سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ اکتوبر 2008

Download in PDF format



الفقہ الارتیادی

 مستقبل میں پیداہونے والے مسائل کے حل کی شریعت میں اہمیت

ڈاکٹر ہانی بن عبداللہ الجبیر

اردو استفادہ:محمد زکریا

یہ بات ہم سب پر ہی واضح ہے کہ ہم ایک تغیرپزیر دنیا میں رہ رہے ہیں ۔آئے روز سائنسی اور عمرانی دنیا میں کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہو رہا ہے۔صنعت سازی میں نئی مشینری کا ظہورہوتا ہے اور اس کے ساتھ ہی پرانی مشینری ازکاررفتہ ہوجاتی ہے۔طب کے شعبے میں نئے نئے طریقے متعارف ہو رہے ہیں تو عمرانی علوم میں بھی نئے فلسفے،نئی اپج اورنیا نظریہ دیکھتے ہی دیکھتے رواج پا جاتا ہے۔ان سب ہی ایجادات اور تصورات کا اسلام سے براہ راست یا بالواسطہ تعلق قائم ہونا ایک ناگزیر بات ہے کیونکہ اسلام زندگی کے ہر معاملے میں تفصیلی یا اصولی راہنمائی ضرور کرتا ہے۔علمائے اسلام کے لیے یہ بدلتی دنیا ایک زبردست چیلنج کی صورت اختیار کر چکی ہے۔اکثر ایسے ہوتا ہے کہ اہل علم کسی نئے قضیے کے حل کے لیے سرجوڑ کر بیٹھے ہوتے ہیں ،مختلف پیش کی جانے والی آراءپر کتاب وسنت کی روشنی میں ابھی غور و فکر ہو رہا ہوتا ہے کہ ایک اور قضیہ سراٹھا لیتا ہے۔دونوں ہی قضیے بے حد اہم، نازک اور فوری حل چاہتے ہیں ، اور سبھی قضیے ایسے ہیں ۔یہ کام کچھ ایسا آسان نہیں کہ اہل علم کے چھوڑے ہوئے سابقہ نظائر کو سامنے رکھ کر نئے پیش آنے والے قضایا کو ان پر قیاس کرکے کوئی حل نکال لیا جائے۔گزشتہ صدیوں میں ایسے ہی ہوتا تھا اور بہت زیادہ صلاحتیوں کے کھپانے کی اس لیے ضرورت نہ پڑتی تھی کہ اس وقت ایک سادہ دنیا ہوا کرتی تھی۔گزرے ہوئے لوگوں کی دنیا سے وہ دنیا پوری طرح ہم آہنگ تھی،مگر صنعتی انقلاب کے بعد ہم ایک نہایت پچیدہ دنیا کے باسی بنے ہیں ۔اس دنیا کو اسلام سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کٹھن کام کرنااب علماءکی ذمہ داری ہے۔اہل علم کے چھوڑے ہوئے علم کوبھی سامنے رکھنا ہے لیکن ایسے قضایا بھی لا تعداد ہیں جن پر نئے انداز سے کام ہونا ہے اور ایک نئی فقہ مرتب ہونا ہے جس کے لیے سلف صالحین کے اصولوں پر نئے اجتہادات ہونا ہیں ۔سلف صالحین اس بات کو نا پسند کرتے تھے کہ مسلمان کسی مسئلے کاعند الطلب حل پیش کرنے سے قاصر ہوں ۔ بر جستہ اور بر محل جواب دینا جہاں اہل علم نے پسند کیا ہے وہاں عرب کے حکماءعہد جہالت میں ایسے شخص کا مذاق اڑاتے تھے جسے ایک اچھا جواب سوجھ تو جائے مگر ذرا تاخیر سے!جب لوگ جواب سننے کے لیے اس کا منہ دیکھتے رہیں اوردیکھتے ہی رہیں !عربی زبان کے ضرب المثال میں کہتے ہیں :شر الرائی الدَّبریّ کہ سب سے بری صائب رائے وہ ہے جو وقت گزرنے کے بعد سوجھے!اہل علم اس بات سے سختی سے منع کرتے تھے کہ کسی بات پر اظہار خیال سے پہلے اس پر مکمل غور و فکر نہ کیا جائے اورچھوٹتے ہی اپنی رائے پیش کر دی جائے نیز وہ اس بات سے بھی خدا کی پناہ مانگتے تھے کہ کوئی اچھا جواب وقت گزرنے کے بعد سوجھے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے” سقیفہ بنی ساعدہ“(اس مجلس میں خلیفہ کی نامزدگی متوقع تھی) کی مجلس میں شرکت سے ایک دن پہلے اپنے ذہن میں ان باتوں پر کافی غور و فکر کر لیا تھا جووہ وہاں پیش کرناچاہتے تھے۔

اس اتفاق کے بعد کہ ہم واقعتاایک نئی دنیا میں جی رہے ہیں اوریہاں ہمیں ہرروزایک نئے قضیے سے واسطہ پڑتا ہے۔یہ ایک ایسا سنجیدہ مسئلہ ہے کہ پوری امت کو مل کر بدلتے مسائل کا بروقت اورعصری تقاضوں کے مطابق حل ڈھونڈنے کے لیے ایک ہمہ گیرلائحہ عمل مرتب کرناچاہیے۔اگلی سطور میں ہم انہیں خطوط پرایک نقشہ پیش کریں گے جواگرچہ حتمی نہیں کہا جاسکتا، مگرمحنت سے مرتب کیا گیا ہے۔مستقبل میں پیش آنے والے مسائل کا پہلے ہی سے حل ڈھونڈ رکھنا اصطلاح میں ”فقہ ارتیادی“کہلاتا ہے۔علم فقہ سے ہمارے اکثرقاری واقف ہیں یعنی شرعی علوم کا وہ ملکہ جس میں عملی مسائل کاحل تلاش کیا جاتاہے جبکہ اصطلاح میں ”فتویٰ“شرعی حکم کو اس طرح پیش کرنے کانام ہے جس پر(جبری یا قانونی)پابندی نہیں کرائی جاتی۔مذکورہ بالا اصطلاح میں ایک لفظ ’ارتیادی‘استعمال ہوا ہے جس سے لغوی طورپرمراد ہے: تلاش اورجستجو۔اس کا اصل مادہ ہے:راء، واؤ اوردال،اس کا اسم فاعل ہے’رائد‘۔بستی،قافلے یاقبیلے کے ایسے ہوشیارشخص کورائد کہتے ہیں جواپنے ساتھیوں کے لیے نہایت اہم کام سرانجام دیتا ہے۔رائد ساتھیوں کے لیے چارہ اورپانی (وہ جگہیں جہاں بارش کا پانی ٹھرجاتاہو) تاش کرتاہے۔

فقہ ارتیادی اوراس کے متعلقات میں مستعمل الفاظ کی تشریح کے بعد ہم فقہ ارتیادی کی تعریف ان الفاظ میں کرسکتے ہیں اورمیرے علم کے مطابق یہ تعریف پہلے کسی نے نہیں کی۔فقہ ارتیادی شرعی احکام معلوم کرنے کا علم ہے جس میں مستقبل میں پیش آنے والے مسائل کا پہلے سے حل پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

بسااوقات اہل علم مستقبل میں پیش آنے والے مسائل کے لیے پہلے سے فتاویٰ بھی صادر کردیتے ہیں ۔اس بات پراہل علم کی متعدد آراء ہیں کہ آیا کسی قضیے کے وقوع پزیر ہونے سے پہلے اسے فرض کرکے اس کی بابت فتویٰ دیا جاسکتا ہے یا نہیں ۔جمہور علماء کے نزدیک یہ ناپسندیدہ فعل ہے۔دارمی،جامع علوم اوراعلام الموقعین میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک قول بیان ہواہے کہ’میں ہر مسلمان کو خدا کا واسطہ دے کر تنبیہ کرتا ہوں جواُن امور کی بابت سوال کرتا ہواپایاگیا جو روپزیر ہی نہ ہوئے ہوں ، بلاشبہہ اللہ تعالیٰ نے وہ تمام باتیں بیان کردی ہیں جوپیش آنے والی ہیں ‘۔اسی طرح سِیَراعلام النُبلاء میں حضرت مسروق بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے کسی مسئلہ کی بابت سوال پوچھا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا یہ مسئلہ پیش آچکا ہے،میں نے کہا نہیں ،فرمایا: غیر وقوع پزیر باتیں نہ پوچھ کرہمیں راحت پہنچاؤ،اورجب وہ روپزیرہوں گی توہم اس وقت اپنے ذہن کوکھپالیں گے۔امام شعبی بیان کرتے ہیں کہ صحابی رسول عماربن یاسرسے کوئی مسئلہ پوچھا گیا تو انہوں نے سائل سے پوچھا کہ بھلے مانس،ایساہوا بھی ہے؟ سائل نے کہا،نہیں ۔فرمایا:بھائی ابھی ہمیں رہنے دو،جب ایساہوگا تواس وقت ہمیں دیکھناہم اس مسئلے کی کیسی خبرلیتے ہیں !(دارمی)اسی طرح طبقات کبریٰ اورسیراعلام النبلاء میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا معمول بیان کیا جاتاہے کہ جب آپ سے کوئی مسئلہ پوچھا جاتا توآپ سب سے پہلے یہ پوچھتے کہ کیا واقعتا ایسا معاملہ پیش آگی اہے؟ اگرسائل کہتاکہ جی ہاں توکلام فرماتے ورنہ خاموشی اختیارکرتے۔بعض اہل علم سورت مائدہ کی آیت 101 کوبھی اس کے حق میں پیش کرتے ہیں کہ: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَسْأَلُواْ عَنْ أَشْيَاء إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِن تَسْأَلُواْ عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللّهُ عَنْهَا وَاللّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ”اے لوگوجوایمان لائے ہو،ایسی باتیں نہ پوچھ اکروجوتم  پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں ،لیکن اگرتم انہیں ایسے وقت میں پوچھوگے جب قران نازل ہورہاہوتووہ تم پرکھول دی جائیں گی۔اب تک جو کچھ تم نے کیا اسے اللہ نے معاف کردیا،وہ درگزرکرنے وال ابردبارہے“۔اسی طرح ابوھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:جب تک میں تمہیں (ذمہ داریوں کے اٹھانے سے ) چھوڑے رکھوں تم بھی مجھے چھوڑے رکھو، بات یہ ہے کہ تم سے پہلے والے لوگوں نے کثرت سے سوال ک رکر کے اپنے آپ کومشکل میں ڈال دیاتھااوردوسراوہ اپنے انبیاء (کی بتلائی گئی واضح باتوں میں بھی)اختلاف کیاکرتے تھے۔(بخاری ومسلم)

دوسری طرف اہل علم کا ایک طبقہ ایسے امور کے بارے میں فتویٰ دینے کو مستحب سمجھتا ہے جو ابھی رونما نہیں ہوئے۔امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے اعلام الموقین میں اس مسئلے کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔جومسائل ابھی پیش نہیں آئے ان کی بابت جمہورائمہ کی عام رائے کوبیان کرنے کے بعدابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:” یہ مسئلہ اصل میں سہ جہت پرمشتمل ہے،حاصل کلام یہ ہے کہ:جس مسئلہ سے متعلق(عمومی قاعدہ) نص موجودہواس کوسامنے رکھ کرمستقبل کے لیے فتویٰ دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔نص سے ہماری مرادہے کتاب وسنت میں کوئی دلیل ہویاصحابی کا کوئی قول۔اگرکسی مسئلہ میں نہ کتاب و سنت میں کوئی دلیل ہواورنہ صحابی کاقول ملتا ہوتویہاں بھی معاملہ تفصیل طلب ہے۔اگرمعاملہ ایساہے کہ اس کا مستقبل میں وقوع پزیر ہونا بعیدازقیاس ہے یااس طرح کامسئلہ عموماً روپزیرنہیں ہوتاتواس صورت میں فتویٰ دینا مستحب نہیں ہے۔اگرمعاملہ ایساہو کہ کثیرالوقوع بھی نہ ہواورنا ممکن الوقوع بھی نہ ہواورسائل کی اس سے غرض یہ ہو کہ وہ متعلقہ مسئلے کے تمام وقوع پزیرپہلوؤں کااحاطہ کرنا چاہتا ہواوراس بات سے بچنا چاہتا ہو کہ عندالطلب اس سے جواب نہ بن پائے تواس طرح کی علمی خدمت ناپسندیدہ نہیں ہے جبکہ مفتی کو معلوم ہو کہ سائل محض قیل وقال کے لیے مسائل کوالجھا نہیں رہا بلکہ فی الواقع وہ پیش آنے والے عمومی مسائل کاعلم حاصل کرنا چاہتا ہے توایسا کرنا درست ہوگا کہ اس مسئلہ سے متفرع ہونے والے پہلوؤں کاحسب مصلحت جواب فراہم کردینا ایک صائب کام ہے۔واللہ اعلم بالصواب“۔اس کے بعد ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جہاں تک سورت مائدہ کی آیت101 سے مطلق طور پرممانعت کی دلیل لینے کا تعلق ہے توآیت مبارکہ میں ان احکام کی بابت شرعی حکم طلب کرنے سے منع کیاگیا ہے جن کی شریعت خود ہی پابندی نہیں کرانا چاہتی۔آیت مبارکہ کی جوتوجیہ ہم نے بیان کی ہے اس کی تائید نبی علیہ السلام کے اس فرمان سے بھی ہوتی ہے جسے دارقطنی اور بیہقی نے روایت کیاہے کہ آپ فرماتے ہیں :(ہمارے اس دین میں کچھ امورازقسم)فرائض سے تعلق رکھتے ہیں ان فرائض کو(ہرگز)فراموش نہ کرنا۔اسی طرح کچھ اللہ کی ’حدود‘ہیں ان حدوں کوکبھی نہ پھلانگنا۔ کچھ امور ایسے ہیں کہ خدانے انہیں حرام کردیاہے،(حرام کردہ ) ان امور کے پاس بھی نہ پھٹکنا۔ بہت سی اور باتیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کی وجہ سے نہ کہ نسیان کی وجہ سے خاموشی اختیارکی ہے،ان باتوں کا کھوج مت لگاتے پھرنا۔(کہ اگر اللہ اس امر میں کوئی حکم دیتا تو یہ حکم دیتا یا یہ حکم دیتا) اس مشقت طلبی کی طرف آیت کے الفاظ بھی اشارہ کرتے ہیں :إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ (کہ اگروہ ظاہرکردی جائیں توتمہیں دکھ پہنچائیں )

اسی طرح امام ابن رجب رحمۃ اللہ علیہ  جب ان آثار کو نقل کرتے ہیں جن میں پیش آمدہ مسائل سے تعارض نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے وہاں انہوں نے یہ تنبیہ کرنا بھی ضروری سمجھا کہ یہ ممانعت چندخاص امورمیں ہے مثال کے طورپر ایسے سوالات جورنج والم میں مبتلا کرنے والے ہوں جیسے کوئی شخص (آپسے) یہ پوچھے کہ وہ جنتی ہے یا دوزخی۔ یاایسے امورجن سے مشقت میں پڑنالازمی آتا ہویا جن باتوں کا علم اللہ تعالیٰ مخفی رکھنا چاہتاہے ان کے اخفاء کوظاہرکرنے کامطالبہ ہوجیسے قیامت کے وقوع پزیرہونے کی حتمی ساعت کے جاننے کا شوق ہو۔ اس کے بعد ابن رجب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اب تک ہم نے جن امورکا تذکرہ کیا ہے ان کا تعلق آپ کی حیات طیبہ سے بنتا ہے۔اب ہمارے زمانے میں ایسے سوالات کرنا ممنوع ہوگا جن سے شرعی احکام پرمشقت بنتے ہوں ۔ اللہ کی مخلوق سے مطلوب یہ ہے کہ وہ اپنی توانیائیوں کواللہ کے اوامر پر چلنے میں اور نواہی سے بچنے میں صرف کریں اور انہیں معانی تک اپنے آپ کومحدود رکھیں جو شرعی احکام سے نکلتے ہوں ،اس کو چھوڑکراپنی توانائی ایسے فرضی مسائل سوچ سوچ کر ضائع کرنا جوکبھی وقوع پزیر ہوتے ہیں اورکبھی نہیں ، ایک درست رویہ نہیں ہے۔

سابقین میں سے خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے اس موضوع پر سیرحاصل بحث کی ہے اوران تمام نصوص کوجن میں فرضی مسائل کاجواب دینے سے منع کیاگیا ہے انہیں ایسے سوالات کے لیے مخصوص قراردیا ہے جن سے کسی مسئلہ میں شدت آتی ہو۔ دوسرا سبب وہ یہ قرار دیتے ہیں کہ سلف صالحین خداخوفی کی وجہ سے عام روزمرہ کے مسائل میں بھی فتویٰ دینے سے پس وپیش کرتے تھے جومسائل آئندہ روپزیرہونے والے تھے ان کی بابت ایسے حضرات کامحتاط ہونا ایک طبعی بات تھی۔ ہمارے خیال میں خطیب بغدادی نے یہ صحیح نتیجہ نکالا ہے اور ان کی اس موضوع پر تالیف بھی اپنی مثال آپ ہے۔اس کے بعد خطیب بغدادی نبی علیہ السلام کے زمانے سے لے کرسلف صالحین کے درخشہ دورتک بے شمار مثالیں ایسی لائے ہیں جن کاتعلق مستقبل میں رونماہونے والے مسائل سے بنتاہے۔ ان میں سے بعض اہم مثالوں کا تذکرہ ملاحظہ فرمائیں :صحیح بخاری میں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے آپسے ایک مرتبہ پوچھا کہ کبھی ایساہوتاہے کہ ہماری اگلے روزدشمن سے مڈبھیڑ ہونے کاامکان ہے (اورسامان حرب میں جانوروں کوخوراک کے لیے ذبح کرنے کے لیے مناسب) چھریاں نہیں ہیں ،ایسی صورت کبھی پیش آجائے تو کیا ہم(تیز دھار)بانس سے جانور ذبح کرلیا کریں ؟ آپنے فرمایا:(کچھ مضائقہ نہیں ) ہر وہ آلہ جس سے خون(حلقوم سے)فوارے کی طرح پھوٹ پڑے اور اس پر اللہ کانام لیا گیا ہوتووہ کھائے جانے کے لائق ہے،البتہ (جانوروں کے) ناخن اور (ان کے)دانتوں سے بنے ہوئے اوزاروں سے ذبح نہ کیاجائے۔

بیہقی میں سلمہ بن یزید سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کھڑے ہوکرآپسے پوچھا:اے اللہ کے رسول!اگرایساہوجاتاہے کہ ہمارے اوپرایسے حکمران مسلط ہوجاتے ہیں جو(عوام الناس سے) اپنی وصولیاں تو(دھڑلے)سے کرتے ہوں اوران کے حقوق ادانہ کرتے ہوں ،کی اہم ایسے حاکموں کے خلاف بغاوت کرنے میں حق بجانب ہوں گے؟ آپنے فرمایا (نہیں ) تم پر تمہاری ذمہ داریاں ہیں اوران پران کی ذمہ داریں ۔(اورسب ہی اپنی اپنی ذمہ داریوں کے لیے اللہ کے ہاں جواب دہ ہوں گے۔) حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ قرب قیامت میں پیش آنے والے فتنوں کی بابت بہت کچھ جاننے کی جستجو میں لگے رہتے تھے۔فرماتے ہیں کہ دجال اکبر کے ظاہرہونے پرشب و روز کے معمول میں فرق آجائے گااس لیے صحابہ کرام کو یہ فکرہوئی کہ اس وقت نماز پنجگانہ کی ادائیگی کی کیاصورت ہو گی۔ مصنف کہتے ہیں کہ ظاہ رہے صحابہ کو یہ فکرایک ایسے مسئلے کی بابت تھی جس کا وقوع قرب قیامت میں ہوناہے۔مزیدبراں مصنف لکھتے ہیں کہ مستقبل میں پیش آنے والے مسائل پرغورزخوض سے طلبہ (یازیرتربیت مفتی صاحبان میں ) ایک قسم کاملکہ پیداہوگا جس سے وہ بعدازاں پیش آنے والے مسائل کے حل پیش کرنے میں اپنے اندرایک اعتماد پیدا کرچکے ہوں گے۔مجموع الفتاویٰ میں ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ” بعض فقہاءکرام کے ہاں یہ بحث ملتی ہے کہ اگرعیداورسورج گرہن ایک ساتھ روپزیرہوجائیں تو(دونوں )نمازوں (نمازعیداورصلوٰۃکسوف) کی ادائیگی کی کیا صورت ہوگی۔فرماتے ہیں کہ ایسادن ان کی زندگی میں نہیں آیاتھا، بس ایک امکانی صورت کوسامنے رکھ کروہ مسئلے کا پہلے سے حل پیش کرنا چاہتے تھے اور دوسرا اس قسم کی مشق سے احکام نکالنے کا ملکہ بھی پیداہوتاہے جوبڑی لیاقت کی بات ہے۔یہ بات انہیں معلوم ہوتی تھی کہ ایسامسئلہ پیش آناتقریباًناممکن ہے“۔

ابن رجب رحمۃ اللہ علیہ اس سے بڑھ کرایک اوربات کرتے ہیں کہ حدیثوں کاتتبع کرنے والا اگرمسائل فرض کرکے ان کے حل پرغور و فکر کی عادت نہیں اپناتاتواغلب یہ ہے کہ اس میں تفقہ کی قابلیت ختم ہوجائے گی اورنصوص کے معانی اُس حد سے آگے نہیں بڑھیں گے جتنے نبی علیہ السلام کے وقت تک(اُس وقت کے لحاظ سے)معلوم کرلیے گئے تھے۔ایسے عالم پر نبی علیہ السلام کا یہ فرمان صادق آئے گا کہ کتنے ہی دانائی(نصوص)کویادرکھنے والے( بس اتناکرتے ہیں کہ) دانائی کی یہ بات اپنے سے بہترشخص کو پہنچا دیتے ہیں جواس میں سے احکام نکالتے ہی رہتے ہیں ۔وہ لکھتے ہیں کہ ایسی مشق کرنے والے ربانی علماءہوتے ہیں ۔جامع العلوم و الحکم میں ایک اورمقام پرابن رجب لکھتے ہیں :اہل الرائے کے(جلیل القدر)فقہاء کرام نے تو فرضی مسائل کے باب میں بہت بڑانام پیداکیاہے۔

اس کے بعدمصنف لکھتے ہیں کہ اس باب میں امام مزنی رحمۃ اللہ علیہ  کی بھی گرں قدرخدمات ہیں ۔امام مزنی فرماتے ہیں :کیاہرمسلمان کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ مسائل ضروریہ ازقسم طہارت،نماز، روزہ، زکوٰۃ اور فریضہ حج کے احکام پہلے سے معلوم کرلے۔اگرہمارے مخالفین(جو مستقبل میں پیش آنے والے مسائل کا پہلے سے حل تلاش کرنے کو ناجائزکہتے ہیں) کہیں کہ ہاں یہ پسندیدہ بات ہے کہ اس قسم کے مسائل پہلے ہی سے معلوم کرلیے جائیں توہم ان سے کہیں گے کہ اگردین کے بعض مسائل جو مستقبل میں پیش آسکتے ہیں ان کاجاننا توجائزہواوربعض دوسرے مسائل جو مستقبل میں پیش آسکتے ہوں ان کاجانناناجائزہو!(جامع العلوم و الحکم)

محترم قارئین اس وقت صورت حال یہ ہے کہ زمانے کے مطالبات کے ساتھ پورااترنے کے لیے( شریعت کی نصوص کوسامنے رکھ کر)علمی سطح پرکام کی رفتارنہایت سست ہے،مستقبل میں پیش آنے والے متوقع مسائل کاکوئی حل پہلے سے ڈھونڈرکھنے کاتوسوال ہی پیدانہیں ہوتابلکہ سچ پوچھیں توجومسائل ہم پرمسلط ہوجاتے ہیں ان کابھی کوئی شرعی حل جب تک ہم ڈھونڈپاتے ہیں اس وقت تک یاتو مسئلہ ناپید ہوچکا ہوتاہے اور ایک بالکل نئی صورت پیداہوچکی ہوتی ہے یا پھر مسئلہ اس قدر تبدیل ہوچکاہوتاہے کہ فتویٰ دیتے ہوئے جو جو نکات اہل علم کے پیش نظر رہے تھے ان میں سے کئی مکمل طور پر بدل چکے ہوتے ہیں اوراکثرایسے بھی ہوتا ہے کہ مسئلے کے تمام پہل وسرے سے نظرمیں ہی نہیں ہوتے اورجلد بازی میں دیاگیا فتویٰ متعلقین کومطمئین نہیں کرپاتا اورایک قسم کا عدم اعتماد اورمایوسی بھی پیداہوجاتی ہے۔ مسلط شدہ اورپیش آنے والے مسائل پرگہری نظرنہ ہونے کی وجہ سے بے شمارمسائل شرعی فتویٰ کے نہ ہونے کی وجہ سے معطل چلے آرہے ہیں ۔اس امت پرایک وقت ایسابھی گزراہے کہ بلا کے ذہین وفطین فقہاء کرام مسائل فرض کرکرکے پہلے سے ان کاحل ڈھونڈکرامت کوتھما دیتے تھے اوراب تعجب ہوتاہ ے کہ وہی امت مسلط شدہ مسائل کا حل ڈھونڈنے سے بھی قاصر ہے۔

مذکورہ بالا بحث کے بعداگرمیں یہ بات سمجھانے میں کام یاب ہو گیا ہوں کہ زمانے کے نت بدلتے مطالبات پرپورا اترنے اورمستقبل میں پیش آنے والے مسائل کا پہلے ہی سے حل ڈھونڈ رکھناایک نہایت اہمیت کاحامل مسئلہ ہے توہم اپنی بات کوآگے بڑھاناچاہیں گے۔اس کام کانقشہ کچھ اس طرح بنتاہے۔

الف)سائنس اور ٹیکنالوجی میں مستقبل میں جوترقی ہونے والی ہے اس کے اعدادوشمارمرتب کرلینا۔

یہ بات توطے ہے کہ سائنس اورٹیکنالوجی موجودہ معاشروں میں ریڑھ کی ہڈی جیسی اہمیت اختیارکرچکے ہیں ۔فردکی جسمانی صحت سے لے کرنفسیاتی مسائل تک اورگھرسے لے کر ملک کی سطح پرشعبہ طب اور ٹیکنالوجی پر انحصارایک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ان شعبوں میں ترقی ہونا ایک ناگزیرضرورت ہے۔ان شعبوں میں مستقبل میں کیاپیش رفت ہونے والی ہے،ماہرین سے اعدادوشمارمرتب کرائے جا سکتے ہیں ۔اسی اہمیت کے حامل چند دوسرے شعبے:سماجیات، اقتصادیات اور علم سیاسیات میں مستقبل میں جوتبدیلیں ہونے والی ہیں وہ بھی بے حداہمیت کی حامل ہیں جن سے صرف نظر کیے رکھناخطرناک نتائج کوسامنے لاسکتاہے۔

ب)معاشرے کی چال کوسمجھنااوراس کے لیے درست سمت میں راہنمائی کے لیے تیاری کررکھنا۔
’علوم اجتماع‘(علم معاشرہ) میں ایسے علمی طریقے وضع کرلیے گئے ہیں جن کی مددسے معاشرے میں تبدیلیں پیداکرنے والے عوامل کاسائنسی مطالعہ کیاجاتاہے۔ان عوامل موثرہ کوسمجھ لیاجائے تو معاشرے کو ایک صالح سمت میں لگانا اورمستقبل کے لیے ایک درست لائحہ عمل مرتب کرنے کا کام آسان ہو جاتاہے۔علماءکرام اگرعلم معاشرہ میں بھرپوردلچسپی لیتے ہیں اورچندہی سالوں میں وہ مستقبل کے لیے اسکیم دینے کی پوزیشن میں آجاتے ہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایسے علماءکرام نے فقہ ارتیادی میں خاطرخواہ کامیابی حاصل کرلی ہے۔

ج)مستقبل میں پیش آنے والے فقہی مسائل کی تیاری۔

آپ جانتے ہیں کہ قانون سازی میں فی زمانہ کئی طریقے متعارف ہو چکے ہیں (مثلاً پارلیمنٹ میں دوایوان کسی قانون کی منظوری کے لیے مسودے کا بہ غورمطالعہ کرتے ہیں ،مسودہ خودماہرین کی مددسے مرتب کیا جاتاہے جبکہ پارلیمنٹ میں ایک ایوان عوام کے فوائدکواہمیت دیتاہے یعنی قومی اسمبلی اوردوسراایوان قانون کے فنی پہلوؤں پرنظررکھتاہے یعنی سینٹ) فقہاءکرام کے لیے یہ بات حد درجے اہم ہے کہ وہ مستقبل میں پیش آنے والے مسائل کاقبل ازوقت ادراک کرنے اوران کاحل تلاش کرنے کے لیے جدید پیش رفت کو بھی سامنے رکھیں۔ جدید دورمیں قانونی اداروں کے طریقہ کارکو بھی ملحوظ خاطررکھناچاہیے عین ممکن ہے کہ فقہاءکرام ان نظائر کو دیکھ کرکوئی ایسالائحہ عمل مرتب کرنے میں کامیاب ہوجائیں جوفقہ اسلامی کی تدوین کے لیے موزوں ترہو۔ اُس وقت کے کیاہی کہنے جب ملکی قانون سازاداروں کوتسلیم کرنا پڑے کہ ملک میں پائے جانے والے فقہاء ملک میں پائے جانے والے قانونی اداروں سے زیادہ قابلیت رکھتے ہیں ۔یہ جب ہوگا جب اس کام کا آغاز نہایت سنجیدگی سے اہل علم میں سے قابل ترین لوگ کریں ۔حقیقت یہ ہے قرون اولیٰ میں فقہاءکرام نے اپنی اسی لیاقت سے حکمرانوں کواس فکرسے آزادکردیاتھاکہ معاشرے کے لیے کسی ضابطہ کے بنانے یا کسی نئے مسئلے کے نمودارہونے پر اس سے نبردآزما ہونے کا کام بھی خلیفہ کے کرنے کاہے! سچ یہ ہے کہ فقہاء پیش آنے والے مسائل کے حل میں اس قدرسبک رفتارثابت ہوئے تھے کہ حاکموں کوہمیشہ فقہاءکرام کے اقوال کی طرف رجوع کرنا پڑتا تھا کہ وہی اس میدان کے شہ سوارتھے۔

فقہ ارتیادی کے ضوابط

جیساکہ ہم نے پچھلی سطورمیں بتایاہے کہ فقہ ارتیادی شرعی علوم کی وہ شاخ ہے جس میں مستقبل میں پیش آنے والے مسائل کا حل ڈھونڈاجاتاہے خواہ یہ مسائل فی زمانہ موجود نہ ہوں یاجوموجودتوہوں مگران میں ہونے والی تبدیلیوں کوفرض کرکے مسائل کاحل تلاش کیاجائے۔ان مسائل کوکیونکہ فرض کرناہوتاہے اس لیے اس میں خاص مہارت ہونے کے علاوہ ایسا ضابطہ بھی ہونا چاہیے جس سے فائدہ مند تحقیقی کام ہو سکے اورانسانی توانائیوں کوضائع ہونے سے بچایاجاسکے۔یہ ضوابط درج ذیل ہوسکتے ہیں :

الف) یہ مجلس صرف ان مسائل پر اپنی تحقیق کومرکوزرکھے جن کامستقبل میں پیداہوناممکنات میں سے ہواورایسے فرضی مسائل میں نہ الجھے جو ناممکنات میں شمارہوتے ہوں ۔

ب) اپنی تحقیق میں یہ مجلس اس بات کو بھی یقینی بنائے کہ وہ ایک خاص اسکیم کے تحت زیادہ اورنازک مسائل جن سے امت اس وقت دوچارہے کو ترجیحی بنیادوں پرحل کرے گی۔ویسے بھی عقل اورمصلحت دونوں کے لحاظ سے یہی بات قرین قیاس ہے کہ مستقبل میں پیش آنے والے مسائل کوترجیحاً ان مسائل کے بعد حل ہوناچاہیے جواس وقت معاشرے کس ضرورت ہیں دوسرایہ بھی ممکن ہے کہ مستقبل میں پیش آنے والے مسائل کا جس طرح تخمینہ لگا کرکوئی ہدایت یافتویٰ صادر کیاگیا ہووہ اس طرح پیش ہی نہ آئیں لہذا اس مجلس کی اولین ترجیح یہی ہوناچاہیے کہ جن مسائل کی شرعی جہت متعین کرنے کی اِس وقت ضرورت ہے وہ پہلے انجام دیے جائیں ۔امام قرافی نے اپنی کتاب’فروق‘میں اس بات کی اہمیت کے پیش نظراس پر سیرحاصل بحث کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سی باتیں اہمیت کے لحاظ سے ترجیح کی حامل ہیں اوران کی کیا ترتیب ہے۔اس بحث میں وہ یہ بھی راہنمائی کرتے ہیں کہ اگر ایک ہی وقت میں دومسائل درپیش ہوں تو اس میں یہ قاعدہ ہے کہ فوری حل طلب مسئلے کو پہلے حل کیا جائے اورمستقبل میں پیش آنے والے مسئلے کو بعد میں حل کیا جائے۔ اسی طرح وہ یہ قاعدہ بھی بیان کرتے ہیں کہ جس مسئلے کو اب حل نہیں کیا جاتا اور بعد میں کوئی صورت ایسی نہ نکل سکے جس سے پھر اس مسئلے کوحل ہی نہ کیا جاسکتاہوتواسے پہلے حل کیا جائے خواہ اس کی اہمیت اس مسئلے سے کم ہی کیوں نہ ہو جسے مثلاً فقہاء اس وقت حل کر رہے ہوں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اب اگر اس مسئلے کا حل ڈھونڈ لیاگیا تو فائدہ ہے  بعد میں اس کے حل کا فائدہ ہی نہیں ۔اس بات کو ہم ایک اور طریقے سے بھی سمجھ سکتے ہیں ۔وہ اذہان جو در پیش مسئلہ کو سمجھنے اور اس کے حل سے قاصرہوں وہ مستقبل میں امت کے لیے کیا لائحہ عمل مرتب کرکے دے سکتے ہیں ۔اس لیے فقہاء کرام کی پہلی اور اولین ترجیح ان مسائل کا حل ہے جو اس وقت امت کودر پیش ہیں ۔یہ تحقیقاتی مجلس اس طرح بھی اپنے کام کوتقسیم کرسکتی ہے کہ فقہاء کا ایک گروپ موجودہ مسائل کے حل پراپنی توجہ مرکوزرکھے اوردوسرامستقبل میں پیش آنے والے مسائل کواپناموضوع بنائے۔

مسئلے کو غلط زاویے سے نہ دیکھاجائے

کوئی عالم جب کسی مسئلے کا حل پیش کرتا ہے تو وہ اس تصورکے تابع ہوتا ہے جوفقیہ نے اپنے مشاہدے سے حاصل کیا ہوتا ہے۔فقیہ کوئی جامدشخصیت نہیں ہوتا، وہ معاشرے پراثراندازہوتے ہیں تومعا شرہ بھی ان پراثرانداز ہورہا ہوتاہے۔فقیہ ایک ہی وقت میں معاشرے کوکچھ دے بھی رہاہوتا ہے اورکچھ لے بھی رہا ہوتا ہے۔ جو چیز فقیہ لیتا ہے وہ اس کامعاشرے کی چال پرنظراور اس کی تحلیل ہے یا کسی رونماہونے والے قضیے کا فقیہ پراثر ہے اور اس کی یہ صلاحیت کے وہ کسی قضیے کو کس نظراورکس اہمیت اورحقیقت کی نظرسے دیکھتاہے یا اس کے جذبات بھی اس کے فتویٰ پر اثر ڈالے ہوئے ہیں ۔معاملے کو ٹھیک طرح سے سمجھنااس کے فنی پہلوؤں کا پورا احاطہ کرنا، ضرورت ہوتواس سے متعلقہ ماہرین کی رائے لینااور دیگر بہت سے اورامکانات ہو سکتے ہیں ،ان سب کو نظرمیں رکھ کرجوفتویٰ دیاجائے گا وہ اہمیت کاحامل ہوگا اورجہاں جو پہلواوجھل رہاہوگااتناخلل رہ جائے گا۔اس لیے فتویٰ دینے سے پہلے ہرممکن طریقے سے اس بات کو یقینی بنایاجائے کہ مسئلے کوسمجھنے میں کہیں چوک نہیں ہوئی۔فقیہ بھی کسی ماہر طبیب کی طرح ہوتاہے جوہرممکن طریقے سے نسخہ دینے سے پہلے اس بات کو یقینی بناتاہے کہ مرض سمجھنے کے اس نے تمام تقاضے پورے کرلیے ہیں ۔

مستقبل کے لیے جوکام تکمیل پاگیاہے اسے نشر نہ کیاجائے

تحقیقاتی مجلس نے اگرمستقبل میں پیداہونے والے مسائل کا حل تلاش کرلیا ہوتو اسے شائع کرنے یا نشرکرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ لوگوں کو اس کا ابھی کوئی فائدہ نہیں اورعین ممکن ہے کہ انہیں سمجھ بھی نہ آئے۔البتہ جوکام کرنے کا ہے وہ یہ ہے کہ مستقبل میں پیش آنے والے سبھی امکانات کو مد نظررکھ کر پوری تیاری کر لی جائے کہ اگرمستقبل میں یہ مسائل پیش آ گئے تو ہمارے پاس ان کا حل موجود ہے۔نشر نہ کرنے کا ایک یہ بھی فائدہ ہے کہ اگرمستقبل میں صورت حال وہ پیش ہی نہ آئے جس کا تصورکرکے تجاویز مرتب کی گئی تھیں ۔لوگوں کو بروقت مسئلے کاحل ملنا چاہیے بس اس کی استعداد پیدا کرناچاہیے اوروہی بات نشر کی جائے جس کی اِس وقت ضرورت ہے خواہ وہ تیار شکل میں پہلے سے ہی موجود کیوں نہ ہو۔ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مجوزہ مجلس اپنی تخقیق کو شائع کردے مگراس وضاحت کے ساتھ کہ مجلس کی اس رائے کو آخری نہ سمجھاجائے یا یہ کہ پیش کی جانے والی تحقیق،فتویٰ یاتجویزاس وقت قابل عمل سمجھی جائے جب حالات ایسے ہی پیش آئیں جیسے اس نشرے میں فرض کیے گئے ہیں ۔

محترم قارئین مذکورہ بالاتجاویزمیں نے اس لیے پیش کی ہیں کہ امت کو موجودہ اورمستقبل میں پیش آنے والے ایسے مسائل کے لیے اپنے اندر استعدادپیدا کرنے کاآغازکرلیناچاہیے جن کی نظیرسابقہ ادوارمیں نہیں ملتی۔پچھلے ادوارمیں فقہاءکرام نے اسی صلاحیت کی وجہ سے معاشروں کوسنبھالے رکھاتھا