|
|
|
|
پاکستان اورطالبان تحریر: محمدزکریا خان جنرل یحیٰ خان سے بھی زیادہ عوامی نفرت جس شخص کے حصے میں آئی وہ بلامبالغہ پرویز مشرف کی شخصیت ہے۔جتنی یہ بات درست ہے اتنی ہی یہ بات درست ہے کہ عوامی نفرت ہو یا محبت دونوں ہی پاکستان کی تقدیربدلنے میں ناکام ثابت رہے ہیں ۔شاید یہ کوئی خدائی اصول ہے کہ محبت یانفرت جب کسی عمل کو جنم نہ دیں جواندرونی جذبات یاایمان کی وجہ سے پیدا ہوں توایسی محبت یانفرت کوئی مثبت یامنفی تبدیلی کاموجب نہیں بن پایاکرتی۔ جنرل مشرف کومسلط کرنے اورقوم کو اس سے ’چھٹکارا‘دلانے میں امریکہ کی محبت اورنفرت نے کام دکھایاہے نہ کہ عوامی یا وکلاءتحریک کے دھرنوں نے۔کیا وجہ ہے کہ کبھی تودھرنے ایک دم کامیاب ہو جاتے ہیں اور ان کی پارلیمنٹ تک رسائی ہو جاتی ہے اورکبھی وہ راولپنڈی کی حدود سے آگے نہیں بڑھ سکتے؟’خفیہ ہاتھ‘ ہمیشہ ہی کسی مقصد کے لیے ان دھرنوں کویاکامیاب بنادیتا یا محض ان دھرنوں سے ’ریہرسل‘کاکام لیا جاتا ہے۔خفیہ ہاتھ توپاکستان میں ’عوام‘سے جانوں کانذرانہ بھی لے لیاکرتاہے اور صلے میں محض ’کارگل‘سے پسپائی ملتی ہے۔جنرل پرویز مشرف کی انتظامیہ امریکہ کے لیے قابل قبول نہیں رہی تھی کیونکہ قبائلی علاقوں میں وہ امریکہ کے اہداف پورے کر کے نہیں دے رہی تھی۔اس کے علاوہ فوج کے اہم ادارے پاکستان کی سرزمین کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں اورعوام کواپنا خادم یا اردلی یا ایسے اسلام پسند جن سے جب چاہیں اسلام کے نام پر قربانی لے لی جائے۔ایسی جاگیر مع خدام سے کون دست بردارہونا چاہے گا؟ چناچہ پرویز انتظامیہ امریکہ کے لیے زیادہ سے زیادہ اتنی خدمات دے رہی تھی جتنا کوئی لٹیرا بوقت ضرورت کسی اورلٹیرے کے ساتھ شراکت مال کر لیتا ہے۔امریکہ جس قسم کے اقدامات کا تقاضا کررہاتھا پرویز انتظامیہ اسے ملک توڑنے کے مترادف سمجھتی تھی،دوسرے لفظوں میں اپنی آبائی جاگیر کے ایک بڑے حصے سے دستبرداری۔یہ وہ بات ہے جس کا پرویزنے واضح طورپران الفاظ سے اظہارکیاہے کہ’پاکستان کااب خداحافظ‘۔اس جملے کی معنویت جتنی گھرکے بھیدی پرعیاں ہوگی وہ کسی اورپر نہیں ہوسکتی۔ امریکہ کوایک نئی انتظامیہ کی تلاش تھی جسے فوج میں پزیرائی بھی حاصل نہ ہو، بے نظیربھٹوکی طرح وہ عوام میں بھی مقبول نہ ہو اورجسے اپنے اقتدارکے لیے صرف امریکہ پرانحصارکرنا پڑے۔ایک ایسی شخصیت جوپاکستان کوایک حدتک ہی اپنی جائیداد سمجھے اور’کہیں ‘اوربھی اپنی جائیداد بنا رہاہو۔نئی انتظامیہ کے آنے سے حقیقی معنوں میں سرحدی علاقوں میں امریکی اہداف پورے ہونے لگے ہیں ۔جہں تک فوج کا تعلق ہے جو اب تک سرحدی علاقوں میں مطلوبہ تعدادمیں ’ شہداء‘فراہم نہیں کرسکی تھی اور mass killing پرآمادہ نظرنہیں آتی تھی اب اسی فوج کی کارکردگی سراہی جارہی ہے۔ پاکستانی فوج سے مطلوبہ نتائج لینے کے علاوہ فوج کو سویلین قیادت میں عملاًدیا جائے یہ وہ ہدف ہے جس کے لیے امریکہ پاکستان میں پورازور لگارہا ہے۔جوبات ایک سویلین محتاج قیادت سے منوائی جاسکتی ہے وہ فوج سے اس طرح منوانا کہ فوج کے سبھی ادارے جی حضوری کریں سوائے اس کے ممکن نہیں کہ فوج عملاًسول منتخب اداروں کے ماتحت کردی جائے۔فوج میں ایسے ادارے بھی ہیں جوآزادانہ کام کرتے ہیں اورسول سربراہان کواس کی خبر بھی نہیں ہوتی۔اس کے علاوہ اداروں میں محب وطن اوراسلام پسندافراد بھی ہوتے ہیں ،ان سب کے ساتھ پورااترنے میں امریکہ کوتھکا دینے والاکام کرنا پڑتا تھا۔تمام اداروں کوجمہوریت کے نام پرسول محکموں کے ماتحت لا کران سے معاملات کرنا ایک آسان کام ہے۔ ہمارے خیال میں امریکہ فوجی اورخفیہ اداروں کوسولین قیادت کے ماتحت کرنے کی وہی دلیل دے گا جووہ اسی وقت کے لیے سنبھال کررکھتاہے کہ جس حکومت کو عوامی مینڈیٹ حاصل ہے حقیقت میں حکومت کرنا اسی کادستوری حق ہے۔ اورانصاف اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کا حق امریکہ نے لے رکھاہے۔دوسری طرف ریپبلکن کی امریکہ میں ساکھ بھی مجروح ہو رہی تھی کہ وہ اداروں کی بجائے افرادسے معاملات کررہے ہیں ۔ باراک اوبامانے جس شخصیت کونائب صدرکے لیے نامزد کیاہے وہ بش انتظامیہ پر یہ الزام لگانے میں کافی بدزبان واقع ہواہے کہ بش قیادت میں امریکہ جمہوری اداروں کی بجائے شخصیات سے معاملات کررہاہے۔انتخابات سے پہلے ریپبلکن سینے پرہاتھ مارکراب یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ منتخب حکومت سے معاملات کررہے ہیں نہ کہ ایک شخص’صدرمملکت‘ سے۔جہاں تک اس بات کاتعلق ہے کہ ہماری خودسر آرمی کس طرح اس بات پررام ہوگئی کہ اپنے آپ کو’سولین ‘قیادت میں ہنسی خوشی دے دے توایک غور طلب بات ہے۔اورکیافی الواقع پاکستان کااصل مسئلہ یہی ہے کہ فوج سیاسی قیادت کے ماتحت ہوجائے،ہمارے دانشورتوقوم کویہی سمجھارہے ہیں ،اس بار کے اداریے میں اس پرتفصیل سے بات کی گئی ہے جسے یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں البتہ سیاسی قیادت کو فوج پربہ ظاہرحاکم بنانے کی متعدداغراض ہوسکتی ہیں جن میں ایک امریکہ کے دباؤ سے خلاصی چاہنا ،دوسرا سرحدی علاقوں میں نفاذشریعت کی تحریک کوان کے سرتھوپناہوسکتاہے جواب واضح طورپرخفیہ اداروں کی نااہلی کی وجہ سے علیحدگی کی تحریک میں بدل گئی ہے ۔شاید ہمارے تھینک ٹینک یہ چاہتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے لیے جیسے پہلے سیاست دانوں کوقربانی کا بکرا بنایاگیاتھا ویسے ہی اس بارکی قیامت کوان کے گلے ڈالاجائے۔جب حالات سازگارہوجائیں گے توباقی-خدانخواستہ - ماندہ پاکستان سے سیاسی قیادت کوبے دخل کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہوگا۔پاکستان میں آخر’نیب‘کاادارہ کس مقصدکے لیے بنایاگیاہے۔عین ممکن ہے ہمارے ہنگامی حالات میں سیاسی برتری حاصل کرنے والے منجھے ہوئے کھلاڑیوں پریہ بات واضح ہولیکن کھلاڑیوں کومعلوم ہے کہ اس ملک کی ایک دن کی بادشاہت بھی بڑی بات ہے ،نظام سقے جیساسادہ آدمی اگرچام کے دام بناسکتاہے تویہاں ایک دن میں گہیوں کے ہن سے کیا کچھ نہیں ہوسکتا۔ ایک بھلکڑاورجذباتی ’جمہور‘ کے ساتھ سب ہی ہاتھ کرجاتے ہیں ،یہ ایک سخت ناگوار مگرایسی قوموں کے معاملے میں ایک تاریخی حقیقت ہے۔ حقیقی قیادتوں کا وجود کسی قوم کی کوئی چھوٹی اور معمولی ضرورت تو نہیں ! جہاں تک پاکستان کے سرحدی علاقوں کاتعلق ہے تووہاں کے موجودہ حالات کسی سوچی سمجھی حکمت عملی کانتیجہ نہیں ہیں بلکہ آپ سے آپ الجھتے جارہے ہیں ۔سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت سرحدمیں اسلامی نقطہ نظرسے کافی مثبت تبدیلی آچکی تھی۔سرحدکی جماعت اسلامی کادعوتی عمل میں کوئی کردارنہ بھی تسلیم کریں توتبلیغی جماعت کے علاوہ دوسری سرکردہ اسلامی تحریکیں دعوتی میدان اورالامربالمعروف والنھی عن المنکرمیں بہت بڑی پیش رفت کرچکی تھیں ۔اسی کی دہائی میں اوراس سے پہلے ذرا سرحدکے قبائل اوران سے ملحقہ علاقوں کانقشہ سامنے رکھیں ۔نشہ آوراشیاء کااستعمال اوران کی بین الاضلاعی منتقلی بہت عام تھی، قتل وغارت گری اوراغوا وغیرہ کے واقعات عام تھے اورکسی اسلامی یاغیراسلامی نظریے سے کوئس تعلق نہ رکھتے تھے۔ تصفیے اگرہوتے بھی تھے توقبائلی روایات کے مطابق نہ کہ اسلام کے مطابق۔ نوجوان نسل کی اخلاقی تربیت کا کوئی نظام نہیں تھا۔افغانستان سے آکرخیمہ بستیوں میں آبادہونے والے مہاجرین کوسرحدکے بہت سارے حلقے بوجھ سمجھتے تھے۔اصلاح کاراصلاحی عمل میں لگے رہے۔تحصیل باڑہ میں مقامی عمائدین نے بہت سارے معاملات بغیر سرکار کوپریشان کیے اسلام کے مطابق چلائے۔اگرچہ یہ اصلاحات اس سطح کی نہیں تھیں جیسی طالبان نے افغانستان میں کی تھیں لیکن یہ سارا اصلاحی عمل ایک تدریج کے ساتھ آگے بڑھ رہاتھا۔صوفی محمدکی تحریک کے بعددوسرے اضلاع میں بھی لوگ اپنے معاملات علماء کے پاس لے جاتے تھے اورخاندانی یا قبائلی روایات کی پاسداری کی بجائے اسلامی شریعت کے مطابق فیصلے کرانے کا رجحان بڑھ رہاتھا۔حکومت کو بھی اس سارے عمل سے کوئی تشویش نہیں تھی کیونکہ یہ اصلاحی کام اخلاقی اپیل پرہورہا تھا۔دوسری طرف سماجی جرائم میں قابل قدرکمی آگئی تھی اورایک مرتبہ صوبہ سرحد کو پرامن ترین صوبہ بھی قراردیاگیا تھا۔یہ سارا عمل بغیر بندوق کے ہو رہاتھا۔طالبان حکومت نے جب حکومت چھوڑکرقابض فوجوں کے خلاف چھاپہ مارجہادکاآغازکیاتواس مرتبہ افغان بھائیوں کے لیے سرحدمیں بڑے اچھے جذبات پائے جاتے تھے۔ طالبان کامختصر دورعالم اسلام بلکہ پوری دنیاکے مسلمانوں میں ایک ممتاز اہمیت کاحامل رہاہے۔ افغانستان میں طالبان تحریک کے ابتدائی دورمیں طالبان نے بہت سارے میدان بلا جنگ محض اپنے کردارکی پختگی سے جیتے تھے اور اس وجہ سے کہ انہیں شورش زدہ علاقوں میں امن قائم کرنے کاسلیقہ آگیاتھا۔ طالبان نے اپنے ملک میں تو محبت پائی ہی تھی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بھی پہلی بارافغان بھائیوں کےلیے دلی جذبات پیداہوئے اوریوں سرحدمیں جواصلاحی عمل ہورہا تھااس میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی۔افغان عوام کایاسابق افغان حکومت کاقابض فوجوں کے خلاف اٹھ کھڑاہونا ایک ایساکام ہے کہ اسے دنیاکاکوئی انصاف پسندغلط نہیں کہہ سکتا۔ افغانستان کی اس مزاحمت کے لیے عالمی رائے عامہ پراثرانداز ہونے کے لیے کوشش کرناایک بالکل جائز بات تھی۔خود بین الاقوامی قانون بھی اس کی اجازت دیتا ہے۔دراصل دنیا میں کچھ حقائق ایسے ہیں کہ انہیں تسلیم کیے بغیرآپ مہذب نہیں کہلا سکتے اس لیے قابض فوجوں کے خلاف مزاحمت کرنے کے حق کو بین الاقوامی طورپرتسلیم کیاجاتا ہے۔اگرسرحد میں جاری اصلاحی کام کی رفتارکوتیز کرنے اورافغانستان کی اخلاقی مددکرنے کی حکمت عملی پراکتفاء کی اجاتا توپھر بھی امریکہ کو افغانستان سے نکلناہی پڑتااورجنگ کادائرہ سرحدکے قبائل تک نہ بڑھتا۔ یہ ایک بہترین صورت ہوتی کہ سرحدمیں اصلاح معاشرہ کاکام اخلاقی اپیل کے طورپرجاری رہتا اور جدید ذرائع ابلاغ کوبروئے کار لاتے ہوئے افغانستان کی سابق امارت اسلامی کوبحال کرنے کے لیے پورا زور لگایا جاتا۔اگرامریکہ طاقتور ہونے کے باوجودایران پر حملہ کرنے میں عجلت نہیں کررہاجس کی وجہ علاوہ اور باتوں کے یہ بھی ہے کہ وہں کے ماہرین یہ بات بھی کرتے ہیں کہ امریکہ کے حملے سے وہاں کی موجودہ حکومت عوامی پزیرائی حاصل کرلے گی۔ یعنی آخری حدتک یہ کوشش کی جائے کہ کسی ملک پرحملہ کرنے سے پہلے اس ملک کی حکومت کوعوام میں غیرمقبول کرایاجائے۔اگرایک طاقت ورملک جنگ کے دائرے کو محدودرکھناچاہتاہے یامناسب وقت کا انتظار کررہا ہے جبکہ اس پراسے بزدلی کاطعنہ بھی سننے کوملے جیسے کہ ایرانی صدراحمدی نژادنے متعدد بارکہاہے۔ مسلمان خطوں میں جاری مقدس مزاحمت اس بات کی زیادہ ضرورت رکھتی ہے کہ اس کاجہاد محدود رہے۔اگرپرویزحکومت واقعتاًسرحدمیں وسیع ترآپریشن سے اس لیے بچتی رہی کہ اس سے پاکستان کی افغانستان سے ملحقہ سرحدیں غیرمحفوظ ہوجائیں گی تواسے ایسی تمام حماقتوں سے بچناچاہیے تھا کہ جومسئلہ سیاسی طورپرحل ہوسکتاتھاوہاں ’پاک فوج کے جوانوں ‘کوبہادری کے جوہر دکھانے کاموقع نہ دیاجاتا۔یقیناخفیہ اداروں میں ایسے عناصرموجود رہے ہیں جوسرحدمیں برپا جنگ کونہیں ٹالنا چاہتے تھے۔کسی اوسط ذہن کے آدمی سے لال مسجدآپریشن کے بارے میں پوچھ لیں وہ اسے صرف حماقت اوربربریت کہے گا۔ جیسا کہ ہم نے اوپر عرض کیا ہے کہ سرحدمیں موجودہ حالات وہاں کی اصلاح پسنداسلامی تحریکوں کی سوچی سمجھی حکمت عملی کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ خفییہ اداروں کی جوشیلی یاامریکہ کی سازش کا نتیجہ ہیں اورحالات فوج اوراصلاح کارتنظیموں دونوں کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں ۔وہ جنگ جوافغان طالبان نے تقریباًجیت لی تھی اورامریکہ پوری سنجیدگی سے یہاں کے معاملات نیٹوکے سپردکرکے اپنی معیشت کی خبرلینے کے لیے واپس لوٹ رہاتھااب وہں یہ فیصلہ کیاجارہاہے کہ امریکی فوجوں کی تعدادافغانستان میں بڑھائی جائے گی۔باراک اوبامااگرمنتخب ہوگیا تووہ واضح اوردوٹوک الفاظ میں یہ بیان دے چکاہے کہ عراق سے بوریابسترلپیٹ کر صرف افغانستان پرتوجہ مرکوز کرناآئندہ ڈیموکریٹس کی ترجیح ہو گی۔عراق سے ممکن ہے جلد ہی امریکی فوجوں کاانخلاء شروع ہوجائے۔انخلاء توافغانستان سے بھی شروع ہوجاتابشرطیکہ پاکستان کے پالیسی بنانے والے اداروں کوجیتی ہوئی جنگوں کوہارنے کاتجربہ نہ ہوتا۔ مقبوضہ مسلم خطوں اوران سے ملحقہ خطوں میں جنگ کے پھیل جانے سے ایک مرتبہ پھرلمبی جنگ کاآغازہوگیاہے۔اللہ کالاکھ لاکھ شکرہے کہ مسلم آبادی میں نوجوان خون ٹھاٹھیں ماررہاہے۔امریکہ کو یہ سوچ لینا چاہیے کہ شہداءکوکندھے دینے والوں کی تعداداتنی ہے کہ ان کاکھوے سے کھواچھل رہاہے۔اوراسے یہ بات بھی یادرکھناچاہیے کہ امریکہ ایک سکڑتی آبادی کاملک ہے اورعالم اسلام ایک بڑھتی اوراپنی اصلاح کرتی امت کا نام ہے۔اس جنگ میں امریکہ کو سوائے شکست کے اورکچھ نہیں ملے گا۔کیاوہ دیکھتے نہیں کہ افغانستان کی ایک غیرترقی یافتہ اسلامی امارت جو’ڈیورنڈلائن‘کوبھی نہیں چھیڑرہی تھی اب عملاًاس لائن سے بھی آگے آچکی ہے بلکہ سمندروں اور سرحدوں سے گزرکرعراق اورچیچینیاتک پہنچ چکی ہے۔پہلے جومسئلہ امارت اسلامی کی افغانستان میں بحالی تک تھاوہ اب بین الاقوامی خلافت کاروپ دھاررہاہے۔اس بارکی اسلامی امارت کوتم پس ماندہ نہ کہہ سکوگے۔عالم اسلام کے اندر یہ جنبش بش کے صلیبی نعرے نے پیداکی ہے جواب سیلاب بن چکی ہے۔معاملہ ریگولرفوجوں سے نکلتاہواسول ملیشیا کے ہاتھوں میں جارہاہے۔دوواضح فریق افق پرنمایاں ہوگئے ہیں ۔انسان پرانسان کی حکمرانی بلکہ وایٹ ہاؤس کی حکمرانی اورانسان پراللہ کی حکمرانی۔اوراب توکسی قوت کا خطے کی حد تک محدودہونا ہی اس کی موت ہے،ضروری ہے کہ وہ تحریک بین الاقوامی ہو،نظریاتی ہو،انصاف پرمبنی ہو،مادے اورروح کے امتزاج سے واقف ہواورجس میں ہرنسل اورہررنگ سماجائے اوردیکھنے والے کو ایک ہی رنگ میں دکھنے والی ہو۔یہ اوصاف صرف اسلام میں ہیں ۔ یہ جنگ جسے ترجیحاً مقبوضہ علاقوں تک محدودہوناچاہیے تھااب وسیع ہوگئی ہے اورمسلم امہ کی ذمہ داری بہت بڑھ گئی ہے۔امت کے اہل حل و عقد سرجوڑکربیٹھیں اورمسلم مقبوضات میں برسرپیکار مجاہدین کی رہنمائی کریں اس طرح کہ وہ ان نصائح کوایسی ہی اہمیت دیں جیسی وہ اپنے جہادی کمانڈروں کے نصائح کو اہمیت دیتے ہیں ۔یہ اس وقت ممکن ہے جب اس بات کااعادہ کرلیاجائے کہ مسلمانوں کوپیش آنے والے مسائل سرکردہ مسلم شخصیات کے لیے بھی اسی طرح اہم ہیں جیسے مجاہدین کے لیے اہم ہیں ۔اور یہ کہ ہم سب اپنے مقبوضات کی آزادی میں اسی طرح سنجیدہ ہیں جس طرح مجاہدین۔اور یہ کہ اہل حل و عقد کے نصائح حکومت کی ڈیکٹیشن پرمبنی نہیں ہیں ہاں اتناضرورہوکہ حکومت کی پالیسی اور بیانات ان کی نظرمیں ہوں اورمسلم خطوں کے جغرافیے میں عوامی حمایت کے بغیرکوئی تبدیلی نہ لانے والی ہوں ۔ اپنی ہی حکومتوں سے تصادم سے بچ کر مرتب کی جانے والی ہوں ۔اس لیے نہیں کہ ظالم کی سرکوبی اسلام میں مباح نہیں بلکہ اس لیے کہ یہ اصل دشمن سے توجہ ہٹانے کاباعث بن سکتی ہیں ۔اورکیا بعید کہ اگرافغانستان میں اسلامی امارت قائم ہوجائے اورامریکہ یہاں سے دفع ہوجائے توکسی تصادم کی ضرورت ہی نہ رہے۔ جیساکہ ہم نے گزشتہ سطورمیں کہاہے کہ ہمارے پاکستان کے ’جمہور‘ بھلکڑاورجلد بہلاوے میں آجانے والے واقع ہوئے ہیں ۔جب ہی تو ستتر(1977ء)کی اسلامی تحریک کے محرکات کاہمیں بیس سال بعدپتا چلتا ہے کہ ’غالباً‘یہ آئی ایس آئی کاکھیل تھا۔خیال ہے کہ ذوالفقار علی بھٹوکی عوامی مقبولیت سے جاگیردارخائف تھا کہ ساری جمع پونجی وہ لے جائے گا۔کم بختوں نے اس معمولی نوعیت کی شہرت کے توڑ کے لیے اسلام کے پاک نام کو اپنے گھناؤنے مقاصد کی برآری کے لئے استعمال کرنے سے بھی دریغ نہ کیا۔ خداان بدبختوں کوغارت کرے جوہرباراسلام کانام لے کرہمارے گھبروجوانوں کواپنی کسی محلاتی سازش میں جھونک دیتے ہیں ۔پاکستان جن سازشوں کا شکار ہے ہوناتو یہ چاہیے تھا کہ یہ مصائب اس قوم کوایسادیدہ ورکردیتے کہ وہ بیس سال آگے کی منصوبہ بندی کررہے ہوتے چہ جائے کہ بیس سال بعدان پرکسی واقعے کی ادھوری پونی حقیقت کھلتی ہے۔اس قوم کے شعورکومعیاری درجے تک لانے اوراسلام سے جذباتی اورہنگامی تعلق رکھنے والوں کو صحابہ کرام والے دین سے سنجیدہ تعلق پیداکرنے کاکام ایک کٹھن اورلانگ ٹرم پروگرام ہے اورشایدیہاں وہ جنس ہی ناپیدہوجو یہ کام کرنے کی اہلیت رکھتی ہوتاہم ان وقائع کو قوم کے ذہن میں تازہ رکھنے کے لیے ہردردمند باصلاحیت پاکستانی کوکام کرناچاہیے جن کے ساتھ ہماری بقاء جڑی ہے۔گھمبیرمسائل پرقربانیاں دے چکنے کے بعدانہیں ایسے فراموش کردیاجائے جیسے بدی کے کام کوفراموش کردیاجاتاہے، ایک قابل معافی رویہ نہیں ہے۔ قائدین پر یہ ذمہ داری ہے کہ کسی ایشوپراتفاق کرنے کے بعد جب تک وہ سرے نہ لگ جائے اسے فراموش نہ ہونے دیں ۔یادداشت کا کمزورہون اپوری قوم کو ڈبو دینے والا المیہ ہوا کرتاہے۔ اسلامی تحریکوں کے پاس ابلاغ کے جدیدذرائع بلکہ قدیم ذرائع بھی نہ ہونے کے برابرہیں اورفنی طورپرتودشمن سے ان کی فلم بندی یا عکاسی بھی بہت کم درجے کی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں خطابت کوبڑی اہمیت حاصل تھی۔اس اہمیت کوامت کے ذہن میں بٹھانے نیزگمراہ کن پروپیگنڈے کا توڑ کرنے کے لیے آپنے فرمایا کہ’تقریراورگفتگوبسااوقات ایسی ہوتی ہے کہ(جیسے اس میں )جادوہو(جوسامع سے اپنی بات منوالے۔)جرنل ازم کس قدراہم ہے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں مگر مجاہدین تواس میدان میں ہیں ہی نہیں ،غیرکالعدم تحریکیں بھی اس میدان میں کوئی قابل قدرکام نہیں کررہی ہیں بلکہ خودان تحریکوں کواپنی معلومات کے لیے غیرملکی ذرائع ابلاغ پرانحصارکرناپڑتاہے۔یہ ایک ایسی’ قوت‘ ہے کہ اس کا اسلامی تحریکوں کے پاس موثریابین الاقوامی معیارکانہ ہوناامت پرعائدواجبات میں سے ایک واجب کی کوتاہی میں شمار ہوگا۔ ابلاغ کاہی ایک دوسراشعبہ جوجرنل ازم میں تونہیں آتامگر تاثیر میں یہ اتناہی یااس سے بھی زیادہ مؤثر ہے اوروہ ہے تخلیقی ادب کاشعبہ۔دین اسلام کویہ بھی اعزازحاصل ہے کہ اسلام کے احکام جس پیرائے میں بیان ہوئے ہیں وہ بیک وقت مذہب،قانون اوردستورکی زبان کاحق بھی اداکرتے ہیں اوروہ ایک لازوال ادب کی چاشنی بھی اپنے اندرسموئے ہوئے ہیں حالانکہ ان تینوں شعبوں یعنی مذہب، قانون اورشریعت کوخشک زبان میں ہی پیش کرناآسان کام نہیں اوراگرادبی پیرائے میں بیان کردی جائیں توبلاشبہہ ایسی قوم اپنی میراث پرفخرکرسکتی ہے۔نبی علیہ السلام فرماتے تھے:انا افصح العرب(میں عربوں میں سب سے بڑھ کرفصیح ہوں )ابتدائے اسلام میں متعددوجوہات کی بناء پرآپنے شعروشاعری کی حوصلہ افزائی نہیں فرمائی تھی اوراس کی بجائے ابلاغ کے سب سے زیادہ موثرذریعے’خطابت‘پراپنے اصحاب کی تربیت فرمائی۔ویسے بھی قران کی فصاحت اوربلاغت نے جاہلی شعراءکے منہ پرتالے لگادیے تھے قران پرایمان لانے والے کیاجسارت کرتے، یہی وجہ ہے کہ اسلام کے ابتدائی دورمیں ہمیں جاہلی کلام بھی نہیں ملتا۔جب غزوات کاآغازہواتوطرفین نے ایک لازوال ادب تخلیق کیا۔ایک زندہ قوم اپنی داستان کوبہت اچھے اچھے اوراچھوتے پیرائے دے لیاکرتی ہے۔آپبسااوقات ایک ہی محفل میں :’اورسناؤ‘کہہ کرشاعری کی ترغیب دیا کرتے تھے اورسو یا اس سے بھی زیادہ شعرسماعت فرماتے تھے۔بسااوقات آپ شعرپرجچاتل اتبصرہ بھی فرماتے تھے۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ناگہانی حالات سے نکلنے کی سبیل نکالنے کے لیے عرب حکماء شعراء کے کلام کوذہن مبارک میں لایا کرتے تھے۔اور نبی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ حکمت اوردانائی کی بات مومن کی میراث ہے جہاں سے ملے اپنی سمجھ کرلے لی جائے۔بنا بریں پاکستان جن حالات اور وقائع سے گزر رہا ہے اورقربانی اوردلیری کی جوکرشمہ سازی یہاں ہو رہی ہے بخدااگران میں سے کاکوئی ایک سانحہ بھی یورپ کی کسی بستی کوپیش آیا ہوتا تووہ ایک لازوال ادب تخلیق کرکے اپنی نسلوں کے قلب وجگرمیں پتھرکی لکیرکی طرح ثبت کردیتے۔خودقران نے بھی اصحاب اخدود اورغاروالے اصحاب کہف کی قربانیوں کوآفاقی ادب میں ڈھال کرلازوال کردیاہے۔کسی قوم میں بھونچال پربھونچال آئیں اوردلوں کے تاروں سے کوئی آہ نہ نکلے،کسی قوم کے ’بیک ورڈ‘ہونے کی دلیل ہے۔ہمارے ہاں اب تک شیعہ مذہب اپنے تخلیقی ادب کی وجہ سے زندہ ہے۔یہاں سنیوں پرہ رروز ایک کربلا جنم لیتاہے مگرکہیں سے وااسلاماہ کی صدانہیں آتی۔متحرک اسلامی تحریکوں کواپنے زیرتربیت افرادمیں گفتارکاغازی بنانے پربھی محنت کرناہوگی۔اقبال کوکردارنہ ملنے کاشکوہ تھاتوہمیں گفتارنہ ملنے کا شکوہ ہے! اب بھی جبکہ جنگ کادائرہ دشمن نے ہمارے اپنے ہنستے بستے گھروں تک پھیلادیاہے، ان پڑھ واعظ اپنی لچھے دارتقریروں سے اہل مسجدکودوسرے سنی گروہ سے بڑھائے ہوئے ہے۔ایسے پیش اماموں کوہمیشہ اس بات کاڈرہوتاہے کہ اگر سب مسلمانوں کی نمازیں ایک دوسرے کے پیچھے ہونے لگ جائیں توفلاں صاحب حیثیت آدمی جو اتنی دور سے چل کر یہاں میری مسجدمیں محض اس وجہ سے آتاہے کہ میں نے اسے ’دلائل‘سے سمجھا دیا ہے کہ فلاں فلاں شرعی بنیادوں کی وجہ سے تمہاری نمازوہاں نہیں ہوتی۔اگراس کی نمازوہاں ہونے لگ گئی توکل کوچندہ بھی وہی لے جائے گا۔مسلمانوں کے دلوں میں نفرت ڈالنے والے واعظین سے بچ کرہرمسلمان اپنے علم کے لیے مستنداداروں یاشخصیات کی طرف رجوع کرے۔ یہ ایک ایسا فرض ہے جویوں توہرعام مسلمان پر عائد ہوتاہے کہ وہ’اہل ذکر‘سے ان مسائل کی بابت پوچھ اکرے جو اسے معلوم نہیں ہیں ،موجودہ حالات میں اگرپیش امام کے دین پرہی چلتے رہے توزمانہ قیامت کی چال چل جائے گا۔’کس امام کے پیچھے نمازہوجاتی ہے اورکس کے پیچھے نہیں‘ کے مسئلے کوہم شرعی مسئلہ سمجھتے ہیں اورمحض حالات کی سنگینی کی وجہ سے اس’رخصت‘پرعمل کرنے کی تجویزنہیں دے رہے کہ’ اجی نمازہی پڑھنا ہے نا‘توبس کہیں پڑھ لیجیے،سنی ،شیعہ، قادیانی اورآغاخانی وغیرہ کیا فرق پڑتا ہے سب ہی نمازہی تو پڑھتے ہیں ۔نہ یہ بات درست ہے اورنہ یہ بات کہ صرف ہمارے ہی پیش امام کے پیچھے نمازہوتی ہے۔اہل سنت میں فقہ اختلاف اورفقہ ائتلاف(اختلاف رکھتے ہوئے کیسے مل کررہ اجاتاہے)کاموضوع سہ ماہی ایقاظ کا اہم موضوع ہے یہ تفصیل قارئین مختلف شماروں میں ملاحظہ کرسکتے ہیں ۔سردست ہمارے اس طنزکا مقصدمسلمانوں میں اہل سنت والجماعت کے اصول پروحدت پیدا کرنا اورتنگ نظر واعظین سے نماز پڑھنے والوں کوامت کے سرکردہ علماء کی طرف متوجہ کرناہے۔ علاوہ ازیں اسلامی تحریکوں کے قائدین کو تحقیقاتی مراکزبنانا چاہئیں جس میں شرعی و دینیاتی مسائل کے علاوہ ملکی اورجن ممالک سے ہماری مڈھ بھیڑ ہے ان کی اہم شخصیات کے تمام گوشوں کاریکارڈ مرتب کیاجاتا ہواورانہیں مسلمانوں کے درمیان عام کیاجائے۔نبی علیہ السلام خودبھی لوگوں کے چال چلن اورنفسیات سے باخبررہتے تھے اوراپنے قریب بھی ان شخصیات کو رکھتے تھے جو ’علم زندہ انسان‘کوباقاعدہ عبادت سمجھتے تھے اور اللہ سے اس محنت کا صلہ لینے والے تھے۔چناچہ ابوبکر صدیق اورعمر بن خطاب رضی اللہ عنہمااوران کے ہی ہم مرتبہ خواتین میں سے حضرت عائشہ مخالفین کے نسب ناموں اوران کی نفسیات سے خوب واقف تھیں ۔نبی علیہ السلام توخواتین تک سے انسانوں کوجاننے کی خدمت لیا کرتے تھے بلکہ آپ خود بھی مردوزن کی اس معاملے میں تربیت بھی کرتے تھے۔ایک مرتبہ کسی شخص کی آمدپرآپنے حضرت عائشہ سے کہاکہ بڑاگندہ آدمی ملنے آرہا ہے۔جب وہ آگیا توحضرت عائشہ کیا دیکھتی ہیں کہ آپ اس سے ملنساری سے پیش آرہے ہیں ۔جب وہ چلاگیا تو تعجب سے پوچھا کہ اسے تو آپ نے گندہ آدمی کہاتھاپھراس کی آپ نے عزت افزائی بھی کی ہے۔آپ نےفرمایا:عائشہ(دین کوکسی خطرے سے بچانے کے لیے دانائی سے) بدقماش آدمی کے شر سے بچنے کے لیے اس کی عزت کی جاتی ہے(اوریہ اس شخص کے لیے)بڑی ہی بدبختی کی بات ہے۔صلح حدیبیہ کے وقت قریش نے چار سفارتیں بھیجی تھیں ہروفدکے سرکردہ شخص کے بارے میں آپنے کوئی نہ کوئی تبصرہ فرمایاجواس بات کی دلیل ہے کہ اہم شخصیات کا ریکارڈرکھناانبیاءکی سنت ہے۔ ہمارے اوپرجوجنگ مسلط کی گئی ہے یہ طویل تو ضرورہے مگراپنانقصان کم سے کم کرانے اورمحاذ کواپنے ہاتھ میں رکھنے کے لیے مجاہدین اورشہری آبادی میں رہنے والے اہل حل و عقدکو بالآخرایک ہی کشتی میں سوار ہونا پڑے گا ۔پھرکیوں نہ دھکم پیل سے پہلے ہی ہم ایک کیو(queue) بنالیں ۔شایداس نظم کی خوب صورتی دیکھ کرحکومتوں کے بیشتر نہیں توچند شخصیات ہی آخرمیں کسی کادامن تھام لیں ۔البتہ ایک بات طے ہے کہ یہ سفینہ نجات اس وقت ہی بنے گا جب مجاہدین اورآزادتحریکیں ایک کیو(queue)میں لگ جائیں۔ جیسے ہمارے دین میں نماز صف بندی کے بغیرادانہیں ہوتی ویسے جہادصف بندی کے بغیرمشروع نہیں۔ نمازاصل میں جہاد کی ریہرسل ہے۔اہل حل و عقدکوتردد نہیں کرناچاہیے اورجلد سے جلداس بات کی کوشش کرناچاہیے کہ امت کے سپاہی اورامت کے دانامل کرہی حکمت عملی تشکیل دے رہے ہوں ۔ سرحدکے جن علاقوں سے امریکہ یافوج کی بمباری کی وجہ سے عوام کو نقل مقامی کرناپڑی ہے وہاں غذااورادویات کی فراہمی پراصرارکرناچاہیے۔مومن وہ ہے کہ جودوسرے کے درد کو اپنے بدن میں محسوس کرے۔انٹرنیٹ پرایک ایسافورم تشکیل دیاجائے جس پرہردرد دل رکھنے والا پاکستانی قائدین تک اپنی تجویزپہنچاسکے،ایسی تجاویزکہ جن کی مدد سے یہ جنگ کم ازکم نقصان سے جیتی جاسکے۔عین ممکن ہے کہ اس فورم پرایسی ایسی تجویزیں سامنے آجائیں جوکسی قائد کے ذہن میں بھی نہ آئی ہوں ۔افراد میں صلاحیتوں کے لحاظ سے یہ ملک کافی زرخیزہے مگرساری کوتاہی اجتماعی رویے میں غیرمنظم ہونے کی وجہ سے پائی جاتی ہے۔باصلاحیت افرادتوسب ہی ملکوں میں پائے جاتے ہیں جیت وہ جاتاہے جوانہیں کسی نظم میں پرودے۔شایدوہ مضبوط کڑاایسے کسی فورم کی وجہ سے ہاتھ آجائے۔ علاوہ ازیں ایک طویل اوراعصاب شکن جنگ کے لیے تیاررہناچاہیے۔ مقبوضہ مسلم خطوں میں جہادی عمل کوزیادہ سے زیادہ شفاف بنایاجائے۔مسلم عوام بھی صرف مستندافرادکے بیانات تک اپنی سوچ کومحدودرکھیں اورمستندافراد سے جاری ہونے والے بیانات کوسچ سمجھیں اوردشمن کے پروپیگنڈے میں نہ آئیں ۔جہادکے عمل کومقبول بنانے کے لیے ضروری ہے کہ بے گناہ افرادکے جان اورمال محفوظ ہوں ۔اس مقصدکے حصول کے لیے استشہادی کارروائیوں کومحدودکرناچاہیے۔اگراستشہادی کارروائی سے دشمن کوبہت نقصان پہنچنے والاہواوراس بات کی ضمانت نہ ہوکہ عام آبادی کواس کانقصان نہیں پہنچے گااوردوسری کارروائی میں دشمن کا نقصان توکم ہوتاہومگرعام آبادی یقینی طورپرمحفوظ رہتی ہوتواول الذکراستشہادی کارروائی نہیں کرناچاہیے۔استشہادی کارروائی مجاہدین کی سب سے اعلیٰ مشاورتی شوریٰ کی باضابطہ منظوری کے بغیرعمل میں نہ لائی جائے اوربعدمیں یہ اعلیٰ مجلس شوریٰ جوعلماء پرمشتمل ہواس کی ذمہ داری بھی قبول کرے اوراس کی ضرورت ک ابھی یقین دلائے۔اس جنگ کوہتھیاروں کے ساتھ جیتنے میں توعرصہ لگ سکتاہے مگردل جیتنے سے یہ جنگ جلد ہی جیتی جا سکتی ہے۔مسلم امت کویہ اطمینان ہو کہ جن لوگوں نے ہتھیاراٹھارکھے ہیں وہ مسلم نفوس کی جانوں کومحفوظ کرنے کے لیے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے خون کی ان کی عزت کی اور ان کی ثروت کی حفاظت کرنے والاہے۔ پاکستان کا’خداحافظ‘ ہے اس دھرتی نے اب ایسے سپوت جننا شروع کردیے ہیں جو’پاکستان کامطلب‘ حاصل کرکے رہیں گے البتہ مشرف اوراس جیسے سیاہ کاروں کوخداکی پکڑ سے ڈرناچاہیے کہ اُس جیسی پکڑ ان سیاہ کاروں نے کبھی اپنے عقوبت خانوں میں بھی نہ دیکھی ہو گی۔اللہ کے سچے نبی نے فرمایاہے:’قیامت کے روزہرغدارکوایک بد بختی کاعلم تھمایاجائے گا۔یہ بدبختی کانشان ہرغدارکی غداری کے برابرنمایاں ہوگا‘اورممکن ہے ان روسیاہیوں کانشان سب سے نمایاں ہو۔اللہ تعالیٰ مسلم ممالک کے نوجوانوں کی اوران ممالک اور اقوام کی اور ان کے حال ومستقبلکی حفاظت کرے۔ آمین |