سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ اکتوبر 2008

Download in PDF format

قارئین سے التماس

(ادارہ)

ہمارے کچھ قارئین یقینا ایسے ہوں گے جن کے ساتھ ایقاظ کی وساطت ہمارے ’یکطرفہ‘ رابطہ پر ایک عرصہ بیت چکا ہو۔ ہمارے یہ قارئین یقینا اب اس پوزیشن میں بھی ہوں گے کہ وہ ایقاظ کی اپروچ کے متعلق ایک رائے رکھیں۔ اور شاید یہ بھی ان پر پوشیدہ نہ ہوگا کہ ایقاظ میں جو کچھ لکھا لکھایا جا رہا ہے وہ محض کوئی ’تحریری مشغلہ‘ نہیں بلکہ:

- یا تو ایک تحریکی عمل کو وجود میں لانے کی کچھ ابتدائی ضرورتوں کا بیان ہے۔

- اور یا پھر پہلے سے جاری تحریکی عمل کو ایک رخ دینے کی - مقدور بھر - کوشش ہے۔

ہمارے نئے قاری بھی امید ہے اس نتیجہ تک پہنچنے میں زیادہ دقت نہ پائیں گے۔

علاوہ ازیں، یہ بھی ان پر واضح ہو گیا ہو گاکہ ’مذہبی‘ اور ’تنظیمی‘ گروہ بندی میں ایقاظ کس اپروچ کا حامل ہے، اور برصغیر کے اس عاجز کر دینے والے بحران سے نکلنے کی کیا صورت ہے جو ایقاظ سامنے لانا چاہتا ہے اور ’اہلسنت کا ایک وسیع تر دائرہ‘ متعارف کرا کر جماعتوں کے اس تعدد اور تنظیموں کے اس تنوع کو کچھ علمی بنیادیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مستند ضوابط میں لے کر آنا چاہتا ہے تاکہ یہ تعدد اور یہ تنوع واقعتا ایک صحت مند، مفید اور پیدآور عمل بنے۔ یقینا یہ ایک طویل موضوع ہے اور اس کے کئی پرت، جن کو ایک ایک کر کے ہی اتارنا پڑے گا۔ پھر بھی ایقاظ کی اپروچ اس معاملہ میں کہاں تک توجہ کے قابل ہے اور کہاں تک علمی بنیادوں پر قائم ہے، اس کی بابت کسی نہ کسی حد تک رائے ہمارا ایک قاری اب کم از کم ضرور بنا سکتا ہے....

حضرات اپنے ارد گرد کی صورتحال کو، اور آئے روز شدید سے شدید تر ہوتے جانے والے چیلنجوں کو نگاہ میں لائیے۔ ’عمر نوح‘ نہ ہمیں میسر ہے اور نہ آپ کو۔ بہت سے فکری مباحث، پرچے کے اندر، ظاہر ہے اپنی رفتار سے ہی آگے بڑھائے جاسکتے ہیں۔کسی اپروچ کی بابت ایک ابتدائی اندازہ ہو جانا البتہ یہ بنیاد بنانے کیلئے بہت کافی ہوسکتا ہے کہ ایک فعال تر پیش قدمی کیلئے رابطہ و تعاون ہر تین ماہ میں ’ایک عدد پرچہ‘ وصول کرنے تک ہی محدود نہ رہے۔

’پرچے‘ سے ہٹ کر جو لوگ اہم فکری مباحث کی بابت ہمارے ساتھ تبادلہء خیالات کرنا چاہیں تاکہ ہم زیادہ بہتر انداز میں یہاں کی فکری دنیا کے ساتھ تعاون دینے اور لینے کے عمل سے وابستہ ہو سکیں، تو یقینا یہ ایک مستحسن امر ہوگا۔ ڈاک، ای میل، فون رابطے کے سلسلہ کو آگے بڑھانے کیلئے ابتدائی طور پر ایک مفید ذریعہ ہوسکتا ہے۔

سب سے بڑھ کر جو چیز اس وقت ضروری ہے وہ یہ کہ اگر آپ ایقاظ کو یہاں کے تحریکی عمل کے بنیادی مباحث کے موضوع پر کسی درجے میں مفید سمجھتے ہیں تو اپنی اپنی دنیا میں اسکو راستہ لے کر دیجئے۔ آپ جانتے ہیں ایقاظ یہاں سنت سے منسلک ہر جماعت اور ہر گروہ کیلئے ہے۔ مگر ایقاظ کو ایسا کوئی ’نظام‘ میسر نہیں کہ ایقاظ یہاں کے پڑھنے اور سوچنے والے طبقوں تک آپ سے آپ پہنچے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اپنے کسی حلقے میں آپ اسکے پہنچنے کا ایک ذریعہ بن جائیں؟

ہمیں آپ کا تعاون خصوصی طور پر درکار ہے کہ علماء، طالبعلموں، تحریکی داعیوں، ادباء، صحافیوں، کالم نگاروں اور سماجی دانشوروں تک کسی نہ کسی طرح نہ صرف اسکو پہنچایا جائے بلکہ انکو اسکی کچھ خاص تحریروں کیجانب متوجہ بھی کیا جائے۔ ہزاروں رسالے مجلے شائع ہوتے ہیں۔ کسی ایک کیلئے ایسے مصروف طبقوں کی توجہ لے لینا کارے باشد۔ کوئی مضمون طویل ہے تو ہوسکتا ہے اسکا ایک حصہ ایک عالم کو پڑھانا مفید ہو اور اسکا کوئی دوسرا حصہ ایک صحافی کو اور تیسرا حصہ کسی تحریکی شخصیت کو۔ غرض ہم سمجھتے ہیں ہمارے لکھ دینے کے بعد آپکا کام بھی شروع ہو جاتا ہے۔ ضرورت تو صرف اس حد تک بھی نہیں کہ آپ کچھ اہم لوگوں کو ایقاظ کے کچھ منتخب حصے پڑھا دیا کریں۔ ان سے اس پر توجہ بھی لیجئے، آراءو خیالات بھی، اور اگر کوئی بات توجہ طلب ہو تو اسکو ہمیں بھی پہنچائیے