سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ اکتوبر 2008

Download in PDF format

منہج اہل سنت

وحیِ معصوم اور عقل سلیم کا نقطہء اتصال

تالیف: شیخ محمد بن حسین الجزانی

اردو استفادہ: عائشہ جاوید

دین ِ مبین کے جملہ امور ومسائل کے تعین کیلئے مسلمان بنیادی طور پر انہی مصادرِ موثوقہ کی طرف رجوع کرتے ہیں جنہیں اسلامی نقطہ ءنگاہ سے معتبر ہونے کا درجہ حاصل ہے بالفاظِ مختصر اس تعین کی بنیاد میں کلی حیثیت وحی الہی کو حاصل ہے تفصیل اس اجمال کی یہ کہ:

اولاً وہ معاملات کہ جن کے لیے انسانی عقل اپنے محدود علم کی بنا پر کوئی توجیہ پیش کرنے سے قاصر ہے وہ امور جن کی بابت ہمارا عقیدہ ایمان بالغیب کا متقاضی ہے وہ حقائق کہ جن کی تصدیق کیلئے یہی دلیل کافی ہو جاتی ہے کہ انکا ذکر کتاب اللہ میں کیا گیا یا صادق الامین نے انکے بارے میں اللہ کے اذن سے بیان فرما دیا بعض مسائل کی نوعیت کچھ ایسی ہوتی ہے کہ ہمارا محدود علم انکے بارے میں ہمیں کوئی وضاحت پیش کرنے سے عاری ہوتا ہے یہاں ہم بذریعہء وحی دیے جانے والے علم پر سمعنا و اطعنا کہنے کے پابند ہیں

اب موضوع خواہ ملائکہ کاہو یا رب العزت کا عرش۔۔۔غیبی امور ہوں یا دین ِ حق سے متعلق مفصل احکام اوامر و نواہی کا علم ہو یا جملہ عبادت کی ادائیگی ۔۔۔ہمارا معیار انبیاءعلیہم الصلوۃ والسلام کی فراہم کردہ رہنمائی ہو گااور ہمارا ایمان ہے کہ بلاشبہ وہ اپنے پاس سے بات نہیں گھڑتے بلکہ وہی کچھ کہتے ہیں جو انکے رب کیجانب سے ان پر القا کیا جاتا ہے

شریعت ِ اسلامی کے شفاف چشمے اللہ کی کتاب اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بارہا اولوالالباب کو غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے بے شک وہ خوش نصیب جو اپنی نفسانی خواہشات کو ایک طرف رکھ کر کھلے دل و دماغ کیساتھ ہدایت کی سچی تڑپ رکھتے ہوئے ان مصادر سے مستفید ہونا چاہیں تو وہ خود کو ایک ایسی دنیا میں پاتے ہیں جہاں وحی اور عقل میں ایک منفردربط پایا جاتا ہے حق، باطل سے اور ضلالت وگمراہی، ہدایت سے ممتاز نظر آنے لگتے ہیں دل کی دنیا سے اندھیرے چھٹتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں حق کی ضوفشاں کرنیں دل کی اتھاہ گہرائیوں میں جا بستی ہیں لہذا امر ِ لازم ہے کہ شریعت ِ اسلامی کی بابت تمام بحثوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھا جائے

یہ دیکھنے میں آیاہے کہ عوام الناس کی ایک بڑی تعداد ’وحی‘ اور ’عقلی دلیل‘ کے بارے میں ابہام کا شکار ہے ہر کہہ و مہہ کی رائے کو ’عقلی دلیل‘ کے نام سے منسوب کر دیا جاتا ہے یہ دیکھے بنا کہ آیا متعلقہ فرد شریعت کے بارے میں کو ئی رائے دینے کا اہل ہے بھی یا نہیں ! ایسے شخص کی رائے کو کسی ضعیف حدیث سے تشبیہ دینا بھی شاید انصاف کا تقاضہ نہ ہو! چنانچہ یہ طے پایا کہ جس طرح شرعی نصوص کا صحیح تعین ضروری ہے بعینہ امور ِ دین کی بابت کسی رائے کو’عقلی دلیل‘ کا نام دینے کیلئے بھی کچھ اصول وضوابط کا التزام ناگزیر ہے !

ثانیاً وہ معاملات ہیں جن کے متعلق شریعت خود تصدیق کیلئے عقلی دلائل کا جواز فراہم کرتی ہے ان میں سر فہرست عقیدہء توحیدغیر اللہ کی بندگی سے انکارشرک کی نفی اور عقیدہء رسالت یعنی بنی نوع انسان کی ہدایت کیلئے خود ان میں سے پیامبروں کو مبعوث کرنے کی حکمت کا بیان ۔۔۔یہ امور ایسے ہیں کہ ان میں انسانی عقل نصوص کی تائید کرتی نظر آتی ہے اور حقیقت تو بلاریب یہی ہے کہ وحی اور عقل سلیم کبھی بھی باہم متصادم نہیں ہو سکتے اگر بنظر ِ انصاف جائزہ لیا جائے تو! یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی قرآن ِ کریم میں بیشتر مقامات پر مدلل انداز میں حقائق کھول کھول کر بیان کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین نے ہمیشہ فکری زاویوں کو فرقانِ حمید کی آیات بینات کے تابع رکھا اور اس سے متصادم ہر معاملہ کو اپنی کوتاہ فہمی سے منسوب کیا! لاتعداد آیات ایسی ہیں جو فکر کی دعوت دیتی ہیں خواہ توحید کا معاملہ ہو یا رسالت و نبوت کا

”ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا ہے “ (30:58)

”یہ تو ہے اللہ کی تخلیق، اب ذرا مجھے دکھاؤ، ان دوسروں نے کیا پیدا کیا ہے ؟“ (31:11)

”اور کہو اگر اللہ کی مشیت یہی ہوتی تو میں یہ قرآن تمہیں کبھی نہ سناتا اور اللہ تمہیں اسکی خبر تک نہ دیتا ،آخر اس سے پہلے ایک عمر میں تمہارے درمیان گزار چکا ہوں تو کیا تم عقل سے کا م نہیں لیتے؟“(10:16)

ثالثاً وہ معاملات ہیں کہ جو نہ صرف نصوص میں بیان کیے گئے ہیں بلکہ مشا ہدہ ارض و سماوات سے بھی ثابت شدہ ہیں، یہاں وحی و دلیل دونوں کی روشنی میں پرکھا جاتا ہے علوم ِ طب، سائنسی علوم،تجارتی امور وغیرہ

مذکورہ با لا معاملات کو دیکھا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ کسی بھی شرعی معاملہ کے ’شرعی‘ ہو نے کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ ہرزمان ومکان پر لاگو ہوتا ہوعقلی دلائل کا ’محتاج‘ نہ ہو کہ اللہ کا وضع کردہ قانون سب سے مقدم ہے اسکی شرعی دلیل کا مصدر نصوص ہوں یا نصوص سے مطابقت رکھتی ہوئی معروف علماء کی پیش کردہ عقلی دلیل۔۔۔یہ خیال رہے کہ شرعی دلیل خود ساختہ غیر شرعی دلیل سے تو متصادم ہو سکتی ہے مگر نصوص سے اخذ کردہ عقلی وقیاسی دلیل سے نہیں!

اہل السنت و الجماعتہ کے جمہور علماءجہاں عقل اور دلائل کا خیر مقدم کرتے ہیں وہاں وہ اس حوالے سے حدود و قیود کا محتاط التزام کرتے نظر آتے ہیں ایک معتدل رویہ اپناتے ہوئے انکا اس بات پر اتفاق ہے کہ وحی اورعقلی دلائل دونوں کوفہم ِ دین کی ضرورت ہے وحی عقل کی ’محتاج‘ نہیں البتہ عقل اسکو سمجھنے کا ایک ’ذریعہ‘ یقینا ہے یہ حقیقت شریعت کے عین مطابق ہے کہ شرعی احتساب کے معاملات میں عقل کا سلامت ہونا بنیادی شرائط میں سے ہے اور قرآن فہمی کیلئے بھی غور و فکر ناگزیر ہے !

”تو کیا ان لوگوں نے کبھی اس کلام پر غور نہیں کیا؟“ (23:68)

”کیا یہ لوگ قرآن پر غورنہیں کرتے ؟ “ (4:82)

”کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا“ (47:24)

اسکے ساتھ ہی وہ یہ موقف بیان کرتے ہیں کہ جیسے سماعت، بصارت انسانی حسیات ہیں اسی طرح عقل بھی اللہ کی ودیعت کردہ حس ہے جیسے بصارت روشنی کے منعکس ہونے کی محتاج ہے ویسے ہی عقل وحی کی محتاج ہے کیونکہ کچھ معاملات بالخصوص ایمانیات میں وحی کا سہارا لیے بغیر آپ سچائی کا ادراک نہیں کر سکتے !!!

اللہ تعالی ہمیں دین کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ ویسے جیسا کہ اسکو سمجھنے کا حق ہے
و صلی اللہ تعالی علی النبی