیات کے اعتبار سے ایک ’فریق‘ یہاں رہے اور ’دوسر‘ا نہ رہے۔’قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں‘ کے مندرجات پر ضرور بات ہوسکتی ہے (اور ہم بھی یقیناً اس پر کچھ ملاحظات رکھتے ہیں) مگر یہ اپنے اس حقیقت کے بیان میں بہت واضح تھی کہ یہ اختلاف دو عقیدوں دو ملتوں کا اختلاف ہے اور مسئلہ خدا کو الہٰ اور رب ماننے یا نہ ماننے کا ہے۔۔ ایسا گہرا اختلاف۔۔۔۔!!! وہ سب ’چمکیلے‘ نعرے اور شعار جو ’قومی اپیل‘ کی راہ سے، یا ’وقتی مسائل‘ کی منطق سے، یا ’ہنگامی ضرورت‘ کا طریقہء واردات اختیار کر کے مسلم زبانوں پر آنا چاہ رہے تھے، سید مودودی نام کا شخص ان کی راہ میں اکیلا چٹان بن کر کھڑا تھا! حالانکہ وقت بھی کونسا تھا؟ پچھلی ڈیڑھ صدی سے اس قوم کی تاریخ میں آنے والا سب سے نازک وقت، کہ جب ’تقسیم ملک‘ کا سوال کھڑا تھا اور ایک نئی قوم معرضِ وجود میں آنے والی تھی۔ آپ ’تحریکِ آزادیِ ہند‘ پڑھ کر حیران رہ جاتے ہیں، ایسی ایسی ’ہنگامی‘ صورتحال کہ جس پر بظاہر ’قوم‘ کی زندگی موت کا سوال ہے اور اس پر ’ذرا سی‘ چھوٹ دے دینے کی منتیں اور سماجتیں ہوتی ہیں مگر ’عقیدہ‘ کا ایک داعی اپنے موقف سے ایک انچ ہٹنے پر تیار نہیں۔ صرف اتنا نہیں بلکہ وہ ’ہنگامی اور وقتی مسائل‘ کی منطق کے ایسے پرخچے اڑاتا ہے گویا سنگریزے ایک پہاڑ سے ٹکرا کر ہوا میں تحلیل ہو رہے ہیں! ’راستے‘ در حقیقت یونہی بنائے جاتے ہیں۔ حق کی روشنی کو اندھیرے کی چادر پھاڑ کر آنا ہوتا ہے نہ کہ اندھیرے کے ساتھ ’ڈیل‘ کر کے۔چنانچہ اس ’راستے‘ کے ابھی آثار ہی نظر آنے لگے تھے، گو اس کے بہت کچھ خدوخال واضح ہونے کی ابھی مزید ضرورت تھی، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ’چلنے‘ کا شوق اور طلب رکھنے والے پورے بر صغیر سے پروانوں کی طرح امڈ کر آنے لگے تھے۔ایک چیز تھی جو اس کی صدا میں بول رہی تھی۔ ایک شان تھی جو اس کارواں کے جادہ پیما ہونے میں دیکھی جانے لگی تھی۔ اس کی دھمک کا اثر براہِ راست عرشِ باطل کی بنیادوں پر پڑ رہا تھا۔ کوئی حرج کی بات نہیں کہ ہم اپنی طاقت کے اسی سرچشمے پر پھر سے جا بیٹھیں۔ بے شک ہمارا کام کچھ نیچے گیا ہو، مگر کوئی چیز بھی ہماری پہنچ سے باہر نہیں۔ تھوڑی کوشش کر کے ہم آج بھی ’فضائے بدر‘ پیدا کر سکتے ہیں۔کمیونسٹوں کی طرح نہ ہم مرے ہیں اور سرمایہ داری اور سلطانیِ جمہور کی نوید دینے والوں کی طرح نہ ہم قریب المرگ ہیں۔ ہم دنیا میں سب سے تیزی کے ساتھ اٹھنے والی قوت ہیں، اس وقت میں جب تہذیبیں اور نظریے دھڑا دھڑ وفات پا رہے ہیں۔ ہمیں ’راستے‘ کی کچھ دھول ہٹانا ہوگی، یہاں چلنے والے بھی ہیں جو اپنی شدتِ طلب سے اس بار تو شاید ہمیں حیران ہی کر جائیں اور چلنے کی صلاحیت بھی کمال درجے کی ہے، اور شاید بہت زیادہ ہمیں چلنا بھی نہ پڑے۔۔۔۔ البتہ چلنے کا فیصلہ ہمیں ہی کرنا ہے۔ ٭٭٭٭٭ بیسویں صدی میں دو شرک بطور خاص انسانیت پر حملہ آور ہوئے تھے۔ ایک، ’وسائلِ ارض‘ کا مالک ہونے پر ’جمہور‘ کا حق۔ خلق کی خدائی کے اس عقیدہ کا نام ’اشتراکیت‘ تھا۔ دوسرا، ’اختیاراتِ سلطنت‘ کا مالک ہونے پر ’جمہور‘ کا حق۔ مخلوق کی خدائی کے اس عقیدہ کا نام ’جمہوریت‘ تھا۔۔۔۔ حقیقت بے شک یہی تھی کہ نہ ’وسائلِ ارض‘ کا مالک کبھی ’مخلوق‘ کو ہونے دیا گیا اور نہ ’اختیاراتِ ملک‘ کا مالک کبھی ’جمہور‘ کو۔ شرک کی دنیا کی ہمیشہ یہی ریت رہی ہے۔ نام ہمیشہ ’بت‘ کا چلتا ہے اور کام ’پروہت‘ کا۔۔۔۔ بے شک یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر دو عقیدے ایک محدود عالمی ٹولے کا طریقہء واردات تھے، جس کے بینڈ پر قومیں بیسویں صدی کے اندر ’ڈرل‘ کرتی پائی گئیں۔ ایک کا بینڈ جواب دے چکا ہے اور دوسرے کا گلا پھول چکا ہے۔۔۔۔ اور حقیقت بے شک یہ بھی تھی کہ ہماری ’دینی حمیت‘ ان دونوں ہی عقیدوں کو ’جوں کا توں‘ اپنے یہاں آنے دینے کی روادار نہ ہوئی تھی، اور اپنے یہاں قدم رنجہ فرمانے کیلئے اس نے ان پر اپنی کچھ ’شرائط‘ عائدکی تھیں جن کے دم سے ہمارا خیال تھا کہ ان عقیدوں اور ہمارے دین کا ’بنیادی تعارض‘ ختم ہو گیا ہے، مگر یہ بہر حال ایک ’عقیدہ‘ تھے اور کچھ خاص پس منظر سے پیدا ہو کر آئے تھے۔ ان کو کچھ ’ترمیمات‘ کے ساتھ قبول کر لینے سے، کہ جس سے ہمارا |