|
|
|
|
بسلسلہ تعارف(1): ایمان کا سبق ایمان پر محنت کے متعدد محور ہیں اور ان گنت میدان۔ علم، عبادت، احسان، جہاد، اخلاق، معاملات سب اس میں آتے ہیں۔ آپ چاہیں تو اس کے لئے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی صحیح میں کتابُ الایمان کے تراجمِ ابواب ہی ایک نظر دیکھ لیں کہ ’ایمان‘ کس قدر عظیم اور وسیع مضمون ہے۔۔۔۔ البتہ ایمان کی دنیا میں داخلہ کے کچھ ابتدائی راستے ہیں۔ آگے بڑھنے والے بے شک اپنی اپنی ہمت کے بقدر اونچی چوٹیاں سر کریں گے، مگر کچھ ابتدائی مقدمات ہر کسی کی ضرورت ہیں۔ ایمان کے عقلی مقدمات ابھی پھر کچھ سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں، گو اُن پر کام ہوتا رہنے کی ضرورت برقرار ہے، مگر ایمان کے قلبی مقدمات اس کی نسبت کمیاب ہیں۔ زیر نظر کتاب، جیسی بھی ایک کوشش ہے، اس ضرورت کے بعض جوانب کو ہی مد نظر رکھ کر ترتیب دی گئی ہے۔ ’ایمان‘ کیونکہ موضوع ہی قلب اور نظر کو شاداب کرنے والا ہے، لہٰذا کوئی کام کی بات اگر اس کتاب میں پائی گئی تو وہ اِس موضوع کی اپنی ہی طبیعت کا اثر ہوگا، نیز یہ کہ یہ ایسا موضوع ہے کہ جس پر ہم سلف سے خوشہ چینی کئے بغیر رہ ہی نہیں سکتے! البتہ ایمان اور احسان کے ان مقدمات کو سامنے لانے سے، ہمارے پیش نظر در حقیقت یہ بھی ہے کہ منہج اہلسنت کی اس جامعیت کو سامنے لایا جائے جو متعدد عوامل کے زیر اثر ہمارے یہاں جیسے روپوش ہی ہو کر رہ گئی ہے، حتیٰ کہ اپنے بہت سے حلقوں کے اندر اس کی طلب اور تلاش بھی اب بڑی حد تک ناپید نظر آتی ہے۔ ٭٭٭٭٭ ایمان کا یہ لمس محض ایک مبتدی کی ضرورت نہیں جوکہ ایک نئی زندگی پانے کا حاجت مند ہوتا ہے، بلکہ ’زندگی‘ چونکہ ایک مسلسل عمل ہے، لہٰذا اس کی پیہم تجدید بھی لازم رہتی ہے۔ بلکہ حق یہ ہے کہ ’زندگی‘ اصل میں تو ’زندوں‘ کی ضرورت ہے! ایمان پالینے کے بعد ایمان کو تازہ کرتے رہنا پس ہمیں سلف کی اولین ترجیحات میں شامل نظر آتا ہے، یہاں تک کہ اسی ایک مقصد کیلئے بکثرت نشستیں کی جانا ہمیں دور صحابہ و تابعین کا ایک عام معمول نظر آتا ہے، جنہیں وہ مجالسِ ذکر کہا کرتے تھے، اور جن میں آج کل کے بدعت طریقوں کے برعکس، مسنون انداز میں حقائقِ ایمان کا دور چلتا تھا اور خدا کی صفات اور اُس کی طلب اور اخلاصِ قصد پر مشتمل قرآنی ونبوی مباحث چھیڑے جاتے اور آخرت کے تذکرے ہوتے۔۔ جو قلوب کے اندر خدا کی توحید اور محبت کا ایک سیلاب لے آتے؛ جس سے قلوب میں خدا کی تسبیح و تنزیہ، حمد و تعریف، ذکر وشکر اور حسنِ عبادت کی کیفیات موج زن ہو جاتیں، خشیت اور انابت کی ایک فضا قائم ہوتی، عبادت کے اندر ایک دلجمعی آتی اور یقین میں ایک وثوق۔۔ اور ہمتوں کو ایک نئی مہمیز ملتی۔ کتنے ہی صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہیں جو اپنے اصحاب کو بلاتے ہیں: اج ´لِس ´ بِنَا نُؤمِن ساعۃً (2) ’آؤ بیٹھ کر کوئی گھڑی ایمان تازہ کریں‘!
’قرآن سے پہلے ایمان‘ سیکھنے کا منہج(3) سلف کے ہاں باقاعدہ نصوص سے
ثابت ہے۔ ” ان الایمان لَیَخلَقُ فی جوفِ احَدِکم کما یخلَقُ الثَّوبُ، فاسلوا اللہ ان یجدّدَ الایمانَ فی قلوبِکم“(4) عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہا: فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”بے شک ایمان تم میں سے کسی شخص کے سینے میں اسی طرح بوسیدہ ہوجاتاہے، جس طرح (پرانا) کپڑا بوسیدہ ہوجاتا ہے، پس تم اللہ سے سوال کیا کرو کہ وہ تمہارے دلوں میں ایمان کی تجدید کر دے“ ٭٭٭٭٭ انسان کا ’اللہ کی طرف چلنا‘ کیا ہے؟ یہ کہ ایک ایسے نفس کو خیرباد کہہ کر جو تزکیہ سے محروم ہے، ایک ایسے نفس تک پہنچا جائے جو تزکیہ پا گیا ہو۔ ایک ایسی عقل سے نجات پا کرجو اللہ کی شریعت سے بیگانہ ہے، ایک ایسی عقل پائی جائے جو اللہ کی شریعت اور اُس کی بندگی سے آشنا ہے۔ایک ایسے دل سے جان چھڑا کر جو کفر سے بھرا ہے اور جو خدا کو جان کر یا مان کر نہیں دیتا، یا جو خدا کی طلب کرنے سے ہی ناواقف ہے، یا جو مالک کا در چھوڑ کر کہیں اور کی خاک چھانتا ہے، یا جو نفاق کا مخزن بنا ہوا ہے، یا جو قسما قسم بیماریوں کی آماجگاہ ہے، یا ویسے ہی نرا پتھر ہے۔۔ اس کو ایمان کی آنچ سے پگھلا کر قلبِ سلیم میں ڈھالنے کی کوشش اور محنت ہو، تاآنکہ یہ خدا کے ساتھ ہی اطمینان پائے اور اسی کی طلب میں اپنی جان کی آسودگی۔ ایک ایسی وحشت زدہ روح سے دستبردار ہوکر جو خدا کے در سے بھاگی ہوئی ہے، اور جو خدا کی بندگی کرنا بھولی ہوئی ہے، اور جو بندگی کی حقیقت سے ہی سراسر کوری ہے۔۔ ایک ایسی روح پائی جائے جو خدا کی عارف ہے اور اُس کی بندگی کے حقوق ادا کرنے پر مستعد۔ ایک ایسے تن کو ترک کرکے جو ضوابط شریعت کی لڑی میں نہیں پرویا گیا اور ایک ایسی زندگی سے نکل کر جس کو اطاعتِ خداوندی کی نکیل نہیں ڈال رکھی گئی، ایک ایسی صورت پر دلجمعی پانا جس میں تن من دھن خدا کا ہوگیا ہو اور آدمی کا جینا اور مرنا اور اس کی سب حرکات و سکنات اور اس کے جملہ معاملات و تعلقات خدا کے حکم اور شریعت کی پابندی قبول کر چکے ہوں۔ پس یہ ایک ایسا سفر ہے جس میں انسان کی منزل خدا ہو اور راہ بر محمد صلی اللہ علیہ وسلم !!!(5) غرض یہ انسان کا ایک ’حالتِ نقص‘ سے ’حالتِ کمال‘ کی جانب سفر کرنا ہے اور خدا کی چاہت اور خوف کے زیر تحریک راستے کی سب صعوبتوں کو پار کر جانا۔۔۔۔ یا کم از کم اس کی کوشش کرنا؛ یوں مٹی اور کیچڑ کی بنی ہوئی ایک مخلوق اپنا ذوق اور ہمت بتا کر، کہ وہ خدا سے کم کسی مطلوب پر قناعت نہ کرے گی، سب خلائق کو حیران کر دیتی ہے اور اسفلِ سافلین سے بلند ہوکر الملاء الاعلیٰ کے اندر، اور عرش پر، خدا کے ہاں اپنا تذکرہ کروانے لگتی ہے۔ تب وہ خدا کی مجاورت میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جا بسنے کا حق پاتی ہے! خدا کی یہ مجاورت، جو خلد کے جہان میں جا کر ملتی ہے، کیونکہ یہ ہے ہی خلد میں پانے کی چیز، یہ خدا کی طلب کا ہی انعام ہے۔ خدا کا بکثرت دیدار ہونا اور، حسبِ مراتب، اُس کے ہاں شرفِ باریابی ملتا رہنا اور تا ابد اس سلسلہ کا قائم رہنا اِس انعام میں خود بخود شامل ہے ۔ خدا کے ہاں قبول ہو کر وہاں جا پہنچنے والے خوش بخت، خدا کے پاس جس جگہ قیام کریں گے اور پھر وہاں سے کبھی بے دخل نہ ہوں گے، اُس جگہ کا نام قرآن کی زبان میں ’جنت‘ یا ’جنت الفردوس‘ ہے۔۔۔۔ جس کو پانا سلف کے ہاں خدا کو پانے کا ہی ایک سیدھا سادا عنوان ہے، اور اِس پر پیچیدگیوں میں پڑنا خوامخواہ کا ایک تکلف اور بسا اوقات تو دل کا ٹیڑھ پن اور خدا کے ہی بیان سے اعراض!!! کیونکہ ہم دیکھتے ہیں اُس کی کتاب اِسی دل نشیں بیان سے اول تا آخر لبریز ہے اور اِس حقیقت پر نہایت صریح: کہ حجاب اٹھنے کا یہ واقعہء عظیم باشندگانِ جنت ہی کے حق میں رونما ہوگا اور یہ کہ جو لوگ خدا کو اپنے روبرو پانے سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے محروم رہیں گے وہ دوزخی ہیں جنہیں خدا کی رحمت کے اُس مستقر میں پیر رکھنا رہتی دنیا تک نصیب نہ ہوگا!!! پس جنت جا پہنچنے کی طلب خدا کی طلب کا ہی ایک اسلوب ہے اور خدا کی پیاس بتانے کا ہی ایک پیرایہ! قرآن خدا کی اس ضیافت گاہ کو اسی روپ میں پیش کرتا ہے۔ اس میں اگر بے حد وحساب ٹھاٹھ ہیں تو وہ بھی خدا کے اپنے ہی کلام میں ذکر ہوئے ہیں! یوں بھی جس کو بادشاہ کے پاس ٹھہرایا جانا ہو، اس کی تواضع کچھ اس کی اپنی اوقات کو دیکھ کر نہیں، بادشاہ کی شان اور آئینِ دربار کے مطابق ہوا کرتی ہے۔۔۔۔! پس وہاں اگر کچھ ناقابل تصور عیش وآرام اور لطف وسرود کا بھی ذکر کر دیا گیا، علاوہ اُس ’لذتِ اعلیٰ‘ کے جو اِس ساری ضیافت کا اصل عنوان ہے، تو اس پر یقین نہ آنے کی کوئی بھی بات نہیں! ٭٭٭٭٭ خدا کی جانب بڑھنے کا یہ سفر جو ہزار ہا صحراؤں اور کٹھن وادیوں سے گزرتا ہے، اور کسی وقت تو جان لیوا لگتا ہے، اس کو زیادہ سے زیادہ خوشگوار بنانے کی واحد صورت یہ ہے کہ اس سفر کی حقیقت اور غایت کو ہی اِس ’راہ گیر‘ کے سامنے بار بار لا رکھا جائے اور اِس کی نظر کسی وقت اُس سے پرے ہونے ہی نہ دی جائے۔ جس قدر اِس کی نظر منزل پہ جمی رہے گی اُتنا ہی اِس کی نظر راستے کی گھاٹیوں اور فتنوں میں اٹک جانے اور ان کو ناقابل عبور جاننے سے اِبا کرے گی۔ جس قدر اِس کی وہ غایت اِس کی آنکھوں کے آگے دھندلی ہونے لگے گی اُتنے ہی اِس کو اپنے سامنے ’پہاڑ‘ نظر آئیں گے اور اُسی قدر اِس کو راستے کی چڑھائی دشوار دِکھنے لگے گی، بلکہ تو بعید نہیں اِس کا رخ ہی کسی ایسی اترائی کی جانب ہوجائے جو اِس کو تباہی کے کسی گڑھے پر جا پہنچائے۔ پس انسان کی اس اصل ’غایت‘ اور ’منزل مراد‘ کا بیان، اس کی اہمیت کا مسلسل تذکرہ، اور راستہ چھوڑ بیٹھنے کی سنگینی کا ذکرہی ’ایمان کا وہ سبق‘ ہے جسے خدا کے ابدی کلام اور اس کے رسول کی سچی زبان سے لینا ہماری ہمہ وقتی ضرورت ہے اور پھر ان اسباق کو ہمیں سمجھنا ہے تو ائمہء سنت سے۔ پس یہ کتاب بلکہ یہ سلسلہء کتب ’نفوس کے تزکیہ‘ پر سنت اور سلف کا یہی منہج سامنے لانے کی ایک کوشش ہے۔ توفیق اور قبولیت کے لئے ہم سب خدا کے در کے محتاج ہیں۔ ٭٭٭٭٭ قلوب کی اصل غذا کیا ہے، اور ان کو لاحق روگوں کی شفا کہاں ہے، ’وحی‘ پر اعتماد کی ضرورت کا کچھ بیان کتاب کی ایک فصل میں آگے چل کر آئے گا، کیونکہ اہلسنت کا یہ ایک نہایت بنیادی تنازعہ ہے جو دین کے ہر باب اور ہر شعبے میں کسی نہ کسی فرقے کے ساتھ کھڑا ہوا رہتا ہے۔ بلاشبہ شفائے قلوب اور تزکیہء نفوس کا شعبہ بھی ’مصادر‘ اور ’مراجع‘ کی اس بحث سے نہیں بچا، بلکہ قلوب کا معاملہ چونکہ سب سے نازک ہے، لہٰذا یہاں پر بدعات اور محدثاتِ امور سب سے بڑھ کر جان لیوا رہے۔ دور ِ سلف (صحابہ، تابعین، تبع تابعین) کے بعد ظاہر ہونے والے سلسلے اور طریقے امت کی دنیا اور آخرت دونوں کا ستیاناس کر گئے۔ یہاں تک کہ ہوتے ہوتے ’وحدۃ الوجود‘ اور ’حلول‘ ایسی ملحدانہ گمراہیوں تک نوبت پہنچی، اور خدا کو پانے کی یہی صورتیں درست باور ہونے لگیں! بلکہ کثیر لوگوں کے ہاں تو خدا کو پانے کی صورتیں ہی یہ رہ گئی تھیں! مگر یہ اس المیہ کا محض ایک پہلو تھا۔۔۔۔ وہ لوگ جو سنت اور سلف کا دم بھرتے تھے، خود ان میں بہت کم لوگ ایسے تھے جو منہج ِ سنت کے ان حصوں کی نشاندہی کر کے امت کو دیں جو ’تزکیہ‘ سے تعلق رکھتے ہیں اور پھر ان کی عملی تطبیق کے معاملہ میں بھی لوگوں کی راہ نمائی کریں۔دوسرے لفظوں میں، جہاں ’بدعت‘ نہیں تھی وہاں بھی اِس پہلو سے ’سنت‘ بہرحال نہ تھی، الا ما رحم ربی! اس بات کا کچھ تذکرہ آپ آگے چل کر پائیں گے۔ تاہم، علمائے سنت کا دیا ہوا یہ زریں مبحث بیان کردینا یہیں مناسب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو جس چیز کے ساتھ مبعوث فرمایا وہ دراصل قلوب ہی کی غذا تھی اور نفوس ہی کا تزکیہ۔ لہٰذا اِس کا متبادل ڈھونڈنا صرف قسمت کا پھوٹنا تھا۔ نبی کا خدا کی آیات پڑھ پڑھ کر اہل ایمان کا تزکیہ کرنا اور ان کے دلوں کی حالت بدل ڈالنا قرآن ہی میں جا بجا مذکور ہے۔ قرآن کی آیتوں سے دلوں کے اندر تلاطم برپا ہوجانا اور آنکھوں سے ایک سیلاب بن کر جاری ہوجانا ابتدائے اسلام کا ایک معروف واقعہ ہے، اور خود قرآن ہی میں اس کی جانب جا بجا اشارے ہیں۔ صحابہ تا اتباع تابعین کا تمام تر زمانہ، ’قلبی‘ بیماریوں کا سب علاج قرآن سے ہی کیا جاتا تھا اور اسی کے دوائے شافی وکافی ہونے پر ان سب کا ایمان تھا۔ ائمہء سلف کی زبانوں پر آپ کو ایمان کی وہی چاشنی ملے گی اور حقیقتِ ایمان کا وہی بے ساختہ بیان جو چشمہء وحی سے براہ راست سیراب ہونے کا ہی ایک طبعی و لازمی نتیجہ ہو سکتا ہے۔وہ عجیب و غریب اصطلاحیں اور وہ پر اسرار پہیلیاں جو بعد کے ’سلسلے‘ آکر لوگوں کو بجھوانے لگے، اور وہ بھول بھلیاں جن میں محدَث ’طریقوں‘ نے امت کو دھکیل دیا، یہ سب نہ تو اپنے اسلوب میں قرآنی و نبوی نصوص سے کچھ تعلق رکھتی ہیں اور نہ اپنے مواد اور مضمون میں۔ ولکنہم قوم یفرقون! ہر دو منہج میں جو فرق ہے اور ہردو کے مواد میں جو واضح تباین ہے وہ نصف النہار سے بھی بڑھ کر عیاں ہے۔ بلاشبہ ان سلسلہ ہائے طریقت میں پائے جانے والے صالح عنصر نے ’شریعت‘ کو ’طریقت‘ پر مقدم رکھا، بلکہ شریعت سے خروج کرلینے والوں کو ملحد جانا، جس پر یہ طبقہ یقینا قابل ستائش ہے، مگر اِن کا اپنے طریقوں اور اپنے ہاں پانے جانے والے فکری مباحث کو ’تزکیہ‘ اور ’احسان‘ پانے کی جہد قرار دینا پھر بھی باعثِ تعجب ہے۔ قرآن کی صورت میں ہمارے لئے اور رہتی دنیا کیلئے جو دسترخوان آسمان سے نازل ہوا، اور ’تزکیہ کی مجلسیں‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدائے مکہ میں جس انداز سے جمائیں، اور پھر مدینہ کی مسجد نبوی میں ’ایمان‘ اور ’احسان‘ کا جو سماں باندھا، کہ فرشتے جس کا نظارہ کریں، اس آسمانی اور نبوی دستر خوان میں ’تزکیہ‘ آخر ہماری نگاہوں سے کیوں روپوش ہوگیا؟! اپنی ضرورت کا کیا نہیں جو اِس میں نہ پایا گیا تھا؟؟؟ شفائے قلوب اور طلبِ خداوندی کی تعلیم دینے کیلئے ہی تو خدا کا یہ آخری نبی آیا تھا! آسمان سے آئی ہوئی یہ دولت، قلوب ہی کے لئے تو تھی! دیکھئے کس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسمان کی اس بارش کا اثر لینے کے حوالے سے، جو آپ سے پہلے زمین پر کبھی نہ برسی تھی، قلوب کی اقسام بیان فرماتے ہیں: مثل ما بعثنی اللّٰہ بہ من الھدی والعلم کمثل الغیث الکثیر اصاب ارضاً، فکان منھا نقیۃ قبلت الماءفانبتت الکلا والعشب الکثیر، وکانت منھا اجادب امسکت الماءفنفع اللّٰہ بھا الناس فشربوا وسقوا وزرعوا، واصاب منھا طائفۃ اخریٰانما ھی قیعان لا تمسک ماءولا تنبت کلا ً، فذلک مثلُ من فقہ فی دین اللّٰہ ونفعہ ما بعثنی اللّٰہ بہ فعلم وعلم ومثل من لم یرفع بذلک راسا ولم یقبل ھدی اللّٰہ الذی اُر ´سلت بہ (البخاری عن ابی موسیٰ الاشعری:175/1) ”مجھے اللہ تعالیٰ نے جو ہدایت اور علم دے کر معبوث فرمایا، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہیں جم کر بارش برسے۔ کہیں تو زمین نرم وزرخیز ہو اور اس بارش سے خوب سیراب ہو کر فصل اگائے اور ہرا بھرا ہو جائے۔ کہیں پر چٹیل نشیب ہوں جو اس پانی کو بس روک ہی رکھیں پھر اس کو بھی اللہ تعالیٰ لوگوں کیلئے منفعت کا وسیلہ کردے کہ وہ اس کوپینے، فصلیں سیراب کرنے اور غلے اگانے کیلئے کام میں لائیں۔ جبکہ یہ بارش کسی بنجر زمین پر بھی برسے جو نہ تو پانی کو روک رکھے اورنہ اسے پی کر ہریالی اگا سکے۔ سو یہ مثال اس شخص کی ہے جو اللہ کے دین کا تفقہ حاصل کرے اور اسے میرے ساتھ مبعوث شدہ چیز سے اللہ تعالیٰ یوں فائدہ دے کہ وہ اسے خود سیکھے اور دوسروں کوسکھائے اور یہی مثال اس شخص کی ہے جو اس کو لیکر نہ تو اٹھا اور نہ اللہ کی اس ہدایت کو، جوکہ مجھے دے کر بھیجا گیا ہے، خود قبول کیا“ سو خوش قسمت ہیں وہ ’زمینیں‘ جو آسمان کے اس میٹھے پانی سے رچ گئیں اور شرق تا غرب زمین پر اصل منفعت بخش ہریالی کے لئے صالح آماج گاہ بنیں۔بخدا تاریخ پڑھنے والا جب تاریخ کے ریگستانوں سے گزرتا ہے تو وہ دورِ سلف کے حسین سایہ دار نخلستانوں کو چھوڑ کر آگے بڑھنے کیلئے بڑی ہی مشکل سے تیار ہوتاہے! ٭٭٭٭٭ اس باب میں سلف کے منہج کی خاصیت ہی یہ ہے کہ اس کا کل انحصار اُس چیز پر ہے جس کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے!یہی وحی اور تلاوت و فہمِ آیات اور تدبرِ معانی، یہی توحید اور معرفتِ ذات وصفات، یہی صلوٰۃ اور رکوع وسجود اور تسبیح و قیام اور استغفارِ سحر اور دعاء والتجاء، یہی فاقہ و صیام، یہی صدقہ و انفاق وایثار، یہی حج اور عمرہ اور تلبیہ، یہی جہاد اور یہی امر بالمعروف و نہی عن المنکر، یہی مسنون اذکارِ صبح وشام، یہی عدل اور اقامتِ حدوداللہ، یہی مکارم اخلاق، یہی ادائے حقوق اور رشتوں کا بندھن اور وحدتِ کلمہ۔۔ جس کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے، یہی اس منہج پر آنے سے قلوب کے لئے زندگی بن جاتا ہے اور یہی ’زندگی‘ کی تلاش میں کسی بھی طرف دیکھنے سے آدمی کو آخری حد تک کفایت کر دیتا ہے! عین وہ چیز ہی، جس کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے، آدمی پر ’ایمان‘ اور ’احسان‘ کے سب دریچے وا کر دیتی ہے۔ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں زمین پر اترنے والی دولت کا صحیح اندازہ لگایا تو وہ اِس امت کے سلف ہیں اور سلف کے راستے کو اپنا رکھنے والے ’اہلِ اتباع‘۔ یہ فطر ت پہ قائم منہج ہے اور اِس کا اصل حسن اِس کی اِسی سادگی میں ہے!!! تکلف کرنے والوں کو سادگی میں حسن نظر نہیں آتا اور اسی وجہ سے وہ کچھ عجیب وغریب کام کر لیتے ہیں، حالانکہ فطرت سے حسین کوئی چیز نہیں! ہر نومولود جس ’فطرت‘ کو لے کر دنیا میں آتا ہے وہ صرف اس ’حقیقت‘ میں آسودگی پاسکتی ہے جو آسمان سے اتری ہو۔ ’انسان‘ کو سمجھنا اور ’فطرت‘ کو پانا بھلا کس کے بس میں ہے؟! اور سوال تو یہ ہے کہ قلوب کا فاطر ابنیاءکو آخر بھیجتا کس لئے ہے؟! پس کلام اللہ اور ہَدیِ محمد کو اہلسنت کے ہاں آخری درجے کی تعظیم دی جانا، اور اس کی ’متبادل‘ راہوں کا سن کر چہروں کا لال پیلا ہو جانا، جوکہ سلف میں ہمیں جابجا نظر آتا ہے، کچھ بے سبب نہیں! پس آپ دیکھیں گے ’وحی‘ یہاں ایک ’مبتدی‘ کا دسترخوان ہے اور ’وحی‘ ہی ایک ’پہنچے ہوئے‘ کا۔ کسی کا حصہ کم ہے اور کسی کا حصہ زیادہ، مگر کھاتے سب اِسی ایک دسترخوان سے ہیں! سبھی کا توشہ ایک ہے، البتہ حظ ہر ایک کا مختلف، اور بقول ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ، لطف بقدرِ ہمت وتن درستی! یہی پانی، ہوا اور خوراک ہے جس پر ہر ذی روح کا انحصار ہے، مگر صحت میں سب برابر نہیں! صالح خوراک سے زندگی اور توانائی برآمد ہونا بلا شبہ انسان کی ’اندرونی استعداد‘ پر بھی منحصر ہے، اوربلا شبہ ’یہ‘ بھی محنت کا ایک بڑا میدا ن ہے، مگر اس باب میں بھی کوئی چیز کفایت کرسکتی ہے تو وہ آسمانی تنزیل ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے ہاں سے جس نعمت کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں وہ قلوب کے لئے نہ صرف غذا ہے بلکہ نفوس کی اس ’اندرونی استعداد‘ کو بہتر بنانے کیلئے بھی یہی باعثِ شفا ہے! کسی کی قدرتی قابلیت کو سامنے رکھتے ہوئے، اسکی یہ ’استعداد‘ بھی عین اِسی نسخہ سے سدھر سکتی ہے۔ دیگر نسخوں سے بڑھائی گئی استعداد ’غذا‘ کیلئے بھی پھر اور ہی چیزوں پر انحصار کرتی ہے! بلکہ دیکھنے میں آیا ہے ان ’اور چیزوں‘ سے جان چھڑانا پھر اُس کے لئے دوبھر ہوجاتا ہے اور سب سے مشکل پھر ’وحی‘ سے سیراب ہونا! ٭٭٭٭٭ چنانچہ اس باب میں ہم سلف کے جس منہج سے یہاں متعارف ہونے کی کوشش کریں گے، وہ ایک اصیل منہج ہے۔ سمجھئے یہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ کہنا تو اِس کی بڑی ہی حق تلفی ہوگی کہ یہ ’تصوف‘ کا سَلَفِی متبادل ہے! پہلے بھی یہی اصل تھا اور آج بھی یہی اصل ہے۔ تصوف میں ضرور کچھ خوبیاں بھی ہوں گی، اور خیر کی ناقدری بہرحال ہمارا منہج نہیں، مگر اصلاحِ قلوب اور تزکیہء نفوس کے باب میں سلفِ امت کا جو ایک اصیل منہج ہے، اور جس کا اصل انحصار قرآن پر ہے، تصوف کبھی بھی اس کا متبادل نہیں رہا اور نہ کبھی ہوسکتا ہے، چاہے ہم یہ مان لیں کہ کچھ نہ کچھ خیر یہ برآمد کر سکتا ہے اور کرتا رہا ہے۔ پس جب تصوف اِس کا متبادل تک نہیں ، تو پھر دونوں کے مابین ایسا کوئی موازنہ ہونا ہی درست نہیں۔ صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک ایسا منہج ہے جس کا کوئی متبادل نہیں! ٭٭٭٭٭ کتاب کا بڑا حصہ ’استفادہ جات‘ پر مشتمل ہے جوکہ زیادہ تر امام ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ کی تحریروں سے ہوئے ہیں۔ ’استفادہ‘ کی بابت ہم یہ واضح کر دیں کہ ’ترجمہ‘ یا ’ترجمانی‘ سے یہ ایک بہت مختلف چیز ہے۔ یوں سمجھئے ہم نے ائمہء سنت کی کسی تحریر کو بنیاد بنا کر خود اپنے الفاظ اور اپنے اسلوب میں ایک مضمون تیار کیا ہوتا ہے۔ کسی وقت یہ اس کا اختصار ہوسکتا ہے اور کسی وقت اس کی شرح، اور کسی وقت اس سے بھی کچھ مختلف چیز۔ اصل تحریر کو صرف ایک بنیاد بنایا گیا ہوتا ہے جبکہ مضمون کو ضرورت کے مطابق توسیع دینے یا اسکی کچھ جہتیں زیادہ واضح کرنے کیلئے بہت کچھ اس میں ہمارا اپنا بھی ہوسکتاہے، جس میں عمومی طور پر ہم اُس خیال سے باہر نہیں جاتے جس کو اصل تحریر ذہن میں اجاگر کرنا چاہتی ہے ۔ آیات اور احادیث کا مفہوم دیا گیا ہے۔ لفظی ترجمہ بہت کم جگہوں پر دیا گیا۔ آیات کا مفہوم دینے میں اردو کے معروف تراجم سے ہی مدد لی گئی ہے۔ ہمارے اپنے کسی مضمون میں احادیث آئیں تو اس کی سند اور درجہ بیان کر دیا گیا ہے، جس میں زیادہ تر البانی رحمۃ اللہ علیہ کی تصحیح پر انحصار ہوا ہے۔ البتہ اگر وہ مضمون ائمہء سنت کی کسی تحریر کا استفادہ ہے، اور اصل تحریر میں اس کا حوالہ نہیں تو بھی کئی جگہ ہم نے یہ کمی اپنے طور پر پوری کی ہے، مگر ہوسکتا ہے کہیں ایسا نہ بھی ہوا ہو۔ ٭٭٭٭٭ اس کتاب کا واضح مقصد تربیت کیلئے صالح مواد کی تیاری ہے۔ ویسے تو ہر شخص اپنی ضرورت کا تعین کرنے میں آزاد ہے، مگر مربی حضرات، خواہ وہ والدین ہیں، یا معلمین، یا مساجد میں نوجوان حلقوں کے نگران یا کسی تنظیمی عمل سے وابستہ لوگ وغیرہ۔۔۔۔ چاہیں تو ائمہء سنت سے لئے گئے اس مواد کو، جسکا ہم نے ’استفادہ‘ کیا ہے، اپنے زیر تربیت افراد یا حلقوں کے زیر استعمال لا ئیں، جس کیلئے مختلف صورتیں اختیار کی جاسکتی ہیں۔ نہایت فائدہ مند ہوگا کہ بعض اسباق تربیتی عمل میں ایک ایک کر کے ہی ذہن نشین کرائے جائیں، بلکہ ایک ایک سبق راسخ کرنے پر خاصا خاصا وقت صرف کر لیا جائے، خواہ مہینے کیوں نہ لگیں۔ صرف مثال کے طور پر: صبح کرتے وقت اپنے آپ کو یا برخوردار کو یہ یاد کرانا کہ: شام تک، مختلف شکلوں میں تین سو ساٹھ صدقے کر لو، تو سمجھو آج کے دن کیلئے جہنم سے بچ گئے ہو۔ یا یہ یاد کرانا کہ: کوئی مردہ دنیا وما فیہا دے کر اگر یہ ایک دن خرید سکے جو تمہیں آج مل رہا ہے، تو ضرور وہ یہ ایک دن خرید لے اور اس کو ایسے برتے کہ جنت لئے بغیر نہ رہے۔ ایمانی مطالب پر مشتمل بہت سے نکات اور اسباق ایسے ہوسکتے ہیں جنہیں ایک ایک کر کے ہی زیر تربیت شخص کے شعور میں اتارا جائے، یوں کہ ایک ایک پر مدت لگتی ہو تو لگا دی جائے، تو اسکا تربیتی اثر نہایت خوب رہے۔ عنقریب یہ مضامین صوتی شکل میں بھی دستیاب ہوں گے۔ ان شاءاللہ (1) ادارہ ایقاظ کی نئی تالیف: ’ایمان کا سبق‘ کا مقدمہ یہاں جوں کی توں حالت میں دیا جا رہا ہے۔ (2) صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب الایمان وقول النبی صلی اللہ علیہ وسلم : بنی الاسلام علی خمس میں اوپر متن میں مذکور معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول آتا ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ میں (رقم: 31000) حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول آتا ہے: بیٹھو، کوئی گھڑی ایمان تازہ کریں، اللہ کو یاد کریں۔ ابن ابی شیبہ (رقم: 31065) میں آتا ہے: عبد اللہ بن رواحہ اپنے ساتھیوں کا ہاتھ پکڑ کر کہتے: آؤ، کوئی گھڑی ایمان تازہ کریں، آؤ اللہ کو یاد کریں اور ایمان میں اضافہ کریں، آؤ اللہ کو یاد کریں اُس کی اطاعت کے سلسلہ میں، شاید کہ وہ ہمیں یاد کرے اپنی مغفرت کے سلسلہ میں۔ بیہقی، شعب الایمان میں (روایت نمبر50، ج 1 ص 75) اثر لاتے ہیں: عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے کسی ساتھی سے کہا کہ ’آؤ، کوئی گھڑی ایمان میں جائیں‘۔ اس نے پوچھا: کیا ہم ایمان میں نہیں؟ کہا: ’کیوں نہیں، مگر آؤ اللہ کو یاد کریں اور ایمان بڑھائیں‘۔ (3) صحابیِ رسول، جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبد اللہ کا قول: فتعلمنا الایمان قبل ان نتعلم القرآن، فازددنا بہ ایمانا ’ تو ہم نے ایمان سیکھا، پھر قرآن سیکھا تو اس سے ہم ایمان میں اور بھی بڑھے“ (سنن ابن ماجۃ، البانی نے صحیح کہا ہے۔ دیکھئے: صحیح ابن ماجۃ، روایت تحقیق نمبر 65، ج 1 ص 16) ’قرآن سے پہلے ایمان کا سبق لینا‘ کے عنوان سے، ملاحظہ فرمائیے ہمارا ایقاظ، جولائی 2003ءکا اداریہ (4) مستدرک حاکم، ومعجم کبیر للطبرانی۔۔ ذہبی اور البانی نے اسے صحیح کہا ہے (السلسلۃ الصحیحۃ رقم: 1585، ج 4 ص 159) (5) استفادہ از ’تربیتنا الروحیُۃ‘ مؤلفہ سعید حویٰ ص 72
|