سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ اکتوبر 2008

Download in PDF format

اخبار و آراء

استفادہ و ترتیب: مریم عزیز

1۔ جس کا جوتا اُسی کے 'Sir' !

2۔ اسلام کا چراغ اور ویٹی کن کی پھونکیں

3۔ عافیہ۔۔ اور امریکی سفیر کا پاکستانی ابلاغ پر تسلط کی کوشش

4۔ ’مذہب‘ دلیل بر جرم!

5۔ عالمی عدالت برائے جنگی جرائم کا بھیانک دوغلا معیار

جس کا جوتا اُسی کے 'Sir' !

یہ سر جس پہ اُسی کا جوتا تاکا گیا ہے کسی اور کا نہیں برطانیہ کے ’سر‘ یافتہ ملعون سلمان رشدی کا ہے اور یہ کار خیر خود اُسی کی حفاظت پہ مامور سکاٹ لینڈ یارڈ کے سابق آفیسر ران ایوان نے انجام دیا ہے اور کچھ یوں رشدی کے ساتھ گزرے وقت کے نتیجے میں دل کے پھپھولے پھوڑے ہیں کہ بیچارہ رشدی ابھی تک بلبلا رہا ہے اور حیرت انگیز طور پر اُسکے مُنہ سے ادا ہونے والے الفاظ کچھ سُنے سُنے سے لگتے ہیں۔ جیسے:"آزادیِ اظہار اور دل آزاری میں واضح فرق ہوتا ہے" اور ۔۔"یہ اظہار کی منہ زور اور بے لگام آزادی ہے"۔۔وغیرہ وغیرہ اگرچہ یہ اُسی کی اور اُسکے سرپرستوں کی منافقت اور دوغلے پن کا چیختا چلاتا ثبوت ہے مگر بات تو یہ ہے رشدی جن ہاتھوں سے اپنی دل آزاری کرنے والے کی طرف اشارہ کر رہا ہے یہی ہاتھ اُس غلاظت میں لتھڑے ہوئے ہیں۔جو اُس نامراد نے اللہ کے سچے اور پاک رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر Mahound کہہ کر اور مومنوں کی ماوؤں کے بارے میں ناقابل بیان القابات اور الفاظ لکھ کر اُچھالا تھا۔معاذ اللہ ۔ران ایوان نے دل کھول کر اپنی کتاب "آن ہر مےج سٹیز سروس"میں رشدی کی بدفطرت اور گندی عادات پر سے پردہ اُٹھایا ہے جس پر رشدی کو کم و بیش اُسی تکلیف کا سامنا ہے جو ڈیڑھ ارب مسلمانوں نے اسکی کتاب سے سہا تھا ۔آگیا دام میں صیاد۔ كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ

اسلام کا چراغ اور ویٹی کن کی پھونکیں:

اہل ویٹی کن کی پریشانی بھی دیدنی ہے اسلام جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہا ہے اور اُن کی نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن والی کیفیت ہے۔ کرے سو مرے، نہ کرے پھر بھی مرے کے مصداق ہرحربہ اسلام کی تحریک میں مزید روح پھونک دیتا ہے اور بظاہر ان کی اس آفاقی مذہب پر رکیک حملے بھی لوگوں کو اسلام کی طرف اور متوجہ کردیتے ہیں۔ ان کی ویب سائٹ پر حالیہ جاری کیا گیا بیان ان کی اس پریشانی کی داستان سُنا رہا ہے جس میں ویٹیکن کے ایک اعلی عہدیدار کارڈنل جین لوئس ٹوران فریاد سی کرتے دکھائی دئیے کہ مغربی ذرائع ابلاغ کے سرپراسلام ہی سوار ہے اور اسطرح یہ ایک 'پہلے درجے' کے مذہب کے طور پر سامنے اُبھر رہا ہے اور باقی تمام مذاہب دوسرے درجے کی حیثیت میں پس منظر کاحصہ بن گئے ہیں۔ انہوں نے اسلام پر باقی تمام مذاہب کو ۔'یرغمال'۔بنانے اور خود کو ۔'یکتا طاقت'۔کے طور پر پیش کرنے کا الزام دھرا۔ اپنے اردن ،عمان کے بین المذاہب مکالمہ میں انہوں نے اسلام کو بخیر و خوبی نظر انداز کرنے کی کوشش کی نیز اپنی اسی پریشانی کا حل تلاش کرنے کے سلسلے میں لگے ہاتھوں چند۔'قواعد و ضوابط'۔ بھی وضع کرڈالے۔چلئے یہ بھی کردیکھئے پوپ صاحب۔۔۔

اسلام ہے کفر کی ہر حرکت پہ خندہ زن

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

عافیہ۔۔ اور امریکی سفیر کا پاکستانی ابلاغ پر تسلط کی کوشش:

امریکہ اپنی آزادیءصحافت کا ڈھول پیٹتے نہیں تھکتا مگر درون خانہ انکے جھوٹ کا رازفاش کرنے والوں یا مدلل تنقید ہی کرنے والوں کو خوب سبق سکھادیتا ہے، چلیئے بحث کی خاطر مان لیتے ہیں کہ ایسے واقعات کی اطلاع بھی ۔'آزاد صحافت'۔ کے ذریعے ملا کرتی ہے مگر صحافت کی یہ رہی سہی یا برائے نام آزادی بھی صرف امریکہ ہی کی جاگیر کیوں ہو۔یہ سوال شاہانہ ملک کی شاہانہ بے اعتنائی والی امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کے اُن خطوط کی روشنی میں اُٹھتا ہے جو اُنہوں نے اُن تمام اخبارات کو حکمنامے کی صورت جاری کیے جنہوں نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے متعلق ثبوت اور مدلل معلومات شائع کیں اور سنجیدہ نوعیت کے سوالات اُٹھائے تھے۔نہایت تجاہل عارفانہ سے اُنہوں نے ان مصدقہ اطلاعات کومحض معنی خیز '۔لفّاظی'۔ اور جھوٹ کا پلندہ قرار دیدیا اور صفائی میں چند بے بنیاد نکات لکھ ڈالے۔ یہ وہی این ڈبلیو پیٹرسن ہیں جنہوں نے لاہور میں بادشاہی مسجد کے دورے کے وقت کہا کہ امریکہ پاکستان کے مدارس کے خلاف جاری کارروائیوں میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث نہیں حالانکہ پاکستانی مدارس سے متعلق بش اور اُنکی حکومتی عہدیداروں کے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں۔این ڈبلیو پیٹرسن کی بات اگر اتنی ہی سچائی اور حق پر مبنی ہے تو آیئے لگے ہاتھوں اُن کوخالد خواجہ سربراہ ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی درخواست پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے متعلق ایک براہ راست مناظرے کی دعوت ہی دے ڈالیں۔

 

’مذہب‘ دلیل بر جرم!

 "Racial profiling"یعنی نسلی و مذہبی بنیاد برائے 'نشاندہیءمشکوک: کہ جیسے قانون بنانے سے پہلے ایساکبھی کیا نہیں گیا لیکن اگر کوئی کسر رہ بھی گئی تھی تو اب وہ اس قانون سازی کے ذریعے پوری کی جارہی ہے جو اٹارنی جرنل مائیکل میوکاسے کے الفاظ کے مطابق ایف بی آئی میں لائی جانے والی تبدیلیوں کے ساتھ زیر تکمیل ہے۔ امریکی محکمہ انصاف نے ایف بی آئی کو مسلمانوں پر مزید کھلی چھوٹ دینے کیلیئے اس قانون کوبنانے کا ارادہ کر لیا ہے اور بظاہر عزم دہشت گردوں کو حملے کی مہلت دیے بغیر 'جڑ سے اکھاڑنے کا' ہے۔اس سے پہلے ایف بی آئی کے اہلکار اتنی رسم پوری کرلیا کرتے تھے کہ انہی افراد کو نشانہ مشق بناتے تھے جن پر محض باضابطہ یا بے ضابطہ طور پر دہشت گردی کا الزام ہی ہوتا تھا یا کوئی قانون شکنی کا 'شبہ' مگر اب اس نئے بنائے جانے والے قانون کی رو سے ایک آدمی کا صرف مسلمان ہونا ہی انکے نزدیک دہشت گرد ہونے کی دلیل ہوگا یعنی اُنکا صرف فرض کرلینا قانونی تقاضا پوراکردےگا اور ذرا بعید نہیں کہ گوانتا نامو ابو غریب اور بگرام جیسے اندھے کنووں میں پھینک آنے کیلیے کافی 'ثبوت' ہوگا، اور 'آدمی'کا لفظ تو ازراہ 'حسن' کلام استعمال کیا گیا ہے ورنہ ابو غریب کی فاطمہ اور اس کے جیسی وہاں قید بہنیں، بگرام کی ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور اُس کے تب نومولود ،تین سالہ اور سات سالہ مقید اور تاحال لاپتہ بچے تو سامنے ہی کی بات ہیں اور یہ ظلم و جور کا اندھا راج ابھی قانونی شکل حاصل کیا ہی چاہتا ہے مگر اس ڈھکوسلے کی بھی کیا ضرورت ہے جناب آپ تو فرعون الوقت ہیں اس دنیا کے بے بس اور مظلوم آپکا کیا بگاڑ سکتے ہیں

 

عالمی عدالت برائے جنگی جرائم کا بھیانک دوغلا معیار:

بش اور اُس کے حواریوں کے عراق پر حملے کی غرض سے گھڑے گئے جھوٹ سے کون واقف نہیں افغانستان پر حملے کے وقت تو ثبوت تراشنے کی زحمت بھی نہیں کی گئی تھی اور نتیجتا لاکھوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتارا گیا کروڑوں کو بے گھر بے یار ومددگاراور معذور کردیا گیا۔ دو ہنستے بستے مسلمان ملک اُجڑ گئے اور دو مزید نشانے کی زد میں ہیں مگر عالمی عدالت برائے جنگی جرائم کو اگر کوئی نظر بھی آیا تو کون۔۔ایک مسلمان ملک کے منتخب شدہ صدر عمر البشیر اور کس بنیاد پر۔۔ آپ کی طرح ہم بھی یہ جاننے کی حسرت لیے' جی' رہے ہیں۔عالمی عدالت (انٹرنیشنل کریمینل کورٹ) کے اٹارنی جنرل لویئس مورینو اوکامبو نے یہ وارنٹ تب جاری کیے جب صدر عمر البشیر نے اُنکی احمد محمد ہارون وزیر انسانی اُمور اور علی قشیب سربراہ جنجاوید ملیشیا سے متعلق فرمائش پوری کرنے سے انکار کرتے ہوئے اُن پر اوکامبو کی جانب سے لگائے گئے دارفور میں قتل و غارت میں ملوث ہونے کے الزامات کے ثبوت طلب کیے۔ پورا سوڈان تو سرتاپا احتجاج ہے ہی اس سلسلے میں سعودی شاہ عبداللہ سمیت کئی مسلم ممالک اور غیر جانبدار ممالک اور اداروں نے تنقید اور تشویش کا بہ آواز بلند اظہار کیا ہے۔عرب لیگ کے اسی سلسلے میں انیس جولائی کو وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس میں بھی سوڈان کی ہر ممکن اخلاقی اور قانونی امداد کا اعلان ہوا۔عالمی انصاف کے اس متعصبانہ اقدام کی جو کہ امریکی وزیر خارجہ کے سوڈانی صدر بشیر الاسد کا نام شامل کیے جانے سے متعلق بیان کے بعد جاری ہوا تھا کی سوڈان کی وسیع و عریض ریاست اوروہاں شعبہ زراعت کی خوشحالی کے امکان کےپیش نظرخاص اہمیت ہے اور ہم سے ہماری نگاہیں ہمہ وقت دنیا کے معاملات پر کُھلی رکھنے اور حسیّات کو ہمہ وقت چوکنا رکھنے کی متقاضی ہے۔