|
|
|
|
ایران اورسنی ممالک جمال عرفہ: www.almoslim.org اردواستفادہ: محمدزکریا مغربی ممالک کے سوڈان میں مفادات اکثرمیڈیے کاموضوع رہتے ہیں ۔مگرکیاایران کے بھی سوڈان میں مفادات ہوسکتے ہیں ،اردومیڈیا میں یہ موضوع قابل توجہ نہیں سمجھاگیا۔سنی اکثریت والے ممالک ایران کی خارجہ پالیسی کومحض اقتصادی نقطہ نظرسے دیکھتے ہیں حالانکہ امریکہ جیسااسیکولرملک بھی ایران کو بطور مذہبی ایران سمجھ کراپنی مشرق وسطی کی خارجہ پالیسی ترتیب دیتاہے۔ ایران نے سوڈان کے صحافیوں کے لیے تہران میں ایک ورکشاپ کااہتمام کیا ہے۔ورکشاپ میں سوڈان کے نجی اورسرکاری اخبارات کے پچیس صحافیوں نے حصہ لیا ہے جن میں پانچ خواتین بھی شامل تھیں ۔بظاہراس میں کوئی اچھنبے کی بات نظرنہیں آتی لیکن اگراس ثقافتی اورفنی تعاون کوگزشتہ دسمبر2006ءمیں سوڈان کے دارالحکوت خرطوم میں منعقد ہونے والے کتاب میلے سے جوڑاجائے توسوڈان کے صحافیوں کے لیے تربیت کی اس ورکشاپ میں کافی معنویت پیداہوجاتی ہے۔خرطوم کے اس ’کتاب میلے‘ میں شیعہ عقیدے پر مشتمل عربی زبان میں ترجمہ کی گئی کتابوں کاجیسے سیلاب آگیاتھا۔ان کتب میں شیعہ مذہب کی حوالہ جاتی کتب کے علاوہ دعوتی کتابیں بھی تھیں اوروہ کتابیں بھی میلے میں فروخت کے لیے کافی تعداد میں دستیاب تھیں جن میں شیعہ مذہب کے مطابق اصحاب رسول پر’تبراء‘کرناضروری سمجھاجاتاہے۔اس کتاب میلے میں ایران اور لبنان دونوں ممالک کے شیعہ تاجروں نے شرکت کی تھی۔کتاب میلے کی شروط میں حکومت نے یہ وعدہ لیاتھا کہ مذہبی منافرت پھیلانے والی کتب کومیلے میں نہیں رکھاجائے گا۔ بعد میں سوڈان کے سنی بااثر علماءکرام کے شدید احتجاج پرحکومت نے کتاب میلہ بندکرادیا تھا۔ آل بیت سے محبت رکھناتمام سنیوں کاعقیدہ ہے مگرمسلم ممالک میں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو آل بیت کی محبت میں غلو کا ارتکاب کرتے ہیں ۔سوڈان میں بھی آل بیت سے محبت کرنے میں بہت سے سنی مسلمان شریعت کی بتلائی ہوئی تعلیمات کی پابندی نہیں کرتے اور ان کی محبت میں چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے غلوپایاجاتاہے۔ ایران اپنے مذہب کے پھلاؤ میں بہت سنجیدہ واقع ہواہے۔ جہاں کہیں سنی مسلمانوں میں آل بیت سے محبت میں شرعی حدودسے جہل پایاجاتا ہے وہں ایران کے مذہبی عناصرکے لیے کام آسان ہو جاتاہے۔خرطوم میں منعقدہونے والے کتاب میلے میں صحابہ پر طعن وتشنیع کرنے والی مذہبی کتب اور لبنان کی شیعہ ملیشیا’حزب اللہ‘ کی اسرائیل کے خلاف عسکری ’فتوحات‘کی غیرحقیقی تصویرپیش کرنے والی کتب کی بھرمال آخرکس ذہنیت کو پیش کررہی ہے۔کیا ملاں لوگ صرف سنیوں میں ہی پائے جاتے ہیں اورشیعیوں میں صرف اسکالر!ایران کے اعلیٰ اختیارات کے مالک وہں کے اسکالر ہیں یا مذہبی عناصر۔اوراکثرسنی کہلانے والوں کوافغانستان کے طالبان سے ایک قسم کی وحشت رہتی ہے کہ وہ ’کٹر‘مذہب پرست ہیں ،کیاخیال ہے ایران کے مذہبی عناصر غیرجانب دار ہیں !تہران میں سنی مسلمانوں کےلیے ایک مسجد بھی نہیں ہے اورنہ انہیں اپنی مسجد بنانے کی اجازت ہے۔ حکومت سنی مساجد کی تعمیر کی اجازت نہ دینے کی دلیل یہ دیتی ہے کہ سنی مسلمان شہرکی عام مساجد(رافضیوں کی مساجد)میں بلاروک ٹوک نمازاداکرسکتے ہیں ۔کیااس دلیل کودنیاکے کسی بین الاقوامی فورم میں پیش کیاجائے تووہ اس دلیل کو معقول قراردیں گے! اورکیاایران اس بات پرخاموش بیٹھا رہے گااگراسی دلیل کو بنیاد بنا کرسنی اکثریت والے ممالک شیعہ مسلک کے امام بارگاہوں پرپابندی لگادیں ۔دوسری طرف تہران میں ہی خمینی کے مزار پرجانے والی شاہراہ پر لکھاہے کہ’شاہراہ حرم‘۔تمام مسلمانوں کا اس بات پراجماع ہے کہ دنیامیں دو حرم ہیں یعنی حرمین ۔ پھر حرمین کے ساتھ صرف ایک ہی اور مقام آتا ہے جس کی طرف عبادت کی نیت سے سفرکرنا شریعت میں مستحب ہے یعنی مسجدحرام، مسجدنبوی اورمسجداقصیٰ۔ایران کا قصدکرنے والے زائرین کے لیے یوں بھی سرکارنے کافی سہولتیں فراہم کررکھی ہیں ۔تاریخ کاایک عام طالب علم بھی جانتاہے کہ ابولوءلوء مجوسی(فیروز) خلیفہ راشدعمربن خطاب کا قاتل مدینہ منورہ میں خودسوزی سے جاں بحق ہوا تھا اور وہیں کہیں گاڑ دیاگیا تھا۔مگرایران کے شہر کاشان میں محبان مجوسی کے لیے بابا فلاں کی تلبیس سے ابولوءلوء کاشاندارمزارزائرین کی سہولت کے لیے تعمیر کردیاگیا ہے جہاں ہرسال بڑے جوش وخروش سے اس مجوسی کا عرس منایاجاتا ہے۔ مسلمان صحافیوں کاصحافتی امور سے متعلق کسی ورکشاپ میں شریک ہونااوراپنے پیشے میں مہارت حاصل کرناایک قابل تعریف بات ہے بشرطیکہ وہ حق اورسچ کے لیے استعمال ہواوراگرچہ ایسا کم ہی ہوتاہے کہ صحافی حق کے ہی متلاشی ہوں تاہم علم ابلاغیات میں مسلمانوں میں مہارت پیداہوتووہ ان شاءاللہ کسی وقت اسلام کے کام آسکتی ہے۔مگرجب ان ورکشاپوں کے پیچھے کوئی شیطانی مقصدہوتویہ بے حدخطرناک کام بن جاتاہے۔سوڈان کے جیداور بین الاقوامی شہرت کے حامل سنی علماءنے سوڈانی صحافیوں کی ایران میں تربیت کو ثقافتی تعاون میں شمار نہیں کیا اوروہ سوڈان میں ایرانی سرگرمیوں کوشیعہ مذہب کا سوڈان میں بیج بونے سے تعبیر کرتے ہیں ۔سوڈان کی اسلامی جماعتوں نے اخوان المسلمین کے امیرصادق عبداللہ عبدالماجداوردوسرے معتدبہ علماء کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں کہ اکہ جن صحافیوں کاانتخاب کیاگیاہے ان میں رافصیت پائی جاتی ہے نیزانہوں نے ایران کے تمام ثقافتی مراکز کوفی الفوربندکرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ یہاں ہم قارئین کو بتاتے چلیں کہ سوڈان کاروزنامہ وفاق واضح طورپر شیعت کی تبلیغ کی پالیسی پر ہے۔ روزنامے کے ایڈیٹرمحمدطہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کوگاہے بگاہے تنقید کا نشانہ بناتا رہتاہے خصوصاً حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔اس کے علاوہ سوڈان کی انٹیلی جنس کے سربراہ جنرل صلاح قوش نے ایک بیان میں کہا کہ ایران جانے والے صحافی ملک میں کسی خاص قدرکی نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے اور یہ کہ انہیں بیرونی ممالک سے امدادملتی ہے۔ دارفورکے مسئلے کو ہوا دے کرمغربی ممالک سوڈان سے اپنامفادلینے میں سرگرم ہیں توایران بھی ان سے کم نہیں ۔مغربی ممالک کے مفادات اور ایران کے مفادات سنی اکثریت والے ممالک میں خاصے مشترک رہے ہیں، یہ بات بارہادیکھنے میں آئی ہے۔
٭٭٭٭٭
|