سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ اکتوبر 2008

Download in PDF format

 

عرب ممالک..فرانس کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ

محمد ضیاءالحق ایڈیٹر راجستھان کرانیکل

تلخیص:محمدزکریا خان

عرب امور پر نظررکھنے والے اس بات کومحسوس کررہے ہیں کہ بش انتطامیہ کی گرفت عرب ممالک پر بہ تدریج کم زورہورہی ہے۔ ویسے بھی امریکہ میں رخصت ہونے والا صد رہنگامی اقدامات سے بوجوہ قاصر ہوجاتا ہے۔نئے کامیاب ہونے والے صدرکے لیے عرب امریکہ تعلقات کومعمول پرلانے کے لیے خاصی محنت کرناہوگی۔ پھربھی ساٹھ کی دہائی والے حالات توشایدخواب ہی رہیں ۔ سوویٹ یونین کے بکھرنے سے عرب امریکہ تعلقات میں بہتری آئی توتھی مگراب عرب ممالک میں فرانس کے اثرات واضح طورپر محسوس کیے جارہے ہیں ۔ماضی قریب میں بھی فرانس عرب ممالک پراثر انداز ہوتارہا ہے۔ ممکن ہے فرانس پہلے کی طرح امریکہ کی وجہ سے اس بار زیادہ اثراندازنہ ہوسکے لیکن یہ اثرات ان دنوں توبہت ہی نمایاں ہیں ۔1957ء میں مصرپراسرائیل کے ساتھ برطانیہ اورفرانس کے متحدہ حملوں کے بعدہی امریکہ نے اسرائیل کی سرپرستی اپنے ہاتھ میں لی تھی ورنہ اس سے پہلے اسرائیل کی سرپرستی کا اعزازبھی فرانس ہی کوحاصل تھا۔ شمالی افریقہ کے عرب ممالک پرتواب بھی فرانس کے اثرات ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں اپنی پرانی ساکھ بحال کرنے کے لیے فرانس عرب ملکوں کو بہ خوشی جوہری ٹیکنالوجی دینے پرتیارہے۔ فرانس کے صدرسارکوزی امریکہ میں بہت مقبول ہیں اوراسرائیل کو بھی یقین دلایا گیا ہے کہ عرب حکومتوں کامضبوط ہونا اس کے حق میں ہے۔ فرانس نے کہا ہے کہ عرب ممالک کو مسلح کرنے سے ان ممالک میں جوآزادملیشیاازقسم حزب اللہ پائی جاتی ہیں یہ ممالک جدید اسلحے سے ان جنگجو ملیشیا پرقابوپانے میں پہلے کی نسبت زیادہ سرگرمی دکھائیں گے۔اسرائیل اس یقین دہانی کے بعدجوہری ٹیکنالوجی کی فروخت پرواویلانہیں کررہااورظاہر ہے فرانس ان بڑے  بڑے معاہدوں سے اپنی معیشت کو بہتربناناچاہتاہے۔

میڈی ٹیرینین(بحرابیض)کے ساحل آبادی سے بھرپورہیں ،مغربی ایشیاءاورشمالی افریقہ کے 43 ممالک یہاں آباد ہیں ۔صدرسارکوزی نے گزشستہ دنوں ان ممالک کی ایک فیڈریشن کی بنیاد رکھی ہے یعنی یونین فارمیڈی ٹیرین۔اس فیڈریشن کے قیام سے بھی وہ ں کے مسلمان کافی خوش دکھائی دیتے ہیں ۔یادرہے کہ بحراحمرکے ساتھ لگنے والے بیشترممالک مسلم آبادی پرمشتمل ہیں ۔ماہرین کاخیال ہے کہ اس فیڈریشن کے قیام سے نہ صرف اس خطے میں ترقی کاعمل تیزہوجائے گا بلکہ اس خطے کو بین الاقوامی طورپرایک شناخت بھی میسر آجائے گی۔ شام کے صدربشار الاسداس فیڈریشن کے بعدامریکہ کی نسبت فرانس کی طرف جھکاﺅ رکھنے میں سب سے زیادہ کھل کرسامنے آئے ہیں ۔تین ہی سال پہلے لبنان کے وزیراعظم رفیق حریری کے قتل پر فرانس اور امریکہ نے شام پراس قتل کاالزام لگایاتھااورشام اس عرصے میں سخت دباﺅمیں رہا ہے مگرسارکوزی کے اقتدار میں آنے سے یہ مسئلہ پس پشت چلاگیا ہے۔لگتا یہی ہے کہ سارکوزی فرانس کی معیشت پرہی توجہ رکھنا چاہتے ہیں ۔عرب ممالک کی فرانس میں دلچسپی اس بات سے بھی عیاں ہوتی ہے کہ فیڈریشن کی بنیادڈالتے ہوئے سارکوزی اور صدربش دونوں نے اس فیڈریشن کے متعلق اسرائیلی پارلمنٹ سے خطاب کیا مگربش کے خطاب کے دوران میں عرب ممالک کے مندوبین نے احتجاج ریکارڈ کرایاجبکہ سارکوزی کے خطاب کو خاصا سراہا گیا۔1995ءمیں بھی ’بارسلونا پروسیس‘ نام سے یورپی ممالک نے ایک فیڈریشن’ یورومیڈی یٹرین پارٹنرشپ‘ کی بنیادرکھی تھی ج وزیادہ کامیاب نہ ہو سکی۔ماہرین اس نئی فیڈریشن پر بھی مطمین نہیں ہیں کیونکہ فرانس عراق میں امریکہ کا اتحادی ہے اورایران امریکہ متوقع جنگ میں بھی فرانس امریکہ کاہی ساتھ دے گاجواس فیڈریشن کی بقاء کے لیے بہرحال ایک مسئلہ ہوگا۔عرب ممالک میں امریکہ کے خلاف نفرت بڑھنے کی وجہ سے اگرفرانس عرب ممالک کی دکھتی رگوں کونہ چھیڑے تواس کے لیے ان ممالک میں اپنی ساکھ بحال کرناپہلے کی نسبت اب زیادہ آسان ہے۔

٭٭٭٭٭