سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ اکتوبر 2008

Download in PDF format

تکفیرِ معین

حصہ اول

حصہ دوم
 

مولفہ: ابوالعُلا راشد بن ابی العلا

اردو استفادہ: محمد زکریا خان

اس مضمون کے پہلے حصے میں تکفیر معین کے متعلق اصولی بحث گزر چکی ہے اور وہاں یہ بات بھی بیان کی گئی تھی کہ اہل علم حالات کے مطابق اور موانع تکفیر کو سامنے رکھتے ہوئے تکفیر معین میں توقف کرتے ہیں اور عام طور پر اہل علم کا یہی رویہ ہوتا ہے ۔ اہل سنت کے ائمہ خواہ توقف کریں یا صراحت کریں ہر دو صورت میں علمی دیانت ان کے پیش نظر ہوتی ہے ۔ نہ وہ افراط میں پڑ کر خوارج کا سا رویہ اپناتے ہیں اور نہ تفریط میں مبتلا ہوکر ارجاء میں پڑتے ہیں۔کفر یا شرک کا ارتکاب جب ایسے شخص سے ہو اور ایسے حالات میں ہو کہ جو اہل علم کے ہاں معتبر موانع سمجھے جاتے ہیں اور جس کا مفصل احوال گزشتہ حصے میں گزر چکا ہے بنابریں اہل علم تکفیر نہیں کیا کرتے جب تک کہ تمام معتبر شروط پوری نہ ہوجائیں اور تمام معتبر موانع دور نہ ہوجائیں ۔ جہاں اہل علم سے یہ موقف ثابت ہے وہاں اہل علم تکفیر معین کی شروط پوری ہوجانے کے بعد اور موانع دور ہونے کے بعد اہل اسلام کو فتنوں سے بچانے کےلئے متعین شخص کی تکفیر کرنے میں توقف نہیں کرتے ۔ اہل علم کے ہاں کیونکہ تکفیر مطلق عام ہے اور تکفیر معین محدود ہے اور یہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا منہاج تھا تو اس سے بعض علم سے شغف رکھنے والے یہ رائے رکھنے میں اپنے آپ کو حق بجانب سمجھ بیٹھے ہیں کہ سلف کے ہاں سرے سے تکفیر معین کا اصول نہیں پایا جاتا اور یہ کہ سلف کا اصل اصول یہ ہے کہ کسی تصور یا فعل کو تو وہ کفر کہتے ہیں لیکن اشخاص کی تکفیرنہیں کرتے۔ اس مضمون میں ہم سلف صالحین کے ان مواقف کو جمع کریں گے جن میں انہوں نے متعین افراد کی تکفیر کی ہے اور اگرچہ اس سے ہماری یہ غرض نہیں ہے کہ اس رجحان کو مسلمانوں کے عوام الناس میں عام کیا جائے بلکہ اس سے صرف یہ ثابت کرنا مقصو دہے کہ ائمہ کرام سے متعین اشخاص کی تکفیر ثابت ہے اور یہ کہ اہل سنت کا یہ باقاعدہ اصول ہے کہ وہ شروط پورے ہونے کے بعد اور موانع دور ہونے کے بعد اہل اسلام کو فتنوں سے بچانے کےلئے تکفیر معین کرتے ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے عصر زریں سے لے کر تادم تحریر اہل سنت اس منہاج کی پیروی کو لازم پکڑے ہوئے ہیں ۔ موجودہ زمانے میں اس کی سب سے بڑی مثال ختم نبوت کے مسئلے میں قادیانیوں کی تکفیر ہے۔

بلاشبہ مسلمانوں کے ہاں جہل کا پایا جانا عام ہے لیکن اہل علم کے ہاں جہل کے بطور عذر ہونے کے بھی اصول اور ضوابط ہیں جن کا تذکرہ گزشتہ حصے میں ہوچکا ہے۔ البتہ جہل کی بہت زیادہ صورتیں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ عذر نہیں بنتی ہیں بلکہ الٹا وبال جان بنتی ہیں بلکہ کفر کی ایک قسم ہی جہل کہلاتی ہے اور اسلام جہل کی ضد ہے۔ بنا بریں یہ موقف سلف صالحین کا نہیں ہے کہ جہل کی ہر صورت قابل عذر ہو ۔چنانچہ امام ابو بطین فرماتے ہیں :

بلاشبہ سلف صالحین نے اور ان کے بعد اہل علم نے اہل بدعت (کے بعض فرقوں یا اشخاص) کی تکفیر کی ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ جن جن کی انہوں نے تکفیر کی ہے وہ اصحاب علم نہ ہوں ۔وہ اپنے علم سے بہرہ مند تھے، عبادت گزار تھے اور ان میں سے بہت سے زھد اور پرہیز گاری میں اپنی مثال آپ تھے۔ جس چیز نے انہیں بدعت (1) میں مبتلا کر رکھا تھا وہ جہل ہی تھا۔ جن لوگوں کو علی بن ابی طالب نے آگ میں جلا دیا تھا وہ بھی عبادت گزار تھے ۔ان کی تکفیر کا سبب بھی جہل ہی تھا۔(مجموعۃ الرسائل النجدیۃ :477۔478)

اما م ذھبی نے اپنی کتاب ’کتاب العرش‘ میں امام اصمعی لغوی سے یہ روایت نقل کی ہے کہ اصمعی کہتے ہیں کہ ایک مجمع سے جہم بن صفوان کی بیوی کا گزر ہوا توا یک آدمی نے ( اسے ستانے کی خاطر) کہا کہ اللہ تو اپنے عرش پر ہوتا ہے (2) ۔جہم کی عورت نے جواب دیا (اس طرح تو تم نے) خدا کو بھی محدود کردیا اور (جہاں وہ ہے) اس جگہ کو بھی (3) محدود کردیا (یہ جواب سن کر ) امام اصمعی نے کہا: یہ بات کہہ کر یہ عورت کافر ہوگئی ہے۔مختصر العُلوّ، للذھبی :(170۔171)

مسئلہ خلق قرآن کی بحث میں امام مرزوی اپنی کتاب’ القصص‘ میں کربیسی کے خلق قرآن کے ثبوت میں بیان کئے گئے دلائل کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں : (امام مروزی بیان کرتے ہیں کہ ) جب مجھے یہ بات معلوم ہوئی کے کربیسی بھی قرآن کو مخلوق مانتا ہے تو میں ابو عبداللہ (احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ) کے پاس چلا گیا اورکہا کہ کربیسی یوں کہتا ہے کہ قرآن جب میرے منہ پر ہوتا ہے تو (البتہ مخلوق (ہی) ہوتا ہے ۔ میں نے (امام مروزی ) پوری بات بتلاتے ہوئے کہا کہ (کربیسی سید ھے طریقے سے نہیں کہتا کہ قرآن مخلوق ہے بلکہ) وہ کہتا ہے کہ قرآن دوسرے تمام زاویوں سے غیر مخلوق ہے میں تو صرف کہتا ہوں قرآن جب میرے منہ پر ہوتا ہے تو (البتہ مخلوق (ہی) ہوتا ہے اور یہ کہ جو قرآن کو اس پہلو سے مخلوق نہیں مانتا تو میں اسے کافر (4) سمجھتا ہوں۔(پوری بات سن کر ) ابو عبداللہ نے کہا : اللہ اسے غارت کرے وہ پکا کافر ہے۔(بتاؤ فرقہ) جہمیہ کی تکفیر کیوں کی گئی ہے، سوائے اس بات کے (جو یہ کربیسی کہتا ہے) ۔(کہ اِس اِس جہت سے ) قرآن اللہ کا کلام ہے اور (اُس اُس جہت سے ) مخلوق بھی ہے۔ یہی (مغالطہ ہی ) ان کی تکفیر کا سبب بنا ہے۔ تاریخ الاسلام، للذھبی : 44

تاریخ الاسلام میں حافظ ذھبی لکھتے ہیں : امام احمد بن حنبل کے ساتھ مناظرے کے تیسرے روز مخالفین سلف میں سے ایک شخص کو امام احمد بن حنبل کے ساتھ مناظرے کے لئے بھیجا گیا ۔ امام احمد نے پوچھا کہ تم لوگ اللہ کے علم کی بابت کیا گمان رکھتے ہو ، اس نے کہا کہ اللہ کا علم مخلوق ہے، امام احمد فرماتے ہیں کہ میں نے یہ سن کر کہا کَفَرتَ تم کافر ہوئے۔حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا کہ یہ شخص امیرا لمومنین کے طرف سے آیا تھا۔ امام احمد یہ سن کر ذرا بھی خوف زدہ نہ ہوئے اور فرمایا : بلاشبہ یہ شخص کافر ہوا۔
لسان المیزان میں ابن حجر العسقلانی ابن عربی کی سوانح کے بیان میں لکھتے ہیں: حافظ سراج الدین بلقینی سے ابن عربی کے متعلق میں نے پوچھا تو انہوں نے ذرا بھی تامل نہ فرمایا اور ترت جواب دیا: وہ پکا کافر ہے۔
ابو نصر بن سلام الفقیہ فرماتے تھے کہ اہل الحاد پر حدیث رسول سے زیادہ اور کوئی چیز بھاری نہیں ہوتی ۔ حدیث سے انہیں شدید نفرت ہے ۔ ایک مرتبہ شیخ ابوبکر الفقیہ کا کسی ملحد سے مناظرہ تھا ۔ شیخ نے کلام رسول سے آغاز کرتے ہوئے جب سند بیان کی اور کہا کہ حدثنا....تو مخالف نے کہا کہ شیخ صاحب اس بات کو رہنے دیں کہ کس راوی نے کب آپ سے کہاں روایت کی۔ ابوبکر الفقیہ نے یہ سن کر کہا ، کافر کہیں کے دفع ہو جا یہاں سے!خبردار جو کبھی میرے گھر کا رخ بھی کیا!(عقیدہ الفرقہ الناجیہ)

ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ سے مجموع الفتاوی میں مذکور ہے کہ ان سے ابن عربی ، ابن سبعین اور القونوی کے متعلق پوچھا گیا تو ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے مذہب کو باطل قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ابن سبعین اور القونوی کے ہاں فلاں انحراف زیادہ پایا جاتا ہے اور ابن عربی کے ہاں فلاں انحراف زیادہ ہے جس کی وجہ سے ابن عربی نسبتاً اسلام کے زیادہ قریب ہے اگرچہ سب ہی فرقہ جہمیہ میں شمار ہوتے ہیں۔ان میں سے زندقے میں سب سے بڑھ کر تلمسانی پڑا ہے جس کی وجہ سے وہ اللہ ، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور اس کی شریعت میں ان سب سے بڑھ کر کافر واقع ہواہے۔

مجموعۃ الرسائل و المسائل میں ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

کمال الدین سے روایت ہے کہ وہ عباس شاذلی کے ساتھ شریک محفل تھے ۔ گفتگو کے دوران میں اس گروہ کا تذکرہ ہو ا جو ابن عربی وغیرہ کا گروہ کہلاتا تھا اور جو اللہ کے ساتھ اتحاد کا گمراہ کن نظریہ رکھتے تھے ۔ جب تلمسانی کا تذکرہ ہوا تو عباس شاذلی نے فرمایا : یہ تمام لوگ کافر ہیں ۔ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ الصَّنعَۃ ھِی الصَّانِع یعنی مخلوق ہی خالق ہے۔ (لفظی ترجمے کو چھو ڑ کر جدید جاہلیت کی زبان میں یہ بھی کہ سکتے ہیں:نیچر خود ہی اپنی خالق ہے)

اسی کتاب میں ایک اور مقام پر ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :

ان لوگوں کے دلائل ویسے ہی ہیں جیسے فرعون کے تھے، فرق یہ ہے کہ فرعون اللہ کا اقرار ہی نہیں کرتا تھا جبکہ یہ اللہ کا اقرار کرتے ہیں مگر جو توجیہ یہ اللہ کے وجود کی بیان کرتے ہیں وہ وہی ہے جو فرعون کی تھی ۔ جہالت اور گمراہی میں یہ فرعون سے بڑھ کر ہیں اگرچہ فرعون کفر میں ان سے بڑھ کر ہے ۔ دراصل فرعون کے کفر کی نوعیت کفر استکبار (گھمنڈ کی وجہ سے کفر) والی تھی جس میں آخری درجے کا عناد پایا جاتا ہے ۔ وہ آگے لکھتے ہیں کہ کتاب ”الفصوص“ کے لکھنے والے نے (مراد ہے ابن عربی)اسلام کی تین اہم ترین بنیادوں کو مسمار کیا ہے یعنی : اللہ کے ساتھ ایمان ، اس کے رسولوں کے ساتھ ایمان اور آخرت کے دن پر ایمان ۔

مَصرَعُ التَّصَوُّف میں مذکور ہے کہ امام نورالدین علی بن یعقوب البکری ، ابن عربی، ابن سبعین اور تلمسانی اور ان جیسے دوسرے ملحدین کی بابت فرماتے ہیں کہ ان اصحاب کے اقوال کی واضح دلالت ایسی ہے کہ ان کے لئے کسی قسم کی تاویل اور عذر تلاش کرنا بھی درست نہیں ۔ یہ لوگ کاذب ، فاجر اور کافر ہیں، اپنے اقوال کے لحاظ سے بھی اور اپنے اعتقاد کے لحاظ سے بھی، ظاہر میں بھی کافر ہیں اور باطن میں بھی کافر ہیں ۔ وہ خواہ اپنے اقوال کی کوئی سی بھی تاویل کرتے ہوں یا اپنے اقوال کے ظاہر ی مفہوم کی بجائے کسی مخفی مفہوم کے قائل ہوں تب بھی ان اقوال کے سبب وہ پکے کافر ہیں ۔ اپنی جہالت میں ٹامک ٹوائیاں مارنے والے ہیں ۔ جو الفاظ وہ کہہ چکے ہیں اس کے بعد ان کے لئے عذرات کی گجائش نہیں رہتی ہے ۔ سوائے ایسے شخص کے کہ جو بلید قسم کا جاہل ہو ۔

مفید المستفید میں محمد بن عبدالوہا ب، ابن تیمیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں :

ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ابن الخضیر ی نے اپنے والد شیخ الخضیری جو احناف کے بڑے اماموں میں سے ہیں سے روایت کی ہے کہ شہر بخاریٰ کے فقہاءابن سینا کے متعلق کہتے ہیں کہ کافر تھا مگر بلا کا ذہین تھا ۔اس پر محمد بن عبدالوہاب یہ اضافہ کرتے ہیں کہ بخاریٰ کے تمام فقہاءنے متعین طور پر ابن سیناء کی تکفیر کی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے دین میں متعین طو ر پر تکفیر کرنا روا ہے۔

اصول الااعتقاد میں امام لالکائی طبری لکھتے ہیں کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں حفص الفرد نے کہا کہ قرآن مخلوق ہے ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے بلا ترد دفرمایا : کَفَرتَ باللّٰہ العظیم تو نے اللہ عظیم کے ساتھ کفر کیا (یاتوکافرہوگیاہے،قسم ہے اللہ عظیم ترکی)۔

ابو بطین نے امام شافعی  رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول کے بارے میں فرمایا ہے کہ سلف صالحین بعض ان باتوں پر بھی تکفیر (متعین ) کردیا کرتے تھے جو تمہارے نزدیک زیادہ اہمیت نہیں رکھتی ہیں۔ اب ہمارے زمانے میں نوبت یہاں تک آئی ہے کہ خواہ شرک کرلیا جائے یا غیراللہ کی عباد ت، لوگ اسے بھی کفر نہیں کہتے۔ (مجموعۃ الرسائل النجدیۃ)

سلف صالحین کے طریقہ پر چلنے والے اصحاب خیر کا یہ منہاج ہے کہ وہ ضرورت کے وقت متعین شخص کی تکفیر سے پس وپیش نہیں کرتے ۔ فتنہ بڑھتا رہے ، حق کو باطل بنا کر پیش کیا جاتارہے ، عامۃ المسلمین کو گمراہ کیا جائے اور علماءخاموش رہیں ۔ دین میں اس سے بڑھ کر مداہنت کوئی نہیں ۔ موجودہ دور میں علماء برصغیر نے قادیانیوں کی مجموعی طورپرتکفیر کی ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کی متعین طور پر تکفیر کی ہے ۔سعودی عرب کا دارالافتاء’اللجنۃ الدائمۃ‘عالم اسلام میں ایک ممتاز مقام کا حامل ہے ۔ اس دارالافتاءسے متعدد فتاویٰ شائع ہوئے ہیں جن میں علاوہ قادیانیوں کے متعین طور پر اشخاص کی تکفیر کی گئی ہے ۔ احمد تیجانی اور اس کے پیر کاروں کے متعلق دارالافتاءنے صراحت کی ہے کہ : تیجانی اور اس کے پیر وکار غلو پسندی اور کفر میں دوسرے لوگوں کی نسبت حد سے زیادہ بڑھے ہوئے ہیں۔

اسی طرح دارالافتاءنے احباش گروہ کی بھی تکفیر کی ہے۔ اس گروہ کی بنیاد رکھنے والاعبداللہ حبشی ھرری ہے ۔ دارالافتاءنے انبیاءاور صالحین کی بابت ان کے مبنی بر غلو عقیدے اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور خلفاءراشدین کو سب وشتم کرنے کی وجہ سے کافر کہا ہے۔

دارالافتاءسعودی عرب کے مفتی عام ،عبداللہ بن باز رحمۃ اللہ علیہ نے روگر گیروڈی(5) کی متعین طور پر تکفیر کی تھی۔

محمد بن عبدالوہاب ابن سحیم کی بابت لکھتے ہیں : اگر لوگوں کو اس شخص( ابن سحیم) کے عقائد کی بابت پورا پتا چل جائے تو وہ اسے قتل کرنے سے نہیں چوکیں گے ، تمام اہل علم ابن سحیم اور اس جیسے دوسرے افراد کے بارے میں یہی رائے رکھتے ہیں۔

 

(1) بدعت سے مراد ہے بدعت مکفرہ

(2) اللہ علی عرشہ

(3) محدود علی محدود

(4) امام مروزی کا مقصود یہ جانتا تھا کہ اس پیچیدہ صورت میں بھی کربیسی کی تکفیر کی جاسکتی ہے یا نہیں ۔

(5) فرانس کے روجیہ جارودی (Roger Garaudi)نے عیسائی مذہب کوترک کرکے بلاجبرواکراہ اسلام قبول کرلیاہے، مگر انکے بعض پرانے اعتقادات سے عدم دستبرداری کے باعث شیخ ابن باز کے ہاں سے ان کی تکفیر کا فتویٰ صادر ہوا تھا۔لیکن بعد ازاں علماءنے جارودی کی تکفیر پر اصرار نہیں کیا، بلکہ کئی ایک نے جارودی کے صیہونی دباؤ کے سامنے نہ جھکنے اور عدالت میں اپنے دلیرانہ مواقف ڈٹ جانے کو سراہا بھی ہے۔ البتہ علماءکا فتویٰ ہے کہ مصنف کی تالیفات عام مسلمان پڑھنے سے احتراز ہی کریں سوائے ان شخصیات کے جو اسلامی عقیدہ میں پختہ علم کے حامل ہیں۔