سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ اکتوبر 2008

Download in PDF format

ادب وادباء

محمود درویش

فلسطینی یا اسرائیلی شاعر؟

تنقید:جمال سلطان

اردواستفادہ:محمدزکریا

امریکہ کے شہرہیوسٹن میں67 سال کی عمرمیں فلسطینی شاعراورادیب محموددرویش 9اگست کوانتقال کرگئے۔پاکستان میں ترقی پسندادباء اورکالم نویسوں کے ہاں محموددرویش ایک ترقی پسند’فلسطینی‘ شاعر کے طورپرمعروف ہیں۔ مغربی ممالک میں بالخصوص ان کی ادبی خدمات کوبہت سراہا جاتاہے، جس طرح کہ ہمارے ترقی پسندوں کی پزیرائی بھی مغرب میں ’اب‘ خاصی ہونے لگی ہے! انہوں نے لوٹس Lotus Prize   اور لینن امن پرائزکے علاوہ دوسرے انعامات بھی حاصل کئے ہیں۔

محمود درویش کو ہمارے یہاں عام طورپرآزادیِ فلسطین کے سب سے  بڑے شاعر کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔ اپنے ’سابقہ‘ ترقی پسندوں کے یہاں درویش کی وفات پر خاصا کچھ لکھا گیا، حتیٰ کہ یہ تاثردینے کی کوشش کی گئی کہ درویش کے انتقال سے آزادی فلسطین کی تحریک کو دھچکا لگاہے! ضروری ہے کہ ہمارے اردو داں طبقے تصویر کا پورا رخ بھی دیکھ لیں۔ مصرکے مجلہ’المنارالجدید‘کے مدیر اور عرب دنیا میں اسلامی بیداری کے ایک ممتاز راہنما اور مفکر ’جمال سلطان‘ لکھتے ہیں:

محموددرویش ایک بلندپایہ شاعرضرورہیں مگر’تحریکِ آزادیِ فلسطین‘ کے شعراء میں انہیں شمار نہیں کیاجاسکتا۔ بلکہ حق تو شاید یہ ہو کہ وہ ’تحریک آزادی‘ کے ناقدوں میں شمار ہوں۔ محمود درویش ان عرب آزادخیال ادیبوں میں سے ایک ہیں جواسرائیل کو ایک ملک کے طور پر تسلیم کرتے رہے ہیں۔وہ اسرائیل کی اشتراکی تنظیم Rakah کے بھی رکن رہے ہیں یہ تنظیم اب Maki  کہلاتی ہے۔اسرائیل کے لیے وہ ایسی پسندیدہ شخصیت رہے ہیں کہ ان کے کلام کواسرائیل کے ہائی اسکولوں کے نصاب میں شامل کرنے کی تجویزاب بھی وزارت تعلیم کے زیرغور ہے۔

یہ درست ہے کہ یاسرعرفات کیPLO نے جب اوسلو معاہدے پردستخط کردیے تھے تودرویش نے پی ایل او کی ایگزیکٹو کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا تھا لیکن اسرائیل کے ساتھ ان کے روابط ہمیشہ ہی خوشگوار رہے۔ان کی ایک نظم کی بابت جب اسرائیل کے وزیراعظم شامیر نے اعتراض کیا کہ اس میں اسرئیل کواس کی اراضی سے نکلنے کا کہاگیا ہے تودرویش نے اس کی یہ وضاحت کی کہ میں نے صرف ’مغربی کنارے‘ کی بات کی ہے!

گویا درویش کے نزدیک ’فلسطین‘ کا مسئلہ ’مغربی کنارے‘ تک محدود ہے۔ بالفاظ دیگر، درویش ’مغربی کنارے کی آزادی‘ کا شاعر ہے نہ کہ ’فلسطین کی آزادی‘ کا!ایسے شاعر کو ’فلسطینی قوم کے ترجمان‘ کی بجائے ’آپ ہی اپنا ترجمان‘ کہا جائے تو شاید صحیح تر ہو۔ احمد فراز کے خیال میں تو شاعر کے سخن کو یہ شرط بھی پوری کرنا ہوتا ہے:’میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی‘! اگر ایسا ہے تو درویش کے ’لوگوں‘ کی بابت جو ایک بات ساری دنیا جانتی ہے وہ یہ کہ یہ قوم فلسطین کا ایک چپہ بھی ’اسرائیل‘ کو دینے کی روادار نہیں!
کیا بعید اپنے یہاں بھی ’کشمیر‘ میں ہندو کے ساتھ سانجھ ڈالنے کی ضرورت پر ’آزاد نظمیں‘ وجود میں آنے کیلئے بے چین ہوں!

یوں تو فراز نے بھی ’اپنے لوگوں‘ کی، جن کے گلی محلے مسجدوں سے بھرے ہوئے ہیں، کمال کی ترجمانی کر رکھی ہے:

آسمانوں سے اترتی ہے نبوت نہ کتاب
آسمانوں پہ اندھیروں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے!

 

آخر سب جانتے ہیں احمد فراز ’سوویت یونین‘ کے شہری نہ تھے!

درویش اپنے اعزازمیں یہودیوں کی طرف سے دی جانے والی تقریبات میں خوشی سے شریک ہوتے تھے۔حماس کے اقتدا رکو ناپسند کرتے تھے۔ حد تو یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کواسرائیلی شہری کہا کرتے تھے اورعربوں سے ان کا مطالبہ تھا کہ اسرئیل جوہری طاقت رکھتا ہے اوروہ بطورایک ملک حقیقت ہے، اور اس کو تسلیم کر لینے میں ہی ’عافیت‘۔

مغرب میں درویش کوپزیرائی حاصل ہوناسمجھ میں آتاہے مگرہم اپنی ان دانش ورشخصیات کو کیا کہیں جوانہیں’فلسطینی ہیرو‘کے طورپرپیش کرتے ہیں؟! اگر پڑھے لکھے قوم کی رہنمائی غلط سمت میں کرنا شروع کردیں توایسی قوم کا مستقبل کتنابھیانک ہوسکتاہے، اسکا تصورہی کیاجاسکتاہے۔

فلسطین پرپچھلی آدھی صدی سے جوظلم اوربربریت کے پہاڑٹوٹے ہیں،ان مظالم نے تو وہاں کے ان پڑھ طبقے کوشاعری سکھادی ہے۔کئی ترانے تواردو بولنے والے بچوں نے بھی یادکررکھے ہیں۔اکثرتحریکوں نے انقلابی شاعری فلسطینی شاعری کو سامنے رکھ کر کی ہے۔ہارون ہاشم، یوسف خطیب ،عزالدین مناصرہ اور مامور جرار آزادی فلسطین کے بلند پایہ اورغیر متنازع شعراءہیں ان کوچھوڑ کرمغربی پسندیدہ شخصیت کوفلسطینی ادب کا ہیرو بنا کر پیش کیا جاناکیامعنیٰ رکھتا ہے!

فلسطینی شاعری کوتوفلسطینی شاعر ابراہیم طوقان کی زبان سے سمجھناچاہیے:

ھو بالباب واقف و الردیٰ منہ خائف یعنی: وہ تودرِموت پر مستعدکھڑاہے،موت ہی اس سے سہم گئی ہے!

اور:بدَّلَتہ ہُمومُہ کَفَناً من وسادتہ یعنی: اس کے غموں نے اس کے سر کے تکیے سے ہی ایک کفن تیار کر ڈالا ہے!

کاش کشمیراورافغان جہاداوراسی طرح مسلمانون کی دوسری تحریکوں کوبھی فلسطین کی شاعری کی طرح کا سخن مل جائے۔

٭٭٭٭٭