سرورقسابقہ شمارےفورمسمع و بصرہم کونمددگار بنیںمستقبل میںرابطہ

فہرست مضامین ایقاظ جنوری 2009

Download in PDF format

 

السلام علیکم!

’ایقاظ بنیادی طور پر کن لوگوں کیلئے لکھا جاتا ہے؟‘، یہ ایک اکثر ہونے والا سوال ہے اور چونکہ سب طبقوں کو ایک ہی خطاب میں سمیٹنا عام طور پر ممکن نہیں اور ہر تحریر معین طور پر کسی خاص طبقے کیلئے لکھی جاتی ہے، لہٰذا ’ایقاظ‘ کی بابت یہ سوال ہوتا ہے تو بے جا نہیں!

’تحریک‘ کا لفظ ’اسلام کے اجتماعی کردار کو از سرنو بحال کرنے‘ پر بولا جانے والا ایک عام فہم لفظ ہے، اور ہم بھی اِس کو اِسی معنیٰ میں استعمال کرتے ہیں۔ ’تحریک‘ جہاں ایک ’کام‘ ہے وہاں اب یہ باقاعدہ ایک ’علم‘ بھی بن گیا ہے۔ ’فِقۃ الحَرَکَۃ‘، یعنی ’تحریکی عمل سے متعلق شرعی علم‘ ایقاظ کا مرکزی مضمون ہے۔۔ جو لوگ اِس ’فقہ‘ کے طالب علم ہیں ’ایقاظ‘ دراصل اُنکے فائدے کو سامنے رکھ کر تحریر کیا جاتا ہے۔

’تحریک‘ کو بطور ’علم‘ لینا ہی ہمارے خیال میں اِس ’علم‘ کو ایک بہترین ’عمل‘ میں ڈھال دینے کیلئے اساس بن سکتا ہے، خصوصاً ہمارے اِس برصغیر میں جہاں نہ جذبہءعمل کی کمی ہے اور نہ برسر عمل ہوجانے کیلئے چوکس وتیار لوگوں کی، بیشک وہ اپنے اپنے طریقوں سے ہی برسرعمل ہوں۔

پس وہ لوگ جو اپنے آپ کو علم کے اِس شعبہ سے - بطورِ طالبعلم - وابستہ جانتے ہیں، وہ ایقاظ کے اولین مخاطب ہیں۔ ہم خود بھی اِس شعبہ کے اندر طالب علم ہیں اور بنیادی طور پر ’ایقاظ‘ کچھ طلبہء علم ہی کی جانب سے دیگر طلبہء علم کے ساتھ اتصال اور تبادلہء افکار کی ایک کوشش یا ایک صورت ہے۔۔ اور اِس راہ میں آگے بڑھنے کیلئے ایک فورم بھی۔

سنت سے وابستہ ہر تحریک اور ہر جماعت ایقاظ کی جماعت ہے اور سنت سے وابستہ ہر فرد خواہ وہ کسی خاص دائرہ سے منسلک ہے یا نہیں، ایقاظ کی نظر میں ’ملت کے مقدر کا ستارہ‘ ! البتہ ’ایقاظ‘ کی تحریروں سے خاطر خواہ استفادہ کیلئے ’طالبعلم‘ کی سطح پر آنا ضروری ہوگا۔ ’عوام‘ کو ایقاظ کے بعض مباحث پڑھنے میں صعوبت پیش آتی ہے، تو اِس شکایت کا بھی فی الواقع یہی سبب ہوسکتا ہے۔ دراصل یہ فرض کرتے ہوئے کہ ایقاظ کا ایک قاری تحریکی مباحث کے اندر پہلے سے کچھ وقت گزار آیا ہے، بہت سی باتیں صرف اشارات کی صورت میں کر دی جاتی ہیں اور ان کو ’کھولنے‘ پر زیادہ ترکیز نہیں رہتی۔

بلاشبہ ’عوامی ذہن‘ کیلئے بھی عقیدہ کا بیان وقت کی ایک بہت بڑی ضرورت ہے ، اور بلاشبہ ایسے کئی ایک منصوبے بھی ہمارے پیش نظر ہیں، مگر ’ایقاظ‘ کی ترکیز فی الحال اِسی اولین طبقے پر ہے جس میں سے بہت سے ایسے افراد ان شاءاللہ نکل آئیں گے جو دیگر کئی ایک سطح پر اِس پیغام کو آگے بڑھانے کی اہلیت رکھتے ہوں، اور یہ ان شاءاللہ ہمارے آئندہ اداریے کا موضوع ہے۔